rss

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ ظہرانے پر صدر ٹرمپ کی بات چیت

English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español, हिन्दी हिन्दी

وائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
29 جنوری 2018
سٹیٹ ڈائننگ روم
12:25 سہ پہر

 
 

صدر: آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔ وزیرخارجہ ٹلرسن، سفیر ہیلی، جنرل کیلی اور جنرل مکماسٹر کے ساتھ دنیا بھر سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سفیروں پر مشتمل انتہائی ممتاز لوگوں کی میزبانی میرے لیے اعزاز ہے۔

آج ہم سلامتی سے متعلق بہت سے مسائل بشمول شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے اور نہایت اہم طور پر مشرق وسطیٰ میں ایران کی تخریبی سرگرمیوں کی روم تھام، شامی جنگ کے خاتمے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے تعاون پر بات چیت کریں گے۔

اقوام متحدہ کی کامیابی کا دارومدار اس کے ارکان کی انفرادی طاقت پر ہے، اور یہ نہایت مضبوط ممالک ہیں۔ ان میں بعض کونسل میں نئے آئے ہیں۔

ہم خودمختاری کے اس بنیادی اصول کی تجدید کے لیے عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکہ نے گزشتہ برس اس ضمن میں بہت سا کام کیا ہے۔ میں تمام مبارکبادوں کی قدر کرتا ہوں۔ تاہم معاشی اور مالیاتی محاذ پر شاندار کام ہوا۔ یہ ایک بالکل نئی جگہ کی مانند ہے۔ ٰیہ کام زوروشور سے جاری ہے کیونکہ ہمیں بہت دور جانا ہے۔ تاہم یہ واقعی بہت اچھا ہے۔

ہم اس کی ستائش کرتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ہم دنیا کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ ہم دنیا کی مدد کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ممالک یا دنیا بھر  میں بہت سے دوسرے ممالک ہمارے کام کے باعث بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

لہٰذا میری انتظامیہ کو آپ کے ساتھ کام پر فخر ہے۔ ہم نے پہلے ہی بہت سے اتحاد بنائے ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل خاص طور پر ہمارے لیے بے حد اہم ہے۔ دنیا بھر میں اس کی طاقت اور احترام کی صورتحال نہایت شاندار ہے۔

مگر ہمیں باہم مل کر ابھی بہت سا کام کرنا ہے۔ آج صبح سفیروں نے وہ ایرانی میزائل اور ہتھیار دیکھے جو اس نے یمن میں اپنے جنگجو اتحادیوں کو دیے ہیں۔ آج بعدازاں وہ ہولوکاسٹ میوزیم میں شامی مظالم کی تصویر کشی دیکھیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایرانی میزائل دیکھ لیے ہیں اور اب شام میں ہونے والے مظالم کی ایک جھلک دیکھیں گے۔

ہم اس پر بھی بات کریں گے کہ ہم طالبان کو شکست دینے کے لیے مزید کیا کر سکتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس وقت ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اس وقت وہاں ایک مختلف جنگ جاری ہے۔ وہ دائیں بائیں لوگوں کو قتل کیے جا رہے ہیں۔ ہر طرف معصوم لوگ مارے جا رہے ہیں۔ بچوں میں،خاندانوں میں بمباری ہو رہی ہے، پورے افغانستان میں بمباری اور ہلاکتیں جاری ہیں۔

لہٰذا ہم طالبان کے ساتھ بات کرنا نہیں چاہتے۔ ہو سکتا ہے ایسا وقت آئے مگر اس میں خاصی دیر لگے گی۔ یہ مکمل طور سے ایک نیا محاذ ہے۔ یہ بالکل نئے اصول ہیں جن پر ہم چل رہے ہیں۔

جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کیسے اپنے ہی لوگوں پر مظالم اور انہیں قتل کرنے میں مصروف ہیں تو یہ نہایت خوفناک نظر آتا ہے۔ وہ معصوم خواتین اور بچوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔

چنانچہ طالبان سے کوئی بات نہیں ہو رہی۔ ہم طالبان سے بات کرنا نہیں چاہتے۔ ہم وہ ختم کرنے جا رہے ہیں جو ہمیں ختم کرنا ہے۔ جو کام ختم کرنا کسی اور کے بس میں نہیں اسے ہم کرنے جا رہے ہیں۔

آپ سبھی کا بے حد شکریہ، ہم اس کے قدردان ہیں۔ اس اور دیگر موضوعات پر ہمارے مابین غیرمعمولی بات چیت ہو گی۔ یہاں آنے پر آپ کا شکریہ۔ ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔ شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں