rss

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کا سٹیٹ آف دی یونین خطاب

हिन्दी हिन्दी, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

وائٹ ہاؤس
پریس سیکرٹری کا دفتر
واشنگٹن، ڈی سی
30 جنوری 2018

 
 

[ذیل میں دیئے گئے اقتباسات کا تعلق امریکہ کی خارجہ پالیسی سے ہے]

جنابِ سپیکر، جنابِ نائب صدر، اراکینِ کانگریس، امریکہ کی خاتونِ اول، اور میرے ہموطن امریکیو:

*          *          *          *

امریکہ نے آخرکاراُن غیرمنصفانہ تجارتی سمجھوتوں کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے جن کے تحت ہماری خوشحالی کو قربان کیا گیا اور ہماری کمپنیوں، ہماری ملازمتوں، اور ہماری قوم کی دولت کو ملک سے باہر بھیج  دیا گیا۔ ہماری قوم نے اپنی دولت کھو دی ہے اور ہم اسے واپس حاصل کر رہے ہیں۔

اقتصادی خود سپردگی کا دور لد چکا۔

آج کے بعد، ہم منصفانہ اور برابری کی بنیاد پر دوطرفہ تجارتی تعلقات کی توقع  رکھتے ہیں۔

ہم برے تجارتی سمجھوتوں کو بہتر بنانے پر کام کریں گے اور نئے سمجھوتوں کے لیے مذاکرات کریں گے۔ اور یہ سب اچھے ہوں گے اور منصفانہ ہوں گے۔

ہم اپنے تجارتی ضابطوں کے مضبوط نفاذ کے ذریعے امریکی محنت کشوں اور امریکی املاکِ دانش کو تحفظ فراہم کریں گے۔

*          *          *          *

حالیہ مہینوں میں میری انتظامیہ نے ڈیموکریٹ اور ریپلیکن، دونوں جماعتوں کے اراکین سے امیگریشن کی اصلاحات کے لیے دونوں پارٹیوں کا متفقہ موقف تیار کرنے کے لیے مفصل ملاقاتیں کیں ہیں۔ … .

ہمارے منصوبے کے مندرجہ ذیل چار ستون ہیں:

ہمارے ڈھانچے کا پہلا ستون اُن 18 لاکھ غیرقانونی تارکین وطن کو شہریت کے لیے فراخدلی سے راستہ فراہم کرتا ہے جنہیں کم عمری میں اُن کے والدین یہاں لے کر آئے ۔ ۔ اس اقدام سے گزشتہ انتظامیہ کے مقابلے میں تقریباً تین گنا سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ہمارے منصوبے کے تحت وہ لوگ جو تعلیم اور کام کے تقاضوں پر پورے اتریں گے اور اچھے اخلاقی کردار کا مظاہرہ کریں گے، 12 سال کے عرصے میں امریکہ کے مکمل شہری بن سکیں گے۔

دوسرا ستون سرحدوں کو مکمل طور پر محفوظ بناتا ہے۔ اس کا مطلب جنوبی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کرنا ہے، اور  اس کا مطلب مزید ہیروز کو ملازم رکھنا ہے … ہماری کمیونٹیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے۔ انتہائی اہم بات یہ ہے کہ ہمارا منصوبہ اُن تشویشناک خامیوں کو دور کرتا ہے جن سے فائدہ اٹھا کر مجرم اور دہشت گرد ہمارے ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ ۔ اور یہ منصوبہ "پکڑو اور رہا کرو” کے خوفناک اور خطرناک طریقے کو بھی بالآخر ختم کر دے گا۔

تیسرا ستون ویزا لاٹری کو ختم کرتا ہے ۔ ۔  یہ ایک ایسا پروگرام ہے جو صلاحیت، اہلیت، یا امریکی عوام کی سلامتی کی پرواہ کیے بغیر اندھا دھند گرین کارڈ بانٹتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ امیگریشن کے ایک ایسے نظام کی طرف بڑھا جائے جس کی بنیاد اہلیت پر ہو ۔ ۔ ایک ایسا نظام جو اُن لوگوں کو آنے کی اجازت دے جو باصلاحیت ہوں، جو کام کرنا چاہتے ہوں، جو ہمارے معاشرے میں اپنا حصہ ڈالیں، اور وہ جو ہمارے ملک سے پیار اور اس کا احترام کریں۔

چوتھا اور آخری ستون سلسلہ در سلسلہ ترک وطن کے خاتمے کے ذریعے، مرکزی گھرانے کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ موجودہ شکستہ نظام کے تحت، ایک تارک وطن حقیقی معنوں میں  دور دراز کے رشتہ داروں کی ایک لامحدود تعداد کو ملک میں لا سکتا ہے۔ اپنے منصوبے کے تحت ہم سپانسرشپ کو بیوی/خاوند اور چھوٹے بچوں تک محدود کر کے گھرانے کے افراد پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ یہ انتہائی اہم اصلاح نہ صرف ہماری معیشت، بلکہ ہماری سلامتی اور امریکہ کے مستقبل کے لیے بھی ضروری ہے۔

 

*          *          *          *

جیسے جیسے ہم ملک کے اندر امریکہ کی قوت اور اعتماد کی تعمیرِ نو کر رہے ہیں، ویسے ویسے ہم بیرونِ ملک بھی اپنی قوت اور وقار کو بحال کر رہے ہیں۔

دنیا بھر میں ہمارا سامنا سرکش حکومتوں، دہشت گرد گروپوں اور چین اور روس جیسے اُن حریفوں سے ہے جو ہمارے مفادات، ہماری معیشت، اور ہماری اقدار کو چیلنج کرتے ہیں۔ اِن وحشتناک خطرات کا سامنا کرتے وقت ہمیں احساس ہے کہ کمزوری تصادم کا یقینی راستہ ہے، اور بےمثل طاقت ہمارے حقیقی اور عظیم دفاع کا یقینی ذریعہ ہے۔

اسی وجہ سے میں کانگریس سے  دفاعی بجٹ کی خطرناک کٹوتیوں کو ختم کرنے اور ہماری عظیم مسلح افواج کو پورا پیسہ دینے کا کہہ رہا ہوں۔

اپنے دفاع کے ایک حصے کے طور پر ہمیں بہرصورت اپنے جوہری اسلحے کو اس امید کے ساتھ کہ اُسے کبھی بھی استعمال نہ کرنا پڑے، جدید بنانا اور اُس کی تعمیر نو کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے دفاع کو اتنا مضبوط اور طاقتور بنانا چاہیے کہ یہ کسی دوسری قوم یا کسی اور کی جانب سے  کی جانے والی جارحانہ کاروائیوں کو روک سکے۔ مستقبل میں شاید وہ کوئی جادوئی لمحہ ہی ہوگا جب دنیا کے تمام ممالک جوہری ہتھیاروں کی تلفی کے لیے اکٹھے ہوں گے۔ یہ بدقسمتی اور دکھ کی بات ہے کہ ہم ابھی تک وہاں نہیں پہنچ پائے۔

گزشتہ سال میں نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ ہم داعش کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ایک سال بعد آپ کو یہ بتاتے ہوئے میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ داعش کو شکست دینے والے اتحاد نے، کسی وقت میں اِن قاتلوں کے زیرتسلط  رہنے والے عراق اور شام کے علاقوں کے ساتھ ساتھ  دیگر مقامات کو کم و بیش سو فیصد آزاد کروا لیا ہے۔ تاہم بہت سا کام کرنا ابھی باقی ہے۔ داعش کی مکمل شکست تک ہم اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔

*          *          *          *

وہ دہشت گرد جو سویلین ہسپتالوں میں بم رکھنے جیسے کام کرتے ہیں فاسق ہیں۔ جب ممکن ہوتا ہے تو اُنہیں نیست و نابود کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ جہاں ضروری ہو تو ہمیں انہیں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرنا چاہیے۔ مگر ہماری سوچ واضح ہونی چاہیے: دہشت گرد محض مجرم ہی نہیں ہوتے۔ وہ غیر قانونی متحارب جنگجو بھی ہوتے ہیں۔ ان کو جب بیرونی ممالک میں پکڑا جاتا ہے تو اُن کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک ہی کیا جانا چاہیے جو کہ وہ ہیں۔

ماضی میں ہم نے احمقانہ طور پر سینکڑوں کی تعدا میں خطرناک دہشت گردوں کو محض میدان جنگ میں دوبارہ ملنے کے لیے، رہا کر دیا ۔ ۔ جن میں داعش کا لیڈر البغدادی بھی شامل تھا جسے ہم نے پکڑا اور بعد میں رہا کر دیا۔

لہذا آج میں ایک اور وعدہ پورا کر رہا ہوں۔ میں نے ابھی ابھی ایک حکمنامے پر دستخط کیے ہیں جس میں وزیر [دفاع] میٹس کو – جو کہ زبردست کام کر رہے ہیں۔ شکریہ –  ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہماری فوج کی حراستی پالیسی کا جائزہ لیں اور گوانتانامو بے کے حراستی مرکز کو کھلا رکھیں۔

میں کانگریس سے یہ یقینی بنانے کے لیے کہہ رہا ہوں کہ داعش اور القاعدہ کے خلاف جنگ میں، ہمیں دہشت گردوں کو حراست میں لینے کے تمام ضروری اختیارات بدستور حاصل رہیں ۔ ۔ جہاں کہیں بھی ہم اُن کا پیچھا کریں، جہاں کہیں بھی ہم انہیں ڈھونڈ نکالیں۔ اور بہت سی صورتوں میں یہ [حراستی مرکز] گوانتانامو بے ہو گا۔

افغانستان کی لڑائی میں بھی  ہمارے جنگجوؤں کے لیے نئے ضوابط لائے گئے ہیں۔ اپنے جانباز افغان شراکت کاروں سمیت، ہماری فوج کو اب مصنوعی نظام الاوقات کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور اب ہم دشمنوں کو اپنے منصوبے نہیں بتاتے۔

گزشتہ ماہ، میں نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس کی امریکی سینیٹ متفقہ طور پر کئی ماہ پہلے توثیق کر چکی تھی: یعنی میں نے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کیا۔

اس کے فوراً بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں درجنوں بھر ممالک نے یہ فیصلہ کرنے کے امریکہ کے  خودمختارانہ حق کے خلاف ووٹ دیا۔ 2016ء میں امریکہ کے ٹیکس دہندگان نے فراخدلانہ طور پر انہی ممالک کو 20 ارب ڈالر سے زیادہ، امداد کے طور پر بھجوائے۔

اسی لیے آج رات میں کانگریس سے ایک ایسا قانون منظور کرنے کا کہہ رہا ہوں جو یہ یقینی بنانے میں مدد دے کہ غیر ممالک کو امداد میں دیئے جانے والے ڈالر ہمیشہ امریکی مفادات پورے کریں اور صرف امریکہ کے دوستوں تک پہنچیں نہ کہ امریکہ کے دشمنوں تک۔

کیونکہ ہم دنیا میں اپنی دوستیاں مضبوط بنا رہے ہیں لہذا ہم اپنے مخالفین سے متعلق صراحت کو بھی بحال کر رہے ہیں۔

جب ایرانی عوام اپنی بدعنوان ڈکٹیٹرشپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو میں خاموش نہیں رہا۔ امریکہ ایران کے عوام کی آزادی کی جرائتمندانہ جدوجہد میں اُن کے ساتھ کھڑا ہے۔

میں کانگریس کو ایران کے انتہائی ناقص جوہری سمجھوتے کی بنیادی خامیوں سے نمٹنے کا کہہ رہا ہوں۔

میری انتظامیہ نے کیوبا اور وینیزویلا کی کمیونسٹ اور سوشلسٹ ڈکٹیٹرشپوں پر بھی کڑی پابندیاں عائد کی ہیں۔

تاہم شمالی کوریا کی ظالم ڈکٹیٹرشپ جتنے قطعی یا وحشیانہ مظالم، کسی دوسری حکومت نے اپنے شہریوں پر نہیں ڈھائے۔

شمالی کوریا کا جوہری ہتھیاروں کا اندھا دھند حصول بہت جلد ہمارے ملک کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

کبھی بھی ایسا ہونے کو روکنے کی خاطر ہم نے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی ایک مہم چلا رکھی ہے۔

ماضی کے تجربے نے امریکہ کو یہ سبق سکھایا ہے کہ ڈھیل اور رعایتیں جارحیت اور اشتعال انگیزی کو دعوت دیتی ہیں۔ میں ماضی کی حکومتوں کی اُن غلطیوں کو نہیں دہراؤں گا جن کی وجہ سے ہم اِس خطرناک حالت میں آ گئے ہیں۔

اُس جوہری خطرے کو سمجھنے کی خاطر جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شمالی کوریا سے لاحق ہو سکتا ہے، ہمیں شمالی کوریا کی اخلاق باختہ حکومت کے کردار پر بس ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

اوٹو وارمبائیر یونیورسٹی آف ورجینیا کا ایک محنتی طالب علم تھا۔ وہ ایک عظیم طالب علم تھا۔ ایشیا کے ایک مطالعاتی دورے کے دوران اوٹو شمالی کوریا دیکھنے کے لیے ایک ٹور میں شامل ہوگیا۔ اس ٹور کے بعد اس باکمال نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا اور اس پر  ریاست کے خلاف جرائم کا الزام لگایا گیا۔ ایک شرمناک مقدمے کے بعد، ڈکٹیٹرشپ نے گزشتہ جون میں ۔ ۔ شدید طور پر زخمی اور موت کے دہانے پر پہنچے اوٹو کو امریکہ واپس بھیجنے سے قبل 15 سال کڑی مشقت کی سزا دی۔ اپنی واپسی کے محض چند ہی دن بعد وہ انتقال کر گیا۔

اوٹو کے باکمال  والدین، فریڈ اور سنڈی وارمبائیر۔ ۔ اوٹو کے بھائی اور بہن، آسٹن اور گریٹا کے ہمراہ، آج ہمارے درمیان موجود ہیں۔ مہربانی۔ آپ اُس شر کے طاقتور گواہ ہیں جس نے ہماری دنیا کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے اور آپ کی طاقت ہم سب کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ کا شکریہ۔ آج ہم امریکی استقلال کے ساتھ اوٹو کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

آخر میں، ہمارے ساتھ  اِس حکومت کی بری فطرت کے ایک اور گواہ موجود ہیں۔ اُن کا نام مسٹر جی سیونگ-ہو ہے۔

1996 میں شمالی کوریا میں سیونگ-ہو ایک  فاقہ زدہ لڑکا تھے۔ ایک دن اُنہوں نے مال گاڑی کے ایک ڈبے سے کوئلہ چوری کیا تاکہ اس کے عوض کھانے کی اشیاء کے ٹکڑے حاصل کیے جا سکیں۔ اس عمل کے دوران وہ بھوک کی وجہ سے ریل گاڑی کی پٹڑی پر بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ریل گاڑی اُن کے اعضا پر سے گزری تو انہیں ہوش آیا۔ اس کے بعد اُن کے درد کو کم یا جسم کو سُن کیے بغیر انہیں کئی ایک جسمانی اعضا کے کاٹنے کے عمل سے گزرنا پڑا۔ اُن کے بھائی اور بہن کے پاس کھانے کو تھوڑا بہت جو کچھ تھا انہوں نے وہ سیونگ-ہو کو دیا تاکہ انہیں صحت یاب ہونے میں مدد ملے جبکہ اُنہوں نے خود مٹی کھائی ۔ ۔  جس سے اُن کی جسمانی افزائش مستقل طور پر رک گئی۔ بعد میں چین کے ایک مختصر دورے سے واپسی پر شمالی کوریا کے حکام نے سیونگ-ہو پر تشدد کیا۔ اُن پر ظلم و ستم کرنے والے یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا وہ کسی عیسائی سے ملے ہیں۔ اس کے بعد اُنہوں نے آزاد رہنے کی ٹھان لی۔

سیونگ-ہو نے پورے چین اور جنوب مشرقی ایشیا کا ہزاروں میل طویل آزادی کا سفر، بیساکھیوں کے سہارے کیا۔ اُن کے زیادہ تر اہل خانہ اُن کے پیچھے آئے۔ اُن کے والد فرار ہوتے ہوئے پکڑے گئے اور انہیں تشدد کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا۔

آج وہ سیئول میں رہتے ہیں جہاں پر وہ فرار ہونے والے دیگر منحرفین کو بچاتے ہیں اور شمالی کوریا میں وہ چیز نشر کرتے ہیں جس سے حکومت کو سب سے زیادہ خوف آتا ہے – اور وہ ہے سچ۔

آج اُن کی ایک نئی ٹانگ ہے لیکن سیونگ-ہو، میرا خیال ہے کہ آپ نے اپنے پاس ابھی تک وہ پرانی بیساکھیاں یہ  یاد دہانی کرانے کے لیے رکھی ہوئی ہیں کہ آپ کتنا سفر طے کر چکے ہیں۔ آپ کی عظیم قربانی ہم سب کے لیے حوصلے کا باعث ہے۔ آپ کی مہربانی۔ آپ کا شکریہ۔

سیونگ-ہو کی کہانی اس بات کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہر انسانی روح میں آزاد  رہنے کی ایک تڑپ موجود ہوتی ہے۔

آزادی کی یہی وہ تڑپ تھی جس نے تقریباً 250 سال قبل امریکہ کہلانے والے ایک خاص ملک کو جنم دیا۔ یہ ایک عظیم سمندر اور وسیع  ویرانے کے درمیان نوآبادیات کا ایک چھوٹا سا مجموعہ تھا۔ یہ انقلابی نظریے کے حامل کمال کے لوگوں کا وطن تھا: تاکہ وہ اپنے آپ پر خود حکمرانی کرسکیں۔ تاکہ وہ اپنی تقدیر کی راہ خود متعین کر سکیں۔ اور یہ کہ اکٹھے مل کر وہ پوری دنیا کو منور کر سکیں۔

ہمارا ملک ہمیشہ سے ایسا ہی چلا آ رہا ہے۔ یہی وہ کچھ ہے جس کے لیے امریکی ہمیشہ کھڑے ہوتے ہیں، جدوجہد کرتے ہیں اور انہوں نے، ہمیشہ ایسا ہی کیا ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں