rss

راخائن ریاست کے بحران میں امریکی انسانی امداد

English English, हिन्दी हिन्दी, العربية العربية

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
23 اپریل 2018

 

آج قائم مقام امریکی وزیرخارجہ جان جے سلوین نے راخائن ریاست سے گھربار چھوڑ کر نکلنے والے غیرمحفوظ لوگوں کے لیے اضافی انسانی امداد کی مد میں 50 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح اگست 2017 کے بعد برما اور بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال میں امریکی امداد کا حجم 163 ملین ڈالر سے زیادہ ہو گیا ہے جبکہ مالی سال 2017 کے آغاز کے بعد برما میں اور وہاں سے بے گھر ہونے والوں کے لیے دی گئی مجموعی امدادی رقم 255 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ قائم مقام وزیر نے ٹورنٹو میں ہونے والی جی 7 کانفرنس میں اس نئی امداد کا اعلان کیا جہاں انہوں نے جی 7 کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں بشمول راخائن ریاست میں ہونے والے مظالم کی مذمت کی۔

اگست سے اب تک برما کی راخائن ریاست میں تشدد سے جان بچا کر نکلنے والوں کی تعداد قریباً سات لاکھ ہو چکی ہے جن میں بیشتر روہنگیا خواتین اور بچے ہیں۔ اس طرح بنگلہ دیش میں پناہ گزین مہاجرین کی مجموعی تعداد قریباً دس لاکھ تک جا پہنچی ہے۔

امریکہ زندگیاں بچانے کے لیے امداد کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے جس سے مہاجرین اور بنگلہ دیش میں ان کی میزبانی کرنے والوں کو اس بحران سے متاثرہ لوگوں کے لیے تحفظ، ہنگامی پناہ، پانی، نکاسی آب، صحت عامہ اور نفسیاتی معاونت کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس امداد کے ذریعے متاثرین کو آنے والے مون سون اور طوفانی موسم سے نمٹنے کی تیاریوں میں بھی مدد ملے گی جس سے جانی نقصان روکا جا سکے گا اور پناہ گزینوں کی اہم خدمات تک رسائی ممکن بنائی جائے گی۔

ہم اس انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فیاضانہ کردار پر بنگلہ دیشی حکومت کی تعریف کرتے ہیں اور ضرورت مند لوگوں تک امداد کی پہنچ یقینی بنانے کے لیے جاری کوششوں پر اس کی ستائش کرتے ہیں۔ ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس بحران کے حل، برما میں تشدد کے خاتمے اور قانون کی عملداری بحال کرنے، متاثرہ علاقوں تک امدادی اداروں اور میڈیا کی رسائی ممکن بنانے، گھروں کو واپسی کے خواہش مندوں کی محفوظ اور باوقار واپسی کی ضمانت دینے اور راخائن ریاست میں بحران کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے تعمیری کردار ادا کریں۔ اس مقصد کے لیے ہم برما کی حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ راخائن ریاست کے حوالے سے 2017 میں بنائے گئے مشاورتی کمیشن کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کرے۔

یہ 50 ملین ڈالر امداد ہنگامی نوعیت کے اس بحران میں امریکی کانگریس کی جانب سے مضبوط دو فریقی معاونت کی عکاسی کرتی ہے جس پر ہم اس کے شکرگزار ہیں۔ ہم دوسرے امداد کنندگان سے بھی کہتے ہیں کہ وہ بحران سے متاثرہ لوگوں کے لیے درکار اضافی امداد کی فراہمی میں ہمارا ساتھ دیں۔

مزید معلومات کے لیے براہ مہربانی [email protected] پر رابطہ کیجیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں