rss

داعش کی شکست کے لیے نفاذ قانون کی تیاری کی کوششوں پر عالمی کانفرنس

English English, Português Português, Русский Русский, Español Español

مریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
28 فروری 2018

 
 

داعش کی شکست کے لیے نفاذ قانون کی تیاری کی کوششوں پر عالمی کانفرنس

رابطہ کار برائے انسداد دہشت گردی، سفیر نیتھن اے سیلز کی بریفنگ

بذریعہ ٹیلی کانفرنس

مسٹر گرینن: آج ہمارے ساتھ شمولیت پر آپ سبھی کا شکریہ۔ یہ داعش کی شکست کے لیے نفاذ قانون کی تیاری کی کوششوں پر حال ہی میں ختم ہونے والی دو روزہ عالمی کانفرنس کے بارے میں آن دی ریکارڈ کانفرنس کال ہے۔ آج سفیر نیتھن سیلز ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ سفیر سیلز دفتر خارجہ میں انسداد دہشت گردی کے رابطہ کار ہیں۔ وہ اس کانفرنس کے حوالے سے ہمیں چیدہ باتوں سے آگاہ کریں گے۔ ابتدا میں وہ کچھ بات کریں گے جس کے بعد ہم آپ کے سوالات لیں گے۔

یاد رہے کہ اس کال کے اختتام تک بریفنگ کی نشرواشاعت پر پابندی رہے گی۔ اب میں سفیر سیلز کو بات کی دعوت دیتا ہوں۔

سفیر سیلز: بہت شکریہ۔ میں آج کال میں شامل تمام صحافیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ اس بات چیت کے لیے وقت نکالنے پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ اس ہفتے ہم نے سویلین اور نفاذ قانون کے ذرائع سے داعش کو شکست دینے کی عالمی کوششوں پر ایک کانفرنس کی میزبانی کی۔ ہم نے یہ کانفرنس انٹرپول اور مالٹا میں عالمی ادارہ برائے انصاف و حکمرانی قانون کے تعاون سے منعقد کی۔ یہ کانفرنس یہاں واشنگٹن کی ہیری ایس ٹرومین بلڈنگ میں منعقد ہوئی جہاں ہم نےقریباً 90 ممالک اور تنظیموں کو اس اہم مسئلے پر بات چیت کے لیے مدعو کیا۔

یہاں میں یہ تذکرہ کروں گا کہ ہم اس کانفرنس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ میدان جنگ میں ہمارے ہاتھوں شکست کے بعد داعش خود کو نئی شکل میں ڈھال رہی ہے۔ یہ بات سمجھنا اور اس پر زور دینا اہم ہے کہ یہ جنگ کسی طور ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ اب ہم غالب طور سے عسکری کوشش سے بڑی حد تک سویلین اور نفاذ قانون کی کوشش کی جانب جا رہے ہیں۔ ہمارے لیے داعش کو شکست دینے کے لیے عسکری خطوط پر اپنی کوششوں میں سویلین ذرائع اور سویلین اقدامات کا اضافہ بے حد اہم ہو گیا ہے جس سے اس گروہ کی پائیدار شکست یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

لہٰذا گزشتہ ہفتے میں نے بات چیت کا آغاز اس جائزے سے کیا کہ امریکہ نفاذ قانون اور دیگر سویلین اہلیتوں کے ذریعے داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا کر رہا ہے۔ میں آپ کو ان تین بنیادی ذرائع کی بابت مختصراً بتاتا ہوں جن پر ہم نے روشنی ڈالی۔

ان میں پہلا ذریعہ دہشت گردوں کی نامزدگیاں اور پابندیاں، دوسرا سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے مسافروں کے نام اور معلومات پر مشتمل مواد اور تیسرا ذریعہ دہشت گردوں کی بائیومیٹرک معلومات کا حصول ہے جو جہازوں پر سفر یا سرحدیں عبور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

چنانچہ میں نے سب سے پہلے وزیرخارجہ ٹلرسن کی جانب سے داعش سے وابستہ سات گروہوں اور دو رہنماؤں کی پابندیوں کے لیے نامزدگی کا اعلان کیا۔ ان گروہوں میں داعش مغربی افریقہ، داعش صومالیہ، داعش مصر، داعش بنگلہ دیش، داعش فلپائن، ماؤٹ گروپ اور تیونس کی جندالخلیفہ شامل ہیں۔ داعش سے وابستہ جن دو رہنماؤں کی نامزدگی عمل میں آئی ہے ان میں داعش صومالیہ کے ماحد معلم اور داعش مغربی افریقہ کے ابو مصعب البرناوی شامل ہیں۔

ان دہشت گرد گروہوں اور افراد نے داعش کی خونی جنگ دنیا کے تمام کونوں میں پھیلائی ہے۔ میں آپ کو اس کی چند مثالیں دوں گا۔ دسمبر 2016 میں داعش مصر نے قاہرہ کے کوپٹک عیسائی گرجا گھر میں بم حملہ کیا جس میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔ داعش بنگلہ دیش نے جولائی 2016 میں ڈھاکہ کے ہولی آرٹیسن بیکری ہوٹل پر حملہ کر کے 22 لوگوں کو قتل کیا۔ ماؤٹ گروپ فلپائن کے شہر ماراوی کے محاصرے اور ستمبر 2016 میں ڈاواؤ کی مارکیٹ میں بم حملوں میں ملوث ہے جن میں 15 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے تھے ۔

گزشتہ روز کی نامزدگیاں داعش سے وابستہ آٹھ دیگر گروہوں میں نیا اضافہ ہیں جنہیں اس سے پہلے پابندیوں کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔ ہم نے ان گروہوں اور افراد کو اس لیے نامزد کیا ہے کہ داعش کے عالمگیر نیٹ ورک کو سامنے لایا جا سکے اور ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا جائے کہ داعش کے خلاف جنگ ختم نہیں ہوئی۔ ان نامزدگیوں کی بدولت داعش دہشت گرد حملوں کے لیے درکار وسائل تک رسائی سے محروم ہو جائے گی کیونکہ ہم صرف بمبار کو ہی نہیں روکنا چاہتے بلکہ اس شخص کو روکنا بھی ضروری ہے جو یہ بم خریدتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ اس کانفرنس کے دوران ہم نے مسافروں کے ناموں کے ریکارڈ ‘پی این آر’ پر بات بھی کی۔ پی این آر ایسی معلومات ہیں جو آپ ٹکٹ بُک کراتے وقت فضائی کمپنی کو فراہم کرتے ہیں۔ ان میں ٹیلی فون نمبر، ای میل ایڈریس، نشست سے متعلق معلومات اور دیگر شامل ہوتی ہیں۔ یہ انسداد دہشت گردی کا انتہائی طاقتور ذریعہ ہے۔ پی این آر کی بدولت مشتبہ سفر اور ایسے خطرات کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے جو بصورت دیگر نظروں سے اوجھل ہو سکتے تھے۔ اس سے معلوم خطرات اور ان سے نامعلوم وابستگیوں کے مابین خفیہ تعلق کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ میں آپ کو اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔

دسمبر 2009 میں فیصل شہزاد نامی امریکی شہری نے پاکستانی طالبان سے وابستہ افراد سے پاکستان میں دھماکہ خیز مواد کی تربیت حاصل کی۔ فروری 2010 میں شہزاد اسلام آباد سے یکطرفہ ٹکٹ پر جے ایف کے ایئرپورٹ اترا۔ پی این آر کے قوانین مدنظر رکھتے ہوئے اس کی معلومات کا جائزہ لیا گیا تو کسٹم حکام نے اس کا انٹرویو کیا اور پھر اسے چھوڑ دیا۔ تین ماہ بعد یکم مئی 2010 کو ٹائمز سکوائر میں کار بم دھماکے کی ناکام کوشش ہوئی۔ تفتیش کاروں نے شہزاد کو کار سے جوڑا اور پھر اپنے نظام میں اس کے بارے میں الرٹ جاری کر دیا۔ جب اس نے ملک سے فرار ہونے کے لیے فلائٹ بُک کرائی تو نظام نے اس کی نشاندہی کر دی اور اسے دبئی جانے کی کوشش میں جے ایف کے ایئرپورٹ پر گرفتار کر لیا گیا۔ اس پر مقدمہ چلا، سزا سنائی گئی اور اب وہ عمرقید بھگت رہا ہے۔

‘پی این آر’ نظام جسے امریکہ استعمال کرتا ہے اب عالمی ذمہ داری بن چکا ہے۔ درحقیقت اسے امریکہ نے ہی بنایا ہے۔ گزشتہ برس امریکہ کی ترغیب اور اصرار پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2396 کی متفقہ منظوری دی۔ یہ نئی قرارداد اقوام متحدہ کے تمام ارکان سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ بھی ایسا ہی نظام تیار کریں جو امریکہ کئی برس سے استعمال کر رہا ہے۔ ہم نے اس ہفتے کانفرنس میں ہونے والی بات چیت میں دوسرے ممالک پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کی اس نئی قرارداد کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور فوری طور پر ایسے نظام تیار کر کے ان کا اطلاق کریں۔

آخر میں ہم نے اس کانفرنس میں بائیو میٹرکس پر بات کی۔ بائیومیٹرکس اس تصدیق کا اہم ذریعہ ہیں کہ مسافر وہی ہیں جو کچھ انہوں نے اپنے بارے میں بتایا ہے۔ دہشت گرد اپنی حقیقی شناختیں چھپانے کے لیے کوئی بھی بہانہ، نام اور جعلی پاسپورٹ استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم ان کے لیے اپنی انگلیوں کے نشانات میں تبدیلی لانا بے حد مشکل ہو گا۔ اسی لیے ہم اس ملک میں آنے والوں کے بائیومیٹرکس جمع کرتے ہیں۔ ہم ان کی انگلیوں کے نشانات لیتے ہیں، ان کے چہرے کو سکین کرتے ہیں اور ان معلومات کو معلوم اور مشتبہ دہشت گردوں کی فہرستوں کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں۔ یہاں میں ایک مثال پیش کروں گا۔ چند ہفتے قبل حکام نے اوکلاہاما میں ایک شخص کو گرفتار کیا جس پر القاعدہ میں شمولیت کی کوشش کا شبہ تھا۔ ہم اسے اس لیے شناخت کرنے میں کامیاب رہے کہ اس کی انگلیوں کے نشانات افغانستان میں ملنے والی ایک دستاویز پر موجود نشانات سے ملتے جلتے تھے۔ یہ القاعدہ کے فاروق کیمپ کے لیے ایک درخواست تھی جہاں سے نائن الیون کے ہائی جیکرز میں سے چار نے تربیت پائی تھی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2396 کی بدولت یہ سویلین ذریعہ اب دنیا بھر میں عام ہو گیا ہے۔ یہ قرارداد تمام رکن ممالک سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کی نشاندہی کے لیے بائیو میٹرکس اکٹھے کریں۔ ہم اپنے شراکت دار ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ جس قدر جلد ممکن ہو اس ذمہ داری پر عمل کریں۔

حتمی بات یہ کہ اس ہفتے ہماری بات چیت میں ان تین ذرائع اور متعدد دیگر سویلین اہلیتوں پر بات ہوئی جنہیں ہم داعش کو شکست دینے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر استعمال کر رہے ہیں۔ داعش میں دب کر ابھرنے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ تنظیم شام اور عراق میں اپنی نام نہاد خلافت کے خاتمے کے باوجود ہمارے خلاف لڑنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ امریکہ اور ہمارے عالمی شراکت داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار کریں۔ شام اور عراق میں اس جدوجہد کے عسکری دور کے اختتام پر ہم اپنی سویلین اور نفاذ قانون کی اہلیتوں کو مضبوط بنائیں گے تاکہ اس گروہ کو پائیدار طور سے شکست دی جا سکے۔ آپ سب کا شکریہ، اب میں آپ کے سوالات کا جواب دینا چاہوں گا۔

مسٹر گرینن: جناب سفیر آپ کا شکریہ۔ اب ہم سوالات کی جانب جائیں گے۔

نگران: شکریہ، خواتین و حضرات، گر آپ سوال پوچھنا چاہیں تو براہ مہربانی اپنے ٹچ فون پر ٭ اور پھر 1 بٹن دبائیں۔ آپ کو ایک ٹون سنائی دے گی جو اس بات کا اشارہ ہو گا کہ آپ کو سوالات کی قطار میں شامل کر لیا گیا ہے۔ آپ # بٹن دبا کر کسی بھی وقت اس قطار سے باہر جا سکتے ہیں۔ اگر آپ سپیکر فون استعمال کر رہے ہیں تو نمبر دبانے سے پہلے براہ مہربانی ہینڈ سیٹ اٹھائیں۔ ایک مرتبہ پھر یاد دلاتے چلیں کہ اگر آپ نے سوال کرنا ہے تو ٭ اور 1 دبائیں۔ پہلا سوال اے ایف پی کے ڈیوڈ کلارک کریں گے۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: بریفنگ کے لیے شکریہ۔ میں آپ کی جانب سے اعلان کردہ نئی نامزدگیوں کی بابت پوچھنا چاہتا ہوں جو داعش سے وابستہ تنظیموں اور افراد پر عائد کی گئی ہیں۔ کیا انہیں الگ الگ نامزد کرنے کا فیصلہ اس امر کا اظہار ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ خودمختار ہو گئی ہیں؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اگر مرکزی داعش کا اب کوئی وجود باقی ہے تو یہ تنظیمیں اس سے کس قدر قریب ہیں؟

سفیر سیلز: ڈیوڈ، سوال کے لیے شکریہ۔ میرے خیال میں اب داعش تیزی سے عدم مرکزیت کی جانب جا رہی ہے۔ کچھ ہی دیر پہلے میں نے بتایا کہ کیسے وہ خود کو حالات کے مطابق تبدیل کر رہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ عدم مرکزیت کی جانب ان کا رحجان اس کی ایک اچھی مثال ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے ہر کونے سے ایسے گروہ داعش کے اسی خونی اور ہلاکت خیز نظریے سے سے متاثر ہو کر معصوم مردوخواتین اور بچوں کے خلاف اسی قسم کے طریق کار استعمال کر رہے ہیں۔ اسی طرح یہ عناصر آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسی لیے ہم نے دنیا بھر میں موجود ایسے گروہوں کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ عالمی برادری کی توجہ اس حقیقت کی جانب مبذول کرائی جائے کہ عراق اور شام میں جھوٹی خلافت کے خاتمے کا یہ مطلب نہیں کہ داعش بے اثر ہو گئی ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ داعش ایک عالمگیر نیٹ ورک ہے جو عالمی سطح پر پروپیگنڈہ اور خون خرابے کا ذمہ دار ہے۔ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ داعش اپنے اس مقصد کوجاری رکھنے کے لیے دنیا بھر میں عدم مرکزیت کی جانب گامزن ہے۔

مسٹر گرینن: شکریہ، جی اگلا سوال۔

نگران: دوسرا سوال ٹی ٹی آئی کے للت کی جانب سے ہو گا۔ جی بات کیجیے۔

سوال: ہیلو جناب سفیر، بریفنگ کے لیے شکریہ۔ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ آیا داعش بنگلہ دیش میں موجود ہے؟ اسی طرح افغانستان اور پاکستان میں کیا صورتحال ہے اور آپ خطے کے ممالک خصوصاً انڈیا کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیا میں داعش کی جانب سے سامنے آنے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

سفیر سیلز: سوال کے لیے شکریہ۔ جنوبی ایشیا دنیا کے ان حصوں میں شامل ہے جہاں داعش کی بڑی حد تک مضبوط موجودگی پائی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش اس کی نمایاں مثال ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا جولائی 2016 میں ڈھاکہ کے ہولی آرٹیسن بیکری ہوٹل پر حملے میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہم داعش خراسان سے وابستہ لوگوں کو بھی جنوبی ایشیا میں تلاش کر رہے ہیں جو تیزی سے پرعزم اور متحرک ہو رہے ہیں۔

ہم خطے میں اپنے شراکت دار ممالک کے تعاون سے اس خطرے کے حوالے سے مشترکہ سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو ان تنظیموں سے امریکہ اور مقامی حکومتوں کو لاحق ہے۔ ہم ان شراکت داروں کے ساتھ جوابی کارروائی کے طریقہ ہائے کار ترتیب دینے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ ان میں معلومات کا تبادلہ، معلوم اور مشتبہ دہشت گردوں کے حوالے سے مواد کا تبادلہ اور ایک سے دوسرے جنگی علاقے کا سفر کرنے والے دہشت گردوں کی نشاندہی کے لیے سرحدی سکیورٹی کو بہتر بنانا شامل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس خطرے کی مشترکہ سمجھ بوجھ رکھنے والے شراکت دار ممالک کو ساتھ ملا کر ہم اس سے بہتر طورپر نمٹ سکیں گے۔

مسٹر گرینن: جی اگلا سوال۔

نگران: آپ کا اگلا سوال اے بی سی نیوز کے کونر فنیگن کریں گے۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: ہیلو، کانفرنس کال کے لیے شکریہ۔ اگر اجازت ہو تو مجھے دو سوالات کرنا ہیں۔ کیا آپ نے گزشتہ دو روز میں دوسرے ممالک کو اس بات پر قائل کرنے میں کوئی کامیابی حاصل کی ہے کہ وہ اپنے پکڑے جانے والے دہشت گرد جنگجوؤں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔ مجھے اندازہ ہے کہ ان میں بہت سے ممالک کے لیے یہ ایک مسئلہ ہو گا اور وہ ایسا کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔ آپ نے گزشتہ صبح اپنی تقریر میں کہا کہ تمام حالات میں قانونی کارروائی مناسب نہیں ہوتی اور اسی لیے صدر نے گوانتانامو بے کا قید خانہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ کیا امریکی انتظامیہ نے کسی طرح کا تعین کیا ہے کہ کب کسی کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ہے اور کب کسی کو گوانتانامو بے بھیجنا ہے۔ شکریہ۔

سفیر سیلز: سوالات کے لیے شکریہ۔ سب سے پہلے جہاں تک عالمی سطح کا معاملہ ہے تو دفتر خارجہ نے دنیا بھر میں امریکہ کے دوستوں پر واضح کر دیا ہے کہ انہیں اپنے مسائل حل کرنے کے لیے دوسرے ممالک کی جانب نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگر کوئی ملک یہ دیکھتا ہے کہ اس کے شہری داعش کے ہمراہ لڑنے کے لیے شام اور عراق گئے ہیں تو یہ اس ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایس ڈی ایف،عراقیوں یا امریکہ سے توقع رکھنے کے بجائے خود ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ چنانچہ ہم اپنے شراکت داروں سے بات چیت میں بدستور یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں اپنے مسائل حل کرنے کے لیے دوسرے ممالک کی جانب نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اپنے شہریوں کے خلاف خود قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔

جہاں تک امریکہ سے متعلق آپ کا سوال ہے تو جیسا کہ آپ جانتے ہیں صدر کی جانب سے گوانتانامو بے کا قید خانہ برقرار رکھنے کے لیے جاری کردہ انتظامی حکم میں یہ شرط بھی موجود ہے کہ وزیردفاع دوسری بین الاداری شخصیات کے ساتھ مل کر مستقبل میں گوانتانامو بے میں منتقلی کے حوالے سے معیاری اصول کا جائزہ لیں گے۔ اس وقت یہ عمل جاری ہے چنانچہ فی الوقت اس بارے میں کہنے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔

مسٹر گرینن: شکریہ، اگلا سوال۔

نگران: اگلا سوال آئی اے ٹی کے تجندر سنگھ کی جانب سے ہے۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: شکریہ جناب سفیر، آپ نے اپنی گفتگو میں بنگلہ دیش اور پاکستان کا ذکر توکیالیکن انڈیا اورسری لنکاپرخاص توجہ نہیں دی۔ انڈیا کی طرف سے خطرہ کس قدر شدید ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کی آبادی کے اعتبار سے اور مجموعی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ کیا انڈیا کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے یا اگر ہے تو آپ نے اس حوالے سے کیا اقدامات کیے ہیں۔

سفیر سیلز: سوال کا شکریہ۔ انڈیا ہمارے لیے ناقابل یقین حد تک اہم اور قابل قدرملک ہے اور انسداد دہشت گردی میں امریکہ کا قریبی ساتھی ہے۔ جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ صدر اور وزیر اعظم کے درمیان ملاقاتوں کا ایک بہت مفید سلسلہ بھی رہا ہے اور انہی ملاقاتوں کے نتیجے میں امریکی اور انڈین حکومتوں نے حقیقی معنوں میں ایک مضبوط شراکت قائم کرنے کے لیے قدم آگے بڑھائے ہیں۔ ہم نے امریکہ میں دہشت گردی کے خطرے کے حوالے سے متعدد افراد کی نشاندہی بھی کی ہے جس کا انڈیا کو سامنا ہے۔ اس سے پہلے ہمارا انڈیا کے ساتھ معلوم اور مشتبہ دہشت گردوں کی معلومات کے تبادلے کا معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں امریکہ انڈیا تعاون کا مستقبل بہت روشن ہے اورمیں امید رکھتا ہوں کہ انڈین وزارت خارجہ میں میرے ہم منصب صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام کریں گے۔

سوال: شکریہ

مسٹرگرینن: بہت شکریہ، اگلا سوال

نگران: ہمارا اگلا سوال دی نیویارکر کے رابن رائٹ کی طرف سے ہے۔ جی سوال کیجیے۔

سول: شکریہ، میرے دوسوال ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ نے عدم مرکزیت کی بات کی جس سے داعش کی قیادت اور بغدادی کے بارے میں سوال کھڑا ہوتا ہے۔ کیا آپ کو کچھ اندازہ ہے کہ ان کا یا ان کے ارد گرد موجود لوگوں کا تنظیم پر کس قدر کنٹرول ہے۔ ان کے زخمی ہونے کے بارے میں متعدد اطلاعات آ چکی ہیں۔ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ ان کا داعش پر کس قدر کنٹرول ہے۔

دوسری بات یہ کہ کیا آپ نے داعش کے جنگجوؤں کی نقل و حرکت دیکھی ہے جو پہلے خلافت کے اندر ادلب جیسے علاقوں میں موجود تھے اور جہاں انہوں نے القاعدہ یا دوسری تنظیموں میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون داعش ہے اور کون القاعدہ۔

سفیر سیلز: سوال کا شکریہ رابن۔ میں پہلے آپ کے دوسرے سوال کا جواب دینا چاہوں گا۔ عراق میں داعش نے القاعدہ کے بطن سے جنم لیا تھا تو گزشتہ برسوں کے دوران داعش اور القاعدہ کے درمیان تعلق خاصا پیچیدہ رہا ہے لیکن جب سے داعش اپنے مقبوضہ علاقے سے محروم ہوئی ہے ہمیں تشویش ہے کہ جنگوں کاتجربہ رکھنے والے جنگجو اپنی صلاحیتیں دوسری تنظیموں میں جا کرآزما سکتے ہیں۔ چاہے ان کے مورچے تباہ ہو گئے تھے یا وہ حوصلہ ہار گئے تھے یا کسی دوسری قسم کے دہشتگرد نظرئیے کے قائل ہو گئے تھے، ان کا القاعدہ سمیت کسی بھی دوسری تنظیم میں شامل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ میرے پاس اس حوالے سے آپ کو بتانے کے لیے کوئی معلومات نہیں کہ اس قسم کی منتقلی کی شرح کتنی ہے لیکن یہ واقعی ہمارے لیے حقیقی تشویش کا باعث ہے اور ہماری اس پر پوری توجہ ہے۔

اب ذرا اپنا پہلا سوال دہرایے۔

سوال: بغداد ی کے بارے میں۔ ۔

سفیر سیلز: اوہ، ہاں

سوال:ان کا کتنا کنٹرول باقی ہے اور ان کے زخمی ہونے کی خبروں میں کتنی صداقت ہے۔

سفیر سیلز:سوال کے دوسرے حصے کے حوالے سے تو میں اپنے خفیہ اداروں کے ان ساتھیوں سے رجوع کرنے کو کہوں گا جو اس بارے میں مجھ سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ جہاں تک داعش کے مرکز اور دنیا بھر میں نیٹ ورک کاتعلق ہے تو ہمیں خطرات کے ایک پیچیدہ سلسلے کا سامنا ہے کیونکہ داعش بغداد یا داعش فلپائن جیسی علاقائی تنظیموں کے علاوہ ہمیں داعش کے ان عزائم سے بھی مستقل خطرہ ہے جن کے تحت وہ شورش زدہ علاقوں سے باہر بھی حملے کر سکتے ہیں جیسے کہ نومبر 2015 میں پیرس اور 2016کے موسم بہار میں برسلز میں دیکھنے میں آئے تھے۔

چنانچہ جیسے جیسے داعش دنیا میں پھیل رہی ہے، اس کا خطرہ زیادہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے رواں ہفتے واشنگٹن میں کانفرنس کا انعقاد کیا ہے تاکہ اپنے اتحادیوں کو اس کے خلاف کارروائی کرنے کی یاددہانی کراتے رہیں کہ اس پھیلاؤ کے خلاف لڑائی جاری رکھیں اور اس کے مرکز کو ختم کرنے پر بھی توجہ مرکوز رکھیں۔

مسٹر گرینن: شکریہ، اگلاسوال۔

نگران: اگلا سوال وائس آف امریکہ کے جیف سیلڈن کریں گے۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: شکریہ۔ میں رابن کے سوال کو آگے بڑھاؤں گا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ داعش منتشر ہو رہی ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مرکزی داعش کا حکم اب بھی اتناچلتا ہے کہ وہ حملے کرنے یا ان کی منصوبہ بندی کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔

میرے سوال یہ تھے کہ پی این آر اور بائیو میٹرکس کا کیا استعمال ہے۔ اور اس سے آپ کو غیر ملکی جنگجوؤں اور ممکنہ جہادیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں کیا رہنمائی ملتی ہے کہ وہ کس شکل میں دوسری تنظیموں میں جا رہے ہیں یا کس طرف جا رہے ہیں۔ خاص طور پر افریقہ میں داعش اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں چاہے یہ جگہ حاصل کرنے کے لیے ہو یا زیادہ سے زیادہ جہادیوں کو بھرتی کرنے کےلیے۔ شکریہ۔

سفیر سیلز: جہاں تک نقل و حرکت کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ کچھ ایسے ملک جہاں داعش کے جنگجو جا سکتے ہیں یا جہاں سے آ سکتے ہیں، ان میں سے متعدد نے ابھی تک پی این آر نظام کو اس طرح رائج نہیں کیا جیسے امریکہ یا اس کے کچھ قریبی اتحادیوں نے کیا ہے۔ چنانچہ ان ملکوں کے لیے اپنی سرحدوں کے آرپار ایسے لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ نے اس بات کو یقینی بنانے کی درخواست کی ہے کہ تمام رکن ملک پی این آر سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے ایسا نظام تشکیل دینے کی کوشش کریں جیسا کہ ہمارے پاس امریکہ میں ہے اور جس کے بارے میں یورپی یونین نے اپنے رکن ممالک کو ہدایت کی ہے کہ وہ رواں سال مئی تک اسے نافذ کریں۔

جہاں تک نئے افراد بھرتی کرنے یا دوسری تنظیموں کے افراد کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے حوالےسے داعش اور القاعدہ میں مقابلے کا تعلق ہے، یہ واقعی ایک تشویش ناک امر ہے۔ دونوں تنظیموں میں اختلاف اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہی ہیں۔

امریکہ کے نقطہ نظر سے یہ باقی دنیا کے لیے اچھی چیز نہیں ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہمیں داعش کے مرکز کا سامنا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہم داعش کے منتشر نیٹ ورک کو دیکھ رہے ہیں جو اپنی آزاد حیثیت میں یا دوسری تنظیموں کے ساتھ مل کر حملہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے میں ہمارے سامنے سخت جان القاعدہ بھی ہے جو حالیہ برسوں میں شہ سرخیوں سے باہر رہی ہے لیکن اس میں تباہ کن حملے کی بھر پور صلاحیت اور نیت موجود ہے۔

رواں ہفتے واشنگٹن میں کانفرنس کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عالمی برادری کی توجہ اس پہلو کی طرف بھی مبذول کرائی جائے۔ ہمیں سلامتی کے حوالے سے ایک ایسے خطرناک ماحول کا سامنا ہے جس میں کئی طرح کی دہشت گردی کے خطرات ہمارے سامنے کھڑے ہیں اور یہ خطرات ایک دوسرے کے مقابل بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے بائیو میٹرکس اور پی این آر کے حوالے سے سنجیدہ ہونے کی ایک وجہ ہے۔

مسٹرگرینن:شکریہ۔ اگلا سوال

نگران: اگلاسوال واشنگٹن پوسٹ کی ایلن ناکاشیما کریں گی۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: شکریہ۔ میں گفتگو کے ابتدائی حصے میں شریک نہیں ہو سکی۔ قدرے لیٹ آئی تھی تاہم میں قانونی کارروائی والے سوال پر واپس جانا چاہوں گی خاص طور پر اس لیے بھی کہ آپ نے اس حوالے سے بھی بات کی کہ ہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کر رہے ہیں۔ آپ نے یہ ذکر بھی کیا کہ آپ نے اپنے اتحادیوں کو اپنی توقعات بھی بتائی ہیں کہ انہیں خود مقدمے چلانے کے قابل ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ محکمہ انصاف جس کا آپ خود بھی کبھی حصہ رہے ہیں کا بین الاقوامی دہشت گردوں پر مقدمات چلانے کے حوالے سے بہت کامیاب ٹریک ریکارڈ ہے۔ جس حد تک آپ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کرنے کی بات کر رہے ہیں تو سویلین سطح پر قانونی کارروائی کو کس قدر کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ کس قدر خوف پید اکر سکتے ہیں۔ اس کے بعد بیٹلز کے حوالے سے بھی میرے پاس ایک ضمنی سوال موجود ہے۔

سفیر سیلز:شکریہ ایلن، آپ نے اچھا سوال کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ قانون کا نفاذ بہت اچھا حربہ ہو سکتا ہے۔ دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لیے مقدمہ بازی کا کردار بہت اہم ہو سکتا ہے۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں مقدمہ بازی پہلے آپشن کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ یقینا یہ واحد آپشن نہیں ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ابھی اور بھی بہت سے ہتھیار موجود ہیں جنہیں ہمیں علیحدہ علیحدہ کیس کے حوالے سے استعمال کر کے دیکھنا چاہیے۔ ان کے علاوہ ایک حربہ فوجی حراست بھی ہے۔ اگر آپ کسی کو میدان جنگ میں گرفتار کریں اور کئی حوالوں سے آپ سمجھیں کہ قانون کا نفاذ اس معاملے میں مناسب نہیں تو پھر صدر کا انتظامی حکم اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ہم متعدد آپشنز میں سے فوجی حراست کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

مسلح تصادم کے حوالے سے حراستی قانون بھی ایک حربہ ہے جو امریکی فوج نے مسلح تصادم کے حوالے سے وقتا فوقتا استعمال کیا ہے اور صدر نے اس ہتھیار کو بھی یہاں استعمال کیلئے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس مقدمہ بازی اور غیر فوجی رد عمل کے حوالے سے بھی کئی ایک آپشنز ہیں جو اس صورت میں زیادہ اہمیت اختیار کر جائیں گے جب ہم غیرملکی دہشت گردوں کے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ واپس آنے کی صورت میں استعمال کرسکتے ہیں۔ جب کوئی شام کے جنگ زدہ علاقے سے واپس یورپ آتا ہے اور اپنے ہمراہ ایک چھ سالہ بچہ بھی لے کر آتا ہے تو آپ اس بچے کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ یہ ایسا شخص ہے جو کئی صورتوں میں رجعت پسندی کا شکار رہا ہے یا تشدد کا سامنا کرتا رہا ہے چاہے انٹرنیٹ پر اور چاہے وہاں ہونے والے مظالم اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا ہے۔ یہاں قانون کا نفاذ غالبا ًدرست نہ ہو گا، اس کے لیے آپ کو مقدمہ بازی کے علاوہ دوسرے آپشنز کو زیر غور لانا ہو گاجیسے طبی ذرائع، معاشرتی ذرائع، مذہبی ذرائع جن کا مقصد ان تکالیف کا ازالہ کرنا ہے جن کا یہ بچہ سامنا کرتا رہا ہے تاکہ بچے کو ان صدمات کے اثر سے نکالا جا سکے جن کا بچہ جنگ زدہ علاقے میں سامنا کرتا رہا ہے۔

سوال: شکریہ، لیکن سخت دل دہشت گردوں کی صورت میں جیسے کہ بیٹلز کے دو باقی ماندہ ارکان الشیخ اور کوٹے کا معاملہ ہے جن کا تعلق داعش سے ہے تو ان کے معاملے میں تو محکمہ خارجہ کا یہی موقف رہا ہے کہ ان پر مقدمہ برطانیہ میں چلنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاں مقدمہ بازی کرنے والے ان پر مقدمات چلانے کے لیے بے تاب بھی ہیں۔ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کو مقدمہ چلانے کے لیے برطانیہ بھیجا جائے جبکہ ان کے قبضے میں کچھ امریکی بھی تھے جن کے انہوں نے سر قلم کیے تھے اور انہیں انصاف کے کٹہرے تک لانے میں امریکہ کی دلچسپی بھی بہت زیادہ ہے اور ہمارے پاس یہاں کی عدالتوں میں اس حوالے سے ذرائع بھی دستیاب ہیں جن کا آپ نے حوالہ بھی دیا ہے۔

سفیر سیلز: جی سوال کا شکریہ

سوال: ذرا وضاحت کر دیجیے۔

سفیر سیلز: جی، میں اس پوزیشن میں نہیں کہ آپ کو کسی ایسی سفارتی گفتگو سے آگاہ کر سکوں جو ہماری ان مخصوص قیدیوں کے حوالے سے برطانیہ کے ساتھ ہو رہی ہے۔ جو بات میں آپ کو بتا سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ انگریزی امریکی قانونی روایات اس قسم کے مقدمات نمٹانے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں اور امریکہ کا مفاد یہ ہے کہ انصاف ہو۔ آپ کے پاس سخت جان جنگجووں کی ایک جوڑی ہے جنہوں نے متعدد ملکوں کے شہریوں کے ساتھ مظالم روا رکھے ہیں۔ امریکی شہری بھی ان کا شکار بنے، برطانوی بھی اور دنیا کے دوسرے ملکوں کے شہری بھی۔ اور ہمارا عزم اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ اپنے جرائم کے حوالے سے انصاف کا سامنا کریں۔

مسٹر گرینن: بالکل ٹھیک۔ آپ کا بہت شکریہ۔ اب ہم آخری سوال کی طرف جائینگے۔

نگران: آخری سوال این بی سی نیوز کے ایبیجیل ولیمز کی طرف سے ہے، جی بات کیجیے۔

سوال: موقع دینے کا شکریہ۔ میں اپنے ایک ساتھی ہی کے سوال کو آگے بڑھائوں گا جس میں داعش کی افریقہ میں موجودگی اور اس کے بوکوحرام اور الشباب جیسی تنظیموں کے ساتھ روابط کا ذکر ہوا۔ کیا آپ ان رجحانات کے حوالے سے کچھ بتا سکتے ہیں جو آپ وہاں دیکھ رہے ہیں کہ آیا وہ داعش کے کس قدر قریب آ رہے ہیں اور اس کے علاوہ وہ ذرائع جنہیں آپ امریکی ہتھیار کہہ رہے ہیں جن کے بارے میں آپ کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار داد کے تحت سب ملک اپنے ہاں لاگو کریں، کیا وہ وہاں موثر نہیں یا موجود نہیں ہیں۔ آپ ان ملکوں سے کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہ داعش کے ساتھ دوسری تنظیموں کے تعلق کو کمزور کرنے کے لیے کیا طریقے اختیار کریں؟

سفیر سیلز: بہت شکریہ۔ میں پہلے سوال کا جواب پہلے دوں گا یعنی افریقہ میں داعش اور القاعدہ کی تنظیموں کے درمیان تعلق۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو یہی توقع ہو گی کہ یہ ایک غیر واضح صورت حال ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ مختلف تنظیموں کو یکجا دیکھتے ہیں اور کبھی پہلے سے یکجا تنظیموں کو علیحدہ ہوتا دیکھتے ہیں اور داعش شمالی افریقہ اور اس کا بوکوحرام سے تعلق یا قطع تعلق اس کی بہترین مثال ہے۔ اس سے پہلے متحدہ تنظیمیں اپنی باقیات سے علیحدہ ہو گئیں اور مختلف بین الاقوامی قیادتوں کے ساتھ اتحاد کر لیا۔

ہم اس صورت حال کے حوالے سے دوسرے ملکوں کی مدد کر رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ مثال کے طور پر اس سلسلے میں ہم نے مسافروں کے بارے میں معلومات کے لیے اپنا نظام ان ملکوں کو فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے جو اسے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسے اے ٹی ایس جی یا آٹو میٹڈ ٹارگٹنگ سسٹم گلوبل کہا جاتا ہے اور ہم نے یہ نظام کئی برسوں سے ان ممالک کو فراہم کیے رکھا ہے جو چاہتے ہیں کہ اپنی سرحد عبور کرنے والے ملکوں کے لوگوں کی نقل و حرکت کی خبر رکھیں۔ ایسا کرنے والے ہم اکیلے نہیں ہیں۔ہالینڈ بھی ایسے طریقے دریافت کرنے کے لیے کوشاں ہے جن کے ذریعے وہ اپنا نظام مختلف بین الاقوامی ذرائع کو مہیا کر سکے۔ سو یہ ایک مثال ہے کہ ہم دوسرے ملکوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کیا کر رہے ہیں جو کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس وسائل دستیاب نہیں۔

مسٹر گرینن: ٹھیک ہے۔ بہت شکریہ۔ شرکت کرنے والے تمام احباب کا بھی شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں