rss

امریکی افریقی تعلقات: ایک نئی ساخت

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
6 مارچ 2018
امریکی افریقی تعلقات: ایک نئی ساخت
امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کا خطاب
جارج میسن یونیورسٹی
فیئرفیکس، ورجینیا

 
 

مسٹر کیبریرا: سبھی کو صبح بخیر۔ ایک نہایت اہم خطاب کے لیے آج ہمارے ساتھ موجودگی پر آپ کا بے حد شکریہ۔ وزیر خارجہ کا جارج میسن میں خیرمقدم میرے لیے اعزاز ہے جن کے بارے میں آپ آگاہ ہیں کہ وہ نہایت اہم دورے پر افریقہ جا رہے ہیں۔ یہ قدرے متعصبانہ بات ہو گی مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس خطاب کے لیے جارج میسن سے بہتر انتخاب کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔

جارج میسن 130 سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور اساتذہ کا مرکز ہے اور طلبہ کے لیے باہم انتہائی مربوط دنیا کے ساتھ چلنے کی تعلیم یقینی بنانا ہمارے مقصد کا حصہ ہے۔ بعض اوقات ہم اپنے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ہم عالمی یونیورسٹی بننا چاہتے ہیں۔

وزیرخارجہ اب اس عہدے پر اپنے دوسرے سال کا آغاز کر رہے ہیں، یقیناً وہ تربیتی اعتبار سے سیاست دان یا حکومتی شخصیت نہیں تھے اور اس کے باوجود ان کے کیریئر کے بعض پہلو ایسے ہیں کہ جب آپ اس بارے میں سوچیں تو وہ اس کام کے لیے مطلق موزوں دکھائی دیتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے 2006 سے 2017 تک ایکسون موبائل کو چلایا ہے۔ آپ آگاہ ہیں کہ ایکسون کا شمار دنیا کی سب سے بڑی پبلک کمپنیوں اور انتہائی عالمگیر نوعیت کے کاروباری اداروں میں ہوتا ہے۔ چنانچہ 44 ہزار سے زیادہ ملازمین اور دنیا بھر میں مزید 44 ہزار مقامی ملازمین پر مشتمل اور 50 ارب ڈالر سے زیادہ بجٹ والے دفتر خارجہ کو چلانا قدرے پرہیبت بات ہے۔ تاہم یہ اس کے مقابلے میں دراصل چھوٹا کام ہے جب وہ ایکسون موبائل کے لیے کام کرتے تھے۔ مزید براں انہوں نے بہت سا وقت مشرق وسطیٰ اور دنیا کے بہت سے دوسرے حصوں میں کاروباری سرگرمیوں کے سلسلے میں بتایا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس کام کے حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ وہ ایگل سکاؤٹ تھے۔ بوائے سکاؤٹ کی حیثیت سے ان کی عمدگی سے تربیت ہوئی بلکہ اسی باعث انہوں نے اس ادارے کے لیے خدمات انجام دینے کا فیصلہ کیا۔ وہ کئی سال تک بوائے سکاؤٹس آف امریکہ کے صدر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

چنانچہ میں مزید کوئی بات کیے بغیر میسن کمیونٹی کی جانب سے کہوں گا کہ وزیرخارجہ جناب ریکس ٹلرسن کو خوش آمدید کہنے میں میرا ساتھ دیجیے۔ (تالیاں)

وزیرخارجہ ٹلرسن: شکریہ ڈاکٹر کیبریرا، گرم جوش خیرمقدم پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ یہاں جارج میسن یونیورسٹی میں آنا میرے لیے خوشی کا موقع ہے اور مجھے طلبہ سے مل کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ ہم افریقی اور افریقی امریکی مطالعے کے پروگرامز اور ایسے بہت سے اہم موضوعات پر جارج میسن یونیورسٹی کے کام کی ستائش کرتے ہیں جن پر آج ہم بات کریں گے۔

آج میں ذیلی صحارا افریقہ کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گا۔ یہ افریقہ میں میرا پہلا دورہ نہیں ہے کیونکہ میں اپنی گزشتہ ملازمت میں وہاں کئی مرتبہ جا چکا ہوں، تاہم یہ ایک ایسا دورہ ہے جس کی منصوبہ بندی نومبر میں 37 افریقی ممالک کے وزارتی اجلاس اور دفتر خارجہ میں افریقی یونین کی میزبانی کے موقع پر شروع ہو گئی تھی۔ اس کانفرنس کے دوران ہماری بات چیت انسداد دہشت گردی، جمہوریت اور حکمرانی کے مسائل نیز افریقہ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے میدان میں تعلقات مضبوط بنانے پر مرکوز رہی۔ ابھی میں ان تمام موضوعات پر بات کروں گا۔

جیسا کہ میں نے کہا، میں اپنی گزشتہ زندگی میں کچھ وقت افریقہ میں بتا چکا ہوں۔ میرا پختہ یقین ہے کہ اس براعظم میں معاشی ترقی، زبردست خوشحالی اور باہمی باوقار شراکتوں کے ذریعے عالمگیر مسائل کا جواب دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ میں امریکی افریقی تعلقات کی مضبوط بنیادوں پر استواری کا متمنی ہوں۔ میں اس دورے میں چاڈ بھی جاؤں گا، قبل ازیں کسی امریکی وزیرخارجہ نے اس ملک کا دورہ نہیں کیا۔

گزشتہ صدی میں جب افریقی اقوام اپنے نوآبادیاتی ماضی سے ابھر کر سامنے آئیں تو ہم نے افریقہ کے ساتھ امریکی روابط میں ڈرامائی اضافہ دیکھا۔ دفتر خارجہ نے 1958 میں اس وقت کے نائب صدر رچرڈ نکسن کے دورہ افریقہ سے ایک سال بعد افریقہ بیورو قائم کیا۔ گھانا نے نائب صدر اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو اپنے یوم آزادی کے جشن میں شرکت کے لیے مدعو کیا۔ یہ تقریب ٹھیک 61 برس پہلے آج ہی کے دن منعقد ہوئی تھی۔

چند برس بعد صدر جان ایف کینیڈی نے افریقی ترقی کے لیے ‘یوایس ایڈ’ قائم کیا اور پہلی امن کور کے رضاکار گھانا اور تنزانیہ پہنچے۔ چالیس برس پہلے اسی ماہ صدر جمی کارٹر نے لائبیریا اور نائیجیریا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اعلان کیا کہ ‘اب ہمارے ملک نے افریقہ کی جانب بے مثل راہ اختیار کی ہے’

آج افریقہ کی جانب یہ مراجعت جاری ہے۔ ہمارے ملک کی سلامتی اور معاشی خوشحالی افریقہ کے ساتھ جس طرح مربوط ہے ایسے پہلے کبھی نہ تھی۔ درج ذیل وجوہات کی بنا پر آنے والی دہائیوں میں یہ ربط مزید مضبوط ہو گا۔

اس کی پہلی وجہ آبادی کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی ہے۔ 2030 تک دنیا کی ایک چوتھائی افرادی قوت افریقہ میں ہو گی۔ 2050 تک اس براعظم کی آبادی دگنی ہو کر 2.5 ارب سے تجاوز کر جائے گی جس میں 70 فیصد لوگ 30 برس سے کم عمر ہوں گے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ افریقہ میں نمایاں معاشی ترقی ہو رہی ہے۔ عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ اس سال دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والی دس میں سے چھ معیشتیں افریقی ہوں گی۔

2050 تک نائیجیریا کی آبادی امریکہ سے بڑھ جائے گی اور اس کی معیشت کا حجم آسٹریلیا سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔

اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دنیا کہاں جا رہی ہے تو آپ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ افریقہ مستقبل کا ایک اہم حصہ ہے۔ دنیا کو سلامتی اور ترقی کے حوالے سے درپیش متعدد مسائل اور معاشی ترقی و رسوخ کے وسیع تر مواقع کے اعتبار سے افریقی ممالک کی اہمیت بڑھ جائے گی۔

اگرچہ افریقہ اپنے لوگوں، ثقافتوں اور حکومتوں کے اعتبار سے نہایت زرخیز طور سے متنوع ہے تاہم وہاں بہت سے مشترکہ مسائل اور مواقع بھی دکھائی دیتے ہیں۔ افریقی روح اس کے نوجوانوں میں دکھائی دیتی ہے تاہم نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے اتنی ہی نوکریاں بھی درکار ہوں گی۔ جتنے افریقی غربت سے نکلیں گے، بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے لیے ان کی ضرورت بھی اتنی ہی بڑھ جائے گی۔ اگر نوجوان آبادی کی بڑی تعداد کو نوکریاں اور مستقبل کی امید نہ ملے تو دہشت گردوں کو نئی نسل کو گمراہ کرنے کے نئے مواقع میسر آئیں گے اور استحکام میں خلل کے ساتھ جمہوری حکومتیں پٹڑی سے اتریں گی۔ رہنماؤں کو اختراعی طریق کار اختیار کرنا ہوں گے اور محدود مالیاتی وسائل میں گزارا کرنا پڑے گا۔

مستقبل میں دیکھا جائے تو موجودہ امریکی انتظامیہ افریقہ کے ساتھ اپنی شراکت کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے جس کا مقصد افریقی ممالک کو مزید مضبوط اور خودکفیل بنانا ہے۔ اس سے ہمارے شراکت داروں کے ساتھ ساتھ خود امریکہ کو بھی فائدہ ہو گا کہ ہم سب کے بچوں اور ان کے بچوں کو مستحکم مستقبل میسر آئے گا۔

استحکام کا مستقبل سلامتی سے وابستہ ہے۔ معاشی خوشحالی اور مضبوط اداروں کے لیے یہ بنیادی شرط ہے۔ اس کے بغیر دیگر مقاصد کا حصول ناممکن ہے۔

آج دنیا بھر میں دہشت گردی سے بے شمار لوگوں کا مستقبل غارت ہونے کا خطرہ ہے۔ رواں سال اگست میں ہم 20 سال قبل نیروبی اور دارالسلام میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں میں سیکڑوں جانوں کے ضیاع کی برسی منائیں گے۔

ان واقعات کے بعد افریقہ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہزاروں مزید لوگ مارے گئے۔ 2009 میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 300 سے کم تھی جو کہ 2015 اور اس کے بعد 2016 اور 2017 میں ہر سال 1500 سے بھی زیادہ بڑھ گئے۔ حال ہی میں ہم نے نائیجیریا میں 100 سے زیادہ طالبات کے اغوا جیسے واقعے کا مشاہدہ کیا۔ انہیں ان کے خاندانوں سے الگ کر دیا گیا اور ان کا مستقبل ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو گیا۔

گزشتہ ہفتے میں نے اس بڑھتے ہوئے خطرے کے جواب میں داعش سے وابستہ سات گروہوں کو امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے لیے نامزد کیا جن میں داعش مغربی افریقہ، داعش صومالیہ اور ان کے رہنما بھی شامل ہیں۔ اس کوشش کا مقصد ان گروہوں کو حملوں میں استعمال ہونے والے وسائل کے حصول سے روکنا تھا۔

بدی کی ایسی قوتوں پر غلبہ پانے کے لیے امریکہ اپنے افریقی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ اس براعظم اور دنیا کو دہشت گردی سے چھٹکارا دلایا جا سکے۔ اس مقصد کا حصول جنگ کے محرکات دور کر کے ممکن ہے جو بنیاد پرستی اور شدت پسندوں کی بھرتی کا بنیادی سبب ہیں نیز اس کے لیے افریقی ممالک میں نفاذ قانون کی ادارہ جاتی اہلیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم قانونی انداز میں شہریوں کو تحفظ کی فراہمی میں افریقی ممالک کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ آج افریقی ممالک عملی اقدامات کے لیے تیار ہو رہے ہیں، ان میں وہ قربانیاں بھی شامل ہیں جو ایسے عزم کی راہ میں دینا پڑتی ہیں۔

دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ساحل خطے اور جھیل چاڈ کے طاس میں بوکو حرام، داعش مغربی افریقہ، القاعدہ مغرب اور دوسرے گروپ خود کو حالات کے مطابق ڈھال رہے ہیں، ان میں دب کر ابھرنے کی صلاحیت ہے اور وہ پورے علاقے میں حملے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ان حملوں کا سدباب کرنے اور دہشت گردوں کو مستقبل میں ایسی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد سے روکنے کے لیے علاقائی تعاون اہم ہے۔

نائیجیریا، چاڈ، بینن، کیمرون اور ساحل خطے کے پانچ ممالک یا جی 5 یعنی برکینا فاسو، چاڈ، مالی، موریطانیہ اور نائیجر کی بنائی کثیرملکی ٹاسک فورس اس ضمن میں مہارتیں اور وسائل جمع کر رہی ہے۔ دہشت گردی اور عدم استحکام کے کے مسئلے کا افریقہ کے زیرقیادت حل ڈھونڈنے کے لیے ان کا کام اہمیت کا حامل ہے۔

میں نے گزشتہ اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ ایسی علاقائی کوششوں میں مزید مدد دے گا۔ ہم نے جی 5 ممالک کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں 60 ملین ڈالر سے زیادہ دینے کا وعدہ کیا تاکہ مشترکہ فورس کے ارکان کو تربیت دی جائے اور انہیں سازوسامان سے لیس کرنا ممکن ہو اور ان تمام معاشروں میں دہشت گردی کے پروپیگنڈے کا سدباب ہو سکے۔

مزید براں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے امریکہ نے ماورائے صحارا انسداد دہشت گردی کی شراکت کو مدد دی ہے جس کا مقصد شمالی و مغربی افریقہ کے ممالک کو تربیت کی فراہمی اور ان میں عسکری کوششوں اور نفاذ قانون کے سلسلے میں تعاون کو فروغ دینا ہے ۔ ہم نے مشرقی افریقہ میں انسداد دہشت گردی کی علاقائی شراکت ‘پی آر ای اے سی ٹی’ کے ذریعے بھی ایسے ہی طریق کار کا اطلاق کیا ہے۔ امریکہ نے شراکت کاروں کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور جنگجوؤں کی بھرتیاں ختم کرنے کے لیے 2016 سے ان شراکتوں کے ذریعے 140 ملین ڈالر سے زیادہ رقم مہیا کی ہے۔

امریکہ کثیرطرفی کردار کو فروغ دینے پر افریقی یونین کی قیادت کا شکرگزار ہے۔ صومالیہ میں افریقی یونین کا مشن یا ‘اے ایم آئی ایس او ایم’ بشمول مغربی افریقی ممالک کے فوجی دستے الشباب کے حملوں کی زد میں آنے والے علاقوں کو محفوظ نانے اور صومالی لوگوں کو انتہائی ضروری امداد دینے میں مصروف ہیں۔ میں اپنے دورے میں افریقی یونین کمیشن کی چیئرپرسن فیکی سے ملاقات کا منتظر ہوں تاکہ ایسی مزید راہیں تلاش کی جا سکیں جن کی بدولت ہم براعظم میں انسداد دہشت گردی کے لیے مل کر کام کر سکیں۔

ایسی اور دیگر علاقائی و کثیرطرفی کوششوں میں امریکی کردار یہ ہے کہ ان ممالک کو دوسروں پر انحصار کی عادت سے چھٹکارا دلا کر ان میں صلاحیت پیدا کی جائے تاکہ وہ اپنا دفاع خود کر سکیں۔ براعظم میں قیام امن کے حوالے سے ہماری سوچ یہی ہے۔

افریقہ میں قیام امن اور اہلیت میں اضافے کے لیے سب بڑا کردار ادا کرنے والے ملک کی حیثیت سے امریکہ فورسز کی تربیت، تعیناتی اور ان کے استحکام میں مدد دیتا ہے جس سے انسداد دہشت گردی کے اقدامات، بارودی سرنگوں کے خاتمے اور پرامن انتقال اقتدار میں مدد ملتی ہے۔ اس سے سلامتی کی صورتحال میں بہتری آتی ہے اور جہاں ضرورت ہو صحت، خوراک اور دیگر خدمات کی رسائی میں معاونت ہوتی ہے۔

گزشتہ برس امریکہ نے 20 سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھنے والے 27 ہزار سے زیادہ افریقی امن کارکنوں کو معاونت فراہم کی۔ اب بہت سے افریقی ممالک اپنے مستقبل کی ذمہ داری خود لے رہے ہیں۔ دس برس پہلے براعظم میں موجود امن افواج میں افریقیوں کا تناسب صرف 20 فیصد تھا۔ آج یہ تعداد 50 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔

سلامتی کے حوالے سے اہم کوششوں میں معاونت کے ساتھ ہمیں جنگوں کے طویل مدتی سفارتی حل بھی ڈھونڈنے چاہئیں جو بڑے پیمانے پر انسانی مصائب کو جنم دیتی ہیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، امریکہ انسانی امداد فراہم کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک کی حیثیت سے ان کمزور لوگوں کی مدد کرتا رہے گا۔

اس عزم کی شہادت کے طور پر میں آج صومالیہ، جنوبی سوڈان، ایتھوپیا اور جھیل چاڈ کے طاس میں جنگوں کے نتیجے میں جنم لینے والے قحط، غذائی عدم تحفظ اور دیگر ضروریات سے نمٹنے کے لیے اضافی انسانی امداد کی مد میں 533 ملین ڈالر دینے کا اعلان کر رہا ہوں۔ ان علاقوں میں خطرناک حد تک موجود بھوک کی بڑی وجہ خود انسان ہے۔ جب لڑائی چھڑتی ہے تو لوگ گھربار چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں لوگ فصلیں نہیں اگا سکتے اور عموماً خوراک، تعلیم اور صحت عامہ تک رسائی کھونے لگتے ہیں۔ بہت سے لوگ سب کچھ ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ افسوسناک طور سے فطری عوامل بھی حالات کو انتہائی شدید طور سے متاثر کرتے ہیں، ہورن آف افریقہ اس کی نمایاں مثال ہے جہاں طویل خشک سالی سے غذائی عدم تحفظ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

یہ اضافی فنڈ خوراک، غذائی معاونت اور دوسری امداد بشمول پینے کے صاف پانی، ہزاروں ٹن خوراک اور لاکھوں لوگوں میں ہیضے جیسی مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے صحت کے پروگرامز شروع کرنے میں مدد دیں گے۔ اس سے زندگیاں بچانے میں مدد ملے گی۔

امریکی عوام ہمیشہ کی طرح انتہائی کمزور لوگوں کو زندگی کے تحفظ میں معاونت دینے کے لیے افریقی عوام کے ساتھ شراکت کے لیے تیار ہیں۔ ہم دوسروں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افریقہ میں بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ ہمیں امید ہے کہ ابتدائی نوعیت کی اس مدد سے امداد میں اضافے کے لیے دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی تاکہ بوجھ بانٹا جا سکے اور افریقہ میں بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ تاہم اس امداد سے وہاں جاری تنازعات کے خاتمے میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے ہمیں وقت میسر آئے گا تاکہ مسائل کے سفارتی حل تلاش کیے جا سکیں۔

ایک شعبہ جہاں ہمیں بہت زیادہ تعاون درکار ہے وہ شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پرلانے کی ہماری پرامن مہم ہے۔ شمالی کوریا اپنے غیرقانونی جوہری اور بلسٹک میزائل پروگرامز اور اسلحے کے پھیلاؤ کی سرگرمیوں بشمول افریقہ کو اسلحے کی برآمد کے ذریعے پوری عالمی برادری کے لیے خطرہ ہے۔ یہ خطرہ یورپ یا ایشیا میں ہمارے اتحادیوں کو ہی لاحق نہیں ہے۔ یہ چین یا روس جیسے ان ممالک کا ہی معاملہ نہیں ہے جن کے شمالی کوریا سے پرانے تعلقات ہیں۔ اس سلسلے میں پوری دنیا کو کوشش کرنی چاہیے۔

گزشتہ مہینے میں نے جنوبی امریکہ کے دورے میں اپنے ہم منصبوں سے ایسے طریقوں کی بابت گفت و شنید کی جن کی بدولت دباؤ کی اس مہم میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ افریقی ممالک کو مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

انگولا اور سینیگال نے شمالی کوریا پر سفارتی اور معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ایتھوپیا کی حکومت نے بھی اس ضمن میں مدد کا اعلان کیا ہے۔ مگر بہت سے افریقی ممالک اس معاملے میں پیچھے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ بھی عالمی برادری کے ساتھ ہم آواز ہو کر شمالی کوریا کی حکومت کے ساتھ سفارتی، معاشی یا ہتھیاروں کے پروگرام ختم کر دیں گے۔

براعظم میں سلامتی دراصل خوشحالی کی اولین شرط ہے۔ یقیناً استحکام جس قدر زیادہ ہو گا امریکہ سے افریقی ممالک میں تجارت اور سرمایہ کاری کا حجم بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا۔ نتیجتاً مزید ترقی ہو گی اور افریقی ترقی و مواقع سے متعلق قانون ‘اے جی او اے’ کے ذریعے حاصل کردہ کامیابیوں کا سلسلہ مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

‘اے جی او اے’ قریباً دو دہائیوں سے افریقہ میں امریکی تجارتی پالیسی کی بنیاد ہے۔ اس کی بدولت ہم نے بہت سی پیش رفت کا مشاہدہ کیا ہے۔ تیل کے علاوہ دیگر اشیا کی تجارت 13 ارب سالانہ سے بڑھ کر قریباً 30 ارب ڈالر سالانہ تک جا پہنچی ہے۔ درحقیقت گزشتہ برس افریقہ کے ساتھ مجموعی امریکی تجارت 35.8 ارب ڈالر رہی جبکہ 2016 میں یہ 33 ارب ڈالر تھی۔

اپنے بہت سے افریقی شراکت کاروں کے اقدامات سے ہماری حوصلہ افزائی ہوئی ہے جو امریکہ کے ساتھ تجارت بڑھانے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ گھانا کے صدر اکوفو ایڈو نے گزشتہ ہفتے امریکہ کے دورے میں قومی گورنرز ایسوسی ایشن سے خطاب کیا۔ یہ کسی افریقی صدر کی جانب سے اس نوعیت کا پہلا خطاب تھا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک ہی نسل کے دورانیے میں غربت سے خوشحالی کی جانب مراجعت کے لیے اپنے عوام کی خواہش کے بارے میں بات کی۔ امریکہ براعظم افریقہ میں سرکاری و نجی شعبے کو اس ہدف کے حصول میں مدد دینا چاہتا ہے۔

افریقہ میں وسیع اور غیرترقی یافتہ قدرتی وسائل کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ امریکہ میں نجی شعبے کی مہارتوں سے ان وسائل کی ذمہ دارانہ ترقی میں سہولت مل سکتی ہے جس سے مزید افریقیوں کو غربت سے نکالنا ممکن ہو جائے گا۔ تاہم اس ترقی میں مدد دینے کے لیے نمایاں بین البراعظمی ڈھانچے، معاشی ترقی کے فروغ اور براعظم میں بین العلاقائی تجارت کو بڑھاوا دینے کی ضرورت ہے۔

آج افریقی ممالک کی صرف 12 فیصد برآمدات ان کے ہمسایہ ممالک کو جاتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں دیکھا جائے تو آسیان ممالک کی 25 فیصد اور یورپی ملکوں کی 60 فیصد سے زیادہ تجارت ہمسایہ ممالک سے ہوتی ہے اور اندرون براعظم تجارت کے نتیجے میں مزید معاشی خوشحالی کا امکان قطعی واضح ہے۔ افریقی ممالک کی جانب سے ٹیرف کے ضمن میں رکاوٹیں کم کرنے، نقل و حمل، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے سلسلے میں روابط بہتر بنانے سے بھرپور علاقائی ربط ترتیب پائے گا جس سے امریکی کاروبار، سرمایہ کاری اور ماورائے اوقیانوس تجارت کے لیے مزید مواقع تخلیق ہوں گے۔

امریکی کاروباری طریقہ ہائے کار اور مہارتوں کی درآمد سے مستقبل میں افریقہ میں معاشی خوشحالی، افریقی ممالک کو نئی صلاحیتوں سے مزین کرنے اور اس سلسلے میں ایک کھلے اور شفاف فریم ورک کے ذریعے عمل میں مدد ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نیا ترقیاتی مالیاتی ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ڈی ایف آئی خصوصی طور پر بنائے گئے سرکاری بینک ہیں جن کا مقصد ترقیاتی میدان میں غیرموثر کارکردگی پر قابو پانے کے لیے نجی شعبے کی مدد کرنا ہے۔ ہم امریکہ کو ایسے ممالک کے ساتھ مسابقت کی اہلیت کے حصول میں مدد دینے کے لیے کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جو پہلے ہی ترقی پاتی دنیا میں اپنے اہداف کے حصول کے لیےاس مالیات سے کام لے ہیں۔

یوایس ایڈ کا پروگرام ‘پاور افریقہ’ اس براعظم کی ترقیاتی تاریخ میں سرکاری و نجی شعبے کی سب سے بڑی شراکتوں میں سے ایک ہے۔ پانچ سال قبل یہ پروگرام افریقی ممالک کو ترقی کے لیے درکار بنیادی ترین ضرورت یعنی بجلی تک رسائی کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ آج نجی شعبے کے 140 سے زیادہ شراکت داروں کے وعدوں کی بدولت ذیلی صحارا افریقہ سے پرے کروڑوں افریقیوں کو بجلی تک رسائی حاصل ہو چکی ہے۔ ہمارا مقصد 2030 تک 30 ہزار میگا واٹ بجلی فراہم کرنا یا 60 ملین نئے کنکشن قائم کرنا ہے تاکہ 300 ملین افریقیوں کو بجلی تک رسائی مل سکے۔ منتظم مارک گرین نے گزشتہ ہفتے ہی پاور افریقہ 2.0 کا اعلان کیا جس کا مقصد توانائی کے شعبے میں مواقع کو مزید وسعت دینا ہے۔

امریکہ اپنے افریقی شراکت داروں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹوں میں کمی لانے، افریقی ممالک کو محتاجی سے خودکفالت کی جانب لے جانے، ان کے متوسط طبقے کی ترقی اور افریقی معیشتوں کو بقیہ دنیا کے ساتھ بہتر طور سے ہم آہنگ کرنے کا خواہش مند ہے۔

مستقبل کی تیاری اور براعظم کی صلاحیتوں سے کام لینے کے لیے تعلیم یافتہ اور مضبوط افرادی قوت درکار ہے۔ تمام دنیا پر یہی بات صادق آتی ہے مگر افریقہ میں بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کو دیکھا جائے تو یہاں یہ کام فوری نوعیت کا ہے۔

‘نوجوان افریقی رہنماؤں کا اقدام’ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ افریقی رہنماؤں کی اگلی نسل پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ پروگرام مستقبل کے افریقی رہنماؤں کو آزاد صحافت کی اہمیت، مزید مضبوط اداروں کے قیام اور کاروبار شروع کرنے کے لیے پیشہ وارانہ ترقیاتی تربیت فراہم کرتا ہے۔ آج اس پروگرام کے ارکان کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جس میں ذیلی صحارا افریقہ کے ہر ملک سے نمائندگی ہے۔

ایڈز سے بچاؤ کے لیے صدر کے ہنگامی منصوبے ‘پی ای پی ایف اے آر’ کے ذریعے امریکہ نے عالمی سطح پر ایچ آئی وی/ ایڈز کے حوالے سے عالمی ردعمل کو مثبت طور سے تبدیل کر دیا ہے۔ افریقہ میں اس کے اثرات کہیں زیادہ نمایاں ہیں۔ 15 برس پہلے جب یہ پروگرام شروع ہوا تو کسی کو ایچ آئی وی لاحق ہونا گویا سزائے موت سمجھی جاتی تھی۔ افریقہ کے دشوارگزار علاقوں میں نومولود بچوں میں شرح امواد دگنی اور بچوں میں تین گنا ہو چکی تھی جبکہ اوسط عمر میں 20 برس تک کمی آ گئی تھی۔ ہر تین میں سے ایک جوان فرد ایچ آئی وی کا شکار تھا۔ بہت سے بچے یتیم ہو گئے جبکہ صرف 50 ہزار کو ایچ آئی وی کا علاج میسر تھا۔ آج امریکی عوام نے ‘پی ای پی ایف اے آر’ کے ذریعے 13.3 ملین مرد، خواتین اور بچوں کو تحفظ زندگی سے متعلق علاج مہیا کیا ہے۔ اس کی بدولت 2.2 ملین سے زیادہ نومولود بچے ایچ آئی وی سے محفوظ ہیں جبکہ 6.4 ملین سے زیادہ یتیم بچوں اور ان کی نگہداشت کرنے والوں کو مدد دی جا رہی ہے۔

موجودہ امریکی انتظامیہ افریقہ میں زندگیاں بچانے کے لیے پرعزم ہے۔ میں نے گزشتہ ستمبر میں 2017 سے 2020 تک ایچ آئی وی/ ایڈز کی وبا پر قابو پانے کی کوششیں تیز کرنے کی غرض سے ‘پی ای پی ایف اے آر’ کی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا۔ یہ حکمت عملی تین برس میں 50 سے زیادہ ممالک میں اس وبا پر قابو پانے میں مدد دے گی۔ اس میں ایچ آئی وی سے بری طرح متاثرہ 12 ایسے ممالک میں کام تیز کرنے کا خاکہ دیا گیا ہے جو 2020 تک اس وبا پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اب ہم ایچ آئی وی/ ایڈز سے پاک مستقبل دیکھ سکتے ہیں۔ یہ مستقبل ہمارے سامنے ہے اور افریقہ کی ترقی کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔

سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کی پائیداری کے لیے جوابدہ حکومتی ادارے درکار ہوتےہیں جنہیں عوام کا اعتماد اور حمایت حاصل ہو۔ امن اور خوشحالی صرف جمہوری معاشرے میں ہی ممکن ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی آزادی، کھلا مکالمہ، مذہبی آزادی اور ایک جاندار سول سوسائٹی ہی معاشی نمو کے لیے تخلیقیت، تخیل اور انسانی توانائی فراہم کرتے ہیں۔ آج افریقہ مضبوط، زیادہ شفاف اور اپنے عوام کی آواز کی نمائندگی کرنے والے ایسے جمہوری ادارے تخلیق کر کے بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے جو بدعنوانی کو مسترد کر دیں اورانسانی حقوق کا تحفظ کریں اور انہیں فروغ دیں۔

افریقی یونین کا اندازہ ہے کہ افریقہ نے بدعنوانی میں اپنے سینکڑوں ارب ڈالر ضائع کیے ہیں۔ سینکڑوں ڈالر جو نہ تعلیم پر لگائے گئے، نہ انفراسٹرکچر پر اور نہ ہی سلامتی پر۔ رشوت اور بدعنوانی لوگوں کو غربت میں مبتلا رکھتی ہے۔ وہ عدم مساوات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اپنی حکومتوں پر اپنے عوام کا اعتماد کھو دیتے ہیں۔ قانونی سرمایہ کاری قریب نہیں پھٹکتی اور عدم تحفظ اور عدم استحکام بڑھتا جاتا ہے جس سے دہشت گردی اور تصادم کیلیے حالات ساز گار ہوتے جاتے ہیں۔ ہم افریقی یونین کانفرنس کی طرف سے بدعنوانی کے خلاف جنگ جیتنے کی کوششوں کو اجاگر کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ رواں سال کا تصور انسداد بدعنوانی کے حوالے سے زیادہ پائیدار اور دیرپا توجہ کا آغاز ہے۔

اس تصور کی حمایت میں امریکہ افریقی ملکوں کے ساتھ مل کر ان کے ادارے مضبوط کرنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔ گزشتہ ماہ امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس سے 137س ملین ڈالر کا مطالبہ کیا تھا تاکہ جمہوریت، انسانی حقوق اور حکومتی پروگراموں کو امداد دی جا سکے تاکہ زیادہ شفاف اور کم بدعنوان ادارے وجود میں آ سکیں جو اتفاق رائے کو تنازعات پر ترجیح دیتے ہوں۔

جمہوریت انتخابات کے ذریعے اقتدار کی منتقلی چاہتی ہے۔ اسے اپنے شہریوں کو اطلاعات فراہم کرنے اور انہیں اپنی حکومت کے ساتھ رابطے میں رکھنے کے لیے ایک توانا سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا بھی درکار ہوتا ہے۔ گزشتہ سال امریکہ نے لائبیریا جیسے ملک میں آزاد اور پرامن انتخابات کے انعقاد میں مدد دی جہاں لوگوں نے کئی دہائیوں سے اقتدار کی پر امن منتقلی نہیں دیکھی تھی۔ اس میں شہریوں اور ووٹروں کی تعلیم کے پروگرام شامل تھے جن کی توجہ نوجوانوں، خواتین اور پہلی بار ووٹ ڈالنے والے ایسے ووٹرز پر مرکوز تھی جن تک رسائی آسان نہ تھی، علاوہ ازیں میڈیا کے ساتھ مل کرکام کرنا بھی اس میں شامل تھا تاکہ ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دیا جا سکے ۔

مالیاتی شفافیت سے متعلق فنڈ حکومتوں کو زیادہ شفاف اور عوام کو دستیاب بجٹ بنانے میں مدد دیتا ہے اور سول سوسائٹی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ترقی کے منتظر گوشوں کو اجاگر کریں۔ امریکہ اس وقت افریقہ میں 31 منصوبوں پر کام کر رہا ہے جبکہ نو مزید شروع کرنے والاہے۔ مالیاتی شفافیت کا اقدام اس سے قبل کینیا، چاڈ اور ملاوی کو ایسے اقدامات کرنے میں مدد دے چکا ہے جو رشوت کے خاتمے میں مددگار ہوں اور ان کے لوگوں کی زیادہ بہتر طریقے سے خدمت کر سکیں۔

جب ترقی کی بات ہوتی ہے تو ہم اچھی حکمرانی کے اقدامات کو ذہن میں رکھتے ہیں۔ وزیر خارجہ کی حیثیت میں میں ملینیم چیلنج کارپوریشن کا چیئرمین بھی ہوں۔ غربت ختم کرنے کے لیے قائم کیے گئے اس ادارے کے ذریعے امریکہ ترقیاتی امداد کی مدد سے اچھی حکمرانی کیلئے کشش پیدا کرنے کے قابل ہوا ہے جوزیادہ شفافیت کی حامل ہو۔ ایم سی سی کا تقریبا ًساٹھ فی صد فنڈ افریقہ کو جاتا ہے۔ گزشتہ سال نومبر میں ہم نے آئیوری کوسٹ کے ساتھ 524 ملین ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد اس ملک کی تعلیم اور ذرائع آمد ورفت کو بہتر بنانا تھا۔ یہ اسی صورت میں ممکن تھا جب یہ ملک معاشی آزادی، جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور انسداد بدعنوانی کے عمل کو مضبوط کرنے کی پالیسیوں کو نافذ کرتا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اپنے ٹیکس دہندگان کا پیسہ اس وقت تک ایم سی سی ماڈل پر بھی خرچ نہ ہونے دے جب تک کہ سخت اصلاحات کا نفاذ نہ کر دیا جائے۔

یہ ترقی کا امریکی ماڈل ہے جس نے ثابت کیا ہے کہ یہ کامیابی سے ہم کنار ہو سکتا ہے۔ امریکہ ایسی نمو کو فروغ دیتا ہے جو اداروں کو تقویت دیتی، قانون کی حکمرانی کو مضبوط بناتی اور افریقی ملکوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ ہم افریقی ملکوں کو بہتر حکمرانی میں مدد دینے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تاکہ وہ اپنے طویل المدت اور سلامتی و ترقی کے اہداف حاصل کر سکیں۔

یہ چین کی سوچ سے بالکل متضاد سوچ ہے جو غیرشفاف معاہدوں، خونخوار قرضوں اور بدعنوانی پر مبنی ایسے سودوں پر انحصار کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو ملکوں کو قرضوں کی دلدل میں پھنسا دیتے ہیں اور ان ملکوں کی خود مختاری کو سلب کر لیتے ہیں جس سے ان کی طویل المدت اور پائیدار نمو رک جاتی ہے۔ چین کی سرمایہ کاری میں افریقہ کے انفراسٹرکچر کا خلا پر کرنے کی صلاحیت ہے لیکن اس کی سوچ نے ملکوں کو قرضوں میں پھنسایا اور روزگار کے بہت کم مواقع مہیا کیے ہیں۔ جب اس کے ساتھ سیاسی اور مالی دباؤ بھی شامل ہو جائے تو یہ افریقہ کے قدرتی وسائل اور اس کی طویل المدت اقتصادی ترقی کو خطرے سے دوچار کر دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم افریقہ کی ترقی میں دوسرے ملکوں کے کردار کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔ آزاد منڈی کا تصور یہی تو ہے جس میں مقابلے سے مزید مواقع پیدا ہوتے ہیں لیکن ہم ذمہ دارانہ ترقی اور شفاف آزاد منڈی کو کام کرتے دیکھنا چاہتے ہیں جس میں ہر ایک کے پاس اپنی مرضی کرنے کا اختیار ہو اور جس سے براعظم میں زیدہ وسیع پیمانے پر سیاسی استحکام آئے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ چین بھی اس کوشش میں ہمارا ساتھ دے گا۔

امریکہ کو افریقہ کا مستقبل تابناک دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے پاس ایک موقع ہے کہ ہم افریقہ اور اس کے لوگوں کے لیے اس سفر کو مستحکم اور خوشحال بنانے کے کے عمل کا حصہ بن جائیں۔ یہ تمام ترجیحات چاہے تجارت ہو، سرمایہ کاری ہو، اچھی حکمرانی ہو، انسانی حقوق ق کا حترام ہو یا کوئی اور ان سب کا رہنما اصول ایک ہی ہے کہ افریقی لوگوں کو اپنے عوام کی مدد کرنے کے قابل ہونے میں مدد دینا ہے۔

ان مسائل کا کوئی فوری حل نہیں ہے لیکن امریکہ ان مسائل کو افریقی ملکوں کے ساتھ مل کر نمٹنے کے لیے پر عزم ہے تاکہ یہ براعظم بھی اکیسویں صدی میں خوشحالی اور آزادی کی آماج گاہ بن جائے۔ آپ کی توجہ کا شکریہ۔

مسٹر کیبریرا: بہت شکریہ۔ میں سامعین سے سوالات لینے میں مصروف تھا، کچھ سوالات اساتذہ اورر کچھ طلبا کی طرف سے ہیں تو میں یہ سب ایک ایک کر کے پوچھوں گا۔

وزیر خارجہ ٹلرسن: پہلے طلبا کے سخت سوالات پوچھیں۔

مسٹر کیبریرا: چونکہ آپ کا اصرار ہے، اس لیے سوال پیش کرتا ہوں۔ پہلا سوال کچھ ذاتی نوعیت کا ہے، جو یہ ہے کہ آپ نے کس وجہ سے یہ ذمہ داری قبول کی۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ آپ دنیا کی ایک بڑی کمپنی کے سربراہ تھے۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ آپ نے اچانک وہ سب چھوڑ کر یہ عہدہ قبول کر لیا۔ آخر کیوں۔

وزیر خارجہ ٹلرسن: میری ریٹائرمنٹ میں تین سال ہی رہ گئے تھے۔

مسٹر کیبریرا: ظاہر ہے اس کا فائدہ تو ہونا تھا۔

وزیر خارجہ ٹلرسن: لیکن یہ میری ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھا۔ میرا خیال تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد میں اپنی پسند کی زندگی گزاروں گا پوتے پوتیوں کے ساتھ رہوں گا لیکن نو منتخب صدر نے مجھے یہ سب کرنے کے لیے کہا اور جب میں نے اس بارے میں غور کیا تو میں پہلے بھی کئی مواقع پر بتا چکا ہوں کہ میں نے اسے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب میں اٹھارہ سال کا تھا تو اسوقت ہمارے لیے فوج میں شرکت کرنا ضروری تھا۔ یہ ویت نام کی جنگ تھی اور میرا نام بھی اس میں شامل کر لیا گیا۔ اس وقت ایک لاٹری سسٹم تھا جس کے ذریعے لوگوں کو منتخب کیا جاتا تھا۔ آپ کو نمبر ملتا تھا اور جس کا نام قرعہ اندازی میں آتا اسے بلا لیا جاتا۔ میرا نمبر نہیں نکلا سو مجھے نہیں بلایا گیا۔ میں کالج میں رہا اور اچھی تعلیم حاصل کی، پھر ایک اچھی کمپنی میں ملازمت مل گئی اور میں نے وہاں 41 سال خدمت کی اور خوابناک زندگی گزار جس کی میں نے کبھی امید بھی نہیں کی تھی۔ میرے والد سابق فوجی ہیں، انہوں نے جنگ عظیم دوم بحرالکاہل میں لڑی۔ میرے چچا فوج سے میجر کے عہدے پر ریٹائر ہوئے اور اپنی ملازمت کے دوران تین بار ویت نام میں متعین رہے۔ سوجب میں نے ان چیزوں پر غور کیا تو سوچا کہ میں نے تو ملک کے لیے کچھ بھی نہیں کیا تو اب خدمت کرنے کی باری میری ہے۔ اس لیے میں نے یہ ذمہ داری قبول کی۔

مسٹرکیبریرا: شکریہ، آپ ٹیکساس کے شہرآسٹن گئے تھے، آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا کہ آپ کا کیرئیر اس قدر عالمی نوعیت کا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ اگر آپ کو علم ہوتا تو آپ زیادہ بہتر تیاری کرتے۔ سامعین میں اب بھی بہت سے لوگ اپنا اپنا انتخاب رکھتے ہیں۔

وزیر خارجہ ٹلرسن: (قہقہہ) ٹھیک کہا

مسٹر کیبریرا: جو وہ کالج میں کرتے ہیں۔ اور یہ مجھ پر آپ کا احسان ہو گا کیونکہ میں طلبا کو باہر جانے کے لیے کہتا ہوں اور ان میں سے کچھ اس بات پر یقین نہیں کرتے ۔ اس لیے میری مدد کیجیے اور بتائیے کہ طلبا کو بیرون ملک کیوں جانا چاہیے۔ مثلا وہ برطانیہ یا اٹلی کیوں جانا چاہتے ہیں حالانکہ اگر وہ سپین جائیں تو مجھے حیرت نہیں ہو گی کیونکہ سپین واقعی حیران کن جگہ ہے۔ (قہقہہ)

مسٹر کیبریرا: تو انہیں افریقہ کیوں جانا چاہیے؟

وزیر خارجہ ٹلرسن:اس وقت میں کالج کا نیا طالب علم تھا جب مجھے بیرون ملک اپنے پہلے سفر پر پیرو جانے کا موقع ملا۔ وہاں ایک خوفناک زلزلہ آیا تھا۔ ایک بڑا انسانی المیہ۔ دو شہر پہاڑوں کے نیچے دفن ہی ہو گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں لوگوں کی بڑی تعداد لیما شہر کے باہر ایک پناہ گزین کیمپ میں رہنے پر مجبور ہو گئی۔ تب میں پیرو گیا تھا تاکہ کرسمس کے موقع پر وہاں کی صورت حال کے حوالے سے کوئی آگاہی لاکر دے سکوں۔ یہ میرا پہلا موقع تھا۔ اس کے مجھ پر بہت شاندار اثرات مرتب ہوئے کیونکہ یہ دوسرا موقع تھا کہ جب مجھے جہاز پر سفر کرنے کا موقع ملا اور پہلا موقع تھا جب مجھے پاسپورٹ ملااور یہی پہلا موقع تھا جب میرا بیرونی دنیا سے رابطہ ہوا اور مجھ پتا چلا کہ ہم کس طرح ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور کیسے ہم سب کے سب انسان ہیں اور جہاں جہاں بھی ہیں اپنی اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ آج کی دنیا میں تو بیرون ملک جانے کا تصور اور بھی زیادہ دلچسپ ہے کیونکہ آپ سب جانتے ہیں کہ دنیا ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوئی ہے۔ ہماری معیشتیں، ہماری سلامتی ڈارمائی طور پر تبدیل ہوئی ہے، اور آج سب ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اور آج آپ اقتصادیات اور سکیورٹی معاملات کا عالمی سیاق و سباق کے بغیر تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس لیے آپ چاہے طالب علم ہی ہیں اور اپنی تعلیم کے مقصد کو سمجھنا چاہتے ہیں تو بھی بیرون ملک جانا اور وہاں کے لوگوں کی زندگیوں کو ایک غیر ملکی مبصر کے طور پر دیکھنا آپ کی زندگی کو یکسر تبدیل کر دے گا۔ آپ انہیں اپنے نقطہ نظر سے دیکھیں اور اپنے بارے میں ان کی رائے حاصل کریں کہ وہ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ یہ غالبا ًآپ کی تعلیم کا سب سے اہم جزو ہو گا۔

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ لوگوں کے درمیان یہ باہمی ربط بڑھتا جا رہا ہے۔ دنیا سکڑ رہی ہے۔ اگرچہ طبعی حیثیت میں یہ آج بھی اتنی ہی ہے جتنی اس وقت تھی جب اسے خدا نے بنایا تھا تاہم اس پر رہنے والے ہم لوگوں کے لیے یہ روز بروز چھوٹی ہوتی چلی جا رہی ہےاور آپ کی نسل کے لیے یہ نئے مسائل کا باعث بن رہی ہے جبکہ میری نسل ان کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دیکھ سکتی ہے۔ اس لیے یہ اہم ہے کہ جتنا جلد آپ اس دنیا کو سمجھنا شروع کر دیں گے اتنے ہی آپ مستقبل کا سامنا کرنے کے لیے بہتر طریقے سے تیار ہوں گے۔ اس سب کے علاوہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ سب بہت ہیجان انگیز بھی ہوگا۔

مشکل جگہوں پر جائیں، آسان مقامات پر بے شک نہ جائیں جیسا کہ میں نے کہا کہ میں پیرو کے شہر لیما گیا تھا۔ میں پہاڑوں اور جنگلوں میں بھی گیا۔ یہ دیکھنا ایک بالکل نیا تجربہ تھا کہ دنیا بھر میں لوگ کس طرح زندہ رہتے ہیں۔ مشکل جگہوں پر جائیں، یہ تجربہ آپ کو تبدیل کر دے گا۔

مسٹر کیبریرا: بہت شکریہ۔ میں آپ کو سراہتا ہوں۔ ہم آپ کے اس مشورے پر عمل کریں گے۔ (قہقہہ) اب بتائیے کہ اپنے دورہ افریقہ کے لیے آپ نے پانچ ملکوں کا انتخاب کیا ہے۔ اس انتخاب میں آپ کی اپنی پسند کا کتنا دخل ہےا ور آپ کا ان ملکوں کے حوالے سے کیا تجربہ ہے۔ آپ کی ٹیم کی طرف سے یہ کس قدر تکنیکی فیصلہ ہے۔ اور آخری سوال یہ کہ آخر کیوں انہی پانچ ملکوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ ٹلرسن: دیکھیں میں تو چاہتا تھا کہ یہ دورہ دو یا تین ہفتے کا ہوتا کیونکہ افریقہ میں اور بھی ملک ہیں جو ہمارے لیے اہم ہیں اور جن کا دورہ کرنا ہمارے تعلقات کے لیے فائدہ مند ہوتا لیکن ہم نے پانچ کا انتخاب کیا۔ ہم ایتھوپیا جا رہے ہیں کیونکہ یہ افریقی یونین کا مرکز ہے۔ ایتھوپیا ویسے بھی امریکہ کا دیرینہ اتحادی ہے۔ افریقہ اور ایتھوپیا کے تعلقات ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط ہیں۔

اس کے بعد ہم جبوتی جا رہے ہیں۔ یہ یمن مصر، بحیرہ احمر اور نہرسویز کے سنگم پر واقع ہے اور ایک اہم تجارتی راستے کا حصہ ہے اور اس راستے کی حفاظت میں بھی شراکت دار ہے۔

اس کے بعد ہم کینیا جائیں گے جو ایک ابھرتا ہوا ملک ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ایڈز کے خلاف امریکی پروگرام کو بہت بڑی کامیابی ملی اوریہاں سے ہم نے اس پروگرام کے پھیلاؤ کے لیے کام کیا۔ اس لیے ہمارا کینیا کے ساتھ بھی دیرینہ تعلق ہے۔

اس کے بعد ہم چاڈ جا رہے ہیں کیونکہ چاڈ جی فائیوساحل ممالک کو لڑنے کے لیے سب سے بڑی فوج مہیا کرتا ہے اور ساحل میں ،دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں اس کی بے حد اہمیت ہے۔

آخر میں ہم نائجیریا جائیں گے جو براعظم افریقہ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ یہ بے انتہا قدرتی وسائل کا حامل ملک ہے۔ یہ نہ صرف اپنی کامیابی کی راہ پر گامزن ہے بلکہ براعظم افریقہ کو ترقی کی راہ پر چلانے کی امریکہ کی کوششوں میں بھی بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ میں نے افریقی معیشتوں کو اور زیادہ مربوط کرنے کے حوالے سے بات کی ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ امریکہ کی سوچ یہ ہے کہ وہ اوقیانوس کے آر پار تجارت پر توجہ مرکوز کرے۔ ہم حقیقی معنوں میں افریقہ کی بین البراعظمی تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اس سے یقینًا امریکہ کے لیے سرمایہ کار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔ اس لیے نائیجیریا جو براعظم افریقہ کا بڑا ملک ہے، یہ اس براعظم کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اس کے علاوہ میں اور بھی بہت سے ملکوں میں جانا چاہوں گا۔ میں نے شمالی افریقہ کا سفر بھی کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اس سے آگاہ ہوں گے کہ افریقہ میں اور بھی بہت سے اہم ملک ہیں جیسے مشرقی افریقہ، جنوبی افریقہ، تو یقینا یہ میرا افریقہ کا آخری دورہ نہیں ہوگا۔ مجھے دوبارہ وہاں جانا ہوگا۔

مسٹر کیبریرا: آپ ایکسون موبل کے سربراہ کی حیثیت سے اس عمل میں شریک رہے ہیں اور میں نے اس میں سے کچھ دیکھ بھی رکھا ہے۔ میں بھی اپنی ابتدائی زندگی میں نجی کمپنیوں کا حصہ رہا ہوں اور دیکھتا رہا ہوں کہ کیسے وہ اس علاقے کی اقتصادی حالت کو بدلتی ہیں جہاں وہ کام کرتی ہیں۔ اب جبکہ میں 2019 کے مجوزہ بجٹ کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے محکمہ خارجہ کے بجٹ میں 25 فی صد تک کمی کر دی جائیگی جس سے میرے خیال میں آپ کا ادارہ اپنے سفارتی اہداف کے حصول کے لیے نجی شعبے پر انحصار پر مجبور ہو جائے گا۔ آپ اس حوالے سے کیا سوچتے ہیں، کیا ہم آنے والے دنوں میں نجی شعبے کا بیرونی سفارت کاری میں زیادہ کردار دیکھ رہے ہیں۔ آپ اسے کیسے ساتھ لے کر چلیں گے۔

وزیر خارجہ ٹلرسن: پہلی بات یہ کہ بجٹ میں جس تخفیف کا آپ نے حوالہ دیا اس کا تعلق 2017 سے ہے کیونکہ ہم تو ابھی تک 2018 کے حتمی بجٹ کا انتظار کر رہے ہیں لیکن یہ بھی اس سطح تک کم ہو گا جو داعش کے خلاف لڑائی سے پہلے محکمہ خارجہ کو ملتا تھا۔

لیکن یہ بات درست ہے کہ ہم نجی شعبے کے ساتھ شراکت بڑھائیں گے اور ہم نے ایسا کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کر رکھا ہے۔ ہمارے کچھ ایسے ضابطے ہیں جس کی مدد سے ہم بیرونی ملکوں کو اپنی امداد تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں تاکہ وہ نجی شعبے کے ساتھ سرمایہ کاری میں حصہ لے سکیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے میں نے امریکی حکومت کے کردار کا ذکر کیا ہے کہ ہم ان ملکوں کے استحکام اور سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانے میں مدد دیں گے کیونکہ اگر آپ کے پاس یہ دونوں چیزیں نہیں تو پھر سرمایہ کاری لانا مشکل ہو جاتا ہے، لوگوں کو تعلیم دینا، خوراک مہیا کرنا، غذائی تحفظ دینا، صحت کی سہولتیں دینا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ نوجوان ہی کسی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں اور آپ کو ترقی کے لیے صحت مند اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد قوانین کی بنیاد پر نظام چلنا چاہیے جس کے لیے حکومتوں کے ساتھ مل کر بہتر قوانین نافذ کرانا ہوتے ہیں اچھی عدالتیں اور نظام عدل تشکیل دینا ہوتا ہے۔ انہی سے بدعنوانی کا خاتمہ ہوتا ہے جس نے ماضی میں اس براعظم کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں یہ ہمارا کردار ہے۔ ہم براہ راست سرمایہ کاری کریں گے۔ ہم کمپنیوں کی مدد کریں گے اور انہیں سمجھنے میں مدد دیں گے کہ مواقع کیا ہوتے ہیں۔ اگر انہیں مقامی قوانین کا سامنا کرنے کے لیے ہماری مدد کی ضرورت ہو گی تو وہ بھی انہیں مہیا کی جائیگی۔ ہمارا مقصد وہاں ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں امریکی، یورپی، چینی یا اور کسی خطے کی تجارت وہاں پھلے پھولے۔کسی جگہ تجارت اسی صورت ممکن ہوتی ہے جب تاجر دیکھیں کہ یہاں ان کی کامیابی کے لیے ماحول ساز گار ہے یا ان کے لیے کامیاب ہونے کے مواقع موجود ہیں۔ زندگی میں کسی چیز کی ضمانت نہیں دی جا سکتی اور میں نے یہ سیکھا ہے کہ نجی شعبے میں بھی کسی چیز کی ضمانت نہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ چاہا کہ اصولوں کو سمجھوں کیونکہ اصول تبدیل نہیں ہوتے اور میرے پاس کامیابی کا موقع تھا۔

مسٹر کیبریرا: آخری سوال، میں آپ کی ٹیم کی طرف سے لفظوں کے بغیر کچھ پیغامات پڑھ رہاہوں (قہقہہ)۔ افریقہ کے مستقبل میں خواتین کا کیا کردار ہے اور میرا خیال ہے کہ اس حوالے سے آپ کے پاس ایک بہت زبردست پیغام ہے۔ میں جانتا ہوں یہ آپ کے لیے نئی بات نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ایکسون موبائل نے خواتین کے کاروبار کرنے پر اچھی خاصی سرمایہ کاری کی۔ ہم اس چیز کے اثرات کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جب خواتین کو شادی کے بجائے سکول میں بھیجا جائے۔ ہم جانتے ہیں کہ خواتین کا معاشروں کی صحت اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں کیا کردار ہے۔ آپ بتائیے کہ اس حوالے سے ہمارا پیغام کیا ہو گا۔

وزیر خارجہ ٹلرسن: دیکھیے یہ ایسی چیز ہے جس پر مجھے 20 سال قبل بھی نجی شعبے میں داد مل چکی ہے اور اس کی بڑی وجہ میری سرمایہ کاری اور تجارت کے حوالے سے سرگرمیاں ہیں جو افریقہ میں جاری رہیں جبکہ اس کا ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بھی بہت کردار ہے جن میں روس بھی شامل ہے اور میں نے وہاں بھی اچھا خاصا وقت گزارا ہے۔ میں نے جو اپنی تعلیم سے سیکھا ہے بلکہ میرا تجربہ بھی ہے کہ میں نے ہمیشہ لوگوں کے لیے ایسے ہی حالات پیدا کیے ہیں جن کا میں تذکرہ کر چکا ہوں اور وہ یہ ہے کہ معمول سے ہٹ کر کام کیا جائے۔ اس حوالے سے میری آپ کی تنظیم کے صدر سے بھی بات ہوئی کہ دائرے کو توڑیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم ابھی افریقہ میں اس دائرے کو توڑنے کے عمل سے ایک نسل پیچھے ہیں تاہم ہمیں اس کی کوشش کرتے رہنا ہو گا۔

اس کا ایک اہم عنصر خواتین سے شروع ہوتا ہے کیونکہ اس عمل کا آغاز ماؤں سے ہوتا ہے اور جو ہم نے اپنی تعلیم سے سیکھا ہے وہ یہی ہے کہ بچے کی زندگی پر سب سے گہرا اثر ماں کا ہوتا ہے۔ یہ بات اس ملک پر بھی صادق آتی ہے اور مجھ پر بھی۔ بچے جو اقدار سیکھتے ہیں، جو رویئے اپناتے ہیں اور جو امنگیں رکھتے ہیں وہ ماؤں کی گودوں سے ہی سیکھ کر آتے ہیں۔ سو سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم پہلے خواتین کی صحت پر توجہ دیں اور ملک کی اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرنے کی ان کی صلاحیت کو بڑھائیں کیونکہ ہمارے ہاں ایسی بہت سی خواتین ہیں جو کسی باپ کے بغیر بچے کی پرورش کرتی نظر آتی ہیں۔ اس لیے اس عمل کا آغاز خواتین کی صلاحیت بڑھانے سے ہونا چاہیے کیونکہ وہ ایک اچھے خاندان کو پروان چڑھائیں گی۔

لیکن دوسری بات اس سے بھی اہم ہے کہ خواتین کو نہ صرف افرادی قوت میں شامل کرنا بلکہ حکمرانی میں بھی حصہ دینا چاہیے۔ وہ ایک بہت مختلف تناظر سامنے لاتی ہیں۔ میں نے اپنی نجی شعبے کی زندگی میں یہی دیکھا ہے اور سرکاری شعبے میں بھی اس کا تجربہ ہوا ہے۔ خاتون کا تناظر مردوں سے مختلف ہوتا ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ ہم برے ہیں لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری اور ان کی سوچ میں فرق ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بعض تاریک گوشے ہوتے ہیں جنہیں خواتین روشن کر دیتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم حقیقی معنوں میں اگر دائرہ توڑنا چاہیں تو وہ خواتین کو بااختیار بنانے سے ہی ممکن ہے تاکہ وہ ماؤں کی حیثیت سے، کاروباری افراد کی حیثیت سے اور حکومت میں شراکت کے ذریعے انسانی زندگی کی ہر جہت میں حصہ لے سکیں۔ اس طرح ہمیں قائدین کی ایک نئی نسل مل جائے گی۔ اس کا فائدہ مردوں اور عورتوں دونوں کو ہو گا اور یہ افریقہ کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ اس کا کچھ حصہ افریقہ کی تاریخ اور ثقافت پر مشتمل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کا فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ہم نے اس کا فائدہ ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہمیں اس کو صرف فروغ دینا ہوگا۔

اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ افریقہ میں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر کرنے کے لیے یہ بہت اہم ہے کیونکہ ہم سب براعظم افریقہ کے لوگوں کے لیے بہتر معیار زندگی چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ انہیں بھی وہ معیار زندگی دستیاب ہو جو ہمارے پاس ہے اور یہ ایک اہم عنصر ہے کہ ہم اس ہدف کو کیسے حاصل کرتے ہیں۔

مسٹر کیبریرا: وزیرخارجہ ، آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں اپنا قیمتی وقت دیا اور اپنا پیغام ہم تک پہنچایا اور خاص طور پر براعظم افریقہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ہم آپ کے افریقہ کے دورے کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔

وزیر خارجہ ٹلرسن:شکریہ اور بہت سی دعائیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں