rss

داعش کی شکست کے لیے نفاذ قانون کی تیاری کی کوششوں پر عالمی کانفرنس

العربية العربية, English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
رابطہ کار برائے انسداد دہشت گردی ،سفیر نیتھن اے سیلز کا خطاب

 
 

سبھی کو خوش آمدید۔ میں دفترخارجہ، انٹرپول اور عالمی ادارہ برائے انصاف و حکمرانی قانون کی جانب سے آپ سبھی کا خیرمقدم کرنا چاہوں گا۔

دور دراز سے سفر کر کے اس اہم اور برمحل کانفرنس  میں شرکت پر آپ سب کا شکریہ ۔ یہ کانفرنس  داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے نفاذ قانون کے حوالے سے ہماری مجموعی کوششوں پر منعقد کی گئی ہے۔ اس موقع پر ہونے والی فکرانگیز بات چیت کے لیے میں آپ کا پیشگی مشکور ہوں۔

میں اپنی بات کا آغاز داعش کے خلاف اتحاد کی جانب سے عراق اور شام میں غیرمعمولی پیش رفت کے بیان سے کروں گا۔ کبھی داعش کے زیرتسلط قریباً تمام تر علاقہ اب آزاد کرایا جا چکا ہے۔

میدان جنگ میں ہمارے ہاتھوں شکست کے بعد داعش نے خود کو تبدیل کر لیا ہے۔ ہماری جنگ کسی طور ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ جنگی تجربے کے حامل جنگجو میدان جنگ سے واپس آ رہے ہیں یا تیسرے ممالک میں تباہی پھیلا رہے ہیں۔ داعش سے متاثرہ ایسے لوگ جو کبھی شام یا عراق نہیں گئے، اپنے ممالک میں حملے کر رہے ہیں۔

ہمیں جنگ کے اس اگلے مرحلے کے لیے ایک مربوط اور موثر حکمت عملی درکار ہے اور آج ہماری یہاں موجودگی کا یہی سبب ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں داعش کے ارتقا کے حوالے سے مشترکہ سمجھ بوجھ اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے وسیع تر موزوں ذرائع کی ضرورت ہے۔ اب جبکہ داعش مزید منتشر ہو رہی ہے تو ہماری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ اسے محفوظ زمینی ٹھکانے کے ساتھ دوبارہ لڑاکا قوت بننے سے روکا جائے۔ ہمیں اسے انٹرنیٹ کو محفوظ ٹھکانہ بنانے سے بھی روکنا ہو گا جس کے ذریعے وہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے ارتکاب کے لیے لوگوں کو بنیاد پرست بناتی اور نئے پیروکار بھرتی کرتی ہے۔

اب جبکہ داعش نے خود کو تبدیل کر لیا ہے تو بیشتر جگہوں پر ہماری جدوجہد عسکری کوششوں سے نفاذ قانون کی جانب منتقل ہو جائے گی۔بڑی حد تک  ہمیں داعش کو شکست دینے کے لیے اپنی عسکری کوششوں میں سویلین اقدامات کو شامل کرنا ہو گا تاکہ اس گروہ کی  پائیدار شکست یقینی بنائی جا سکے ۔

یہاں میں مزید معین بات کروں گا۔ ہماری کوششوں میں غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں کے خلاف قانونی کارروائی، میدان جنگ کی شہادتوں کو اکٹھا اور استعمال کرنے نیز  خطرے کو مزید موثر طور سے نشانہ بنانے کے لیے اپنے قانونی ڈھانچوں کو بہتر بنانے جیسے نفاذ قانون کے ذرائع شامل ہوں گے۔ ہمیں حکومتوں میں اور ان کے درمیان کڑی سرحدی جانچ پڑتال اور معلومات کا مزید موثر تبادلہ درکار ہو گا۔ ہمیں دہشت گردوں کے لیے رقومات کی ترسیل ختم کرنے کے لیے داعش سے وابستہ افراد اور مالی معاونین کو پابندیوں کے لیے نامزد کرنا ہو گا اور ہمیں دہشت گردوں کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہو گی۔

ان کوششوں کو گزشتہ دسمبر میں اس وقت موثر طور سے  بڑھاوا ملا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2396 کی منظوری دی جس کی 66 ممالک نے تائید کی تھی۔ یواین ایس سی آر 2396 میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے متعدد اہم ذرائع اور ذمہ داریاں شامل ہیں۔ اس میں معلوم اور مشتبہ دہشت گردوں کے حوالے سے نگرانی کی فہرستیں، معلومات کا تبادلہ بشمول مسافروں کے ناموں کا ریکارڈ یا پی این آر بھی شامل ہے۔ اس میں میدان جنگ سے واپس آنے والے اور داعش سے متاثر جنگجوؤں کے خلاف قانونی کارروائی کی بات بھی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں دہشت گرد تنظیموں اور ان کے ارکان کی مالیات پر قدغن لگانے کے لیے نامزدگیاں بھی اس قرارداد کا حصہ ہیں۔

میں چند منٹ میں یہ وضاحت کروں گا کہ نفاذ قانون کے میدان میں داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کون سے اقدامات کر رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس سے ہمیں آئندہ دو روز تک اپنی بات چیت کے لیے  مفید مدد ملے گی۔

فہرست نگرانی اور معلومات کا تبادلہ

روزانہ دس لاکھ سے زیادہ لوگ زمینی، سمندری اور فضائی راستے سے امریکہ آتے ہیں۔ ہم ممکنہ خطرات کی نشاندہی کے لیے معلوم اور مشتبہ دہشت گردوں سے متعلق اپنی نگرانی کی فہرستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مسافروں کے نام اور دیگر معلومات کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے حوالے سے سنجیدہ ہر ملک کو ایسی ہی جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔ امریکہ اور یہاں موجود متعدد دوسرے ممالک نگرانی کی فہرست سے متعلق ایسا نظام ترتیب دینے کے لیے ہر حکومت کی کوششوں میں مدد کے لیے تیار ہیں جس کی بدولت ان کے ملک کی حفاظت ممکن ہو اور عالمی سلامتی کی صورتحال میں بہتری آئے۔

گزشتہ متعدد برسوں میں ہم نے داخلی سلامتی کے صدارتی حکم 6 کے تحت اپنے اتحادیوں اور شراکت کاروں کے ساتھ درجنوں باہمی معاہدے  کیے ہیں۔ معلومات کے تبادلے کے ان انتظامات سے ہمیں شریک ممالک کے ساتھ نگرانی کی فہرستوں کے حوالے سے معلومات کے تبادلے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے ہم ایسے دہشت گردوں کی نشاندہی کے لیے ایک دوسرے کی مدد کے قابل ہو جاتے ہیں جو ہمارے ممالک میں سفر کر رہے ہیں۔

گزشتہ برس ہی ہم نے مزید دس ‘ایچ ایس پی ڈی 6’ معاہدے  کیے جس کے بعد یہ تعداد 69 تک جا پہنچی ہے۔ آنے والے برسوں میں ہم ایسے اضافی اقدامات پر دستخط کریں گے۔ ہم ان معاہدوں پر دستخط کرنے والے اپنے شراکت کاروں کی جانب سے ان پر مکمل طور سے عملدرآمد کے منتظر ہیں۔

انٹرپول جیسے کثیرطرفی پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کا تبادلہ بھی اہم ہے۔ اس ہفتے کی کانفرنس میں انٹرپول کا معاون میزبان ہونا اتفاقی نہیں ہے۔ اب جبکہ ہم داعش کے خلاف جنگ کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں تو انٹرپول کی جانب سے مہیا کردہ اہلیتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہوں گی۔

انٹرپول کے ڈیٹا بیس کی مدد سے نگرانی کی داخلی فہرستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ کے اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ان ذرائع کی مدد سے درجنوں حکومتوں کی جانب سے مہیا کردہ معلومات ایک جگہ جمع ہو جاتی ہیں جس سے ممالک کو ایسی معلومات کی روشنی میں مسافروں کی جانچ پڑتال کرنا ممکن ہو جاتا ہے جن تک بصورت دیگر رسائی نہ ہوتی۔

تاہم محض انٹرپول کا ڈیٹا بیس کافی نہیں ہے۔ عقبی دفتر میں صرف انٹرپول سے مربوط ٹرمینل مفید ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا ہی بےکار بھی ہو گا۔ جب تک ہمارے سرحدی حکام اور نفاذ قانون کے افسروں کو فوری اور بے جوڑ رسائی حاصل نہیں ہو گی تب تک ہم اگلے حملے کو ناکام بنانے کے لیے خاطر خواہ طور سے تیار نہیں ہو پائیں گے۔ میں آپ سب کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ جب آپ اپنے ممالک میں واپس جائیں تو دیکھیں کہ آیا ہر سرحدی اور پولیس افسر کو ان معلومات تک رسائی حاصل ہے یا نہیں۔ اگر انہیں یہ رسائی نہیں ہے تو پھر اگلے محاذ پرآپ کے لوگوں کے پاس آپ کے شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے درکار معلومات نہیں ہوں گی۔

میں ‘پی این آر’ یعنی مسافروں کے ناموں کے ریکارڈ سے متعلق معلومات کی اہمیت پر بھی زور دینا چاہتا ہوں۔ پی این آر وہ اطلاعات ہیں جو آپ ٹکٹ بُک کراتے وقت فضائی کمپنی کو دیتے ہیں۔ اس میں نام، نشست، رابطے سے متعلق معلومات اور دیگر شامل ہوتی ہیں۔

پی این آر سالہا سال سے امریکی سرحدی تحفظ کی بنیاد چلا آ رہا ہے۔ ہم مشکوک سفر اور ایسے خطرات کی نشاندہی کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں جو ممکنہ طور پر نظروں سے اوجھل ہو سکتے ہیں۔ ہم اسے معلوم دہشت گردوں اور ان کے نامعلوم ساتھیوں میں خفیہ روابط سامنے لانے کے لیے بھی کام میں لاتے ہیں۔

یواین ایس سی آر 2396 کے تحت اقوام متحدہ کے تمام ارکان کو ایسے ہی نظام ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اس ضمن میں ہر ممکن مدد دینے کو تیار ہے۔ ہم ایسے ممالک کے ساتھ اپنے پی این آر نظام کے تبادلے کے لیے تیار ہیں جنہیں اس کی ضرورت ہے اور میں جانتا ہوں کہ یہاں موجود دیگر ممالک بھی یہی پیشکش کریں گے۔

قانونی کارروائی اور گرفتاری

جب دہشت گرد ہمارے پولیس اہلکاروں یا فوجیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتے ہیں تو بعض اوقات ہم ان پر مقدمہ چلانا چاہتے ہیں۔ امریکہ میں ہمارے پاس جرائم سے متعلق قوانین کا موثر مجموعہ ہے جسے ہم داعش کے آلہ کاروں کی مین ہٹن یا واشنگٹن ڈی سی کی سڑکوں پر آزادانہ نقل و حرکت روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یواین ایس سی آر 2396 اور دیگر قراردادوں کی مطابقت سے ہم دوسرے ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ یہ امر یقینی بنانے کے لیے خاطرخواہ قوانین کا نفاذ کریں کہ ان کے قانونی حکام کے پاس داعش کے خطرے سے متعلق اگلے دور سے نمٹنے کے لیے خاطرخواہ ذرائع موجود ہوں۔ اس سے مراد ایسے قوانین ہیں جو دہشت گردی کی وسیع سرگرمیوں کا احاطہ کرتے ہیں اور ان میں  ایسے قوانین شامل ہیں جو مجرم قرار پانے والوں کے خلاف نمایاں سزاؤں کا نفاذ ممکن بناتے ہیں۔

کامیاب قانونی کارروائی کا انحصار میدان جنگ میں پکڑے جانے والے ہمارے شہریوں کو واپس لانے کی ذمہ داری قبول کرنے پر بھی ہوتا ہے۔ اس حوالے سے میں واضح کرتا چلوں کہ ہو سکتا ہے آج یہ سیاسی اعتبار سے مشکل ہو تاہم ان جنگجوؤں کو تحویل میں لینے میں ناکامی مزید مشکل اور تکلیف دہ نتائج لائے گی۔ اگر یہ جنگجو وطن واپس آ جاتے ہیں یا ہمارے اتحادی اور شریک کار ممالک میں گھس جاتے ہیں تو اپنی بے عملی کی قیمت ہم سب کو ادا کرنا پڑے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا کہ بعض معاملات میں قانونی کارروائی مناسب نہیں ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ مہینے ہماری فوج کی جانب سے گرفتاری کی حکمت عملی کے ازسرنو جائزے اور گوانٹانامو بے میں قید سے متعلق سہولیات برقرار رکھنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔

پابندیوں کے لیے نامزدگیاں

آخری بات یہ کہ تمام ممالک کو دہشت گردوں کی نامزدگیاں اور ان پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے ضروری قانونی اقدامات اٹھانا چاہیئں۔ اس سے ہمیں ان کی مالیات روکنے میں مدد ملے گی۔ ہم صرف بمبار کو ہی نہیں روکنا چاہاتے بلکہ ہم پیسہ خرچ کرنے والے اس فرد کو بھی روکنا چاہتے ہیں جو بم خریدتا ہے۔

اسی جذبے سے آج میں اعلان کر رہا ہوں کہ وزیرخارجہ ٹلرسن نے داعش سے وابستہ سات گروہوں کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ ان میں داعش مغربی افریقہ، داعش صومالیہ، داعش مصر، داعش بنگلہ دیش، داعش فلپائن، ماؤت گروپ اور جندالخلیفہ تیونس شامل ہیں۔ وزیرخارجہ نے داعش سے وابستہ دو رہنماؤں ماحد معلم اور ابو مصعب البرناوی کو بھی پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔

ان گروہوں اور افراد کی نامزدگی انتظامی حکم 13224 کے تحت عالمی دہشت گردوں کی خصوصی نامزدگی اور امیگریشن و شہریت کے قانون کے سیکشن 219 کے تحت غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی ذیل میں ہوئی ہے۔

ان گروہوں میں ہر ایک کے مظالم کی تفصیل کے بیان میں پورا دن لگ جائے گا لہٰذا میں چند ایک کا تذکرہ کروں گا ۔دستمبر 2016 میں داعش مصر نے قاہرہ کے کوپٹک عیسائی گرجا گھر میں بم حملہ کیا جس میں 28 افراد مارے گئے۔ داعش بنگلہ دیش نے جولائی 2016 میں ڈھاکہ کے ہولی آرٹیسن بیکری ہوٹل پر حملے میں 22 افراد کو ہلاک کیا۔ جندالخلیفہ تیونس نے نومبر 2015 میں ایک چرواہے کو ذبح کیا۔ ماؤت گروپ فلپائن کے شہر ماراوی کے محاصرے اور 2016 میں ڈاواؤ کے بازار میں ہونے والے بم حملے میں ملوث ہے جس میں 15 افراد ہلاک اور 70 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

آج کی نامزدگیاں داعش سے وابستہ ان آٹھ گروہوں میں نیا اضافہ ہیں جنہیں اس سے قبل پابندیوں کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔ ہم نے داعش کا عالمگیر نیٹ ورک سامنے لانے اور اس امر پر زور دینے کے لیے ان گروہوں اور افراد کو نامزد کیا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ان نامزدگیوں سے داعش کے نیٹ ورک کو دہشت گرد حملوں کے لیے درکار وسائل تک رسائی نہیں مل پائے گی۔

اختتام

میں آخر میں داعش کے خلاف ہماری مشترکہ جنگ میں عالمی تعاون کی بھرپور ستائش کرنا چاہوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ اب جبکہ ہم عسکری سے سویلین محاذ کی جانب جا رہے ہیں تو آپ میں بہت سے ممالک اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے اپنے اقدامات ترتیب دے رہے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ کانفرنس اس فاسق دہشت گرد تنظیم کی پائیدار شکست نیز القاعدہ اور ازخود کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں پر توجہ مرکوز کرنے میں ہماری مدد کرے گی جو ان گروہوں سے متاثر ہیں۔

اس کے ساتھ ہی میں ایک مرتبہ پھر اپنے تمام شرکا کا مشکور ہوں جو اس مقصد کے لیے مسلسل اور پرعزم طور سے کوششیں کر رہے ہیں اور مجھے آئندہ دو روز میں ہونے والی گفت و شنید کا انتظار ہے۔


اصل مواد دیکھیں: https://www.state.gov/j/ct/rls/rm/278881.htm
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں