rss

مالی سال 2019 یوایس ایڈ کا ترقیاتی اور انسانی امداد کا بجٹ

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

 
 

مالی سال 2019 کے لیے صدر کی جانب سے جاری کردہ یوایس ایڈ کا بجٹ امریکی شہریوں کی ضروریات کی تکمیل، ان کے تحفظ کی ضمانت، خوشحالی کے فروغ، حقوق کی حفاظت اور ان کی اقدار کے دفاع کے لیے صدر کے عزم کی تائید کرتا ہے جیسا کہ صدر کی جاری کردہ قومی سلامتی کی حکمت عملی میں مذکور ہے۔ یہ مخصوص سرمایہ کاری کے ذریعے امریکی پالیسی کے اہداف کو ترقی دیتا ہے جس سے امریکی قومی سلامتی کے تحفظ اور اندرون و بیرون ملک امریکی مفادات کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

ہمارا حتمی مقصد ایک ایسے مستقبل کا حصول ہے جس میں بیرون ملک امداد دینے اور اپنے شراکت کاروں کی معاونت کی ضرورت نہ پڑے بلکہ وہ خود انحصاری کی منزل کو پہنچ جائیں اور اپنے ترقیاتی سفر خود طے کرنے کے قابل ہو سکیں۔ یہ بجٹ جنگ کے دائرے کو کو محدود کرنے، وبائی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام اور تشدد، عدم استحکام، بین الاقوامی جرائم اور سلامتی کو لاحق دیگر خطرات کے محرکات پر قابو پانے میں مدد دے کر ہمیں اس دن سے مزید قریب کر دے گا۔ یہ ایسی سرمایہ کاری کے ذریعے امریکی خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جس سے امریکی برآمدات کے لیے منڈیوں میں وسعت آئے گی، امریکی کاروبار کے لیے یکساں مواقع تخلیق کرنے میں مدد ملے گی، مزید مستحکم، مضبوط اور جمہوری معاشروں کی معاونت ہو گی اور بحرانوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

مالی سال 2019 کے بجٹ کی جھلکیاں

مالی سال 2019 کے لیے صدر کا دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کے لیے بجٹ 39.3 ارب ڈالر پر مشتمل ہے جس میں یوایس ایڈ کی جانب سے معاشی امداد اور ترقیاتی فنڈ، صحت کے عالمگیر پروگراموں، عبوری اقدامات، عالمی سطح پر آفات میں معاونت اور یوایس ایڈ کے آپریشنل اکاؤنٹس کے ذریعے مکمل یا جزوی اہتمام سے دیے جانے والے 16.8 ارب امدادی ڈالر بھی شامل ہیں۔ انہی اکاؤنٹس سے چلنے والے یوایس ایڈ کے پروگرام ترقی پذیر ممالک کو خودانحصاری اور خوشحالی کی راہ پر آگے بڑھنے میں مدد دیں گے۔

مالی سال 2019 کا بجٹ یوایس ایڈ کو اس قابل بنائے گا کہ:
اندرون و بیرون ملک امریکی سلامتی کا تحفظ ممکن ہو سکے

  • داعش سے عراق و شام میں اس کے مرکز نیز دنیا بھر میں ہر جگہ نمٹنے، جہاں یہ گروہ اپنا اثر پھیلا سکتے ہیں وہاں استحکام کے فروغ اور مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ میں بے گھر مذہبی اقلیتوں کی امداد کے ذریعے داعش اور دوسری متشدد انتہاپسند تنظیموں کو شکست دینا۔ یوایس ایڈ کے پروگرام متشدد انتہاپسندی کی بنیادی وجوہات کو ہدف بناتے ہیں، معاشی مواقع اور اچھی حکمرانی کی ازسرنو دستیابی ممکن بناتے ہیں، اور داعش، بوکو حرام، الشباب، القاعدہ اور دوسری متشدد انتہاپسند تنظیموں کے پیدا کردہ متعلقہ پیچیدہ بحرانوں پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔
  • یورپ، یوریشیا اور وسطیٰ ایشیا میں امریکی تزویراتی مفادات کے تحفظ کی خاطر روسی جارحیت اور ضرررساں اثرورسوخ کے مقابل کمزوری پر قابو پانا، منڈی کی معیشتوں اور تجارتی مواقع کا استحکام، آزاد میڈیا اور جمہوری اداروں نیز مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا میں انسداد بدعنوانی اور توانائی کے شعبے میں خودمختاری کے لیے کوششوں کا فروغ۔
  • دیرپا استحکام، امن اور جمہوریت کے فروغ کے مواقع کو وسعت دینا۔ اس مقصد کے لیے اداروں اور سول سوسائٹی کو مستحکم بنانا تاکہ ایسی جوابدہ حکمرانی کو فروغ ملے جو شہریوں کی ہمدرد ہو اور استحکام کو فروغ دے۔ یوایس ایڈ حکومتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ جائز حکمرانی کے قیام، قانون کی بحالی اور مقامی سطح پر خصوصاً خواتین، مذہبی و نسلی اقلیتوں اور دوسرے پسماندہ طبقات کی محرومیوں کےازالے کے لیے اہم اصلاحات لائیں۔

مستقل معاشی ترقی اور ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے امریکی مسابقتی برتری کی تجدید ہو

  • کاروبار اور تجارت میں اضافے کے لیے ایسی تجارتی سہولیات اور معاشی اصلاحات متعارف کرانا جن کی بدولت بدعنوانی کی روک تھام، شفافیت اور احتساب کو فروغ ملے اور منڈی کے حوالے سے ایسی حکمرانی اور اداروں کو مضبوط بنانا جن سے امریکی برآمدات کے لیے منڈیاں تخلیق پائیں اور امریکی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع پیدا ہوں۔
  • نجی شعبے کے ساتھ تزویراتی شراکتوں کے لیے اثاثوں، صلاحیتوں اور کاروبار کے لیے مالیاتی وسائل کا حصول تاکہ ترقی کے پہیے کو حرکت دی جائے، مشترکہ مفادات اور مواقع کو فروغ ملے اور ڈویلپمنٹ فنانس انسٹیٹیوشن (ڈی ایف آئی) کے ساتھ رابطے کے ذریعے امریکی حکومت کی ترقیاتی مالیات کے حوالے سے کوششوں میں معاونت ہو سکے۔

متوازن شمولیت کے ذریعے امریکی قیادت کو فروغ ملے

  • جنگوں اور قدرتی آفات کے متاثرین کی معاونت، ہنگامی غذائی امداد کی فراہمی اور غذائی عدم تحفظ کی درپردہ وجوہات پر قابو پا کر انسانی بحرانوں پر ردعمل کے حوالے سے قیادت مہیا کرنا۔
  • ممالک کے اپنے مقامی وسائل کو تحرک دینا۔ یوایس ایڈ ترقی پذیر ممالک کو ان کے مقامی سرکاری و نجی وسائل کے مزید موثر انتظام اور انہیں متحرک کرنے کے قابل بنا کر نیز دیگر دستیاب مالیاتی ذرائع کے حصول کے ذریعے مزید خودانحصاری کی جانب آنے میں مدد دے گا۔
  • عالمگیر صحت عامہ میں بہتری اور بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام۔ یوایس ایڈ کے صحت سے متعلق عالمگیر پروگرام دفتر خارجہ کے عالمی صحت کے پروگرامز کے ساتھ مل کر تین اہداف کے ضمن میں تعاون کے لیے عالمی کوششوں میں حصہ ڈالیں گے۔ ان میں ایچ آئی وی/ ایڈز کی وبا پر قابو پانا، زچہ بچہ کی اموات کی روک تھام اور وبائی بیماریوں بشمول عالمی سطح پر پھیلے انفلوئنزا اور بیماریاں پھیلانے والے دیگر خطرناک جرثوموں پر قابو پانا شامل ہیں۔ یوایس ایڈ صحت کے حوالے متنوع ترجیحات پر عمل کرے گا جن میں صدر کا ملیریا کے خلاف اقدام، تحفظ صحت کا عالمی ایجنڈا، غذائیت، تپ دق، نظرانداز شدہ استوائی بیماریاں، خاندانی منصوبہ بندی اور خواتین کی صحت شامل ہیں۔
  • توقع ہے کہ دیگر عطیہ دہندگان دنیا بھر میں معاشی نمو اور ترقی میں مدد دینے اور انسانی بحرانوں سے نمٹنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے تاثرپذیری اور جواب دہی کی ضمانت میسر آئے

  • مضبوط و موثر پروگراموں، اختراعی ایوارڈز اور شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ تخلیق، کڑی نگرانی اور تخمینے، پروگرام اور مالیاتی پڑتال کے حوالے سے بہتر ردعمل اور سیکھے گئے اسباق کے باقاعدہ اطلاق کے ذریعے احتساب اور شفافیت میں بہتری لا کر ہر ڈالر سے زیادہ سے زیادہ فائدے کا حصول۔
  • بیرون ملک دی جانے والی امداد کو قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی ترجیحات سے بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے، مزید لچک دار افرادی قوت کی تیاری اور مسلسل بہتری، تخلیق نیز احتساب کو ترقی دے کر نئی پالیسی اور طریقہ کار کے ذریعے اثرپذیری میں اضافہ۔

مزید معلومات کے لیے براہ مہربانی [email protected] پر یوایس ایڈ کے پریس آفس سے رجوع کیجیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں