rss

جی 7 وزرائے خارجہ اجلاس کا پہلا دن مکمل ہونے پر دفتر خارجہ کے اعلیٰ انتظامی افسر کی بریفنگ

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
ٹورنٹو، ،کینیڈا 22 اپریل 2018

 

اعلیٰ انتظامی افسر: جی 7 وزرا میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے متعدد ترجیحات پر معنی خیز اور مفید تبادلہ خیال ہوا۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو ہم نے شمالی کوریا، شام اور روس سے متعلق امور پر خاص طور سے زور دیا۔ روس کے ضرررساں رویے کے خلاف جی 7 میں اتحاد و اتفاق پایا گیا اور تمام ممالک نے کریملن کی جانب سے منفی رحجانات کا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا۔ روس کے طرزعمل سے امن اور سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔

شام کے معاملے پر وزرا کا کہنا تھا کہ روس وہاں کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے ضمانتی تھا اور وہ اپنا کردار نبھانے میں ناکام رہا ہے۔ امریکہ نہیں سمجھتا کہ اسد حکومت کے زیرتسلط کسی بھی علاقے میں تعمیر نو کے حوالے سے کسی طرح کی کوئی مدد ہونی چاہیے۔

نگران: یہ تعمیرنو کی بات ہو رہی ہے، اس کا تعلق استحکام لانے کے اقدامات سے نہیں ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: جی، میرا مطلب ہے ۔۔۔

نگران: میرا مقصد بات کو واضح کرنا تھا، ٹھیک ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: جی ہاں، ہم یہ بات پہلے ہی کر چکے ہیں۔ یہ نئی بات نہیں ہے۔ اجلاس میں جنیوا عمل اور اسے ہر ممکن طور سے مضبوط بنانے کے لیے وسیع تر حمایت سامنے آئی۔ جنیوا عمل ہی خانہ جنگی کی شدت میں کمی لانے اور مسئلے کے سیاسی حل کے فروغ کا بہترین راستہ ہے۔

13 اپریل کو شام پر اتحادیوں کا حملہ اپنی نوعیت کا ایک ہی اقدام نہیں تھا بلکہ یہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ازسرنو روک قائم کرنے کے لیے اتحادیوں کی جانب سے جاری مہم کا حصہ تھا اور اگر ضروری ہوا تو اس سلسلے میں دوبارہ عسکری ذرائع سے کام بھی لیا جائے گا۔

اس موقع پر شمالی کوریا کے حوالے سے بھی مفید بات چیت ہوئی اور میرا خیال ہے کہ آج آپ نے اس حوالے سے صدر کا ٹویٹ دیکھ ہی لیا ہو گا۔ کیا آپ نے آج وہ ٹویٹ دیکھا ہے؟

نگران: شمالی کوریا کے بارے میں۔

اعلیٰ انتظامی افسر: شمالی کوریا۔

سوال: اوہ، شمالی کوریا کے بارے میں۔

نگران: آج صبح

اعلیٰ انتظامی افسر: اسے ایک نظر دیکھیے۔ صدر نے آج شمالی کوریا کے حوالے سے بات کی ہے۔ میں اس پر کچھ روشنی ڈالوں گا۔

ہم نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری تجربات روکنا ایک اچھی خبر ہے اور یہ مارچ میں شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کیے گئے وعدے سے مطابقت بھی رکھتی ہے۔ یہاں میں آج صدر کی بات پر روشنی ڈالوں گا۔ ہم نے یہ کہا ہے کہ ہم ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے کیونکہ اس سے پہلے شمالی کوریا کے ساتھ گفت و شنید کے حوالے سے افزائشی اور مرحلہ وار طریق کار ناکام ہو چکے ہیں۔ ہم سب سے پہلے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا ٹھوس انداز میں خاتمہ چاہتے ہیں اور جوہری اسلحہ ختم ہونے تک اس کے خلاف دباؤ بڑھانے کی عالمی مہم جاری رہے گی۔

یہی وہ اہم نکات ہیں جن کا میں نے تذکرہ کرنا تھا۔

سوال: کیا ہم شمالی کوریا کے موضوع سے بات شروع کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف دباؤ بڑھانے کی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہاں آخری جوہری ہتھیار یا تنصیب کا خاتمہ نہیں ہو جاتا؟ ذرا وضاحت کیجیے کہ آپ کی بات کا کیا مفہوم ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: شمالی کوریا کے پاس جوہری اور میزائل پروگرام کے ذریعے امریکہ کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت کے خاتمے کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کے مقاصد حاصل کرنے کی غرض سے ہم دو طریقوں سے کام لے رہے ہیں۔ ان میں ایک اس پر دباؤ ڈالنے کی عالمی مہم ہے اور دوسرا طریقہ گفت و شنید ہے۔ میں شمالی کوریا کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے پہلے کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ ماضی میں ایسا ہوا کہ بات چیت کا ماحول بہتر بنانے کے لیے شمالی کوریا پر دباؤ کم کیا جاتا رہا۔ ہم یہ غلطی نہیں دہرائیں گے۔

سوال: مگر آپ نے خاص طور پر شمالی کوریا کی امریکہ کے لیے خطرہ بننے کی اہلیت سے نمٹنے کی بات کی ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: اور ہمارے اتحادیوں کے لیے بھی۔

سوال: اوہ، اور، اچھا ٹھیک ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: معذرت، جی۔

سوال: تو ‘این ایچ کے’ میں میرے ساتھی (ناقابل سماعت) یہ بات سننا چاہتے ہیں۔

سوال: کیا مجھے اس نکتے پر سوال کی اجازت ہے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: جی بات کیجیے۔

سوال: آپ نے کہا کہ سب سے پہلے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کا ٹھوس انداز میں خاتمہ ہو گا۔ کیا آپ کو شمالی کوریا سے یہی توقع ہے اور کیا امریکہ اور شمالی کوریا میں ہونے والی کانفرنس کے حوالے سے اسی بات کی پیش گوئی کی جا رہی ہے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: میں کسی طرح کی پیش گوئیاں کرنے کے بجائے یہ کہوں گا کہ ہم ماضی کی غلطیاں نہ دہرانے کے حوالے سے خاصے محتاط ہیں اور ہم شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی عالمی مہم میں نرمی نہیں لائیں گے جبکہ تزویراتی تحمل کی حکمت عملی جاری نہیں رکھی جائے گی۔

سوال: کم جانگ ان نے اپنے بیان میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے مسئلے پر بات نہیں کی۔ اس پر جاپان کو تشویش ہے۔ کیا امریکہ کو بھی اس پر کوئی تشویش ہے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: جی، جی بالکل ہے۔

سوال: آپ اس سلسلے میں انہیں کیا کہہ رہے ہیں؟

اعلیٰ انتظامی افسر: ہم نے جزیرہ نما کوریا کو مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ انداز میں جوہری اسلحے سے پاک کرنے کی بات کی ہے۔ بین البراعظمی بلسٹک میزائل پروگرام (آئی سی بی ایم) کے ساتھ عسکری جوہری پروگرام بھی ہوتا ہے۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ چنانچہ ہمیں میزائل پروگرام پر بھی بے حد تشویش ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جوہری اور ‘آئی سی بی ایم’ پروگرام لازمی طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں۔

سوال: کیا آپ نے کانفرنس کا مقام طے کر لیا ہے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: اس پر کوئی بات نہیں ہو گی۔

سوال: کیا اب ہم روس کے موضوع پر آ سکتے ہیں؟ آپ نے جی 7 ممالک میں اتحاد و اتفاق کی بات کی ہے کہ جی 7 میں روس کے ضرررساں رویے کے خلاف اتحاد پایا گیا۔

اعلیٰ انتظامی افسر: جی۔

سوال: کیا آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ اجلاس میں روس کے خلاف کڑی بات کی جائے گی؟

اعلیٰ انتظامی افسر: اجلاس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں روس کے حوالے سے بات شامل ہو گی۔

سوال: مجھے جنیوا عمل کے حوالے سے خاص طور پر ایک اور سوال کرنا ہے۔ امریکی انتظامیہ میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کو جنیوا عمل پر ازسرنو غور کرنا چاہیے یا اسے اس انداز میں بہتر بنانا ہو گا جس کے نتیجے میں اس عمل سے واقعتاً مسئلے کا حل برآمد ہو سکے۔ کیا اس پر بھی کسی طرح کی کوئی بات ہوئی؟ یا اتحادیوں کی جانب سے کچھ ایسے دیگر راستے بھی سامنے آئے جن سے اس مقصد میں مدد ملتی ہو؟

اعلیٰ انتظامی افسر: اس حوالے سے میں یہ کہوں گا کہ سٹیفن ڈی مسٹورا کو تاحال جی7 کی موثر حمایت حاصل ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلے کے سیاسی حل کی جانب تیزی سے بڑھنے کے لیے جنیوا عمل ہی بہترین راستہ ہے۔

سوال: کیا؟ (قہقہہ)

سوال: مگر یوں دکھائی دیتا ہے جیسے اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اس کے مقابلے میں استانہ میں ہونے والی بات چیت میں کم از کم ملاقاتیں تو ہوئی تھیں اور کچھ نہ کچھ پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔ استانہ میں کچھ نہ کچھ ہوتا دکھائی دیتا ہے کیا اس کے مقابلے میں جنیوا عمل میں کوئی جان ہے؟

نگران: مگر کیرول، یہ بھی دیکھیے کہ استانہ میں کون ہے اور جنیوا عمل کا حصہ کون ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: بالکل، دونوں میں بہت فرق ہے۔ اس معاملے کا تعلق اس بات سے ہے کہ کہاں کون کون لوگ بیٹھے ہیں اور جنیوا میں وہ لوگ ہیں جنہیں وہاں ہونا چاہیے۔

نگران: (اعلیٰ انتظامی افسر) ۔۔۔

سوال: آپ نے کہا کہ ان علاقوں میں تعمیرنو کا کام نہیں ہو گا جو ۔۔۔۔

نگران: ٹھہریے، انتظار کیجیے۔

سوال: معذرت۔

نگران: مگر (اعلیٰ انتظامی افسر) اور میں نیچے یہ بات کر رہے تھے، اگر مجھ سے غلطی ہو تو درست کیجیے، میں کچھ دیر پہلے ٹام شینن سے بات کر رہا تھا کہ دنیا جانتی ہے جنیوا ہی آگے بڑھنے کی درست راہ ہے خواہ ابھی تک اس حوالے سے اتنی پیش رفت نہیں ہوئی جتنی ۔۔۔۔

سوال: جی

نگران: جتنی پیش رفت ہونا چاہیے تھی، مگر استانہ اور سوچی میں ہونے والی بات چیت سے کچھ نہیں نکلا۔ لہٰذا جنیوا عمل ہی واحد راستہ ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: عالمی برادری نے اقوام متحدہ کو شامی سیاسی عمل میں مرکزی کردار سونپا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

سوال: مگر سوال یہ ہے کہ آیا آپ سمجھتے ہیں شام میں گزشتہ سات برس کے دوران رونما ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے یہ اب بھی کارآمد ہے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: میں یہ کہوں گا کہ کسی بھی خانہ جنگی سے برآمد ہونے والے سیاسی عمل میں بہت سی اونچ نیچ دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس معاملے میں سیاسی پیش رفت کے لیے فی الوقت جنیوا عمل ہی بنیادی راستہ ہے۔

سوال: اس کے لیے آپ کو روس کے ساتھ بار بار بات چیت کی ضرورت ہے۔ کیا مستقبل قریب میں ایسا ہو گا؟

نگران: معذرت چاہتا ہوں، آپ کا سوال کیا تھا؟

سوال: اس مقصد کے لیے امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کو روس کے ساتھ باربار گفت وشنید کی ضرورت ہے۔ کیا مستقبل میں ایسا ہونے جا رہا ہے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: مگر ہم نے روس کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ اگر آپ ہینوئی میں جاری ہونے والے بیان کو دیکھیں تو روسیوں نے اس امر کی توثیق کی ہے کہ جنیوا ایک سیاسی راہ ہے۔ انہوں سوچی اور استانہ میں بھی اس حوالے سے کام کیا مگر وہاں ہونے والی بات چیت کو اتنی حمایت نہیں ملی جتنی جنیوا عمل کو حاصل ہے۔ ان دونوں میں بہت فرق ہے اور ہم نہیں سمجھتے کہ فی الحال اس میں کوئی تبدیلی کرنا بہتر ہو گا۔

سوال: جب آپ یہ کہتے ہیں کہ جو علاقے اسد حکومت کے زیرکنٹرول ہیں وہاں تعمیرنو کے لیے کوئی رقم نہیں دی جائے گی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو علاقے اسد کے زیرتسلط نہیں ہیں وہاں تعمیرنو کے لیے فی الوقت کوئی رقم مختص کی جا چکی ہے یا ایسا کرنے پر غور ہو رہا ہے؟

نگران: واضح رہے کہ یہ استحکام کا معاملہ ہے جو تعمیرنو سے مختلف ہے۔

سوال: ٹھیک ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: یہ کتنی ہے؟ دو سو اور ۔۔۔۔

نگران: یہ ابھی دی جانا ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: یہ 200 بلین ڈالر ہیں۔

سوال: دو سو ملین۔

سوال: ملین۔

سوال: اس کا اعلان فروری میں ہوا تھا۔

اعلیٰ انتظامی افسر: معذرت چاہتا ہوں۔ یہ دو سو ملین ڈالر ہیں۔ اس حوالے سے جائزہ لیتے ہوئے ہم ایسے علاقوں میں مالی معاونت نہیں کرنا چاہتے جو اسد حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ ہم نے پہلے بھی یہ کہا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس حوالے سے مزید کیا کہنا ہے۔

سوال: ٹھیک ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آپ کیا بات پوچھ رہے ہیں۔

سوال: اچھا، اس وقت آپ کسی طرح کی مالی معاونت نہیں کر رہے، تو اسے دوسرے علاقوں میں روکنے کی دھمکی ۔۔۔

اعلیٰ انتظامی افسر: نہیں، میں نے یہ کہا ہے کہ ہم اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا اہم ہے اور سیاسی عمل کی رفتار تیز کرنے میں بھی اس کا کردار ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ۔۔۔۔

سوال: اگر کسی علاقے کو تعمیرنو کے ضمن میں مالی معاونت دی جانا ہو تو کیا وہاں سے یہ یقین دہانی درکار ہو گی کہ یہ رقم صرف ہونے کے بعد وہ علاقہ اسد حکومت کے ہاتھ میں نہیں جانا چاہیے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: یہ ایک مفروضہ ہے۔ اس وقت میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ہم ایسے علاقوں میں تعمیرنو کا کام نہیں کرنا چاہتے جن پر اسد حکومت کی عملداری ہے۔

سوال: تاہم اگر آپ نے کسی ایسے علاقے میں تعمیرنو کا کام کرنا ہے جو فرض کیجیے ‘ایس ڈی ایف’ کے کنٹرول میں ہے اور بعد میں وہ دمشق میں قائم مرکزی حکومت سے کوئی معاہدہ کر لیتے ہیں تو ۔۔۔۔

اعلیٰ انتظامی افسر: یہ مفروضوں پر مبنی بات ہے۔ میں یہ بتا رہا ہوں کہ اس وقت ہماری پالیسی کیا ہے۔

سوال: (اعلیٰ انتظامی افسر) روس کے ساتھ کسی طرح کے تعاون کا امکان باقی رکھنے کے لیے کیا بات چیت ہوئی؟ تاکہ روس کو مطلق طور سے الگ کرنے کے بجائے اس کے ساتھ کسی طرح کی بات چیت جاری رکھی جائے تاکہ آپ ۔۔۔

اعلیٰ انتظامی افسر: جی۔

سوال: ۔۔۔ تاکہ آپ شام کے معاملے پر ان سے بات کر سکیں۔ اور آپ ۔۔۔

اعلیٰ انتظامی افسر: ہم روس کے ضرررساں رویے اور دنیا کے ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں پر اس کا احتساب کر رہے ہیں تاہم اس کے ساتھ بات چیت کا دروازہ بھی کھلا ہے۔

سوال: انہیں کیا کرنا ہو گا ۔۔۔ کیسی بات چیت ۔۔۔

اعلیٰ انتظامی افسر: روس جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہو گا۔

نگران: یاد دلاتے چلیں کہ شام کے جنوب مغربی علاقے میں جنگ بندی تاحال قائم ہے۔ یہ گزشتہ برس جون یا جولائی سے چلی آ رہی ہے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: یہ درست ہے۔ یہ طویل ترین جنگ بندی ہے۔

سوال: کیا اجلاس میں دوما کے معاملے پر بھی خاصی بات چیت ہوئی اور کیا روسیوں اور شامیوں نے علاقے کو اچھی طرح صاف کر دیا ہے تاکہ آپ کو وہاں سے کچھ نہ مل سکے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: میں سمجھتا ہوں کہ بات چیت کے بیشتر حصے میں شام میں اتحادیوں کے حملے کی اہمیت پر بات ہوئی جس کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف ازسرنو رکاوٹ کھڑی کرنا تھا۔ یہ کام ماضی میں ہو جانا چاہیے تھا مگر گزشتہ ایک سالہ عرصے میں دو مرتبہ ہو ا ہے۔

سوال: جب آپ نے آغاز میں یہ کہا کہ یہ محض ایک اقدام نہیں ہے تو کیا آپ یہ اختیار و استحقاق محفوظ کر رہے ہیں کہ اگر کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے تو آپ دوبارہ یہی اقدام کریں گے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: جی ہاں۔

سوال: یا اس حوالے سے کوئی اور بات بھی ہے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: نہیں، نہیں، نہیں، بس یہی بات ہے۔

نگران: ہمیں مزید ایک منٹ میں یہ بات چیت ختم کرنا ہے۔

سوال: وینزویلا؟

اعلیٰ انتظامی افسر: وینزویلا، جی، اعلامیے میں وینزویلا کا تذکرہ بھی ہو گا۔ ہم نے اس پر بات چیت کی ہے۔ یہ موضوع بھی اعلامیے میں شامل ہو گا۔

سوال: کیا آپ پابندیوں کے ذریعے مادورو پر دباؤ جاری رکھیں گے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: جی ہاں۔

سوال: کیا آپ کسی طرح کا کوئی سیاسی حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا انتخابات کا انتظار ہو رہا ہے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: جیسا کہ آپ جانتے ہیں، نائب صدر نے حال ہی میں براعظم ہائے امریکہ کے بارے میں کانفرنس میں شرکت کے لیے لیما کا دورہ کیا تھا اور اس کانفرنس میں بھی وینزویلا کے مسئلے پر ترجیحی بنیاد پر بات کی گئی۔ اعلامیے کا ایک حصہ وینزویلا سے متعلق ہے۔

سوال: جی۔

اعلیٰ انتظامی افسر: مجھے یاد نہیں پڑتا کہ یہ کہاں ہے۔ دیکھیں یہ مجھے یاد آتا ہے یا نہیں۔

سوال: ٹھیک ہے، آپ اسے ہمیں ای میل کر سکتے ہیں اور ہم ۔۔۔

سوال: ٹھیک ہے۔

(قہقہہ)

سوال: ہم دیکھیں گے (ناقابل سماعت)۔ (قہقہہ)

اعلیٰ انتظامی افسر: معذرت چاہتا ہوں، مجھے یاد نہیں کہ یہ کہاں ہے۔ یہ ۔۔۔

سوال: ٹھیک ہے۔ مگر کیا اس میں یہ بات ہو گی؟

اعلیٰ انتظامی افسر: جی، یہ ایجنڈے میں شامل تھا۔

سوال: اگر یہ ایجنڈے میں ہے تو اس کامطلب یہ ہوا کہ ۔۔۔

اعلیٰ انتظامی افسر: جی، یہ معاملہ ایجنڈے میں شامل تھا۔

سوال: مجھے جلدی سے ایک سوال کرنا ہے۔ آپ نے آج صبح کہا کہ آپ ایران اور ضمنی معاہدے کی صورتحال پر بھی بات کریں گے۔

اعلیٰ انتظامی افسر: جی۔

سوال: کیا ایران کے حوالے سے کوئی پیش رفت ہوئی ہے؟ کیا آپ نے کوئی ایسی بات سنی جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ اس ضمن میں کوئی پیشرفت ہوئی یا ہونے کو ہے؟

اعلیٰ انتظامی افسر: جی 7 کے وزرائے خارجہ نے ایران کے ضررساں طرزہائے عمل پر بات چیت کی اور اس دوران اس کا بلسٹک میزائل پروگرام بھی زیربحث آیا اور اسے ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ اس موقع پر ایرانی جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) پر بھی بات ہوئی جبکہ ای3 اور امریکہ کی جانب سے ضمنی معاہدے کے لیے کوششیں بھی زیربحث آئیں۔

چار فریقی اجلاس کا نیا شیڈول ترتیب دینے کے حوالے سے کوئی کوششیں ہو رہی ہیں؟

اعلیٰ انتظامی افسر: مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے۔

نگران: آپ کا سوال کیا تھا؟

اعلیٰ انتظامی افسر: انہوں نے پوچھا ہے کہ آیا چار فریقی اجلاس کا نیا شیڈول ترتیب دینے کے لیے کوئی کوششیں ہو رہی ہیں جبکہ میں اس بارے میں نہیں جانتا۔

نگران: ہم اس حوالے سے ان کی بات کے منتظر ہیں۔

اعلیٰ انتظامی افسر: ہم انتظار کر رہے ہیں۔

سوال: آپ کے خیال میں ایرانی جوہری معاہدے کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے میکخواں کا کل امریکہ میں سرکاری دورہ کتنا اہم ہو گا؟

اعلیٰ انتظامی افسر: چونکہ فرانس ضمنی معاہدے کے لیے ہونے والی بات چیت کا حصہ ہے اس لیے صدر ٹرمپ اور صدر میکخواں ایرانی جوہری پروگرام پر بھی بات چیت کریں گے تاہم اس دوران مشرق وسطیٰ میں ایران کے وسیع تر تخریبی اقدامات بھی زیربحث آئیں گے۔

سوال: یوں لگتا ہےکہ آپ لوگوں نے سارا دن وہی باتیں دہرائی ہیں جن پر آپ طویل عرصہ سے قائم ہیں۔ کیا کوئی نئی پیش رفت، نئی تبدیلی بھی رونما ہوئی یا نہیں۔

اعلیٰ انتظامی افسر: مشرکہ اعلامیے کا یہی مقصد ہے کہ آپ کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے۔ میں اعلامیہ جاری ہونے سے پہلے اس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ میں آپ کو بس اتنا ہی بتا رہا ہوں کہ آج کیا بات چیت ہوئی اور اس حوالے سے کسی اعلان کے لیے اعلامیہ ہی بہترین ذریعہ ہے۔

نگران: خواتین و حضرات، اب ہمیں اپنی بات ختم کرنا ہے۔

سوال: جب ہم ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے یورپی سفارتکاروں سے بات کرتے ہیں تو وہ یہ کہتے معلوم ہوتے ہیں کہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ ان مذاکرات میں صدر ٹرمپ کس چیز سے مطمئن ہوں گے۔ کیاآپ اس بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟

اعلیٰ انتظامی افسر: 12 جنوری کو صدر نے واضح کیا تھا کہ وہ ہمارے یورپی اتحادیوں کے ساتھ ایران کے حوالے سے ضمنی معاہدہ چاہتے ہیں اور ہم گزشتہ چند ماہ سے اس پر کام کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے صدر کے سامنے بہت سے امکانات پیش کیے جائیں گے تاکہ وہ کوئی فیصلہ لے سکیں۔

سوال: اس کا مطلب یہ ہوا کہ فی الوقت ہمیں اس بارے میں کوئی بات پتا نہیں چلے گی۔ تین ہفتے باقی ہیں ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اب اتنا وقت ہے کہ ۔۔۔۔

اعلیٰ انتظامی افسر: اس بارے میں کچھ کہنا خاصا قبل ازوقت ہو گا۔

سوال: وقت دینے کا شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں