rss

شام کے معاملے پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے امریکی سفیر نکی ہیلی کا خطاب

Facebooktwittergoogle_plusmail
English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español, Português Português

امریکی مشن برائے اقوام متحدہ
دفتر اطلاعات و عوامی سفارتکاری

 

جناب صدر اور سیکرٹری جنرل، آج کی بریفنگ کے لیے آپ کا شکریہ۔ شام کی صورتحال پر گزشتہ ہفتے سے سلامتی کونسل میں یہ ہمارا پانچواں اجلاس ہے۔ ایک ہفتہ گزر چکا ہے جس میں ہم نے بات چیت کی۔ ہم نے دوما کے متاثرین سے متعلق گفت و شنید کی۔ ہم نے اسد حکومت اور اس کے سرپرست روس اور ایران کے بارے میں بات کی۔ ہم نے ایک ہفتہ تک کیمیائی ہتھیاروں کی خاص ہولناکیوں پر بات کی۔ گزشتہ شب بات چیت کا وقت ختم ہو گیا۔

آج ہم یہاں اس لیے موجود ہیں کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تین مستقل ارکان نے کارروائی کی ہے۔ امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے یہ کارروائی کی جس کا مقصد بدلہ لینا، سزا دینا یا طاقت کا علامتی اظہار نہیں تھا۔ ہم نے شامی حکومت کو انسانیت کے خلاف اس کے مظالم پر ذمہ دار ٹھہرا کر مستقبل میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے لیے کارروائی کی۔

ہم سب دیکھ سکتے ہیں کہ روس کی جانب سے غلط معلومات پھیلانے کی مہم آج صبح سے بھرپور انداز میں چلائی جا رہی ہے۔ تاہم روس کی کی جانب سے توجہ ہٹانے کی مایوسانہ کوششیں حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ بہت سی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی حکومت نے 7 اپریل کو دوما میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔ ایسی واضح معلومات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسد اس اقدام کا ذمہ دار ہے۔

ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر جعلی نہیں تھیں۔ یہ  بچے شامی حکومت کے وحشیانہ اور غیرانسانی فعل کے نتیجے میں جان سے گئے۔ یہ ہلاکتیں وہاں کی حکومت اور روس کی جانب سے شام میں موجود تمام کیمیائی ہتھیار ختم کرنے کے عالمی وعدوں پر عملدرآمد میں ناکامی کے سبب وقوع پذیر ہوئیں۔ امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے ان حقائق کے بالاحتیاط جائزے کے بعد کارروائی کی۔

ہم نے جو اہداف منتخب کیے وہ شامی حکومت کے غیرقانونی کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کا مرکز تھے۔ ان حملوں کی منصوبہ بندی احتیاط سے کی گئی تاکہ شہریوں کا جانی نقصان کم سے کم ہو۔ ہماری جوابی کارروائیاں جائز، قانونی اور متناسب تھیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اسد کے کیمیائی ہتھیاروں سے چھٹکارا پانے کے لیے سفارتی ذرائع سے جو بن پڑا کیا۔

ہم نے سفارتکاری کو صرف ایک موقع ہی نہیں دیا۔ ہم نے سفارتکاری کو ایک کے بعد دوسرا موقع دیا۔ چھ مرتبہ: روس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو اتنی ہی مرتبہ ویٹو کیا۔ ایسے میں ہماری کوششیں مزید ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ 2013 میں سلامتی کونسل نے ایک قرارداد پاس کی تھی جس میں اسد حکومت سے کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ تباہ کرنے کو کہا گیا تھا۔

شام نے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی پاسداری کا وعدہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر کیمیائی ہتھیار نہیں رکھے گا۔ صدر پوٹن نے کہا کہ روس شام کی جانب سے تعاون کی ضمانت دے گا۔ ہمیں امید تھی کہ شام میں کیمیائی حملوں کی ہولناکی ختم کرنے کے لیے یہ سفارتکاری کامیاب رہے گی۔ مگر جیسا کہ ہم نے گزشتہ برس سے مشاہدہ کیا، ایسا نہ ہو سکا۔

روس اسد حکومت کے تحفظ میں مصروف تھا جبکہ حکومت کو اندازہ تھا کہ وہ کسی قسم کی سزا سے بچتے ہوئے یہ کام کر سکتی ہے اور وہ کر گزری۔

نومبر میں روس نے مشترکہ تحقیقاتی طریقہ کار کے خاتمے کے لیے ویٹو استعمال کیا۔ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے ہمارے پاس یہی سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ جیسا کہ روس اپنا ویٹو استعمال کر رہا تھا اسی طرح اسد حکومت نے سرن گیس استعمال کی جس کے نتیجے میں درجنوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔

روس کا ویٹو شامی عوام کے خلاف یہ انتہائی وحشیانہ ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے اسد حکومت کے لیے سبز جھنڈی تھی۔ ایسے ہتھیاروں کا استعمال عالمی قانون کی مکمل خلاف ورزی ہے۔ امریکہ اور ہمارے اتحادیوں نے یہ سب کچھ جاری رہنے نہیں دینا تھا۔ کیمیائی ہتھیار ہم سب کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ ایک منفرد طرز کا خطرہ ہیں، یہ اس قدر برا ہتھیار ہیں کہ عالمی برادی اس بات پر متفق ہے کہ ان پر پابندی ہونی چاہیے۔ ہم خاموش کھڑے رہ کر روس کو ہر اس اصول کی پامالی کی اجازت نہیں دے سکتے جس کے لیے ہم نے آواز اٹھائی اور ہم کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کو چھوٹ نہیں دے سکتے۔ جیسا کہ گزشتہ ہفتے شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اکیلا واقعہ نہیں تھا اسی طرح ہمارا ردعمل ایک نئی راہ کا حصہ ہے جو مستقبل میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے لیے گزشتہ برس ترتیب دی گئی تھی۔

شام کے حوالے سے ہماری حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تاہم شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کے مسلسل استعمال پر ہمیں اپنے خلاف کارروائی کے لیے مجبور کر دیا۔ اپریل 2017 میں خان شیخون پر کیمیائی حملے کے بعد سے امریکہ نے ایسے افراد اور اداروں پر سینکڑوں پابندیاں نافذ کیں جو شام اور شمالی کوریا میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال اور تیاری میں شامل تھے۔ ہم نے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں بہت سے ایسے اداروں کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا جنہوں کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں سہولت دی تھی۔ ہم نے سالسبری میں کیمیائی حملے کے جواب میں روسی انٹیلی جنس افسروں کے ویزے منسوخ کر دیے۔ ہم ایسے عناصر کی تلاش اور انہیں چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے جو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال یا اس میں مدد دینے کے مرتکب ہوں۔

گزشتہ ہفتے کی فوجی کارروائی کے ساتھ ہی ہمارا پیغام بالکل واضح ہے۔ امریکہ اسد حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ گزشتہ شب ہم نے شام میں بڑی تحقیقی تنصیب کا خاتمہ کر دیا جسے اس نے وسیع پیمانے پر قتل عام کے لیے ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا تھا۔ میں نے آج صبح صدر سے بات کی اور انہوں نے کہا کہ اگر شامی حکومت نے یہ زہریلی گیس دوبارہ استعمال کی تو امریکہ جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ جب ہمارے صدر سرخ لکیر کھینچتے ہیں تو پھر اس کی تعمیل کراتے ہیں۔

امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے دفاع کی خاطر اتحاد میں کردار ادا کرنے پر برطانیہ اور فرانس کا بے حد مشکور ہے۔ ہم نے باہم مل کر کام کیا، ہمارے مابین مکمل معاہدہ تھا۔ گزشتہ شب ہمارے عظیم دوستوں اور ناگزیر اتحادیوں نے ایسا بوجھ اٹھانے میں حصہ ڈالا جو ہم سب کے لیے مفید ہے۔ مہذب دنیا ان کی شکرگزار ہے۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں سلامتی کونسل کو وقت نکال کر عالمی قانون کے دفاع میں اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔

سلامتی کونسل کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں سے بازپرس کے اپنے فرض کی ادائیگی میں ناکام رہی۔ اس ناکام کی بڑی حد تک وجہ روسی رکاوٹ تھی۔ ہم روس سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے دوستوں کے حوالے سے احتیاط کرے اور سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ اقوام متحدہ کے حقیقی اصولوں کا دفاع کرے جنہیں اس نے فروغ دینا تھا۔

گزشتہ شب ہم نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مرکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور ان اقدامات کی بدولت ہمیں اعتماد ہے کہ ہم نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اگر شامی حکومت اتنی بیوقوف ہے کہ وہ ہماری خواہش کا امتحان لے گی تو ہم اس دباؤ کو قائم رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ شکریہ۔


اصل مواد دیکھیں: https://usun.state.gov/remarks/8389
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں