rss

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ سے امریکی سفیر نکی ہیلی کا خطاب

العربية العربية, English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی مشن برائے اقوام متحدہ
دفتر اطلاعات و عوامی سفارتکاری

 

 

جناب سیکرٹری جنرل اور جناب مالیدنوو کا اس بریفنگ کے لیے آج ہمارے ساتھ موجودگی کا شکریہ۔

آج ہم جس فورم میں بات چیت کر رہے ہیں وہ ہم سب کے لیے بے حد جانا پہچانا ہے۔ مشرق وسطیٰ پر یہ اجلاس سالہا سال سے ہر مہینے منعقد ہوتا چلا آیا ہے۔ اس میں قریباً مکمل طور سے ان مسائل پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو درپیش ہیں۔ اس دوران ہم بہت سے دلائل اور خیالات بار بار سن چکے ہیں۔ آج صح بھی ہم نے یہی کچھ سنا ہے۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے عملی محنت اور ضروری سمجھوتے کیے بغیر ایک سی باتیں دہرانے سے کچھ حاصل ہو جائے گا۔

گزشتہ برس کے آغاز پر ہم نے اس بات چیت کو وسیع کرنے کی کوشش کی ہے اور ایسا کرنے سے ہمیں بعض کامیابیاں بھی ملی ہیں۔ میں اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اس وسیع گفت و شنید میں حصہ لیا۔

ہمارے ایسا کرنے کی ایک وجہ یہ پختہ یقین ہے کہ اقوام متحدہ اسرائیل اور فلسطین کے مسائل پر غیرمتناسب طور سے وقت صرف کرتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مسائل اہم نہیں ہیں۔ یقیناً ان کی بے حد اہمیت ہے۔ مسئلہ یہ ہےکہ اقوام متحدہ  نے اسرائیل کے معاملے میں بارہا خود کو متعصب ادارہ ثابت کیا ہے۔

یوں اقوام متحدہ کی جانب سے اس معاملے پر غیرمتناسب طور سے توجہ دینے کے نتیجے میں اس مسئلے کا حل مزید مشکل ہو گیا ہے اور دونوں فریقین میں تناؤ اور ان کی محرومیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ہماری جانب سے اس کوشش کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اس خطے کو جس طرح کے وسیع النوع مسائل کا سامنا ہے ان کے سامنے اسرائیل فلسطین تنازع ماند پڑ گیا ہے۔ آج جب ہم یہاں مل رہے ہیں، مشرق وسطیٰ بہت سے خوفناک مسائل میں جکڑا ہوا ہے۔

یمن کو بدترین انسانی مصیبت کا سامنا ہے جہاں لاکھوں لوگوں کو قحط کا سامنا ہے۔ ملیشیا گروپ یمن سے ہمسایہ ممالک میں ایرانی ساختہ راکٹوں سے حملے کر رہے ہیں۔ شام میں اسد حکومت اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ اس جنگ میں پانچ لاکھ سے زیادہ شامی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید لاکھوں لوگ ہمسایہ ملک اردن، ترکی اور لبنان میں مہاجرین کے طور پر پناہ گزین ہیں جس سے ان ممالک  کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

لبنان میں حزب اللہ کے دہشت گرد اپنے تسلط میں مزید اضافے، غیرقانونی طور پر اسلحے کے ڈھیر لگانے اور خطرناک اشتعال انگیزی کو دعوت دینے میں لگے ہیں جس سے علاقائی سلامتی تباہ ہو سکتی ہے۔

خطے کے بیشتر حصے میں داعش غیرانسانی مظالم میں مشغول ہے۔ اسے عراق اور شام  میں شدید دھچکا لگا ہے مگر ابھی یہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی اور اب بھی اس سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔

مصر کو مسلسل دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے۔ یقیناً دہشت گردوں کی معاون ایرانی حکومت ایسی بیشتر مشکلات شروع کرنے اور انہیں بڑھاوا دینے کی ذمہ دار ہے جن کا میں نے ابھی تذکرہ کیا ہے۔

یہاں ہر ماہ اکٹھے ہونے اور مشرقی وسطیٰ میں سب سے زیادہ جمہوری ملک کو خطے کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے خطہ بھر میں سلامتی اور انسانی صورتحال کے حوالے سے ان بے پایاں مسائل پر ہماری مزید توجہ ہونی چاہیے۔

میں یہ نہیں کہتی کہ اسرائیل اور فلسطین کا تنازع مصائب و تکالیف سے پاک ہے۔ یقیناً دونوں فریقین نے اس میں بے حد نقصان اٹھایا ہے۔ خودکش حملوں، چاقو گھونپنے کے واقعات اور دیگر بیمار کن دہشت گرد حملوں میں بہت سے اسرائیلی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی سلامتی کو مستقل طور سے جس طرح خطرات کا سامنا ہے اس کی دنیا میں واقعتاً کوئی اور مثال نہیں ملتی۔ اس کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

اس کے باوجود اسرائیل  نے ایسے بوجھ پر قابو پایا ہے۔ وہ ایک ترقی کرتا ملک ہے جس کی معیشت فروغ پا رہی ہے اور اس نے دنیا کو ٹیکنالوجی، سائنس اور فنون کے میدان میں بہت کچھ دیا ہے۔

فلسطینی عوام کو اس سے بھی زیادہ مصائب کا سامنا ہے۔ غزہ میں فلسطینی حماس کے دہشت گردانہ جبر تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ میں اسے حکمرانی بھی نہیں کہہ سکتی کہ حماس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا کہ جسے حکومتی خدمات کا نام دیا جا سکے۔ غزہ کے عوام خوف و دہشت میں رہ رہے ہیں جبکہ حماس سے تعلق رکھنے والے ان کے حکمران اپنے وسائل دہشت گرد سرنگیں اور راکٹ بنانے پر صرف کرنے میں لگے ہیں۔ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو بھی بہت سے مصائب اور مشکلات کا سامنا ہے۔

اس تنازع میں بہت سی ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور بہت سے امکانات کھوئے جا چکے ہیں۔ آج یہاں فلسطینی اتھارٹی کے صدر عباس ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ وہ دوسروں کی باتیں سننے کے لیے چیمبر میں موجود نہیں ہیں۔ اگرچہ وہ یہاں سے جا چکے ہیں تاہم میں ان سے اپنی بات ضرور کروں گی۔

صدر عباس، گزشتہ جنوری میں جب نئی امریکی انتظامیہ نے اقتدار سنبھالا تو ہم نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی منظوری کے تازہ پس منظر میں یہی کچھ کیا تھا۔ گزشتہ امریکی انتظامیہ کے آخری دور میں امریکہ نے یہ قرارداد منظور ہونے دی جو کہ ایک سنگین غلطی تھی۔ قرارداد 2334 کئی سطحوں پر غلط تھی۔ میں اس وقت اس کی گہرائی میں نہیں جاؤں گی۔ تاہم اس سے بھی بڑھ کر شاید اس میں سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ یہ قرارداد اس غلط خیال کو بڑھاوا دیتی ہے کہ اسرائیل کو ایسے معاہدے پر مجبور کیا جا سکتا ہے جس سے اس کے اہم مفادات پر زد پڑتی ہو۔ اس قرارداد کے ذریعے اسرائیل اور فلسطینیوں میں عدم اعتماد میں اضافے سے امن کے امکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

گزشتہ برس امریکہ نے اس نقصان کے ازالے کے لیے کام کیا۔ میں نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف تعصب کی مخالفت کی جیسا کہ ایک اتحادی کو کرنا چاہیے۔ مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں یا میری انتظامیہ فلسطینیوں کے خلاف ہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ ہمیں فلسطینیوں کے مصائب اور مشکلات کا احساس ہے جیسا کہ میں نے آج یہاں اس کا اظہار کیا ہے۔ میں آج یہاں امن کے لیے فلسطین کی جانب امریکہ کا ہاتھ بڑھاتی ہوں۔ ہم خوشحالی اور پرامن بقائے باہمی پر مبنی مستقبل کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ ہم آج یہاں فلسطینی عوام کے رہنما کی حیثیت سے آپ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ تاہم میں حال ہی میں آپ کے اعلیٰ سطحی معاملہ کار صائب ارکات کی جانب سے دیا گیا مشورہ رد کروں گی۔ میں چپ نہیں رہوں گی۔ اس کے بجائے میں احتراماً چند تلخ حقائق بیان کروں گی۔

فلسطینی قیادت کو دو مختلف راستوں میں ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ ان میں ایک مطلق مطالبات، نفرت پر مبنی باتوں اور تشدد کو ہوا دینے کا راستہ ہے۔ اسی راستے کو اختیار کیا گیا ہے اور اس پر قائم رہنے سے فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

دوسرا راستہ گفت و شنید اور سمجھوتے کا ہے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ مصر اور اردن کے لیے یہ راستہ کامیاب رہا جس میں زمین کی منتقلی بھی شامل ہے۔ اگر فلسطینی قیادت اس راستے پر چلنے کی ہمت رکھتی ہے تو اس کے لیے بھی یہ راہ کھلا ہے۔

امریکہ کو علم ہے کہ فلسطینی قیادت ہمارے سفارت خانے کی یروشلم  منتقلی کے فیصلے سے بے حد ناخوش ہے۔ آپ اس فیصلے کو پسند نہ کریں۔ آپ اس کی ستائش نہ کریں۔ آپ اسے قبول بھی نہ کریں۔ مگر جان لیں کہ یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہو گا۔

لہٰذا ایک مرتبہ پھر میں یہ کہوں گی کہ آپ کو دو راستوں میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ آپ امریکہ کی مذمت کرنے، امن بات چیت میں امریکی کردار مسترد کرنے اور اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر اسرائیل کے خلاف تعزیری اقدامات سے رجوع کر سکتے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ اس راستے پر چل کر فلسطینیوں کی خواہشات کی تکمیل ممکن نہیں ہو گی۔

دوسری جانب آپ ہمارے سفارت خانے کے مقام کے حوالے سے اپنا غصہ ایک جانب رکھ کر ہمارے ساتھ ایک مذاکراتی سمجھوتے کی جانب آ سکتے ہیں جس میں فلسطینی عوام کی زندگیاں بہتر بنانے کا بہت بڑا امکان موجود ہے۔

پرانی باتیں اور ناقص تصورات سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ یہ طریق کار پہلے بھی کئی مرتبہ آزمایا جا چکا ہے اور ہمیشہ ناکام  رہا ہے۔ کئی دہائیوں کے بعد ہم اس نئی سوچ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ ماہ اس اجلاس میں کہا تھا، امریکہ فلسطینی قیادت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔ میرے عقب میں بیٹھے ہمارے معاملہ کار بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ مگر اس کے لیے ہم آپ کے پیچھے نہیں جائیں گے۔ جناب صدر یہ راستہ آپ نے خود منتخب کرنا ہے۔

شکریہ


اصل مواد دیکھیں: https://usun.state.gov/remarks/8311
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں