rss

کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم کی ایگزیکٹو کونسل کے 58ویں اجلاس میں امریکہ کے مستقل نمائندے کینتھ ڈی وارڈ کا بیان

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español, Português Português

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم کی ایگزیکٹو کونسل کے 58ویں اجلاس میں امریکہ کے مستقل نمائندے کینتھ ڈی وارڈ کا بیان
دی ہیگ، ہالینڈ

 
 

جناب چیئرپرسن، ڈائریکٹر جنرل، ممتاز سفراء اور وفود، یہ قطعی افسوسناک بات ہے کہ ایک مرتبہ پھر ایگزیکٹو کونسل کو شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے ہولناک حملے کے معاملے سے نمٹنا ہے۔ خان شیخون میں حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر اس کونسل کے اجلاس سے محض تین دن بعد 7 اپریل کو شامی شہر دوما کیمیائی ہتھیاروں کے شدید حملے کی زد میں آیا جس میں درجنوں معصوم شہری ہلاک اور سینکڑوں مزید زخمی ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ دوما میں ہونے والے حملے میں بھی اتنے ہی شہری ہلاک ہوئے ہوں گے جتنے گزشتہ برس خان شیخون میں ہوئے تھے۔ اب یہ ہولناکیاں بند ہونی چاہئیں۔

سالہا سال تک تواتر اور باقاعدگی سے کیمیائی ہتھیار استعمال ہونے کے بعد دوما میں یہ حملہ اسد حکومت کی جانب سے اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں میں مزید شدت کی غمازی کرتا ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر عالمی مذمت کے باوجود اسد حکومت کی جانب سے اپنے ہی شہریوں کو دہشت زدہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اوپی سی ڈبلیو اور اقوام متحدہ کے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ مشترکہ تفتیشی طریق کار نے اس حملے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کی ہے۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ شامی حکومت عالمی قانون بشمول کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی اور حقارت آمیز انداز میں خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔

امریکہ ڈائریکٹر جنرل سے سفارش کرے گا کہ دوما حملوں کی تفتیش کے لیے حقائق کی جانچ کرنے والے مشن (ایف ایف ایم) کو فوری طور پر تیار کیا جائے۔ ہم تمام فریقین سے کہتے ہیں کہ وہ دوما حملوں کی تحقیقات کے لیے اس مشن کا کام محفوظ اور فوری انداز میں ممکن بنائیں اور اسے متعلقہ مقامات تک آزادانہ رسائی مہیا کی جائے۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ ممکنہ طور پر روس حملے کی جگہ پر جا چکا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ انہوں نے موثر تحقیقات کے حوالے سے اوپی سی ڈبلیو کے مشن کی کوششیں ناکام بنانے کے لیے جائے وقوعہ میں کوئی تبدیلیاں کی ہوں گی۔ اس سے ‘ایف ایف ایم’ کی اہلیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں۔

13 اپریل کو امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی فورسز نے شامی حکومت کے خلاف عسکری کارروائیاں کیں۔ ہمارے حملے شام کی کیمیائی ہتھیاروں کی اہلیت کو نشانہ بنانے اور اس کا مزید استعمال روکنے پر مرتکز تھے اور یہ کارروائیاں شام کے حوالے سے امریکی اور ہمارے اتحادیوں کی پالیسیوں سے مطابقت رکھتی تھیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ان حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد میں شہریوں کا جانی نقصان کم سے کم رکھنے کی کوششیں کیں۔ امریکہ اور ہمارے اتحادیوں کے فوجی حملے قانونی، متناسب اور جائز تھے۔

امریکہ نے اسد حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے روکنے کے لیے سفارتی، معاشی و سیاسی ذرائع سے متواتر کوشش کی۔ ہم نے اقوام متحدہ میں اس حوالے سے کارروائی ممکن بنانے کی کوشش کی۔ ہم نے یورپی یونین اور دوسرے ممالک کی شراکت سے پابندیوں کے نفاذ کی کوشش کی۔ تاہم امریکہ اور ہمارے شراکت داروں نے گزشتہ برسوں میں جو بھی کوشش کی روس اس کی راہ میں حائل ہو گیا۔ روس نے ‘اوپی سی ڈبلیو’ کے ذریعے شامی حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں کے بقیہ ذخیرے حوالے کرنے اور اپنے اس پروگرام کو مکمل طور سے ختم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مسلسل کمزور کیا۔ روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو روکنے کے لیے گزشتہ برس چھ مرتبہ ویٹو کا اختیار بھی استعمال کیا اور کیمیائی ہتھیاروں کے مسلسل استعمال پر شامی حکومت سے جوابدہی ناممکن بنا دی۔ اگرچہ روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2401 (2018) کے تحت جارحیت کے خاتمے پر متفق ہوا تھا تاہم اس نے قرارداد کی کوئی بھی شرط پوری نہیں کی اور اسے محض اسد حکومت کے عسکری مقاصد کو آگے بڑھانے اور شام کی جانب سے اپنے ہی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے مزید استعمال میں سہولت دینے کے لیے آلے کے طور پر استعمال کیا۔

سب سے زیادہ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ روس نے یواین-اوپی سی ڈبلیو مشترکہ تحقیقاتی طریق کار کی تجدید کو ویٹو کر کے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے دنیا کی اہلیت سلب کر لی۔ یہ ایک غیرجانبدار اور آزاد تکنیکی ادارہ ہے جسے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ درحقیقت چند ہی دن پہلے 9 اور 10 اپریل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ایک مرتبہ پھر روس نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا جس کے نتیجے میں حملے کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے ازسرنو آزادانہ اور غیرجانبدارانہ طریق کار وضع کیا جانا تھا اور جس سے حملے کے مرتکبین کو ان کے مظالم پر جوابدہ بنایا جا سکتا تھا۔

اپنے اتحادی کو تحفظ دے کر روس 2013 کے فریم ورک معاہدے کے تحت دی گئی ضمانت پر پورا نہیں اتر سکا جس میں اس نے کہا تھا کہ شام ہر قسم کے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بند کر دے گا اور ہتھیاروں کے ذخیرے کو قابل تصدیق طور سے تباہ کرنے کے لیے سامنے لائے گا۔ روس نے اسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی پردہ پوشی جاری رکھ کر ناصرف اخلاقی جرم کا ارتکاب کیا ہے بلکہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2118 (2013) کے حوالے سے دھوکہ دہی کا مرتکب بھی ہوا ہے۔ جیسا کہ سفیر ہیلی نے کہا ہے ‘اگر روس چاہتا تو بے حسی پر مبنی اس قتل عام کو روک سکتا تھا مگر وہ اسد حکومت کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اس کی مدد کرتا ہے’

روس کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا مسلسل استعمال اور روس کی جانب سے اپنے شامی اتحادی کو دوطرفہ اور عالمی کارروائی کے ذریعے روکنے سے مسلسل انکار پر ردعمل ضروری ہو چکا ہے بلکہ اس کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اہم اتحادیوں کے ساتھ مل کر کی جانے والی حالیہ عسکری کارروائیوں کا مقصد اسد اور اس کی حکومت کے دیگر حکام کا ان مظالم پر احتساب کرنا ہی نہیں بلکہ ایسے مظالم کے ارتکاب کے لیے حکومتی اہلیت کا خاتمہ اور شام کی جانب سے مستقبل میں ایسے بے تکے ہتھیاروں کا استعمال روکنا بھی ہے۔

شامی حکومت کے تازہ ترین کیمیائی حملے کے بعد مردہ اور مرتے ہوئے بچوں کی تصاویر دنیا کی مہذب اقوام سے کارروائی کا تقاضا کرتی ہیں۔ جن ممالک میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کے احتساب کی صلاحیت تو ہے لیکن انہیں روکنے میں ناکام ہیں وہ ان حملوں میں خود کو شریک جرم بنا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اس پر رد عمل دینے میں ناکامی نہ صرف شامی حکومت کا حوصلہ بڑھائے گی بلکہ دنیا بھر کے مطلق العنان حکمرانوں کو اس بات پر قائل کرے گی کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو بغیر کسی خوف کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دنیا کے سب سے خوفناک ہتھیاروں کے استعمال کو روکنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ان کا استعمال معمول نہ بن جائے۔ ہر وہ کیمیائی حملہ جس کی سزا نہیں دی جاتی، دنیا بتدریج اس کی خطرناکی کے حوالے سے غیر حساس ہو جاتی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ہمیں مستقبل میں ان ہتھیاروں کی دوسرے ملکوں تک رسائی کی توقع بھی رکھنی چاہیے اور اس سے ہم سب کی سلامتی کو خطرہ ہے۔

شام پر ہمارے حملے امریکہ کی کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے اور اسے غیر معمولی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران ہم نے ان اداروں اور افراد پر سینکڑوں پابندیاں عائد کی ہیں جو شام اور شمالی کوریا میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں ملوث رہے ہیں جبکہ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں ان لوگوں کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔ ہم نے روس کے ان 60 جاسوسوں کو بھی ملک بدر کیا جو سفارتی آڑ میں کام کر رہے تھے اور برطانیہ میں روس کی طرف سے کیمیائی ہتھیار کے استعمال میں ملوث تھے۔ اس حملے کے ردعمل میں ہم نے کچھ اضافی اداروں کی نشاندہی بھی کی اور کرتے رہیں گے جن کی مدد اسد کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں اہم ہے۔ ہم ایسے جرائم کی مدد، اعانت یا ارتکاب کرنے والوں کی تلاش جاری رکھیں گے اور ان کی غیر قانونی سرگرمیوں کو محدود کریں گے۔ ہر ایک کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی قیمت کسی بھی طرح کے عسکری یا سیاسی فوائد پر ہمیشہ حاوی رہے گی۔

امریکہ اور اس کے اتحادی شام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی تمام جہتوں کو کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم’ او پی سی ڈبلیو کے سامنے بیان کرے، اپنے باقی ماندہ ہتھیاروں کے ذخیرے کو تلف کرے، اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو فوری طور پر بند کرے اور او پی سی ڈبلیو سے بھر پور تعاون کرے۔ ہم شام کو تحفظ فراہم کرنے والوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس مرتبہ اسد حکومت ہماری بات کی تعمیل کرے گی۔

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کا بحران پانچ برس سے زیادہ عرصہ سے جاری ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن اور اس تنظیم پر شام کے قابل مذمت حملے طویل عرصہ سے کونسل کے سامنے ہیں۔ شامی حکومت کے کیمیائی حملوں کی دہشت پر اس کی مذمت اور ان وحشیانہ حملوں کے ذمہ داروں کے عالمی احتساب کا مطالبہ طویل عرصہ سے اس کونسل پر قرض ہے۔ ہمارے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے مزید کتنی جانیں کیمیائی ہتھیاروں کی نذر ہونا ہیں؟ ہماری جانب سے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے مزید کتنی جانیں کیمیائی ہتھیاروں کی نذر ہونا ہیں؟

میں کہتا ہوں کہ میرا بیان ایگزیکٹو کونسل کے اس خصوصی اجلاس میں سرکاری دستاویز میں درج کیا جائے اور اسے بیرونی سرور اور عام لوگوں کے لیے ویب سائٹ پر بھی پوسٹ کیا جائے۔


اصل مواد دیکھیں: https://www.state.gov/t/avc/rls/280509.htm
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں