rss

وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کا بیان

English English, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
13 مارچ 2018
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی

 

وزیرخارجہ ٹلرسن: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ آج دوپہر سے کچھ دیر بعد مجھے ایئرفورس ون سے صدر کی کال موصول ہوئی اور میں نے مستقبل کی بابت وضاحت کے لیے وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف کیلی سے بھی بات کی۔ ایسے وقت میں باضابطہ اور ہموار انداز میں تبدیلی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے جب ملک کو پالیسی اور قومی سلامتی کے حوالے سے نمایاں مسائل کا سامنا ہے۔

آج دن کے اختتام پر میں اپنی تمام ذمہ داریاں نائب وزیر خارجہ سلوین کے دفتر کو سونپ رہا ہوں۔ وزیرخارجہ کی حیثیت سے میرا اختیار 31 مارچ کو نصف شب ختم ہو جائے گا۔ اس دوران میں اپنی روانگی اور نامزد وزیرخارجہ مائیک پومپیو کے لیے ہموار اور باضابطہ تبدیلی کے سلسلے میں چند انتظامی معاملات پر کام کروں گا۔

میں حکمت عملی کی منصوبہ بندی سے متعلق اپنی ٹیم اور نائب و معاون وزرا کی حوصلہ افزائی کروں گا کہ وہ اپنے عہدوں پر کام کرتے رہیں اور بین الاداری عمل کے ساتھ دفتر خارجہ میں ہمارے مشن کے لیے خدمات کی انجام دہی جاری رکھیں۔ ان میں ایسے عہدیدار بھی شامل ہیں جن کی توثیق ہو چکی ہے اور وہ لوگ بھی ہیں جو عبوری طور پر کام کر رہے ہیں۔ میں آج دن کے اواخر میں فرنٹ آفس اور حکمت عملی کی منصوبہ بندی کرنے والی ٹیم کے ارکان سے ملاقات میں ان کی خدمات کا شکریہ ادا کروں گا۔ یہ لوگ غیرمعمولی طور سے ہمارے مشن کے ساتھ وابستہ رہے ہیں جس میں ایسی اقدار کا فروغ شامل ہے جنہیں میں نہایت اہم خیال کرتا ہوں۔ ان میں ہمارے دفتر خارجہ کے لوگوں کی سلامتی اور تحفظ، احتساب یعنی ایک دوسرے سے دیانت دارانہ اور باوقار طرز عمل، ایک دورے کا احترام اور خاص طور پر محکمے میں جنسی ہراس کے مسائل سے نمٹنا نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔

اب میں دفتر خارجہ میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں، اپنے بین الاداری ساتھیوں اور خاص طور پر محکمہ دفاع اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف میں اپنے شریک کاروں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ میرے خارجہ ملازمت کے افسرو اور سول سروس کے ساتھیو، ہم سب ایک ہی حلف اٹھاتے ہیں۔ خواہ آپ محکمے میں ملازمت کرتے ہوں یا آپ کی تقرری سیاسی طور پر کی گئی ہو، ہم سب ایک ہی عہد کے پابند ہیں کہ ہمیں آئین کی حمایت اور اس کا دفاع کرنا ہے، ہمیں اس سے حقیقی ایقان اور وفاداری نبھانی ہے اور محکمے کی ذمہ داریاں عمدگی اور وفاداری سے بجا لانی ہیں۔

دفتر خارجہ میں ہم حلف کے ذریعے ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ ہم یہاں واشنگٹن میں اور دنیا بھر میں ثابت قدمی سے فرائض انجام دیتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اپنے اہلخانہ سے دور خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں۔ دنیا کو انہی جیسے بے غرض لوگوں کی ضرورت ہے جو دیرینہ اتحادیوں، نئے ابھرتے ہوئے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں جن میں بہت سے بطور جمہوریت مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور بعض کو انسانی المیوں اور قدرتی حادثات کا سامنا ہے اور جو خود کو ان حالات سے نکالنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ ایسے تجربات ہیں جو علمی ماحول میں کسی لیکچر ہال میں یا کسی تھنک ٹینک کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتے۔ اس صلاحیت کا حصول اگلے محاذ پر خدمات انجام دینے سے سے ہی ممکن ہے۔

دفتر خارجہ اور محکمہ دفاع باہم قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں جہاں ہم سب اس امر پر متفق ہیں کہ دنیا میں امریکی قیادت سفارت کاری سے شروع ہوتی ہے۔ محکمہ دفاع میں وزیر ماٹس اور جنرل ڈنفورڈ کی قیادت میں لوگ اندرون و بیرون ملک ہمیں اور ہمارے طرز زندگی کو تحفظ مہیا کرتے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ملک سے محبت میں کرتے ہیں، وہ یہ کام آپ کے لیے اور میرے لیے کرتے ہیں اور اس کی کوئی اور وجہ نہیں ہے۔ امریکی شہری کی حیثیت میں ہم سب ان کے ہمیشہ مشکور ہیں ان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔

درست قیادت اور شراکتوں کا اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ آپ کے لیے بعض مقاصد کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔ میں موجودہ انتظامیہ کے تحت دفتر خارجہ اور ہمارے شریک کاروں کی چند کامیابیوں کا اعتراف کرنا چاہوں گا۔

پہلی بات یہ کہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہم نے شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے کی مہم کے ذریعے قریباً ہر ایک کی توقعات سے بڑھ کر کام کیا۔ تزویراتی تحمل کے دور کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے وزیرخارجہ کی حیثیت سے خطے کے میرے پہلے دورے میں ہی ہم نے ایسے اقدامات اٹھائے جن کی بدولت پابندیوں کی وسعت ہی نہیں بلکہ تاثیر میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے۔ دفتر خارجہ نے اس سلسلے میں عالمگیر مہم چلائی اور دنیا کے ہر ملک اور ہر سفارت خانے کو ساتھ ملایا۔ سال بھر میرے ہر اجلاس اور ملاقات میں یہ ایجنڈا زیربحث آیا۔

مشروط عسکری منصوبے کے ساتھ منظور کی جانے والی جنوبی ایشیائی حکمت عملی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی بدولت طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مفاہمت اور امن کی بات چیت پر مجبور کیا جانا ہے۔ اب عسکری منصوبہ سازوں کے پاس ایسی حکمت عملی موجود ہے جسے وہ کام میں لا سکتے ہیں۔ اس واضح عسکری عزم کو وسیع طور سے ہمارے اتحادیوں کی حمایت بھی ملی اور ہمارے سفارت کاروں کو اندازہ ہوا کہ امن بات چیت کی تیاری اور حتمی مقاصد کا حصول کیونکر ممکن ہے۔

دیگر معاملات کو دیکھا جائے تو جہاں بہت سی پیش رفت ہوئی وہیں بہت سا کام باقی ہے۔ شام میں ہم نے اہم نوعیت کی جنگ بندی اور امن و استحکام میں کامیابی حاصل کی جس کی بدولت ہزاروں زندگیاں بچائی گئیں۔ شام میں ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے خصوصاً امن کے حصول، عراق کے استحکام، اچھی حکومت سامنے لانے اور داعش کو شکست دینے کی عالمگیر مہم کے ضمن میں ابھی بہت سا کام ہونا ہے۔ تاہم اتحادیوں اور شراکت داروں کی مدد کے بغیر یہ سب کچھ ممکن نہیں ہو گا۔

چین کے ساتھ ہمارے مستقبل کے تعلقات کی نوعیت واضح کرنے کے لیے بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ ہم آئندہ پچاس برس میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے معاملہ کریں گے اور ہمارے تمام لوگوں کے لیے خوشحالی کا دور اور دونوں طاقتور ممالک کے درمیان تنازعات سے پاک ماحول کیونکر ممکن ہے؟

روسی حکومت کی جانب سے پریشان کن رویے اور اقدامات کا جواب دینے کے لیے بھی بہت سا کام باقی ہے۔ روس کو بالاحتیاط اندازہ لگانا ہو گا کہ اس کے اقدامات سے روسی عوام اور پوری دنیا کو کیسے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس کی موجودہ روش ممکنہ طور پر اسے تنہائی کی جانب لے جائے گی۔ یہ صورتحال کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

چنانچہ میں دفتر خارجہ میں اپنے بین الاداری ساتھیوں سے کہوں گا کہ امریکی عوام کی جانب سے اپنے اتحادیوں اور شراکت کاروں کے ساتھ ہمارے مقصد کے حصول کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ مجھے آپ کے ساتھ گزشتہ 14 ماہ کام کا موقع ملا جس پر آپ سبھی کے شکریے کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ سب سے بڑھ کر میں 300 ملین امریکیوں کا شکرگزار ہوں۔ آزاد اور کھلے سماج سے آپ کی وابستگی، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی، دیانت داری اور ٹیکس کی صورت  میں دی گئی رقم کے ذریعے ہمہ وقت اس حکومت کی مدد کے لیے کڑی محنت پر آپ کا شکریہ۔

ہم سب اس دنیا کو اگلی نسل کے لیے بہتر جگہ کے طور پر چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ اب میں عام شہری اور پرفخر امریکی کے طور پر نجی زندگی کی جانب واپس جاؤں گا۔ مجھے اپنے ملک کی خدمت کا موقع ملنے پر فخر ہے۔ خدا آپ کا حامی وناصر ہو۔ خدا امریکی عوام پر اور امریکہ پر رحمت کرے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں