rss

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر آزاد تحقیقاتی طریقہ کار وضع کرنے میں سلامتی کونسل کی ناکامی پر سفیر نکی ہیلی کا بیان

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Indonesian Indonesian, Français Français

امریکی مشن برائے اقوام متحدہ
دفتر اطلاعات و عوامی سفارتکاری
برائے فوری اجرا
10 اپریل 2018

 
 

روس ایک مرتبہ پھر سلامتی کونسل کے اقدام کی راہ میں مزاحم

اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل سفیر نکی ہیلی نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر سلامتی کونسل کے تین مختلف اجلاسوں سے خطاب کیا جو شامی شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں سے تازہ ترین حملوں کے ردعمل میں منعقد ہوئے۔ پہلے اجلاس میں روس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر نیا آزاد تحقیقاتی طریقہ کار وضع کرنے کے لیے امریکہ کی قرارداد کو روک دیا۔ اگر روس اسے ویٹو نہ کرتا تو یہ قرارداد منظور ہو جاتی۔ دوسرے اور تیسرے اجلاسوں میں روس نے اسی مسئلے پر قراردادیں پیش کیں جن میں کسی کو کونسل کے ارکان کی جانب سے منظوری کے لیے خاطرخواہ حمایت نہ مل سکی۔ یہ چھٹا موقع ہے جب روس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے کیے گئے ایسے حملوں کی تحقیقات روکنے کے لیے ویٹو استعمال کیا جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر نیا آزاد تحقیقاتی طریقہ کار وضع کرنے کے لیے سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد پر ووٹ سے قبل بیان

‘ سلامتی کونسل کی حیثیت سے ہم ایک فیصلہ کن ساعت پر پہنچ گئے ہیں۔ ہفتے کو شامی شہر دوما سے پہلی دلدوز تصاویر سامنے آئیں۔ گزشتہ روز ہم اپنے مجموعی دکھ کے اظہار کے لیے یہاں جمع ہوئے تھے۔ اس وقت ہم سب میں اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ اس کونسل کو واضح طور پر یہ تعین کرنے کے لیے بہرصورت اقدامات اٹھانا چاہئیں کہ دوما میں کیا ہوا اور ان وحشیانہ حملوں کو روکا جانا چاہیے۔ امریکہ نے ایک قرارداد پیش کی ہے جو ان مشترکہ مقاصد کی تکمیل کرتی ہے۔ کئی ہفتوں تک ہم اس کونسل میں ہر وفد کے ساتھ مل کر شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کے ذمہ داروں کے تعین کا ایک نیا طریقہ کار وضع کرنے کام کرتے رہے ہیں۔ ہم نے کھلے اور شفاف طور سے بات چیت کہ تاکہ ہر وفد اس میں اپنا حصہ ڈال سکے’ ۔

‘ہم سب کا یہی کہنا ہے کہ ہم آزادانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔ ہماری قرارداد اس مقصد کو پورا کرتی ہے۔ روسی قرارداد ایسا نہیں کرتی۔ یہ ایسا مسئلہ نہیں جسے مزید وقت یا مزید مشاورت سے حل کیا جا سکتا ہو۔ ایک خاص موقع پر یا تو آپ آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے حق میں ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔ اب جبکہ دوما میں حملہ ہو چکا ہے تو ہم اس فیصلے کو مزید موخر نہیں کر سکتے۔ امریکہ سلامتی کونسل کے تمام ارکان سے کہتا ہے کہ وہ ہماری قرارداد کے حق میں ووٹ دیں اور روسی قرارداد پر ووٹ دینے سے اجتناب کریں یا اس کی مخالفت میں ووٹ دیں۔ شامی عوام ہم پر تکیہ کیے ہوئے ہیں’

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد سے پہلے بیان

سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد کے خلاف روسی ویٹو اور روس کی پہلی قرارداد کی منظوری میں ناکامی کے بعد بیان

امریکی قرارداد کے حق میں 12 ووٹ آئے اور اگر روس اسے ویٹو نہ کرتا تو اسے منظوری مل جاتی۔ روسی قرارداد کو صرف چھ ووٹ ملے جو کہ منظوری کے لیے ناکافی تھے۔

‘اسد حکومت نے روس اور ایران کی بھرپور حمایت سے سلامتی کونسل کو کئی مہینوں تک دھوکہ دیا۔ انہوں نے جنگ بندی کے لیے ہمارے مطالبات کو نظرانداز کیا۔ انہوں نے سیاسی مذاکرات کے لیے ہمارے مطالبات کو نظرانداز کیا۔ انہوں نے انسانی امداد کی ترسیل کے حوالے سے ہمارے مطالبات کو نظرانداز کیا۔ انہوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے ہمارے مطالبات کو نظرانداز کیا۔ یہ ایسے ہتھیار ہیں جن کے جنگ استعمال پر دنیا بھر میں پابندی عائد ہے۔ اور پھر گزشتہ ہفتے اسد حکومت نے دوما کے لوگوں پر مہلک گیس سے حملہ کر کے ہم سب کو اس صورتحال پر کارروائی کے لیے مجبور کر دیا’

‘تاریخ ثابت کرے گی کہ آج کے دن بعض ممالک نے سچائی، احتساب اور شامی عوام کو انصاف دلانے کے لیے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ بیشتر ممالک نے گزشتہ ہفتے دوما میں اسد حکومت کے ہاتھوں پھیلائی گئی دہشت کا مشاہدہ کیا اور انہیں احساس ہوا کہ اب کوئی قدم اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ امریکہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے نئے آزادانہ و غیرجانبدارانہ طریقہ کار کا حامی ہے اور کسی تاخیر کے بغیر متاثرین کے حوالے سے طبی امداد اور تصدیق کی فراہمی کے لیے وہاں رسائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہمیں امید تھی کہ خان شیخون پر حملے کی پہلی برسی کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے نئی شراکت کا آغاز ہو سکتی ہے۔ تاہم شامی خاندانوں پر ایک مرتبہ پھر یہی مہلک ہتھیار استعمال کر دیے گئے ہیں۔ جب دوما کے لوگوں نے بقیہ عالمی برادری کے ساتھ اس کونسل سے کسی کارروائی کی امید لگائی تو ایک ملک راہ میں مزاحم ہو گیا۔ یہ بات تاریخ میں محفوظ رہے گی۔ تاریخ یہ محفوظ رکھے گی کہ اس دن روس نے شامی عوام کی زندگیوں پر ایک عفریت کے تحفظ کو ترجیح دی تھی’

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر مجوزہ قرارداد پر رائے شماری کی وضاحت

دوسری روسی قرارداد کی ناکامی کے بعد بیان

روس کی دوسری قرارداد کے حق میں صرف پانچ ووٹ آئے جو کہ منظوری کے لیے ناکافی تھے۔

‘اور پھر آج انہوں نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر اسد کے خلاف مذمتی قرارداد کو چھٹی مرتبہ ویٹو کیا۔ چنانچہ ہم جو کچھ بھی کریں روس اپنی ہٹ دھرمی نہیں چھوڑے گا۔ وہ اپنا کھیل جاری رکھیں گے۔ ایک مرتبہ پھر وہ اچانک قرارداد لا رہے ہیں۔ ہم نے پہلی مرتبہ دیکھا ہے یہ آج صبح 11 بجے لائی گئی۔ انہوں نے کسی قسم کی گفت وشنید نہیں کی۔ انہوں نے کسی سے صلاح نہیں لی۔ جب سویڈن نے کہا کہ کونسل کو قرارداد پر بات چیت کی اجازت ہونی چاہیے تو انہوں نے اجازت دی مگر قرارداد میں کوئی تبدیلی نہیں لانے دی گئی۔ چنانچہ روس کی جانب سے اپنی قرارداد پر بات چیت کی اجازت نہ دینے کی وجہ موجود ہے اور وہ یہ کہ ایسی قرارداد سے کچھ حاصل نہیں ہونا’

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر مجوزہ قرارداد پر رائے شماری کی وضاحت


اصل مواد دیکھیں: https://usun.state.gov/remarks/
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں