rss

قائم مقام وزیر خارجہ جان جے سلوین کی پریس کانفرنس

English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
ٹورنٹو، کینیڈا، 23 اپریل 2018

 

غیر مدون/مسودہ

قائم مقام وزیر سلوین: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ جی7 وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے ٹورنٹو آنا خوشی کی بات ہے۔ ٹورنٹو ایک خوبصورت شہر ہے (ناقابل سماعت) یہاں موسم دلکش ہے اور یونیورسٹی میں عمدہ سہولیات بہم پہنچائی گئی ہیں۔ میں یہاں اپنے میزبانوں کا بے حد مشکور ہوں۔ کینیڈا کی حکومت اور وزیرخارجہ فری لینڈ نے ہمارے لیے بہت زبردست پروگرام رکھا۔ چنانچہ امریکہ اور صدر ٹرمپ کی جانب سے میں کینیڈا، وزیراعظم ٹروڈو اور وزیرخارجہ فری لینڈ کے لیے مخلصانہ ستائش کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جی7 کی قیادت میں متحرک کردار ادا کیا۔

امریکہ ہمارے میزبان کینیڈا کی جانب سے سبھی کے لیے مزید پرامن اور محفوظ دنیا تعمیر کرنے کے عزم کی تہہ دل سے حمایت کرتا ہے۔ ہم ایسی تزویراتی شراکتوں کے ذریعے صنفی مساوات کو فروغ دینے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کینیڈا کی کوششوں کے معترف ہیں جن کا مقصد دنیا بھر میں خواتین کو درپیش مسائل پر قابو پانا ہے۔

گزشتہ چند روز میں ہماری بات چیت بے حد مفید رہی اور امریکہ ان تمام اہم مسائل پر اپنے جی7 شراکت داروں کے قریبی تعاون سے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے جن پر ہم نے گفت و شنید کی۔ اس کے ساتھ ہم اپنے رہنماؤں کی جانب سے اس بات چیت کو آگے بڑھانے کے منتظر ہیں جو جون میں جی7 رہنماؤں کی کانفرنس کے لیے چارلیووئی میں جمع ہوں گے۔

اس موقع پر جو مشترکہ ترجیحات زیربحث آئیں ان میں بین الاقوامی دہشت گردوں اور ان کی مدد کرنے والے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنے کا ہمارا مجموعی عزم بھی شامل ہے۔ اب جبکہ ہم عراق، شام، سائبر دنیا اور دوسرے ممالک میں داعش کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں تو ایسے میں ہم آرام سے بیٹھ کر یہ فرض نہیں کر سکتے کہ داعش کو شکست دے دی گئی ہے۔ ہمیں بہرصورت چوکنا رہنا ہو گا۔

ہم شمالی کوریا کی جانب سے جاری غیرقانونی جوہری اور بلسٹک میزائل پروگرام کے خلاف بھی بدستور متحد ہیں۔ ہم دنیا بھر میں تمام ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ عملی قدم اٹھاتے ہوئے یہ پیغام پیانگ یانگ تک پہنچائیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا سختی سے نفاذ ممکن بنائیں۔ شمالی کوریا کی جانب سے مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ طور سے جوہری ہتھیار ختم کرنے تک اس پر سفارتی اور معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے عالمی اتحاد لازمی حیثیت رکھتا ہے۔

جی 7 ممالک ایران کے لیے بھی ہمارے پیغام کی توثیق کرتے ہیں جو یہ ہے کہ اسے عالمی اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور جوہری معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر پورا اترنا چاہیے۔ امریکہ اپنے تمام شراکت داروں سے کہتا ہے کہ وہ خطے میں ایران کی تخریبی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے اور ایرانی حکومت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانے کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کریں۔ ایسے اقدامات میں دہشت گرد تنظیموں کی مدد، سائبر حملے، جہازرانی کے شعبے میں عالمی مفادات کو نقصان پہنچنا اور انسانی حقوق کی ناواجب پامالیوں کا ارتکاب شامل ہیں۔

شام اس گفت وشنید کا ایک اور نمایاں موضوع تھا۔ 13 اپریل کو امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے شام میں تین اہداف پر حملے کیے۔ ہمارے اتحادیوں کے تعاون سے کیے جانے والے یہ حملے شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے جواب میں کیے گئے تھے۔ ان ہتھیاروں کے استعمال سے سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ شامی حکومت کی جانب سے حالیہ کیمیائی حملے کے بعد سامنے آنے والی مردہ اور مرتے ہوئے بچوں کی تصاویر دنیا کی مہذب اقوام سے عملی کارروائی کا تقاضا کرتی ہیں۔ امریکہ اور ہمارے اہم اتحادیوں کا ردعمل محض اسد اور مظالم کا ارتکاب کرنے والے شامی حکومت کے دوسرے ارکان کا احتساب ہی نہیں تھا بلکہ ہم مستقبل میں شامی حکومت کی جانب سے ایسے ہتھیار استعمال کرنے کی اہلیت کا خاتمہ اور ان ہتھیاروں کا استعمال بھی روکنا چاہتے تھے۔

ہم یہ امر یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کینہ پرور حکومتیں اور دہشت گرد اس پیغام کو سمجھ جائیں۔ ہم داعش کے خلاف جنگ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور اس کے بقیہ ٹھکانے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ امریکہ اس وقت تک شام میں موجود رہے گا جب تک داعش اور اس کی نام نہاد خلافت کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ ہم یہ امر یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے کہ ہمارے علاقائی شراکت داروں اور اتحادیوں کی جانب سے عالمی فورسز اس جنگ میں حاصل کیے گئے فوائد کو مستحکم کریں، آزاد کرائے گئے علاقوں میں استحکام لائیں اور داعش کی واپسی کو روکیں۔ ہم ایسا خلا نہیں چھوڑیں گے جس سے اسد حکومت اور اس کے حامیوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی مطابقت سے جنیوا سیاسی عمل کو تقویت پہنچانے کے لیے بھی اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر چلیں گے اور شام میں امداد و استحکام کے ضمن میں فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار وسائل تیار کیے جائیں گے۔ ہمیں افواج، سازوسامان اور رقم کے لیے علاقائی شراکت داروں اور اتحادیوں سے مزید تعاون درکار ہو گا تاکہ شام میں کی جانے والی کوششیں برقرار رہیں اور آزاد کرائے گئے علاقوں کو مستحکم بنایا جا سکے۔

سیاسی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکہ یہ امر یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ تمام شامی بشمول سنی ارب، کرد، عیسائی، ترکمان اور شمال مشرقی شام میں رہنے والی دوسری اقلیتوں کو مذاکراتی میز پر مکمل نمائندگی ملے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی مناسبت سے اپنے مستقبل کی بابت رائے دینے کا موقع میسر آئے ۔

جی7 ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ روس کو امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ ترک کرتے ہوئے اپنے ان وعدوں کو پورا کرنا چاہیے جن کی تکمیل کے لیے وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2401 کی رو سے پابند ہےاور اسے اسد حکومت کو بھی یہی کچھ کرنے کو کہنا چاہیے۔ روس کو شام میں تعمیری شراکت دار بننا ہو گا وگرنہ اس کا احتساب عمل میں آئے گا۔ ہم یوکرائن میں سرگرمیوں پر روس سے سے جواب طلبی کے لیے بھی اپنے عزم میں متحد ہیں۔ جی7 ممالک روس سے کہتے ہیں کہ وہ منسک معاہدے پر عملدرآمد کرے تاکہ تشدد میں کمی واقع ہو اور کرائمیا کا قبضہ یوکرائن کو واپس دیا جائے۔

میں نے مجموعی خدشات کے حامل جن مسائل کا خاکہ بیان کیا ان کے علاوہ گزشتہ چند روز میں ہم نے وینزویلا اور لیبیا کے حوالے سے اپنی یکجہتی اور ایسے بہت سے دوسرے اہم امور پر بھی بات کی جو عالمی ایجنڈے پر سرفہرست ہیں۔ ان میں برما کا انسانی بحران بھی شامل ہے۔ اگست سے اب تک برما سے قریباً سات لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جن میں بیشتر تعداد روہنگیا عورتوں اور بچوں کی ہے۔ اس طرح بنگلہ دیش میں مقیم مہاجرین کی تعداد قریباً دس لاکھ تک جا پہنچی ہے۔

اس خوفناک صورتحال پر میں آج میں یہ اعلان کر رہا ہوں کہ ہم اپنے دفتر برائے آبادی، مہاجرین و مہاجرت کی جانب سے انسانی امداد کی مد میں اضافی 50 ملین ڈالر فراہم کر رہے ہیں جس کا مقصد بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے زیرقیادت مشترکہ ردعمل کے منصوبے کی معاونت ہے۔ اس طرح اگست 2017 سے اب تک برما کی راخائن ریاست اور بنگلہ دیش کے لیے امریکی امداد کا حجم 163 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور اکتوبر 2016 سے اب تک برما میں اور اس سے باہر بے گھر لوگوں کے لیے مجموعی امریکی امداد 225 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

اس امداد سے مہاجرین اور بنگلہ دیش میں ان کی میزبانی کرنے والوں کو بحران سے متاثرہ لوگوں کے لیے تحفظ، ہنگامی پناہ، پانی، نکاسی آب، صحت عامہ اور نفسیاتی معاونت کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس امداد کے ذریعے متاثرین کو آنے والے مون سون اور طوفانی موسم سے نمٹنے کی تیاریوں میں بھی مدد ملے گی جس سے جانی نقصان روکا جا سکے گا اور پناہ گزینوں کی اہم خدمات تک رسائی ممکن بنائی جائے گی۔ ہم دیگر عطیہ دہندگان سے بھی کہتے ہیں کہ وہ بحران سے متاثرہ لوگوں کے لیے درکار اضافی امداد کی فراہمی میں ہمارا ساتھ دیں۔ جی7 وزارتی اجلاس میں زیربحث آنے والے ان موضوعات کی بابت بیان کے بعد اب میں آپ کے سوالات کا منتظر ہوں۔

ہیدا نوئرٹ: شکریہ جناب، اس کے ساتھ ہی ہم سب سے پہلے اے ایف پی کے ڈیو کلارک کا سوال لیں گے۔ جی ڈیو بات کیجیے۔

سوال: شکریہ، آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ نے بتایا کہ جی7 ارکان میں ایران کو جوہری معاہدے کے تحت اس کے وعدوں کا پابند بنانے کی اہمیت پر اتفاق پایا گیا۔ کیا آپ اپنے اتحادیوں کو یہ یقین دہانی کرانے میں کامیاب رہے کہ امریکہ اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا اور خاص طور پر 12 مئی کے بعد جوہری پروگرام سے متعلق پابندیوں میں چھوٹ دینے کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔ شکریہ۔

قائم مقام وزیر سلوین: شکریہ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہم اس موضوع پر اپنے ای 3 شراکت داروں سے بات چیت کرتے چلے آئے ہیں۔ امریکہ کو ایران اور اس کے بلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں یمن، شام اور دیگر علاقوں میں اس کے تخریبی اور نقصان دہ اثرورسوخ نیز جوہری معاہدے بشمول اس کی اختتامی مدت کے حوالے سے نمایاں خدشات ہیں۔

صدر ٹرمپ کو اس پر تشویش ہے، انہیں ایران کے ضرررساں طرزعمل پر گہری تشویش ہے۔ جوہری معاہدے کے حوالے سے ان کا خدشہ عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے۔ کوئی بھی ایران کو جوہری ہتھیاروں سے مسلح نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس تمام عمل میں صدر ٹرمپ کا ہدف یہ ہے کہ اگر جوہری معاہدہ مضبوط ہو سکتا ہے تو اسے مضبوط بنایا جائے تاکہ امریکہ اور امریکیوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے جنہیں گزشتہ 40 برس سے ایرانی حکومت کی جانب سے خطرات کا سامنا ہے۔

اس معاملے سے میرا خاندان بھی متاثر ہوا ہے۔ میرے چچا ایران میں آخری امریکی سفیر تھے۔ انہوں نے4 نومبر 1979 کو اپنے عملے کو یرغمال بنائے جانے سے کچھ عرصہ پہلے تہران چھوڑا تھا۔ اس واقعے میں ایرانی حکومت کی جانب سے 444 دن تک تمام عالمی اصولوں اور بنیادی انسانی وقار کی پامالی کی گئی تھی۔ چنانچہ ہم ایران سے درپیش مسائل اور اس کے تخریبی و ضرررساں اثرورسوخ سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور صدر نے اس مسئلے کے حل کا عزم کر رکھا ہے۔ یہاں جی7 وزارتی اجلاس میں ہم نے اس پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی ہے۔

ہیدا نوئرٹ: شکریہ۔ ہمارا اگلا سوال کینیڈین پریس سے مائیک بلینچ فیلڈ کریں گے۔ ہیلو مائیک۔

سوال: جناب وزیر، آج صبح ہم نے بورس جانسن اور کرسٹیا فری لینڈ سے ان کوششوں کی بابت سنا جو ہمارے جمہوری اداروں میں روس کی مداخلت روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ایک ورکنگ گروپ کی بات کی جو رہنماؤں کو رپورٹ کرے گا اور انہیں روسی اثر کے خلاف بولنے کے لیے کہے گا۔ آپ کے ملک میں روس سیاسی اعتبار سے ایک گرم موضوع ہے اور خاص طور پر مولر تحقیقات نے اسے اور بھی نمایاں کر دیا ہے۔ ایسے میں آپ کی حکومت جی7 کی اس جدوجہد کے ساتھ کس حد تک مخلص ہے اور اس بات کا کتنا امکان ہے کہ صدر ٹرمپ یہاں چارلیووئی میں روس سے جواب طلبی کے لیے جی 8، جی7 ممالک کے رہنماؤں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے؟

قائم مقام وزیر سلوین: یہاں آپ نے ایک حوالہ دیا، آپ نے جی8 کی بات کرتے ہوئے اپنی تصیح کی۔ اب یہ تنظیم جی8 نہیں رہی۔ اب یہ جی 7 ہے۔ ہم ہر طرح کے گھناؤنے طرزعمل سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں خاص طور پر جس کا ہم نے حال ہی میں روس کی جانب سے مشاہدہ کیا ہے، خواہ یہ سالسبری کا واقعہ ہو یا شام میں اسد حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی حمایت ہو۔

امریکہ نے اپنے اتحادیوں اور جی 7 شراکت داروں کے ساتھ روسی طرز عمل پر محض بیانات ہی نہیں دینا بلکہ ہم اس کے جواب میں ٹھوس اقدامات بھی کر چکے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہم نے غیراعلانیہ روسی انٹیلی جنس نمائندوں کی بڑی تعداد کو امریکہ سے نکالااور روسی حکومت اور اس کے اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں۔ چنانچہ ہم نے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہمیں جہاں کہیں بھی روس کی جانب سے ضرررساں طرزعمل دکھائی دیا ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جی7 اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

ہم ایسے معاملات میں روس کے ساتھ مل کر کام کے بھی خواہش مند ہیں جہاں ہمیں اس کی ضرورت ہے خواہ یہ استحکام کا معاملہ ہو یا ‘نیوسٹارٹ’ پر بات چیت ہو، آئی این ایف معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ ہو۔ دراصل یہ خلاف ورزی روس کی جانب سے ہوئی ہے۔ اس طرح ہمیں انسداد دہشت گردی کے معاملے سے بھی مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔ بہت سے معاملات ایسے ہیں جہاں ہمیں روس کے ساتھ بات چیت کی ضرورت ہے مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم عالمی اصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی روسی طرزعمل کا مقابلہ کرنے اور اس کے خلاف اقدامات سے باز آ جائیں گے۔ شکریہ۔

ہیدا نوئرٹ: شکریہ جناب، سبھی کا شکریہ۔

قائم مقام وزیر سلوین: شکریہ۔


اصل مواد دیکھیں: https://www.state.gov/s/d/2018/281135.htm
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں