rss

اسد حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی امریکی تشخیص

Facebooktwittergoogle_plusmail
中文 (中国) 中文 (中国), English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
13 اپریل 2018

 
 

امریکہ کا پراعتماد اندازہ ہے کہ شامی حکومت نے 7 اپریل 2018 کو دمشق کے مشرقی مضافاتی علاقے دوما میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جس کے نتیجے میں درجنوں مردوخواتین اور بچے ہلاک اور مزید سینکڑوں بری طرح زخمی ہو گئے۔ یہ نتیجہ مختلف میڈیا ذرائع سے اس حملے کے بارے میں سامنے آنے والے بیانات کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے جن میں حملے کے بعد متاثرین میں سامنے آنے والی  علامات، حملے کی جگہ پر دو بیرل بموں کی ویڈیو اور تصاویر نیز  حملے سے پہلے شامی فوجی افسروں میں روابط کی نشاندہی کرتی قابل اعتبار معلومات شامل ہیں۔ ان نمایاں معلومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے دوما پر بمباری میں کلورین گیس استعمال کی جبکہ بعض اضافی معلومات سے یہ بھی سامنے آتا ہے کہ حکومت نے اس حملے میں اعصابی مادہ سرن بھی استعمال کیا۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ شامی حکومت یہ وعدہ کرنے کے بعد بھی کیمیائی ہتھیار استعمال کرتی رہی کہ اس نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا پروگرام ترک کر دیا ہے۔

7 اپریل 2018 کو کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال

بہت سی معلومات سے نشاندہی ہوتی ہے کہ شامی حکومت نے 7 اپریل 2018 کو دمشق کے قریب مشرقی غوطہ کے علاقے دوما میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔ ہماری معلومات مختلف ذرائع سے حاصل کردہ اطلاعات سے مطابقت رکھتی ہیں اور ان سے تصدیق شدہ ہیں۔ یہ کیمیائی ہتھیار حزب اختلاف کے زیرقبضہ اس گنجان علاقے میں کئی ہفتوں سے جاری حملے کے دوران استعمال کیے گئے۔ اس حملے میں ہزاروں معصوم شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔

7 اپریل کو سوشل میڈیا کے صارفین، غیرسرکاری تنظیموں اور دوسرے آزاد ذرائع سے دوما میں کیمیائی اسلحے سے بمباری کی اطلاع دی گئی۔ ویڈیوز اور تصاویر میں اس علاقے میں کم از کم دو کلورین بیرل بموں کی باقیات دکھائی دیتی ہیں جن کے خدوخال ماضی کے حملوں میں استعمال کردہ کلورین بیرل بموں سے ملتے جلتے ہیں۔ مزید براں دوما سے سامنے آنے والے والی واضح اور قابل اعتبار تصاویر اور ویڈیو میں متاثرین کا دم گھٹتے صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے جن کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے جبکہ ان کے جسموں پر زخموں کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے شام میں مشتبہ کیمیائی حملے کی بابت اپنی تشویش پر مبنی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ متاثرین کی علامات سے ظاہر ہوتا ہے جیسے انہیں زہریلے کیمیائی مادوں کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

7 اپریل کو دوما پر بہت سے سرکاری ہیلی کاپٹر پرواز کرتے دیکھے گئے اور عینی شاہدین کی اطلاع کے مطابق خاص طور پر ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر بھی نظر آیا جو قریبی علاقے دومائر میں ہوائی پٹی سے اڑا اور حملے کے دوران دوما کی فضا میں چکر لگاتا رہا۔ بہت سے عینی شاہدین تصدیق کرتے ہیں کہ ان ہیلی کاپٹروں سے بیرل بم گرائے گئے۔ پوری جنگ کے دوران شہریوں کو بلاامتیاز نشانہ بنانے کے لیے یہ چال چلی گئی۔ دوما میں گرائے گئے بیرل بموں کی تصاویر اسد حکومت کی جانب سے قبل ازیں استعمال کیے گئے ایسے بموں سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ بیرل بم ممکنہ طور پر کیمیائی حملوں میں استعمال کیے گئے۔ قابل اعتماد اطلاعات سے بھی یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ شامی فوجی حکام نے 7 اپریل کو دوما پر بظاہر کلورین گیس کے حملے کی بابت ایک دوسرے سے رابطے  کیے تھے۔ بیرل بموں سے ان حملوں کے بعد دوما میں موجود ڈاکٹروں اور امدادی تنظیموں نے کلورین گیس کی تیز بو کی اطلاع دی اور بتایا کہ متاثرین میں ظاہر ہونے والی علامات سرن گیس کے اثرات سے ملتی جلتی ہیں۔

میڈیا، غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور دیگر آزاد ذرائع جیسا کہ ‘ڈبلیو ایچ او’ کی اطلاعات میں بیان کردہ علامات میں آنکھوں کی پتلیوں کا سکڑنا، کپکپی اور مرکزی اعصابی نظام میں خلل شامل ہیں۔ یہ علامات بشمول درجنوں اموات اور سیکڑوں لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی حکومت نے 7 اپریل کے حملے میں سرن گیس بھی استعمال کی تھی۔

اسد حکومت نے اپوزیشن جنگجوؤں اور شہری آبادی دونوں کو دہشت زددہ اور مغلوب کرنے کے لیے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ اس کا مقصد حکومتی فورسز کا جانی نقصان کم سے کم رکھنا ہے کیونکہ بصورت دیگر اس کی فوج  غالب آنے کے لیے درکار طاقت نہیں رکھتی۔ چونکہ شامی حکومت کا مقصد دہشت پھیلانا ہے اس لیے یہ فوجی اور سویلین اہداف میں تمیز کی کوئی کوشش نہیں کرتی۔ ان ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال اور سویلین علاقوں پر روایتی اسلحے اور خام بیرل بموں سے بے ہودہ حملوں کے ذریعے اسد اپنے ہی لوگوں کو مجموعی طور سے سزا دیتے ہوئے مزید بغاوت کے خلاف خبردار کر رہا ہے۔ مزید براں اسد اس انداز میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچے جیسا کہ زیرزمین پناہ گاہوں میں چھپے خاندان اس کا نشانہ ہیں۔ اس کی مثال ہم نے دوما میں دیکھی۔ یہ آبادی پہلے ہی ہتھیار ڈالنے اور وہاں سے نکلنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے مسلسل استعمال سے یہ خدشہ ہے کہ دنیا میں ان کے استعمال اور پھیلاؤ کے حوالے سے حساسیت کم پڑ جائے گی اور ایسے ہتھیاروں کے خلاف امتناع میں کمزوری آئے گی جبکہ دیگر ممالک کی جانب سے ان کے حصول اور استعمال کے امکان میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

یہ نکتہ یوں اہم ہے کہ روس نے ناصرف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر اسد حکومت کو احتساب سے بچایا ہے بلکہ 4 مارچ 2018 کو اس  نے برطانیہ میں قتل کی کوشش میں اعصابی مادہ بھی استعمال کیا جس سے کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف امتناع سے غیرمعمولی طور پر کھلی بے اعتنائی کا اظہار ہوتا ہے۔

اسد حکومت کی جانب سے ماضی میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے واقعات کی طرح اس معاملے میں بھی امریکی ماہرین نے واقعے کی متبادل وضاحتوں پر غور کیا۔ 7 اپریل کو کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا پہلا الزام سامنے آنے کے بعد چند گھنٹوں میں ہی شامی سرکاری خبر ایجنسی نے ان رپورٹس کو مشرقی غوطہ میں باقی رہ جانے والے آخری اپوزیشن گروہ جیش الاسلام کی جانب سے حکومت کو بدنام کرنے کی مہم قرار دیا۔ ہمارے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ اس گروہ نے کبھی کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ مزید براں اپوزیشن کے لیے حکومت کے خلاف ایسے ہتھیاروں کے استعمال کی بابت اس پیمانے پر اطلاعات گھڑنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس مقصد کے لیے انتہائی منظم اور کئی حصوں میں منقسم مہم درکار ہوتی ہے تاکہ پکڑ سے بچتے ہوئے بہت سے میڈیا اداروں کو دھوکہ دیا جا سکے۔ شامی حکومت اور روس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ دہشت گرد گروہ نے یہ حملے کیے یا ایسے حملے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت رچائے گئے۔ تاہم یہ دعوے قابل اعتبار معلومات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس سے برعکس اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے ماضی اور حال میں ہونے والے کیمیائی حملوں پر پہلے ہی شامی حکومت کی مذمت کی ہے۔ شام کی حکومت وہ واحد کردار ہے جس کے پاس اعصابی مادے استعمال کرنے کا مقصد اور ذرائع موجود ہیں۔ ہیلی کاپٹروں کا استعمال حکومت کو مزید پھانستا ہے کیونکہ اس جنگ میں کسی غیرریاستی کردار نے فضائی حملے نہیں کیے۔

کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال اور زیرقبضہ اثاثوں کی مثال

اسد حکومت اپنے تسلیم کردہ عالمی معاہدوں کا بھی تمسخر اڑا رہی ہے حتٰی کہ روس کی جانب سے شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کا پروگرام ترک کرنے میں تعاون کی ضمانت دینے کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے۔ شامی حکومت اور روس نے عالمی معاہدے  اور احتساب کے طریقہ کار کو مل کر کمزور کیا ہے۔ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذمہ داروں کا تعین کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کا مینڈیٹ ختم ہونے پر نومبر 2017 میں اسد نے سرن گیس استعمال کی تھی۔ شام نے یہ امر یقینی بنایا کہ سلامتی کونسل کا کوئی بااختیار ادارہ کیمیائی ہتھیاروں کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے موجود نہ ہو۔ اس وقت سے شامی حکومت نے متعدد مواقع پر کلورین گیس بھی استعمال کی ہے۔ ان حملوں کے حوالے سے امریکی تشخیص کی بنیاد لوگوں کی مہیا کردہ قابل اعتبار معلومات پر ہے جن میں لوگ اعصابی مادے سے متاثر دکھائی دے رہے ہیں جن میں پتلیوں کے سکڑاؤ کے علاوہ اس طرز کا اسلحہ بھی شامل ہے جو اس سے قبل کیے گئے کیمیائی حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے مشابہت رکھتا ہے۔

شامی حکومت نے عسکری افرادی قوت کی کمی پر قابو پانے، میدان جنگ میں اہداف کے حصول، باغیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے خصوصاً جہاں حکومت کو یہ خدشہ ہو کہ اہم تنصیبات یا علاقہ خطرے میں ہے وہاں اس نے تواتر سے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ شامی حکومت جب یہ دیکھتی ہے کہ اس کے طرزعمل کا پتا چلانا اور اسے سزا دینا ممکن نہیں تو وہ اپنی جارحیت کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے مورچہ بند اپوزیشن فورسز کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے دریغ نہیں کرتی۔

دوما پر شامی حکومت کے کیمیائی حملے اس شہر پر دوبارہ قبضے کی کوشش کا حصہ تھے جس کا مقصد دارالحکومت کے لیے خطرے کا باعث مشرقی غوطہ میں اپوزیشن کے آخری ٹھکانے کو ختم کرنا تھا۔ حکومت  دوما کی شہری آبادی کو بھی سزا دینا چاہتی تھی جو اسد کی بالادستی کے خلاف طویل عرصہ سے جدوجہد کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مزید بغاوت پھیلنے سے روکنا تھا۔ حکومت نے دوما میں حملے کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی غرض سے روسی تحفظ سے بھی فائدہ اٹھایا۔

اگر شام کو روکا نہ گیا تو اس میں مزید کیمیائی ہتھیار تیار اور استعمال کرنے کی اہلیت موجود ہے۔ شامی فوج کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے روایتی پروگرام کی مہارت موجود ہے جس کے ذریعے وہ ناصرف سرن گیس استعمال کر سکتی ہے بلکہ کلورین بم بھی تیار اور استعمال کرنے کی اہل ہے۔ امریکہ نے یہ اندازہ بھی لگایا ہے کہ شامی حکومت کے پاس تاحال کیمیائی مادے خاص طور پر سرن اور کلورین گیس موجود ہے جسے مستقبل میں حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور حکومت کے پاس اس حوالے سے نئے ہتھیار بنانے کے لیے درکار مہارت بھی پائی جاتی  ہے۔ شامی حکومت کے پاس کیمیائی اسلحہ داغنے کی اہلیت رکھنے والے ہتھیار بھی ہیں جن میں گرینیڈ، فضائی بم اور دیگر جدید اسلحہ شامل ہے جسے یہ خبردار کیے بغیر استعمال کر سکتی ہے۔

گزشتہ برس کے اواخر میں کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (اوپی سی ڈبلیو) اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تحقیقاتی طریق کار (جے آئی ایم) نے یہ تعین کیا تھا کہ اپریل 2017 میں خان شیخون پر سرن گیس سے حملے کا ذمہ دار شام ہی ہے۔ یہ تعین خان شیخون میں حملے کے بعد وہاں سے اکھٹے کیے گئے نمونوں کی شامی حکومت کے پاس موجود کیمیائی ذخیرے سے مطابقت کے نتیجے میں کیا گیا۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ شام نے یہ ذخیرے تباہ کرنے اور اپنے کیمیائی پروگرام کو ختم کرنے کے وعدے کے باوجود یہ ہتھیار برقرار رکھے تھے۔

خان شیخون پر حملے سے چند ہفتے بعد ہی کلورین گیس کا استعمال

دوما میں حالیہ حملہ شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے انداز کا تسلسل ہے۔ خان شیخون میں شامی حکومت کے کیمیائی حملے سے چند ہفتوں بعد ہی اس نے 29 اپریل سے 6 مئی 2017 کے درمیان اپوزیشن فورسز پر تین مرتبہ بیرل بم گرائے جب حکومتی افواج نے خان شیخون کے قریب ال لطامینہ میں حملہ کیا تھا جہاں اس نے اپریل 2017 میں سرن گیس استعمال کی تھی۔ امریکہ کے پاس اس وقت شامی حکومت کا ہدف بننے والے علاقوں میں سرکاری ہیلی کاپٹروں کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں۔ اس سلسلے میں ایک نہ پھٹنے والے کلورین بیرل بم کی تصاویر بھی  ہیں جو اس اسلحے سے مطابقت رکھتی ہیں جسے شامی حکومت نے گزشتہ کیمیائی حملوں میں استعمال کیا تھا۔ علاوہ ازیں کیمیائی مادے پھیلنے کی ویڈیو بھی موجود ہے۔ یہ شہادت ‘اوپی سی ڈبلیو’ اور ‘یو این جے آئی ایم’ کی 2016 کے اواخر میں جاری کردہ رپورٹس سے مطابقت رکھتی ہے جس میں 2014 اور 2015 میں کیے گئے حملوں کی ذمہ داری شامی حکومت پر عائد کی گئی تھی۔ 2014 سے  اب تک شامی حکومت نے مخالفین کو دہشت زدہ کرنے اور جنگ کے لیے ان کے عزم کو توڑنے کے لیے انہی جنگی محاذوں پر کلورین گیس استعمال کی ہے۔

  • ایسے تازہ ترین حملے میں استعمال ہونے والے بیرل بموں کی تصاویر شامی حکومت کے بنائے کلورین بیرل بموں سے ملتی جلتی ہیں جو اس پوری جنگ میں استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔
  • جہاں لوگوں نے نشاندہی کی ہے اسی علاقے میں کیمیائی حملوں کے وقت حکومتی ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے تھے۔ لوگوں کی جانب سے ان حملوں کی بنائی گئی کم از کم ایک ویڈیو میں اس علاقے میں ہیلی کاپٹر پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
  • ان واقعات کے متاثرین نے خاص طور پر کلورین گیس کے استعمال اور حملے کے بعد پھیلنے والی اس کی مخصوص بو کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرین کی جسمانی علامات کلورین کے اثرات سے مطابقت رکھتی ہیں جن میں سانس کی تکلیف بھی شامل ہے۔
  • اپوزیشن کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو میں ایسا بم پھٹتے دکھایا گیا ہے جس سے پیلے اور سبز شعلے نکل رہے ہیں جو کہ کلورین سے مشابہت رکھتے ہیں۔

دمشق کے علاقے میں کیمیائی حملے

18 نومبر 2017 کو شامی حکومت نے دمشق کے نواحی علاقے ہراسطہ  میں اپوزیشن فورسز کے خلاف سرن گیس استعمال کی۔ یہ اقدام اپوزیشن کا ایسا گڑھ واپس لینے کی کوششوں کا حصہ تھا جہاں سے کئی سال تک اسد کی حکمرانی کے خلاف مزاحمت ہوتی رہی تھی۔ اس حملے کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ اس اندازے کی بنیاد لوگوں کی جانب سے مہیا کردہ قابل اعتبار معلومات پر ہے جن میں متاثرین کے جسم پر اعصابی گیس کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں پتلیوں کا سکڑاؤ اور بموں کی شامی حکومت کے ماضی میں استعمال شدہ اسلحے سے مطابقت  شامل ہے۔

  • ایک مغربی این جی او نے ایسے مریضوں کا علاج کرایا جن کے جسم پر متعدد ایسے اثرات تھے جو کیمیائی حملوں کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔ ان میں آنکھوں  کی سکڑی ہوئی پتلیاں، کھانسی، قے اور سانس لینے میں دقت شامل ہے۔ لوگوں کی جانب سے جاری کردہ بعض ویڈیوز میں اسے ‘اعصابی گیس’ یا ‘اورنج فاسفیٹ’ کہا گیا اور یہ بات  کھنچی ہوئی پتلیوں کی بابت متاثرین کے بیانات سے مطابقت رکھتی ہے۔ سوشل میڈیا اور صحافیوں کی جانب سے جاری کردہ متاثرین کی تعداد مختلف تھی جن میں 19 ہلاکتیں اور 37 زخمی شامل تھے۔
  • بیان کردہ علامات روایتی ہتھیاروں کا نتیجہ نہیں ہو سکتیں کیونکہ متاثرین کے جسم پر ایسے زخم دکھائی نہیں دیتے جو روایتی ہتھیاروں کے نتیجے میں آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمیں متاثرین کے بری طرح جلنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ یہ جلن سفید فاسفورس سے حملے کے نتیجے میں ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا نے اطلاع دی کہ حکومتی فورسز نے ہینڈ گرینیڈوں سے حملہ کیا جن میں زہریلی گیس بھری تھی اور ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حملے میں سرن گیس استعمال ہوئی۔

  • امریکہ کا اندازہ ہے کہ شامی حکومت 2013 سے سرن گیس بھرے ہینڈ گرینیڈ تیار اور استعمال کرتی چلی آئی ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی منظوری کے بعد بھی انہیں برقرار رکھا۔
  • اپریل 2017 کے اواخر میں فرانس نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ خان شیخون میں جس سرن گیس کی نشاندہی ہوئی تھی وہ اپریل 2013 میں شامی حکومت کی جانب سے استعمال ہونے والے سرن بھرے گرینیڈز سے ملتی جلتی ہے۔

22 جنوری 2018 کو شامی حکومت نے کلورین گیس سے بھرے کم از کم دو راکٹ دوما پر برسائے جس سے چھوٹے پیمانے بنائے گئے متعدد اقسام کے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے پر اس کی آمادگی و اہلیت کو ظاہر ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا اور صحافیوں کی جانب سے مہیا کی جانے والی بہت سی معلومات نہ صرف اس واقعے کی تحریری تفصیل پر مبنی ہیں بلکہ ان میں تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں جس سے ہمارا یہ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ ناصرف کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے بلکہ انہیں شامی حکومت نے ہی استعمال کیا۔

  • سوشل میڈیا کے ذریعے یہ سامنے آیا کہ اس حملے میں دسیوں لوگ نشانہ بنے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان لوگوں میں دم گھٹنے کی علامات دیکھی گئیں جو کہ کلورین گیس کے اثرات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ حملے کے بعد طبی امداد لیتے متعدد بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا کے ایسے اکاؤنٹس پر پوسٹ کی گئیں۔
  • اس حملے میں استعمال ہونے والے بموں کے ٹکڑوں کی تصاویر کلورین بھرے انہی راکٹوں سے ملتی جلتی ہیں جنہیں شامی حکومت نے 2017 کے اوائل میں دمشق میں استعمال کیا تھا۔ 22 جنوری کے حملے کی بابت بہت سے لوگوں کے بیانات میں یہ کہا گیا کہ متاثرین نے کلورین کی بو محسوس کی جو کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی علامت ہے جس  کا مشاہدہ شامی حکومت کی جانب سے کلورین گیس کے گزشتہ حملوں میں بھی کیا جا چکا ہے۔

دوما اور ہراسطہ  میں شامی حکومت کی جانب سے حالیہ کیمیائی حملوں کو دیکھتے ہوئے دمشق میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مسلسل الزامات اور ایسے ہی  جنگی حالات میں حکومت کی جانب سے کیمیائی مادوں کے استعمال پر ہم سمجھتے ہیں کہ دیگر مواقع پر بھی سرن اور کلورین گیس استعمال کی گئی جس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ شامی حکومت ایسے ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھے گی۔

  • ایسے حملوں سے شامی حکومت کا مقصد مشرقی غوطہ کا علاقہ واپس لینا تھا۔ مشرقی غوطہ دمشق کے نواح میں مورچہ بند اپوزیشن فورسز کے زیرقبضہ آخری علاقوں میں ایک ہے۔ شامی حکومت یہاں بھی اپوزیشن فورسز کو 2016 کے اواخر میں حلب پر کی گئی کارروائی کی طرح شکست دینا چاہتی تھی جہاں اس نے تواتر سے کلورین گیس استعمال کی تھی۔
  • شام کی جانب سے زہریلے کیمیائی مادوں سے حملے کے لیے چھوٹے اور زمین سے مار کرنے والے ہتھیاروں کی جانب واپسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر اس جنگ کے آغاز کی طرح کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہی ہے جس سے حکومتی فوجوں کو عمارتوں اور سرنگوں میں لوگوں کو نشانہ بنانے کی اہلیت میسر آئی تھی۔ مشرقی غوطہ میں شامی حکومت کو ویسے ہی حالات کا سامنا ہے جو اسے جنگ کے آغاز میں درپیش تھے۔
  • جنوری 2017 سے اب تک ہمیں مشرقی غوطہ میں کیمیائی اسلحے کے استعمال کی 15 سے زیادہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں مشرقی غوطہ بشمول جولائی اور نومبر 2017 کے درمیان ہراسطہ  اور جابار کے قصبوں میں کم از کم چار مبینہ حملوں کی بابت بھی معلوم ہوا ہے جن میں ویسے ہی کیمیائی ہینڈ گرینیڈ استعمال ہوئے جو ہراسطہ  میں دیکھے گئے تھے۔

یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ اسد حکومت تواتر سے کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ یہ استعمال اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایسے واقعات پر  حکومت کی جانب سے ادا کی جانے والی قیمت اس خیال سے بڑھ نہ جائے کہ ایسے ہتھیار اسے عسکری فوائد بہم پہنچا سکتے ہیں۔

 


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں