rss

دفتر خارجہ کی جانب سے داعش سے ملحقہ افراد اورسرکردہ رہنماؤں کی بطور دہشت گرد نامزدگیاں

हिन्दी हिन्दी, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
27 فروری 2018

 
 

دفتر خارجہ نے داعش سے وابستہ تین گروہوں کو انتظامی حکم (ای او) 13224 کے سیکشن 1 (بی) کے تحت خصوصی طور پر نامزد کردہ عالمی دہشت گرد اور امیگریشن و شہریت کے قانون کے سیکشن 219 کی مطابقت سے غیرملکی دہشت گرد تنظیموں (ایف ٹی اوز) کے طور پر نامزد کیا ہے۔ ان میں داعش مغربی افریقہ، داعش فلپائن اور داعش  بنگلہ دیش شامل ہیں۔

ان نامزدگیوں کے نتیجے میں امریکی شہریوں کے لیے عمومی طور پر داعش مغربی افریقہ، داعش فلپائن یا داعش بنگلہ دیش کے ساتھ لین دین ممنوع قرار پایا ہے۔ امریکی عملداری میں ان گروہوں کی جائیداد اور جائیداد میں مفادات پر روک لگا دی گئی ہے۔ مزید براں جانتے بوجھتے ہوئے ان تنظیموں کو مادی معاونت یا وسائل کی فراہمی، ایسی کوشش یا سازباز جرم ہے۔

دفتر خارجہ نے داعش سے وابستہ چار دیگر گروہوں اور دو رہنماؤں کو بھی انتظامی حکم 13224 کے سیکشن 1 (بی) کے تحت خصوصی طور پر نامزد کردہ عالمی دہشت گرد قرار دیا ہے۔ ان گروہوں میں داعش صومالیہ، جندالخلیفہ تیونس، داعش مصر اور ماؤت گروپ نیز ماحد معلم اور ابو مصعب البرناوی نامی افراد شامل ہیں۔

انتظامی حکم 13224 دہشت گردی کے اقدامات کا ارادہ کرنے والوں یا ایسے غیرملکی افراد کے خلاف کڑی پابندیاں عائد کی گئئ ہیں جن کی جانب سے ان اقدامات کا نمایاں خطرہ موجود ہو جن سے امریکی شہریوں کے تحفظ یا امریکی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی یا معیشت کو خطرات لاحق ہوتے ہوں ۔ ان پابندیوں کے دیگر نتائج کے علاوہ نامزد کردہ تنظیموں یا افراد کے تمام اثاثوں اور اثاثوں میں مفادات کو منجمد کر دیا گیا ہے اور امریکی شہریوں کو عمومی طور پر ان کے ساتھ کسی بھی  قسم کے لین دین سے روک دیا گیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کے حوالے سے رابطہ کار نیتھن اے سیلز نے ان نامزدگیوں کا اعلان کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ‘یہ نامزدگیاں عراق اور شام میں داعش کی منہدم خلافت سے ہٹ کر اس سے وابستہ اہم گروہوں اور رہنماؤں کو ہدف بناتی ہیں۔ آج کے اقدامات داعش کے عالمگیر نیٹ ورک کے تنزل اور اس کے وابستگان کی دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد کے لیے درکار وسائل تک رسائی روکنے کے ضمن میں اہم قدم ہیں’

داعش مغربی افریقہ اور ابو مصعب البرناوی

مارچ 2015 میں ‘ایف ٹی او’ اور ‘ایس ڈی جی ٹی’ کے تحت نامزد کردہ گروہ بوکوحرام کے رہنما نے داعش سے اطاعت کا عہد کیا اور گروہ کا نام تبدیل کر کے داعش مغربی افریقہ رکھ دیا۔ داعش نے یہ اطاعت قبول کی۔ اگست 2016 میں داعش مغربی افریقہ اندرونی لڑائی کے باعث دو حصوں میں بٹ گئی۔ داعش نے ابو مصعب البرناوی کو داعش مغربی افریقہ کا رہنما مقرر کیا۔ طویل عرصہ سے چلے آ رہے رہنما ابوبکر شیخاؤ سے وفادار دوسرے گروہ نے دوبارہ اپنا نام بوکو حرام رکھ لیا۔ البرناوی بوکوحرام کے بانی محمد یوسف کا بیٹا ہے۔ داعش مغربی افریقہ کے رہنما کی حیثیت سے نامزدگی سے قبل وہ بوکوحرام کا ترجمان تھا۔ البرناوی کی قیادت میں داعش مغربی افریقہ نے نائجیریا اور جھیل چاڈ کے علاقے میں متعدد حملے کیے ہیں۔

داعش فلپائن اور ماؤت گروپ

جون 2016 میں داعش نے فلپائن میں شدت پسندوں کی جانب سے داعش کے ساتھ وفاداری کے عہد پر مبنی ویڈیو جاری کی۔ اس ویڈیو میں شدت پسندوں نے دیگر مسلمانوں سے کہا کہ وہ بھی دہشت گروپ میں شمولیت اختیار کریں اور ایسنیلون ہیپیلون کے زیرقیادت خطے میں داعش کی کوششوں میں معاونت کریں۔ ہیپیلون خصوصی طور پر نامزد کردہ عالمی دہشت گرد تھا جو اب ہلاک ہو چکا ہے۔ داعش نے اسے داعش فلپائن کا رہنما قرار دیا تھا۔ ماؤت گروپ نے 2014 میں داعش سے وفاداری کا اعلان کیا تھا اور وہ داعش فلپائن کا ایک مکمل حصہ ہے۔ ماؤت گروپ فلپائن میں ماراوی شہر کے محاصرے کا ذمہ دار ہے جس کا آغاز مارچ 2017 میں ہواتھا۔ ستمبر 2016 میں ڈاواؤ مارکیٹ میں بم حملوں کے پیچھے بھی اسی گروہ کا ہاتھ تھا جس میں 15 افراد ہلاک اور 70 دیگر زخمی ہوئے۔ علاوہ ازیں نومبر 2016 میں منیلا میں امریکی سفارت خانے کے قریب بم حملے کی کوشش بھی اسی گروہ نے کی تھی۔

داعش بنگلہ دیش

اگست 2014 میں بنگلہ دیشی شہریوں کے ایک گروہ نے داعش سے وفاداری کا اعلان کیا۔ اس گروہ نے اپنی کارروائیوں کا آغاز ستمبر 2015 میں کیا جب اس کے مسلح افراد نے ڈھاکہ میں اٹلی سے تعلق رکھنے والے ایک امدادی کارکن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد داعش نے ملک بھر میں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ جولائی 2016 میں اس گروہ نے ڈھاکا کے ہوٹل ہولی آرٹیسن بیکری پر حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

داعش صومالیہ اور ماحد معلم

داعش صومالیہ کا قیام اکتوبر 2015 میں اس وقت عمل میں آیا تھا جب خصوصی طور پر نامزد کردہ عالمی دہشت گرد اور اس وقت الشباب کے اعلیٰ رہنما عبدالقادر مومن نے اپنے قریباً بیس پیروکاروں کے ساتھ داعش سے وفاداری کا عہد کیا۔ اس گروہ نے مئی 2017 میں شمالی صومالیہ کی پولیس چوکی پر خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں پانچ افرد ہلاک اور 12 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں اس نے فروری 2017 میں پنٹ لینڈ صومالیہ کے علاقے بوساسو میں ایک دیہی ہوٹل پر حملہ بھی کیا جہاں غیرملکیوں کا آنا جانا تھا۔ اس حملے میں چار سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوئے۔ مومن اس گروہ کا قائد ہے جبکہ ماحد معلم کی حیثیت اس کے نائب کی ہے۔ معلم جنگجوؤں اور اسلحے کی یمن سے صومالیہ ترسیل میں سہولت دینے کا بھی ذمہ دار ہے۔

جندالخلیفہ تیونس

جند الخلیفہ تیونس (جے اے کے-ٹی) 2014 کے اوائل میں تیونس میں گروہ کے طور پر ابھرا۔ دسمبر 2014 میں ‘جے اے کے-ٹی’ نے داعش کے رہنما ابوبکرالبغدادی سے وفاداری کا عہد کیا۔ اس گروہ نے تیونس  میں متعدد حملے کیے جن میں نومبر 2015 میں ایک گلہ بان کو ذبح کرنا اور جون 2016 میں قومی فوج اور سکیورٹی یونٹس کے خلاف بارودی سرنگ کے ذریعے حملہ بھی شامل ہے۔ اس گروہ نے حملوں کی دھمکیاں بھی دیں جیسا کہ مارچ 2015 کی یوٹیوب آڈیو ریکارڈنگ میں تیونس میں اعلیٰ سیاسی حکام کو دھمکایا گیا کہ ان پر حملے کیے جائیں گے۔

داعش مصر

مئی 2017 میں داعش نے اعلان کیا کہ داعش مصر’ ایف ٹی او ‘اور ‘ایس ڈی جی ٹی ‘کے تحت نامزد کردہ سینائی صوبے کی داعش سے الگ تنظیم ہے۔ داعش مصر نے ملک میں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ مثال کے طور پر ان میں دسمبر 2016 میں مصر کے کوپٹک عیسائی گرجا گھر پر بم حملہ بھی شامل ہے جس میں 28 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آج کی نامزدگیوں کے ذریعے امریکی عوام اور عالمی برادری کو بتایا گیا ہے کہ ان گروہوں اور افراد نے دہشت گرد حملے کیے یا ان کی جانب سے دہشت گردی کے اقدامات کا نمایاں خطرہ موجود ہے۔ ان نامزدگیوں سے دہشت گرد گروہوں اور افراد کو سامنے لانے اور انہیں تنہا کرنے نیز ان کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی روکنے میں مدد ملتی ہے۔ مزید براں ان نامزدگیوں سے امریکی اداروں اور دوسری حکومتوں کو نفاذ قانون کی سرگرمیوں میں معاونت بھی مل سکتی ہے۔

یہ نامزدگیاں عالمگیر اتحاد کے تعاون سے داعش کو شکست دینے کے بڑے جامع منصوبے کا حصہ ہیں۔ اتحاد نے اس ہدف کے حصول میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ پوری حکومتی سطح پر کی جانے والی اس کوشش کے نتیجے میں داعش کو اس کے محفوظ ٹھکانوں میں تباہ کرنے، غیرملکی دہشت گرد جنگجو بھرتی کرنے کی اس کی اہلیت کے خاتمے، اس کے مالیاتی وسائل کا راستہ روکنے، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر اس کے جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے اور عراق و شام میں آزاد کرائے گئے علاقوں میں استحکام لانے میں مدد ملی رہی ہے تاکہ بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس آ کر اپنی زندگیوں کو ازسر نو استوار کر سکیں۔

دفتر خارجہ نے داعش کو ‘ایف ٹی او’ اور ‘ایس ڈی جی ٹی’ کے تحت نامزد کرنے کے علاوہ داعش کے 40 سے زیادہ رہنماؤں کو بھی انتظامی حکم (ای او) 13224 کے تحت خصوصی طور پر نامزد کردہ عالمی دہشت گرد قرار دیا ہے اور اسے ہدف بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ اس کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی روکی جا سکے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے ‘ایف ٹی اوز’ اور ‘ایس ڈی جی ٹی’ کے طور پر نامزد کردہ افراد کی فہرست یہاں دستیاب ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں