rss

داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن کا بیان

English English

امریکی محکمہ دفاع
دفتر برائے ترجمان

 
 

سبھی کی آمد کا شکریہ، آپ میں بہت سے لوگوں کو دوبارہ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ میں عراق اور شام میں داعش کو شکست دینے کے لیے عالمی اتحاد کی کوششوں میں پیش رفت کے بارے میں آگاہ کروں گا۔

شام میں دریائے فرات کی وسطی وادی (ایم ای آر وی) میں داعش کے خلاف جنگ جاری ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں شامی جمہوری فورسز نے خرائج اور ابو کمال کے شمالی علاقے البحرہ کو دشمن سے پاک کرنے کی کارروائیاں مکمل کی ہیں جبکہ دریائے فرات اور شامی عراقی سرحد کے درمیان 100 مربع کلومیٹر علاقہ بھی واگزار کرایا ہے۔

تاہم اس کے بعد شامی جمہوری فورسز نے داعش کے خلاف کارروائیاں محدود کی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان فورسز کے بعض حصے وادی سے واپس چلے گئے ہیں۔ ان کی واپسی سے داعش کو شکست دینے کی جنگ منفی طور سے متاثر ہو سکتی ہے۔ عالمی اتحاد معلومات کی فراہمی، مشاورت اور نپے تلے حملوں کے ذریعے وادی میں شامی جمہوری فورسز کی معاونت جاری رکھے گا اور جہاں ممکن ہوا ہم دشمن کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔

عالمی اتحاد اپنے مقاصد کے حصول میں ثابت قدم ہے اور اسے احساس ہے کہ شمالی شام میں پیچیدہ حالات کے باعث یہ کوششیں طویل بھی ہو سکتی ہیں۔

اگرچہ ہماری توجہ داعش کے زیرتسلط باقی ماندہ علاقے کو واگزار کرانے پر مرکوز ہے مگر ہم غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں کا ہمسایہ ممالک میں فرار روکنے اور انہیں نشانہ بنانے میں بھی شامی جمہوری فورسز کی معاونت کر رہے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ داعش کے خلاف کوئی بھی حقیقی پائیدار فتح آزاد کرائے گئے علاقوں میں سلامتی اور استحکام کے لیے عالمی اتحاد کے مسلسل عزم کا تقاضا کرتی ہے۔ سلامتی کے ضمن میں ضروریات منبج فوجی کونسل اور رقہ کی داخلی سکیورٹی  فورس جیسے مقامی شراکت کاروں کے ذریعے پوری کی جا رہی ہیں۔

مزید براں داعش کی واپسی روکنے کے علاوہ یہ سکیورٹی  فورسز اس کی جانب سے ان علاقوں میں چھوڑی گئی ہزاروں کی تعداد میں بارودی سرنگوں کی صفائی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ایک خطرناک مگر انتہائی ضروری کام ہے جسے وہاں کے رہائشیوں کی واپسی سے پہلے مکمل کیا جانا ضروری ہے تاکہ لوگ بحفاظت اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔

جیسا کہ جناب وولف نے بتایا ‘2018 میں داعش کے خلاف جنگ کی نوعیت مختلف ہو گی’ سی جے ٹی ایف کا کردار پہلے ہی بڑی فوجی کارروائیوں میں عراقی سکیورٹی فورسز کی معاونت سے استحکامی کارروائیوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے داعش کے باقی ماندہ دہشت گردوں کو ڈھونڈنے اور ختم کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے جس سے عراق میں سلامتی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ یہ دہشت گرد زیرزمین چلے گئے ہیں اور ان میں بعض واقعتاً زیرزمین پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

عراقی سکیورٹی فورسز ملک بھر میں سکیورٹی اور دہشت گردوں کے خاتمے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ یہ فورسز داعش کے غاروں کے جال ڈھونڈ رہی ہیں جن میں سے بعض میں اس کے جنگجو بھی چھپے ہوئے ہیں۔ یہ تمام غاریں اسلحے سے بھری ہوئی ہیں جن میں دھماکہ خیز مواد، خودکش جیکٹیں اور بم بنانے والا سامان شامل ہے۔

بہت سے شہروں میں خصوصی عراقی ٹیموں نے آزادانہ طور سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کی ہیں جن میں اسی ہفتے داعش کے درجنوں ارکان کو پکڑا گیا ہے۔

عراق کی درخواست پر عالمی اتحاد عراقی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کام جاری رکھے گا جس میں ہمارے عراقی اتحادیوں کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ہم عراق کی ضروریات کے مطابق ان کی معاونت کریں گے جس میں خاص طور پر داعش سے آزاد کرائے گئے علاقوں کو محفوظ اور مستحکم بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

مثال کے طور پر عالمی اتحاد نے پولیس اور سرحدی محافظ فورسز کو تربیت فراہم کی ہے اور انہیں آبادیوں میں پولیس سٹیشن اور سرحد کے ساتھ سرحدی محافظ چوکیاں قائم کرنے کے لیے درکار سامان سے بھرے 200 کنٹینر بھی فراہم کیے ہیں۔

نام نہاد خلافت کے خاتمے اور داعش کے جھوٹے نظریے کے بے نقاب ہونے کے باوجود ہمیں ان دہشت گردوں کا پیچھا نہیں چھوڑنا۔ ہم نے ان پر دباؤ رکھا ہوا ہے اور اسے  برقرار رکھیں گے۔

یکم جنوری 2018 کے بعد عالمی اتحاد نے داعش کے درج ذیل رہنماؤں کو میدان جنگ میں ختم کیا ہے:

داعش کا کمانڈر ابو حسن الجزری 6 جنوری 2018 کو شامی علاقے  ال اشراح کے قریب اتحاد کے فضائی حملے میں مارا گیا۔ الجزری داعش کے غیرملکی جنگجوؤں سے رابطے اور ان کی راہنمائی کا ذمہ دار تھا۔

داعش کے غیرملکی جنگجوؤں کا سہولت کار ابو حاتم الجزیری 6 جنوری 2018 کو خرائج کے قریب اتحادی فضائی حملے میں ہلاک ہوا۔ جزیری داعش کے غیرملکی جنگجوؤں کے نیٹ ورک میں جزری سمیت اعلیٰ سطحی رہنماؤں سے رابطے میں تھا اور غیرملکی جنگجوؤں کی نقل و حرکت میں سہولت دینے کا ذمہ دار تھا۔

داعش کا فوجی رہنما ابو عائشہ ال داغستانی شام میں ال قشمہ کے قریب اتحادی فضائی کارروائی میں مارا گیا۔ داغستانی دریائے فرات کی وسطی وادی میں داعش کی کارروائیوں کا رہنما اور خطے سے باہر غیرملکی جنگجوؤں کی نقل و حرکت میں سہولت کار تھا۔ داغستانی کے مارے جانے سے داعش کے غیرملکی جنگجوؤں کا نیٹ ورک کمزور پڑ جائے گا اور خطے میں دہشت گرد حملوں کی ان کی صلاحیتیں محدود ہو جائیں گی۔

داعش کا کمانڈر ابو عبدالرحمان ال تمیمی 2 جنوری 2018 کو شامی علاقے حاجن کے قریب اتحاد کے فضائی حملے میں ہلاک ہوا۔ تمیمی نے شامی جمہوری فورسز اور اتحادی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی اور اہتمام کیا تھا۔

داعش کے ان رہنماؤں کی ہلاکات سے اس کی کمانڈ اور کنٹرول کی اہلیتیں منتشر ہو جائیں گی اور خطے میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دینے کے لیے وہ اپنے تجربہ کار رہنماؤں سے محروم ہو جائے گی۔

مختصر یہ کہ ۔۔۔ داعش کے خلاف عالمی اتحاد نہ صرف عراق اور شام بلکہ دوسرے علاقوں میں بھی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔

اس جنگ میں ہمارے اتحادی شراکت داروں کا روزانہ کی بنیاد پر کردار اہمیت رکھتا ہے۔

مجھے اس ٹیم کا حصہ ہونے اور اس کے مقصد پر فخر ہے۔

اور ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اب ہم آپ کے سوالات کی جانب آئیں گے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں