rss

مالی سال 2019 کے لیے دفتر خارجہ اور امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی کی بجٹ درخواست حقائق نامہ

Facebooktwittergoogle_plusmail
English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
12 فروری 2018

 

صدر کی جانب سے مالی سال 2019 کے لیے دفتر خارجہ اور امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی (یوایس ایڈ) کے لیے 39.3 ارب ڈالر بجٹ کی تجویز دی گئی ہے جس کا مقصد ان اداروں کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے وسائل موثر طور سے استعمال کرتے ہوئے امن و سلامتی کا فروغ، امریکی خوشحالی اور اثرورسوخ میں وسعت لانا اور عالمی بحرانوں سے نمٹنا ہے۔ یہ بجٹ دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کی سفارت کاری اور ترقی میں جدت لاتا ہے تاکہ مزید مستحکم اور مضبوط معاشروں کی معاونت کے ذریعے دنیا کو مزید محفوظ اور خوشحال بنایا جا سکے ، یہ معاشرے خود ترقی کر سکیں اور بالاآخر انہیں غیرملکی امداد کی ضرورت نہ رہے۔
یہ بجٹ درخواست چار اہم قومی ترجیحات سے وابستگی کے ساتھ صدر کے ‘پہلے امریکہ’ کے تصور کی معاون ہے:
اندرون و بیرون ملک امریکی سلامتی کا تحفظ

  • داعش اور دیگر متشدد انتہاپسند تنظیموں کو شکست دینے کی کوششوں میں پائیدار معاونت: 5.7 ارب ڈالر سے داعش اور دیگر متشدد انتہاپسند تنظیموں کو شکست دینے کی کوششوں میں معاونت، جبکہ ایسے حالات سے نمٹنا جن سے یہ گروہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں کمزور حکمرانی، کمزور ادارے، معاشی مواقع کی کمی، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی مستقل خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ اس میں افغانستان و عراق میں سلامتی کی کوششوں میں مسلسل معاونت اور سمندر پار ہمارے لوگوں اور تنصیبات کا پائیدار تحفظ نیز داعش کو شکست دینے کی کوشش کے سلسلے میں غلط معلومات سے نمٹنابھی شامل ہے۔ یہ معاونت مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بے گھر مذہبی اقلیتوں کی ضروریات میں بھی معاونت کرتی ہے۔
  • ہمارے اتحادیوں کے ساتھ وعدوں کی توثیق: امریکہ اور اسرائیل میں حالیہ 10 سالہ باہمی اعتماد کی یادداشت کی حمایت۔ اس بجٹ میں اسرائیل کے لیے غیرملکی فوجی امداد کی مد میں 3.3 ارب ڈالر رکھے گئے ہیں۔ اس میں اردن کے ساتھ امریکہ کی اہم تزویراتی شراکت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے اور اسے معاشی و سلامتی کی امداد کے سلسلے میں 1.3 ارب ڈالر دیے جانا ہیں۔
  • قومی سلامتی کو لاحق سنگین خطرات سے نمٹنے کے پروگرامز کو ترجیح: شمالی کوریا، ایران اور دیگر ریاستوں اور دہشت گرد کرداروں کو غیرقانونی طور سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اور انہیں چلانے کے ذرائع تک رسائی سے روکنے کے لیے 127 ملین ڈالر سے عالمی کوششوں کی قیادت، نیز اس مقصد کے لیے شراکت دار ممالک کی صلاحیتیں بہتر بنانا۔
  • اپنی سرحدوں کا تحفظ: آزادانہ فنڈنگ کے پروگرام اور ہماری سرحدوں کو اضافی ویزا پڑتال، دھوکہ دہی کی روک تھام، ویزا طریقہ ہائے کار میں بہتری کے ذریعے محفوظ بنانے نیز امریکہ آنے جانے کے لیے قانونی سفر میں سہولت دے کر عالمی کاروباری اہتمام ممکن بنانے والے اہلکاروں کے لیے 3.8 ارب ڈالر سے ہماری سلامتی و سفارتی خدمات کی معاونت۔
  • غیرقانونی امیگریشن میں کمی لانا: بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں اور نیٹ ورکس کی طاقت توڑنے کے لیے وسطی و جنوبی امریکہ، میکسیکو اور جزائر غرب الہند کے لیے 1.1 ارب ڈالر کی فراہمی، بے قاعدہ مہاجرت اور اشیا کے غیرقانونی راستے بند کرنے میں مدد دینا اور ناکافی معاشی مواقع، کمزور حکمرانی اور ناکافی سکیورٹی سے نمٹنا جو کہ بے قاعدہ مہاجرت کا محرک ہیں۔
  • سمندر پار امریکی اہلکاروں اور تنصیبات کا تحفظ: سمندر پار امریکی اہلکاروں اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے 5.4 ارب ڈالر کی فراہمی جس میں افغانستان اور عراق میں امریکی موجودگی کے حوالے سے سکیورٹی بھی شامل ہے۔ امریکی انتظامیہ یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو بھی ترجیح دے رہی ہے۔ ڈیزائن اور تعمیراتی منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اس پر کام کا آغاز ہو جائے گا۔
    مستقل معاشی ترقی اور ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے امریکی مسابقتی برتری کی تجدید
  • جمہوری حکمرانی کا استحکام اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد: بدعنوانی کے خلاف جنگ اور قانون کی حکمرانی، شفافیت اور احتساب جیسے جمہوری حکمرانی کے اصولوں کے فروغ کی خاطر 1.4 ارب ڈالر مختص کیے جائیں گے۔
  • نجی شعبے کو تحرک دینا اور امریکی ترقیاتی مالیات میں اصلاحات: ایسی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا جن سے معاشی ترقی کو فروغ ملے اور نجی شعبے کو ممالک کی ترقی میں شامل کرنا تاکہ امریکی قومی سلامتی کے مفادات کو فروغ حاصل ہو، ترقیاتی نتائج کی معاونت ہو اور امریکی کمپنیوں، نوکریوں اور برآمدات کو مدد مل سکے۔ اس میں مجوزہ، مستحکم اور اصلاح شدہ ترقیاتی مالیاتی ادارے کی مدد کے لیے یو ایس ایڈ میں پروگرامنگ کی غرض سے 56 ملین ڈالر اور تجارتی صلاحیتوں میں بہتری کی کوششوں کے سلسلے میں 15 ملین ڈالر شامل ہیں جس سے نجی شعبے کی مالیات پر دسترس اور اسے ترغیب دینے میں معاونت ہو گی۔
  • داخلی وسائل کے تحرک میں وسعت: مرکزی فنڈنگ اور اضافی دوطرفہ وسائل کے ذریعے 75 ملین ڈالر کی مدد سے ممالک کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنے مقامی داخلی سرکاری و نجی وسائل مزید موثر طور سے استعمال کر سکیں، دیگر دستیاب مالیاتی وسائل کو جمع کریں اور پائیدار طور سے خود ترقی کر سکیں۔
  • غربت اور بھوک کی بنیادی وجوہات سے نمٹنا: غذائی تحفظ کے پروگرامز کے لیے 518 ملین ڈالر کی فراہمی، جس سے زرعی ترقی کو فروغ ملے گا تاکہ معاشی نمو میں اضافہ ہو، غذائی قلت میں کمی آئے، متواتر بحرانوں سے نمٹنے کے لیے استحکام پیدا ہو نیز نجی سرمایہ کاری، عطیہ دہندگان اور ہمسایہ ملک کی حصہ داری کے معاملات میں بہتری آئے۔

متوازن شمولیت کے ذریعے امریکی قیادت کا فروغ

  • کثیرطرفی فورمز میں تزویراتی شراکت برقرار رکھنے کے لیے 2.3 ارب ڈالر کی فنڈنگ تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے سازگار نتائج کا حصول ممکن ہو سکے جبکہ یہ توقعات مضبوط بنانے میں مدد ملے کہ ہم اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کے ساتھ مل کر قیمتوں میں کمی لانے، اثرپذیری میں اضافے اور فنڈنگ کے بوجھ کو مزید مناسب طور سے تقسیم کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔
  • صحت کے عالمگیر پروگرامز میں قیادت: عالمگیر صحت کے ضمن میں ترقی کے لیے امریکی قیادت آگے بڑھانے کی غرض سے 6.7 ارب ڈالر کی فراہمی۔ اس میں ایڈز سے چھٹکارے کے لیے امریکی صدر کا ہنگامہ منصوبہ (پی ای پی ایف اے آر)، ایڈز، تپ دق اور ملیریا کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمگیر فنڈ، صدر کا ملیریا کے خلاف اقدام اور تحفظ صحت کے حوالے سے عالمگیر سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس ضمن میں شراکت دار ممالک کو اپنے ہاں اہلیت میں اضافے کے لیے بیک وقت معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس بجٹ میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت نیز خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
  • بڑے انسانی بحرانوں سے نمٹنا: مالی سال 2018 کے مقابلے میں 21 فیصد اضافی رقم سے 6.4 ارب ڈالر کے ذریعے عالمی سطح پر انسانی امداد کے ضمن میں امریکی قیادت برقرار رکھی جائے گی جس کا مقصد شام، یمن، عراق، جنوبی سوڈان اور دیگر جگہوں پر پیچیدہ بحرانوں سے نمٹنا جبکہ بقیہ دنیا کو اپنے حصے میں اضافے کے لیے کہنا اور عملدرآمد کنندگان کی جانب سے کارکردگی میں بہتری کے مطالبات شامل ہیں تاکہ امداد وصول کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔
  • عالمی اخراجات کے حوالے سے امریکی حصہ مزید متوازن بنانا: یہ توقع قائم کرنا کہ دیگر عطیہ دہندگان بھی مشترکہ ترجیحات، دنیا بھر میں معاشی نمو اور ترقی میں معاونت، انسانی بحرانوں کے حل اور عالمی اداروں کو جواب دہ بنانے کے لیے اپنا مناسب اور جائز حصہ ڈالیں گے۔
  • غیرملکی رائے کے لیے اطلاع رسانی اور غیرملکیوں سے روابط: غیرملکی رائے عامہ کو آگاہ کرنے کی غرض سے عوامی سفارتکاری (پی ڈی) کے لیے 565 ملین ڈالر فراہم کر کے امریکی خارجہ پالیسی کے اہداف کو آگے بڑھانا۔ پی ڈی پروگرام امریکہ کے حوالے سے غلط اطلاعات سے نمٹنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں، اس کی خارجہ پالیسی آگے بڑھانے نیز امریکہ اور غیرملکی عوام میں تعلقات مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے اثرپذیری اور جوابدہی کی ضمانت:

  • ہمارے لوگوں، پروگرام، اطلاعات اور اصل اثاثہ جات کے موثر انتظام کا استحکام: کاروباری طریق کار اور پروگرام ڈیزائن میں بہتری لانا نیز بیرون ملک امداد، پالیسیوں اور وسائل کو اہم تزویراتی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا تاکہ مستقل طور سے تبدیل ہوتی دنیا میں امریکی مفادات کو بہتر طور سے آگے بڑھانا ممکن ہو سکے۔
  • انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جدت: دفتر خارجہ کی انفارمیشن ٹیکنالوجی بشمول وائرلیس اور کلاؤڈ کی بنیاد پر خدمات میں جدت لانے کے لیے 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری۔ اس اقدام کا مقصد ہمارے ملازمین کو مزید تحرک فراہم کرنا ہے۔
  • موثر افرادی قوت اور قیادت پر ارتکاز: قیادت کو آگے بڑھانا اور اثرپذیر اقدام کے ذریعے دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کی افرادی قوت کو جدید بنانا۔ مزید لچک دار افرادی قوت ترتیب دینے اور عملی انتظامی اہلیت کے لیے اثرپذیر اقدامات کے لیے 96.2 ملین ڈالر کی درخواست کرنا۔

مزید معلومات کے لیے وزٹ کیجیے:

  • www.state.gov/f
  • www.state.gov/s/d/rm
  • فالو کیجیے @USForeignAssist

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
ای میل کے ذریعے تازہ معلومات حاصل کریں
تازہ اطلاعات یا اپنی منتخب کردہ ترجیحات تک رسائی کے لیے مہربانی کر کے ذیل میں اپنی رابطہ معلومات درج کریں