rss

قائم مقام وزیر خارجہ جان جے سلوین کی میڈیا نمائندوں سے گفتگو

English English, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, العربية العربية

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
23 اپریل 2018
واشنگٹن ڈی سی

 
 

سوال: ٹھیک ہے۔ غلط معلومات، آپ جو اقدامات اٹھانے پر متفق ہوئے اور روسی پروپیگنڈے نیز غلط معلومات پھیلانے کے خلاف جی 7 میں جو اقدامات اٹھانے پر اتفاق پایا گیا ، ہم انہی کی بابت آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے آپ کے پاس اس مقصد کے لیے کوئی حقیقی ٹھوس منصوبہ موجود ہے۔

قائم مقام وزیر سلوین: غلط اطلاعات پھیلائے جانے اور پروپیگنڈے سے متعلق بہت سی بات چیت ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم جس لفظ پر متفق ہوئے وہ ‘غلط معلومات’ ہے ۔۔۔

یہی لفظ اعلامیے میں استعمال ہوا ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اس اعلامیے میں خاص طور پر روس کا نام نہیں لیا گیا تاہم اس بات چیت میں روس کا معاملہ ہی زیربحث آیا۔ آگے کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی حکومتوں، متعلقہ حکومتوں میں ماہرین کو اب اور جی 7 کانفرنس کے انعقاد کے درمیانی عرصہ میں اس تنظیم کے رہنماؤں کے لیے ایک تجویز تیار کرنے کو کہا ہے تاکہ اس مسئلے سے نمٹا جا سکے جس پر ہمارا اتفاق ہے کہ یہ ہمارے سیاسی نظاموں کے لیے خطرہ ہے۔

سوال: کیا آپ سن رہے ہیں کہ ہر ایک کو کسی حد تک اس کا تجربہ ہو رہا ہے؟

قائم مقام وزیر سلوین: ہر ایک کو کسی حد تک اس پر تشویش ہے۔ دوسرے کچھ، اٹلی میں حالیہ انتخابات کے بعد جب میں نے روم میں وہاں کے سرکاری حکام سے بات کی تو انہیں بھی اس پر تشویش تھی۔ وہ نہیں سمجھتے کہ انہیں اتنی سختی سے نشانہ بنایا گیا جتنا ممکنہ طور پر دوسری حکومتوں کو بنایا گیا ہو گا، اسی لیے ۔۔

جی۔ نہیں، میں نے یہ بات روم میں میڈیا سے کہی کہ انہیں اس پر تشویش ہے۔ انہیں خاص طور پر اپنے انتخابات میں روس کی مداخلت پر تشویش تھی۔ دوسرے ممالک جیسا کہ ہمارے ملک امریکہ کو روس کی جانب سے پھیلائی گئی معلومات اور غلط معلومات کا واضح تجربہ ہوا۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ اعلامیے میں خاص طور سے روس پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی۔ اس مسئلے کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے جس کی ہم نے نشاندہی کر لی ہے تاہم اس میں دیگر ذرائع کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے۔

یہ بات چیت روس پر مرتکز رہی۔

سوال: ایسے دیگر ذرائع کون سے ہیں؟

قائم مقام وزیر جان سلوین: ان میں ممکنہ طور پر شمالی کوریا یا دوسرے ممکنہ ضرر رساں اور غیرریاستی کردار ہو سکتے ہیں۔

سوال: ریکارڈ کے لیے یہ بات پوچھتے چلیں کہ آپ کو اپنے دور وزارت میں سب سے زیادہ کس بات پر فخر ہے؟ کیا آپ نئے آنے والے وزیر کو کوئی مشورہ دینا چاہیں گے؟

قائم مقام وزیر سلوین: مجھے کس بات پر سب سے زیادہ فخر ہے؟ میں نے کچھ نہیں کیا مگر دفتر خارجہ نے معاملات کو رواں رکھا۔ ہم نے وزیرخارجہ کی عدم موجودگی میں قائم مقام وزیر کے ہوتے جی 7 کے اس اجلاس میں شرکت کی اور براعظم ہائے امریکہ کی کانفرنس میں حصہ لیا۔ اگرچہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہم نے بہت اچھا کام کیا مگر ہم نے معاملات کو اکٹھا رکھا اور ہم نئے وزیر خارجہ کی تقرری کی توثیق کے بعد انہیں خارجہ اور سرکاری ملازمت میں ممتاز مردوخواتین سونپیں گے۔ لہٰذا میں وزیرخارجہ کی حیثیت سے ان کی قیادت میں امریکہ کے لیے ان لوگوں کا کام جاری رہنے کا متمنی ہوں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں