rss

انسانی حقوق کے حوالے سے 2017 کی عالمی رپورٹ کے اجرا پر قائم مقام وزیرخارجہ جان سلوین کا بیان

English English, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجراء
20 اپریل 2018

 

غیر مدون/مسودہ

ہیدا نوئرٹ: سبھی کو سہ پہر بخیر، خاص طور پر جمعے کو یہاں آنے پر آپ کا بے حد شکریہ۔ آج دفتر خارجہ نے انسانی حقوق کی صورتحال پر 2017 کی عالمی رپورٹ جاری کی ہے۔ آزادی کا فروغ، انسانی حقوق کا فروغ اور تحفظاور بنیادی آزادیاں ملک کے طور پر ہمارے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہیں اور امریکہ انسانی وقار اور آزادی کے لیے دنیا بھر میں ان کی حمایت جاری رکھے گا۔

یہ انسانی حقوق کی صورتحال پر 42ویں  سالانہ رپورٹ ہے جسے دفتر خارجہ نے اب جاری کر دیا ہے۔ ہمیں اس موقع پر قائم مقام وزیرخارجہ جان سلوین کی یہاں موجودگی پر خوشی ہے اور ہم چاہیں گے کہ و ہ اس حوالے سے کچھ بات کریں۔ قائم مقام وزیر سلوین کے بعد ہم سفیر مائیکل کوزیک کو دعوت دیں گے کہ وہ چبوترے پرآئیں اور آپ کے بعض سوالات کے جواب دیں۔ میں اس بات چیت میں سہولت فراہم کروں گی کیونکہ ہم سب ایک دوسرے سے واقف ہیں۔

سفیر کوزیک دفتر خارجہ کے شعبہ جمہوریت، انسانی حقوق و محنت میں اعلیٰ سطحٰ عہدیدار ہیں اور وہ کچھ ہی دیر میں آپ سے بات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ری پبلکن اور ڈیموکریٹس حکومتوں میں 46 برس تک اس محکمے میں خدمات انجام دی ہیں جو کہ حیران کن بات ہے۔ جناب عالی، دفتر خارجہ کے لیے خدمات پر آپ کا شکریہ۔

اس کے ساتھ ہی میں قائم مقام وزیر خارجہ جان سلوین کو یہاں آنے اور بات کی دعوت دوں گی ۔جناب ۔

قائم  مقام وزیرخارجہ سلوین: سہ پہر بخیر۔ 2017 میں دنیا بھر کے ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر رپورٹس کا رسمی اجرا اعزاز کی بات ہے۔

ایسی رپورٹس جاری ہوتے اب 42 برس ہو چکے ہیں اور یہ امریکیوں کی حیثیت سے ہماری اقدار کا فطری شاخسانہ  ہیں۔ ہمارے ملک کی دستوری دستاویزات میں ناقابل انتقال حقوق، بنیادی آزادیوں اور قانون کی حکمرانی کا تذکرہ ہے۔ یہ وہ انقلابی تصورات ہیں جو اندرون و بیرون ملک امریکی اقدار اور مفادات کی بنیادی ساخت کا حصہ ہیں۔

انسانی حقوق اور اس تصور کا فروغ موجودہ امریکی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کا بنیادی عنصر ہے کہ ہر فرد خلقی طور  پر قابل احترام ہے۔ یہ دنیا بھر میں امن، استحکام اور خوشحالی میں اضافے کے ذریعے امریکی قومی سلامتی کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

انسانی حقوق بارے رپورٹس دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر انتہائی جامع اور حقائق پر مبنی جائزہ ہوتی ہیں۔ ان سے ہماری حکومت اور دوسروں کو حکمت عملی ترتیب دینے اور دوستوں دشمنوں کو بلاامتیاز تمام افراد کے وقار کا احترام کرنے کے لیے حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

اس برس ہم نے خاص طور پر یہ بات مدنظر رکھی کہ یہ رپورٹس قانونی رپورٹنگ کے تقاضوں کے حوالے سے زیادہ جامع ہوں اور ان میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ بارے حکومتوں کے اقدامات یا عدم اقدامات کی بابت زیادہ تفصیل موجود ہو۔ مثال کے طور پر ہر ایگزیکٹو سمری کے ایک پیراگراف میں اس ملک میں انسانی حقوق کی انتہائی برے طور سے پامالی کا تذکرہ ہے جو ممکنہ طور پر خواتین، ایل جی بی ٹی آئی افراد، معذوروں، غیرمقامی لوگوں اور مذہبی اقلیتوں کے ارکان سے بھی روا رکھی جا سکتی ہے۔

مائیک کو یہاں بلانے سے پہلے  میں خاص طور پر چند ممالک کا ذکر کروں گا جں میں ایسے بھی شامل ہیں جو انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے انتہائی برے ریکارڈ کے حامل ہیں۔

شمالی کوریا دنیا کی انتہائی جابر اور بے لگام حکومتوں میں شامل ہے۔ جیسا کہ رپورٹ سے واضح ہے، کم حکومت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے لوگوں کی فلاح سے صرف نظر کرتی ہے تاکہ غیرقانونی ہتھیاروں کے پروگرام کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے جبری مشقت، بچہ مزدوری اور شمالی کوریا کے کارکنوں کو بیرون ملک بھیجنے جیسے ہتھکنڈوں سے کام لیا جاتا ہے۔

چین کی جانب سے اس کے آمرانہ نظام کے بدترین خصائل کا پھیلاؤ جاری ہے جس میں کارکنوں، سول سوسائٹی اور آزادی اظہار پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ من مانی نگرانی بھی شامل ہے۔ آزاد عدلیہ نہ ہونے کے باعث حکومت آزاد وکلا کے خلاف کارروائی کرتی ہے اور قانون کی حکمرانی سے روگردانی کرتے ہوئے معلومات پر اپنا کنٹرول سخت بناتی ہے۔ ہمیں چینی حکام کی جانب سے یغور مسلمانوں اور تبت کے بدھوں کی مذہبی، لسانی اور ثقافتی شناخت کے خاتمے اور عیسائیوں کی مذہبی رسومات محدود کرنے کی کوششوں پر خاص طور پر تشویش ہے۔

ہم برما میں روہنگیا کی نسل کشی اور ان کے خلاف مظالم کے ارتکاب کی مذمت کرتے ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے شراکت کاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں 670000 سے زیادہ روہنگیا ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش آ چکے ہیں۔ لاکھوں شہری اندرون ملک بے گھر ہیں۔ تشدد، انسانی حقوق کی پامالی اور حملوں کے ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔

ایرانی عوام اپنے رہنماؤں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔ پرامن اجتماع اور میل جول نیز اظہار کی آزادی تمام افراد کا حق ہے۔ بدقسمتی سے ایرانی لوگوں کے انسانی حقوق پر روزانہ حملہ ہوتا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی دہشت ناک انداز میں پامالی سے پوری دنیا واقف ہے۔ اس میں شہریوں پر بیرل بموں سے حملے، ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جانا اور شامی حکومت کے اہلکاروں کی جانب سے جنسی زیادتی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی عام اطلاعات شامل ہیں۔ ایک ہفتہ قبل صدر نے ہمارے فرانسیسی اور برطانوی اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام کے خلاف کارروائی کی تھی جس کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنا اور شامی شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ تھا۔

ترکی میں جاری ہنگامی صورتحال کے دوران لاکھوں لوگوں بشمول صحافیوں اور ماہرین تعلیم کی گرفتاری سے قانونی کی حکمرانی کمزور ہوئی ہے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے اس ہفتے کے اوائل میں خود کہا تھا، ہمیں عیسائی پادری اینڈریو برونسن کی قید پر خاص طور پر تشویش ہے جسے کسی قابل اعتبار شہادت کے بغیر جیل میں رکھا گیا ہے۔

وینزویلا میں مادورو حکومت کی جانب سے تخلیق کردہ انسانی بحران روزبروز بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں روزانہ ہزاروں لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے براعظم ہائے امریکہ کی کانفرنس کے موقع پر نائب صدر پنس نے امریکہ کی جانب سے ان لوگوں کی مدد کے لیے 16 ملین ڈالر کا اعلان کیا جو وینزویلا چھوڑ چکے ہیں اور جنہیں خوراک، پانی اور طبی امداد کی شدید ضرورت ہے۔ ہم وینزویلا کے عوام کے ساتھ ہیں خواہ ان کا رہنما ملک میں امداد بھیجنے کی اجازت دینے سے انکار ہی کیوں نہ کرے۔

آخر میں روسی حکومت کا تذکرہ ہو جائے جو اختلافی آوازوں  اور سول سوسائٹی کو کچلنے میں مصروف ہے۔ یہ حکومت ہمسایوں پر حملہ کرتی ہے اور مغربی ممالک کی خودمختاری کمزور کرنے میں مصروف ہے۔ ہم ایک مرتبہ پھر روس پر زور دیتے ہیں کہ وہ یوکرائن کے جزیرہ نما کرائمیا پر ظالمانہ قبضہ ختم کرے، یوکرائن کے علاقے ڈونباس میں روس کے زیرقیادت فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں اور جمہوریہ چیچنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کا احتساب کیا جائے۔

بدقسمتی سے ایسے بہت سے ممالک ہیں جن کا میں ذکر کر سکتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ سفیر کوزیک آپ کے کسی بھی سوال کا بخوشی جواب دیں گے۔ تاہم اس سے پہلے مجھے چند اہم باتیں بتانا ہیں۔

اگرچہ ازبکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے تاحال بہت سا کام ہونا باقی ہے تاہم وہاں ایک تزویراتی اصلاحاتی ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے جس کے انسانی حقوق پر مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ ان میں گزشتہ برس آٹھ بڑے سیاسی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔

لائبیریا میں ہونے والے حالیہ انتخابات ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہاں 70 سال سے زیادہ عرصہ میں پہلی مرتبہ جمہوری طور پر منتخب رہنما سے دوسرے کو اقتدار کی پرامن منتقلی ممکن ہوئی ہے۔

میکسیکو میں جبری گمشدگیوں کے خلاف عمومی قانون کے تحت ایسے جرائم میں ملوث عناصر کو سزائیں دینے اور متاثرین کی بازیابی کے لیے قومی طریقہ کار وضع کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

یہ آج جاری ہونے والی ان رپورٹس میں بیان کردہ چندمثبت مثالیں ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ مختلف ممالک کی جانب سے ایسے مزید بہت سے مثبت اقدامات سامنے آئیں گے اور آئندہ برس انسانی حقوق کی رپورٹس میں اپنا ریکارڈ بہتر بنانے کے لیے یہ ممالک سنجیدہ قدم اٹھائیں گے۔

انسانی حقوق کے فروغ میں امریکہ قائدانہ کردار ادا کرتا ہے۔ ہم انسانی حقوق کی پامالی کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رکھیں گے۔ گزشتہ برس پابندیوں کے حوالے سے روسی اور عالمگیر میگنٹسکی پروگراموں کے ذریعے ہم نے اس ضمن میں پہلے سے کہیں کڑے اقدامات اٹھائے ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب کوئی بھی شخص ہماری پہنچ سے دور نہیں ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود کیوں نہ ہو۔

انسانی حقوق کی رپورٹس اس حوالے سے مجموعی کوشش کا اہم حصہ ہیں۔ میں دفتر خارجہ میں اپنے بہت سے ساتھیوں بشمول واشنگٹن اور دنیا بھر میں سفارت و قونصل خانوں میں موجود لوگوں کا مشکور ہوں جنہوں نے ان رپورٹس کی تیاری ممکن بنائی اور انسانی حقوق کے فروغ میں امریکہ کے طویل قائدانہ کردار میں اپنا حصہ ڈالا۔ اس کے ساتھ ہی میں قائم مقام سیکرٹری نوئرٹ کے لیے جگہ خالی کرتا ہوں۔ شکریہ۔


اصل مواد دیکھیں: https://www.state.gov/s/d/2018/280666.htm
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں