rss

شام کے معاملے پر صدر ٹرمپ کا بیان

Facebooktwittergoogle_plusmail
English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

وائٹ ہاؤس
دفتر سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
13 اپریل 2018

 

 

صدر: ساتھی امریکیو، کچھ ہی دیر پہلے میں نے امریکی مسلح افواج کو شامی آمر بشارالاسد کی کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت سے متعلق اہداف پر نپے تلے حملوں کا حکم جاری کیا ہے۔ فرانس اور برطانیہ کی مسلح افواج کے ساتھ ایک مشترکہ کارروائی اس وقت جاری ہے۔ ہم ان دونوں کے شکرگزار ہیں۔

آج شب میں آپ سے اس بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔ ایک سال پہلے اسد نے اپنے ہی معصوم شہریوں کو  کیمیائی ہتھیاروں سے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے 58 میزائل حملے کیے جن کے ذریعے شام کی 20 فیصد فضائیہ تباہ کر دی گئی۔

گزشتہ ہفتے اسد حکومت نے معصوم شہریوں کو قتل کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔ اس مرتبہ یہ کارروائی شامی دارالحکومت دمشق کے قریبی قصبے دوما میں کی گئی۔ یہ قتل عام اس خوفناک حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں آنے والی شدت کا اظہار تھا۔ اس برے فعل اور قابل مذمت حملے کے نتیجے میں بہت سے ماں باپ، نومولود اور چھوٹے بچے شدید تکلیف کا شکار ہوئے جن کے لیے سانس لینا ممکن نہ رہا۔

یہ انسانی اقدامات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک عفریت کے جرائم ہیں۔ ایک صدی قبل پہلی جنگ عظیم کی ہولناکیوں کے بعد مہذب اقوام نے مل کر کیمیائی جنگ پر پابندی عائد کی تھی۔

کیمیائی ہتھیار خاص طور پراس لیے خطرناک نہیں ہیں کہ ان کے استعمال سے ہولناک تکلیف پہنچتی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی معمولی سی مقدار سے بھی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلتی ہے۔

آج رات اٹھائے گئے ہمارے اقدامات کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری، پھیلاؤ اور استعمال کے خلاف مضبوط روک قائم کرنا ہے۔ ایسا کرنا امریکی قومی سلامتی کے لیے اہم ہے۔

ان مظالم کے خلاف امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے مشترکہ ردعمل ہماری قومی طاقت کے عسکری، معاشی اور سفارتی تمام ذرائع کو یکجا کرے گا۔ جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے باز نہیں آتی اس وقت تک ہم ایسی جوابی کارروائی کے لیے تیار رہیں گے۔

آج مجھے دو ایسی حکومتوں کو بھی پیغام دینا ہے جو اسد کی مجرم حکومت کی مدد، اسے ہتھیار مہیا کرنے اور اس کی مالی معاونت کی سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ میں ایران اور روس سے کہتا ہوں کہ کونسا ملک معصوم مردوخواتین اور بچوں کے قتل عام سے وابستہ رہنا چاہے گا؟

دنیا کے ممالک کو ان کے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔ کوئی ملک سرکش ریاستوں، وحشی جابروں اور قاتل آمروں کی مدد کر کے زیادہ عرصہ کامیاب نہیں رہ سکتا۔

2013 میں صدر پوٹن اور ان کی حکومت نے دنیا سے وعدہ کیاتھا  کہ وہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کی ضمانت دیتے ہیں۔ اسد کے حالیہ حملے اور آج ان کے خلاف جوابی کارروائی روس کی جانب سے وعدہ پورا کرنے میں ناکامی کا براہ راست نتیجہ ہیں۔

روس کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ اسی تاریخ راہ پر چلتا رہے گا یا استحکام اور امن کی قوت کے طور پر مہذب اقوام کا ساتھ دے گا۔ امید ہے کہ کسی دن روس ہمارے ساتھ ہو گا اور شاید ایران بھی، مگر ممکن ہے ایسا نہ ہو۔

میں یہ کہوں گا کہ امریکہ کے پاس دینے کے لیے بہت کچھ ہے، اس کے پاس دنیا کی تاریخ کی عظیم ترین اور سب سے طاقتور معیشت ہے۔

شام میں امریکہ جو اقدامات کر رہا ہے وہ امریکی عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ امریکہ وہاں داعش کی باقیات کا خاتمہ کرنے کے لیے چھوٹی سی فوج سے کام لے رہا ہے۔ گزشتہ برس شام اور عراق میں داعش کی نام نہاد خلافت کے زیرتسلط قریباً 100 فیصد علاقہ آزاد کرایا گیا اور وہاں سے داعش کا خاتمہ کیا گیا۔

امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے طول و عرض میں اپنی دوستیاں ازسرنو ترتیب دی ہیں۔ ہم نے اپنے شراکت داروں سے کہا ہے کہ وہ اپنے علاقوں کی حفاظت کے لیے زیادہ سے زیادہ ذمہ داری اٹھائیں جس میں داعش کے خلاف جدوجہد کے لیے وسائل اور سازوسامان جمع کرنے کے لیے بھاری رقم دینا بھی شامل ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر اور ہمارے دوسرے دوستوں کی جانب سے بھرپور کردار اس امر کی ضمانت دے سکتا ہےکہ ایران داعش کے خاتمے سے فائدہ نہیں اٹھا پائے گا۔

امریکہ کسی بھی قسم کے حالات میں شام میں غیرمعینہ مدت تک موجودگی نہیں چاہتا۔ دوسرے ممالک کی جانب سے حصہ داری پر ہم اس دن کے منتظر ہیں جب ہم اپنے جنگجوؤں کو واپس بلا لیں گے۔ وہ بہت زبردست جنگجو ہیں۔

مشکلات میں گھری دنیا کو دیکھتے ہوئے امریکیوں کو کوئی مغالطہ نہیں ہے۔ ہم پوری دنیا کو برائی سے پاک کر سکتے ہیں اور نہ ہی ہر جگہ جبر کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ امریکی خون اور وسائل سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور سلامتی ممکن نہیں خواہ ان کی مقدار کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ایک مشکل اور پراگندہ جگہ ہے۔ ہم اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں گے مگر یہ ایک مشکل جگہ ہے۔ امریکہ ایک شریک کار اور دوست رہے گا مگر خطے کی قسمت اس کے اپنے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ گزشتہ صدی میں ہم نے انسانی روح کے تاریک گوشوں کا براہ راست مشاہدہ کیا۔ ہم نے بے لگام اذیت اور برائی کو حاوی ہوتے دیکھا۔ پہلی جنگ عظیم کے اختتام تک کیمیائی ہتھیاروں سے دس لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک یا زخمی ہو چکے تھے۔ ہم اس بھیانک آسیب کی کبھی واپسی نہیں چاہتے۔

چنانچہ آج برطانیہ، فرانس اور امریکہ نے اپنی دیانت دارانہ طاقت کو بربریت اور وحشت کے خلاف مجتمع کیا ہے۔ آج رات میں تمام امریکیوں سے کہتا ہوں کہ وہ ہمارے شاندار جنگجوؤں اور ہمارے اتحادیوں کے لیے دعا کریں جو اپنے مقاصد پر عمل پیرا ہیں۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا شام میں مصائب کا شکار لوگوں کو سکون عطا کرے۔ ہم خدا سے دعا گو ہیں کہ وہ پورے خطے کو وقار اور امن پر مبنی مستقبل کی جانب لے جائے۔ ہماری دعا ہے کہ خدا ہمیں اپنی نظر اور رحمت سے نوازتا رہے۔ آپ کا شکریہ، شب بخیر، شکریہ۔

اختتام


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں