rss

امدادی ہیلیے ڈیلرز سوریہ میں عیسائیت کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ووٹوں کے بعد سے خطاب

Français Français, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

سفیر نکی ہیلی
اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب
اقوام متحدہ میں امریکی مشن
نیو یارک سٹی
24 فروری ، 2018

 

 

بہت شکریہ جناب صدر اور قلم دان ممالک سویڈن اور کویت کا کی بہت مشکور ہوں کہ اُنہوں نے مذاکرات کے لیے وقت نکالا اور اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے۔ جیسا کہ ہم مذاکرات کے عمل کو دیکھ رہے ہیں، میرا خیال ہے کہ ہمیں سلامتی  کونسل کے منتظر مشرقی غوطہ سے تعلق رکھنے والے شامی شہریوں کی آواز کو بھی سامنے لانا چاہیے۔

ایک عارضی ہسپتال میں مریضوں کا علا ج کرنے والی ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ” ہم ذہنی اور جذباتی طور پر تباہ حال ہیں۔ ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمارا جسم خون بہا بہا کر خشک ہو چکا ہے”۔

ایک انتہائی غم انگیز ویڈیو میں ایک معالج جیسے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوتا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ ایک روتی ہوئی ماں اس سے کہتی ہے کہ ” میں اپنے بیٹے کی موت کی منتظر ہوں، کم از کم وہ درد سے چھٹکارا پا لے گا۔ میں اس کے لیے روٹی بنا رہی تھی کہ چھت گر گئی۔ وہ سیدھا جنت میں جائے گا، کم از کم جنت میں اسے کھانا تو ملے گا”۔

ہمیں گذشتہ روز ایک اور پیغام موصول ہوا ہے، میرا خیال ہے کہ آپ سب کے ساتھ قریبی مشاورت میں بتایا بھی گیا تھا، لیکن میں سمجھتی ہوئی کہ یہاں دوہرایا جانا ضروری ہے، وہ یہ کہ کل مشرقی غوطہ  کے ایک ڈاکٹر نے ایمرجنسی کال کی تھی  کہ "ہم یہاں بہت ہی ہولناک   صورت حال سے دوچار  ہیں۔ ہم پر لگاتار مختلف اقسام کے ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں۔ ہمارے پاس پانی، خوراک، طبی اشیاءاور پناہ سمیت ہر چیز کا فقدان ہے، یہ بہت بڑی تباہی ہے۔ ہر کوئی موت کا منتظر ہے”۔

بالآخر سلامتی کونسل نے  آج شام میں انسانی مصائب کے حل کی طرف ایک قدم اٹھایا ہے۔  امریکہ ملک بھر میں جنگ بندی سے متعلقہ قرارداد ملک بھر میں عمل درامد کے سوا کچھ اور نہیں چاہتا۔

یہ بہت ضروری ہے کہ اسد حکومت اور اس کے اتحادی ہمارے مطالبات مانیں۔ مشرقی غوطہ پر حملے فورا بند کیے جائیں اور فوری طور پر وہاں ادویات اور خوارک ضرورت مندوں تک پہنچائی جائے۔

اس کونسل میں موجود ہر ایک اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اسد حکومت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ وہ اس کونسل کی قرارداد پر عمل کرے۔

لیکن ہم  نے اس بحران کوحل کرنے کے لیے بہت دیر کردی ہے، بہت ہی زیادہ دیر کر دی ہے۔ بدھ کے روز ہی سیکرٹری جنرل نے شام میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ متاثرین تک ضروری اشیا اور مدد پہنچائی جا سکے۔ کویت اور سویڈن کے پاس ووٹنگ کے لیے تیار قرارداد کا مسودہ بالکل تیار تھا مگر روس نے تاخیر کا مطالبہ کیا۔

ان تمام کوششوں کو ضائع کرنے کی غرض سے جمعرات کے روز روس نے انسانی بحران سے متعلق ایک عام اجلاس کا مطالبہ کر دیا۔ اس اجلاس میں اس کونسل کے 14 ممالک جنگ بندی نافذ کرنے کو تیار بیٹھے تھے لیکن روس نے پھر ووٹنگ کی مخالفت کی۔

اور گذشتہ روز ایک بار پھر، ہم سب گھنٹوں ووٹنگ کے انتظار میں بیٹھے رہے اور حسب سابق ایک بار پھر روس نے اسے موخر کر دیا۔

ہر ایک لمحہ جو ہم نے ووٹنگ کے انتظار میں گنوایا ، اس سے انسانی مصائب میں اضافہ ہوا۔ قرارداد پر ووٹ کرنا ہر ایک کا اخلاقی فرض تھا ماسوائے روس کے، شام کے اور ایران کے۔ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیوں؟

گذشتہ اتوار سے ابھی تک 19  ہسپتالوں  پر بمباری کی گئی ہے، 19 !

مذاکرات کو لٹکایا جاتا رہا اور ساتھ ساتھ اسد حکومت کے طیارے بم گراتے رہے۔ اس قرارد اد کو منظور کرنے میں ہم نے جو 3روز گزار دیئے، اس دوران بمباری سے کتنی مائیں اپنے بچوں سے محروم ہو گئیں؟ ہمیں مزید کتنی ایسی تصویریں درکار ہیں جن میں باپ اپنے مردہ بچوں کو اٹھائے ہوئے ہیں؟

لیکن یہ سب تاخیر کیونکر؟ کیونکہ ہم یہاں جنگ بندی کی قرارداد پاس کرنے والے تھے جس سے انسانی زندگیوں کو بچایا جا سکتا تھا؟

اور اس سب عرصے کے دوران، قرارداد کے متن میں کیا تبدیلی ہوئی ہے؟ سوائے چند جگہ زیر زبر ااور چند الفاظ کی تبدیلی؟

شام کے لوگوں کو مرنا اس لیے پڑا کہ روسی مندوب ماسکو سے اپنی ہدایات کو منظم کر سکے یا شام کے ساتھ اس پر تبادلہ خیال  کر سکے؟ اس کونسل نے اس فعل کی اجازت کیوں دی؟ اس بات کی کوئی منطق نہیں کہ ہم یہ سب کام بدھ کو کیوں نہ کر سکے یا جمعرات کو کیوں نہ کر سکے  اور حتٰی کے جمعہ کے روز بھی ایسا کچھ نہیں کیا جا سکا جسے جنگ بندی ہو سکتی۔

ہم ان تمام چہروں، ناموں اور لوگوں کو نہیں جانتے، لیکن وہ ہمیں جانتے ہیں۔ ۔ میرا خیال ہے کہ ہم اس بات پر اتفاق کر سکتے ہیں کہ اس ہفتے ہم نے انہیں مایوس کیا ہے۔

آج ، بالآخر روس نے ہر ممکن تاخیر کے بعد یہ فیصلہ کر ہی لیا کہ بین الاقوامی اتفاق رائے کو مان لیا جائے  کہ جنگ بندی ہونی چاہیے۔

یہ قرارداد اس کونسل کے اتحاد کی مظہر ہے، اور ہمیں یہ اتحاد 30روز کے دئیے گئے وقت کے بعد بھی برقرار رکھنا چاہیے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ قرارداد ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو گی  کہ روس ہمارے ساتھ ملکر اس مسئلے کے سیاسی حل پر زور دے۔ تاکہ ہم شام کی جنگ میں  کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے والے اصل عناصر کا احتساب کر سکیں۔

اس سلسلے میں پیش رفت اسی صورت ہو سکتی ہے کہ جب جنگ بندی پر بلا کسی پس و پیش کے  عمل درامد کیا جائے۔ اس کونسل کی قراردادوں کو کئی سال نظر انداز کرنے کے بعد اسد حکومت کو اپنا لائحہ عمل تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ہم میں سے کوئی بھی اتنا بیووقوف نہیں کہ "انسداد دہشتگردی” کے نام  پر اسد حکومت کی سکولوں، ہسپتالوں اور گھروں پر بمباری کے جعلی عذر کو مان لے۔

اسد حکومت کی یہ بمباری فوری طور پر رکنی چاہیے۔ جنگ بندی کو موثر ہونے کا ایک موقع ضرور دیا جانا چاہیے۔

ہم اسد حکومت کے پشت پناہوں ایران اور روس کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں، جیسا کہ سیکرٹری جنرل سے بالکل ٹھیک طور سے کہا کہ یہ ” زمین پر ایک جہنم ہے”۔ اب سب کی نگاہیں شام، ایران اور روس کی طرف ہیں۔

اس قرارداد کے پیچھے ہمارا صرف ایک  اور        بہت ہی واضح مقصد ہے کہ اسد حکومت کو فوری طور پر مشرقی غوطہ اور اس کے گردونواح میں تمام فوجی کاروائیاں بند کر دینی چاہیے، اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ضرورت مندوں تک انسانی امداد پہنچ سکے۔

ہمارے بہت شدید خدشات ہیں کہ شام حکومت اس قرارداد پر عمل کرے گی۔ لیکن ہم نے اس قرارداد کی حمایت کی کیونکہ ہم اس سے کم کسی چیز پر راضی نہیں۔ مدد کے منتظر شامی لوگوں کے لیے یہ سب کرنا ہمارا فرض ہے۔

ہمیں آنے والے دنوں میں اس قرارداد اور اس کے پیچھے مقاصد کے لیے  کھڑا ہونا پڑے گا اور یہ ہمارے لیے ایک امتحان ہو گا۔ ہم سب کو جنگ بندی برقرار رکھنے کے چیلنج لیے بالکل اسی طرح  کھڑا ہونا پڑے گا جیسا کہ ہم سب آج کھڑے ہیں۔

ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اس قرارداد کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ اس کونسل  کی ساکھ بحال کرنے کا یہ واحد طریقہ ہے۔  شام کے لوگ اس وقت کے بہت دیر سے منتظر ہیں


اصل مواد دیکھیں: https://usun.state.gov/remarks/8320
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں