rss

محکمہ خارجہ کے اعلٰی عہدیدار وزیرخارجہ کے دورہ یورپ بارے معلومات

Русский Русский, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجراء
بیک گراوٴنڈ بریفنگ
بذریعہ ٹیلی کانفرنس
19 جنوری ، 2018

 
 

میزبان : جی بہت شکریہ جناب،آداب ، وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے دورہٴ یورپ کے پس منظر س بارےآگاہی سے متعلق اس بریفنگ میں شرکت کے لیے میں آپ سب کا بہت مشکور ہوں۔ ہمارے ساتھ وزرات خارجہ کے ایک اعلٰی عہدیدار موجود ہیں (انہیں وزارت خارجہ کے اعلٰی عہدیدار کہہ کر مخاطب کیا جائے گا) ۔ایک یاد دہانی کرواتے چلیں کہ آج کی بریفنگ وزیر خارجہ کے دورہٴ یورپ کے پس منظر سے آگاہی دینے سے متعلق ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک گفتگو مکمل نہیں ہو جاتی، اور اس کے ساتھ ہی میں  وزرات خارجہ کے اعلٰی عہدیدار کو مائیک پیش کرتا ہوں کے وہ گفتگو کا آغاز  کریں۔ اس کے بعد ہم چند سوالات لیں گے۔

وزرات خارجہ کےاعلٰی عہدیدار: بہت شُکریہ (منتظم)۔ مجھے آج سہ پہر یہاں آ کر بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ آپ سب کی تشریف آوری اور وقت نکالنے پر آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔ میں اس بات چیت کا آغاز اس دورے کے پس منظر سے متعلق سرسری سا تعارف کروا کے شروع کرتا ہوں، بعد ازاں ہم آپ کے سوالات کا جواب دیں گے۔ جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہو گا کہ یہ وزیر خارجہ کا یورپ کا آٹھواں دورہ ہے۔ اس دورے کو دوران وہ لندن، پیرس اور ڈیوس جائیں گے جہاں وہ پہلے سے موجود صدر ٹرمپ کاساتھ دینگے اور  دورے کے آخری مرحلے میں وہ وارسا جائیں گے۔

اس دورے کا مقصد بحر اوقیانوس کے پار یورپی ممالک کے ساتھ اپنے اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔   دورے کے پہلے مرحلے میں سوموار 22 جنوری کو وہ برطانیہ پہنچیں گے، جہاں وزیر خارجہ امریکہ برطانیہ خصوصی تعلقات کا اعادہ کرینگے۔وہ سفیر جانسن اور ہمارے نئے سفارتخانے عملے سے ملاقات کرینگے۔   بعد ازاں ان کی ملاقات برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر  مارک سیڈول سے ہو گی، اس ملاقات میں  ایران، شام، لیبیا، شمالی کوریا اور یوکرین پردونوں ملکوں کے درمیان تعاون پر بات ہوگی۔  دوپہر کے کھانے پر وہ  برطانوی وزیرخارجہ  بورس جانسن اور دیگر اعلٰی برطانوی حکام کے ساتھ ملاقات کرینگے۔

دورے کے اگلے مرحلے میں منگل کی صبح وزیر خارجہ  اپنے فرانسیسی ہم منصب  لے ڈریان کے ساتھ ملاقات کرینگے۔  اس ملاقات میں بھی شام، ایران، لیبیا، شمالی کوریا اور یوکرین سے متعلق بات چیت ہو گی۔ پھر وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر عدم معافی کے   عالمی اتحاد کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرینگے۔ یہ ایک سیاسی عزم ہے جس میں ہم خیال ممالک اکٹھے  ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں پر دباو بڑھایا جائے ۔ مرکزی نقطہ یہ ہے کہ  کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کو جوابدہ کیا جائے،  یہ صدر  اور وزیر خارجہ کے لیے بہت زیادہ اہمیت اس لیے بھی رکھتا ہے کہ روس نے ہر میسر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیمیائی ہتھیار وں کا مسلسل استعمال کرنے والی   بشار الاسد  حکومت  کو تحفظ فراہم کیا ہے۔

وزیر خارجہ پیرس میں امریکی سفیر جناب میکورٹ ، دیگر حکام اور ہمارے سفارتخانےکے  عملے  سے بھی ملاقات کریں گے۔ وہاں سے 25 تاریخ   جمعرات کو   وہ ڈیوس روانہ ہو جائیں گے جہاں وہ پہلے سے موجود صدر کے ساتھ ہو لینگے۔ ڈیوس  میں ہونے والی کارروائی کے سلسلے میں اگر آپ کو کوئی معلومات چاہیں تو آپ وائٹ ہاوس سے رابطہ کریں۔

26 تاریخ جمعہ کی صبح وزیر خارجہ پہنچیں گے، معاف کیجیے گا جمعہ کی شام 26 تاریخ کو وزیر خارجہ وارسا پہنچیں گے۔ گزشتہ سال جولائی میں صدر کے دورہ کے بعد یہ ایک اہم موقع ہے کہ پولینڈ کے ساتھ ہم اپنے گہرے اتحاد اور دوستی کواجاگر کریں ۔ پولینڈ نیٹو میں ہمارے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ صدر نے کہا ہے کہ پولینڈ کا شمار نیٹو   کے مخلص ترین ارکان میں ہوتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس دورے  کی مدد سے ہم اس ملک کے ساتھ  اپنی تزویراتی شراکت داری کو مضبوط کر سکیں۔ وزیر خارجہ پولینڈ کے صدر ڈوڈا سے ملاقات کے علاوہ وہاں کے  وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے بھی ملیں گے۔

جمعہ26 جنوری آش وٹز کی آزادی کی 73 ویں سالگرہ ہے۔ وزیر خارجہ اس موقعہ پر ‘ وارسا گیٹو اپرائزنگ ‘ کی یادگار پر پھولوں کی چادر رکھیں  گے اور مختصر خطاب کرینگے۔  آپ کے علم میں ہوگا کہ یہ یادگار   ہولوکاسٹ کا عالمی دن منانے کا روایتی مقام ہے۔ اس تقریب کے بعد وزیر خارجہ  واپس سفارتخانہ تشریف لے جائیں گے ، جہاں سفارتخانے کے عملے اور وہاں موجود ہمارے سفیر  سے ملاقات کے بعد وہ واپس واشنگٹن کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

تو یہ تھا وزیر خارجہ کے سفر  اور قیام کا ایک خاکہ، اب آپ کے سوالات سن کر مجھے بہت خوشی ہو گی۔

منتظم: جی جناب، شروع کرتے ہیں، ہمارا پہلا سوال، ایسوسی ایٹڈ پریس سے میٹ لی۔ جی میٹ

سوال: جی بہت شکریہ ، میرے ایک  دو بہت ہی مختصر سے سوالات ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر اس دوران حکومتی شٹ ڈاوٴن ہو جاتا ہے تو کیا یہ دورہ پھر بھی ہو گا؟ یا ہمیں یہ سو فیصدی یقین ہے کہ ایسا ہو گا یا ایسا نہیں ہو گا۔ دوسرا سوال، ہو سکتا ہے کہ مجھے غلط فہمی ہوئی ہو، لیکن آپ نے بدھ کو  کسی مصروفیت کا ذکر نہیں کیا، بدھ وکو  کیا ہو گا؟

وزرات خارجہ کے اعلٰی عہدیدار: جی میٹ، آپ کا پہلا سوال، تو یہ وزیر خارجہ خود طے کریں گے اگر حکومتی شٹ ڈاون ہوتا ہے تو کیا وہ یہ سفر جاری رکھیں گے یا نہیں۔ مجھے نہیں یاد کہ میں بدھ کو بالکل ہی بھول گیا، میں ان کے ایجنڈے کو دوبارہ دیکھ لیتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ بدھ کا  ایجنڈا ابھی مکمل نہیں ہوا ،  اور وزیر خارجہ نے اس روز کچھ وقت بچا کر رکھا ہے تاکہ دیگر مصروفیات کو اس دوران دیکھا جا سکے۔

منتظم:  جی دوسرا سوال، رائٹرز سے ارشد

سوال:  بہت ہی آسان سے دو سوالات۔ لندن میں دورے کے دوران کیا وزیر خارجہ سفارتخانے کی نئی عمارت سے متعلق کسی تقریب میں حصہ لیں گے یا نہیں؟ دوسرا سوال کہ آپ کے خیال میں ان تمام ملاقاتوں کے دوران ایران پر کس قدر بات ہو گی، خصوصا وزیر خارجہ جانسن اور لے ڈریان کے ساتھ؟ جی بس یہی تھا۔

وزرات خارجہ کے اعلٰی عہدیدار: آپ کے سوالات کا بہت شکریہ۔  وزیر خارجہ اپنے ہر دورے کے دوران اس بات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں کہ وہ وہاں مقامی سفارتخانے  ضرور جائیں، عملے  سے ملاقات کریں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ انہیں  بیرون ملک موجود عملے کی حفاظت کی بہت فکر رہتی ہے، تو لند ن کے دورے سے متعلق تفصیلات طے کی جارہی ہے۔ میرا یہی ماننا ہے کہ وہ سفارتخانے ضرور  جائیں گے۔ چونکہ وہاں موجود سہولیات تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں تو میرا نہیں خیال کہ افتتاح سے متعلق کسی بھی تقریب کا فی الحال کوئی انتظام کیا گیا ہے۔ابھی اس نئی عمارت کی لابی اور دیگر جگہوں پر بہت سا ملبہ پڑا ہوا ہے تو میرا نہیں خیال کہ یہ افتتاحی تقریب کے لیے موزوں وقت ہے، ہاں البتہ وہ نئی عمارت کو دورہ ضرور کریں گے۔

جی ایران بالکل، ایران یقینی طور پر گفتگو کا محور ہو گا، اور ایران سے متعلق معاملات کو  ہمارے یورپی اورنیٹو اتحادیوں کے ساتھ ہر ملاقات میں فوقیت دی جائے گی۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہم  ایران کے معاملے میں، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ JCPOA  سے متعلق فاصلے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، اگلے مرحلوں میں ہم دیکھے گے کہ ہم  اس علاقے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو کس طرح کم یا بالکل ہی ختم کر سکتے ہیں۔ جی تو میر ا خیال ہے کہ ایران سے متعلقہ معاملات کو ہر گفتگو کے دوران بہت اہمیت حاصل رہے گی۔

منتظم: جی تو اگلا سوال،  فرانچیسکو، اے ایف پی سے۔

سوال: جی ، بہت شکریہ۔پیرس میں ہونے والے  شام سے متعلق وزرائے خارجہ کے اجلاس کا بنیادی ایجنڈا کیا ہو گا  ؟ کون کون آ رہا ہے؟ کیا اس میں روس بھی شامل ہو گا؟

وزرات خارجہ کے اعلٰی عہدیدار: جی تو اس وقت تک، شام سے متعلق اجلاس کی تفصیلات طے کی جارہی ہیں۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، وزیر خارجہ کے برطانوی اور فرانسیسی حکام سے رابطے ہیں، باقی تفصیلات ابھی طے ہو رہی ہیں، اور جلد ہی یہ تفصیلات ہم سب جان جائیں گے۔

منتظم: جی  ۔۔۔ ٹی بی این پولینڈ سے  مارٹن

سوال:  بہت شکریہ،پولینڈ میں ہونے والی ملاقاتوں کا ایجنڈا کیا ہے اور ان ملاقاتوں کے دوران وزیر خارجہ پولینڈ کے حکام سے کن امور پر بات چیت کریں گے؟

وزرات خارجہ کے ایک اعلٰی عہدیدار: بہت شکریہ آپ کے سوال کا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں پولینڈ میں نئی کابینہ بنی ہے، تو ہمارا یہ خیال ہے کہ تعلقات مضبوط بنانے کا یہ ایک سنہری موقعہ ہے۔ امریکہ  اور پولینڈ  کے درمیان سلامتی ، توانائی، اور تجارت  سے متعلق مشترکہ مفادات کا ایک تزویراتی ایجنڈا ہے۔ ہم باہمی طور پر   بھی اور نیٹو  کے پلیٹ فارم سے بھی ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہیں۔ دورے کے دوران وزیر خارجہ کی توجہ ان تمام شعبوں میں تعاون مزید مضبوط کرنے پر ہوگی جن سے  امریکی عوام کی سلامتی اور خوشحالی مستحکم ہو ۔ میرا خیال ہے کہ اس دوران جن امور پر بات ہوگی ان میں Three Seas Initiative ، پولینڈ میں موجود امریکی فوجیوں  اور اتحاد کے مشرقی حصے میں دفاع کی مضبوطی شامل ہیں جبکہ سلامتی اور توانائی پر بھی بات ہوگی۔

منتظم:  جی، شکریہ،  اگلا سوال، معاف کیجیے گا، کیا مزید سوالات ہیں؟

ٹیلی فون لائن پر موجود آپریٹر:  خواتین و حضرات، اگر آپ کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو * کا بٹن دبائیں اور پھر 1 کا بٹن دبائیں۔

منتظم: جی کیا کوئی قطار میں موجودہے ؟ اوکے، میرا خیال ہے کہ سوالات ختم ہو چکے ہیں، معاف کیجے گا، معاف کیجئے گا، کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہیں گے؟

وزرات خارجہ کے  اعلٰی عہدیدار:  میں مزید بس یہی کہنا چاہوں گا کہ  میں جانتا ہوں کہ وزیر خارجہ اپنے اس دورے  میں بہت زیادہ ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔  اس سال کے دورے میں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات سے متعلق بھرپور ایجنڈا ہے،خصوصا ہم نیٹو کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ وزیر خارجہ کے اتحادی ممالک کے حکام کے ساتھ بہت ہی اچھے تعلقات قائم ہو چکے ہیں، اور ہم سب ایک کامیاب دورے کی امید رکھتے ہیں۔

منتظم:    ہمارے پاس آخری سوال ہے۔ یہ اے بی سی نیوز کے کونر فینیگن کی طرف سے ہے،  اور یہ ہمارا آخری سوال ہو گا۔

سوال:بہت شکریہ کہ آپ میری کال لی۔ میں بس پولینڈ کے متعلق جاننا چاہوں گا۔ ایک چیز جس کے متعلق آپ نے ذکر نہیں کیا وہ ہے پولینڈ میں جمہوریت کی صورت حال؟ کیا وزیر خارجہ ، اس حوالے سے بھی بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ بس یہی سوال تھا۔

 وزرات خارجہ کے اعلٰی عہدیدار:  کونر، بہت شکریہ، آپ کے سوال کا۔ آپ کی آواز سن کر بہت اچھا لگا۔ میں یہ کہوں گا کہ اس موضوع  سے متعلق امریکی  موقف یہ ہے کہ  پولینڈ کے اندرونی معاملات سے متعلق کسی بھی معاملہ میں ہمارا یہ ماننا ہے کہ پولینڈ ایک آزاد  ، خود مختار اور جمہوری ملک ہے، اور امریکہ کا ایک اہم ترین اتحادی ہے۔ جیسا کہ میں نے چند لمحے قبل عرض کی تھی کہ ہمارے پولینڈ کے ساتھ سلامتی، توانائی اور تجارت سے متعلق بہت ہی اہم اور تزویراتی نوعیت کے تعلقات ہیں۔ وزیر خارجہ کے دورے کا مقصد ان بیان کردہ امور  پر توجہ دیکر ان شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ پولینڈ یورپ کی قدیم ترین جمہوریتوں میں سے ایک ہے۔ وہاں جمہوریت ہے اور بہت اچھی ہے۔ ہم ان کے اندرونی معاملات پولینڈ کی عوام تک  ہی رہنے دیتے ہیں، اور ہمیں پولینڈ کی عوام پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ آئین سے مطابقت رکھتی اصلاحات کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

منتظم: جی، اوکے، میرا خیال ہے کہ ہم ایک  سوال مزید لیں گے، لیکن یہ حتمی طور پر آخری سوال ہو گا، کیا بی بی سی کی باربرا فون پر موجود ہیں؟

 ٹیلی فون لائن پر موجود آپریٹر:   جی،اگر آپ مزید سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو * کا بٹن دبائیں۔

منتظم:  میرا خیال ہے کہ  باربرا کال پر موجود نہیں ہیں یا پھر ان کی آواز ہم تک نہیں آ رہی۔  تو آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔  گفتگو مکمل ہو گئی ہے اور جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے   وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار کو وزارت خارجہ کے اعلٰی عہدیدار کہہ کر ہی لکھا اور پکارا جائے۔  میں بالکل جانتا ہوں کہ وزیر خارجہ اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار آپ میں چند ایک کو یورپ میں ضرور ملیں گے۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں