rss

کمبائنڈ جوائنٹ ٹاسک فورس آپریشن انہیرنٹ ریزالو کے ترجمان کرنل رائن ڈیلن کی ٹیلیفونک پریس بریفنگ

English English, العربية العربية, Русский Русский

امریکی محکمہ دفاع
دفتر برائے ترجمان

 
 

میزبان: برسلز میں امریکی یورپی میڈیا مرکز کی جانب سے سبھی کو سلام۔ میں یورپ بھر سے ٹیلی فون پر موجود اپنے شرکا کو خوش آمدید اور اس بات چیت میں شمولیت پر آپ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔

آج ہمیں بے حد خوشی ہے کہ کمبائنڈ جوائنٹ ٹاسک فورس آپریشن انہیرنٹ ریزالو کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن بغداد سے ہمارے ساتھ موجود ہیں۔

کرنل ڈیلن، ہم آپ کے شکرگزار ہیں کہ آپ نے آج ہمارے ساتھ گفتگو کے لیے وقت نکالا۔

ہم آج کی کال کا آغاز کرنل ڈیلن کے ابتدائی کلمات سے کریں گے اور پھر آپ کے سوالات کی جانب آئیں گے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ مقررہ وقت میں زیادہ سے زیادہ سوالات لیے جائیں گے جو کہ 45 منٹ ہے۔ یاد دہانی کے طور پر بتاتے چلیں کہ آج کی کال آن دی ریکارڈ ہے۔

اس کے ساتھ ہی میں کرنل ڈیلن کو بات کی دعوت دوں گا۔

کرنل ڈیلن: ٹھیک ہے۔ آپ کا بے حد شکریہ اور سبھی کو صبح بخیر۔ مجھے آج آپ کے ساتھ بات کرنے اور اتحاد کی کوششوں کے حوالے سے عملی پیش رفت کی بابت آگاہ کرنے کی خوشی ہے ۔۔۔۔

(متوازی روسی ترجمے کی بات چیت)

کرنل ڈیلن: جیسا کہ میں نے کہا ہے، میں آپ کو عراق اور شام میں داعش کو شکست دینے کے لیے اتحاد کی کوششوں کے حوالے سے عملی پیش رفت کی بابت آگاہ کروں گا۔

ہم بات کا آغاز شام سے کریں گے اور پھر عراق پر گفتگو ہو گی۔

شام میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری ہے جو اب بھی شامی عوام اور وسیع علاقے کے لیے خطرہ ہیں۔ اسی لیے شامی جمہوری فورسز داعش کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں خاص طور پر حاجن کے اردگرد اور دریائے فرات کے کنارے نیز شامی اور عراقی سرحد کے ساتھ صحرائی علاقوں میں اس کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ ایس ڈی ایف نے خاریج اور البحرہ کو جنگجوؤں سے پاک کرنے کی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں اور اس گزشتہ  ہفتے میں 100 مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقہ واگزار کرا لیا گیا ہے۔

عالمی اتحاد داعش کے خلاف جنگ میں مشیروں، معلومات کے تبادلے اور نپے تلے حملوں کے ذریعے شامی جمہوری فورسز کی مدد کر رہا ہے۔ ہمارا واحد مقصد شام میں داعش کے دہشت گردوں کو شکست دینا ہے۔ کوئی بھی غیرمتعلقہ مسائل یا کارروائیاں داعش کو شکست دینے کے ہدف سے ان چاہے انحراف کے مترادف ہیں جو اس مقصد سے توجہ ہٹانے کا باعث ہوں گی۔ واضح رہے کہ عالمی اتحاد کڑے طور سے صرف داعش کو شکست دینے سے متعلق فوجی کارروائیوں کی ہی حمایت کرتا ہے اور ہم خطے میں تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ بھی اسی جانب توجہ برقرار رکھیں۔

جیسا کہ پہلے ہی بیان کیا جا چکا ہے، حال ہی میں اتحاد کو اپنے دفاع میں کارروائی کرنا پڑی جب ہم اور ہمارے ایس ڈی ایف کے شراکت دار 7 فروری کو اس وقت بلااشتعال حملے کی زد میں آئے جب حملہ آوروں نے دریائے فرات سے پار مشرق میں پیش قدمی کی۔ یہ اتحاد اور روس کے مابین قائم شدہ پوری طرح متعین پرامن علاقہ ہے۔ ایس ڈی ایف کے ایک ہیڈکوارٹر پر فائرنگ شروع ہونے کے بعد شامی جمہوری فورسز نے اتحاد کی معاونت سے ان حملہ آوروں کو فضائی اور توپخانے کی بمباری سے نشانہ بنایا۔ اتحاد کے مشیر مشاورت، معاونت اور ہمراہی کے طور پر ایس ڈی ایف کے ساتھ تھے اور ہم نے تمام اقدامات خالصتاً اپنے دفاع میں اٹھائے۔ ہماری فورسز پر اس بلااشتعال حملے دوران اور اس سے بعد عدم تصادم کے معیاری ضابطے کی مطابقت سے اتحادی فورسز نے روسیوں سے بات چیت کی اور اپنے خدشات ان کے سامنے رکھے۔ واضح رہے کہ اتحاد کے پاس اپنے دفاع کا حق ہمیشہ موجود ہے اور ہم داعش کو مکمل شکست دینے کے اپنے مقصد سے بدستور وابستہ ہیں۔

جہاں ہماری توجہ داعش کے دہشت گردوں کو ان کے زیرقبضہ باقی ماندہ علاقے میں ختم کرنے پر مرکوز ہے وہیں ہم غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں کا پیچھا کرنے اور انہیں نشانہ بنانے میں بھی شامی جمہوری فورسز کی مدد کر رہے ہیں تاکہ انہیں ہمسایہ ممالک میں فرار ہونے اور خطے و دنیا کو مزید نقصان پہنچانے سے روکا جا سکے۔ ہمیں اس کوشش میں پیش رفت اور ایس ڈی ایف کی جانب سے ایسے سینکڑوں غیرملکی دہشت گردوں کو پکڑنے پر خوشی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ داعش کے خلاف حقیقی معنوں میں کوئی بھی پائیدار فتح آزاد کرائے گئے علاقوں میں عالمی اتحاد کی جانب سے سلامتی اور استحکام کے حوالے سے مسلسل عزم کا تقاضا کرتی ہے۔ ان علاقوں میں سکیورٹی کی ضروریات منبج ملٹری کونسل اور رقہ کی داخلی سکیورٹی فورس جیسے مقامی شراکت داروں کے ذریعے پوری کی جا رہی ہیں۔ داعش کی واپسی روکنے کے علاوہ یہ سکیورٹی عناصر داعش کے دہشت گردوں کی جانب سے چھوڑے گئے بہت سے بارودی مواد اور بارودی سرنگوں کی صفائی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ رہائشیوں کی گھروں کو واپسی اور لوگوں کے کام کاج شروع کرنے سے قبل ایک خطرناک مگر ضروری کام ہے۔ تحفظ اور سلامتی کے قیام کی ایسی کوششیں مقامی ضروریات کی تکمیل کے لیے سویلین قیادت میں کی جانے والی کوششوں کی راہ ہموار کرتی ہیں۔

ہمیں احساس ہے کہ ان علاقوں میں طویل مدتی استحکام شہری اور سفارتی خطوط پر کی جانے والی کوششوں اور عالمی اتحاد کی معاونت سے حاصل ہونا چاہیے اور ہم یہ امر یقینی بنانے کے لیے بدستور پرعزم ہیں کہ یہ ادارے اپنا کام محفوظ ماحول میں انجام دیں تاکہ ضروری خدمات بحال ہو سکیں، بازار اور سکول کھل سکیں اور زندگی معمول پر واپس آ سکے۔

عراق کی جانب آتے ہوئے میں یہی کہوں گا کہ عراقی سکیورٹی فورسز ملک بھر میں سکیورٹی کے قیام اور دہشت گرد جنگجوؤں کے خاتمے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا نتیجہ اس ماہ درجنوں عراقی گھروں سے بارودی مواد کی تلاش اور اسے محفوظ طور سے ٹھکانے لگانے کی صورت میں نکلا ہے۔

مزید براں انبار، نینوا اور صلاح الدین صوبوں میں عراقی سکیورٹی فورسز داعش کا غاروں کا جال ڈھونڈنے میں مصروف ہیں جہاں ہتھیاروں کے ذخیروں میں بھاری مقدار میں بارودی مواد، خودکش جیکٹیں اور بم بنانے والا متنوع سامان موجود ہے جو ہمارے دشمن کی بری اور مجنونانہ فطرت کی مہلک یاد دلاتا ہے۔ مقامی اور وفاقی پولیس، فوج اور خصوصی حالات سے نمٹنے والی ٹیموں نے نقصان پہنچانے میں مصروف دہشت گردوں کو ڈھونڈا، گرفتار اور ہلاک کیا ہے۔

داعش کی باقیات کے خلاف ہمارے عراقی شراکت کاروں کی مسلسل کوششیں ان دہشت گردوں کا پیچھا کرنے اور عراقی کے لوگوں، درحقیقت پوری دنیا کو ہر قسم کی دہشت گردی کے دوبارہ ظہور سے بچانے کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کا اظہار ہیں۔

اسی لیے عراق کی درخواست پر عالمی اتحاد عراقی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کام جاری رکھے گا جس میں مضبوط اور پائیدار سکیورٹی فورسز کے ذریعے ہمارے شراکت داروں کی اپنے ملک کو محفوظ بنانے کی صلاحیت میں اضافے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ہم اپنی معاونت کو عراق کی ضروریات کی بنیاد پر استوار کریں گے جس میں آزاد کرائے گئے علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے اور انہیں محفوظ بنانے کے لیے درکار اہلیتوں پر خاص توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس مطلب عراقی پولیس اور سرحدی محافظ فورسز کی مزید تربیت اور معاونت ہے۔

مجھے عراقی پولیس اور سرحدی محافظ فورسز کو اس مقصد کے لیے درکار سامان کی فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے ‘پولیس پریزنس ان اے باکس’ کے نام سے درجنوں کنٹینر تقسیم کیے ہیں جن میں ایسا بہت سا سامان موجود ہے جس سے پولیس سٹیشنز کو اپنے علاقوں کے انصرام میں مدد ملے گی۔ ایسا ہی سامان اور متعلقہ تربیت عراقی سرحدی محافظ فورسز کو بھی فراہم کی گئی ہے جس کی بدولت اسے سرحدی علاقوں کو تیزتر اور موثر طور سے محفوظ بنانے اور دہشت گردوں کی عراق میں آمدورفت روکنے میں مدد ملے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ عالمی اتحاد کی معاونت سے مقامی رہائشیوں کو اپنے معاشروں کی تعمیرنو کے لیے بااختیار بنانے میں مدد  مل رہی ہے۔ استحکام کے ضمن میں فوری ضروریات کے لیے 25 ممالک بشمول امریکی قیادت میں عالمی اتحاد کے متعدد شراکت داروں نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے زیراہتمام استحکام کے لیے مالی سہولت میں 785 ملین ڈالر سے زیادہ رقم دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ اقدام مقامی حکومتوں کے لیے مددگار ہے اور اس کے تحت ضروری خدمات کی بحالی، مقامی اقتصادیات کی بحالی اور داعش کے ہاتھوں نقصان کے ازالے کے لیے مقامی کارکنوں سے کام لینے میں مدد ملتی ہے۔ یواین ڈی پی نے اس فنڈ سے پہلے ہی آزاد کرائے گئے 25 مختلف علاقوں میں استحکام کے حوالے سے 1900سے زیادہ منصوبے مکمل کر لیے ہیں یا شروع کر رکھے ہیں جس سے 33 لاکھ بے گھر عراقیوں کو گھر واپسی میں مدد ملے گی۔

ہم 71 ممالک اور چار عالمی تنظیموں پر مشتمل عالمی اتحاد کے تمام ارکان کی جانب سے جاری معاونت کی ستائش کرتے ہیں داعش کو دیرپا شکست دینے اور پھر خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ان کے کاوشیں اہم حیثیت کی حامل ہیں۔ اسکے ساتھ ہی مجھے آپ کے سوالات لے کر خوشی ہو گی۔

نگران: شکریہ کرنل ڈیلن۔ ہمارا پہلا سوال ڈوئچے ویلے ترکی کے ڈیگر عاقل کریں گے۔

ڈوئچے ویلے ترکی: کرنل ڈیلن، میرے دو سوالات ہیں۔ پہلا سوال وائی پی ڈی کے حوالے سے ترکی سے متعلق ہے۔ صالح مسلم کو پراگ میں گرفتار کیا گیا اور عفرین میں کارروائی جاری ہے۔ اردوگان نے بھی گزشتہ ہفتے اختیارات کے حوالے سے بیان کے ذریعے دباؤ جاری رکھا ہے۔ ترکی کی جانب سے زمینی صورتحال کا اندازہ لگا کر وائی پی ڈی کو مکمل طور پر دبانے کی اطلاعات ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا ممکن ہے؟ آپ اس تجویز کا کیسا اندازہ لگائیں گے؟

دوسرا سوال یہ کہ ترکی میں متعدد امریکی عسکری اثاثے موجود ہیں اور وہ اس اتحاد کا حصہ بھی ہے۔ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ آیا آپ نے تناؤ کی کیفیت کے نتیجے میں کسی قسم کی مشکلات یا محدودات کا مشاہدہ کیا ہے؟ آپ ترک فوج کے ساتھ اپنے تعاون کو کیسے بیان کریں گے؟ شکریہ

کرنل ڈیلن: سوال کے لیے شکریہ۔ میرا خیال ہے کہ میں نے آپ کے سوال کا بیشتر حصہ سمجھ لیا ہے اور اگر جواب میں کوئی بات بھول جائے تو براہ مہربانی مجھے یاد دلا دیں۔

میں یہ کہوں گا جیسا کہ میں نے بتایا ہے کمبائنڈ جوائنٹ ٹاسک فورس کی حیثیت میں ہماری پہلی کوشش داعش کو شکست دینا ہے خاص طور پر دریائے فرات کے مشرق میں اس کا خاتمہ اور آزاد کرائے گئے علاقوں میں داعش کو دوبارہ ابھرنے سے روکنا ہمارا اولین ہدف ہے۔

جیسا کہ میں نے یہ بھی بتایا، عراق میں تمام علاقہ واگزار کرایا جا چکا ہے تاہم دریائے فرات کی وسطی وادی میں داعش اب بھی موجود ہے اور ہمارے شراکت دار یعنی ایس ڈی ایف اسے ان علاقوں سے نکال باہر کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا اور لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عفرین میں جاری حالیہ سرگرمیوں سے ہماری راہ کھوٹی ہوئی ہے اور دریائے فرات کی وسطی وادی میں داعش کو شکست دینے کے لیے لڑنے والے جنگجوؤں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ یہ اتحاد کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔ اتحاد کے رکن کی حیثیت سے اور ہمارے ہیڈکوارٹر میں موجود افسروں کے ساتھ ہم نے ترکی کو آگاہ کر دیا ہے کہ عفرین میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے داعش کو شکست دینے کے مقصد پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

میں یہ بھی کہوں گا کہ منبج میں ہم نے اتحادی فورسز کی موجودگی برقرار رکھی ہے تاکہ اس علاقے میں موجود گروہوں کو ایک دوسرے سے لڑنے سے باز رکھا جا سکے۔ مقامی حکومت کو مضبوط بنانے کی ہماری کوششیں کامیاب رہی ہیں اور اس جگہ ہم گزشتہ ڈیڑھ برس سے قریباً روزانہ کی بنیاد پر اپنے ترک شراکت داروں سے رابطے میں ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ وزیرماٹس اور وزیر ٹلرسن نے حال ہی میں اپنے ترک ہم منصبوں سے ملاقات کی اور منبج میں آگے بڑھنے کا طریق کار تلاش کرنے کی بابت تبادلہ خیال کیا ہے۔ تاحال مجھے اس بات چیت کے نتائج کا علم نہیں ہے،  مگر ہم جانتے ہیں کہ نیٹو کے اتحادیوں اور اتحادی شراکت داروں میں کسی قسم کے اختلافات پر قابو پانے کے لیے سفارتی کوششیں ہمیشہ جاری رہتی ہیں۔ میں اپنی بات یہیں ختم کروں گا، اگر کوئی بات رہی گئی ہو تو براہ مہربانی دوبارہ پوچھ لیجیے۔

نگران: آپ کا بے حد شکریہ۔ ہمارا اگلا سوال اے بی سی نیوز سے ریم ممتاز کریں گی۔

اے بی سی نیوز: کرنل ڈیلن، آپ کا بے حد شکریہ۔ میرا عراق پر ایک اور اگر اجازت ہو تو شام کے بارے میں دو سوالات ہیں۔

شام سے شروع کرتے ہیں۔ آپ نے اس واقعے کا تذکرہ کیا جس میں آپ کو فائرنگ کا جواب دینا پڑا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے روس سے تعلق رکھنے والے کرائے کے فوجیوں کی بابت اچھی معلومات دی ہیں جو اس واقعے میں ملوث تھے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وہ یہ لڑائی چھیڑنے کے لیے کریملن میں بیٹھے لوگوں اور شامی حکام سے براہ راست رابطے میں تھے۔

کیا آپ اس واقعے کے پیچھے کریملن کے کردار کی بابت ہمیں کچھ مزید بتا سکتے ہیں؟ یہ ایک سوال ہے۔

دوسرا سوال یہ کہ سپوتنک نے اس ہفتے خبر دی ہے کہ ایس ڈی ایف منبج کا کنٹرول حکومت کو دینے لگی تھی جیسا کہ اس نے عفرین میں کیا۔ کیا یہ بات درست ہے یا نہیں؟

عراق کے حوالے سے ہم نے ایسی اطلاعات سنی ہیں کہ اس ہفتے گزشتہ موسم گرما میں موصل کی جنگ کے اختتام کے بعد غالباً سب سے زیادہ اموات ہوئیں جب داعش نے متعدد مقامات پر حملے کیے۔ کیا آپ اس بارے میں کچھ مزید بتا سکتے ہیں؟

کرنل ڈیلن: آپ کا شکریہ

ان حملوں اور اتحاد و شامی جمہوری فورسز پر 7 فروری کو ہونے والے بلا اشتعال حملے کی بابت میں یہ کہوں گا کہ میں نے بھی اس حوالے سے میڈیا میں آنے والے اطلاعات دیکھی ہیں۔ ہم نے یہ تعین نہیں کیا کہ اس حملے کے پیچھے کون سے محرکات تھے۔ اس حوالے سے میں یہ کہوں گا کہ اس کے پیچھے موجود ہاتھوں سے قطع نظر ایسے واقعات پر ہمارے ردعمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

جیسا کہ میں نے ابتدا میں کہا ہماری تمام کارروائی خالصتاً اپنے دفاع میں تھی۔ میں کہوں گا کہ توپخانے اور ٹینکوں کے ساتھ حملہ کرنے والوں کو وہی جواب ملے گا جو ہم نے دیا ہے۔ اپنا دفاع ہمارا خلقی حق ہے اور ہم کسی ہچکچاہٹ کے بغیر یہ حق استعمال کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ اس ردعمل سے یہ واضح ہو گیا ہو گا کہ ہم اپنے دفاع کو کس قدر سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس طرح کے کسی بھی حملے کو دوبارہ وقوع پذیر ہونے سے روکیں گے۔

جہاں تک آپ کے دوسرے سوال کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ یہ ایس ڈی ایف اور ممکنہ طور پر حکومت سے کیے گئے اس کے معاہدے کے بارے میں تھا۔ میرے پاس اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ شامی جمہوری فورسز داعش کے خلاف جنگ میں ہماری ثابت شدہ شراکت دار ہیں۔ اگر ٹھیک ایک سال پہلے کے حالات دیکھے جائیں تو رقہ پر داعش کا مکمل کنٹرول تھا۔ کوئی بھی اپنی جگہ سے حرکت کرنے اور داعش کو اس کے دارالحکومت سے نکال باہر کرنے کو تیار نہیں تھا۔

یہ کام ایس ڈی ایف نے انجام دیا۔ ایس ڈی ایف کے کمانڈر جنرل (ناقابل سماعت) ایک غیرمعمولی کمانڈر ہیں، وہ اپنی بات کے پکے ہیں اور انہوں نے شامی عوام اور شام کے اس مخصوص حصے میں جو کچھ کیا وہ انہی کے فیصلے ہیں۔ ہماری مجموعی مہم کا ایک بڑا اصول یہ ہے کہ ہم عراق اور شام دونوں جگہوں پر اپنے شراکت داروں کے ذریعے کام کرتے ہیں۔

عراق میں حالیہ حملوں کی بابت آپ کے آخری سوال کے جواب میں مجھے یہ کہنا ہے کہ عراقی وزیراعظم کی جانب سے دسمبر میں عراق کی داعش سے مکمل آزادی کے اعلان اور ملک بھر میں ہر قصبے، شہر یا گاؤں میں داعش کے جھنڈے اتر جانے کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ داعش کا خطرہ اب بھی باقی ہے۔ ہم نے حال ہی میں اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ عالمی اتحاد ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے معلومات، مشیر، تربیت اور سازوسامان کی فراہمی جاری رکھے گا۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو اپنے سوال کا جواب مل گیا ہو گا۔

نگران: شکریہ، اپنے اگلے سوال کے لیے ہم وال سٹریٹ جرنل کے جولین بارنس کو سنیں گے۔

وال سٹریٹ جرنل: شکریہ۔

میرا عراق اور شاید شام کے حوالے سے ایک ایک سوال ہے۔

نیٹو عراق میں اپنے تربیتی مشن کو وسعت دینے کے امکان پر بات چیت کر رہا ہے۔ کرنل ڈیلن، کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اتحاد کے کون سے معاملات نیٹو کے سپرد کیے جائیں گے اور آپ کو کیسے یقین ہے کہ یہ دہرا عمل نہیٰں ہے؟ میں جانتا ہوں کہ نیٹو عراق میں پیشہ ور عسکری تعلیم شروع کرنے کی بات کر رہا ہے۔

شام کے حوالے سے مجھے یہ پوچھنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ ہوا تھا کہ کرد فورسز دریائے فرات کی وادی کے مشرق سے واپس ہو جائیں گی تو کیا یہ آپ کا اندازہ ہے کہ ایس ڈی ایف کی بقیہ فورسز اس علاقے پر قبضہ برقرار رکھنے اور فرات کے مشرق میں داعش کے بچے کھچنے عناصر کے ساتھ لڑنے کے لیے کافی ہیں۔ یا معاملہ یوں ہے کہ فرات کے مشرق میں ایس ڈی ایف میں شامل کرد فورسز کی اب بھی ضرورت ہے؟

کرنل ڈیلن: سوال کے لیے شکریہ، پہلے میں عراق میں نیٹو کے کردار سے متعلق آپ کے ابتدائی سوال کا جواب دوں گا۔ نیٹو پہلے ہی ہمارا اتحادی شراکت دار ہے۔ نیٹو پہلے ہی عراق میں وہاں کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ تربیتی حوالے سے کام کر رہا ہے۔ اس کا ایک عسکری وفد حقائق سے آگاہی کے لیے یہاں آیا تاکہ ایسے مواقع کی نشاندہی کی جائے جن کے حوالے سے آپ نے بات کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ نیٹو ایسا کیا کام کر سکتا ہے جو وہاں پہلے سے نہیں ہو رہا۔

نیٹو کے بہت سے ممالک پہلے ہی عراق میں موجود ہیں جو عراقی سکیورٹی  فورسز کی اہلیتوں میں اضافے کے لیے مدد فراہم کر رہے ہیں۔ یہاں میں ایسی ایک خاص مثال کا تذکرہ کروں گا۔ ہم نے بڑی جنگی کارروائیوں سے عراقی عوام کے لیے سکیورٹی کی جانب منتقلی کی بات کی تھی۔ یہ بات موصل کی جنگ کے دوران ہمارے ایک جنرل نے کہی تھی کہ مستقبل میں عراقی سکیورٹی کا چہری فوجی سپاہی نہیں بلکہ پولیس کی یونیفارم ہو گا۔ اٹلی عراق میں وفاقی پولیس کو خصوصی تربیت فراہم کر رہا ہے اور میں نے یہ بات اس لیے کہی کہ اٹلی پولیس کے خصوصی دستوں کے لیے اعلیٰ صلاحیتوں کے حصول کا مرکز چلاتا ہے۔ وہ اس کام کے لیے درکار بہترین صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ چنانچہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس طرح کے شراکت داروں کی نشاندہی اور تلاش کیونکر ممکن ہے اور وہ مستقبل کے لیے عراقیوں کا تربیتی معیار کیسے بلند کر سکتے ہیں۔

جہاں تک آپ کے دوسرے سوال کا تعلق ہے تو میں یہ مفروضے اور اندازے قائم نہیں کروں گا کہ ایس ڈی ایف کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ تاہم میں یہ کہوں گا کہ شامی جمہوری فورسز کثیرالنسلی شامی گروہ ہے جس میں عرب، کرد، ترکمان، یزیدی اور دیگر شامل ہیں۔ 57000 ارکان پر مشتمل فورس میں اکثریت عربوں کی ہے۔ مگر ہم تسلیم کرتے ہیں کی اس فورس کی بیشتر قیادت کرد ہے اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ مل جل کر چل سکتے ہیں۔ ہم دوسروں کو بھی قیادت کی تربیت دیں گے تاکہ صرف کرد ہی نہیں بلکہ دوسرے بھی اگلے محاذ پر آئیں اور قیادت سنبھال سکیں۔ ان میں بہت سے پہلے ہی ایسا کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس سے آپ کو اپنے سوالات کا جواب مل گیا ہو گا۔

نگران: شکریہ۔ ہمارا اگلا سوال ڈیلی ٹیلی گراف کی ایس لوہن کریں گی۔

ڈیلی ٹیلی گراف: ہیلو کرنل ڈیلن، سوالات لینے کے لیے شکریہ۔

میں مختصراً 7 فروری کے حملے کی بابت بات کرنا چاہوں گی۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس حملے میں روسی شہری ہلاک ہوئے۔ کیا آپ کو اس پر کوئی تشویش ہے کہ نصف صدی بعد امریکیوں اور روسیوں میں پہلی لڑائی ایک مرتبہ پھر شام میں ہو سکتی ہے؟ کیا آپ کو اس بابت کوئی پریشانی ہے کہ اس سے عسکری اور سفارتی سطح پر روس اور امریکہ میں تعاون میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔ آخری بات یہ کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اب داعش کی شکست کے بعد شام میں اندرونی فریقین میں آویزش کا خطرہ بڑھ رہا ہے؟

کرنل ڈیلن:سوال کا شکریہ۔ میں اس کے پہلے حصے کا جواب دوں گا اوروہ یہ ہے کہ 7 فروری کے اس حملے کے دوران یعنی 7 اور 8 فروری دو دن ہم نے شام میں اپنے روسی ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا یعنی دن میں کئی بار رابطہ کیا تاکہ باہمی تصادم سے بچا جا سکے۔ ہم نے اس وقت بھی ایسا کیا جب ہم نے ان فوجوں کو 7 فروری سے پہلے اس صورت حال کے لیے تیار ہوتے دیکھا۔ ہم نے اس معاملے پر اپنے روسی ہم منصبوں سے بات کی اور جب انہوں نے حملہ شروع کیا ہم نے ان سے فوری طور پر فون کے ذریعے رابطہ کیا اور ان سے بات بھی کی۔

اس لائن پر ہمارا پیشہ ورانہ رابطہ تقریبا جون سے جاری ہے۔ دراصل تصادم سے بچاؤ کی یہ لائن 2015سے قائم ہے لیکن میں یہ کہوں گا کہ اس پر صحیح معنوں میں رابطہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے شامی حکومتی فورسز اور شامی جمہوری فورسز متحرک ہوئی ہیں یعنی رقہ کے قریب پہنچی ہیں۔ یہ غالباً مئی یا جون کا وقت تھا۔ چنانچہ تصادم سے بچاؤ کی اس لائن کی ضرورت اس وقت سے بہت بڑھ گئی تھی جب سے ہم ایک دوسرے کے آپریشنز کے قریب آئے ہیں۔ یہ لائن اس وقت سے ہمارے استعمال میں ہے اور ہم اسے استعمال کرتے رہیں گے تاکہ ہم اپنا ہدف حاصل کر سکیں جو داعش کو شکست دینا ہے۔ آپ کے پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے۔

جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو آپ شام میں بیرونی عوامل کی بات کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں صرف اتنا عرض کروں گاکہ ہم اپنے مشن پر توجہ مرکوز رکھیں گے جو گزشتہ تین سال سے ایک ہی ہے اور وہ ہے داعش کو شکست دینا۔ ہم نے اپنا یہ موقف تبدیل نہیں کیا۔ نتیجے کے طور پر داعش جو ایک عالمی خطرہ بن چکی تھی اپنے زیر قبضہ 98 فی صد علاقہ کھو چکی  ہے۔ اب وہ 77 لاکھ لوگ جن پر کبھی ان کا تسلط تھا، آزاد ہو چکے ہیں۔

ایک اہم چیز یہ ہے کہ وہ سارا علاقہ جو عراق اور شام میں ہمارے سپاہیوں نے چھڑایا تھا، اس کا ایک انچ بھی داعش دوبارہ حاصل نہیں کر سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے یہ علاقے حاصل کرنے کے لیے اپنی افواج کی قدرمیں اضافہ کیااورمقامی سکیورٹی فورسزکو بھی باقاعدہ ادارہ بنایا تاکہ وہ خود کو اس علاقے کی نمائندہ قوت بنائیں جہاں داعش کو شکست ہو چکی ہے۔ یہ ہمارے کام کا ایک خاکہ ہے اور ہم مستقبل میں بھی داعش کے خلاف لڑائی کے لیے اسی کو استعمال کریں گے۔

نگران: آپ کا بہت شکریہ۔ ہمارا اگلا سوال اینا پیسونیرو کریں گی جن کا تعلق سپین کے  ادارے یوروپا پریس سے ہے۔ شاید وہ موجود نہیں تو ہمارا اگلا سوال برٹش فورسز کی لارا میکن سے آئے گا۔

برٹش فورسز براڈ کاسٹنگ سروسز:صبح بخیر، میراسوال بالکل سادہ سا ہے۔ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران آپریشن انہیرنٹ ریزالوو میں برٹش رائل ایئر فورس کے حوالے سے کچھ مزید تفصیلات جاننا چاہوں گی اور یہ کہ کیا اب فضائی حملوں کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل ہو رہی ہے۔

کرنل ڈیلن:میں یہ کہنا چاہوں گا کہ رائل ایئر فورس نے اس پوری مہم میں بہت مثبت کردار ادا کیا ہے۔ میں ان کے حملوں کی تعداد کے حوالے سے کردار تک ہی محدود نہیں رہوں گا بلکہ یہ بتانا پسند کروں گا کہ اتحادی افواج کی اجتماعی حکمت عملی میں تبدیلی آئی ہے۔ ستمبر کے بعد سے فضائی حملوں کی تعداد 1500 سے  زیادہ ہی ہے اور اس میں عراق اور شام دونوں شامل ہیں لیکن ان میں سے اکثریت شام کے علاقوں میں ہے جہاں ہم اب بھی داعش کے خلاف برسر پیکار ہیں۔

عراق میں حملوں میں نمایاں طور پر کمی آئی ہے کیونکہ داعش سے کئی علاقے چھڑا لیے گئے ہیں جبکہ عراقی فضائیہ بھی اپنے علاقے میں حملے کرنے کے قابل ہو چکی ہے خاص طور پر انبار کے صحرائی علاقوں میں۔ اور شام میں بھی یہ حملے وسطی دریائے فرات کی وادی تک محدود ہیں۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ فضائی حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے تاہم حملے کرنے کے حوالے سے ہمارا معیار اور اہداف نہیں بدلے۔ میں اس سوال کو یہیں ختم کرتا ہوں۔

نگران:شکریہ۔ اگلے سوال کے انتظار کے دوران ایک سوال نگران کی طرف سے بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ آپ نے اتحاد کو حاصل ہونے والی کامیابیوں پر تو بات کی ہے لیکن کیا آپ اپنی حکمت عملی کے حوالے سے بھی بتا سکتے ہیں۔

کرنل ڈیلن: جی بالکل آگے بڑھنے کے حوالے سے ہماری ایک حکمت عملی ہے۔ ہم نے مقامی سکیورٹی فورسز کو ادارہ بنانے کی بات کی ہے تاکہ وہ مستقبل کے مساجل  اور عراق و شام میں داعش کی باقیات کے خطرے سے نمٹ سکیں۔ جہاں تک عراق میں تربیتی امور کا تعلق ہے تو وہاں اتحادی افواج نے ایک لاکھ 35 ہزار عراقی اداروں کی افرادی قوت کی تربیت کی ہے۔ ان میں عراقی فوج، عراقی پولیس، بارڈر گارڈ فورس، پیش مرگہ  جو کہ کرد سکیورٹی فورسز کے جنگجو ہیں اور عراق کے شمالی حصے میں موجود ہیں، کائونٹر ٹیررازم سروس اور ٹرائیبل موبلائزیشن فورسز شامل ہیں۔

عراقی سکیورٹی فورسز کوہم  جو تربیت ہم فراہم کرتے ہیں وہ زیادہ غیر امریکی اتحادی افواج دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے پاس آسٹریلوی، ہسپانوی، جرمن، ڈینش اور اطالوی افواج ہیں اور وہ سکیورٹی کے مختلف پہلوئوں پر کام کر رہی ہیں چاہے یہ پولیسنگ ہو، مشترکہ آپریشنز ہوں یا ڈرون اڑانے، خفیہ معلومات اکٹھی کرنے، تعمیراتی کام کرنے یا فوجی ساز و سامان تیار کرنے جیسی چیزیں ہوں۔

تو یہ ایک چھوٹی سی جھلک ہے کہ ہم عراقی فورسز کی کس طرح تربیت کر رہے ہیں۔ عراقیوں نے خود کہاہے کہ انہیں ایسی ہی اور انہی لوگوں سے تربیت کی ضرورت ہے۔ اور ہم جیسے جیسے اپنی مہم کو آگے بڑھائیں گے تربیت کا یہ سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

نگران:بہت شکریہ، ہم اگلے سوال کے لیے ایک بار پھر یوروپا  پریس کی اینا پیسونیرو کو دعوت دیں گے۔

یوروپا  پریس:میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس ابوبکر کے حوالے سے کوئی تازہ معلومات ہیں۔ اپنے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ ابھی زندہ ہو سکتا ہے اور اگر آپ داعش کی قیادت کے بارے میں کچھ بتا سکیں کہ ابھی کتنی باقی ہے اور کہاں کہاں موجود ہے۔ اور یہ بھی کہ عراق اور شام جانے والوں میں سے کتنے لوگ واپس آ گئے ہیں۔ شکریہ

کرنل ڈیلن: شکریہ۔ جہاں تک ابوبکر بغدادی کا تعلق ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس پوری مہم کے دوران بہت سے ملکوں اور بہت سے لوگوں نے بغدادی کی ہلاکت کی خبریں دیں۔ اتحادی افواج کے پاس جب تک اس کی موت کی سو فی صد مصدقہ خبر نہیں ہو گی اسے زندہ ہی تصور کیا جائے گا اور ہم اس کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ اور صرف بغدادی ہی نہیں بلکہ داعش کے کسی بھی اعلی عہدیدار کا تعاقب جاری رہے گا۔

اتحادی افواج نے ان کے نیٹ ورک کو توڑنے اور ان کی مختلف قسم کی سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر ہم نے ان کی کارروائیوں کے لیے پیسہ اکٹھا کرنے کی صلاحیت ختم کر دی ہے۔ ہم نے غیر ملکی دہشت گرد جنگجو بھرتی کرنے کی ان کی صلاحیت پر کاری ضرب لگائی ہے۔ ہم نے داعش مخالف پراپیگنڈے کی بات کی۔ رقہ اور ابوکمال سمیت کوئی بھی مقام جہاں سے کبھی وہ 2014 اور 2015 میں بڑی بڑی کارروائیاں کر سکتے تھے اب نہیں کر سکیں گے۔

چنانچہ ہم ان کے نیٹ ورک کو توڑنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں داعش کی اعلی قیادت یا دیگر غیر ملکی قیدیوں سے جو بھی معلومات حاصل ہوتی ہیں جس سے ہمیں ان کے نیٹ ورک کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے ہم اس پر بھی کارروائی کرتے ہوئے ان کا تعاقب کرتے ہیں۔

میں کہنا چاہوں گا کہ گزشتہ دو سال کے عرصے میں ہم نے ایک اندازے کے مطابق داعش کے دو سو کے قریب اہم ذمہ داران کو نشانہ بنایا ہے اور ہم اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ دنیا میں دہشت پھیلانا بند نہیں کر دیتے۔

جہاں تک یورپ واپس آنے والے غیر ملکی دہشت گرد جنگجووں کا تعلق ہے، ہمیں اس تعداد کا کوئی علم نہیں لیکن ہمارا ارادہ یہی ہے کہ داعش کے جنگجووں کو عراق اور شام سے نکلنے نہ دیا جائے۔ ایک بڑے عالمی اتحاد کے حصے کے طور پر ایک غیر ملکی دہشت گرد جنگجووں کے حوالے سے  ورکنگ گروپ بھی ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انسداد دہشت گردی کے حوالے سے معلومات مہیا کرتا ہے جبکہ انٹرپول بھی عالمی اتحاد کا ایک حصہ ہے۔ چنانچہ مختلف ملکوں کے درمیان معلومات کے تبادلے سے بھی داعش کے بہت سے ایسے دہشت گردوں کو پکڑنے میں مدد ملی ہے جو پوری دنیا میں نقل و حرکت کے لیے کوشاں تھے۔ میرا خیال ہے آپ کے سوال کا جواب آ گیا ہے ۔

نگران: شکریہ۔ اب ہمارے پاس جمہوریہ چیک کے ایک صحافتی ادارے کی نمائندہ ٹیریزا اینجلووا کی طرف سے تحریری سوال بھی موجود ہے۔ ان کا سوال یہ ہے کہ ادلب صوبے کے حوالے سے آپ کی کیا پوزیشن  ہے جہاں داعش کے عناصر رقہ پر ایس ڈی ایف کے قبضے کے بعد منتقل ہو گئے ہیں۔ کیا آپ ان عناصر کا یہاں بھی تعاقب کرینگے یا پھر انہیں روس اور ایران کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں گے۔ شکریہ

کرنل ڈیلن: سوال کا شکریہ۔ اس وقت ادلب میں اتحادی افواج کام نہیں کر رہیں۔ ہم پہلے ہی عدم تصادم کی لائن کے بارے میں بات کر چکے ہیں اور یہ بھی کہ شام کی فضا کس قدر گنجان ہے۔ اگر اس جگہ پر مزید موجودگی کی ضرورت ہوئی تو اس پر سفارتی گفتگو ہو گی کہ یہاں اتحادی افواج کو کیا کرنا ہے۔

اس وقت ہماری تمام تر توجہ صرف داعش کے خلاف لڑائی پر مرکوز ہے اور یہ لڑائی زیادہ تر دریائے فرات کے مشرق میں ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ شمالی شام کے منبج جیسے علاقوں میں ان کے دوبارہ ابھار کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس لیے ہم ادلب میں کام نہیں کر رہے اور اس کا فیصلہ حکومتیں کریں گی کہ وہاں لڑنے کے لیے مزید افواج بھیجنی ہیں یا نہیں۔

نگران: شکریہ۔ ہمارا اگلا سوال ڈوئچے ویلے ترکی کی مس عاقل  کی طرف سے ہے۔

ڈوئچے ویلے ترکی: میں جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کے خیال میں ترکی کے تحفظات کیسے دور ہو سکتے ہیں۔ آپ انہیں دور کرنے کے لیے کیا تجویز کریں گے؟

کرنل ڈیلن: میں آپ کے سوال کا ابتدائی حصہ سن نہیں پایا تاہم میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ ترکی کے تحفظات کی بات کر رہی ہیں۔ کیا آپ ابتدائی حصہ دہرا سکتی ہیں کیونکہ میں سمجھ نہیں پایا کہ آپ عفرین کے بارے میں بات کر رہی ہیں یا ایس ڈی ایف کے کرد عناصر کی۔

ڈوئچے ویلے ترکی: میرا سوال یہ ہے کہ ظاہر ہے ترکی وائی ڈی پی اور وائی پی جی کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہے اور اپنی سرحد پر کرد خود مختار خطے سے خائف ہے۔ تو میرا سوال ہے کہ امریکہ اور انقرہ کے درمیان تنائو کو کم کرنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اور یقیناً شام میں استحکام کے حوالے سے بھی۔ آپ کے خیال میں ترکی، امریکہ، وائی پی جی اور وائی ڈی پی  میں مشترک مفاد کیا ہو سکتا ہے۔ آپ کیا تجویز کرتے ہیں۔

کرنل ڈیلن: میں وہ بتاؤں  گا جو ہم کر رہے ہیں اور جو ہم نے مئی کے بعد سے اب تک کیا ہے جب ہم نے رقہ سے داعش کو اکھاڑنے کے لیے آپریشن شروع کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہم نے شامی جمہوری افواج کے کرد عناصر کو اسلحہ دینا شروع کیا تھا۔

جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں ہمارے پاس ہیڈ آفس میں ترک افسربھی ہیں اور میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ خود ہمارے اپنے رابطہ افسر بھی انقرہ میں انسرلک میں موجود ہیں۔ لیکن ہم نے ایس ڈی ایف کے کرد عناصر کو جو ہتھیار مہیا کیے ہیں ان کے حوالے سے ہم بہت شفاف ہیں۔ میں ایک بار پھر کہوں گا کہ گزشتہ سال اسی وقت ہم ایک بہتر پوزیشن میں تھے جب ہم نام نہاد خلافت کے دارالحکومت رقہ کو تنہا کر رہے تھے اور ایس ڈی ایف وہ واحد قوت تھی جو داعش کواس کےد ارالحکومت میں  شکست دینے کی پوزیشن میں تھی۔

ہم اس وقت موصل میں بھی لڑ رہے ہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ داعش وہاں کیسے لڑی اور کس قسم کے حربے استعمال کیے خاص طور پر گاڑیوں سے پھینکے جانے والے دھماکا خیز بموں سے۔ چنانچہ گزشتہ سال مئی میں ہم نے کرد عناصر کو جو اسلحہ دیا تھا اس کے بارے میں ترکی کو مکمل طور پرآگاہ کیا تھا۔ ہمارے پاس ایسے مشیر ہیں جو سارا وقت ان کے ساتھ رہے اور ایس ڈی ایف نے بھی کہا ہے کہ وہ ہمارے فراہم کردہ اسلحے کو صرف داعش کے خلاف لڑنے کے لیے استعمال کریں گے۔ یہ اسلحہ گنا چنا تھا اور محدود مقدار میں مخصوص استعمال کے لیے تھا جس کا ہدف صرف داعش تھا۔

چنانچہ ترکی کی سرحد پر دہشت گردوں کے خطرے سے نمٹنے کے حوالے سے ترکی کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اور امریکہ اس بات کو بھی خوب سمجھتا ہے کہ پی کے کے ایک دہشت گرد تنظیم  ہے اور ہم اس حوالے سے اپنے سرحدی علاقے میں ترکی کے تحفظات کو سمجھتے  ہیں۔

نگران: بہت شکریہ۔ بد قسمتی سے یہ ہمارا آخری سوال تھا کیونکہ اب وقت ختم ہو چکا ہے۔ کرنل ڈیلن کیا آپ گفتگو سمیٹنے کے لیے کوئی بات کرنا چاہیں گے۔

کرنل ڈیلن: شکریہ۔ مجھےذرائع ابلاغ کے اتنے سارے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ داعش کے خلاف لڑائی اب تک بہت کامیاب رہی ہے۔ میری داعش سے آزاد ہونے والے 75 لاکھ سے زیادہ  لوگوں میں سے متعدد کے ساتھ بات ہوئی  ہے۔ اتحادی افواج نے داعش کی میدان جنگ میں لڑنے اور دہشت گرد حملے کرنے کی صلاحیت کو بے حدمحدود کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی دہشت گردوں کو بھرتی کرنے کی صلاحیت بھی ختم کر دی ہے۔

ہم عراق اور شام سمیت پوری دنیا میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر جنونی دہشت گردوں کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے کام کرتے رہیں گے تاکہ خطہ اور ہمارے ملک ان دہشت گردوں سے پاک ہو جائیں۔ یہ ایک عالمی کوشش ہے اور ہمیں اس کا حصہ ہونے پر فخر ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم داعش کو شکست دینے کے راستے پر درست سمت میں چلتے رہیں گے۔ اسی کے ساتھ میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

نگران: کرنل ڈیلن، میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، اس کے ساتھ میں تمام صحافی خواتین و حضرات کا بھی مشکور ہوں کہ انہوں نے اس گفت و شنید میں حصہ لیا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں