rss

2016 کے امریکی انتخابات میں مداخلت اور بداندیشانہ سائبر حملوں پر روسی افراد اور اداروں کے خلاف محکمہ خزانہ کی پابندیاں

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español

امریکی محکمہ خزانہ
دفتر برائے ترجمان
2016 کے امریکی انتخابات میں مداخلت اور بداندیشانہ سائبر حملوں پر روسی افراد اور اداروں کے خلاف محکمہ خزانہ کی پابندیاں

 
 

واشنگٹن – آج امریکہ محکمہ خزانہ میں غیرملکی اثاثہ جات پر کنٹرول کے دفتر (او ایف اے سی) نے امریکی دشمنوں کا پابندیوں کے ذریعے مقابلہ کرنے کے قانون (سی اے اے ٹی ایس اے) اور انتظامی حکم (ای او) 13694 کے تحت پانچ اداروں اور 19 افراد کو نامزد کیا ہے۔ اس اقدام کی رو سے ‘سی اے اے ٹی ایس اے’ کی مطابقت سے ترمیم اور مدون شدہ قانون کے تحت بداندیشانہ اور عناد پر مبنی سائبر سرگرمیوں میں ملوث مخصوص افراد کے اثاثوں پر روک لگا دی گئی ہے۔

وزیرخزانہ سٹیون ٹی منوچن نے کہا ہے کہ ‘امریکی انتظامیہ روس کی جانب سے کینہ اور عناد پر مبنی سائبر سرگرمی کا مقابلہ اور اس کی روک تھام کر رہی ہے۔ ان سرگرمیوں میں امریکی انتخابات میں روس کی جانب سے مداخلت کی کوشش، تباہ کن سائبر حملے اور اہم تنصیبات میں خلل اندازی شامل ہے’ ان کا کہنا ہے کہ ‘یہ مخصوص پابندیاں روس کی جانب سے جاری مذموم حملوں سے نمٹنے کی وسیع کوشش کا حصہ ہیں۔ محکمہ خزانہ ہمارے انٹیلی جنس حلقوں کی اطلاعات پر ‘سی اے اے ٹی ایس اے’ کے تحت اضافی پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ روسی حکام اور چند سری حکومتی عہدیداروں کی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی روک کر ان کی تخریبی سرگرمیوں پر انہیں جوابدہ بنایا جا سکے’

آج کا اقدام روس کی جانب سے تخریبی سرگرمیوں کی روک تھام میں مدد دیتا ہے جو 2016 کے امریکی انتخابات سے لے کر ‘نوٹ پٹیا’ سمیت تباہ کن سائبر حملوں تک پھیلی ہیں۔ وائٹ ہاؤس اور برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیانات کے مطابق 15 فروری کو ہونے والا ‘نوٹ پٹیا’ سائبر حملہ روسی فوج کی جانب سے کیا گیا تھا۔ یہ انتہائی تباہ کن اور تاریخ میں سب سے زیادہ نقصان دہ سائبر حملہ تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں یورپ، ایشیا اور امریکہ میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور عالمگیر جہازرانی، تجارت اور ادویہ کی تیاری میں نمایاں طور سے خلل آیا۔ مزید براں امریکہ میں متعدد ہسپتال ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ کے لیے الیکٹرانک ریکارڈ بنانے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے۔

کم از کم مارچ 2016 سے روسی حکومت کے سائبر کرداروں نے امریکی حکومت کے اداروں اور متعدد اہم امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے جن میں توانائی، جوہری، تجارتی تنصیبات، پانی، ہوابازی اور اہم صنعتی شعبہ جات شامل ہیں۔ محکمہ داخلی سلامتی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ حالیہ تکنیکی انتباہ میں مداخلت کے اشارے اور چالوں، تکنیک نیز طریقہ کار کے حوالے سے تکنیکی تفصیلات مہیا کی گئی ہیں۔

روس کی بداندیشانہ سائبر سرگرمی کا مقابلہ کرنے کے علاوہ محکمہ خزانہ یوکرائن کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں، کرائمیا پر قبضے، انتخابات میں مداخلت اور بدعنوانی و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی روس کے خلاف دباؤ بڑھا رہا ہے۔ حال ہی میں دو برطانوی شہریوں کو قتل کرنے کی کوشش میں فوجی مقاصد کے لیے کام میں لائے جانے والے اعصابی مادے کا استعمال روسی حکومت کے لاپرواہانہ اور غیرذمہ دارانہ رویے کی مزید نمایاں مثال ہے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ نے روس اور یوکرائن سے متعلقہ پابندیوں کے اختیارات کے تحت اب تک 100 سے زیادہ افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں جن میں 21 افراد، نو ادارے اور 12 ماتحت ادارے بھی شامل ہیں ۔ یہ پابندیاں 26 جنوری 2018 کو عائد کی گئی تھیں۔ یہ پابندیاں محکمہ خزانہ کی جانب سے روسی سرزمین سے جنم لینے والی تخریبی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کی جانے والی دوسری کوششوں کے علاوہ ہیں۔ ان کوششوں میں شمالی کوریا پر پابندیوں کے پروگرام سے متعلق سرگرمیوں کے حوالے سے روسی شہریوں پر پابندیاں، عالمگیر میگنیٹسکی پروگرام اور سرگئی میگنٹسکی قانون شامل ہیں۔

آج کے اقدام کے نتیجے میں امریکی حدود میں ان نامزد کردہ افراد کی تمام جائیداد اور اس جائیداد میں مفادات پر روک لگا دی گئی ہے اور امریکی شہریوں کو عمومی طور پر ان لوگوں کے ساتھ مالیاتی لین دین سے روک دیا گیا ہے۔

انتظامی حکم 13693 کے تحت پابندیاں

آج اٹھائے جانے والے اقدام میں ترمیم شدہ انتظامی حکم 13694 کی مطابقت سے تین اداروں اور 13 افراد کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ قانون عناد پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث کرداروں بشمول انتخابی عمل یا اداروں میں مداخلت کرنے والوں کو نشانہ بناتا ہے۔

انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی ایل ایل سی (آئی آر اے) نے انتخابی عمل میں مداخلت یا اسے کمزور کرنے کے لیے معلومات میں تحریف کی، انہیں تبدیل کیا یا ان میں خیانت کی مرتکب ہوئی۔ خاص طور پر ‘آئی آر اے’ نے 2016 کے امریکی انتخابات میں مداخلت کے لیے معلومات میں تحریف و تبدیلی کی۔ آئی آر اے نے بڑی تعداد میں جعلی آن لائن لوگ تیار کیے جنہوں نے خود کو قانونی امریکی شہری ظاہر کیا تاکہ سوشل میڈیا کو امریکی انتخابات میں مداخلت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اس سرگرمی کے ذریعے ‘آئی آر اے’ نے ہزاروں اشتہارات پوسٹ کیے جو کروڑوں آن لائن لوگوں تک پہنچے۔ آئی آر اے نے اپنی روسی شناخت خفیہ رکھتے ہوئے 2016 کے انتخابات کے لیے نامزدگی کی مہم کے دوران سیاسی ریلیوں کو بھی منظم اور مربوط کیا۔ مزید براں ‘آئی آر اے’ اپنی کارروائیوں کے لیے مالیاتی اکاؤنٹس کھولنے کی غرض سے امریکی شہریوں کی ذاتی طور پر قابل شناخت معلومات کو غیرقانونی طریقے سے استعمال کیا۔

یوجینی وکٹورووچ پریگوزن (پریگوزن) نے ‘آئی آر اے’ کو مادی معاونت مہیا کی۔ خاص طور پر اس نے ‘آئی آر اے’ کی کارروائیوں میں مالی مدد دی۔ قبل ازیں ‘او ایف اے سی’ نے پریگوزن کو انتظامی حکم 13661 کے تحت 20 دسمبر 2016 کو پابندی کے لیے نامزد کیا تھا۔ اس قانون کی رو سے یوکرائن کی صورتحال میں منفی کردار ادا کرنے والے مزید روسیوں کی جائیداد ضبط کی گئی ہے۔

کونکورڈ مینجمنٹ اینڈ کنسلٹنگ ایل ایل سی نے ‘آئی آر اے’ کو مادی معاونت مہیا کی۔ پریگوزن کے زیر انتظام ‘کونکورڈ مینجمنٹ اینڈ کنسلٹنگ ایل ایل سی’ نے ‘آئی آر اے’ کو مالی مدد دی۔ کونکورڈ مینجمنٹ اینڈ کنسلٹنگ ایل ایل سی کو قبل ازیں 20 جون 2017 کو انتظامی حکم 13661 کے تحت پابندی کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

کونکورڈ کیٹرنگ نے ‘آئی آر اے’ کو مادی معاونت مہیا کی۔ یہ ادارہ بھی پریگوزن کے زیرانتظام ہے جس نے آئی آر اے کو مالی مدد دی۔ او ایف اے سی نے قبل ازیں 20 جون 2017 کو انتظامی حکم 13661 کے تحت کونکورڈ کیٹرنگ کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا تھا۔

زیخن نیسیمی اوگلے اسلانوو (اسلانوو) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ اسلانوو نے ترجمے کے منصوبے کے سربراہ کی حیثیت سے کام کیا۔ یہ ایسا محکمہ ہے جو امریکہ کو ہدف بناتا ہے اور اس نے سوشل میڈیا کے متعدد پلیٹ فارمز سے کارروائیاں کیں۔ اس نے 2016 میں امریکی انتخابات کو ہدف بنانے کی متعدد کارروائیوں کی نگرانی بھی کی۔

اینا ولاڈیسلاوونا بوغاچیوا (بوغاچیوا) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ بوغاچیوا نے کم از کم اپریل 2014 سے جولائی 2014 تک ‘آئی آر اے’ کے لیے کام کیا۔ اس نے ترجمے کے منصوبے میں بھی ذمہ داریاں انجام دیں۔

ماریا ایناتولیونا بوودا (بوودا) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ بوودا نے کم از کم نومبر 2013 سے اکتوبر 2014 تک ‘آئی آر اے’ کے لیے کام کیا۔ وہ ترجمے کے منصوبے کی سربراہ اور کمپنی میں دیگر عہدوں پر بھی رہی۔

رابرٹ سرگئی وچ بوودا (بوودا) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ بوودا نے کم از کم نومبر 2013 سے اکتوبر 2014 تک ‘آئی آر اے’ کے لیے کام کیا۔ اس نے ترجمے کے منصوبے کے نائب سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داری انجام دی اور دوسرے عہدوں پر بھی رہا۔

میخائل لیونیڈووچ برچک (برچک) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ برچک نے ‘آئی آر اے’ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا اور کمپنی میں دوسرا بڑا عہدہ اسی کے پاس تھا۔ اس نے امریکی سیاسی نظام میں مداخلت کے لیے کمپنی کی تمام کارروائیوں میں عملی منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر اور افرادی قوت سے متعلق معاملات انجام دیے۔

میخائل ایوانووچ بیستروو (بیستروو) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ بیستروو نے ‘آئی آر اے’ کے جنرل ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا اور کمپنی کی جانب سے کارروائیاں چھپانے کے لیے استعمال ہونے والے دیگر اداروں کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیں۔

آئرینا وکٹوروونا کاویرزینا (کاویرزینا) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ کاویرزینا نے ترجمے کے منصوبے کے لیے کام کیا اور امریکیوں کے بھیس میں بہت سے لوگوں سے کام لیا جو ‘آئی آر اے’ کے لیے سوشل میڈیا پر مواد پوسٹ کرتے اور اس کی نگرانی کیا کرتے تھے۔

الیکسندرا یووریونا کریلووا (کریلووا) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ کریلووا نے کم از کم ستمبر 2013 سے نومبر 2014 تک ‘آئی آر اے’ کے لیے کام کیا جہاں اس نے ڈائریکٹر اور کمپنی کی تیسری سب سے اعلیٰ عہدیدار کے طور پر خدمات انجام دیں۔

ویڈم ولاڈیمیرووچ پوڈکوپائیوو (پوڈکوپائیوو) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ پوڈکوپائیو امریکہ سے متعلق تحقیق اور ‘آئی آر اے’ کے لیے سوشل میڈیا کا مواد تیار کرنے کا ذمہ دار تھا۔

سرگئی پاؤلووچ پولوزوو (پولوزوو) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ پولوزوو نے ‘آئی آر اے’ کے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں مینجر کے طور پر کام کیا اور امریکی سرورز نیز کمپیوٹر سے متعلق دیگر اشیا کے حصول کی نگرانی کی جن کی بدولت امریکہ میں کارروائیاں انجام دینے کے لیے کمپنی کی لوکیشن چھپائی جاتی تھی۔

گلب آئیگوروچ ویسلیچنکوو (ویسلینچنکوو) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ ویسلیچنکوو نے کم از کم اگست 2014 سے ستمبر 2016 تک ‘آئی آر اے’ کے لیے کام کیا اور وہ سوشل میڈیا کے مواد کو کنٹرول کرنے نیز اپنے لوگوں کو امریکی شہری یا امریکی اداروں کے طور پر ظاہر کرنے کا ذمہ دار تھا۔

ولاڈیمیر وینکوو (وینکوو) نے ‘آئی آر اے’ کے لیے یا اس کی جانب سے سرگرمیاں انجام دیں اور اسے مادی و ٹیکنالوجی میدان میں معاونت فراہم کی۔ وینکوو نے ترجمے کے منصوبے کے لیے کام کیا اور امریکیوں کا روپ دھارے متعدد لوگوں سے کام لیا جنہیں ‘آئی آر اے’ کے لیے سوشل میڈیا پر مواد پوسٹ کرنے اور اس کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

ان اداروں اور افراد پر 16 فروری 2018 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

‘سی اے اے ٹی ایس اے’ کے تحت پابندیاں

آج کے اقدام میں دو اداروں اور چھ افراد پر ‘سی اے اے ٹی ایس اے’ کے سیکشن 224 کی مطابقت سے عائد کردہ پابندیاں بھی شامل ہیں۔ یہ قانون روسی حکومت کی جانب سے کام کرنے والے سائبر کرداروں کو ہدف بناتا ہے۔

روسی انٹیلی جنس ادارہ فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) دانستہ طور سے ایسی نمایاں سرگرمیوں میں ملوث ہے جن کے ذریعے روسی حکومت کے ایما پر سائبر سکیورٹی کو کمزور کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر ‘ایف ایس بی’ نے روسی حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں اور سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے سائبر ذرائع سے کام لیا ہے۔ روسی شہری و سرکاری حکام، روس کے ہمسایہ ممالک سے تعلق رکھنے والے سابق حکام، امریکی سرکاری حکام بشمول سائبر سکیورٹی، سفارت کار، افواج اور وائٹ ہاؤس سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس کا نشانہ ہیں۔ مزید براں 2017 میں امریکی محکمہ انصاف نے ‘ایف ایس بی’ کے دو افسروں کی 2014 میں یاہو کو ہیک کرنے کے معاملے میں ملوث ہونے کے حوالے سے نشاندہی کی تھی۔ اس کارروائی میں یاہو کے لاکھوں اکاؤنٹس میں مداخلت ہوئی۔ قبل ازیں ‘او ایف اے سی’ نے 28 دسمبر 2016 کو انتظامی حکم 13694 کے تحت ‘ایف ایس بی’ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

روسی فوجی انٹیلی جنس ادارہ مین انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (جی آر یو) دانستہ طور سے ایسی نمایاں سرگرمیوں میں ملوث ہے جن کے ذریعے روسی حکومت کے ایما پر سائبر سکیورٹی کو کمزور کیا جاتا ہے۔ جی آر یو نے سائبر سرگرمیوں کے ذریعے 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات میں براہ راست مداخلت کی تھی۔ جی آر یو روسی فوج کا حصہ ہے جو کہ 2017 میں ‘نوٹ پٹیا’ سائبر حملے کی براہ راست ذمہ دار تھی۔ قبل ازیں ‘او ایف اے سی’ نے انتظامی حکم 13694 کے تحت ‘جی آر یو’ کے خلاف 28 دسمبر 2016 کو پابندیاں عائد کی تھیں۔

سرگئی افاناسائیوو (افاناسائیوو) جی آر یو کے لیے یا اس کی جانب سے کام کرتا ہے۔ فروری 2017 میں افاناسائیو ‘جی آر یو’ کا اعلیٰ عہدیدار تھا۔

ولاڈیمیر الیکسائیوو (الیکسائیوو) جی آر یو کے لیے یا اس کی جانب سے کام کرتا ہے۔ دسمبر 2016 میں الیکسائیوو جی آر یو کا اول نائب سربراہ تھا۔ او ایف اے سی نے قبل ازیں الیکسائیوو کو انتظامی حکم 13694 کے تحت 28 دسمبر 2016 کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا تھا۔

سرگئی گیزونوو (گیزونوو) جی آر یو کے لیے یا اس کی جانب سے کام کرتا ہے۔ جولائی 2017 کو گیزونوو جی آر یو کا نائب سربراہ تھا۔ قبل ازیں ‘او ایف اے سی’ نے 28 دسمبر 2016 کو گیزونوو کو انتظامی حکم 13694 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا تھا۔

آئیگور کوروبوو (کوروبوو) جی آر یو کے لیے یا اس کی جانب سے کام کرتا ہے۔ جنوری 2018 کو کوروبوو جی آر یو کا سربراہ تھا۔ قبل ازیں 28 دسمبر 2016 کو ‘او ایف اے سی’ نے کوروبوو کو انتظامی حکم 13694 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا تھا۔

آئیگور کوستیوکوو (کوستیوکوو) جی آر یو کے لیے یا اس کی جانب سے کام کرتا ہے۔ دسمبر 2016 کو وہ جی آر یو کا اول نائب سربراہ تھا۔ قبل ازیں 28 دسمبر 2016 کو ‘او ایف اے سی’ نے کوستیوکوو کو انتظامی حکم 13694 کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کیا تھا۔

گریگوری مولخانوو (مولخانوو) جی آر یو کے لیے یا اس کی جانب سے کام کرتا ہے۔ اپریل 2016 میں مولخانوو جی آر یو کا اعلیٰ عہدیدار تھا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں