rss

نسوانی ختنے کے خلاف سختی سے نمٹنے کا عالمی دن

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
6 فروری 2018
ترجمان دفتر خارجہ ہیدا نوئرٹ کا بیان

 
 

6 فروری نسوانی ختنے (ایف جی ایم/ سی) کے خلاف سختی سے نمٹنے کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ امریکہ انسانی حقوق کی اس پامالی کے خاتمے کے لیے دنیا بھر کی حکومتوں اور معاشروں کے ساتھ ہے۔

‘یونیسف’ کے مطابق آج کم از کم 200 ملین لڑکیاں اور خواتین کسی نہ کسی شکل میں اس عمل سے گزر چکی ہیں۔ اگر موجودہ رحجان جاری رہتا ہے تو 2030 تک مزید 15 ملین لڑکیوں کے اس عمل کا نشانہ بننے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ بیشتر ممالک میں یہ عمل غیرقانونی ہے تاہم اکثر اسے ان معاشروں میں انجام دیا جاتا ہے جہاں خواتین اور لڑکیوں کا درجہ مردوں اور لڑکوں سے کمتر ہے۔

امریکہ پالیسی سازوں اور ماہرین صحت سے لے کر مذہبی رہنماؤں اور نوجوان کارکنوں تک متعلقہ لوگوں کے وسیع حلقوں کی شراکت سے ایف جی ایم/ سی کے خلاف کام کرنے اور اس سے معاشروں کو ہونے والے نقصان بارے آگاہی پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ اس عمل کو ختم کرنے کےلیے امریکہ دفتر خارجہ کے حکام میزبان حکومتوں کے ساتھ سفارتی روابط اور دوطرفہ و کثیرطرفی شراکت داروں کے ذریعے روبہ عمل ہیں۔ 2017 میں دفتر خارجہ نے ایف جی ایم/ سی کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کی کاوشوں اور انسانی حقوق کی صورتحال بشمول اس عمل کے پھیلاؤ کی بابت ہر ملک کی رپورٹ اور اس کی روک تھام کے لیے عالمی کوششوں کے حوالے سے سالانہ رپورٹس کے لیے 50 لاکھ ڈالر دیے۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے گزشتہ برسوں میں کی گئی سرمایہ کاری کی بنیاد پر ہم ایسے ممالک میں مخصوص پروگرامز میں مدد دے رہے ہیں جہاں ایف جی ایم/ سی کا رواج عام ہے۔ ایسے پروگرامز میں اس عمل میں بچ رہنے والی خواتین اور لڑکیوں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ رواں مالی سال یو ایس ایڈ کینیا میں تین سالہ رہنما سرگرمی شروع کر رہا ہے جس کا مقصد ایف جی ایم/ سی اور بچپن کی شادی کی روک تھام کے لیے ایسی بنیادی وجوہات اور سماجی محرکات پر قابو پانا ہے جو ایسے کاموں کا سبب بنتے ہیں۔ ان میں خواتین کی نمائندگی کا فقدان، صحت کی غیرموثر خدمات، غیرفعال تحفظ نیز خواتین اور لڑکیوں کے لیے محدود معاشی مواقع شامل ہیں۔

امن، خوشحالی اور سلامتی کے لیے خواتین اور لڑکیوں کی ترقی لازم ہے۔ ہم ایف جی ایم/ سی سمیت ہر طرز کے صنفی تشدد کی روک تھام کے لیے اپنی کوششوں میں بدستور پرعزم ہیں۔ آج ہم اس نقصان دہ عمل کے خاتمے کے لیے کڑے اقدامات کے مطالبے کی تجدید کرتے ہیں جس سے دنیا بھر میں بہت سی جگہوں پر خواتین اور لڑکیاں متاثر ہو رہی ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں