rss

شمالی کوریا کے اعلان پر انتظامیہ کے اعلیٰ افسر کی پریس بریفنگ

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
8 مارچ 2018
بذریعہ ٹیلی کانفرنس
 
 

اعلیٰ انتظامی افسر: ہیلو، سبھی کو شام بخیر، میں بریفنگ کے ضوابط بتاؤں گا اور اپنے مقرر کا تعارف کراؤں گا۔ آپ انہیں ‘اعلیٰ انتظامی افسر’ کہہ سکتے ہیں۔ بریفنگ کے اختتام تک اس کی نشرواشاعت پر پابندی رہے گی جس کے بعد یہ پابندی اٹھا لی جائے گی اور آپ اسے نشروشائع کر سکیں گے۔ مجھے بس یہی کہنا تھا، اس کے ساتھ ہی میں آپ کو اپنے مقرر سے متعارف کراؤں گا۔

اعلیٰ انتظامی افسر: سبھی کو شام بخیر۔ میرا خیال ہے کہ غالباً اب تک آپ نے آج وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے جنوبی کوریائی نمائندے کابیان سن لیا ہو گا۔ انہوں نے قریباً ایک گھنٹہ پہلے یہ بیان دیا ہے۔ میں آپ کو یہ بیان دیکھنے کے لیے کہوں گا اور اگر ضرورت ہو تو ہم آپ کو انگریزی زبان میں اس کی نقل بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

ہمارے سیکرٹری اطلاعات نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ‘صدر جنوبی کوریا کے وفد اور صدر مون کی جانب سے عمدہ کلمات کی بے حد ستائش کرتے ہیں۔ وہ متعین وقت اور جگہ پر کم جانگ ان سے ملاقات کی دعوت قبول کریں گے۔ ہم شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے پاک دیکھنے کے متمنی ہیں۔ اس دوران تمام پابندیاں اور شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے’

میں نے سوچا ہے کہ چند منٹ میں آپ کو یہ بتا دوں کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے۔ گزشتہ برس جنوری میں جب صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالا تو انہوں پہلے ہی دن یہ طے کیا کہ شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے کا فوری معاملہ نئے طریق کار کا متقاضی ہے۔ اس کے لیے ہمیں ان غلطیوں سے بچنا ہو گا جو ہم گزشتہ 27 برس میں بات چیت اور شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے ناکام طریقوں کی صورت میں کرتے چلے آئے ہیں۔

چنانچہ چند ہی ہفتوں میں انتظامیہ نے نئی پالیسی تشکیل دی جس پر صدر نے دستخط کیے۔ اس حکمت عملی کی رو سے شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالا جانا تھا۔ حکمت عملی کے تحت شمالی کوریا کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کے علاوہ یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ اسے ناصرف ہمارے اور ہمارے اتحادیوں و دوستوں کے وسائل سے فائدہ اٹھانے سے روکا جائے بلکہ پوری دنیا اس پر اپنے دروازے بند کرے جو کہ ناصرف خطے بلکہ مجموعی طور پر پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکا تھا۔

چنانچہ اُس سال انہوں نے اس حکمت عملی پر چلتے ہوئے کسی نہ کسی طرز کی بات چیت کے دروازے بھی ہمیشہ کھلے رکھے۔ انہوں نے مناسب وقت پر مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا۔ آج صدر مون کے قومی سلامتی سے متعلق چند حکام، ان کے قومی سلامتی کے مشیر چنگ اوئی یونگ اور ان کے انٹیلی جنس ڈائریکٹر سو ہون نے صدر ٹرمپ کو اوول آفس میں بریفنگ دی۔ اس موقع پر کابینہ کے متعدد حکام بشمول جنرل مکماسٹر، وزیردفاع ماٹس، نائب وزیرخارجہ سلوین، چیف آف سٹاف جنرل کیلی، ڈائریکٹر ڈان کوٹس اور سی آئی کی نائب ڈائریکٹر جینا ہیسکل بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے کم جانگ کا پیغام صدر کو پہنچایا۔

اس پیغام میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا وعدہ بھی شامل ہے۔ اس میں جوہری ہتھیاروں یا میزائلوں کے تجربات سے باز رہنے کا عہد بھی کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ ، اوہ، میں یہ بھی کہوں گا کہ کم جانگ ان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جمہوریہ کوریا اور امریکہ کے مابین معمول کی دفاعی مشقیں جاری رہنی چاہئیں۔ انہوں نے یہ پیغام بھی پہنچایا کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو صدر ٹرمپ سے ملنا چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے چند ماہ میں کم جانگ ان کے ساتھ ملاقات کی دعوت قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس ملاقات کے وقت اور جگہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔
میں اس بات پر بھی زور دوں گا کہ آج رات صدر نے سارہ کے ذریعے بیان میں کہا ہے کہ شمالی کوریا پر پابندیاں اور دباؤ برقرار رہنا چاہیے۔ یہی وہ چیز ہے جو صدر کی حکمت عملی کو ماضی کی پالیسیوں سے ممیز کرتی ہے۔ اگر ہم سابقہ امریکی حکومتوں میں شمالی کوریا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو عموماً ان کا نتیجہ دباؤ ختم کرنے کی صورت میں نکلا تھا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں بات چیت کے بدلے شمالی کوریا کو رعایتیں دی جاتی رہیں۔

صدر ٹرمپ نے روزاول سے یہ بات واضح کی ہے کہ وہ بات چیت کے بدلے شمالی کوریا کو نوازنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تاہم وہ ان سے ملاقات کی دعوت قبول کرنے پر رضامند ہیں اور شمالی کوریا سے توقع رکھتے ہیں کہ اس نے جنوبی کوریا والوں کے ذریعے جو باتیں کہی ہیں ان پر عملدرآمد بھی شروع ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی میں چند منٹ کے لیے آپ کے سوالات لوں گا۔

سوال: ہیلو، یہ (ناقابل سماعت) مجھے یہ وضاحت درکار ہے کہ آیا یہ پیشکش کم جانگ ان کی جانب سے خط کی صورت میں کی گئی ہے۔ کیا خط میں کسی طرح کے اوقات کار کا بھی تذکرہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے لیے کون سی جگہ مناسب ہو گی؟ کیا یہ ملاقات کسی غیرجانبدار ملک میں ہو گی؟ کیا یہ ملاقات جنوبی کوریا میں ہو سکتی ہے؟ کیا آپ ان نکات پر روشنی ڈالیں گے؟ شکریہ

اعلیٰ انتظامی افسر: یقیناً، سوال کے لیے شکریہ، میں یہ واضح کر دوں کہ شمالی کوریا کی جانب سے یہ باتیں کسی خط میں نہیں کی گئیں۔ کم جانگ ان کی جانب سے یہ پیغام جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ کئی گھنٹوں پر مشتمل ملاقاتوں میں زبانی طور پر دیا گیا جو چند ہی روز پہلے پیانگ یانگ میں ہوئی تھیں۔ سفیر چنگ نے آج یہ پیغام زبانی طور پر اوول آفس میں صدر ٹرمپ کو پہنچایا۔

جہاں تک ملاقات کے لیے مناسب جگہ کا سوال ہے تو تاحال اس کا تعین ہونا باقی ہے۔

سوال: میں سینٹینل نیوزپیپرز سے برائن کریم ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ آیا شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت میں اس کی جوہری تنصیبات کے معائنے کی بات بھی ہو گی؟ شکریہ۔

اعلیٰ انتظامی افسر: جی، سوال کے لیے شکریہ۔ دیکھیے، اس وقت ہم مذاکرات کے حوالے سے بات نہیں کر رہے، درست؟ ہم شمالی کوریا کے رہنما کی جانب سے امریکی صدر کے ساتھ بالمشافہ ملاقات کی دعوت سے متعلق بات کر رہے ہیں۔ صدر نے یہ دعوت قبول کر لی ہے۔

ظاہر ہے کہ شمالی کوریا کو مستقل طور سے جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے کسی قابل قبول معاہدے میں تصدیقی عمل بھی ساتھ ساتھ جاری رہے گا اور ہم اس نتیجے سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے۔ یہ وہ نتیجہ ہے جس کی تمام دنیا کو توقع ہے اور جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کہا گیا ہے۔ ان میں چار قراردادیں صدر ٹرمپ کے دور صدارت میں اور ان کی قیادت میں منظور ہوئیں۔

صدر اس تمام معاملے میں جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے آج فون پر جاپانی وزیراعظم ایبے سے انہی معاملات پر بات کی جیسا کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کرتے چلے آئے ہیں۔ شکریہ

سوال: ہیلو، میں ڈیو ناکامورا ہوں، میرا تعلق ‘واشنگٹن پوسٹ’ سے ہے۔ میں جلدی سے چند باتیں پوچھوں گا۔ میرا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں میں کبھی بالمشافہ ملاقات یا ٹیلی فون پر بات چیت نہیں ہوئی۔ آپ لوگ نچلی سطح سے ملاقاتیں شروع کیوں نہیں کرتے؟ آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں جو کچھ سامنے آیا ہے وہ ویسا ہی ہے۔ آپ کسی تحریری خط وغیرہ کی عدم موجودگی میں ہی ملاقاتوں وغیرہ پر رضامند ہو رہے ہیں۔ دوسری بات مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آیا آپ سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کی جانب سے اپنے ہاں قید امریکیوں کی رہائی کے طور پر خیرسگالی کے اظہار کے لیے بھی کوئی بات ہو گی۔ صدر ٹرمپ اوٹو وامبیئر سمیت دیگر قیدیوں کی رہائی میں واضح دلچسپی لیتے چلے آئے ہیں، اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: زبردست، ڈیو، سوال کے لیے شکریہ۔ آپ جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کا انتخاب اس لیے بھی عمل میں آیا تھا کہ وہ ماضی کے صدور کی جانب سے اختیار کردہ طریقہ ہائے کار سے ہٹ کر چلنا چاہتے تھے۔ اس حوالے سے شمالی کوریا کے بارے میں ان کی حکمت عملی سے زیادہ بہتر مثال کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ 1992 میں امریکہ نے نچلی سطح پر شمالی کوریا سے براہ راست مذاکرات کیے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ سے واضح ہے کہ اس دوران کیا ہوا۔

اس مرتبہ ہمیں شمالی کوریا کے رہنما کی جانب سے دعوت ملی ہے۔ جیسا کہ صدر مون نے کہا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس وقت جس جگہ پہنچے ہیں اس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا اہم کردار ہے۔

صدر ٹرمپ نے معاہدے کرنے کے حوالے سے شہرت پائی ہے۔ کم جانگ ان اپنے آمرانہ یا مطلق العنان نظام کے تحت خود فیصلے کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ چنانچہ ایسے میں اس شخص سے ملاقات کی دعوت قبول کرنا معقول بات ہے جو ماضی جیسی طویل مارا ماری کے بجائے خود فیصلے کر سکتا ہو۔ یہاں ہم گفتگو کا اختتام کریں گے۔

اعلیٰ سطحی انتظامی افسر: میں سبھی کے لیے دہرا دوں کہ یہ پس منظر بریفنگ ہے۔ آپ ہمارے مقرر کو ‘اعلیٰ انتظامی افسر’ کہہ سکتے ہیں۔ یہاں بریفنگ کا اختتام ہوتا ہے اور اب آپ اسے نشروشائع کر سکتے ہیں۔

اختتام


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں