rss

وزیرخارجہ ٹلرسن کا ‘سی بی ایس 60 منٹس’ کی مارگریٹ برینن کو انٹرویو

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
18 فروری 2018

 
 

وزیرخارجہ ٹلرسن کا ‘سی بی ایس 60 منٹس’ کی مارگریٹ برینن کو انٹرویو

مس برینن: ریکس ٹلرسن مانتے ہیں کہ وزیرخارجہ کے طور پر ان کا انتخاب غیرروایتی تھا۔ انہیں ماضی میں حکومت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ تاہم ‘ایکسون موبائل’ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے انہوں نے دنیا بھر میں غیرملکی رہنماؤں کے ساتھ تواتر سے معاملہ کاری کی۔ وزیرخارجہ ٹلرسن ایسے شخص ہیں جو اب بھی خود کو بوائے سکاؤٹ سمجھتے اور ‘کوڈ آف دی ویسٹ’ کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ کڑے طور سے خود کو الگ تھلگ رکھتے اور انٹرویوز سے دور بھاگتے ہیں تاہم انہوں نے ہمیں ایک خاص اور وسیع الموضوع انٹرویو دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ حالیہ دنوں جاری اولمپکس اور شمالی کوریا کو بڑی حد تک ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے ہمیں اس معاملے کے بارے میں بتایا جو ان کے لیے اب تک سب سے کڑا ثابت ہو سکتا ہے۔

سوال: کم جانگ ان نے نئے سال کے موقع پر اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ‘پورا امریکہ ہمارے جوہری حملے کی زد میں آتا ہے’ یہ بات آپ کے لیے پریشان کن ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: جہاں یہ ہمارے لیے پریشانی کا باعث ہے وہیں اس سے ہمارا عزم مزید تقویت پاتا ہے۔ ایسی حکومت کی جانب سے امریکی عوام کے لیے اس طرح کا خطرہ ناقابل قبول ہے اور صدر نے کمانڈرانچیف کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے وزیردفاع ماٹس کو ہر طرح کے حالات کے لیے تیاری یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔

سوال: اگر آپ ناکام رہتے ہیں تو کیا عسکری کارروائی کے امکانات موجود ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: اگر میں ناکام رہتا ہوں، میں نے اپنے چینی ہم منصب سے کہا ہے ‘اگر تم اور میں ناکام رہے تو ان لوگوں کو لڑنا ہو گا، ہم یہ نہیں چاہتے’

سوال: مگر کیا آپ کم جانگ ان کے ساتھ معاملہ کرنے اور ممکنہ طور پر مذاکرات کے لیے رضامند ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: اس معاملے کو سفارتی طور سے حل کرنے کے لیے ہمیں انہی کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔ اب ہمیں یہ تعین کرنا ہے کہ آیا ہم اس کے آغاز کے لیے تیار ہیں؟ کیا وہ تیار ہیں؟ اگر وہ تیار نہیں ہیں تو ہم ان پر دباؤ ڈالنے کی مہم جاری رکھیں گے اور اس میں مزید اضافہ کریں گے۔ ہم پہلے ہی یہ کام کر رہے ہیں۔ ہر مہینے نئی پابندیاں سامنے آتی ہیں۔ دنیا شمالی کوریا کو تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتی ہے۔

سوال: اس حوالے سے بعض سوالات موجود ہیں کہ چین کتنی شدت سے انہیں تبدیل ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ آپ کو کم جانگ ان پر معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے واقعتاً ان کی مدد درکار ہے۔ آپ نے چین کے ایسے کون سے شکوک رفع کیے ہیں کہ وہ اس ضمن میں کوئی اقدام کر سکے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ممالک یہ بات جانتے ہیں کہ شمالی کوریا چین کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ ہم نے ان سے یہ بات بالکل واضح طور سے کی ہے کہ جب ہم مذاکراتی میز پر آ گئے تو انہیں ایک اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔

سوال: تو میں نے آپ سے یہ سنا ہے کہ یہ دوطرفہ بات چیت نہیں ہو گی بلکہ چین بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہو گا۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: ابتدا میں یہ دوطرفہ گفت و شنید ہو سکتی ہے۔ پہلے امریکہ اور شمالی کوریا تعین کریں۔ کیا بات چیت کے لیے پہلے سے طریق کار ترتیب دینے کی کوئی ضرورت ہے؟

سوال: کیا یہ بات درست ہے کہ آپ شمالی کوریا کو مذاکرات پر راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: ہم انہیں بات چیت پر قائل کرنے کے لیے کوئی لالچ نہیں دے رہے۔ اس کے بجائے ہم کڑے اقدامات کر رہے ہیں اور انہیں یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دباؤ ڈالنے کی یہ مہم شمالی کوریا کی آمدنی کے ذرائع پر بھاری رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ اس سے ان کے عسکری پروگرام متاثر ہو رہے ہیں۔

سوال: جہاں تک ‘جوہری ہتھیاروں کو مکمل طور پر ترک کرنے’ کا معاملہ ہے تو وہ ایسی شے ترک کرنے پر کیونکر آمادہ ہوں گے جس کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کو فائدہ ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: اس لیے کہ اس سے انہیں کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ اس سے وہ ایک الگ تھلگ ملک بن گئے ہیں جو سفارتی اور معاشی اعتبار سے دنیا سے کٹا ہوا ہے۔

سوال: سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر باب کورکر نے کہا ہے کہ ‘ہم میں ہر ایک کو ریکس ٹلرسن اور جم ماٹس کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ وہ آئندہ آٹھ دس ماہ میں سفارتی اعتبار سے کامیاب رہیں وگرنہ ہمارے ملک کو عسکری اعتبار سے بہت بڑے فیصلے کرنا پڑیں گے’ آٹھ سے دس ماہ۔ کیا آپ کو یہ کام اتنی ہی مدت میں مکمل کرنا ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں اپنے پاس دستیاب تمام وقت سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ پہلا بم گرائے جانے تک ہماری سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔ میرا کام یہ ہے کہ پہلا بم ہی نہ گرنے دوں۔ ہم بلا کم وکاست نہیں جانتے کہ ہمارے پاس کتنا وقت باقی ہے۔

سوال: یوں لگتا ہے کہ آپ نے صدر کو قائل کر لیا ہے کہ سفارتکاری ہی اس مقصد کے حصول کا راستہ ہے مگر یہ بات ہمیشہ اتنی واضح نہیں تھی۔ اکتوبر میں آپ نے کہا کہ آپ شمالی کوریا والوں کو بات چیت پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر صدر نے ٹویٹ کیا کہ ‘ریکس، چھوٹے راکٹ مین کے ساتھ بات چیت کی کوشش پر وقت ضائع مت کرو’ کیا آپ نے انہیں کہا کہ کم جانگ کو ‘چھوٹا راکٹ مین’ مت کہیں؟ کیا یہ سفارتی اصطلاح ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: (قہقہہ) صدر کا بات کرنے کا اپنا انداز ہے۔ سفارت کار اعلیٰ کی حیثیت سے میرا کام یہ امر یقینی بنانا ہے کہ شمالی کوریا والے جانتے ہوں کہ ہم نے بات چیت کے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ میں سن رہا ہوں۔ میں انہیں بہت سے پیغامات نہیں بھیج رہا کیونکہ اس موقع پر ہم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے لہٰذا میں ان سے یہ سننے کا منتظر ہوں کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

سوال: آپ کو اس کا کیسے علم ہو گا؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: وہ مجھے بتائیں گے۔ وہ مجھے بتائیں گے۔

سوال: اتنی وضاحت سے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: ہمیں ان کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات نہایت صراحت سے ہو گی کہ ہم ان کے ساتھ پہلی بات چیت کیسے چاہتے ہیں۔

(ویڈیو کلپ چلتا ہے) وزیرخارجہ ٹلرسن: تازہ ترین کیا ہے؟

مس برینن: جیسا کہ یمن میں بحران کے حوالے سے اعلیٰ نائبین کے ساتھ اس اجلاس میں دیکھا گیا کہ اب پوری دنیا ان کا قلمدان ہے۔

(ویڈیو کلپ جاری رہتا ہے) وزیرخارجہ ٹلرسن: میرے خیال میں یہ یمن سے مزید میزائل حملوں کے حوالے سے بعض رپورٹس ۔۔۔۔

مس برینن: مگر ریکس وائن ٹلرسن کا تعلق شمالی ٹیکساس میں شرفا کے خاندان سے ہے۔ انہیں یہ نام اداکار ریکس ایلن اور جان وائن کے نام پر دیا گیا کیونکہ ان کے والدین کو ویسٹرن پسند تھے۔

سوال: ہمارے پاس بوائے سکاؤٹ کی وردی میں آپ کی تصویر موجود ہے۔ مجھے علم ہے کہ آپ ایگل سکاؤٹ کے درجے تک پہنچے تھے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: جی ہاں

سوال: اس تصویر میں آپ کی عمر کیا ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میرا خیال ہے جب یہ تصویر اتاری گئی تو میری عمر 14 برس تھی۔

سوال: آپ نہایت فخریہ انداز میں کھڑے ہیں۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: مجھے بے حد فخر ہے اور تھا۔ اب بھی ایسا ہی ہے۔

سوال: میں کہہ سکتی ہوں، میرا مطلب ہے کہ آپ بوائے سکاؤٹس کا ایک بڑا حوالہ ہیں، اس نے آپ کی زندگی کی تشکیل میں بڑا کردار ادا کیا۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: آج میں جو کچھ ہوں وہ اسی کی بدولت ہے۔

سوال: کیا آپ اب بھی خود کو بوائے سکاؤٹ سمجھتے ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: جی ہاں

سوال: واقعی؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: یقیناً

سوال: آپ بوائے سکاؤٹ کے طور پر ایکسون موبائل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نہیں بنے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں بنا ہوں۔

سوال: آپ نے ‘کوڈ آف دی ویسٹ’ کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: جب مغرب ترقی پا رہا تھا تو اس دور میں زیادہ قوانین نہیں تھے جبکہ لوگ بنیادی طور پر ایک دوسرے کے الفاظ پر یقین کرتے تھے جیسا کہ میں نے جو کچھ کہہ دیا وہی میرا عہد ہو گا۔ میں نے اپنی پوری زندگی حتیٰ کہ ایکسون موبائل میں بھی اسی پر عمل کیا ہے۔ میں کسی ملک کے سربراہ یا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے ساتھ بیٹھوں گا اور ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھیں گے۔ اس موقع پر میں کہوں گا کہ ‘میں بس یہ یقین چاہتا ہوں کہ آپ اس معاملے میں اپنے عہد پر قائم رہیں گے اور میں آپ کو زبان دیتا ہوں کہ میں اپنی بات پر قائم رہوں گا’ کوڈ آف ویسٹ کے تحت لوگ اپنے اداروں سے بے حد وفادار تھے۔ اسی طرح ‘رائیڈنگ فار دی برینڈ’ ایک ایسا محاورہ ہے جس پر میں نے ہمیشہ عمل ۔۔۔۔

سوال: رائیڈنگ فار دی برینڈ؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: رائیڈنگ فار دی برینڈ۔ جب کاؤ بوائے کسی مویشی خانے یا تنظیم سے وابستہ ہوتا تھا تو وہ اس سے وفاداری نبھاتا تھا۔

سوال: اب آپ کی وابستگی کس سے ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: دفتر خارجہ، امریکی حکومت اور امریکی عوام میرے برینڈ ہیں۔

سوال: دسمبر 2016 سے پہلے آپ جس رہنما سے نہیں ملے تھے وہ ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔ مجھے ان سے اپنی پہلی ملاقات کے بارے میں بتائیے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: ہم ٹرمپ ٹاور میں واقع ان کے دفتر میں ملے اور انہوں نے شروع میں ہی کہا کہ مجھے دنیا کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر بتائیں۔ چنانچہ اس دوران ہم نے قریباً ایک گھنٹہ دنیا کے معاملات پر گفتگو کی۔ اس کے بعد انہوں نے پیشکش کے انداز میں مجھے کہا کہ ‘میں آپ کو اپنا وزیرخارجہ بنانا چاہتا ہوں’ یہ سن کر میں ششدر رہ گیا۔

سوال: کیا آپ کو علم نہیں تھا کہ یہ ایک طرح سے نوکری کا انٹرویو ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: نہیں، مجھے علم نہیں تھا۔ میرے ذہن میں یہی بات تھی کہ ان سے گفتگو اور تبادلہ خیال ہو گا جیسا کہ میں نے گزشتہ صدور سے کیا تھا۔ میری صدر اوبامہ سے بات ہوئی تھی، اسی طرح صدر بش سے بات رہی۔ لہٰذا میرے ذہن میں یہی تھا کہ یہ بھی ایسی ہی بات چیت ہو گی (قہقہہ)

سوال: کیا آپ کو احساس تھا کہ وزیرخارجہ کی حیثیت میں آپ کیا کام کرنے جا رہے ہیں؟

ریکس ٹلرسن: جی، ہر طرح سے

سوال: پالیسی کے حوالے سے دیکھا جائے تو آپ نے بعض مواقع پر اپنی بات منوائی۔ خواہ یہ افغانستان میں فوج برقرار رکھنے کا معاملہ ہو یا صدر کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے سے روکنا ہو جیسا کہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسے ختم کرنے والے ہیں۔ آپ کو چند مواقع پر ناکامی بھی ہوئی جیسا کہ صدر نے امریکہ کو پیرس ماحولیاتی معاہدے سے باہر نکال لیا، اسی طرح الکاہل سے پار تجارتی معاہدے کا معاملہ ہے، آپ نے امریکہ کی جانب سے کیا گیا معاہدہ توڑنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ آپ نے امریکی سفارت خانے کی ان کے بتائے گئے وقت کے مطابق یروشلم منتقلی کے حوالے سے بھی خبردار کیا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ خارجہ امور پر آپ کو خاطرخواہ کامیابیاں ملی ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں سمجھتا ہوں کہ صدر کے فیصلوں سے امریکی عوام کو فائدہ ہوا۔ یہ اتفاق یا عدم اتفاق کی بات نہیں کیونکہ فیصلہ سازی انہی کا اختیار ہے۔

سوال: مجھے یہ بتائیے کہ ایسی انتظامیہ میں کام کرنا کیسا تجربہ ہے جس میں امریکہ بہت سے وعدوں سے پھر گیا ہو یا پھرنے کی دھمکی دی ہو؟ کوڈ آف ویسٹ پر یقین رکھنے والے شخص کے لیے یہ کام خاصا مشکل ہے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان میں بعض معاہدوں کے حوالے سے ہمارا عہد کس سطح کا تھا۔ ہم نے ایسے معاہدے کر رکھے تھے جن پر کانگریس کو اپنی رائے یا حمایت دینے کاموقع نہیں مل سکا تھا۔ امریکی عوام نے صدر ٹرمپ کو منتخب کیا اور ان کا انتخاب ایسے ہی بہت سے مسائل پر ہوا۔

(ویڈیو کلپ چلتا ہے) سوال: وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ آپ کو انتظامیہ سے باہر کیا جا رہا ہے۔

مس برینن: گزشتہ برس ٹلرسن نے بہت سا وقت اس بات کی تردید میں صرف کیا کہ صدر کے اندرونی حلقے میں ان کی پوزیشن اچھی نہیں رہی اور یا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے یا انہیں برخاست کر دیا جائے گا۔

(ویڈیو کلپ جاری ہے) وزیرخارجہ ٹلرسن: مضحکہ خیز بات ہے۔

مس برینن: ایسی رپورٹس کے بعد جن میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے صدر کو بیوقوف کہا ہے۔

سوال: آپ نے صدر کو بیوقوف کہنے کی تردید کیوں نہیں کی؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: یہ سوال پرانا ہو چکا ہے۔

سوال: کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اس سوال کا جواب نہ دینے سے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اس رپورٹ کی تصدیق کر رہے ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میرا خیال ہے کہ میں اس سوال کا جواب دے چکا ہوں۔

سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اس کا جواب دے دیا ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: جی میں نے جواب دے دیا ہے۔

سوال: کیا آپ نے صدر کو بیوقوف کہا تھا؟

وزیر خارجہ ٹلرسن: میں اس سوال کو اہمیت نہیں دوں گا۔ ایسے بہت سے بڑے مسائل ہیں جن پر ہم بات کر سکتے ہیں۔ میرا تعلق یہاں سے نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس شہر میں لوگ ایسے بہت سے معاملات پر بات کرنا پسند کرتے ہیں جن کی واقعتاً کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہاں آپ کے مخالفین بھی ہیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں نہیں جانتا۔

سوال: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کے استعفے یا برخاست کیے جانے کی رپورٹس کہاں سے آئیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ یہ رپورٹس کہاں سے آئیں۔ میں واقعی اس بارے میں کچھ نہیں جانتا اور اس پر زیادہ غور نہیں کرتا۔

سوال: میرا مطلب ہے کہ آپ وزارتی اجلاسوں میں جاتے ہیں اور رپورٹر چلا چلا کر پوچھتے ہیں کہ ‘جناب آپ کب مستعفی ہو رہے ہیں؟’

وزیرخارجہ ٹلرسن: مجھ سے ایسے سوالات کبھی نہیں کیے گئے۔ صرف میں ہی جانتا ہوں کہ میں استعفیٰ دے رہا ہوں یا نہیں۔

سوال: دیگر مسائل کے علاوہ آپ کو یہاں درپیش ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات صدر کا پیغام آپ کی بات سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ میں سمجھتی ہوں کہ آپ یہ بات تسلیم کریں گے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: جیسا کہ میں نے کہا ہے صدر کا بات کرنے کا اپنا انداز ہے اور وہ اپنے الفاظ میں بات کہتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً میں ان سے پوچھوں گا کہ ‘کیا آپ پالیسی میں تبدیلی لا رہے ہیں؟’ کیونکہ اگر ایسا ہے تو یقیناً مجھے اور سبھی کو اس سے آگاہ ہونا ہو گا۔

سوال: کیا آپ یہ توقع رکھیں گے کہ وہ پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے اپنے ٹویٹ سے پہلے آپ سے بات کریں گے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: جب بھی میں نے ان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا ‘نہیں، پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی’ اور میں کہتا ہوں کہ ‘تو پھر مجھے کوئی مسئلہ نہیں’ (قہقہہ) مجھے بس یہی کچھ جاننا ہوتا ہے۔

(ویڈیو کلپ چلتا ہے) وزیرخارجہ ٹلرسن: میں نے سوچا تھا کہ آج ہم صرف گپ شپ ۔۔۔۔۔

مس برینن: دفتر خارجہ کے حکام یہ شکایات کرتے ہیں کہ وزیرخارجہ ٹلرسن بجٹ میں بڑی کٹوتیاں قبول کر کے اور اہم عہدوں پر سست رفتار تقرریوں سے امریکی سفارت کاری کو تار تار کیے دیتے ہیں۔

سوال: 41 سفارت خانوں میں باقاعدہ سفیر نہیں ہیں اور ان میں وہ جگہیں بھی شامل ہیں جہاں بحرانی کیفیت ہے۔ جنوبی کوریا، سعودی عرب اور ترکی میں امریکہ کا سفیر ہی نہیں ہے۔ آپ اس کی کیا وضاحت کریں گے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: دفتر خارجہ میں تار تار کیے جانے ایسی کوئی بات نہیں۔ ہمارے پاس خارجہ ملازمت کے حکام اور سرکاری افسروں سمیت زبردست لوگ موجود ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں اور یہاں ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔

سوال:عبوری طور پر۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: یہ عبوری بنیاد پر ہے۔ میں واضح طور پر کہوں گا کہ یہ ایسی معاونت نہیں ہے کہ جس کی سبھی خواہش کرتے ہیں۔ مگر ہماری خارجہ پالیسی کے مقاصد حاصل ہو رہے ہیں۔ (ناقابل سماعت) سینٹ نے توثیق کی ۔۔۔۔

سوال: مگر ان میں بعض جگہوں پر نامزدگیاں نہیں ہوئیں۔ میرا مطلب ہے کہ 41 سفارت خانوں میں سفیر ہی نہیں ہیں۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: ان میں بعض جگہوں پر تعیناتیوں کا عمل جاری ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان جگہوں کی اہمیت سے صرف نظر کیا جا رہا ہے۔ یہ اس عمل کی نوعیت کا معاملہ ہے۔

سوال: آپ نے کہا ہے کہ ولاڈیمیر پوٹن کے ساتھ آپ کے بے حد قریبی تعلقات ہیں۔ آپ نے ان کے ساتھ بڑے بڑے معاملے کیے ہیں۔ آپ دونوں کی اکٹھے شمپین پیتے ہوئے تصاویر بھی موجود ہیں۔ یہ قربت بہت سے شبہات کو جنم دیتی ہے۔ اس پر ہفتے کی رات کا ایک براہ راست چٹکلہ بھی دکھایا گیا۔ کیا آپ نے کبھی یہ دیکھا ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: جی میں نے دیکھا ہے۔ میرے بچوں نے اس کی نشاندہی کی تھی (قہقہہ)

(ویڈیو کلپ چلتا ہے) ‘پوٹی، اوہ میرے خدایا’ ‘ریکسی، بے بی ۔۔۔’

سوال: کیا آپ کو ہنسی آئی؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: یقیناً، یقیناً، میں باآواز بلند ہنسا تھا۔

سوال: اس سے یہ تشویش بھی جنم لیتی ہے کہ آپ کی ولاڈیمیر پوٹن کے ساتھ دوستی ہے اور اسی وجہ سے آپ اور صدر ان سے بازپرس نہیں کریں گے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: صدر پوٹن کے ساتھ میرے تعلق کو اب 18 برس ہوچکے ہیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ میں اپنے شیئرہولڈرز کی خاطر کامیابی کے لیے کیا کر سکتا ہوں۔

سوال: وزیرخارجہ کی حیثیت سے کریملن جانا کیسے ایک مختلف تجربہ تھا؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: یہ مختلف تجربہ تھا کیونکہ مجھے اس بارے میں نہایت محتاط طور سے سوچنا تھا۔ میں نے ان سے ایک ہی بات کی کہ ‘جناب صدر، میں وہی آدمی ہوں، اس مرتبہ میری ذمہ داری مختلف ہے’

سوال: مگر حرکیات تبدیل ہو گئیں۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: حرکیات میں تبدیلی آئی کیونکہ اب کے مسائل کچھ اور تھے۔ اب وہ جو نمائندگی کر رہے ہیں وہ اس سے مختلف ہے جو میں کر رہا ہوں۔ میں نے انہیں کہا ‘ اب میں امریکی عوام کا نمائندہ ہوں’ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات کھلے طور سے ان کے سامنے کہہ دینا اہم تھا اور انہوں نے بھی اسے سمجھا۔ میرا مطلب ہے انہوں نے میری بات سمجھ لی۔

سوال: وزیرخارجہ کی حیثیت سے آپ نے انہیں جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے معاہدوں کی خلاف ورزی، شمالی کوریا پر پابندیوں کے معاملے میں دھوکہ دہی، اسد کو اپنے شہریوں پر کلورین گیس اور کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کی کھلی چھوٹ دینے کا مرتکب قرار دیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ انہیں آپ کے انتباہ کی کوئی پروا نہیں۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: میں اس بارے میں نہیں جانتا۔ ہم دیکھیں گے کہ آیا انہیں پروا ہے یا نہیں۔

سوال: گزشتہ 30 یوم میں کلورین گیس کے 6 حملے ہوئے ہیں۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: یہ بات درست ہے۔ ہم نے ان سے روس پر عائد ہونے والی خاص ذمہ داریوں کے بارے میں بات کی کیونکہ انہوں نے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے وعدے کیے تھے اور یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جانتے ہیں ایسے ہتھیار موجود نہیں ہیں۔

سوال: یہ گزشتہ انتظامیہ جیسی بات معلوم ہوتی ہے۔ یہ بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔

وزیرخارجہ ٹلرسن: جب کیمیائی ہتھیاروں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کا معاملہ ہو تو اسے مختلف انداز میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ واحد فرق اس کے نتائج کا ہے۔ صدر ٹرمپ پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں کہ اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

سوال: کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کلورین گیس کے حملوں کے حوالے سے عسکری اقدامات کا امکان بھی موجود ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: جیسا کہ یہ گزشتہ برس اپریل میں تھا، ہم اپنے ان مطالبات میں سنجیدہ ہیں کہ کسی بھی جنگ میں کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔

سوال: کانگریس زور دار طریقے سے کہتی ہے کہ وہ روس پر پابندیاں عائد کرنا چاہتی ہے، تو پھر ان پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا جاتا؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: ہم نے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جن کے نتیجے میں روس کی جانب سے ہتھیاروں کی متعدد فروخت روکی جا چکی ہیں اور ہم ممکنہ پابندیوں کے لیے مزید لوگوں کے بارے میں جائزہ لے رہے ہیں۔

سوال: میں جانتی ہوں کہ ہمارے پاس وقت محدود ہے۔

(ویڈیو کلپ چلتا ہے) ‘۔۔۔۔ صدر’

مس برینن: انٹرویو کے اختتامی لمحات میں صدر کی جانب سے فون کال کے نتیجے میں سلسلہ گفتگو منقطع ہوا۔

(ویڈیو کلپ جاری ہے) وزیرخارجہ ٹلرسن: ‘میں ابھی واپس آتا ہوں’

مس برینن: بعدازاں وزیرخارجہ وائٹ ہاؤس جانے سے پہلے ہمیں اپنے ٹیرس پر مختصر چہل قدمی کے لیے لائے۔

سوال: آپ کی صدر سے عموماً کب بات ہوتی ہے؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: عام طور پر ہم روزانہ بات کرتے ہیں خواہ یہ گفتگو چند منٹ کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ بہت سے مواقع پر میں دوران سفر انہیں فون کرتا ہوں تاکہ یہ جان سکوں کہ معاملات کیسے چل رہے ہیں ۔۔۔

مس برینن: ریکس ٹلرسن دفتر خارجہ کی چھت سے نظارہ لیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے وہ واشنگٹن میں ان چند افراد میں سے ایک ہیں جنہیں اس پر حیرانی نہیں کہ وہ ابھی تک یہاں ہیں۔

سوال: اگر مجھے گزشتہ برس آپ کے بارے میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس پر یقین ہوتا تو آپ یہاں وزیرخارجہ کی حیثیت سے میرے ساتھ مصروف گفتگو نہ ہوتے۔ یوں لگتا ہے کہ آپ کی سیاسی موت کی خبریں قبل از وقت تھیں؟

وزیرخارجہ ٹلرسن: مجھے امید ہے کہ ہمارے مابین اس مختصر تبادلہ خیال سے آپ کو میرے بارے میں بہتر اندازہ ہو گیا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں ابھی تک یہاں موجود ہوں۔ ان باتوں سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں اپنے ملک کی خدمت کے لیے یہاں موجود ہوں۔ میں صدر کے ساتھ مخلص ہوں۔ میری زبان میری ضمانت ہے۔ میں اسی برینڈ کی حفاظت کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہاں ہوں اور کسی کی کسی بات سے اس میں تبدیلی نہیں آئے گی۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں