rss

سفیر ایلس ویلز کی میڈیا بریفنگ

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان

 
 

سفیر: صبح سویرے دوبارہ یہاں موجودگی پر ایک مرتبہ پھر شکریہ۔

مجھے گزشتہ روز اپنی مشاورت کے بارے میں بات چیت کے لیے موقع درکار تھا۔ اس دوران میں امریکہ کے لیے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر زور دینے میں کامیاب رہی۔ میں دونوں ممالک میں گزشتہ 70 سالہ تعاون کو ایسے دور کے طور پر دیکھتی ہوں جب اکثروبیشتر پاکستان اور امریکہ نے باہم مل کر تاریخ کے کئی عظیم باب رقم کیے۔ ہم نے پاکستان کی معاشی ترقی میں بہت سی مدد دی۔ ہم پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منزل ہیں اور اس کے ساتھ ہماری باہمی تجارت کا حجم 6  ارب ڈالر ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم نے توانائی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ کام کرتے ہوئے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور اسے 3000 میگاواٹ سے زیادہ توانائی فراہم کی جو کہ پاکستان کی معاشی کامیابی میں مدد دینے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ تھا۔

جب میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کے دورانیے کو دیکھتی ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے پاکستان کو صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے واقعتاً نہایت اہم معاونت فراہم کی۔ خواہ یہ ہماری مدد سے بنائے گئے یا بہتر کیے گئے 1300 سکول ہوں یا 2000 کلومیٹر سے بھی طویل سڑکیں ہوں۔ اگر آپ فاٹا کو دیکھیں تو یہ وہاں لائی گئی نمایاں بہتری ہے جہاں ہم اب تک پاکستان کے سب سے بڑے عطیہ دہندہ ہیں اور ہم نے اندرون ملک بے گھر ہونے والے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے معاونت فراہم کی ہے جو کہ دہشت گردی کے خلاف نہایت اہم فتح کا ایک حصہ ہے۔ یہ پاکستانی حکومت کی اہم فتح ہے اور اس نے اپنے ملک کا ایک اہم حصہ اور خودمختاری دہشت گردوں سے واپس لے لی ہے۔

یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی  چاہیے کہ ہم نے گزشتہ 40 برس میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی طور سے مل کر کام کیا ہے جب پاکستان نے اچھے ہمسایے کے طور پر لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دینے کا چیلنج قبول کیا۔ اس کوشش کے ذریعے ہم ‘یواین ایچ سی آر’ کے سب سے بڑے عطیہ دہندہ بن گئے جو ناصرف مہاجرین بلکہ وطن واپس آنے کے خواہش مند لوگوں کی بحالی میں بھی مدد دے رہا ہے۔

پاکستان القاعدہ، تحریک طالبان اور داعش کے خلاف لڑ رہا ہے اور اس جنگ میں ہم پاکستان کے ساتھ ہیں۔ 2002 سے ہم نے اسے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 14 ارب ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی ہے۔ پاکستان کو اس فنڈ کی فراہمی ہمارے اپنے مفاد میں تھی کیونکہ یہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ ہے اور ہم پاکستانی ریاست اور عوام کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے پاکستانی فورسز کی بہادری اور عزم کے معترف ہیں۔

یقیناً اس حوالے سے وزارت خارجہ کی جانب سے مالیاتی مدد کا پروگرام بھی موجود ہے جس نے اس مشترکہ جنگ میں اربوں ڈالر دیے ہیں۔ اس امداد کے ساتھ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو جمہوری اور خوشحال ریاست بنانے کے لیے عملی طور پر اس کا ساتھ دیا ہے۔

آج ہم خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی شراکت کے اگلے دور میں بھی ایسا ہی عزم دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دہشت گردوں کے خلاف اسی عزم اور اسی توانائی کے خواہاں ہیں، جو پاکستان کے ہمسایوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ لازمی طور سے ہم دہشت گردوں میں اچھے برے کی تفریق نہیں کرتے۔ دہشت گرد خطے کی سلامتی کو کمزور بناتے ہیں، وہ خوشحالی کو کمزور کرتے ہیں، وہ عالمی سطح پر پاکستان کے تاثر کو اس طرح کمزور کرتے ہیں جس سے سیاسی و معاشی طور پر نقصان ہوتا ہے۔ ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھانے سے قریبی ہمسایے افغانستان میں عدم استحکام جنم لیتا ہے۔ اس سے سرحد پر دہشت گردی اور حملوں میں مدد ملتی ہے جن کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہ حملے مہاجرین کی اپنے گھروں کو واپسی مشکل بنا دیتے ہیں۔ ان سے مقامی سطح پر بنیاد پرستی کو فروغ ملتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے لیے وسائل کم رہ جاتے ہیں جن کی پاکستان کو ضرورت ہے۔

چنانچہ کل پیشہ وارانہ اور تعمیری مشاورتوں میں میرا پیغام یہ تھا کہ ہم طالبان اور حقانی نیٹ ورک جیسے دہشت گرد گروہوں کی دہشت گردی کی کسی بھی اہلیت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم کسی بھی ملک کی جانب سے کسی کے بھی خلاف دہشت گردوں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ ہم نہیں سمجھتے کہ قوانین پر مبنی عالمی نظام میں دہشت گردی کی کوئی جگہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم پاکستان میں بلوچستان سمیت کسی بھی جگہ علیحدگی کو ہوا دینے والی کسی بھی کوشش کی مطلق مخالفت کرتے ہیں۔ ہم بلوچی علیحدگی پسندی کی حمایت نہیں کرتے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے خدشات کا پرامن طور سے ازالہ ہونا چاہیے۔

صدر کی جانب سے اگست میں اعلان کردہ جنوبی ایشیائی حکمت عملی امریکہ اور پاکستان کے لیے مل کر کام کرنے کا موقع ہے اور ہم اس تعلق کو اہم سمجھتے ہیں کیونکہ پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ بہت جلد پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہوگا۔ 20 کروڑ سے زیادہ آبادی کے اس ملک میں متوسط اور کاروباری طبقہ تیزی سے ابھر رہا ہے۔ امریکہ میں پاکستانی امریکیوں کا نمایاں کردار اور تعلیمی تبادلے کے جامع پروگراموں کے ذریعے تشکیل پانے والے تعلقات بھی ہمارے سامنے ہیں جن میں پاکستان میں 22 ہزار افراد پر مشتمل امریکہ سے فارغ التحصیل طلبہ کا نیٹ ورک بھی شامل ہے۔ ہم ان تعلقات کو تعمیر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم پاکستان کو افغانستان میں استحکام کے لیے مذاکراتی سیاسی تصفیے میں سہولت دینے والے رہنما کے طور پر دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ یہاں میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے آپ کے سوالات لوں گی۔

میڈیا: بہت شکریہ۔ مجھے اس حوالے سے مزید سمجھنا ہے۔ آپ نے کہا کہ ہم اچھے اور برے دہشت گردوں میں فرق نہیں کرتے۔ کیا آپ کو پاکستان میں یہ دکھائی نہیں دیتے؟ آپ کی پالیسی کیا ہے؟

سفیر ویلز: ہماری پالیسی یہ ہے کہ دہشت گرد اچھے اور برے نہیں ہوتے۔ دہشت گردی ۔۔۔۔

میڈیا: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں کچھ اچھے اور کچھ برے دہشت گرد پائے جاتے ہیں؟

سفیر ویلز: نہیں، ہم ایسے ملکوں کے خلاف ہیں جو بعض دہشت گردوں کو جائز مقصد کے لیے اپنا آلہ کار سمجھتے ہیں اور بعض کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے برعکس ہر قسم کی دہشت گرد قوتوں کے خلاف جنگ ہونی چاہیے۔

میڈیا: آپ نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہا مگر اس کے ساتھ ساتھ واشنگٹن میں مختلف سطحوں سے آنے والے بیانات سے یوں لگتا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے خاطرخواہ کردار ادا نہیں کر رہا۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان اپنے ہاں ان دہشت گرد انتہاپسندوں کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کر رہا چنانچہ یہ نہایت متضاد بات معلوم ہوتی ہے۔

سفیر ویلز: ہم پاکستانی ریاست اور عوام کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروہوں کو شکست دینے کے لیے پاکستان کی غیرمعمولی جنگ کو سراہتے ہیں جس میں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی عمل میں آئی مگر ہم ایسے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے بھی ایسی ہی کوششیں دیکھنا چاہیں گے جو ہمسایہ ممالک پر حملوں کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔

میں ایک مرتبہ پھر کہوں گی کہ ہم خاص طور پر فاٹا کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے میں پاکستان کی کامیابیوں کی ستائش کرتے ہیں اور اس کوشش میں ہم بھی ایک مضبوط شراکت دار رہے ہیں۔ ہم افغانستان کو مستحکم کرنے اور علاقائی استحکام کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ شراکت چاہتے ہیں۔

میڈیا: آپ نے کہا کہ امریکہ ہاؤسنگ کے شعبے میں سب سے بڑے عطیہ دہندہ کے طور پر پاکستان کو سہولت دے رہا ہے۔ اس وقت بھی پاکستان کے طول و عرض میں لاکھوں مہاجرین موجود ہیں۔ آپ جانتی ہیں کہ ہمارا معاشرہ واقعتاً (ناقابل سماعت) کیونکہ ہمیں نقصان پہنچا ہے (ناقابل سماعت) 80 کی دہائی سے وہیں رہ رہے ہیں۔ آپ کے علم میں ہے کہ ان کی دو نسلیں وہیں پروان چڑھی ہیں۔ امریکی حکومت کی جانب سے الزامات عائد کیے گئے کہ وہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو سرحد پار کارروائیاں کر کے پاکستان واپس آ جاتے ہیں۔ جب ہم پاکستانی حکام سے بات کرتے ہیں تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ ہم ان (ناقابل سماعت) سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں جو وہاں رہ رہے ہیں۔ وہ انہیں ان کی اپنی جگہ کہتے ہیں۔ ہمارا اندازہ یہ ہے کہ سرحد پار کرنے والوں کو بہت اچھا ماحول ملتا ہے اور لوگ انہیں بہت اچھی سہولت دیتے ہیں۔

چنانچہ جب ہم ذمہ داروں سے بات کرتے ہیں (ناقابل سماعت) وہ اب کہتے ہیں کہ وہ ان مہاجرین کو اپنے ممالک میں واپس بھیجنا چاہتے ہیں۔ کیا امریکہ وہاں رہنے والے مہاجرین کو واپس بھیجنے میں سہولت دینے کے لیے رضامند ہے تاکہ وہ اپنے گھروں کو واپس پہنچ سکیں؟ افغانستان میں اب امن ہے اور وہاں اتحادی حکومت قائم ہے۔ آپ کا اس بارے کیا موقف ہے؟ کیا امریکہ سہولت دینے کے لیے تیار ہے؟ (ناقابل سماعت)

سفیر ویلز: پہلی بات یہ کہ میرے خیال میں ہم گزشتہ 40 برس میں لاکھوں مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کی ستائش کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کی جانب سے غیرمعمولی اقدام تھا جس نے مالی اور سماجی دونوں اعتبار سے اسے متاثر کیا اور ہم نے گزشتہ 40 برس میں مرکزی عالمی عطیہ دہندہ کے طور پر پاکستان کی مدد کی کوشش کی ہے  تاکہ وہ افغانستان میں جنگ کے اس ضمنی اثر سے نمٹ سکے۔ چنانچہ میرے خیال میں پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام ستائش کے لائق ہیں۔

افغانستان مہاجرین کو وصول کرنے اور انہیں جگہ دینے کے قابل ہو تو ہم ان کی واپسی میں مدد دیں گے۔ ہم نے 2016 میں بہت سے مہاجرین کو افغانستان جاتے دیکھا ہے۔ بدقسمتی سے ان میں بہت سے اپنے گھروں کو واپس نہیں آئے۔ وہ افغانستان میں بدستور بے گھر ہیں جس کی وجہ وہاں کے سکیورٹی حالات ہیں۔

چنانچہ ہم افغان مہاجرین کی باعزت واپسی چاہیں گے جو سکیورٹی کے حالات میں بہتری کا تقاضا کرتی ہے اور جس کے لیے عالمی برادری کو نوکریوں اور رہائش کے حوالے سے سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام کرنا ہو گا تاکہ مہاجرین واپس آ سکیں۔ تاہم جب تک افغانستان میں جنگ چل رہی ہے اس وقت تک میں نہیں سمجھتی کہ تمام مہاجرین کی واپسی ممکن ہے۔ چنانچہ ہم مہاجرین کی میزبانی کے معاملے میں پاکستان کی مدد کر رہے ہیں اور اس پر زور دے رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں استحکام کی کوششوں کو جاری رکھے تاکہ مہاجرین کی واپسی کے لیے سازگار حالات کا قیام ممکن ہو سکے۔

میڈیا: پاکستان میں خوش آمدید۔ میرا نام (ناقابل سماعت) ہے اور میں یہاں (ناقابل سماعت) ٹیلی ویژن کی نمائندگی کرتا ہوں۔

میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ حال ہی میں  امریکہ نے پاکستان کے لیے اپنی امداد روکی ہے۔ مجھے علم ہے کہ امریکہ کے مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔ آپ کے خیال میں امریکہ کے مطالبے پر پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ پاکستان کے ساتھ تعاون کے ضمن میں آپ مزید کیا چاہتے ہیں؟

سفیر ویلز: مجھے لفظ ‘مطالبات’ پسند نہیں ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ شراکت کو کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری تاریخی شراکت رہی ہےاور ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت بہت سی کامیابیاں اکٹھے حاصل کی ہیں۔ چنانچہ جنوبی ایشیائی حکمت عملی کے تحت ہم مستحکم افغانستان میں پاکستان کے جائز سکیورٹی مفادات کی تکمیل میں مدد دینے کی راہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم طالبان کو ایسی ترغیبات دے رہے ہیں جس سے ان کی محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو سکے۔

ہمارا استدلال یہ ہے کہ مذاکراتی میز پر طالبان کے لیے بھی جگہ موجود ہے۔ افغانستان کے مستقبل میں طالبان کے لیے بھی جگہ ہے۔ مگر یہ مقصد میدان جنگ میں حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ کام سیاسی بات چیت کے ذریعے ہونا ہے۔ پاکستان اس حوالے  سے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کے حوالے سے توقعات اور اقدامات کو عملی شکل دینے کے لیے پاکستان کا کردار بے حد اہم ہے۔ فی الوقت یہ امداد معطل کی گئی ہے۔ اسے ختم نہیں کیا گیا۔ میں نے جو وجوہات بیان کیں ان تمام کے سبب ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کو ترجیح دیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان نے اس جنگ میں کیا کردار ادا کیا ہے اور وہ مزید کیا کر سکتا ہے۔

میڈیا: یہ وضاحت درکار ہے کہ آپ پاکستان سے کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہ طالبان کو مذاکراتی میز پر لانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے اور آپ یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ طالبان یا حقانی نیٹ ورک اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کرے جو افغانستان پر حملے کرتے ہیں۔

سفیر ویلز: جیسا کہ میں نے کہا ہم نہیں سمجھتے کہ دہشت گرد گروہوں کا کوئی جائز کردار ہو سکتا ہے۔ دہشت گردی سیاسی اظہار کا جائز طریقہ نہیں ہے۔ لہٰذا اچھے برے طالبان کا وجود ممکن نہیں۔ ہم پاکستان سے چاہتے ہیں کہ وہ اسی طرح ہمارے ساتھ مل کر کام کرے جیسا کہ ماضی میں اس نے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کی صورت میں کیا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان طالبان، حقانی نیٹ ورک اور دوسرے دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کرے جو پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ یقین کرنے کے لیے معقول وجوہات موجود ہیں کہ مستحکم افغانستان پاکستان کے ہی تزویراتی مفاد میں ہے اور اسے امن عمل میں سہولت دینی چاہیے تاکہ مہاجرین کی واپسی ممکن ہو سکے۔

16 سالہ تشدد کے بعد ہم مذاکراتی میز پر کیسے آ سکتے ہیں؟ یہاں ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایسی بعض تنظیموں کی توقعات کو عملی شکل دینے میں اپنا رسوخ استعمال کر سکتا ہے۔

میڈیا: آپ کی گزشتہ روز کی مشاورت میں کیا سامنے آیا؟ کیا آپ اس بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گی؟ دوسری بات یہ کہ کیا آپ اس خبر پر کوئی تبصرہ کریں گی جس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان استنبول میں کوئی مذاکرات ہوئے ہیں؟

سفیر ویلز: گزشتہ روز کی مشاورت نہایت پیشہ وارانہ تھی اور اس دوران عمدہ تبادلہ خیال ہوا۔ میں نے ایسی میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں جن میں باہمی تعلقات کے وسیع موضوعات پر بات کی گئی ہے۔ میں اپنے ساتھیوں کا بے حد احترام کرتی ہوں اور میں جنوبی ایشیائی حکمت عملی کے جائزے کا موقع ملنے کی قدر کرتی ہوں۔ استنبول میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے میں براہ راست کچھ نہیں جانتی مگر میں کہوں گی کہ عمومی طور پر ہم فریقین میں بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم افغان حکومت اور طالبان نمائندوں میں بات چیت کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حتمی طور پر وہ میدان جنگ میں نہیں جیت سکتے اور انہیں جو کچھ ملنا ہے مذاکراتی میز پر ہی ملنا ہے۔

میڈیا: میرا سوال یہ ہے کہ آپ اس سے آگاہ ہوں گی کہ بعض ٹویٹس نے پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں بہت سی (ناقابل سماعت) پیدا کی ہے ۔ اس کے بعد (ناقابل سماعت) پاکستان میں وزیر خارجہ اور بعض انتہائی اہم سرکاری حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اسے دھوکہ دے رہا ہے، جیسا کہ مکماسٹر اور متعدد دیگر اعلیٰ امریکی حکام نے کہا ہے، تو امریکی انٹیلی جنس پاکستانی حکام کو حقانی نیٹ ورک یا طالبان کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے کوئی اطلاعات نہیں دے رہی۔ جب وہ معلومات نہیں دے رہے تو وہ کھلے عام یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ پاکستان دھوکہ دے رہا ہے؟

سفیر ویلز: میرا خیال ہے کہ ۔۔۔

میڈیا: مجھے یہ کہنا ہے کہ آپ دھوکے یا ڈبل گیم کے حق میں کوئی ثبوت کیوں نہیں لاتے۔

سفیر ویلز: پاکستانی حکومت کے ساتھ ہماری طویل عرصہ سے بات چیت چل رہی ہے۔ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے۔ ہم گزشتہ 16 برس سے افغانستان پر کام کر رہے ہیں اور افغانستان کے حوالے سے گفت و شنید میں مصروف ہیں اور  یقیناً اس سے پہلے سوویت جارحیت کے خلاف بھی پاکستان اور ہمارے مابین قریبی تعاون رہا ہے۔ لہٰذا یہ بات چیت جاری ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ آپ نے افغان حکومت کے بیانات میں امن اور مذاکرات کے حوالے سے عزم مشاہدہ کیا ہو گا۔ افغانستان میں گزشتہ کئی ہفتے نہایت اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ اعلیٰ سطحی امن کونسل کی جانب سے پریس کانفرنس میں طالبان کے ساتھ گفت و شنید کے حوالے سے حکومت افغانستان کی رضامندی ظاہر کی گئی۔ دسمبر کے اواخر میں سیکڑوں عمائدین کا اجلاس بھی ہوا جس میں انہوں نے ملک میں امن کے عزم کا اعادہ کیا۔ صدر غنی فروری کے اواخر میں کابل امن عمل کی میزبانی کریں گے جس میں افغانستان کا پرامن مستقبل زیربحث آئے گا۔

چنانچہ میرے خیال میں یہ افغان حکومت کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ اس پر بات پر توجہ مرکوز کرے کہ جنوبی ایشیا سے متعلق نئی امریکی حکمت عملی کے تحت وہ طالبان سے تعمیری طور پر کیسے بات کر سکتی ہے۔ چنانچہ آگے بڑھنے کے لیے ہمیں اسی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

میڈیا: جنوبی ایشیا سے متعلق آپ کی نئی حکمت عملی کا ایک اہم عنصر آپ کا انڈیا کی طرف (ناقابل سماعت) ہے جس سے اسلام آباد میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ پاکستانی سمجھتے ہیں کہ اب آپ انڈیا کے ساتھ نئی دوستی شروع کر رہے ہیں جو کہ پاکستان کا مخالف ہے اور اس سے بہت سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

سفیر ویلز: انڈیا، پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات الگ الگ نوعیت کے ہیں۔ یقیناً ہم کوئی تعلق دوسرے تعلق کی قیمت پر استوار نہیں کرتے۔ ہم انڈیا کے ساتھ اپنی شراکت کو پاکستانی مفادات کے خلاف نہیں سمجھتے۔ اس سے برعکس ہمارا خیال ہے کہ انڈیا افغانستان کی ترقی میں مدد دے سکتا ہے اور وہاں سڑکیں، ڈیم اور سکولوں کے قیام کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کی تربیت کر سکتا ہے۔ اس سے سے ملک میں استحکام لانے میں مدد ملے گی۔ ہم افغانستان کو پاکستان کے خلاف کسی معاندانہ سرگرمی کے لیے استعمال ہونے نہیں دیں گے یہی وجہ ہے کہ ہم افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کو سرگرمی سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہم ایسے دہشت گردوں کے خلاف لڑیں گے جو پاکستان کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

میڈیا: پاک امریکہ تعلقات (ناقابل سماعت) رولر کوسٹر کی سواری جیسے معلوم ہوتے ہیں۔ بعض اوقات امریکہ اس بارے میں مثبت دکھائی دیتا ہے جیسا کہ گزشتہ روز کے اجلاسوں میں نظر آیا۔ تاہم 2018 کا آغاز اچھا نہیں تھا۔ عمومی طور پر فاٹا کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے ٹویٹ سامنے آئے اور اس پر پاکستان کی طرف سے بہت سا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ خاص طور پر (ناقابل سماعت) سفارتی اور میڈیا کی باتوں میں بہت کچھ سننے کو ملا۔ اس مسئلے پر ہم نے بہت سے پروگرام کیے۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ آپ نے کہا پاکستان میں سڑکوں کی تعمیر اور فاٹا میں انفراسٹرکچر بہتر بنانے میں امریکہ نے متحرک شراکتی کردار ادا کیا ہے۔ مگر پاکستان میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کو صرف ایک ہی عینک سے دیکھتا ہے اور وہ افغانستان میں امن ہے۔ یہ تمام مذاکراتی عمل اور امداد کا واحد مقصد افغانستان میں اپنے مقاصد کی تکمیل ہے۔ آپ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 14 ارب ڈالر کا تذکرہ کیا۔

ایسا کیوں ہے کہ چھ سات دہائیوں پر مشتمل تعلقات (ناقابل سماعت) کے باوجود آج 2018 میں ہم کہتے ہیں کہ ان تعلقات میں استحکام نہیں آیا۔ کیا آپ (ناقابل سماعت) کہ تزویراتی بات چیت کا عمل معطل ہوا؟ کیا اب یہ معطل ہے یا اسے فعال کہہ سکتے ہیں؟

سفیر ویلز: تزویراتی بات چیت، مخلوط بات چیت اوباما انتظامیہ کا سفارتی طریق کار تھا۔ اب امریکہ میں نئی انتظامیہ ہے۔ آپ نے ٹرمپ انتظامیہ میں دیکھا ہے کہ امریکی حکام نہایت تواتر اور تسلسل سے روابط رکھتے ہیں۔ وزیرخارجہ ٹلرسن، وزیر دفاع ماٹس اور جنرل ووٹل یہاں آئے۔ ہم اعلیٰ ترین سطح پر تسلسل سے پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ بات چیت کے ذرائع کھلے ہیں۔ میرے خیال میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو سمجھنے کے لیے پی ایچ ڈی کی ڈگری درکار ہے اور ابھی ان باتوں کا وقت نہیں ہے۔

میرے لیے مایوسی کی بات یہ ہے کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے علاوہ پاکستان کی جمہوری اور خوشحال قوم کے طور پر ترقی کے لیے تسلسل سے ٹھوس معاونت بھی کی جاتی رہی ہے اور اس سلسلے میں کئی سال کے دوران 12 ارب ڈالر دیے گئے۔ میری خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو یہ اندازہ ہو کہ ہم نے آپ کے ملک کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔

میں ایک مرتبہ پھر یہ کہوں گی کہ یہ قرضے نہیں تھے۔ یہ امداد تھی کیونکہ ہم جمہوریت اور عوامی اعتبار سے پاکستان کو اہم سمجھتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ آپ کے ہاں جمہوری طریقے سے حکومت تبدیل ہوئی جو کہ ایک شاندار کامیابی ہے۔ جمہوری ملک کی حیثیت سے ارتقا میں امریکہ ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

یقیناً یہ ہمارے لیے تشویش کی بات ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں ہم پاکستان سے موثر شراکت قائم نہیں کر سکے۔ اسی لیے یہ ہماری مایوسی کا اظہار تھا کیونکہ ہم نے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ سمیت سب کچھ فراہم کیا اور یہ ہمارے اپنے مفاد میں تھا کیونکہ ہم یہ جنگ اکٹھی لڑ رہے ہیں۔ اب ہم نے جو پیغام بھیجا ہے اس سے ہماری ناخوشی کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے معاملے میں مستقبل کی راہ متعین نہیں کر سکے جو ہمارے لیے بے حد اہم ہے۔ یہ وہ دہشت گرد قوتیں ہیں جو پاکستانی سرزمین استعمال کر رہی ہیں۔

لہٰذا یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ میں سنجیدہ بات چیت کے بارے میں غلط اندازہ نہیں لگانا چاہتی، یہ سنجیدہ بات چیت ہے، مگر ہم بہت طویل تاریخ کے ساتھ اس مرحلے پر پہنچے ہیں۔ بہت سی تاریخ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم اکٹھے کام کر سکتے ہیں۔ ہم (ناقابل سماعت) ڈھونڈ سکتے ہیں۔ چنانچہ ہم نے یہ سب کچھ کیسے کرنا ہے؟

میڈیا: اگر آپ کو افغانستان میں تشدد کم کرنے یا طالبان کو مذاکراتی میز پر لانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا تو آپ کے خیال میں امریکی انتظامیہ کی ترجیح کیا ہوتی؟

سفیر ویلز: میرے خیال میں یہ دونوں چیزیں باہم جڑی ہوئی ہیں۔ جب آپ طالبان کو مذاکراتی میز پر لائیں گے تو لامحالہ طور سے تشدد میں کمی آئے گی۔ مفاہمتی اور مذاکراتی عمل کے حوالے سے میں یہ کہوں گی کہ امریکہ اور عالمی برادری نے بات چیت کے لیے پہلے سے شرائط نہیں رکھیں۔ اس کے بجائے ہم نے کہا ہے کہ اس عمل کے اختتام پر دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس عمل کے اختتام پر آئین کی حمایت ہونی چاہیے۔ اس عمل کے اختتام پر تشدد کا خاتمہ ہو جانا چاہیے۔

چنانچہ ہم اس حوالے سے نہایت لچک دار پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں کہ مذاکرات کیسے ہونے چاہئیں یا کون سے حالات میں مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ ہم افغان حکومت کی کوششوں کے حامی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی امن عمل کی قیادت خود افغان حکومت کو کرنی چاہیے اور ہم اس کوشش میں ان کے شریک کار ہوں گے۔

میڈیا: میں نے متعدد مرتبہ افغانستان کا سفر کیا اور حال ہی میں 15 روز قبل وہاں گیا تھا۔ وہاں کابل میں ہماری متعدد اعلیٰ سطحی حکومتی عہدیداروں سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے تصدیق کی کہ امن عمل میں دلچسپی رکھنے والے تمام طالبان گروہ ان مذاکرات میں شریک ہیں ۔ دوسری جانب میری حامد کرزئی سمیت بعض ارکان پارلیمان سے بھی ملاقات ہوئی جو کھلے عام الزام عائد کر رہے ہیں کہ امریکی افواج افغانستان میں داعش کی مدد میں مصروف ہیں۔ یقیناً صدر غنی نے ان کے اس دعوے کی نفی کی ہے۔ تاہم افغانستان میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ پاکستانی سرحد کے ساتھ باڑ لگائی جانا ضروری ہے تاکہ پاکستان امریکہ یا الزام لگانے والے دوسرے فریقین کو بتا سکے کہ اب ہمارے درمیان مناسب سرحدی انتظام موجود ہے اور ہم کسی کو سرحد پار جا کر کارروائی کرنے نہیں دیں گے۔ پاکستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کے حوالے سے آپ کیا کہتی ہیں (ناقابل سماعت)؟

سفیر ویلز: جہاں تک داعش کا معاملہ ہے تو میں ایسے الزام کو قطعی طور سے مسترد کرتی ہوں کہ امریکہ داعش کی مدد کر رہا ہے۔ یہ لغو بات ہے۔ اس سے مجھے غصہ آیا کیونکہ گزشتہ برس افغانستان میں داعش کے خلاف لڑتے ہوئے جان دینے والے امریکیوں کی تعداد طالبان سے زیادہ تھی اور اگر آپ دیکھیں تو ہم نے داعش کے خلاف 1400 سے زیادہ کارروائیاں کی ہیں جس سے داعش کا وجود ننگر ہار میں نو اضلاع سے سکڑ کر تین یا پانچ تک محدود ہو گیا ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ جنگ جاری ہے اور داعش ایک سنگین خطرہ ہے۔ اس حوالے سے ہم پاکستان کے ساتھ متحد ہیں۔ تاہم امریکہ داعش کے خاتمے کے لیے سرگرمی سے عمل پیرا ہے اور ہم عراق اور شام میں شکست خوردہ داعش کے عناصر کو دنیا میں کہیں بھی دوبارہ ابھرنے نہیں دے سکتے۔ چنانچہ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان سمیت ہر جگہ داعش کے خلاف کارروائی کرے۔

جہاں تک باڑ لگانے کا معاملہ  ہے تو ہم سرحدی انتظام کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے سے بات چیت کرنی چاہیے۔ امریکی مدد سے یا مربوط طور سے کی گئی کوئی بھی کارروائی جیسا کہ جنوری 2017 میں کیا جانے والا خیبر 3 آپریشن ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔ ممکن ہے میں نے اس کا درست نام نہ لیا ہو مگر اس سلسلے میں سرحد کے اطراف دونوں فریقین نے مل کر کام کیا۔ اسی طرح موثر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

میں سمجھتی ہوں کہ غیرمربوط کوششوں سے غلط فہمی اور بعض اوقات بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ اسی لیے ہم افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں پر زور ڈالیں گے کہ وہ سرحدی انتظام کے لیے مل کر کام کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں اس سرحد کے آر پار نفوذ پذیری کس قدر آسان ہے اور دہشت گرد اس سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

میڈیا: پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کا کہنا ہے کہ ان کا طالبان پر اب پہلے جیسا اثرورسوخ نہیں رہا۔ مجھے علم ہے کہ آپ کی انتظامیہ پاکستان سے توقع رکھتی ہے کہ وہ طالبان کو مذاکراتی میز پر لائے گا۔ اگر پاکستان کہتا ہے کہ اس کا طالبان پر اثر نہیں رہا تو آپ کیسے توقع رکھتے ہیں کہ وہ انہیں مذاکرات پر آمادہ کرے گا؟

سفیر ویلز: پاکستان سے کوئی نہیں کہہ رہا کہ وہ طالبان کو مذاکراتی میز پر لائے۔ طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے سے انکار کیا ہے۔ افغان حکومت ہی افغانستان کا جائز ادارہ ہے جسے ہم، آپ کی حکومت، اقوام متحدہ اور خطے میں سبھی تسلیم کرتے ہیں۔ طالبان نے ابھی افغان حکومت کو مذاکراتی فریق تسلیم نہیں کیا اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان بہت کچھ کر سکتا ہے۔

میڈیا: کیا آپ کو حیرانی ہوئی؟

سفیر ویلز: میں سمجھتی ہوں کہ ہمارے اور پاکستانی حکومت میں یہ بات چیت طویل عرصہ سے جاری ہے، مگر آپ ۔۔۔۔

میڈیا: کیا آپ کسی تجزیہ کار کے اس دعوے سے متفق ہیں کہ امریکہ اپنے مستقبل کے مقاصد کی تکمیل کے لیے طویل عرصہ تک افغانستان میں رہنا چاہتا ہے اور افغانستان میں جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتا۔

سفیر ویلز: مجھے ہمیشہ کسی نہ کسی سازشی کہانی سے واسطہ پڑتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دو بالکل مختلف امریکی صدور نے آپ کو مختلف باتیں کہی ہیں۔ صدر اوباما نے کہا کہ ہم افغانستان سے جا رہے ہیں۔ انہوں نے آپ کو بتا دیا تھا کہ ہم کب جا رہے ہیں۔ انہوں نے  جس تیزرفتاری سے فوج واپس بلائی اس کی مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے نتیجے میں ہم نے کیا دیکھا؟ کیا طالبان نے کہا کہ ہم دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے مذاکرات کرتے ہیں؟ نہیں۔ طالبان نے اپنی جنگ اور بھی تیز کر دی کیونکہ وہ ابھی تک سمجھتے ہیں کہ وہ افغانستان پر تسلط جما سکتے ہیں۔

اس کے بعد صدر ٹرمپ آئے اور انہوں نے قومی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے آپ کو بتایا کہ وہ افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس پر مہم چلائی۔ ان کے پاس حکمت عملی کے حوالے سے مشاورت کے لے چھ ماہ تھے۔ بالاآخر صدر اوبامہ کی طرح وہ بھی اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمارا قومی سلامتی کا مفاد اس میں ہے کہ ہم افغانستان کو مستحکم اور پرامن ملک کے طور پر چھوڑیں۔

چنانچہ میرے خیال میں جنوبی ایشیا کے حوالے سے حکمت عملی کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم افغانستان میں طویل مدتی استحکام کے لیے کام کریں۔ ہم پرعزم ہیں کہ طالبان کو جیتنے کا موقع نہیں دیں گے۔ اور اسی سے اس تنازعے کے حوالے سے طالبان کی سوچ تبدیل ہو سکتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں وہ اپنے جائز مفادات کی تکمیل کیسے کر سکتے ہیں؟ یہاں ہر فریق کے جائز مفادات ہیں مگر انہیں یہ سب کچھ مذاکراتی میز پر حاصل کرنا ہے اس حکمت عملی کے تحت ہمارا یہی عزم ہے۔

میڈیا: آپ (ناقابل سماعت) افغانستان میں فوجی کارروائی کے 17 سال بعد، کیا آپ نے اپنا اندازہ لگایا؟ کیا آپ افغانستان میں جنگ جیت رہے ہیں؟ آپ جانتی ہیں کہ وہاں کچھ ذمہ داریاں ہیں (ناقابل سماعت) کیونکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ اب بھی افغانستان کے 43 فیصد علاقے پر صدر غنی کی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے اور وہ صرف کابل تک ہی محدود ہیں۔ ہم نے ملک کے شمالی حصے میں کامیاب کارروائیوں میں بہت سے فوائد سمیٹے۔ دوسری سمت کے حوالے سے آپ کیا کہتی ہیں؟

سفیر ویلز: میرے خیال میں موجودہ انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مخصوص مدت تک فوج واپس بلانے کے اقدامات ناکام رہے ہیں اور الٹا اس سے عدم استحکام پیدا ہوا اور طالبان کو اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا موقع ملا۔ میں اس حوالے سے اعدادوشمار کی بابت محتاط رہوں گی۔ اگرچہ طالبان کا افغانستان کے قریباً 40 فیصد علاقے پر قبضہ ہو سکتا ہے مگر آبادی کے اعتبار سے یہ 10 یا 11 فیصد بنتا ہے۔ طالبان کسی بھی طرح سے افغان عوام کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ اگر آپ ایشیا فاؤنڈیشن کے سالانہ  جائزے کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ صرف پانچ فیصد افغان عوام طالبان یا ان کے مقاصد سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ طالبان کے خلاف افغانستان میں قومی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ وہ افغانستان کی سماجی و سیاسی بُنت کا حصہ ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ اعتدال پسند طالبان کے لیے مذاکرات کی میز پر کردار موجود ہے۔

آج کی جنگ بہت مختلف ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ افغان قومی فوج اپنے ملک کے لیے لڑ رہی ہے اور جانیں دے رہی  ہے۔ امریکی افواج انہیں تربیت، مشاورت اور معاونت فراہم کرنے کے لیے وہاں موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کے تحت ہم اپنے بعض اختیارات میں اضافے کے لیے تیار ہیں جس میں طالبان کو نشانہ بناتے ہوئے مزید جارحانہ کارروائی کا اختیار شامل ہے۔ تاہم حتمی طور پر یہ افغان فوج ہی ہے جو اپنے ملک کے لیے لڑ رہی ہے اور ہم اس جنگ میں اس کی معاونت کر رہے ہیں۔

میڈیا: پاکستان کی جانب واپس آتے ہیں، آپ نے جمہوری عمل کے تسلسل پر ہمیں مبارک باد پیش کی۔ تاہم اس وقت ہماری یہ صورتحال ہے کہ حکمران جماعت کہتی ہے اور یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ فوج جمہوری عمل کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکہ کو پاکستان میں جمہوری عمل کے تسلسل کی بابت کس قدر تشویش ہے؟

سفیر ویلز: میں سمجھتی ہوں کہ ہماری نظر پاکستان میں آئندہ انتخابات پر ہے، جمہوری عمل جاری ہے اور ہم زور دیتے ہیں کہ باہمی تنازعات جمہوری طریقے سے حل کیے جانے چاہئیں۔ اسی طرح ہم عدالتی عمل کی حمایت  کرتے ہیں اور اسے بھرپور انداز میں کام کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اداروں کو فعال طور سے کام کرتا دیکھ رہے ہیں اور ہم جمہوری اداروں کے کام کی حمایت کرتے ہیں۔

میڈیا: کیا آپ ایسے اہم پاکستانی حکام کے نام بتا سکتی ہیں جن سے آپ کی ملاقات ہوئی؟ میں ان کے نام جاننا چاہتا ہوں۔

سفیر ویلز: گزشتہ روز ایم ای اے، وزارت خزانہ اور دوسرے شعبہ جات سے متعلق بہت سے لوگوں سے میری مشاورت ہوئی۔ آپ کا بہت شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں