rss

شام کے بارے میں امریکہ کی مستقبل کی حکمت عملی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کا سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ہوور انسٹیٹیوٹ میں خطاب

Русский Русский, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

مریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
17 جنوری 2018
سٹینفورڈ، کیلیفورنی

 
 

وزیرخارجہ ٹلرسن: شکریہ، شکریہ، آپ کا بے حد شکریہ۔

صبح بخیر، ویسٹ کوسٹ میں موجودگی کے دوران سٹینفورڈ یونیورسٹی میں بات کرنے اور خاص طور پر ان لوگوں سے مخاطب ہونے کا موقع میرے لیے بے حد قابل قدر ہے۔ آج یہاں بات کا موقع دینے پر میں سٹینفورڈ اور ہوور انسٹیٹیوٹ نیز انٹرنیشنل سٹڈیز گروپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہووور انسٹیٹیوٹ میرے لیے جانی پہچانی جگہ ہے۔ اپنی گزشتہ زندگی کے دوران مجھے متعدد مواقع پر یہاں بات کرنے کا موقع ملا اور اس ادارے نے تسلسل سے عظیم اور بااصول علمیت پیدا کی ہے جو نمائندہ حکومت، نجی شعبے اور امریکی طرز زندگی کے تحفظ کے ضمن میں اہم فیصلوں میں مدد دیتی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو یقیناً آپ کی صفوں میں ایک حقیقی وکیل موجود ہیں۔ یہ میری دوست ڈاکٹر کونڈولیزا رائس ہیں، میں نہیں جانتا کہ آیا وہ مجھے اس صورتحال میں لانے کی ذمہ دار ہیں یا نہیں (قہقہہ) مگر بہرحال میں کسی حد تک انہیں ہی اس کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ تاہم میں ان کی نصیحت اور مشورے کی قدر کرتا ہوں۔ وزارت خارجہ سنبھالنے کے بعد مجھے لائحہ عمل تیار کرنا تھا کیونکہ اس حوالے سے میرے سامنے کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ میرے لیے مدد اور تحرک کا بہت بڑا ذریعہ رہی ہیں۔

میں دوسرے معاون میزبان سے بھی اظہارتشکر کرنا چاہتا ہوں جو 20 صدی میں ہماری قوم کے انتہائی سرگرم اور باصلاحیت سرکاری افسروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ سابق وزیر جارج شلز ہیں۔ جارج اور میں ایک دوسرے کو طویل عرصہ سے جانتے ہیں اور میں ان کے کام کا بے حد قدردان بھی ہوں۔

میں کچھ ہی دیر پہلے وینکوور میں وزارتی اجلاس سے آیا ہوں جس میں بہت سے ممالک نے اس معاملے پر مشاورت کی کہ شمالی کوریا کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم پر بہتر طور سے عملدرآمد کیونکر ممکن ہے۔ امریکہ اور ہمارے اتحادی یہ مہم جاری رکھنے کے لیے متحد ہیں یہاں تک کہ شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے بامعنی اقدامات نہیں اٹھا لیتا۔ ہم سب میں اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح شمالی کوریا ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔

وینکوور سے میں فوری طور پر یہاں کیلیفورنیا آیا۔ میں مختصر وقت میں اس اہتمام پر ڈاکٹر رائس کو سراہتا ہوں۔ واشنگٹن میں کچھ لوگوں کو شبہ تھا کہ میں خراب موسم سے بھاگ کر یہاں آیا ہوں مگر مجھے یہاں آ کر خوشی ہوئی ہے۔ شام کے بارے میں امریکہ کی مستقبل کی حکمت عملی آج آپ کے ساتھ گفتگو میں میرا موضوع ہو گا۔

میں آغاز میں آپ کو وسیع تاریخی اور سیاسی تناظر میں بعض ایسے انتہائی مشکل حالات کی بابت بتاؤں گا جن کا شامی عوام کو سامنا ہے اور یہ تمام عالمی طاقتوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔ اس کے بعد میں یہ بیان کرنا چاہوں گا کہ شام میں عسکری اور سفارتی موجودگی برقرار رکھنا، تنازعے کے خاتمے میں مدد دینا اور نئے سیاسی مستقبل کے لیے شامی عوام کی معاونت ہمارے قومی دفاع کے لیے کیوں اہم ہے۔

میں آخر میں مستحکم، متحد، خودمختار اور دہشت گردوں کے خطرات نیز وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک شام کے لیے موجودہ امریکی انتظامیہ کے اقدامات کی تفصیل بیان کرنا چاہوں گا۔ اس کے بعد، جیسا کہ بتایا گیا ہے ڈاکٹر رائس اور میں کچھ گفت و شنید کریں گے۔

 شامی عوام کو قریباً 50 برس سے حافظ الاسد اور اب اس کے بیٹے بشارالاسد کی آمریت جھیلنا پڑی ہے۔ اسد حکومت کی نوعیت بھی اپنے معاون ایران جیسی ہی مہلک ہے۔ اس نے ریاستی دہشت کو فروغ دیا ہے۔ اس نے القاعدہ جیسے ایسے گروہوں کو طاقت بخشی ہے جنہوں نے امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ اس نے حزب اللہ اور حماس کی حمایت کی ہے اور سیاسی مخالفت کو پرتشدد طور سے دبایا ہے۔ خطے کے بعض شدید انتہاپسند عناصر کی معاونت اور انہیں اپنے ہمسایوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے استعمال کرنا بشارالاسد کی وسیع تر حکمت عملی ہے۔ اسد حکومت بدعنوان ہے اور اس کا طرز حکمرانی و معاشی ترقی مخصوص نسلی و مذہبی گروہوں کے خلاف ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے اس کا ریکارڈ دنیا بھر میں بدنام ہے۔

ایسا جبر ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں دبا ہوا غصہ ابھر آیا اور شامی عوام کی بڑی تعداد اسد حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ 2011 میں شروع ہونے والے پرامن مظاہروں نے پورے شام کو لپیٹ میں لے لیا جبکہ اسد اور اس کی حکومت نے اپنے ہی عوام کے خلاف گولیوں اور جیل کی سزاؤں کا استعمال شروع کر دیا۔

اس وقت سے اب تک شام کی کہانی انسانی مصائب سے عبارت ہے۔ پانچ لاکھ سے زیادہ شامی ہلاک ہو چکے ہیں۔ 54 لاکھ شامیوں نے مہاجرت اختیار کی ہے اور 61 لاکھ اندرون ملک بے گھر ہو گئے ہیں۔ حکومت اور حزب مخالف کی قوتوں میں جنگ کے نتیجے میں شہروں کے شہر تباہ ہو چکے ہیں۔ پوری قوم کی تعمیر نو میں کئی سال لگیں گے۔

یہ جنگ روکنے کے لیے امریکہ کی سابقہ کوششیں غیرموثر رہیں۔ 2013 میں جب اسد نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے اور امریکی کی جانب سے کھینچی گئی سرخ لکیر عبور کی تو اس پر کوئی کارروائی نہ ہونے سے اسے شہریوں کی زندگی سے مزید کھیلنے کی شہ ملی۔ گزشتہ برس اپریل میں ٹرمپ انتظامیہ نے اسد کی جانب سے شہریوں پر اعصابی گیس سرن استعمال کیے جانے کا جواب کروز میزائلوں سے دیا جس کے نتیجے میں اسد کی 20 فیصد فضائیہ تباہ ہو گئی۔ ہم نے یہ اقدام شامی فوج کی جانب سے مزید کیمیائی حملوں کی صلاحیت ختم کرنے کے لیے کیا تاکہ معصوم شہریوں کو تحفظ دیا جائے اور شامی حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں کے مزید استعمال یا پھیلاؤ سے روکا جا سکے۔ امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کے خطرات کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور ہم اس پر خاموش تماشائی بنے رہ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے استعمال کو عام ہونے دے سکتے ہیں۔ ہم اس حملے کے متاثرین کی خاطر احتساب اور انصاف کے حصول کی کوشش جاری رکھیں گے۔

2012 میں اسد کی فوج کو مسلح حزب اختلاف کے مقابلے میں کڑی مشکل کا سامنا تھا۔ ایران کی جانب سے لڑاکا فورسز کی مدد سے اس کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ تاہم اس مدد کے باوجود اگست 2015 تک شامی باغی فورسز نے اسد حکومت کے خلاف نمایاں پیش رفت کی۔ اپنی بقا خطرے میں دیکھ کر اسد نے اپنے دیرینہ اتحادی روس سے مدد کی درخواست کی۔ روس نے اسد حکومت کو بچانے کے لیے مداخلت کی اور خاص طور پر فضائی قوت، انٹیلی جنس اور اسلحے کی ترسیل کے ذریعے اس کا معاون ہوا۔

دسمبر 2016 میں وحشیانہ کارروائی کے بعد حلب جیسا اہم شہر شامی حکومت کے ہاتھ میں چلا گیا۔ اس کارروائی میں شہر تباہ ہو گیا جس کی آبادی جنگ سے پہلے بیس لاکھ تھی۔ یہ اس جنگ میں دوبارہ زور پکڑنے کے لیے حکومت کے بے رحمانہ طرزعمل کی علامت تھی۔ اس سے اسد کو یہ غلط فہمی بھی ہوئی کہ وہ شامی عوام کی جائز محرومیوں کا ازالہ کیے بغیر اقتدار میں رہ سکتا ہے۔

شام میں یہ خانہ جنگی خلقی طور سے ہولناک تھی۔ مگر داعش کے ظہور کے نتیجے میں شام اس سے بھی بڑی مصیبت میں پھنس گیا۔ یہ عراق اور شام کی سرحدوں میں ایک ابھرتی ہوئی دہشت گرد ریاست تھی۔ اسد حکومت اور اس کے خلاف حزب اختلاف کے متعدد گروہوں کی لڑائی کے نتیجے میں 2013 اور 2014 کے دوران ایسے حالات نے جنم لیا جن میں داعش نے تیزی سے وسعت پائی۔ درحقیقت داعش نے عراق میں القاعدہ سے جنم لیا جس کی اسد نے خفیہ طور پر حمایت کی تھی۔ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسد نے مشہور دہشت گردوں کو شامی جیلوں سے رہا کر کے داعش کے ظہور میں بھی مدد دی اور اس کی جانب سے آنکھیں بند کیے رکھیں۔ داعش نے ملک میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھایا اور اور اپنی نام نہاد خلافت قائم کر لی جبکہ شامی شہر رقہ اس کا دارالخلافہ قرار پایا۔ داعش نے اپنے پنجے پھیلائے اور اتنے بڑے علاقے پر تسلط جما لیا جس کا رقبہ برطانیہ کے برابر تھا جبکہ اس کے پاس نمایاں لڑاکا قوت بھی موجود تھی۔ لوٹے گئے بینکوں سے حاصل شدہ نقد رقم اور تیل کے کنوؤں پر قبضے کے نتیجے میں اس کے پاس خود کو قائم رکھنے اور امریکی سرزمین نیز ہمارے اتحادیوں پر حملے کرنے کے لیے درکار تمام عناصر میسر آ گئے۔ بنیاد پرست دہشت گرد ریاست نے دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک سے ہزاروں جہادیوں کو اپنی جانب راغب کیا اور دنیا بھر میں موجود دوسرے دہشت گردوں کو ان کے اپنے علاقوں میں حملوں کی ترغیب دی۔

داعش کے ظہور کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں نے اس وحشی حکومت کی جانب سے نسلی صفائی میں جان بچانے کے لیے اپنے گھر، دیہات اور شہر چھوڑے جس سے ہمسایہ ممالک اور یورپ و سکنڈے نیویا تک مہاجرین کا سیلاب امڈ آیا۔ 2014 کے وسط تک داعش کے پاس شام میں کارروائیوں اور مغرب نیز ہمارے علاقائی اتحادیوں پر حملوں کے لیے مالیات، منصوبہ بندی، تحرک اور انہیں براہ راست نشانہ بنانے کے لیے مستحکم ٹھکانہ موجود تھا۔ یہ شام کو ہمارے شراکت داروں کے خلاف کارروائیوں کے لیے کیمیائی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ طاقت پکڑتی دہشت گرد تنظیم کی تباہ کن قوت کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے داعش کو عسکری شکست دینے پر توجہ مرکوز کی۔ شام میں داعش کے خطرے کے باوجود اسد نے شامی حزب اختلاف کے خلاف لڑنے کو ترجیح دی حالانکہ اسے ایرانی اور روسی فوج کی مدد بھی حاصل تھی۔

انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی بالکل سادہ ہے۔ اسے اندرون اور بیرون ملک دہشت گردوں کے حملوں سے امریکیوں کو تحفظ مہیا کرنا ہے۔ اس حکمت عملی کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کو منظم ہونے، مالی وسائل جمع کرنے، جنگجو بھرتی کرنے، تربیت، منصوبہ بندی اور حملے کرنے کے مواقع سے محروم کر دیا جائے۔

صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد شام اور عراق میں حاصل شدہ کامیابیوں میں اضافے کے لیے فیصلہ کن اقدام کیا۔ انہوں نے وزیردفاع ماٹس کو ہدایت دی کہ داعش کو شکست دینے کا نیا منصوبہ 30 روز میں پیش کریں۔ صدر نے فوری طور پر اس منصوبے کی منظوری دے دی۔ انہوں نے ایسی کارروائیوں کی ہدایت دی جن کے نتیجے میں فیصلہ کن نتائج فوری حاصل ہو سکتے تھے۔ انہوں نے میدان جنگ میں امریکی کمانڈرز کے اختیارات میں اضافہ کیا اور داعش کو شکست دینے کے لیے ہمارے عسکری قائدین کو جنگی چالیں چلنے کے حوالے سے مزید آزادی دی۔ آج شام اور عراق میں وہ تمام رقبہ آزاد کرا لیا گیا ہے جس پر کبھی داعش کا قبضہ تھا۔ یہ برطانیہ کے حجم کے خطے کا قریباً 98 فیصد بنتا ہے۔ اب داعش اس جگہ دوبارہ قدم نہیں جما سکتی۔ رقہ میں داعش کی خلافت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اس خلافت کا آزاد کرایا گیا دارالحکومت اب دہشت گرد سلطنت کے قیام کی امید رکھنے والوں کے لیے باعث کشش نہیں رہا۔ قریباً 32 لاکھ شامیوں اور 45 لاکھ عراقیوں کو داعش کے ظلم و ستم سے آزاد کرایا گیا ہے۔ اندرون  ملک بے گھر ہونے والے قریباً 30 لاکھ سے زیادہ عراقی اب گھروں کو واپس آ چکے ہیں اور داعش کی خلافت کا دوسرا دارالحکومت موصل مکمل طور پر آزاد کرایا جا چکا ہے جس کا شمار عراق کے سب سے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ دسمبر 2013 میں یہ بحران شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں عراقی گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔

آج ہم شام کا جائزہ لیں تو ہمیں ایک بڑا منظرنامہ دکھائی دیتا ہے۔ اس صورتحال کے تین نمایاں عناصر ہیں۔

داعش کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا گیا ہے مگر ابھی اسے مکمل شکست نہیں ہوئی۔

شام میں قریباً نصف علاقے اور اس کی آبادی پر اسد حکومت کا کنٹرول ہے۔

امریکہ کو ناصرف داعش اور القاعدہ بلکہ دیگر عناصر سے لاحق تزویراتی خطرات بدستور موجود ہیں۔ میں جس خطرے کی بات کر رہا ہوں وہ ایران کی جانب سے لاحق ہے۔

ایران سے لبنان اور بحیرہ روم تک پھیلی قوس تخلیق کرنے کی حکمت عملی کے طور پر ایران نے شام میں پاسداران انقلاب بھیج کر اپنی موجودگی کو ڈرامائی طور پر مضبوط بنایا ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ حزب اللہ کی مدد بھی کر رہا ہے اور عراق، افغانستان، پاکستان اور دیگر ممالک میں اپنے آلہ کار بھی بھیج رہا ہے۔ شام میں اپنی پوزیشن کے بل بوتے پر وہ امریکی مفادات، ہمارے اتحادیوں اور خطے میں موجود ہمارے لوگوں پر حملے کر رہا ہے۔ ایران اسد حکومت کی مدد کے لیے سالانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے اور اپنے ہی عوام کی قیمت پر اس نے آلہ کاروں کے ذریعے دوسرے ممالک میں جنگیں چھیڑ رکھی ہیں۔

لاکھوں شامی مہاجرین اور اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی حالت بدستور انسانی بحران کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست تعلق شام میں سلامتی اور جائز حکومت کے فقدان سے ہے۔ اسد نے اپنے ہی عوام کے خلاف گیس سے حملے کیے، دیہات اور شہروں کو بیرل بموں سے نشانہ بنایا نیز سیاسی اختلاف کے پرامن حل سے متعلق ہر موقع کو تسلسل سے کمزور کیا۔ یہ خلاف ورزیاں آج بھی جاری ہیں اور یہ امر مشرقی غوطہ اور ادلب میں شہریوں کی ہلاکتوں سے عیاں ہو جاتا ہے۔ اس مسئلے کے سیاسی حل کے بغیر مہاجرین کی بڑے پیمانے پر محفوظ اور رضاکارانہ واپسی میں موثر طور پر سہولت دیے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

مختصر یہ کہ شام بدستور سنگین تزویراتی خطرات کا منبع اور ہماری سفارت کاری کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ تاہم امریکہ اپنے قومی سلامتی کے مفاد کی حفاظت کے لیے اس مسئلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ امریکہ شامی مسئلے کے حل کے حوالے سے پانچ امکانات کی خواہش رکھتا ہے:

پہلا یہ کہ شام میں داعش اور القاعدہ کو پائیدار شکست ہو اور وہ امریکی سرزمین کے لیے خطرہ نہ رہیں اور نئی صورت بھی اختیار نہ کر سکیں۔ شام دوبارہ کبھی دہشت گردوں کے لیے منظم ہونے، بھرتیاں کرنے، مالیات جمع کرنے، تربیت اور امریکی شہریوں نیز ہمارے اتحادیوں کے خلاف حملوں کے لیے دہشت گردوں کی محفوظ جنت  نہ بن سکے۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ شامی عوام اور اسد حکومت میں جاری تنازع اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 میں دیے گئے طریق کار کے مطابق اقوام  متحدہ کے زیرقیادت سیاسی عمل کے نتیجے میں حل ہو اور اسد کےبعد ایک مستحکم، متحد اور خودمختار شام سامنے آئے۔

تیسری بات یہ کہ شام میں ایرانی اثرورسوخ کا خاتمہ ہو، شمالی قوس کے حوالے سے ان کے خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکیں اور شام کے ہمسایے وہاں سے ابھرتے ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رہیں۔

چوتھا امکان یہ ہو کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ اندرون ملک بے گھر ہونے والے لوگ محفوظ اور رضاکارانہ طور سے واپسی کا عمل شروع کر سکیں۔

پانچویں بات یہ ہے کہ شام وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک ہو جائے۔

ٹرمپ انتظامیہ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ ہماری فوجی کامیابیوں کی بنیاد پر سفارتی اقدامات اس عمل کا اہم حصہ ہیں۔ استحکامی اقدامات اور شامی تنازعے کے سیاسی حل پر نیا زور ہماری سفارتی کوششوں کا اہم عنصر ہوں گے۔

تاہم واضح رہے کہ امریکہ شام میں اپنی عسکری موجودگی برقرار رکھے گا تاکہ داعش دوبارہ سر اٹھانے نہ پائے۔ شام میں ہمارے فوجی مشن کا انحصار حالات پر ہو گا۔ ہم وہی غلطیاں نہیں دہرا سکتے جو ہم نے 2011 میں کی تھیں جب عراق سے قبل از وقت انخلا کے نتیجے میں القاعدہ کو قائم رہنے کا موقع ملا اور بعدازاں اس سے داعش نے جنم لیا۔ اسی خلا کے نتیجے میں داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کو ابھرنے کا موقع ملا جنہوں نے ملک میں انتشار پھیلایا۔ اس سے داعش کو امریکیوں اور ہمارے اتحادیوں کے خلاف حملوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ میسر آئی۔ ہم شام میں تاریخ دہرانے نہیں دیں گے۔ اس وقت داعش کا خاتمہ قریب ہے اور شام میں امریکی موجودگی برقرار رہنے سے یہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔

ہم سمجھ سکتے ہیں کہ بعض امریکی شام میں ہماری مسلسل موجودگی کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور اس قدر افراتفری کا شکار ملک میں موجودگی کے فوائد بارے سوالات اٹھاتے ہیں۔ تاہم متعدد وجوہات کی بنا پر امریکہ کے لیے شام میں موجود رہنا اہم ہے۔ خاص طور پر جنگ زدہ علاقوں میں ایسی جگہیں داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کو پنپنے میں مدد دیتی ہیں جہاں اس وقت حکومت وجود نہیں رکھتی۔ داعش کے خلاف جنگ ختم نہیں ہوئی۔ وہاں داعش کے جنگجوؤں کے جتھے موجود ہیں جو پہلے ہی چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر چکے ہیں۔ ہم اور ہمارے اتحادی انہیں ڈھونڈ کر ہلاک کریں گے یا انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

اسی طرح ہمیں القاعدہ کے خاتمے کے لیے شام میں موجود رہنا ہے جو شمال مغربی شام میں اب بھی موجود ہے اور وہاں سے کارروائیوں کی صلاحیت بھی رکھتی ہے جیسا کہ نائن الیون سے چند سال پہلے القاعدہ مغرب پر حملوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد کے لیے محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں تھی۔ اگرچہ گزشتہ چند برس میں داعش ہی سب سے نمایاں دہشت گرد گروہ کے طور پر سامنے آئی ہے مگر القاعدہ اب بھی سنگین خطرہ ہے جو نئے اور موثر طریقوں سے دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

علاوہ ازیں اس وقت شام سے امریکہ کا مکمل انخلا اسد کو طاقت بحال کرنے اور اپنے ہی عوام کے خلاف ظالمانہ سلوک جاری رکھنے میں مدد دے گا۔ اپنے ہی عوام کا قاتل طویل مدتی استحکام کے لیے درکار اعتماد پیدا نہیں کر سکتا۔ مستحکم، متحد اور خودمختار شام کو کامیابی کے لیے بالاآخر اسد سے چھٹکارا پا کر نئی قیادت لانا ہو گی۔ داعش کی دیرپا شکست یقینی بنانے کے لیے شام میں امریکی موجودگی سے جائز مقامی سویلین حکام کو آزاد کرائے گئے علاقوں میں ذمہ دارانہ حکومت چلانے میں بھی مدد ملے گی۔ اقوام متحدہ کے زیر قیادت جنیوا عمل کے ذریعے اسد کی رخصتی سے شام میں پائیدار امن کے لیے حالات پیدا ہوں گے اور شامی ہمسایوں کے ساتھ سرحدوں پر حالات میں بھی بہتری آئے گی۔

اگر امریکہ شام سے نکل جاتا ہے تو ایران کو وہاں اپنی موجودگی مزید مستحکم کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ جیسا کہ ہم ایران کی اپنے آلہ کاروں کے ذریعے لڑی جانے والی جنگوں اور سرکاری اعلانات میں دیکھ چکے ہیں وہ مشرق وسطیٰ میں بالادستی کا خواہاں ہے اور ہمارے اتحادی اسرائیل کی تباہی چاہتا ہے۔ اسرائیلی سرحد کے ساتھ غیرمستحکم  ملک کے طور پر شام ایک ایسا موقع فراہم کرتا ہے جس سے ایران ضرور فائدہ اٹھانا چاہے گا۔

آخر میں ہماری اقدار کی مطابقت سے دیکھا جائے تو امریکہ کے پاس ایسے لوگوں کی مدد کا موقع ہے جنہوں نے بہت سے مصائب جھیلے ہیں۔ ہمیں شامیوں کو گھر واپسی اور اپنی زندگیاں ازسرنو شروع کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ شامی مہاجرین کی محفوظ اور رضاکارانہ واپسی امریکہ، ہمارے اتحادیوں اور ہمارے شراکت داروں کے مفاد میں ہے۔ اردگرد کے خطے اور یورپ پر مہاجرین کا بے پایاں دباؤ کم کرنے کے لیے ان مہاجرین کی محفوظ اور رضاکارانہ واپسی ممکن بنانے کے حالات پیدا کیے جانا چاہئیں۔ اگر بحیرہ روم کے ایک سرے یعنی شام میں افراتفری اور ناانصافی جاری رہے تو اس کے یورپی سرے پر استحکام غیریقینی ہو گا۔ امریکہ شام میں استحکام اور امن یقینی بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت کاروں کے ہمراہ درج ذیل اقدامات اٹھائے گا۔

پہلی بات یہ ہے کہ زندگی معمول پر لانے اور داعش کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکنے کے لیے آزادہ کرائے گئے علاقوں میں استحکامی اقدامات ضروری ہیں۔ ایسے اقدامات میں چند لازمی چیزیں شامل ہیں جیسا کہ داعش کی جانب سے چھوڑی گئی بارودی سرنگوں کا خاتمہ، ہسپتالوں کو دوبارہ کھولنا، پانی اور بجلی کی خدمات کی بحالی اور لڑکے لڑکیوں کو دوبارہ سکولوں میں لانا۔ عراق میں یہ طریق کار کامیاب ثابت ہوا جہاں لاکھوں عراقی اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں۔ تاہم عراق سے برعکس شام میں ہمارے پاس استحکامی سرگرمیوں کے لیے قومی حکومت کی صورت میں شراکت دار میسر نہیں ہے اسی لیے ہمیں دوسروں کے ساتھ کام کرنا ہے۔ مئی سے امریکہ نے شام کے متاثرہ علاقوں میں اضافی سفارت کار تعینات کیے ہیں جو اقوام متحدہ اور داعش کو شکست دینے کے لیے بنائے گئے عالمی اتحاد نیز متعدد غیرسرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

مقامی اور علاقائی حکام کو آزاد کرائے گئے علاقوں میں خدمات کی فراہمی میں مدد دینے سے مقامی آبادیوں اور مقامی رہنماؤں میں اعتماد کو فروغ ملتا ہے۔ دہشت گرد ایسے حالات میں پنپتے ہیں جہاں انہیں کمزور لوگوں پر اپنا نفرت انگیز پیغام مسلط کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ ہماری استحکامی کوششوں سے انہیں دہشت گردی سے دور ہونے اور اپنی مقامی آبادیوں سے جڑنے میں مدد ملے گی۔

یہ بات واضح طور پر مدنظر رہے کہ ‘استحکام لانے’ سے مراد قومی تعمیر یا تعمیر نو نہیں ہے۔ تاہم یہ ضروری عمل ہے۔ شام میں کوئی فریق فتح یا محض عسکری ذرائع سے استحکام لانے کا اہل نہیں ہے۔ ہماری شام میں عسکری موجودگی کے پیچھے دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کی ٹیمیں کام کر رہی  ہیں جو پہلے ہی مقامی حکام کے تعاون سے لوگوں کو اپنے علاقوں میں مستحکم طور سے آباد ہونے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔

استحکامی کوششوں کے ساتھ ساتھ مجموعی تنازعے کو ٹھنڈا کرنا بھی اسد کے بعد سیاسی سمجھوتے کے ضمن میں ایک اہم قدم ہے۔ امریکہ جولائی سے روس اور اردن کے ساتھ مل کر شام کے جنوب مغربی حصے میں ایک پرامن علاقہ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی، شہری آبادیوں پر بمباری کا خاتمہ ہوا اور چند استثنیات کے علاوہ اب تک اچھے نتائج ہی سامنے آئے۔ جنوب مغرب میں معاہدے سے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا خصوصاً حزب اللہ کو اسرائیلی سرحد سے ہٹایا گیا جس سے اسرائیل کی سلامتی کو لاحق خدشات سے تحفظ ملا۔ جنگ سے پاک اس علاقے کو قائم رکھنے کے لیے روس کو اردن اور امریکہ سے مل کر کام کرنا ہو گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو حکومت اور حزب مخالف کے مابین جنگ بند ہو جائے گی جس سے انسانی امداد کی محفوظ طور سے ترسیل میں مدد ملے گی، اندرون ملک بے گھر ہونے والوں اور مہاجرین کی محفوظ اور رضاکارانہ واپسی کے لیے حالات پیدا ہوں گے اور شامی عوام کو جنگ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے درکار تحفظ میسر آئے گا۔ ہماری کوششوں کے نتیجے میں جنوبی مغربی پرامن علاقے میں ایسے مہاجرین اور اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی واپسی میں مدد ملی ہے جو اردن چلے گئے تھے اور 2017 میں بیرون ملک جانے والے 50 ہزار شامیوں سمیت 715000 افراد اپنے گھروں کو واپس آئے۔ ناصرف جنوب مغرب بلکہ دیگر علاقوں میں بھی قیام امن کے ایسے ہی اقدامات کی بدولت ان  ابتدائی مگر مثبت رحجانات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

انسداد دہشت گردی کے معاملے میں ہم ترکی جیسے اتحادیوں اور شراکت داروں کے تعاون سے کام جاری رکھیں گے تاکہ ادلب میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹا جا سکے اور ‘پی کے کے’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے حوالے سے ترکی کے خدشات نمٹائے جا سکیں۔ القاعدہ بھی اپنی کارروائیوں کے لیے ادلب میں ٹھکانہ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے تعاون سے اس خطرے پر قابو پانے کے لیے متحرک طور سے بہترین امکان تشکیل دینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

امریکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے تحت سیاسی حل کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ یہ متحدہ شام میں امن اور استحکام کے لیے سیاسی فریم ورک ہے جس پر سلامتی کونسل کے ارکان پہلے ہی متفق ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر ہم جنیوا عمل کے ذریعے کام کریں گے اور شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سٹیفن ڈی مسٹورا کی کاوشوں کی معاونت کی جائے گی۔

اسد حکومت واضح طور پر روس کو اپنی سلامتی کے ضامن کے طور پر دیکھتی ہے۔ اسی لیے اسد حکومت کو تعمیری طور سے جنیوا عمل میں شمولیت پر رضامند کرنے میں روس کا ایک بامعنی کردار ہے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی حمایت میں روس کے اپنے ووٹ سے ہٹ کر صدر پوٹن نے گزشتہ نومبر میں ویت نام کے شہر ڈا نانگ میں صدر ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ بیان میں جنیوا عمل کی حمایت کی توثیق کی تھی۔ امریکہ اور روس نے جنوبی مغربی پرامن علاقے میں مل کر کام کیا ہے اور ہم نے دونوں ممالک کی افواج کی سلامتی یقینی بنانے کے  لیے دریائے فرات کی وادی کے گرد غیرفوجی علاقے قائم کیے ہیں۔

روس کو ان وعدوں پر عمل کرنا چاہیے جو ہمارے صدور نے گزشتہ نومبر میں کیے تھے جن کا مقصد اقوام متحدہ کے زیرقیادت جنیوا عمل کے ذریعے شامی مسئلے کا حتمی حل تلاش کرنا ہے۔ روس شامی حکومت پر اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے یہ کام کر سکتا ہے جو خود بھی جنیوا عمل میں شرکت پر رضامندی ظاہر کر چکی ہے۔ روس کو اسد حکومت پر مزید دباؤ ڈالنا ہو گا تاکہ وہ جنیوا عمل میں شرکت کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی کوششوں میں قابل اعتبار طور سے شریک ہو اور متفقہ فیصلوں پر عملدرآمد کرے۔

امریکہ، یورپی یونین اور علاقائی شراکت دار اسد حکومت کے زیراثر کسی علاقے میں تعمیرنو کے حوالے سے معاونت فراہم نہیں کریں گے۔ ہم شامی مستقبل کے تمام فریقین سے بھی ایسا ہی کرنے کو کہتے ہیں۔ ہم اسد حکومت اور کسی بھی دوسرے ملک کے مابین اقتصادی تعلقات کی حوصلہ شکنی کریں گے۔ اس کے بجائے ہم عالمی اتحاد اور اس کے مقامی شراکت داروں کی جانب سے داعش سے آزاد کرائے گئے علاقوں کی تعمیر نو کے لیے عالمی معاونت کا خیرمقدم کریں گے۔ جب اقتدار سے اسد کی رخصتی عمل میں آئی تو امریکہ شام اور دوسرے ممالک میں معاشی تعلقات معمول پر لانے کی بخوشی حوصلہ افزائی کرے گا۔ امریکہ تمام اقوام پر زور دیتا ہے کہ وہ اسد پر معاشی اعتبار سے دباؤ ڈالنے اور سیاسی تبدیلی کے بعد شام کی تعمیر نو کے لیے کام کریں۔ ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ معمول کی زندگی بحال کرنے خواہش اور دباؤ کے ذرائع شامی عوام اور حکومت میں شامل افراد کے ذریعے اسد کی رخصتی میں معاون ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 شام میں اقوام متحدہ کے زیرنگرانی آزادانہ انتخابات کے لیے بھی کہتی ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ آزادانہ و منصفانہ انتخابات اسد حکومت اور ان کے خاندان کی اقتدار سے مستقل بے دخلی پر منتج ہوں گے۔ ان انتخابات میں بے گھر شامی اور جنگ کے نتیجے میں علاقہ اور ملک چھوڑنے والے سبھی شامی حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اس عمل میں وقت لگے گا اور ہم اسد کی رخصتی اور نئی قیادت تشکیل دینے کے حوالے سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے فوری طور پر ذمہ دارانہ تبدیلیاں عمل میں نہ آئیں تاہم آئینی اصلاحات کے اضافی عمل اور اقوام متحدہ کے زیرنگرانی انتخابات کے نتیجے میں تبدیلی ضرور آئے گی۔

امریکہ شامی جمہوری فورسز کی عظیم قربانیوں کا اعتراف اور قدر کرتا ہے جو انہوں نے شامیوں کو داعش سے چھٹکارا دلانے میں دیں مگر میدان جنگ میں اس کی فتوحات مقامی حکومت اور مشرقی و شمالی شام کے لوگوں کی نمائندگی کا مسئلہ حل نہیں کرتیں۔ تمام گروہوں اور نسلوں پر مشتمل عبوری مقامی سیاسی انتظامات کو عالمی حمایت بھی حاصل ہونی چاہیے۔ کسی بھی عبوری اہتمام کو عوامی نمائندگی کا آئینہ دار ہونا چاہیے اور اس سے شام کے کسی بھی ہمسایہ ملک کو کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح ان علاقوں میں مقیم شامیوں کی آواز کو بھی جنیوا عمل میں سنا جانا چاہیے اور شام کے مستقبل کی بابت وسیع تر گفت و شنید میں مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

ان نکات پر امریکہ اپنے نیٹو اتحادی ترکی کے خدشات کو سنتا اور انہیں سنجیدگی سے لیتا ہے۔ ہمیں داعش کو شکست دینے، لاکھوں شامی مہاجرین کی مدد اور آزاد کرائے گئے شامی علاقوں میں استحکام لانے کے حوالے سے ترکی کے انسانی کردار اور عسکری قربانیوں کا اعتراف ہے۔ شامی عوام کے لیے نئے مستقبل کے حصول میں ہمیں ترقی کا قریبی تعاون حاصل ہونا چاہیے جس سے شام کے ہمسایوں کے تحفظ کی ضمانت ملے گی۔

آخر میں شام سے ایران کے مضرت رساں اثرات محدود کرنے اور ان کے خاتمے کا دارومدار جمہوری شام پر ہے۔ بشارالاسد کی حکمرانی میں کئی سال تک شام ایران کی حاشیہ نشیں ریاست رہی ہے۔ اسد کے بغیر مرکزی شامی حکومت کو ملک میں اپنا اختیار منوانے کا نیا جواز حاصل ہو گا۔ ایک نئی حکومت کی جانب سے قومی خودمختاری کا دعویٰ نو، تناؤ کے خاتمے کی کوششیں اور عالمی امداد کے نئے سلسلے سے تشدد میں کمی آئے گی، استحکام کے لیے بہترین حالات میسر ہوں گے اور غیرملکی جنگجوؤں کی رخصتی کی رفتار تیز ہو جائے گی۔

ہم جانتے ہیں کہ شام میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں۔ مسئلے کے حل کے لیے ہمارے مجوزہ اہداف کا حصول آسان نہیں ہو گا۔ مگر ہماری اور ہمارے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے ان راستوں پر چلنا ضروری ہے۔ ہم عراق اور لیبیا میں کی گئی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔

استحکامی و سیاسی حکمت عملی کے بغیر بالاارادہ فوجی مداخلتیں ناموافق اور غیرارادی نتائج کو جنم دیتی ہیں۔ اسی لیے ہم شام میں جنگ کا خاتمہ، امن کے لیے کام اور تمام فریقین کو مذاکراتی میز پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ مسلسل لڑائی کے نتیجے میں انسانی حالات مزید دگرگوں ہو سکتے ہیں، مزید افراتفری پھیل سکتی ہے اور شام میں علاقائی فوجی مداخلت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہماری توجہ ایسی سیاسی راہ تعمیر کرنے پر مرکوز ہے جس میں شامی عوام کی خواہش کا احترام ہو اور ملک کا اتحاد اور زمینی یکجہتی بھی قائم رہے۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہمارے تمام چیلنجز کی طرح ہمارے مقاصد کے حصول کے اقدامات بھی اکیلے نہیں اٹھائے جائیں گے۔ ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے قریبی تعاون سے کام کریں گے۔ ماضی میں چند برس کے دوران بہت سے دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں ہمارے یورپی اتحادیوں نے افسوسناک طور سے داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں کی اہلیت کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ ہمیں اپنی حکمت عملی کی حمایت میں اتحادی اور شراکت دار درکار ہیں تاکہ ان دہشت گرد تنظیموں اور دوسروں کی جانب سے ہماری سلامتی کو لاحق خطرے کا پیشگی تدارک ممکن ہو سکے۔

آخری بات یہ کہ شامی عوام نے سات سال تک ناقابل تصور بدنظمی اور تکالیف جھیلی ہیں۔ انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ مستحکم، متحد اور خودمختار شام امریکہ، اس کے اتحادیوں اور شراکت داروں کے قومی سلامتی سے متعلق مفادات پورے کرے گا۔ اگر یہ سب کچھ حقیقت بنتا ہے تو یہ سبھی کی فتح ہو گی اور اس سے شامی عوام کو خدا کے تفویض کردہ حقوق، آزادی اور خوشی کے حصول کی اہلیت پانے میں مدد ملے گی۔

توجہ سے بات سننے پر آپ کا شکریہ، اب مجھے گفت و شنید کا انتظار ہے (تالیاں)

وزیر رائس: آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے ایک بہت اہم مسئلے پر توجہ دی جس کا میرے خیال میں بین الاقوامی نظام سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کو سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور اب میں ایک دو بہت اہم مسائل کی طرف واپس آؤں گی لیکن پہلے میں آپ سے وزیر خارجہ ہونے کے حوالے سے سوال پوچھنا چاہوں گی۔کیا یہ ایک مشکل کام ہے(قہقہہ)

وزیرخارجہ  ٹلرسن:ہے تو، بالکل ہے ، یہ کچھ مختلف ہے (قہقہہ)

وزیر رائس:ہاں (قہقہہ)۔ میں وزیر تھی توجب میں صبح اٹھتی تو میرے کیلنڈر پر کچھ چیزیں ہوتی تھیں اور میں سوچتی کہ اوہ خوب آج مجھے یہ سب کرنا ہے۔اور پھر کچھ چیزیں ایسی ہوتی تھیں جن کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے واپس بستر میں جانے کی طلب محسوس ہوتی تھی۔ تو آپ اپنے کام کو کیسا محسوس کرتے ہیں اور کون سی چیز آپ کو سب سے مشکل لگتی ہے۔

وزیرخارجہ  ٹلرسن:مجھے اپنے کام میں جو چیز سب سے زیادہ لطف دیتی ہے اور جس سے میں اپنے پورے کیرئیر کے دوران بھی لطف اندوز ہوتا رہا ہوں وہ لوگوں کا معیار ہے جن کے ساتھ آپ کام کرتے ہیں۔ میں محکمہ خارجہ کے لوگوں کے بارے میں کہوں گا کہ یہ لوگ اچھے کیرئیر کے حامل بھی ہوتے ہیں اور سیاسی طور پر مقرر شدہ بھی۔ یہ غیر معمولی طور پر اپنے کام سے لگاؤ رکھتے ہیں۔ان میں سے کچھ اعلی پائے کے محب وطن ہوتے ہیں اور یہ ہر روز ایک ہی مقصد کے ساتھ میدان میں آتے ہیں اور وہ ہے خارجہ پالیسی کے اہداف، انتظامیہ کے مقاصدبلکہ امریکی عوام کی مفادات کا تحفظ۔ اس لیے میں ہر روز جو چیز دیکھتا ہوں وہ ہے لوگوں کی ذہانت اور بے تکلفی تاکہ ہم کسی بھی معاملے پر اچھی گفتگو کر سکیں چاہے ہم بہت پیچیدہ معاملات پر بات کر رہے ہوں، جیسے میں نے ابھی کہا کہ شام کی صورت حال بہت پیچیدہ ہے۔ جو چیز میرے لیے سب سے ناپسندیدہ ہے وہ ہے جانی نقصان، یہ جانی نقصان چاہے محکمہ خارجہ کے کسی شخص کا ہو، کسی فوجی کا ہو یا کسی بھی امریکی شہری کا ، میرے لیے وہ ایام بہت مشکل ہوتے ہیں کیونکہ اس دوران آپ ان کے اہل خانہ سے رابطہ کرتے ہیں ، انہیں تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ کام بہت مشکل ہوتا ہے۔

وزیر رائس:ٹھیک ہے۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے آپ کو بہت سے منفرد چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب میں وزیر خارجہ تھی تو سوشل میڈیا نیا نیا آیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ کے باس سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ آپ اس کا سامنا کیسے کرتے ہیں ، سوشل میڈیا کے دباؤ سے کیسے نپٹتے ہیں، خاص طور پر وائٹ ہاؤس کے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن:وہ سوشل میڈیا کے حوالے سے بہت ماہر ہیں لیکن میں نہیں ہوں (قہقہہ)اور میں یہاں اعتراف کرتا ہوں کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں میرا کوئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں ہے۔ میں نے کبھی کوئی نہیں بنایا اور نہ ہی ارادہ ہے(قہقہہ)۔جب اسے بخوبی استعمال کیا جائے تو یہ ایک بہت اچھا ہتھیار ہے۔صدر نے روایتی ذرائع ابلاغ سے ہٹ کر اسے بہت اچھے طریقے سے استعمال کیا ہے اور وہ اس کے ذریعے نہ صرف امریکیوں بلکہ پوری دنیا میں اپنے دوستوں اور دشمنوں کو پیغام رسانی کیلئے بہت اچھے طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔

میں نہیں جانتا کہ وہ اسے کب اور کیسے استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کایہی انداز ہے، اس لیے میرے لیے یہ چیلنج ہے کہ انہیں کیسے پکڑنا ہے کیونکہ میرا تو کوئی ٹویٹر اکاؤنٹ ہی نہیں کہ میں دیکھ سکوں کہ وہ کیا ٹویٹ کر رہے ہیں، اس لیے عام طور پر مجھے میرا سٹاف ان کے ٹویٹر کا پرنٹ ہی لا کر دکھا تا ہے(قہقہہ)۔ اب ایک طرف آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو عجیب بات ہے، آپ کیوں اکاؤنٹ نہیں بناتے لیکن دوسری طرف میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ کوئی برا طریقہ نہیں کیونکہ اس کے ذریعے پیغام دور تک پہنچتا ہے سو میں بھی اس پر غور کر رہا ہوں کیونکہ میں نہیں جانتا کہ جب میرا عملہ مجھے صدر کا ٹویٹ لا کر دکھاتا ہے تو اسے کتنی دیر گزر چکی ہوتی ہے اور اس پر کیا رد عمل آ چکا ہوتا ہے اور مجھے اس پر رد عمل ظاہر کرنے کے لیے بھی غور و فکر کرنا ہوتا ہے۔ اگر یہ خارجہ پالیسی سے متعلق ہے تو ہم نے اس پر کیا رد عمل ظاہر کرنا ہے۔

سو یہ دلچسپ چیز ہے۔

مجھے اس حوالے سے بہت سے سوالات بھی موصول ہوتے ہیں جن سے نمٹنابعض اوقات ناممکن ہوتا ہے۔مجھے اس حوالے سے پہلے ہی تیار ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ ہم سب کے لیے بہت غیر روایتی تھا۔ لیکن میں اس پر کہتا ہوں کہ ٹھیک ہے یہ معلومات ہیں ۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے اہداف کیا ہیں اور انہوں نے اس میں سے کچھ تبدیل نہیں کیا۔ یہ صرف اس معاملے پر اپنا پیغام دینے کا ان کا طریقہ ہے۔ہم اس کا کیا کریں۔ سو میرا تو اس سے نمٹنے کا یہی طریقہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میں مرجاؤں گا لیکن سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بناؤں گا(قہقہہ)۔

وزیر رائس:میں واقعی حیران رہ گئی تھی جب آپ نے شام کے حوالے سے بات کی اور فوجی حوالے کو ایک طرف رکھتے ہوئے شام میں معاملات کو آگے بڑھانے کے حوالے سے بات کی جس کے یقیناًفائدے بھی ہوئے ہیں خاص طور پر عراق سے داعش کے خاتمے کے حوالے سے بھی تو میں حیران رہ گئی جب آپ نے سیاسی استحکام کی بات کی ۔ آپ نے چند ایسے الفاظ استعمال کیے جنہیں لوگ عام طور پر ٹرمپ انتظامیہ سے منسوب نہیں کرتے۔ میں چاہتی ہوں آپ اس پر بھی کچھ بات کریں۔ آپ نے اقدار کی بات کی، انسانی اقدار کی۔ آپ نے انسانی حقوق کی بات کی۔ آپ نے شامی عوام کی انتخابات میں اپنے رائے کی اظہار کی بات کی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری اقدار کا ایجنڈا بھی یہی ہے۔ اگر ہم صدر ووڈرو ولسن تک جائیں تو ان کا کہنا تھا کہ کسی ریاست کی داخلی ترکیب بہت اہم ہوتی ہے۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ آپ نے بہت اچھا مقدمہ بنایا ہے کہ شام میں جن مسائل کا ہمیں سامنا ہے ، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بشار الاسد ایک ڈکٹیٹر ہے جس نے اپنے لوگوں کو قتل کیا ہے اور اپنے ہی لوگوں پر ظلم کیا ہے۔

تو آپ اب شام سے باہر آئیں اور یہ بتائیں کہ اب جبکہ آپ کو اس عہدے پر کم و بیش ایک سال ہو گیا ہے تو آپ اقدار، انسانی حقوق اور جمہوریت کو امریکی خارجہ پالیسی میں کیسے دیکھتے ہیں۔

وزیرخارجہ  ٹلرسن:بہت اچھا سوال ہے۔مجھے لوگوں کو یہ سمجھانے میں خاصی مشکل پیش آئی ہے کہ میں اسے کیسے دیکھتا ہوں۔امریکہ کی آزادی، احترام آدمیت، انسانی عظمت سمیت تمام اقدار اور امریکی قوم کی حیثیت سے ہمارا ان اقدار سے تعلق ، ان سب چیزوں کے حوالے سے خارجہ پالیسی کو سمجھانا میرے لیے ہمیشہ مشکل کام رہا ہے۔

اور ایک سطح پر یہی اقدار ہیں جن پر ہمارا معاشرہ قائم ہے او آپ کو انہی اقدار کو اپنی خارجہ پالیسی کا بھی حصہ بنانا ہے۔ میرے لیے مشکل یہ رہی ہے کہ جو پالیسیاں آپ بناتے ہیں وہ وقت اور ضرورت کے مطابق تبدیل بھی ہو سکتی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں لیکن آپ کی اقدار کبھی تبدیل نہیں ہوتیں۔اس لیے ہماری اقدار ہر موڑ پر ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ان اقدار کا عملی اطلاق کس طرح کرتے ہیں۔کیونکہ میرا خیال ہے کہ آپ کے سوال کا مقصد بھی یہی ہے۔ اس حوالے سے میری رائے میں شام کی صورت حال پر غور بہت ضروری ہے۔ شام میں جا کرایسے حالات میں انسانی حقوق ، مذہبی آزادی، خواتین کے معاشرے میں مساوی مقام کا پرچار کرنا جب وہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگ مر رہے ہوں قرین عقل نہیں کیونکہ کسی بھی شخص کے لیے سب سے اہم اور اولین حق تو زندہ رہنے کا ہے۔ پہلے زندگی، پھر آزادی اور اس کے بعد خوشی کی تلاش۔ سو میں اقدار کے بارے میں اس طرح سوچتا ہوں۔پہلے مجھے لوگوں کو مرنے سے بچانا ہے اور اگر میں اس میں کامیاب ہوا تو پھر وہاں استحکام لاؤں گا ، اس کے بعد ہم وہاں آزادی کے بیج بوئیں گے اور پھر خوشی کا تعاقب شروع ہو گا۔ اور ان سب کے بعد انسانی عزت اور عظمت ہو گی جو کہ خاص امریکی اقدار ہیں۔

اس لیے اہم یہ ہے کہ حالات ایسے پیدا کیے جائیں کہ لوگ ان اقدار کو حاصل کریں اور شام میں ہماری اولین ترجیح لوگوں کو مرنے سے بچانا ہے۔ پہلے اسے روکنا، پھر شام کو مستحکم کرنا ، پھر ایسے حالات پیدا کرنا جہاں ہم احترام آدمیت اور مذہبی آزادی جیسی اقدار کو فروغ دیں سکیں۔ سو میں اس موضوع پر اسی طرح سوچتا ہوں۔

سو میں پہلے صورت حال کا جائزہ لیتا ہوں اور پھر سوچتا ہوں کہ یہاں ہماری ترجیح کیا ہونی چاہیے اور پہلی ترجیح ہمیشہ انسانی جان کا تحفظ ہی ہوتا ۔ جب آپ انسانی زندگیوں کو بچا لیتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ اب یہاں انسانی حقوق کی آبیاری کی جائے۔

وزیر رائس: اس قسم کے کام کیلئے طریقہ کیا ہے۔ ظاہر ہے جب آپ کہیں صورت حال کو استحکام دیتے ہیں تو آپ کو پھر بھی سفارت کاری کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ کو لوگوں کی مدد کرنا ہوتی ہے۔ اس حوالے سے بھی تو تحفظات پائے جاتے ہیں جو ذرائع ہم استحکام لانے کے لیے استعمال کرتے ہیں جیسے غیر ملکی امداد ۔ جم ماٹس کی بات تو مشہور ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ غیر ملکی امداد نہیں دے سکتے تو پھر آپ کے پاس مزید گولیاں ہونی چاہئیں۔ یہ صرف ایک حوالہ ہے۔

میں آپ کوامریکی غیر ملکی امداد کی چند مثالیں دیتی ہوں جنہیں عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ ان میں پیپفار یعنی پریزیڈینٹس ایمرجنسی پلان فار ایڈز ریلیف نمایاں ہے جو پہلے صدر بش اور پھر صدر اوباما کی کوششوں سے جاری ہوا اوراس نے ایک موذی وبا سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچائیں۔ اور پھر ملینیم چیلنج ہے جو غیر ملکی امداد وصول کر کے ایسی ریاستوں کو فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے سمجھداری سے استعمال کر سکیں، وہ بدعنوان نہ ہوں۔ کیا آپ ایسے پروگراموں کے بارے میں روشنی ڈالنا پسند کریں گے۔ میں جانتی ہوں کہ آپ ان کے حامی ہیں۔ آپ موجودہ  انتظامیہ میں رہتے ہوئے یہ کیسے کریں گے۔

وزیر خارجہ ٹلرسن:آپ نے بہت آسان پروگراموں کا انتخاب کیا ہے کیونکہ پیپفار کو موجودہ انتظامیہ میں ایک کامیابی کے ایک سنہرے معیار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس نے غیر معمولی نتائج دیئے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ یہ امریکی ڈالر کو بہت سمجھدار ی سے استعمال کرتا ہے۔ ڈالر کی سرمایہ کاری، اگر آپ پیپفار کو سرمایہ کاری کی نظر سے دیکھیں تو یہ کسی بھی حوالے سے بہت کامیاب رہی ہے یعنی اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

جہاں تک ملینیم چیلنج کارپوریشن کا تعلق ہے تو اسے بھی اپنے منظم طریقہ کار کی بدولت وسیع پیمانے پر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جو مباحثہ جاری ہے وہ اس قسم کے پروگراموں کے حوالے سے نہیں بلکہ دوسرے بہت سے امدادی پروگراموں کے حوالے سے ہے جن کا انتظامی ڈھانچہ پیپفار یا ملینیم چیلنج جیسا نہیں ۔ نہ تو ان کا احتسابی عمل ان دونوں پروگراموں جیسا ہے اور نہ ان سے یہ پیغام ملتا ہے کہ کرہ ارض پر امریکہ انسانی بہبود پر خرچ کرنے کے حوالے سے سب سے زیادہ سخی ملک ہے۔

لیکن اگر آپ قومی خزانے کی صورت حال کے حوالے سے دیکھیں اور ہم سب اس خسارے کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں جو ہمیں درپیش ہے توصدر ٹرمپ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم جانتے ہیں ہم کیا کر رہے اور دنیا کیا کر رہی ہے ، اور ہم اپنا حصہ ادا کر رہے ہیں۔ تو اب ہم امریکی امداد کو اسی انداز نظر سے دیکھتے ہیں، یہ امداد خواہ یو ایس ایڈ کے ذریعے دی جا رہی ہو، محکمہ خارجہ کی طرف سے یا پھر فوجی امداد ہو اور چاہے بین الاقوامی تنظیموں کو دی جا رہی ہو، اقوام متحدہ کو یا پھر کسی اور کو۔سوہم اپنا کام کریں گے تو دوسروں سے ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا تقاضا بھی کریں گے۔ اس لیے انہوں نے دنیا سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی ہیں کہ جنہیں ہم امداد دیتے ہیں وہ ہمیں اس کے بھر پور نتائج بھی دیں۔ اور انہوں نے ایسی بہت سی اقوام کی طرف اشارہ بھی کیا ہے جو اپنا کام بہت احسن طریقے سے سر انجام دے رہی ہیں۔ بہت سی صورتوں میں یہ اقوام ہمارے لیے اس سے بھی اچھا کام کر رہی ہیں جتنا کہ ہم اپنی معیشت کے لیے خود کر رہے ہیں، اس کے باوجود وہ اس سطح تک نہیں پہنچ پا رہے جو دنیا کوان سے توقعات ہیں۔

چنانچہ گزشتہ سال کا بیشتر حصہ اور رواں سال کا آغاز ایسے ہی ملکوں سے رابطے میں گزرا ہے۔ہم ان ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر بجٹ ترتیب دیتے ہیں اور بجٹ سازی کے عمل میں حکومت کی دو شاخیں برابر حصہ لیتی ہیں ۔ ایک کانگریس اور دوسری انتظامیہ ۔ کانگریس کو اس پر اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے اور انتظامیہ کو اپنا ۔ سو ہم ان مسائل کو بجٹ مباحثے کے ذریعے حل کرتے ہیں۔

آخری چیز جو میں محکمہ خارجہ کے بجٹ کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کیونکہ اس پر بھی کافی لے دے ہو چکی ہے، وہ یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کو ایک سوچ دینی ہے۔ محکمہ خارجہ کے بجٹ نے اس بار بلندیوں کے ریکارڈ توڑے ہیں اور 55ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے ۔ میں اس بارے میں لوگوں سے یہی کہتا ہوں کہ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر بہت سے محکموں سے نمٹنا ہوتا ہے جو آسان کام نہیں۔ سو محکمہ خارجہ کے بجٹ کا درست استعمال آسان نہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ اچھے طریقے سے کام کریں اور امریکیوں کی خون پسینے کی کمائی کا درست استعمال کریں ، اور سچی بات یہ ہے کہ اگر ہمیں 2017میں کام کرنے میں کچھ مشکل پیش نہیں آ ئی تو وہ محکمہ خارجہ کی پچھلے برسوں میں بچ جانے والی رقم تھی جو مناسب استعمال نہ ہونے کے باعث پڑی تھی۔ ہم نے اسے استعمال کیا اور اسی لیے اس بار زیادہ کا تقاضا کیا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے سامنے کرنے کے بہت سے اہم کام ہیں جن کے بارے میں  ہمیں یقین ہے کہ ہم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

وزیر رائس:شکریہ، ایک آخری سوال ۔ اگر میں نے شمالی کوریا کے معاملے پر آپ سے گفتگو نہ کی تو شاید آج کی نشست نامکمل ہی رہے گی۔ ہمیں ہوائی کے لوگوں کی طرف سے ڈری ڈری آوازیں آر ہی ہیں جیسے جنگ ہونے والی ہو۔ دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ شمالی اور جنوبی کوریا نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اولمپکس میں ایک ساتھ مارچ کریں گے۔ ہم نے اس معاملے پر جو موقف اب تک اپنائے رکھا ہے ، اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں کیونکہ ہمارے موقف میں سفارت کاری کا پہلو کم اور فوجی آپریشن کے حوالے سے زیادہ گفتگو ہوئی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ جب میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے چھ فریقی مذاکراتی عمل میں شریک تھی تو شمالی کوریا کبھی چین کے ساتھ ملنے کی بات کرتا تھا کبھی جنوبی کوریا سے اور کبھی روس کےساتھ ملنے کا کہتا تھا ۔ اب ہمیں شمالی اور جنوبی کوریا کے اس اقدام کو کس طرح دیکھنا چاہیے۔ مجھے سفارت کاری کے حوالے سے بتائیں کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ اس بات پر ہم سب کا اتفاق ہے کہ ہم شمالی کوریا کی دھمکیوں کے باوجود جزیرہ نما کوریا میں کوئی جنگ نہیں چاہتے۔

وزیر خارجہ ٹلرسن:شمالی کوریا کے معاملے پر ہماری سفارت کاری کی کوششیں گزشتہ سال فروری میں شروع ہوئی تھیں جب میں نے وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ میں صدر کے ساتھ اوول آفس میں تھا جب انہوں نے مجھے خارجہ پالیسی کا جو سب سے پہلا چیلنج دیا وہ شمالی کوریا کے حوالے سے ہی تھا۔ ہم نے اس کا آغاز کیا اور اداروں کے باہمی تعامل سے اسے ممکن بنایا۔

میں نے اسے پر امن دباؤ مہم کا عنوان دیا۔ صدر نے اسے بعد ازاں زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کا نام دے دیا۔ ہم نے اس مقصد کے لیے شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کیں اور میں نے لوگو ں کو کہتے سنا کہ اس سے پہلے بھی پابندیاں لگ چکی ہیں لیکن ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا مگر میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے دباؤ کے نتائج نظر آ رہے ہیں۔ حتی ٰکہ ہمیں اس میں چین کی حمایت بھی حاصل ہے جو پہلے کبھی نہیں رہی۔اگرچہ روس کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ چین کو ہم نے باور کرایا کہ گزشتہ پچاس ساٹھ سال میں شمالی کوریا آپ کا اثاثہ رہا ہے لیکن اب آپ پر بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ اگر چین اس مسئلے میں ہماری مدد نہیں کرتا تو اس کے بہت سے منفی اثرات ہو سکتے ہیں اور چین انہیں بخوبی جانتا ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ سفارتی کوششیں دنیا کو پابندیوں کی مہم میں ہمنوا بنانے کے لیے تھیں جو غیر معمولی طور پر کامیاب رہیں۔ حتٰی کے جنوبی کوریا کے صدر مون نے خود ہمیں فون پر ان کے مثبت اثرات سے آگاہ کیا۔ میں بتاتا چلوں کے اس موضوع پر ہمارہمارا جنوبی کوریا اور چین سے غیر معمولی رابطہ رہا ہے۔ لوگوں کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ ہماری اس حوالے سے ہفتے میں کتنی بار بات چیت ہوتی ہے۔ مون کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا نے ہمارے ساتھ اس لیے رابطہ کیا کیونکہ وہ ان پابندیوں کے اثرات دیکھ رہا ہے۔

جاپان نے بھی گزشتہ روز اس حوالے سے اجلاس میں بات کی کہ انہوں نے شمالی کوریا کے ماہی گیروں کی 100کشتیاں پکڑیں جو جاپانی پانیوں میں آ گئی تھیں ۔ ان کشتیوں میں موجود دو تہائی افراد تو مر گئے تھے ۔ جو لوگ بچ گئے انہوں نے بتایا کہ وہ فرار ہونے کی کوشش نہیں کر رہے تھے وہ گھر واپس جانا چاہتے ہیں سو انہیں واپس بھیج دیا گیا۔ انہی سے پتا چلا کہ انہیں سرد موسم میں اس لیے سمندر میں بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ مچھلیاں پکڑ کر لائیں کیونکہ شمالی کوریا میں غذائی قلت پیدا ہونے لگی ہے اور انہیں اس حال میں سمندر میں بھیجا جا رہا ہے کہ ان کی کشتیوں کے پاس واپسی کا ایندھن بھی نہیں ہوتا۔اس لیے ہمارے پاس اچھے خاصے ثبوت ہیں کہ ہماری عائد کردہ پابندیوں نے شمالی کوریا کو مشکل میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور اب ان کی طر ف سے دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ بھی باقی دنیا کی طرح عام لوگ ہی ہیں۔ وہ جنوبی کوریا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں ۔تاہم گزشتہ روز اجلاس میں جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ کانگ نے ہمیں بتایا کہ وہ ایسا نہیں ہونے دینگے۔

اس لیے اب ہم کم کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مذاکرات پر کیسے آمادہ ہوتے ہیں۔ ہمارے دروازے کھلے ہیں اور میں نے تو گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو میں بھی کہا تھا کہ کم اگر ہمارے ساتھ بات کرنا چاہیں تو وہ جانتے ہیں کہ اس کا کیا طریقہ ہے۔ دوسری طرف میں یہ بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ وزیر دفاعی جیمز ماٹس نے سفارتی ناکامی کی صورت میں بہت شاندار فوجی منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے جس سے مجھے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے زیادہ بہتر اعتماد ملتا ہے۔ یہی بات میں نے اپنے چینی ہم منصب سے بھی کہی تھی کہ اگر سفارتی کامیابی نہیں ملتی تو دوسرا حل لڑائی ہے جو ظاہر ہے نہ آپ چاہتے ہیں نہ میں چاہتا ہوں۔ سو ہم شمالی کوریا کی جوہری تخفیف کے لیے پوری طرح پر عزم ہیں اور جب تک اس ہدف کو حاصل نہیں کر لیتے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

وزیر رائس:شکریہ۔ ہم آپ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں (تالیاں


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں