rss

جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے بیورو کی اول نائب معاون وزیر ایلس ویلز کی پریس بریفنگ

English English, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
5 مارچ 2018

غیرمدون/ مسودہ

مسٹر سیلز: آج ایلس ویلز ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ وہ جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے بیورو کی اعلیٰ عہدیدار ہیں۔ وہ اپنے حالیہ دورہ کابل اور گزشتہ ہفتے کابل امن عمل کے حوالے سے کانفرنس کی بابت آن دی ریکارڈ بات کریں گی۔ جیسا کہ آپ سبھی جانتے ہیں، ہم چاہیں گے کہ سوالات اسی موضوع پر مرکوز رہیں جس کے بارے میں وہ آج بریفنگ دے رہی ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی اور سوال ہو تو ہم اس کا علیحدہ جواب دے سکتے ہیں۔ مگر ہم چاہیں گے کہ جہاں تک ممکن ہو موضوع تک ہی محدود رہا جائے۔ اس کے ساتھ ہی میں ایلس ویلز سے کہوں گا کہ وہ افتتاحی کلمات کہیں۔ اس کے بعد ہم آپ کے سوالات کی جانب آئیں گے۔

ایلس ویلز: بریفنگ میں شرکت کا شکریہ۔ مجھے امید تھی کہ یہ بریفنگ جمعے کو دوں گی تاہم حکومتی دفاتر بند ہونے کے باعث ایسا نہ ہو سکا، اس سے مجھے سہولت بھی حاصل ہوئی، میں قدرے جیٹ لیگ کا شکار بھی تھی کہ اسی صبح میری واپسی ہوئی۔ میں سمجھتی ہوں کہ کابل امن عمل واقعتاً ایک تاریخی اور رہنما موقع تھا۔ جیسا کہ صدر غنی نے میڈیا سے بات میں کہا واقعتاً یہ ان کی ہمت اور ایقان ہی تھا جس کی بدولت انہوں نے طالبان کے ساتھ مفاہمتی عمل کا تصور آگے بڑھایا۔ مجھے اس موقع پر 25 دیگر ممالک کی شرکت اور صدر کی جانب سے اس بات پر اصرار میرے لیے انتہائی متاثر کن تھا کہ امن ناصرف قومی بلکہ مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔

جب میں نے صدر غنی سے بات کی تو انہیں باوقار امن عمل کی پیشکش کرتے سنا۔ یہ طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ سیاسی فریم ورک تک پہنچنے کا ایک باوقار عمل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پیشگی شرائط کے بغیر بات چیت ہے اور یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے نتیجے میں تشدد اور دہشت گردی کے ساتھ تعلق کا خاتمہ ہو گا اور افغان آئین کا احترام کیا جائے گا۔ تاہم یہ بات واضح تھی، میں سمجھتی ہوں کہ افغان حکومت نے طالبان کی بات غور سے سنی ہے اور دفتر، پاسپورٹس اور فہرستوں سے اخراج جیسے معاملات کی اہمیت کے حوالے سے مثبت ردعمل ظاہر کیا اور ان معاملات کو صدر غنی کی جانب سے کی گئی پیشکش میں شامل کیا۔ یہ ایک باوقار گفت و شنید کے اہتمام کا طریق کار ہے۔

انہوں نے جامع طور سے بات کی۔ وہ ایک سیاسی عمل، ایک فریم ورک، جنگ بندی اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات میں طالبان کو سیاسی جماعت کے طور پر لینے کی بابت بات کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک سیاسی فریم ورک کی بات کی جس میں یہ سب کچھ شامل ہو گا خواہ یہ فریم ورک آئینی ترامیم کے ذریعے ترتیب پائے اور طالبان کے خلاف عالمی و قومی سطح پر پابندیاں ہٹائی جائیں۔ یہاں میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ انہوں نے اس عمل کو ایک معاشی پیکیج، اس اصلاح کو تسلیم کیے جانے، توازن اور ترقی کے ذریعے بھی سہارا دیا ہے جس کی بدولت جنگجوؤں کو معاشرے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنے میں مدد ملے گی۔ میں نے اس حوالے سے افغان حکومت اور عالمی برادری کی کوششوں کو واقعتاً مخلص پایا۔ میں واضح طور پر سمجھتی ہوں کہ طالبان کے ساتھ اس نکتے پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اس مسئلے کا سیاسی حل نکلنا چاہیے اور میں سمجھتی ہوں کہ ہم نے جنوبی ایشیائی حکمت عملی کے تحت یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ ہم طالبان کو عسکری محاذ پر جیتنے نہیں دیں گے، تاہم جنوبی ایشیائی حکمت عملی کا مقصد سیاسی سمجھوتے کے لیے راہ فراہم کرنا ہے۔

یہاں اس بات پر زور دینا اہم ہے کہ یہ بات چیت کسی ایک یا دوسرے فریق کے قانونی جواز پر گفت و شنید نہ سمجھی جائے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ افغان حکومت امارت اسلامی افغانستان کو تسلیم نہیں کرتی اور یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ طالبان افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ تسلیم کیے جانے کا معاملہ اس عمل کے آخر میں آئے گا۔ میں سمجھتی ہوں کہ امریکہ سہولت کار اور معاون کی حیثیت سے اس عمل میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے تاہم یقینی طور پر ہم افغان حکومت اور افغان عوام کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

میں نے طالبان کی جانب سے بیانات میں امریکی افواج کی موجودگی اور بات چیت کی پیشگی شرط کےطور پر غیرملکی فوجی دستوں کو واپس بھیجنے کی بابت اکثر سنا ہے، تاہم میں اس بات پر زور دوں گی کہ فوجوں کی موجودگی ایک خودمختارانہ فیصلہ ہے جو افغانستان کی حکومت نے کیا ہے۔ امریکہ افغانستان میں قابض طاقت نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت مہمان کی سی ہے اور یہ افغان حکومت کی دعوت پر سلامتی سے متعلق باہمی معاہدے کے تحت وہاں آیا ہے اور امریکی فوج کی آمد کی منظوری وہاں افغان عوام کے روایتی لویہ جرگہ نے دی ہے اور اس میں کوئی جبر کارفرما نہیں تھا۔

چنانچہ کابل امن عمل کے حوالے سے میں نے دیکھا ہے کہ عالمی برادری نے صدر غنی کی جانب سے سوچے سمجھے اور جامع پیکیج کی پیشکش کی بھرپور طور سے تائید کی ہے جو مستقبل کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا اور جس پر طالبان کو بھی نہایت حیرانی ہوئی۔ میں اپنی بات یہیں ختم کر کے اب آپ کے سوالات کی جانب آؤں گی۔

مسٹر سیلز: ٹھیک ہے۔ اب ہم سوالات لے سکتے ہیں۔ براہ مہربانی سوال سے پہلے اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتائیے۔

سوال: میرا نام فرانسسکو فونٹیمیگی ہے اور میرا تعلق اے ایف پی سے ہے۔ صدر غنی کی پیشکش کے علاوہ اور کون سی بات سے آپ کو اچھی امید وابستہ ہے؟ کیا آپ کو میدان جنگ میں طالبان کی پوزیشن کے حوالے سے کچھ ایسا دکھائی دیتا ہے جس سے ان کی جانب سے مزید اقدامات کی امید ہو سکتی ہو؟ آپ نے کہا کہ انہیں صدر غنی کی پیشکش سے نہایت حیرانی ہوئی، تاہم کیا آپ سمجھتی ہیں کہ وہ اس پیشکش کو قبول کریں گے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ نے کہا ان مذاکرات کے لیے آئین کے علاوہ کوئی پیشگی شرائط نہیں ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ طالبان کو ترمیم کے بعد آئین کو قبول کرنے کے لیے کہا جائے گا یا انہیں موجودہ آئین کو ہی قبول کرنا پڑے گا؟

ایلس ویلز: میں نہیں سمجھتی کہ طالبان نے اس پیشکش کا باقاعدہ طور سے کوئی جواب دیا ہے۔ آپ نے متعدد اخباری مضامین میں تبصرے دیکھے ہوں گے تاہم ان کی جانب سے باقاعدہ طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ کابل امن عمل اس حوالے سے اہم تھا کہ اس سے یہ واضح ہوا کہ انہیں کیا پیشکش کی گئی ہے اور اور مذاکرات کی میز پر ان کے لیے کیا موجود ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ یہ باوقار سیاسی مذاکرات کے لیے افغانوں کی جانب سے کی جانے والی پیشکش ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگر آپ کابل امن عمل کو دیکھیں تو صرف صدر غنی ہی پیشکش نہیں کر رہے۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر عبداللہ، وزیرخارجہ ربانی اور ان کی قومی اتحاد کی حکومت کے شراکت دار بھی ہیں۔ وہاں سول سوسائٹی کے ارکان، خواتین نمائندگان اور اعلیٰ سطحی امن کونسل کے رکن بھی موجود تھے۔ افغان عوام کی جانب سے یہ نہایت جامع پیشکش تھی۔

لہٰذا میں سمجھتی ہوں کہ اب طالبان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ طالبان نے ماضی میں امن عمل پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔ صدر نے طالبان کی جانب سے شہری آبادی پر نہایت قابل مذمت حملوں سے چند ہفتے بعد ہی یہ پیشکش آگے بڑھائی ہے۔ یہ ایسے حملے تھے جن میں طالبان نے معصوم شہریوں کو قتل کرنے کے لیے ایمبولینس کا استعمال کیا اور تمام عالمی قوانین اور ضوابط روند ڈالے تھے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ صدر کی جانب سے نہایت باہمت پیشکش تھی جو کہ افغان عوام کی جانب سے سیاسی سمجھوتے کی ضرورت کی بابت عزم کا اظہار کرتی ہے۔

لہٰذا ہم نہایت احتیاط سے معاملات کا جائزہ لیں گے۔ ہم طالبان کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ اس پیشکش کو سنجیدگی سے لیں۔ پہلی مرتبہ کابل امن عمل میں ایک متفقہ مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس پر سبھی کا اتفاق تھا۔ گزشتہ برس جون میں ہونے والے کابل امن عمل میں ایسا نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ میں سمجھتی ہوں کہ اس سے عالمی برادری کی جانب سے اس حکومت کی کوششوں کی حمایت کے حوالے سے سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔

جہاں تک پیشگی شرائط نہ ہونے کی بات ہے تو صدر غنی نے واضح کیا کہ آئینی ترامیم پر بات ہو سکتی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ عالمی برادری افغان عوام کے حقوق کے فروغ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ کابل امن عمل کے موقع پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میں اس بات کو نمایاں کروں گی کہ افغان عوام امن چاہتے ہیں مگر انہیں اپنے وقار اور ترقی کی قیمت پر یہ سب کچھ منظور نہیں ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ صدر غنی کی جانب سے افغان خواتین کی ترقی پر زور دینا ایک سنجیدہ بات ہے اور ہمیں اس کی حمایت کرنی چاہیے۔

سوال: میرا نام دمتری کرسانوو ہے اور میں روسی خبر ایجنسی تاس سے وابستہ ہوں۔ ازبکستان کی حکومت اس ماہ کے آخر میں تاشقند میں امن و سلامتی کے حوالے سے عالمی کانفرنس بلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس میں امریکہ، روس، چین، انڈیا اور پاکستان کو مدعو کیا گیا ہے اور ان کے علاوہ بہت سے دیگر ممالک اور ادارے بھی شامل ہوں گے۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ یہ اقدام کابل امن عمل اور متعلقہ عالمی کرداروں کی جانب سے ایسی دیگر کوششوں کی تکمیل کرے گا؟ دوسری بات یہ کہ آیا امریکہ اس کانفرنس میں شریک ہو رہا ہے اور اس کی نمائندگی کون کرے گا؟

ایلس ویلز: ہم تاشقند کانفرنس میں شرکت کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ابھی ہم نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اس موقع پر امریکہ کی نمائندگی کون کرے گا۔ ہم تاشقند کانفرنس کو کابل امن عمل آگے بڑھانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے لیے اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام طریقہ ہائے کار اور کانفرنسیں افغانوں کے لیے قابل قبول اور انہی کی قیادت میں ہونی چاہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں تاشقند کانفرنس کا فیصلہ صدر غنی اور ازبک صدر مرزیویو کے مابین ملاقات میں ہوا تھا۔ یہ کسی افغان رہنما کی جانب سے ازبکستان کا پہلا دورہ تھا جس کے نتیجے میں بہت سے معاہدے ہوئے جن میں معاشی معاہدے خاص طور پر اہمیت رکھتے ہیں جن کی بدولت دونوں ممالک میں ربط کو وسعت ملے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وسطی ایشیا اور خاص طور پر صدر مرزیویو کے زیرقیادت ازبکستان افغانستان کو دوبارہ خطے کا پرامن اور اہم ملک بنانے میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ افغانستان کے استحکام کے لیے خطے کے ممالک سے توانائی، تجارت اور عوامی سطح پر باہمی تعلقات بے حد اہم ہیں۔ لہٰذا میں کہوں گی کہ ہم اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔

سوال: شکریہ

سوال: میں پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے للت جھا ہوں۔ اس امن عمل میں پاکستان کا کس حد تک کردار ہے؟ جیسا کہ آپ نے متعدد مواقع پر کہا، اس امن عمل میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔ دوسری بات یہ کہ کیا آپ سمجھتی ہیں بات چیت اور دہشت گردی اکٹھے چل سکی ہیں؟

ایلس ویلز: بات چیت اور دہشت گردی؟ اس امن عمل میں پاکستان کا نہایت اہم کردار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اس بات چیت میں سہولت کاری اور سیاسی گفت و شنید پر مبنی سمجھوتے کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے یقیناً اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ ہماری شمولیت کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ہم مل کر کیسے چل سکتے ہیں اور بات چیت پر مبنی امن عمل کے ذریعے پاکستان کے جائز خدشات کیسے دور کیے جا سکتے ہیں اور افغانستان کا استحکام کیونکر ممکن ہے۔ یقیناً پاکستانی حکام نے بہت سے مسائل کا تذکرہ کیا خواہ یہ سرحدی انتظام ہو، مہاجرین کا مسئلہ ہو یا دہشت گردی ہو جو افغانستان میں بے حکومتی علاقے سے جنم لیتی ہے۔ یہ اہم مسائل ہیں اور ہم اتفاق کرتے ہیں کہ مفاہمتی عمل میں ان تمام مسائل کو حل ہونا چاہیے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جنوبی ایشیائی حکمت عملی کے تحت طالبان پر عسکری دباؤ بڑھانے کی کوششوں میں اضافہ اہمیت رکھتا ہے۔ ان عسکری کوششوں سے بات چیت کے لیے شرائط کو ترتیب دینے میں مدد ملے گی اور یہ بات نمایاں ہو گی کہ طالبان عسکری محاذ پر جیت نہیں سکتے اور ان کی جائز محرومیوں کا ازالہ مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے۔ ہم چاہیں گے کہ وہ تاخیر کے بجائے فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آ جائیں۔

سوال: آپ نے پاکستان کے جائز خدشات کی بات کی، کیا میں اس حوالے سے جان سکتا ہوں کہ وہ کیا ۔۔۔۔

ایلس ویلز: میں نے ایسے بعض خدشات کا ابھی تذکرہ کیا ہے۔ انہیں سرحدی انتظام، تحریک طالبان پاکستان اور افغانستان میں حکومتی عملداری سے محروم علاقے میں اس کی موجودگی نیز مہاجرین کے معاملات پر تشویش ہے۔ افغانستان اور پاکستان کا تعلق نہایت اہم ہے۔ ہم باہمی تعلقات بہتر بنانے کے لیے ان کوششوں کے حامی ہیں۔ دونوں ممالک میں گزشتہ کئی ماہ میں وفود کا تبادلہ ہوا ہے اور اس دوران باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی سمت میں کوششیں کی گئیں۔ ہم اس کی حمایت کرتے ہیں اور اسے اہم سمجھتے ہیں۔

سوال: شکریہ

سوال: میں بلومبرگ سے نک ویڈیمز ہوں۔ دیکھا جائے تو کابل میں سکیورٹی کے حوالے سے صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے اور زمین پر یا آبادی میں طالبان کا کنٹرول ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ آپ کے پاس طالبان کو مذاکراتی میز پر لانے کا کیا ذریعہ ہے اور کیا آپ سمجھتی ہیں کہ طالبان کا کوئی ایک ایسا رہنما ہے جو ان کے مختلف دھڑوں کو اکٹھا کر کے مذاکرات کی میز پر لا سکے؟

ایلس ویلز: میں آپ کی آخری بات کا جواب پہلے دوں گی۔ میں سمجھتی ہوں کہ وہاں ایسے عناصر یا دھڑے موجود ہیں جو مذاکراتی عمل میں شریک نہیں ہوں گے۔ ان سے مفاہمت نہیں ہو سکتی۔ میرے خیال میں سیاسی عمل سے اس کی وضاحت ہوتی ہے کہ کس سے مفاہمت ممکن ہے ، کون مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہے اور کون سیاسی عمل کے ذریعے ترتیب پانے والے معاہدے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔ لہٰذا پہلے سے یہ تعین کرنا اہم نہیں کہ کس سے مفاہمت نہیں ہو سکتی، اس کے بجائے امن عمل کو یہ تعین کرنے دیا جائے۔ تاہم یقینی طور پر ہم یہ اندازہ قائم کریں گے کہ طالبان کے علاوہ بھی ایسے عناصر ہوں گے جن کی جانب سے دہشت گردی کا خظرہ ہو گا اور افغان حکومت کو اپنے شراکت داروں کی مدد سے ان سے نمٹنا ہو گا۔

جہاں تک کابل میں سکیورٹی کی صورتحال کا تعلق ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ جب ہم نے میدان جنگ میں ان پر دباؤ بڑھایا ہے تو اس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں انہیں عسکری اعتبار سے نقصان پہنچا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے شہروں کا رخ کیا ہے۔ اگر وہ شہری آبادی پر مزید حملے کریں تو یہ بات حیران کن نہیں ہو گی۔ لہٰذا ہم ناصرف کابل بلکہ دوسرے شہری مراکز میں بھی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

تاہم جنوبی ایشیائی حکمت عملی کے تحت مستقبل میں بڑے پیمانے پر کامیابی کا یہ ایک ذیلی اثر ہے۔ میں اس اندازے سے اتفاق نہیں کرتی کہ طالبان کے تسلط میں اضافہ ہو رہا ہے۔ طالبان کا 12 فیصد آبادی پر کنٹرول ہے جبکہ حکومتی عملداری 56 فیصد پر ہے۔ دیگر علاقوں میں صورتحال متنازع ہے۔ گزشتہ برس طالبان کسی بڑے شہری مرکز کے لیے خطرہ بننے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ چنانچہ میدان جنگ میں کامیابی کے حوالے سے ان کی امیدیں ٹوٹی ہیں اور جنوبی ایشیائی حکمت عملی کے تحت مزید اقدامات کے نتیجے میں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

چنانچہ ہم میدان جنگ کے حالات میں تبدیلی دیکھیں گے مگر اس کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل کے لیے دروازے کھلے رکھے جائیں گے۔ لہٰذا جنوبی ایشیائی حکمت عملی کو عسکری منصوبہ کہنا درست نہیں ہے۔ اس حکمت عملی کے دو حصے ہیں اور ہر حصے پر برابر غوروفکر اور محنت کی گئی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ صدر غنی نے اپنے ملک، طالبان اور افغان عوام کے لیے مستقبل کی راہ دے کر ایک نہایت موثر کام کیا ہے۔

سوال: میں بل گیلو ہوں، میرا تعلق وائس آف امریکہ سے ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا آپ نے امریکی امداد کی معطلی کے بعد افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے رویے میں کوئی تبدیلی دیکھی ہے؟

ایلس ویلز: ہم نے تاحال پاکستان کے رویے میں فیصلہ کن اور پائیدار تبدیلیاں نہیں دیکھیں۔ تاہم یقیناً ہم پاکستان کے ساتھ ان معاملات کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں جن کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کے حوالے سے تبدیلی کے ضمن میں وہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سوال: کیا میں اس حوالے سے ایک اور بات پوچھ سکتا ہوں کیونکہ میں یہ سوال کرنے والا تھا؟ میرا مطلب ہے کہ کیا امداد کی معطلی کارگر ثابت نہیں ہوئی؟

ایلس ویلز: میں یہ بات نہیں کہوں گی۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم پاکستانی حکومت کے ساتھ یہ عمل شروع کر رہے ہیں۔ ہمارے مابین اعلیٰ سطحی روابط ہوئے ہیں، سیکرٹری خارجہ جنجوعہ کل یہاں واشنگٹن میں ملاقاتیں کریں گی۔ ہم پاکستان کو چھوڑ نہیں رہے۔ ہمارے مابین فوجی اور سویلین ذرائع سے نہایت بھرپور بات چیت ہو گی جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ دونوں ممالک مل کر کیسے کام کر سکتے ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ افغانستان کے استحکام میں پاکستان کو ایک اہم کردار ادا کرنا ہے۔

سوال: میرا نام میتھیو پینگٹن ہے اور میں اے پی سے وابستہ ہوں۔ افغانوں کے زیرقیادت امن عمل کے پیش نظر کیا آپ سمجھتی ہیں کہ یہ ایسا موقع ہے جب امریکہ اور طالبان میں براہ راست بات چیت ہونی چاہیے؟ کیونکہ یوں دکھائی دیتا ہے کہ طالبان تسلسل سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ امریکہ سے بات کریں گے کیونکہ افغانستان میں اسی کی فوجیں موجود ہیں۔

ایلس ویلز: میں ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دوں گی کہ افغانستان میں ہماری فوجیں وہاں کی خودمختار حکومت کی دعوت پر آئیں۔ اسی لیے ہم اس حوالے سے خودمختار حکومت سے بات کرتے ہیں۔ تاہم میرے خیال میں سب سے پہلے طالبان اور افغان حکومت میں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کے لیے اتفاق ہونا چاہیے۔ تاہم میں پھر کہوں گی کہ اسے ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے لیے ہونے والی بات چیت نہ سمجھا جائے۔ یہ افغان حکومت اور افغان طالبان کی سیاسی تحریک کے مابین مذاکراتی عمل ہے۔

اس کے بعد میں توقع رکھوں گی کہ امن عمل کی حمایت میں دلچسپی رکھنے والے علاقائی شراکت دار بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس بات چیت کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے وسیع تر تائید سامنے آئی ہے۔ اب اس حوالے سے عالمی رابطہ گروپ اور کابل امن عمل موجود ہے، ماضی میں چھ جمع ایک ممالک تھے۔ ہم نے چینیوں، افغانوں اور پاکستانیوں کے ساتھ چار رخی طریق کار وضع کیا ہے۔ عالمی برادری نے امن عمل میں معاونت کے لیے خود کو کئی انداز میں منظم کیا ہے تاہم اصل میں دیکھا جائے تو یہ عمل افغانوں کے مایبن ہے اور ہم اس میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

سوال: کیا آپ اس امر کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ پہلے مرحلے کے طور پر امریکہ اور طالبان میں براہ راست بات چیت ہونی چاہیے؟

ایلس ویلز: افغان طالبان اور افغان حکومت کو ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کے قابل ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ پہلے قدم کے طور پر اہم ہو گا۔

سوال: اگر امریکہ اور طالبان کے مابین براہ راست بات چیت سے حکومت اور طالبان کو یہ سہولت مل سکتی ہے تو ۔۔۔۔

ایلس ویلز: امریکہ ۔۔۔۔

سوال: ۔۔۔۔ کیا آپ اس پر غور نہیں کریں گے؟

ایلس ویلز: امریکہ افغان عوام اور افغان حکومت کا متبادل نہیں ہے اور افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کے عوام کے لیے یہ بات نہایت ترغیب کن ہو گی کہ وہ اب 1990 کی دہائی جیسے نہیں رہے، جیسا کہ وہ اپنے بارے میں دعویٰ کرتے ہیں۔ چنانچہ افغانوں کے لیے ایک دوسرے سے بات کرنا اہم ہے۔ گزشتہ ہفتے کابل امن عمل سے یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ عالمی برادری اس مذاکراتی کوشش کی بھرپور حمایت کرے گی۔

سوال: میں این بی سی ایبیجل ولیمز ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے روس کی جانب سے طالبان کو ہتھیار دینے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ کیا آپ اس معاملے سے آگاہ ہیں۔ اگر آگاہ ہیں تو پھر آپ نے اس پر قابو پانے کے لیے کیا اقدام کیا ہے۔

ایلس ویلز: میں طالبان کو ہتھیار فراہم کرنے پر بات نہیں کر سکتی۔ میں روس اور ایران کی جانب سے لاحق خدشات پر بات کر سکتی ہوں جو کہ داعش خراسان کے مقابلے میں طالبان کو قابل جواز سمجھتے ہیں۔ طالبان کے خلاف اتفاق رائے اور ان کے ساتھ سفارت اطلاعاتی رابطے سے متعلق خیال میں یہ دراڑ امن اور امن کے امکانات کے لیے قطعی نقصان دہ ہے کہ اس سے طالبان کےپیدا کردہ اس ماحول کو استحکام ملتا ہے جس سے افغانستان میں ان دہشت گروہوں کی حوصلہ افزائی اور معاونت ہوتی ہے۔

داعش خراسان کو شکست دینے کا طریقہ یہ ہے کہ افغان حکومت کو مضبوط بنایا جائے اور داعش کی شکست کے لیے اس ساتھ کام کیا جائے۔ طالبان کی مدد سے یہ ہدف حاصل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا ان ممالک کی جانب سے خطے کے حوالے سے پالیسی پر ہمارے یہی خدشات ہیں۔

سوال: کیا آپ لوگ اس حوالے سے روسیوں کے ساتھ کوئی بات کر رہے ہیں؟

ایلس ویلز: ہم نے روسیوں کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ہم نے اس پروپیگنڈے کے حوالے سے بھی اپنے خدشات ان تک پہنچائے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ داعش خراسان سے لڑنے اور اسے شکست دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ گزشتہ کئی برس میں ہم داعش خراسان کے خلاف اپنی کوششوں میں شدت لائے ہیں۔ ہم نے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری میں تین گنا اضافہ کیا ہے۔ ہم نے اپنی فوجی کوششوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ہم نے میدان جنگ میں ان کے 1600 سے زیادہ جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ یہ کوششیں جاری رہیں گی کیونکہ میرے خیال میں ہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ اگرچہ طالبان بھی عسکریت پسند ہیں تاہم وہ کسی نہ کسی طور افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ داعش ایک ایسی قوت ہے جو افغانستان کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ چنانچہ ریزولوٹ سپورٹ مشن اور افغانستان میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے ذریعے داعش کو شکست دینے کی انتہائی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے۔

مسٹر سیلز: ہمارے پاس ایک یا دو سوالات کا وقت باقی ہے۔

سوال: میں دی اکانومسٹ سے جیمز ایسٹیل ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے دو یا تین جائز مطالبات ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ طالبان کے بھی کوئی جائز مطالبات ہیں؟

ایلس ویلز: یقیناً۔ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ طالبان کی جائز محرومیاں انصاف، بدعنوانی، ماضی کی غارت گر حکمرانی جیسے مسائل سے پھوٹی ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور ہم ۔۔۔۔

سوال: مگر آئینی ترکیب کو دیکھا جائے تو کیا یہ معیاری حکمرانی کا معاملہ ہے؟

ایلس ویلز: میں سمجھتی ہوں کہ اسی وجہ سے یہ بات اہم ہے کہ صدر غنی نے آئینی ترامیم کی تجویز دی تاکہ آئین میں تمام افغان عوام کی نمائندگی ہو۔ ہم نے افغان حکومت کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اصلاحات کا سلسلہ شروع کرے جن کا تذکرہ افغان عہد میں موجود ہے اور حکمرانی، معیشت، مفاہمت اور سلامتی کے امور میں بہتری لائے کیونکہ ان سوالات کے جواب دینا ضروری ہیں۔

مسٹر سیلز: ٹھیک ہے، ایک اور سوال، دراصل، عقب میں۔

سوال: ڈی این آئی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ حالات ۔۔۔۔

مسر سیلز: کیا آپ ہمیں اپنا ۔۔۔۔۔

سوال: اوہ، میں وال سٹریٹ جرنل سے کرس گورڈن ہوں۔ گزشتہ ماہ ڈی این آئی نے کہا تھا کہ سیاسی عدم استحکام، طالبان کے حملوں، دیرینہ مالیاتی مسائل اور اے این ایس ایف کی کارکردگی کے باعث غالباً حالات خراب ہو جائیں گے۔ کیا آپ لوگ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟

مس ویلز: میں سمجھتی ہوں کہ ہم نے پہلے ہی طالبان کے اقدامات کا توڑ شروع کر دیا ہے۔ اب وہ 2016 کی طرح آبادی کے مراکز کو نشانہ بنانے کے اہل نہیں رہے۔ اگرچہ طالبان کی جانب سے کچھ مزید علاقے پر تسلط بھی دیکھنے میں آیا تاہم جنوبی ایشیائی حکمت عملی کے نتیجے میں ان کی جانب سے آبادی کے بڑے مراکز پر تسلط جمانے کی اہلیت پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے۔ ہم افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کی اہلیتوں میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں ان کی خصوصی فورسز اور فضائی کارروائیوں کی اہلیت کو بہتر بنانے کا کام جاری ہے۔ جیسا کہ جنرل ماٹس نے کہا ہے ہم خود بھی مزید اختیارات کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہوں گے۔

چنانچہ میں سمجھتی ہوں کہ افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کی منصوبہ بندی اور ریزولوٹ سپورٹ مشن کی معاونت سے اس حکمت عملی کے دورانیے میں آپ دیکھیں گے کہ طالبان کی اہلیت وقت کے ساتھ مزید کم ہو جائے گی۔ پرامید طور سے اس طرح انہیں سیاسی مذاکرات کی جانب لانے میں مدد ملے گی۔

سوال: کیا میں ایک اور سوال پوچھ سکتا ہوں ۔۔۔

مسٹر سیلز: بس یہی

سوال: میں روس کی جانب سے طالبان کو اسلحہ فراہم کرنے سے متعلق ایبے کے سوال کو آگے بڑھانا چاہوں گا۔ کیا آپ کے پاس اس کا ثبوت نہیں ہے یا آپ اس پر بات نہیں کرنا چاہتے؟

ایلس ویلز: میں اس پر بات نہیں کر سکتی۔ میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ ہم نے یہ دیکھا ہے روسیوں نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ سفارتی اور انٹیلی جنس بنیاد پر روابط استوار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پریشان کن معاملہ ہے کیونکہ طالبان اثاثہ نہیں ہیں۔ اس کے بجائے وہ دہشت گردی کے لیے ایسا ماحول تخلیق کر رہے ہیں جس کے سبب افغانستان اور پاکستان کے علاقوں میں 20 دہشت گرد تنظیمیں روبہ عمل ہیں۔

مسٹر سیلز: ہمارے پاس اتنا ہی وقت تھا۔

سوال: کیا آپ کل پاکستانی وزیرخارجہ کے یہاں دورے کی بابت مزید تفصیلات بتا سکتی ہیں؟

ایلس ویلز: پاکستانی سیکرٹری خارجہ کل یہاں آ رہی ہیں اور وہ حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گی اور تھنک ٹینکس کے ساتھ بھی چند سرگرمیوں میں شامل ہوں گی۔

سوال: کیا وہ وزیرخارجہ ٹلرسن سے بھی ملاقات کریں گی؟

ایلس ویلز: وہ نائب وزیر سلوین سے ملیں گی۔

سوال: ٹھیک ہے۔

مسٹر سیلز: ہمارے پاس اتنا ہی وقت تھا۔

سوال: شکریہ۔ بریفنگ کے لیے شکریہ۔

مسر سیلز: ایک مرتبہ پھر بتاتے چلیں کہ یہ بریفنگ آن دی ریکارڈ ہے۔ آج سہ پہر اس حوالے سے تحریری نقل بھی جاری کی جائے گی۔

سوال: ٹھیک ہے، شکریہ

###


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں