rss

عدم پھیلاو پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں سفیر ہیلی کا بیان

Русский Русский, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español

امریکی مشن برائے اقوام متحدہ
دفتر برائےاطلاعات و عوامی سفارتکاری
برائے فوری اجراء
18 جنوری 2018

 
 

اقوام متحدہ میں  امریکہ کی مستقل مندوب  نکی ہیلی   نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے عدم پھیلاوٴ کے موضوع پر سلامتی کونسل کے ایک  اجلاس میں بیان دیا ہے۔

"جو حکومتیں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کیوجہ سے دنیا کے لیے  خطرہ ہیں وہی سکیورٹی کے مختلف مسائل کا سبب ہیں۔ یہ حکومتیں اپنے عوام کو بنیادی انسانی حقوق اور آزادی فراہم کرنے سے انکاری ہیں۔ یہی حکومتیں علاقائی عدم استحکام کو فروغ دیتی ہیں، یہ دہشت گرداور عسکریت پسند گروہوں کو تعاون فراہم کرتی ہیں اور ایسے تنازعات کو فروغ دیتی ہیں جو بعد ازاں سرحد پار عدم استحکام پیدا کرتے ہیں”۔

"بین الاقوامی امن کو اس وقت سب سے زیادہ خطرہ شمالی کوریا  کے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو سے ہے۔ شمالی کوریا اس  کونسل میں پاس کی گئی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے  جوہری ہتھیاروں کے حصول میں خطرناک انداز میں مصروف عمل  ہے۔  ہم اس بحران کے پرامن  سفارتی حل کے حصول میں سلامتی کونسل میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھیں گے ، لیکن میں ایک بار پھر دہرا رہی ہوں کہ بوقت ضرورت،  امریکہ اپنے اور اپنے  اتحادیوں کے تحفظ کے لیے  پر عزم  بھی ہے”۔

"ایرانی حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات،  اسی طرح کی ایک اور مثال ہیں۔  تہران کی حکومت خطے میں موجود عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ہے۔   یہ دوسروں کی جنگ لڑنے والے عسکریت پسندوں اور  بشر الاسد جیسے قاتل  کی حمایت کرتی ہے۔   اقوام متحدہ کی پابندیوں کے برخلاف  یہ  بلسٹک میزائل فراہم کرتی ہے۔  اس کے پروردا جنگجو  یہی میزائل  نہتے شہریوں پر داغتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ یمن کی حوثی ملیشیا نے ایران کا فراہم کردہ ایک میزائیل ریاض کے ہوائی اڈے پر داغ دیا تھا۔ ایرانی حکومت نے بار بار اس طرح کی  کئی پابندیوں کی خلاف ورزی کر کے باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ  ہمارے لیے ایرانی حکومت بالکل بھی قابل بھروسہ نہیں  اور یہ کسی بھی اعتبار کے لائق نہیں ہے”۔

"شام کی حکومت نے کئی بار اپنے ہی شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔  یہ ایک ایس بدعنوان حکومت ہے کہ داعش کے علاوہ اگر  اکیسویں صدی میں کسی نے ایسا بھیانک فعل کیا ہے تو وہ شام کی حکومت ہے۔ سلامتی  کونسل کو بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی تقاضوں کی اس غیر معمولی خلاف ورزی کا لازمی جواب دینا چاہیے۔لیکن! اگر کوئی ملک  سلامتی  کونسل کی راہ  میں  رکاوٹ ہے تو وہ ہے روس!۔ یہ روس ہی تھا جس نے اس کونسل کی تین قراردادں کو ویٹو کیا۔ ان قراردادوں کے نتیجہ میں مشترکہ تحقیقاتی کمیشن کی تجدید ہو چکی ہوتی۔  یہ روس ہی ہے جس نے ہر طرح سے کوشش کی ہے کہ ہیگ میں بشار الاسد کی حکومت  کو ہمیشہ تحفظ فراہم کیا جائے۔ روس کی ہی وجہ سے کیمیائی ہتھیاروں کی عدم پھیلاوٴ کی تنظیم  بشار الاسد کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے قاصر رہی ہے۔  اگر روس کی حکومت   واقعی مہلک ہتھیاروں کے عدم پھیلاو کے خلاف ہے تو  اسے  بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ وہ بشا رالاسد کو فوری آمادہ کرے کہ وہ اقوام متحدہ اور OPCW  کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط تعاون کرے”۔

مکمل بیان کی تفصیل اِس لنک پر موجود ہے۔ https://go.usa.gov/xnvJ6


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں