rss

خصوصی نائب صدارتی نمائندہ ٹیری وولف اور داعش کے خلاف اتحاد کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن کی پریس بریفنگ

English English

امریکی محکمہ دفاع
دفتر برائے ترجمان
2018/03/08

 
 

خاتون مقرر: میں وکٹوریا ہوں، میرا تعلق ‘نیوزکور’ آسٹریلیا سے ہے۔ آپ نے بتایا کہ 2017 میں ایک اہم موڑ آیا۔ کیا آپ اس بارے میں کچھ وضاحت کر سکتے ہیں اور جب یہ خطرہ اردگرد دیگر ممالک کا رخ کرے گا تو آپ کو اس سے کس انداز میں نمٹنے کی توقع ہے؟

ٹیری وولف: عراق اور شام میں ایک دو چیزیں وقوع پذیر ہوئیں۔ ہم نے 2016 کا دوسرا نصف عراقی حکومت اور اس کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے گزارا۔ وہ موصل کی جنگ کے بارے میں مزید بتا سکتے ہیں۔ عراقیوں نے ابھی رمادی کو آزاد کرایا تھا اور وہ موصل کی جانب بڑھنے کی تیاری کر رہے تھے۔ ایسے میں ہم نے دیکھا کہ عراق کی مرکزی حکومت اور کرد خطے کے لوگ اس انداز میں اکٹھے ہو گئے جو ہمارے خیال میں موصل کو آزاد کرانے کے لیے ضروری تھا اور جیسا کہ آپ کو یاد ہو گا یہ مہم 2016 کے اواخر میں شروع ہوئی، تاہم موصل جنوری میں آزاد کرایا گیا۔ البتہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے مغربی موصل میں اس کے لیے حالات سازگار بنا دیے تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ 2016 میں رقہ کو بھی الگ تھلگ کر دیا گیا تھا۔ عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ دیگر سرگرمیاں بھی جاری رہیں جن میں معاونت، بارودی سرنگوں کی صفائی اور امن و استحکام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات شامل ہیں۔ ہم ‘یواین ڈی پی’ کے ساتھ مل کر کام کرنے اور امن و استحکام کی سہولت مہیا کرنے کے قابل ہیں۔ ہم نے ناصرف تکریت بلکہ ال انبار خصوصاً رمادی اور فلوجہ کی صورتحال سے بھی اسباق سیکھے ہیں کہ اس مقصد کے لیے کیا ہونا چاہیے۔ ہم نے اندازہ لگایا کہ موصل سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد تین لاکھ سے کم ہو سکتی ہے مگر یہ تعداد 10 لاکھ ہو تو آپ کیا کریں گے؟ تاہم ہوا یوں کہ عراقی حکومت نے ‘یواین ڈی پی’ اور عالمی برادری کی شراکت سے امن و استحکام لانے کی کوششوں کے لیے مالی معاونت جاری رکھی تاکہ ہم بے گھر لوگوں کی کیمپوں کی تعداد میں میں اضافہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چیف آف سٹاف اور وزارتی کونسل کی قیادت میں عراقی وزرا نے ڈائریکٹرز کا ایک انتظامی بورڈ چلایا جس نے اس کام کے لیے درکار منصوبے ترتیب دینا شروع کیے۔

یہ واقعتاً ایسا معاملہ تھا جس میں عراقی حکومت نے انسانی امداد کے حوالے سے درپیش مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہر ایک سے شراکت کی۔ اب تعمیر نو کے حوالے سے بھی یہی کچھ ہونے جا رہا ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں ہم نے یہ دیکھا کہ ہماری صلاحیت اور اہلیت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ 2016 کے وسط تک ہم جانتے تھے کہ جنگ کے اختتام پر ہمیں یہ سب کچھ کرنا ہو گا، لہٰذا ہم پر واضح تھا کہ اب کیا ہو گا مگر ہمیں تمام فریقین کو باربط طور سے اکٹھا کرنے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنا تھا۔

کرنل ڈیلن: میں اس میں صرف یہ اضافہ کروں گا کہ میں نے عراقی فوج کو موصل میں فتح حاصل کرتے خود دیکھا ہے۔ ہم نے ان کے اعتماد اور ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کی اہلیت کا مشاہدہ کیا۔ ہم پیشمرگہ، فورسز اور عراقی سکیورٹی فورسز کے عناصر کی بابت بات کر رہے ہیں۔ آپ نے عراقی سکیورٹی فورسز کی جانب سے موصل کو آزاد کرائے جانے کے موقع پر داعش کے خلاف کارراوئیوں کے لیے ان کی صلاحیت کا مشاہدہ کیا تاہم اس کے ساتھ ساتھ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ داعش کئی انداز میں پیچھے ہٹی تاہم موصل میں اس نے آخر تک جنگ کی، اس کے بجائے رقہ، فلوجہ اور ال انبار میں وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے اور ہتھیار ڈال دیے۔

چنانچہ اس سے عراقی سکیورٹی فورسز کا اعتماد بلند ہوا جبکہ داعش کے حوصلے ٹوٹ گئے۔

خاتون مقرر: ہیلو، ۔۔۔۔ میرا تعلق ‘بی بی سی ورلڈ سروس’ سے ہے۔ میں ذرا پیچھے جاؤں گی۔ میرا سوال 7 فروری کو پیش آنے والے واقعات سے متعلق ہے جب عالمی اتحاد بشمول امریکی افواج کا اسد کی حامی فورسز سے ٹکراؤ ہوا۔ کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں کہ اس علاقے پر اب کس کی عملداری ہے اور اس لڑائی میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا انہیں اسد کی حامی فورسز واپس لے گئیں یا یہ لاشیں امریکیوں کے قبضے میں ہیں؟ اس سے روسیوں کے ساتھ آپ کے تعلقات پر کیا اثر پڑا؟

کرنل ڈیلن: ٹھیک ہے، 7 اور 8 فروری کو پیش آنے والے واقعات کچھ یوں ہیں کہ شامی جمہوری فورسز اور اتحادی افواج نے دریائے فرات کی مشرقی سمت میں افواج کو مجتمع ہوتے دیکھا۔ فرات کو ہم عدم تصادم کی روایتی لکیر بھی کہہ سکتے ہیں جس کے اطراف میں ہمارے شراکت دار ‘یوایس ڈی ایف’ اور اسد حکومت کی حامی اور شامی فورسز موجود ہوتی ہیں۔ ہم نے فریقین میں قائم عدم تصادم کے لکیر کے پار روسیوں سے بات چیت کی جیسا کہ ہم کئی ماہ سے کرتے چلے آئے ہیں بلکہ ایسا کرتے ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں۔ ہم نے انہیں افواج کے اس اجتماع کی بابت بتایا اور اندازہ لگایا کہ کسی طرح کا حملہ ہونے جا رہا ہے۔ اس دوران شامی جمہوری فورسز پر بلااشتعال حملہ کیا گیا جہاں ہمارے اتحادی بھی موجود تھے۔ ہم نے اپنا دفاع کیا اور اس خطرے کا خاتمہ کر دیا۔ اس واقعے سے پہلے، اس دوران اور اس کے بعد ہم نے روسیوں سے بات چیت جاری رکھی اور ان کی جانب سے لاشیں واپس لے جائی گئیں۔ ہمارے مطابق یہ حکومت کی حامی فورسز تھیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس حوالے سے بہت سی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ یہ عناصر کون تھے مگر میں کہوں گا کہ یہ ہمیں داعش کے خلاف جنگ میں بے سمت کرنے کی کوشش تھی مگر دوسری بات یہ ہے کہ ایسے واقعات پر ہمارا ردعمل ایسا ہی ہوگا کیونکہ یہ بلااشتعال حملہ تھا اور ہم نے تمام کارروائی خالصتاً اپنے دفاع میں کی۔

خاتون مقرر: تو وہ لوگ لاشیں لے گئے؟

ریان ڈیلن: جی ہاں، شامی جمہوری فورسز، امریکہ اور اتحادی افواج کے پاس یہ لاشیں نہیں ہیں۔

مرد مقرر: میرا نام راب ہے اور میں ‘نیویارک ٹائمز’ کی نمائندگی کرتا ہوں۔ شامی جمہوری فورسز ۔۔۔۔ جب وہ عفرین گئے تو عربوں کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا انہوں نے پیچھے رہ کر پیشمرگہ کے بغیر لڑائی لڑی یا ان میں کچھ لوگ عفرین بھی گئے اور کیاوہ لوگ ‘وائی پی جی’ کے بغیر بھی موثر فورس کے طور پر کام کر رہے ہیں؟

کرنل ڈیلن: شامی جمہوری فورسز 57 ہزار ارکان پر مشتمل ہیں جن میں اکثریت عربوں کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دریائے فرات کی وادی میں لڑنے والے 80 فیصد عرب اور 20 فیصد کرد ہیں۔ میں کہوں گا کہ شامی جمہوری فورسز کی بیشتر قیادت کرد ہے اور اس کے مقامی کمانڈر وادی چھوڑ کر عفرین گئے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ عرب جنگجو بھی عفرین گئے ہیں کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ پیشمرگہ نے انہیں ان کے علاقے آزاد کرانے میں مدد دی اور اب جواب میں کردوں کی مدد کا وقت آیا ہے۔ چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ عفرین میں صرف کرد ہی نہیں آئے بلکہ شامی جمہوری فورسز کے بعد دوسرے ارکان بھی گئے ہیں۔

مرد مقرر: کیا آپ کو اندازہ ہے کہ یورپ جیسے علاقوں میں واپس آنے والے داعش کے جنگجوؤں کی تعداد کتنی ہو سکتی ہے اور کیا آپ کو اندازہ ہے کہ یہ لوگ کس قدر موثر یا کمزور ہو سکتے ہیں؟

ٹیری وولف: غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی واپسی یقیناً بے حد تشویش کا باعث ہے اور اگر 40 ہزار سے زیادہ غیرملکی دہشت گرد جنگجو عراق اور شام گئے تھے تو دنیا بھر کے ممالک اور عمومی طور پر دیکھا جائے تو عالمی اتحاد یہ اندازہ لگانے کے لیے کیا کوشش کر رہے ہیں کہ جنگی کارروائیوں میں ایسے کتنے لوگ مارے گئے؟ اسی طرح عراق اور شام میں کتنے غیرملکی جنگجو موجود ہیں جو کہ کئی ہزار بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ وہاں سے چلے گئے ہیں تو کہاں گئے؟ کیا وہ اپنے وطن واپس چلے گئے یا کسی تیسرے ملک کا رخ کیا؟ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور میں اسے سبھی کے سامنے رکھتا ہوں۔ یہ ایک مسئلہ ہے کیونکہ دنیا بھر کے ممالک اس بارے میں اندازہ لگانے میں مصروف ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ کتنے لوگ آپ کے ملک سے وہاں گئے تھے؟ آپ نے سوفان گروپ اور چند دیگر آزاد تھنک ٹینکس کے جائزے دیکھے ہیں جنہوں نے اس حوالے سے کچھ اعدادوشمار پیش کیے ہیں۔ انٹیلی جنس حلقوں نے بھی ایسی ہی تحقیق کی ہے اور معلومات کا تبادلہ عمل میں آیا ہے، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ ان کے ساتھ شامل ہونے والے عراقیوں اور شامیوں کو بھی شامل کر لیں تو یہ تعداد کتنی بنتی ہے؟ ہمارے پاس جو اعدادوشمار ہیں ان کی رو سے یہ 40 ہزار سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اگر ان میں عراقی اور شامی بھی شامل ہو جائیں تو یہ تعداد 60 یا 80 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

تو ہمارے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ کتنے دہشت گرد جنگجو باقی ہیں اور کتنے جا چکے ہیں۔ ہم غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں کے حوالے سے بنائے گئے ورکنگ گروپ کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا بھر کے ممالک ان کی تعداد کے ضمن میں کیا کیا معلومات رکھتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ پولینڈ سے تعلق رکھنے والے 200 غیرملکی جنگجووہاں سے نکلے تو کہاں گئے؟ میں نہیں سمجھتا کہ یہ تعداد درست ہو سکتی ہے مگر ہم فرض کرتے ہیں کہ اتنے لوگ تھے، مگر اب وہ کہاں ہیں؟ تاہم اتنی ہی اہم بات یہ بھی ہے کہ اگر ان میں 100 لڑائی میں مارے گئے اور 100 واپس آگئے تو واپس آنے والے یہ لوگ کہاں ہیں۔ اتنا ہی اہم سوال یہ بھی ہے کہ آیا لوگوں کا عراق اور شام جانا اور داعش کی مدد کرنا آپ کے لیے غیرقانونی تھا یا نہیں؟ میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے۔

اس ضمن میں ہم نے یہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2178 اور 2396 کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے معلومات کا تبادلہ کریں، غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں کے بائیومیٹرکس کا تبادلہ کریں اور عالمی سطح پر تبادلے میں آنے والی نگرانی کی فہرست کو بھی مدنظر رکھیں۔

لہٰذا جب میں داعش کے خلاف عالمگیر جنگ کی بات کرتا ہوں تو وہ کچھ ایسی ہی ہو گی۔ اس وقت انٹرپول کے ڈیٹا بیس میں 46 ہزار نام موجود ہیں مگر کچھ ہی عرصہ پہلے ہی تعداد 10 ہزار سے کم تھی، اس میں اضافہ ہونا ہے اور ممالک کو ایسے اقدامات اٹھانا ہیں جنہیں اٹھانے کے وہ پابند ہیں۔

چنانچہ متفرق طور سے دیکھا جائے تو میں آپ کے سوال کا جواب نہیں دے رہا، مگر مستقبل میں اتحاد کو اس انداز میں معلومات اور اطلاعات کا تبادلہ کرنا ہے جس سے فائدہ ہو اور چونکہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ اگر آپ جانتے ہیں آپ کے ملک سے جانے والے غیرملکی دہشت گرد جنگجو کون تھے تو آپ کو یہ کھوج لگانا ہے کہ اب وہ کہاں ہیں، اگر وہ وطن واپس آ چکے ہیں اور آپ ان کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہیں تو یہ ایک قومی ذمہ داری ہو گی اور ایسے میں یہ بات اتنی ہی اہم ہو گی کہ اگر غیرملکی جنگجو واپس آتے ہیں تو آپ ان کے خلاف اپنے عدالتی نظام میں کیا کارروائی کر سکتے ہیں۔

ریان ڈیلن : اسد حکومت یا داعش کے خلاف ہمارے جنگجوؤں کی بابت آپ کے سوال کے جواب میں مجھے یہ کہنا ہے کہ اگر ہم یہ دیکھیں کہ گزشتہ برس ہم کہاں کھڑے تھے اور اگر آپ گزشتہ تین برس پر نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ شامی حکومت داعش کے خطرے سے نمٹنے پر تیار نہیں تھی یا اس سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتی تھی۔ آپ گزشتہ برس کی مثال ذہن میں رکھیں جب ہم رقہ کو دوسرے علاقوں سے الگ کر رہے ہیں۔ اس وقت بھی رقہ نام نہاد خلاف کا دارالحکومت تھا۔ دیرالزور سے جنوبی علاقہ اس وقت بھی ایسے بہت سے وسائل پیدا کر رہا تھا جسے وہ اپنے کارروائیوں کی انجام دہی کے لیے استعمال میں لا رہے تھے۔ چنانچہ ہم نے یہ علاقہ واپس لے لیا جس سے ان کی کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت پر گہری زد پڑی۔

مرد مقرر: میں پاکستان کے ‘آج ٹی وی’ سے نوید ساجد ہوں۔ مجھے یہ پوچھنا ہے کہ انہیں ہتھیار اور تیل کون فراہم کر رہا ہے؟ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ دہشت گردی سے زیادہ کاروباری معاملہ ہے؟

ریان ڈیلن: کیا آپ داعش کی بات کر رہے ہیں؟

مرد مقرر: جی

ریان ڈیلن: اس حوالے سے میں یہ کہوں گا کہ یہ خطہ طویل عرصہ سے لڑائیوں کی آماجگاہ ہے۔ 2014 کے حالات پر نظر ڈالیں جب عراقی فوج اور سکیورٹی کا ڈھانچہ تحلیل ہو گیا تھا۔ ایسے میں پیچھے بہت سے ہتھیار بچ رہے جنہیں ان کاررائیوں میں استعمال کیا گیا۔ مگر آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے زیرقبضہ علاقوں میں بینکوں اور دیگر ذرائع پر تسلط جما کر اپنے لیے وسائل پیدا کیے۔

ٹیرل وولف: میں رقم کے حوالے سے ایک نکتے کی وضاحت کروں گا کیونکہ مالیات کے معاملے کو اکثر درست طور سے سمجھا نہیں جاتا۔ داعش کی اندازاً 50 فیصد مالیات ٹیکسوں سے آتی تھیں کیونکہ انہوں نے ہر شے پر ٹیکس لگایا۔ اسی طرح داعش کو 30 فیصد آمدنی تیل اور قدرتی گیس کی فروخت سے حاصل ہوتی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ یہ چیزیں کسے فروخت کر رہے تھے۔ عام مفروضہ یہ ہے کہ یہ تیل اور قدرتی گیس ترکی کو بیچی جا رہی تھی اور اس کا بڑا حصہ شامی حکومت کو بھی فروخت ہو رہا تھا۔ دیرالزور میں پیدا ہونے والا تیل اور قدرتی گیس داعش کی آمدنی کا بڑا ذریعہ تھی اور یہ چیزیں شامی حکومت کو فروخت کی جا رہی تھیں۔

خاتون مقرر: شام؟

ٹیری وولف: شام، شامی حکومت کو، کیوں؟ آپ شام میں تنصیباتی ڈھانچے کو دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ گیس اور تیل کہاں جاتا ہے۔ اس کی ترسیل مشرق سے مغرب کی جانب ہوتی ہے اور یہ حکومت کو جاتا ہے کیونکہ تیل پیدا کرنے والے علاقے مشرق میں ہیں جبکہ شامی آبادی مغربی جانب ہے۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ اسے اسی سمت جانا تھا، بہت کم مقدار شمال کی جانب گئی۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ داعش کو بقیہ 20 فیصد آمدنی کہاں سے آتی تھی؟ شاید اس کا 10 فیصد تجارت اور مختلف اشیا کی فروخت سے حاصل ہوتا تھا۔ اگر آپ تحقیق کریں تو اندازہ ہو گا کہ فروخت ہونے والی ہر شے کی قیمت کا کچھ حصہ داعش کو جاتا تھا۔ تاہم جیسا کہ کرنل نے بتایا ہے جوں جوں ان کے زیرتسلط علاقے میں کمی آتی گئی ان کی ٹیکس عائد کرنے کی اہلیت بھی کم ہوتی گئی کیونکہ انہوں نے ایسے لاکھوں لوگوں پر تسلط کھو دیا تھا جو روزانہ کی بنیاد پر ان کے زیراثر تھے۔ اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے تیل اور قدرتی گیس پر اجارہ بھی کھو دیا۔ شام اور عراق دونوں جگہوں پر ایسا ہی ہوا اور وہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی 30 فیصد آمدنی سے محروم ہو گئے۔

مرد مقرر: میرا نام رضا سید ہے۔

مرد مقرر: جی بات کیجیے۔

رضا سید: میرا تعلق پاکستانی ٹی وی چینل ‘سما’ سے ہے۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ داعش کے کتنے لوگ افغانستان، لیبیا یا ایسی دوسری جگہوں کو گئے ہوں گے۔ مزید براں اتحاد نے کئی سال تک داعش کے خلاف لڑی جانے والی جنگ سے کیا سبق سیکھا ہے؟

ریان ڈیلن: سب سے پہلے میں یہ کہوں گا کہ ہم نے اس جنگ سے کچھ سبق لیے ہیں۔ تاہم اگر آپ داعش کے بارے میں غور کریں تو یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ داعش جاری تحریکوں کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہے ان کی تعداد 48 یا اس سے زیادہ ہے، یہ دوسرے گروہ کو اپنا جھنڈا لہرانے اور بغدادی و مرکزی داعش سے وفاداری کا عہد کرنے کو کہتی ہے۔ آپ ایسے اتحادوں کو کیسے دیکھتے ہیں؟ دیکھا جائے تو بعض اوقات اس میں مالی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ بعض اوقات ان گروہوں سے داعش کو پروپیگنڈے اور قیادت کے حوالے سے مدد ملتی ہے، یہ میرا ذاتی اندازہ ہے کہ بیشتر جگہوں پر مقامی تحریکیں ہی کام کر رہی ہیں۔

خاتون مقرر: ۔۔۔۔ میں فرانسیسی اور انگریزی ۔۔۔ ٹی وی سٹیشن کی برطانیہ میں نمائندہ ہوں اور حال ہی میں فارن پریس ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوئی ہوں۔ آپ نے انٹیلی جنس کے تبادلے کی بابت بات کی جب آپ تدابیر میں تبدیلی کا تذکرہ کر رہے تھے۔ کیا آپ ہمیں اس بارے میں مزید کچھ بتا سکتے ہیں؟ مجھے جلدی سے ایک اور سوال بھی پوچھنا ہے کہ کیا آپ ہمیں یورپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد جنگجوؤں کی تعداد سے آگاہ کر سکتے ہیں جو شام اور عراق گئے؟

ٹیری وولف: کیا آپ میدان جنگ کے حقائق کی بابت بات کرنا چاہتے ہیں۔

ریان ڈیلن: یقیناً، جب داعش کے یہ جنگجو ہمارے ہاتھ آتے ہیں تو ہم ان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ان کے نیٹ ورک کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ہم یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ آیا یہ غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں کا گروہ ہے کیونکہ وہاں ہر قسم کے عناصر باہم منسلک ہیں۔ ہم نے ڈرون نیٹ ورک کے ذریعے مشاہدہ کیا۔ جب آپ کسی ایک دہشت گرد کو پکڑتے ہیں اور وہ آپ کو معلومات سے آگاہ کرتا ہے تو اس کی بنیاد پر بقیہ عناصر کا قلع قمع کیا جاتا ہے۔

ٹیری وولف: اس سلسلے میں دیگر چیزوں اور میدان جنگ میں ہاتھ آئے دشمن کے سامان سے مدد لی جاتی ہے خواہ یہ عمومی فوجی کارروائیوں میں حاصل ہواہو یا شامی جمہوری فورسز یا عراقی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہاتھ آیا ہو۔ ہم اسے خفیہ نہیں رکھتے بلکہ معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ یہ معلومات ایک دوسرے کو دی جا سکتی ہیں اور جب ایسا ہو تو انہیں نفاذ قانون کے ذرائع کے حوالے کیا جاتا ہے، علاوہ ازیں قانونی ذرائع کو بھی ان سے آگاہ کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا یہ فرانسیسی شہری ہے یا امریکی اور آپ اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ معلومات خفیہ رکھی جائیں تو پھر ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ چنانچہ یہ بات سمجھنا ہوتی ہے کہ یہ معلومات دوسرے بہت سے معاملات میں استعمال ہوں گی اور انہیں قانونی کارروائیوں کے لیے بھی استعمال میں لایا جائے گا۔ غالباً وقت کے ساتھ ہم نے اس حوالے سے بہت کچھ سیکھا ہے اور یہ صرف فوجی شرکا کو باہم اکٹھا کرنے کا معاملہ ہی نہیں ہے بلکہ نفاذقانون کے لوگ بھی اس میں شامل ہیں۔ اسی لیے میں اسے معلومات کا بنیادی نوعیت کا تبادلہ کہتا ہوں۔ اس میں آپ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں اور اسے مناسب طور سے کام میں لاتے ہیں۔

خاتون مقرر: ہیلو، بریفنگ کے لیے شکریہ، میرا نام ۔۔۔ ہے اور میں ‘انٹرنیشنل ٹی وی’ کی نمائندگی کرتی ہوں۔ میرے چند سوالات ہیں۔ امید ہے کہ مجھے بریفنگ کے بعد آپ سے بات کا موقع ملے گا۔ میں ان میں سے ایک سوال ابھی آپ کے سامنے رکھتی ہوں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایران اس اتحاد کا حصہ نہیں ہے تاہم کئی مواقع پر انہوں نے داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ اور عالمی بردادری کی دیگر فورسز کی مدد کی ہے۔ چند ہی دن پہلے لندن میں شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران، ترکی اور اسلامی جہادی گروہوں کو بدی کے نئے محور قرار دیا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟

کیا ایران داعش کے خلاف جنگ میں عالمی اتحاد کا رکن بننے جا رہا ہے؟ اس حوالے سے امریکی حکمت عملی کیا ہے اور محمد بن سلمان نے جو کچھ کہا ہے اس سے امریکی ایران ممکنہ تعاون پر کیا اثر پڑے گا؟

ٹیری وولف: سب سے پہلے میں یہ کہوں گا کہ وہ اپنے بیان کے خود ذمہ دار ہیں اور آپ کو یہ سوال ہم سے نہیں بلکہ سعودیوں سے کرنا چاہیے۔ تاہم مجھے یہ تسلیم ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز خصوصاً ‘پی ایم ایف’ کو ایران سے کچھ معاونت ملی ہے اور اس کی بنیاد عراق اور ایران کے باہمی تعلقات پر ہے۔ آج ایرانی نائب صدر عراق کے دورے پر ہیں جہاں وہ وزیرامور خارجہ اور متعدد دیگر وزرا سے ملاقاتیں کریں گے۔ عراق کی سرحد ایران سے ملتی ہے اور اس حوالے سے عراق فیصلہ کرے گا کہ مستقبل میں اس کے ایران سے تعلقات کیسے ہوں گے۔

ریان ڈیلن: میں یہ بھی کہوں گا کہ داعش سرحدوں سے ماورا ہے اور اس نے ایران میں بھی حملے کیے ہیں، چنانچہ یہ ایک عالمی خطرہ ہے۔

اسد علی: میرا نام اسد علی ہے اور میرا تعلق پاکستانی ٹی وی چینل ‘یوکے 44’ سے ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ پاکستان طویل عرصہ سے امریکہ کا اتحادی ہے۔ تاہم امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی فہرست میں شامل کرانے کی کوششوں سے پاکستانی حکومت کو مایوسی ہوئی۔ کیا آپ واقعتاً سمجھتے ہیں کہ پاکستان ٹاسک فورس میں اپنا درجہ بہتر بنانے کے لیے اس سلوک کا مستحق ہے۔ سعودی ولی عہد برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ کیا داعش اور شام کی صورتحال کے حوالے سے ان کی امریکی حکام کے ساتھ درون خانہ کوئی ملاقاتیں ہوں گی؟

ٹیری وولف: میں آپ کے دوسرے سوال کا جواب پہلے دوں گا جو یہ ہے کہ میں اس بابت نہیں جانتا، ولی عہد یہاں سے امریکہ جائیں گے جہاں ان کی امریکی حکام سے بہت سی ملاقاتیں ہوں گی۔ جہاں تک آپ کے پہلے سوال کا تعلق ہے تو یہ مجھ سے نہیں ہونا چاہیے۔ میں پاکستان کے حوالے سے باقاعدہ کام نہیں کرتا اس لیے دوسرے لوگ آپ کے سوال کا بہتر جواب دے سکتے ہیں۔

ریان ڈیلن: میں ایسے لوگوں میں سے نہیں ہوں۔

مرد مقرر: کوئی اور سوال؟

خاتون مقرر: ۔۔۔ لندن، آپ گزشتہ برس عراق کو داعش سے آزاد کرانے کے ضمن میں ایرانی کردار کے حوالے سے کیا کہیں گے اور آپ اسے شام میں ایرانی کردار سے کیسے مختلف دیکھتے ہیں؟

ریان ڈیلن: جیسا کہ جناب وولف نے ابھی کہا ‘پاپولر موبلائزیشن فورسز’ مختلف گروہوں کا مجموعہ ہے۔ ان میں بعض گروہوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ یہ فورسز اس وقت سیستانی کے کہنے پر بنائی گئی تھیں جب داعش بغداد کی جانب بڑھ رہی تھی۔ انہوں نے عراق میں بہت سی جگہوں پر داعش کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں عراق کے محافظ سمجھا جاتا ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ایران کی جانب سے عراق کو مشیر بھی مہیا کیے گئے ہیں اور عراقیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی داعش کے خلاف اپنا کردار ادا کیا۔ ان کی سرحد ایک ساتھ ہے اس لیے ۔۔۔۔

خاتون مقرر: کیا شام میں ان کا کردار اس سے ہٹ کر ہے؟ کیا وہ شام میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں؟

ریان ڈیلن: ہم نے ایسے ملیشیا گروہوں کا مشاہدہ کیا ہے جو شامی حکومت کے لیے کام کر رہے ہیں، تاہم میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہیں ایرانی حکومت کی جانب سے کتنی حمایت حاصل ہے۔

مرد مقرر: میرا خیال ہے کہ مصر سے کوئی ہمارے ساتھ ٹیلی فون لائن پر موجود ہے، کیا آپ ان کا رابطہ کروا سکتے ہیں؟

خاتون مقرر: شکریہ، آپ کی لائن کھلی ہے، بات کیجیے۔

مرد مقرر: یوں لگتا ہے کہ وہ موجود نہیں ہیں، ہم دوبارہ ان کی جانب جائیں گے، کیا کمرے میں کسی اور کو سوال کرنا ہے؟

خاتون مقرر: میں یہ جاننا چاہتی ہوں، جیسا کہ آپ نے کہا داعش ایک عالمگیر خطرہ ہے۔

مرد مقرر: معذرت چاہتا ہوں، کیا آپ اپنا تعارف کرائیں گی؟

خاتون مقرر: اوہ معاف کیجیے، ۔۔۔ پیرس۔ آپ نے کہا کہ داعش ایک عالمگیر خطرہ ہے۔ داعش پر قابو پانے اور اسے منظم ہونے سے روکنے کے ضمن میں آپ کے کیا خدشات ہیں؟

ٹیری وولف: میں یہ کہوں گا کہ جب آپ عراق اور شام سے باہر نظر ڈالتے ہیں تو اس مسئلے کا حل بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے جو کہ اتحاد کے رہنما اصولوں میں مذکور ہے۔ ہر جگہ داعش پر قابو پانے کے طریق کار مختلف ہوں گے۔ میں آپ کو اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ جب آپ گزشتہ موسم گرما میں فلپائن کے علاقے منڈاناؤ میں ماراوی کی لڑائی پر غور کرتے ہیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ داعش اپنے ساتھ چار گروہ لائی جنہوں نے اس کے رہنما سے وفاداری کا عہد کر رکھا تھا۔ انہوں نے لڑائی میں ایسے بہت سے طریقہ ہائے کار استعمال کیے جن کا مشاہدہ ہم نے موصل میں اور رقہ میں کیا ہے۔ ان میں غاروں کا نظام، بینک لوٹے جانا اور شہریوں سے لوٹ مار شامل ہیں۔ ہم نے کمرشل ڈرون طیاروں کا استعمال دیکھا جن پر کیمرے لگے تھے جن سے داعش کو نقل و حرکت میں مدد ملتی تھی۔ اب فلپائن کی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا کیا؟ بنیادی طور پر انہوں نے یہ کہا کہ فلپائن کی مسلح افواج ماراوی کو آزاد کرانے کے لیے لڑیں گی تاہم بہت سے دیگر ممالک نے بھی محدود پیمانے پر مدد کی جسے وہاں کی حکومت قبول کرنے پر رضامند تھی۔ تاہم اس مدد میں لڑاکا فورسز شامل نہیں تھیں۔ اس میں کچھ ‘آئی ایس آر’ اور عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے کچھ دیگر معاونت شامل تھی۔ چنانچہ اس کا ایک حل یہ ہے۔ اگر آپ ‘آئی ایس او’ مغربی افریقہ کو دیکھیں تو وہاں چند ممالک کا گروہ ہے جو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔

ہم فرانس کی جانب سے جی 5 ممالک کے ساتھ ان دہشت گرد گروہوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو دیکھ رہے ہیں۔ فرانس نے اس ضمن میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ چنانچہ ان میں ہر ایک دوسرے سے قدرے مختلف دکھائی دیتا ہے، لیبیا میں سیرت کی لڑائی میں امریکی قیادت میں داعش کے خلاف اور وزیراعظم سراج اور لیبیا کی حکومت کے حق میں حملے کیے گئے تاکہ وہاں کے مخصوص مسئلے سے نمٹا جا سکے۔ وہاں داعش کی آٹھ شاخیں اور 22 دیگر ملحقہ گروہ ہیں جن سے نمٹنے کے الگ الگ طریقے ہیں۔ کسی ملک کی جانب سے خاص طور پر معاونت کی درخواست آنے کی صورت میں ہی اس کی معاونت پر غور ہو گا۔

ریان ڈیلن: میرے پاس عراق و شام سے باہر عسکری اقدامات کے علاوہ کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے تاہم گزشتہ دو روز میں عالمی اتحاد کے رابطہ گروپ کے اجلاس ہوئے ہیں اور گزشتہ روز میری مختلف ممالک کے مختلف ارکان سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں فلپائن بھی شامل تھا۔ اس موقع پر ہم نے خیالات کا تبادلہ کیا کہ ان مسائل سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے اور انہیں اس دوران معلومات کے حصول پر بے حد خوشی ہوئی جن سے وہ واپس جا کر کام لینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ہم ایک دوسرے سے بہترین طریقہ ہائے کار کی بابت تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

مرد مقرر: چالیس ممالک ۔۔۔

خاتون مقرر: میں اسی بارے میں سوچ رہی تھی مگر کیا یہ دلچسپ جواب ہے؟

ریان ڈیلن: یقیناً نہیں اور اس سے داعش کو ان میں بعض گروہوں کو ساتھ ملانے کا موقع میسر آتا ہے۔ ایسا ان جگہوں پر ہوتا ہے جہاں حکومتی عملداری کمزور ہو اور جہاں ممالک کو معقول طور سے اپنا اختیار منوانے میں مسائل کا سامنا ہو۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں