rss

وزیر خارجہ ٹلرسن اور کویتی وزیرخارجہ شیخ صباح الخالد الصباح کی پریس کانفرنس

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
13 فروری 2018
کویت سٹی، کویت

 
 

***غیرمدون/ مسودہ***

وزیرخارجہ ٹلرسن: شکریہ، میں ایک مرتبہ پھر کہنا چاہوں گا کہ آج کویت میں دوبارہ آنا میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔ سب سے پہلے میں عالی مرتبت امیر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ہم سب کو یہاں کویت میں لائے (ناقابل سماعت) خطے میں۔ کویت طویل عرصہ سے علاقائی سلامتی کے حوالے سے اہم شراکت دار رہا ہے اور داعش کے خلاف اتحاد کے آج وزارتی اجلاس کی میزبانی کے حوالے سے اس کی رضامندی اور عراقی تعمیرنو کی کانفرنس ان نہایت اہم مسائل پر ان کی قیادت کی عکاسی کرتی ہیں۔

گزشتہ روز وزیرخارجہ الصباح کے ساتھ میری بے حد  تعمیری ملاقاتیں ہوئیں اور آج ان کے عالی مرتبت امیر سے میری نہایت مفید ملاقات رہی۔ ہم نے خلیج میں جاری تنازعات، ایران، عراق اور دوسرے اہم علاقائی و دوطرفہ امور پر بات کی۔

اب جبکہ خلیجی تنازع آٹھویں ماہ میں داخل ہو گیا ہے تو امریکہ ثابت قدمی سے یہ یقین رکھتا ہے کہ خلیجی اتحاد کی مفاہمت اور بحالی خطے میں تمام فریقین کے مفاد میں ہے۔ اس طرح کا اختلاف خطے کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

ہم اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی سفارتی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کرنے پر ایک مرتبہ پھر کویت کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ خلیج تعاون کونسل کے اتحاد کی بحالی کے حوالے سے ہماری مشترکہ ترجیحات اور اہداف کے سلسلے میں سمجھوتے کی حوصلہ افزائی اور کویت کی حمایت جاری رکھے گا۔

ہم نے اس پر بھی بات کی کہ امیر کویت کے دورہ وائٹ ہاؤس کے دوران اٹھائے گئے اہم اقدامات پر پیش رفت کیسے ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے حوالے سے بات بھی ہوئی جو گزشتہ دسمبر میں ہوا تھا اور جس کا مقصد دفاع، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیم سے متعلقہ متعدد اہم امور پر کام کرنا تھا۔

ہم کویت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نشست سنبھالنے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم سلامتی کونسل کے روبرو آنے والے متعدد اہم مسائل پر ان کی مشاورت کی قدر کریں گے۔

ہم شمالی کوریا پر زیادہ  سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں کویت کے کردار کو تسلیم کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ کویت کے اس اقدام کا مقصد شمالی کوریا کو مختلف راہ پر لانا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دے اور جزیرہ نما کوریا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے لیے امریکہ اور دوسروں کے ساتھ مکالمے اور بات چیت میں شامل ہو۔

داعش کو شکست دینے کے لیے بنائے گئے عالمی اتحاد کے 74 ارکان کا اجلاس آج کویت کی میزبانی میں ہوا اور یہ وہ قیادت ہے جو اس تمام  مہم میں کویت کی مساعی کو نمایاں کرتی ہے۔ آج ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ  فلپائن کی شمولیت کے بعد اس اتحاد کے ارکان کی تعداد 75 ہو گئی ہے۔ عالمگیر اتحاد نے نمایاں پیش رفت کی ہے مگر جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ عراق اور شام میں داعش کی نام نہاد خلافت منتشر ہو چکی ہے مگر داعش بدستور ایک نہایت ثابت قدم دشمن ہے اور اسے ابھی شکست نہیں ہوئی۔ ہم داعش کو ہر جگہ تباہ کرنے، نئی بھرتیوں، غیرملکی جنگجو دہشت گردوں کی نقل حرکت، فنڈز کی منتقلی اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا پر جھوٹے پروپیگنڈے کی روک تھام کے لیے بدستور پرعزم ہیں۔

داعش کے ساتھ یہ اتحاد بھی ارتقا پذیر ہے۔ آج اتحاد کی جانب سے اختیار کردہ رہنما اصول داعش کے خلاف یہ جنگ جاری رکھنے کے لیے مستقبل کے کردار کے حوالے سے ہمارا تصور واضح کرتے ہیں۔ یہ اصول تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتے ہوئے ہماری باہمی کوششیں جاری رکھنے کے مشترکہ عزم کی توثیق کرتے ہیں یہاں تک کہ داعش کو مکمل اور دیرپا شکست نہ ہو جائے۔ عراق اور شام میں داعش کی پائیدار شکست یقینی بنانے کے لیے اتحاد کے تمام ارکان کو داعش سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں استحکام لانے کی کوششوں میں تعاون کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں اب تعمیرنو میں مصروف لوگوں کو ضروری امداد اور خدمات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ اس میں موثر فورسز کی موجودگی بھی شامل ہے تاکہ آزاد کرائے گئے علاقوں کو مضبوط بنایا جائے اور اندرون ملک بے گھر لوگوں کی محفوظ واپسی میں سہولت مل سکے۔

داعش کو شکست دینے کی مہم اور دیگر امور میں کویت علاقائی امن و استحکام کے لیے امریکہ کا انتہائی اہم تزویراتی شراکت دار ہے اور یہ حقیقت امریکہ کے متعدد فوجی اڈوں اور ہزاروں امریکی فوجیوں کی میزبانی کے لیے اس کی طویل مدتی رضامندی سے بھی عیاں ہے۔ کویت نے گزشتہ برس ریاض میں صدر ٹرمپ کی تقریر کے جواب میں دہشت گردی اور متشدد انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے نمایاں عزائم کا اظہار کیا تھا۔

کویت عالمی سطح پر امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی رہنما کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی جانب سے خطے بھر میں موجود مہاجرین اور ان کے میزبان ممالک کو فیاضانہ طور سے اہم مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے کویت اس خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکہ دونوں ممالک میں قریبی تعاون جاری رکھنے کا متمنی ہے۔ میں آج کی سرگرمیوں کی میزبانی پر وزیرخارجہ کا ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ شکریہ۔

میزبان: اب ہم سوالات لیں گے۔

سوال: میں رائٹرز سے یارا بیومی ہوں۔ وزیر ٹلرسن، جیسا کہ آپ نے ابھی کہا، آپ ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ناصرف داعش کی پائیدار شکست کے لیے عراقی تعمیر نو میں حصہ ڈالیں بلکہ اس سے ملک میں ایرانی اثرورسوخ کمزور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ امریکہ خطے میں عمومی اعتبار سے اس محاذ پر عراق کی مدد کے لیے مزید کیا کر سکتا ہے؟ کیا آپ افرین میں ترکوں کی کارروائی کو داعش کی دیرپا شکست کے لیے کی جانے والی کوششوں میں کمی کا باعث سمجھتے ہیں؟ کیا اس سے خطے میں ایران کا مقابلہ کرنے کی کوششیں متاثر ہوں گی؟

مزید براں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مئی میں خلیج تعاون کونسل کی کانفرنس خلیجی تنازعات کے خاتمے میں مدد دے سکتی ہے اور کیا کویت نےاس میں اپنی شمولیت کی تصدیق کی ہے؟ شکریہ۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: جہاں تک عراق کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں جیسا کہ ہم نے آج بات کی، ہمارے سامنے براہ راست سب سے اہم کام داعش سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں استحکام لانا اور یہ امر یقینی بنانا ہے کہ ہم ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز تعینات کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد بارودی سرنگوں کے خاتمے کا کام آتا ہے، ہمیں زمین میں دبایا گیا بارودی مواد صاف کرنا ہے جس کے سبب لوگ گھروں کو واپس نہیں آ رہے اور ہمیں پانی، بجلی، ہسپتالوں اور سکولوں جیسی خدمات دوبارہ شروع کرنی ہیں۔ ان علاقوں میں استحکام لانے کے لیے ہماری کوششوں کے یہی بنیادی اجزا ہیں چنانچہ ہم جن فنڈز کا اعلان کر چکے ہیں اور آج جن اضافی رقومات کا اعلان کیا گیا ہے اور وہ عراق اور شام میں استحکام لانے پر خرچ ہوں گی۔

یہ پہلا مرحلہ ہے جس سے تعمیرنو کے حالات میسر آئیں گے۔ سب سے پہلے ہمیں بنیادی خدمات بحال کرنا ہیں اور علاقے کو محفوظ بنانا ہے تاکہ تعمیر نو کا عمل شروع ہو سکے۔ نجی و سرکاری شعبے کے ساتھ جاری بات چیت میں یہ تعمیرنو بھی زیربحث ہے چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ عراق کے حوالے سے سب سے اہم کام یہی ہے جو ہم کر سکتے ہیں۔

جہاں تک افرین کی صورتحال کا تعلق ہے تو اس سے مشرقی شام میں داعش کو شکست دینے کی ہماری کوشش میں کمی آئی ہے۔ جب افواج کا رخ افرین کی جانب ہوا تو ہم نے اپنے نیٹو اتحادی ترکی سے بات کی (ناقابل سماعت) کہ انہیں اس کارروائی سے ہمارے بنیادی مقصد یعنی داعش کو شکست دینے پر پڑنے والے اثرات کی بابت خبردار رہنا چاہیے۔ اسی مقصد کے لیے اس ہفتے کے اواخر میں مجھے انقرہ جانا ہے۔ ہم اپنے لازمی مقصد کے لیے مل کر چلنے کے حوالے سے ان کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ یہ مقصد داعش کو شکست دینا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں شام میں القاعدہ اور نصرہ فرنٹ سمیت دیگر دہشت گرد عناصر کام کر رہے ہیں جن سے امریکہ کو خطرہ ہے۔ چنانچہ ہم داعش کو شکست دینے کے لازمی مقصد پر توجہ برقرار رکھنے کے لیے مل جل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔

سوال: جناب عالی، میرا نام حمید خالد ہے اور میں پاکستان کے سب سے بڑے اخبار روزنامہ جنگ کی نمائندگی کرتا ہوں۔ قابل احترام امریکی وزیرخارجہ سے میرا سوال یہ ہے کہ آپ داعش سے لڑنے اور اسے شکست دینے جا رہے ہیں، میں پوچھتا ہوں کہ داعش کو تخلیق کس نے کیا؟ اس میں کون سا ملک یا کون سے عناصر شامل تھے (ناقابل سماعت) شکریہ۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: داعش عراق اور شام کے حالات سے وجود میں آئی اور اس کا ظہور وہاں جاری جنگوں سے ہوا۔ غیرمحفوظ علاقے اور ایسے حالات داعش کی تخلیق کا باعث بنے جہاں لوگوں کی حالت ابتر تھی۔ چنانچہ یہ تنظیم دونوں ممالک میں جنگ اور ابتری سے ابھری۔ جونہی یہ سامنے آئی تو اسے بڑے علاقے پر تسلط جمانے اور اپنی کارروائیوں کے لیے محفوظ ٹھکانے بنانے کی صلاحیت حاصل ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ پہلا ہدف ان کی خلافت کا خاتمہ اور ان کے زیرتسلط علاقہ واپس لینا ہے تاکہ ان کی جنگجو بھرتی کرنے، مالیات جمع کرنے اور تربیت نیز حملے کی منصوبہ بندی و عملدرآمد کی اہلیت کمزور کی جا سکے۔

سوال: میں سی این این سے مشیل کوزنسکی ہوں۔ جناب وزیر، میں آج دو اہم موضوعات پر آپ سے سوالات کرنا چاہتی ہوں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں بہت سے ممالک بشمول امریکی اتحادی جمہوریت سے دور ہو رہے ہیں اور بعض سمجھتے ہیں کہ امریکی اثرورسوخ ختم ہو رہا ہے۔ ایسے میں آپ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ وزارت خارجہ کے بجٹ میں دوبارہ 20 فیصد کٹوتی اچھا خیال ہے۔ اس میں ‘نیشنل انڈوومنٹ فار ڈیموکریسی’ کےفنڈ سے دوتہائی کٹوتی بھی شامل ہے۔

میرا دوسرا سوال اسرائیل کے بارے میں ہے کہ شام میں تناؤ میں اضافہ روکنے کے حوالے سے اس کے روس پر انحصار کو آپ کیسے دیکھیں گے؟ کیا آپ اسرائیل کے اس تبصرے پر کوئی ردعمل دیں گے کہ حقیقتاً امریکہ کو زمین پر کوئی اثرورسوخ حاصل نہیں اور موجودہ صورتحال میں اس کا کوئی موثر کردار بھی نہیں ہے؟

جناب وزیر، جیسا کہ آج آپ نے اعلان کیا کہ فلپائن بھی اس اتحاد میں شامل ہو رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے تمام غیرملکی کارکنوں کو کویت سے واپس لانا چاہتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ یہاں اور خلیج میں ایک بڑے مسئلے کی جانب اشارہ ہے اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس اقدام سے کوئی تبدیلی آئے گی؟ شکریہ

وزیرخارجہ ٹلرسن: صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے دفتر خارجہ کے لیے اعلان کردہ بجٹ دراصل میزانیے کی اس سطح پر واپسی کی اظہار ہے جو الیکشن سے قبل گزشتہ انتظامیہ میں کے دور میں تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب ہم تناسب کی بات کرتے ہیں تو یہ ظاہر ہونا اہم ہے کہ ہم کیا ماپ رہے ہیں۔ آپ نے جن تناسب کا حوالہ دیا ہے وہ دفتر خارجہ کے اب تک سب سے بڑے بجٹ ہیں۔ میں آپ کو بتاؤں کہ جب میں دفتر خارجہ آیا تو میں نے مشاہدہ کیا کہ دفتر خارجہ ان وسائل کو مکمل طور سے استعمال کرنے کے قابل بھی نہیں تھا اور بہت بڑی رقم خرچ ہونے سے بچ رہتی اور آئندہ سال کے کھاتوں میں چلی جاتی تھی۔

چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ ٹرمپ انتظامیہ اور ‘اوایم بی’ بجٹ اور فنڈز کی درخواست کے حوالے سے مزید منظم ہونے کی بابت مختلف نکتہ ہائے نظر کے مالک ہیں اور یہ امر یقینی بناتے ہیں کہ ہم ان فنڈز کو انتہائی مفید طور سے اور فوری خرچ کرنے کے قابل ہوں۔ میں نہیں سمجھتا کہ امریکی عوام اپنے ٹیکس کی رقم یونہی پڑی رہنے دینا چاہیں گے کہ ہم پروگرامز پر مکمل طور سے عملدرآمد نہیں کر سکتے۔ چنانچہ ہمیں اعتماد ہے کہ ہمارے پاس صدر کی خارجہ پالیسی کے مقاصد کے حصول کے لیے درکار وسائل موجود ہیں۔

جہاں تک شام میں ہماری پوزیشن کا تعلق ہے تو میں ایک دو مشاہدات کا تذکرہ کروں گا۔ امریکہ اور داعش کو شکست دینے کے لیے سرگرم عمل اتحادی فورسز کو آج 30 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل ہے جس میں بہت بڑی آبادی شامل ہے۔ ان فورسز کو شام میں تیل کے کنوؤں کی بڑی تعداد پر کنٹرول بھی حاصل ہو گیا ہے۔ چنانچہ میں سمجھتا ہوں یہ مشاہدہ درست نہیں کہ امریکہ کو شام میں اثرورسوخ حاصل نہیں ہے۔ ہم جنیوا میں ہونے والی بات چیت میں نہایت متحرک ہیں اور اس سلسلے میں ناصرف حزب اختلاف کو متحد کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور انہیں ایک مقصد تلے لانے کی سعی کر رہے ہیں بلکہ  جانب ہم روس کے ساتھ بھی سرگرم عمل ہیں جس کا اسد حکومت پر بہت زیادہ اثرورسوخ ہے اور وہ اسد اور اس کی حکومت کو جنیوا میں مذاکراتی میز پر لا سکتا ہے۔ چنانچہ شراکت داروں کے بڑے گروہ کے اتصال و تعاون سے ہماری شراکت متحدہ شام، جمہوری شام اور ایسے شام کی خواہاں ہے جہاں شامی عوام نئے آئین اور انتخابات کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ جہاں تک شام کے لیے مستقبل کا معاملہ ہے تو ہم اس ضمن میں اپنے طریق کار کے ذریعے اس کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔ چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ خطے میں مشترکہ مقاصد سے وابستہ ہمارے بہت سے شراکت دار شام کے حوالے سے ہماری پوزیشن کی حمایت کرتے ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں