rss

خارجہ امور کے دن پر وزیرخارجہ مائیک پومپیو کا خطاب

Português Português, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
4 مئی 2018
ڈین ایچیسن آڈیٹوریم
واشنگٹن ڈی سی

 

نائب وزیر شینن: خواتین و حضرات، خوش آمدید اور سہ پہر بخیر۔ آپ سب لوگوں سے دوبارہ ملاقات ہمارے لیے بے حد خوشی کا باعث ہے۔ آپ کا دن مصروف گزرا اور مجھے امید ہے کہ اس دوران ہونے والی بات چیت مفید رہی ہو گی اور آپ کو امریکی سفارت کاری کو درپیش بہت سے مسائل اور مواقع کی بابت جاننے کا موقع ملا ہو گا۔ اب آپ کے پاس ہمارے نئے وزیر خارجہ مائیک پومپئو سے ملنے اور ان کی بات سننے کا موقع ہے۔

وزیر پومپئو نے سرکاری ملازمت میں زبردست وقت گزارا ہے۔ اس دوران انہوں نے فوجی افسر، ایوان نمائندگان کے رکن اور حال ہی میں سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر کی حیثیت میں کام کیا۔ وہ بہترین فہم کے مالک ہیں، عالمگیر مسائل کی وسیع سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور مضبوط کردار کے حامل ہیں۔ انہوں نے وزیرخارجہ کی حیثیت سے کام شروع کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کیا اور عہدے پر تقرری کی توثیق ہوتے ہی نیٹو کے وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے براہ راست برسلز روانہ ہو گئے اور پھر سعودی عرب، اسرائیل اور اردن کا دورہ کیا۔ امور خارجہ کے دن پر وہ آپ سے ملنے بروقت واپس آ گئے ہیں (قہقہہ اور تالیاں)

لہٰذا خواتین و حضرات، امریکہ کے 70ویں وزیر خارجہ مائیک پومپئو کا خیرمقدم کرنے میں میرا ساتھ دیجیے۔ (تالیاں)

وزیرخارجہ پومپئو: شکریہ۔ آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔ یہاں کھڑے ہوئے میں حساب کتاب لگا رہا تھا۔ میں نے اس جگہ 12 ہزار سال کا تجربہ گنا۔ (قہقہہ)

میں کہوں گا کہ آج یہاں آپ کے ساتھ موجودگی میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ یہ خارجہ امور کا 53واں سالانہ دن ہے۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ ہم ملک کے لیے آپ کی خدمات نیز آپ اور آپ کے اہلخانہ کی جانب سے اس دوران دی جانے والی بہت سی قربانیوں کے مشکور ہیں تو یہاں موجود سبھی لوگ میرے مخاطب ہوتے ہیں۔

مجھے کنساس کے حوالے سے اقوال دہرانے کی عادت ہے۔ صدر آئزن ہاور کنساس سے تعلق رکھنے والے ایسے رہنما ہیں جن کا میں بے حد معترف ہوں۔ ایک مرتبہ دفتر خارجہ کے لوگوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا مجھے آپ لوگوں سے مل کر کچھ اور نہیں بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ‘ایک ہی خاندان کے فرد’ ہوں۔ مجھے یہ بیان نہایت موزوں دکھائی دیتا ہے۔ یہاں پہلے دن میرا گرم جوش خیرمقدم ہوا۔ یہ بہت زبردست ٹیم ہے۔ جب میں ہال میں آ رہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے یہاں اپنا کام کرنے کے لیے مدد درکار ہو گی۔

میں آج کے دن چند لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ان میں ہماری فیاض معاون، امریکی خارجہ ملازمت کی انجمن، ڈی اے سی او آر اور امریکی خارجہ ملازمت کی ‘سینئر لیونگ فاؤنڈیشن’ شامل ہیں۔ یہ سب کچھ ممکن کر دکھانے اور ہماری ٹیم کے لیے آپ کی مسلسل حمایت پر شکریہ۔ (تالیاں)

میں چند خاص لوگوں کا شکریہ ادا کرنا بلکہ انہیں مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔ میں اعزاز یافتگان کو مبارک باد دیتا ہوں۔ یہ ‘ڈی اے سی او آر’ خارجہ ملازمت کے کپ جیتنے والے سفیر ہنری ایلن ہومز ہیں۔ جناب سفیر، حکومت میں اور اس سے باہر ہماری کمیونٹی کی خدمت اور اپنی زندگی ہماری ٹیم کے رہنماؤں کی اگلی نسل تیار کرنے کے لیے وقف کرنے پر آپ کا شکریہ۔ ہم آج ڈائریکٹر جنرل کے سرکاری اور خارجہ ملازمت کے کپ جیتنے والے رچرڈ گرین اور سفری کرسٹی کینی کی کامیابی کا فخریہ اعلان کرتے ہیں۔

آپ سب نے مصروف دن گزارا ہے مگر یہ دن ایک حقیقی موقع بھی لاتا ہے، یہ ماضی کی کامیابیوں کا جائزہ لینے کا موقع ہے جن کی بدولت ہم نے دنیا میں خارجہ امور کے پیشہ ور لوگوں کا مضبوط اور متنوع دستہ تیار کیا ہے۔ تاہم یہ دن مستقبل کی بابت غوروفکر کا موقع بھی فراہم کرتا ہے اور اس عہدے پر اپنے پہلے دن میرے سامنے ماضی نہیں بلکہ مستقبل ہے۔ آپ سبھی جانتے ہیں کہ آج ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ میں اس کام میں نیا ہوں اور یہ میرا پہلا ہفہ ہے اس لیے میں آپ سے اس بابت بات کرنا چاہتا ہوں جہاں میرے خیال میں ہم جا رہے ہیں اور میں آپ سے اور اپنی خارجہ و سول ملازمت کی ٹیم سے اپنے عہد کی بابت بات چیت کا خواہش مند ہوں۔

تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ اگرچہ مجھے یہاں زیادہ دیر نہیں ہوئی تاہم میں جی داری، حب الوطنی اور آپ ساتھیوں کی فطرت، کردار اور لگن سے پہلے ہی واقف ہوں۔ مجھے کانگریس کے رکن کی حیثیت سے دفتر خارجہ کے دورے یاد ہیں جب میں نے یہاں کام کرنے والوں کو دن رات اپنی زندگیاں کام کے لیے وقف کیے دیکھا جو ہمارے مقاصد کی تکمیل کی خاطر اختتام ہفتہ پر بھی کام میں جتے ہوتے تھے۔ میں جانتا ہوں جب ہم چلے جاتے تھے تو وہ تب بھی کام میں مصروف رہتے تھے۔

اس دوران میں نے ایک بات یہ سیکھی کہ دفتر خارجہ کے ہیرو سامنے آئے بغیر دنیا بھر میں کڑے حالات میں باقاعدگی سے سخت محنت کرتے ہیں۔ چنانچہ میرے ہاتھ بلند کرنے اور حلف اٹھانے سے پہلے ہی دفتر خارجہ میری ناقابل یقین طور سے خدمت کر چکا تھا۔ درحقیقت اب اس گروہ میں شمولیت میرے لیے بے پایاں اعزاز کی بات ہے۔

یہ پرآشوب دور ہے۔ ہمیں مضبوط قیادت درکار ہے۔ ایسے میں یہ لازم ہے کہ ہماری ٹیم ہمیں درپیش خطرات کا ہمت اور طاقت سے مقابلہ کرے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ سبھی نے یہی کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ہماری ٹیم آنے والے دنوں میں ایسا ہی کرے گی۔

خوشی قسمتی سے ہمارے پاس ایسا صدر ہے جو توانا سفارت کاری پر بھی یقین رکھتا ہے اور اہم امریکی مفادات اور اقدار کو فروغ دینے اور انہیں مقدم رکھنے کے لیے قومی طاقت کے تمام ذرائع سے کام لیتا ہے۔

موثر اور مستقبل بین سفارت کاری سے ایک گولی چلائے بغیر تمام مسائل پر امن طور سے حل کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ہماری خارجہ حکمت عملی کو اصولوں پر استوار رہتے ہوئے عملی طور پر بھی افادیت کا حامل رہنا ہے جبکہ بنیادی آدرشوں اور اقدار سے مطابقت رکھتے ہوئے بدلتے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی مستعدی دکھانی ہے۔ میں نے کیولری کے نوجوان افسر کے طور پر ان اصولوں کے حوالے سے اپنے ملک کی طاقت اور عزم کا مشاہدہ کیا تھا۔ ٹام نے فوج میں میرے دور کا حوالہ دیا۔ اس دوران میں نے ان دستوں کی قیادت کی جو مشرقی جرمنی کی سرحد کے ساتھ آزادی اور اشتراکیت کی حدود پر گشت کرتے تھے۔ بعدازاں میں نے جرمنی اور چیکو سلواکیہ کی سرحد پر بھی خدمات انجام دیں۔ آج دنیا کو اس قوت اور اصولوں کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

ہمیں دنیا بھر میں آزادی، خودمختاری اور انسانی وقار کا یہ صدیوں پرانا مشن جاری رکھنا ہے جبکہ اس دوران اپنے ملک اور لوگوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہو گی۔

مجھے یاد ہے اس وقت ہم ‘آئرن کرٹن’ کے قریب ممکنہ جنگ کے لیے تیار تھے مگر سالہا سال درحقیقت کئی دہائیوں کی سفارت کاری نے مجھے اور میری ٹینک پلاٹون کو جنگ سے محفوظ رکھا۔

آج دنیا کے ہر کونے میں امریکی دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کے مردوخواتین امریکی مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ بہت سے مسائل سے نبردآزمائی لازم ہے۔ میرا مشن اپنی ٹیم کے ہر رکن کو اس مقصد کے حصول میں مدد دینا ہے۔

آج دنیا میں بہت سے مقامات پر مسائل کے حل میں سفارتی کوششوں سے مدد لی جا رہی ہے۔ آپ ان میں بعض معاملات کی بابت آگاہ ہوں گے۔ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بے پایاں سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ہمیں انہیں اس حد تک لانا ہے جہاں ہم کم جانگ ان کے جوہری اسلحے کے خطرے سے کامیاب طور پر نمٹ سکیں۔

ہم اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ بھی سفارتی بات چیت کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے ابتدائی چند روز، درحقیقت وزیرخارجہ کی حیثیت سے ابتدائی گھنٹے یورپی اتحادیوں کے ساتھ گفت و شنید میں گزارے۔ ہمیں اپنے اتحادیوں کا مضبوط ساتھ میسر ہے۔ یقیناً اس تعلق میں ناہموار صورتحال کا بھی سامنا ہوا اور بہت سے معاملات پر ہمارے مابین اختلافات نے جنم لیا۔ تاہم ان ممالک کی اقدار اور مفادات بھی ہم جیسے ہی ہیں اور ہم سب آگے بڑھنے کے لیے خوشحالی یقینی بنانے کی غرض سے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔

وہاں سے میں نے مشرق وسطیٰ کا سفر کیا۔ ہمیں شام، یمن اور خطے بھر میں ایران کے تخریبی طرزعمل کی روک تھام کے لیے مضبوط سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں جہادی دہشت اور ایسے مقامات سے ابھرنے والے خطرے سے نمٹنا ہے جہاں حکومت کی عملداری کمزور ہے۔ یہ تمام بہت بڑے مسائل ہیں مگر مجھے اعتماد ہے کہ ہماری ٹیم انہیں حل کرنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دینے اور سفارتی طریقوں سے کام لینے کی اہلیت رکھتی ہے۔

عموماً ہم لاطینی امریکہ کے حوالے سے زیادہ بات نہیں کرتے مگر جیسا کہ ہم اپنے قریب ایک ایسے ملک کو تباہ ہوتا دیکھ رہے ہیں جو کبھی خوشحال اور جمہوری ہوتا تھا تو ہمیں اس صورتحال سے بھی سفارتی طور سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ آج وینزویلا میں ایک آمر اپنی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اپنے لوگوں کو بھوکا مار رہا ہے۔ ہمیں انسانی ساختہ اس بحران کے نتیجے میں ایک بدعنوان حکومت سے بھاگ کر آنے والے وینزویلا کے لاکھوں لوگوں کی مدد کے لیے مضبوط دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کی ضرورت ہے۔ آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کام کرنے والے ہمارے سفارت کاروں اور خارجہ امور کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ہر انسان کے وقار میں اضافے کے لیے کام کریں تاکہ وہ آزادانہ طور سے زندگی کرنے اور اپنی پوری صلاحیتوں سے کام لینے کے قابل ہو سکے۔

53 برس قبل پہلی مرتبہ یہ تقریب منعقد ہونے کے بعد اب تک بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ تاہم مجھے یقین ہے کہ ایک چیز جو تبدیل نہیں ہوئی وہ امریکی سفارت کاروں کا کردار ہے۔ اس محکمے سے تعلق رکھنے والے مردوخواتین سے ہمیشہ بڑے کام لیے گئے ہیں۔ یہ ایسے بڑے کام ہیں جن کی بازگشت ان دیواروں سے اور ہمارے عظیم ملک کی تاریخ سے اب بھی سنائی دیتی ہے۔ انہی لوگوں نے 1979 میں ایرانی انقلاب کا جواب دیا، انہی لوگوں نے 1986 میں ریکجاوک میں ایک اہم کانفرنس منعقد کی، ہم لوگوں نے ہی پہلی خلیجی جنگ کے دوران شراکت داروں کا اتحاد بنایا اور میں جرمنی کے اتحاد کی بابت پہلے ہی بات کر چکا ہوں جس کے نتیجے میں ہم نے نو آزاد مرکزی اور مشرقی یورپ کی معاونت کی۔ ابھی بہت سی تاریخ بنائی جانا ہے۔ مجھے اس پر بات پر یقین ہے۔ یہ سب کچھ ان محنتی مردوخواتین کی بدولت ہو گا جن کی قیادت کے لیے مجھے منتخب کیا گیا ہے۔

میں تاریخ بنانے کے اس عمل میں یہاں موجود ہر ایک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک غیرمعمولی ادارہ ہے۔ میں نے پہلے ہفتے چند افسروں سے ملاقات کی ہے۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ آپ نے انہیں اچھی طرح تیار کیا ہے۔ میں آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں آپ کے خیالات، نکتہ ہائے نظر اور مہارتوں کا خیرمقدم کروں گا اور میں جانتا ہوں کہ ہم سب مل کر اپنے ملک کے لیے بہت بڑے کام کر سکتے ہیں۔

آج کا دن اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ ہمیں امریکہ کی جانب سے بیرون ملک رہنے اور کام کرنے والے امریکیوں کی قربانیوں کو یاد کرنے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کاموقع ملا ہے۔

میرے بیان کے بعد ان لوگوں کی یاد میں ہونے والی تقریب میں شرکت کرنا اعزاز ہو گا جنہوں نے ہمارے ملک کی خدمت کرتے ہوئے جانیں دیں۔ خاص طور پر ہم ایسے مردوخواتین کی خدمت کو خراج تحسین پیش کریں گے جنہوں نے بیرون ملک پروقار طور سے امریکہ کی خدمت کرتے ہوئے قربانیاں پیش کیں۔ ہماری قوم پر ان لوگوں اور ان کے خاندانوں کی شکرگزاری کا قرض ہے۔ آئیے ان لوگوں اور ہماری ٹیم کی جانب سے امریکی مفادات کے فروغ اور ملک کے تحفظ کی خاطر روزانہ دی جانے والی عظیم قربانیوں کو یاد کریں۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ہی ہفتے اس یکجائی کی میزبانی میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ میں اس سے بہتر آغاز کا تصور نہیں کر سکتا۔ آپ کی خدمت کا شکریہ اور براہ مہربانی اجنبیوں کی طرح مت رہیں۔ شکریہ، خدا آپ پر رحمت کرے۔ (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں