rss

سیکرٹری خارجہ مائیک پومپئو ہم سفر صحافیوں سے گفتگو

English English, Français Français, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجراء
8 اپریل، 2018
تاثرات
جہازپرعوامی جمہوریہ کوریا جاتے ہوئے

 
 

سیکریٹری پومپئو: پہلی بار یہ ہوشمندانہ کوشش تھی کہ جنوبی کوریا وہ چیزیں سامنے لایا ہے جو کہ شمالی کوریا کرنے کو تیار ہے، جو کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کو بتائی ہیں۔ ہمارے وہاں جانے کا بڑا مقصد یہی تھا کہ ہم اس تمام عمل کی توثیق کر سکیں کہ یہ سب باتیں سچ اور درست ہیں تاکہ اس بات کو پرکھا جا سکے کہ صدر ٹرمپ کے دورے کے لیے عائد کی گئی شرائط پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے۔ دورے کا بنیادی مشن تو یہ تھا جو کہ ہم نے حاصل کر لیا ہے۔ اس نے ہمیں بہت زیادہ نہیں بلکہ بہت ہی تھوڑی معلومات فراہم کی ہے۔ ہم نے کسی حد تک بنیادی خدوخال اور خاکہ تیار کر لیا ہے، چند زمینی اصول طے کر لیے ہیں، پھر ہم نے اس کے متعلق بات چیت کی اور اس کے انتظامی پہلووں کا جائزہ بھی لیا۔ یہ کس طرح کا ہو گا، کتنے عرصہ تک قائم رہے گا، کہاں ہو گا، اور اس کے لیے حقیقت میں کتنا عرصہ درکار ہو گا۔ تو یہ تھا۔ یہ بہت ہی محدود قسم کی سفارتی بات چیت تھی۔ اس کا مقصد ایک دوسرے کو سننا اور ایک دوسرے سے سیکھنا تھا۔ تاکہ ہم کم از کم درکار بنیادی خدوخال اور ڈھانچے کو سمجھ سکیں۔

آج ہم یہ کرنے کے لیے پر امید ہیں کہ اس روز سے اب تک بات چیت ہوتی رہی ہے اور ہم صدر ٹرمپ اور چئیر مین کم جونگ ان کے درمیان ہو نے والی ملاقات کے انتظامی پہلووں کا جائزہ لے رہے ہیں اور بات چیت کے ایجنڈے کے بنیادی خدوخال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ آج ہم ایسا ڈھانچہ بنا ئیں جس سے دونوں صدور کے درمیان ملاقات ایک کامیاب ملاقات ثابت ہو۔

اس کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ہم اس بات کی یقین دہانی کروانا چاہتے ہیں کہ ہم اس بارے میں بہت شفاف ہوں کہ یہ بات کن امور پر ہو گی اور ہماری توقعات کیا نہیں ہیں۔ تاکہ ہم اس راستے پر واپس نہ چل پڑیں جس پر ہم ماضی میں چلتے رہے ہیں۔ ہم پابندیوں میں اس وقت تک نرمی نہیں کریں گے جب تک ہم اپنے مقاصد حاصل نہ کر لیں۔ ہم یہ سب دھیرے دھیرے ، چھوٹی چھوٹی اقساط کی صورت میں نہیں کرنا چاہتے کہ دنیا یہ نہ سمجھے کہ ہم اسے معاشی دباو کم کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ اس کا وہ نتیجہ نہیں نکلے گا جو میں جانتا ہوں کہ کم جونگ ان چاہتے ہیں اور جو صدر ٹرمپ تقاضہ کر رہے ہیں۔ تو ہم یہ امید کر رہے ہیں کہ ہم ایسی شرائط سامنے رکھیں جس سے ایک تاریخی تبدیلی کا موقعہ ملے، جو امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان سکیورٹی تعلقات کے حوالے سے ایک بہت بڑی تبدیلی ہو۔اس سے ہم وہ مقصد حاصل کر سکیں گے جس کے متعلق صدر ٹرمپ نے ٹوئیٹ بھی کی تھی اور بات بھی کی تھی کہ شمالی کوریا کے نیو کلیئر ہتھیاروں کی تیاری کا عمل مکمل طور سے، قابل توثیق طریقے سے اور ناقابل واپسی حد تک ختم ہو جائے۔

یہ مشن ہے جو طے کیا گیا ہے۔ ہم آج اس بابت شرائط طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور یہ اس عمل کا حصہ ہو گا۔ یہ عمل کل بھی جاری رہے گا۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اہم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بہت حد تک بات چیت ہو گئی ہے اور اب میرے لیے ضروری ہے کہ میں شمالی کوریا کے اعلٰی حکام کے ساتھ بیٹھوں ۔ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے ہم ملاقات کی تیاری کے سلسلے میں بہت بڑا سنگ میل طے کر لیں۔

سوال: تو آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس یہ سب کچھ کرنے کا وقت ہو گا؟ میں نے یہ پہلے بھی پوچھا ہے تو یہ ۔۔۔

سیکرٹری پومپئو: بالکل میرا مقصد ایسا ہی کرنا ہے۔

سوال: ٹھیک، صدر نے کہا کہ سب طے ہو گیا ہے پھر انہوں نے کہا کہ یہ طے نہیں ہوا، میرا مطلب ہے کہ ، کیا آپ اس متعلق 99 فیصد پریقین ہیں۔۔

سیکرٹری پومپئو: ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اندازہ لگا لیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں، ہم ضرور چاہیں گے کہ ہم یہاں سے تیار ہو کر جائیں اور کہیں ہاں۔ اب ہم اعلٰی سطح پر ہیں،آج اس وقت اور اس مقام پر ہمارے پاس سب سے اعلٰی سطحی قائدین کی یقین دہانیاں ہیں۔ میں، ہم اس طرف جا رہے ہیں

سوال: اچھا، مجھے مزید کہنے دیں کہ ۔۔۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ ۔۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ ابھی آپ کے پاس وہ نہیں ہے؟

سیکرٹری پومپئو: یہ سب کچھ ہے ، یہ۔۔۔

سوال: نہیں، آپ نہیں ہیں۔۔۔

سیکرٹری پومپئو: میں جانتا ہوں کہ یہ فرق بہت معمولی اور اختلاف بہت مختصر ہے

سوال: اچھا، ہاں، ہاں

سیکرٹری پومپئو: ہم سمجھتے ہیں کہ ہم تمام فریقوں کو آمادہ کرنے کے بہت قریب ہیں، یہ نہ صرف، بلکہ وقت اور تاریخ بھی بہت اہم ہیں۔۔

سوال: جی

سیکرٹری پومپئو: اور مقام بھی بہت اہم ہے۔ لیکن بہت سے ایسے عوامل ہیں جو اس میں دخل دیتے ہیں، کتنی دیر یہ سب چلے گا؟ جب آپ کہتے ہیں کہ کہاں، تو اصل میں کہاں؟ نہ صرف یہ کہ ایک شہر یا ایک ملک، بلکہ اصل میں کہاں۔ تو ہم کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سب طے ہو جائے، تو یہ جواب تھا۔۔

سوال: کیا آپ کم جونگ ان سے خود ملیں گے؟ کیا آپ کو اس کی توقع ہے؟

سیکرٹری پومپئو: میں نہیں جانتا۔ ہم اعلیٰ حکام سے ملیں گے۔ جیسا کہ میں نے پچھلے دورے کے دوران کیا۔ ہم ہرکسی سے ملنے کے لیے تیار ہیں، ہر ایسے شخص سے جو شمالی کوریا کی حکومت کی نمائندگی کرتا ہو اور ہمیں ٹھوس جوابات دے سکے تاکہ ہم تیار رہیں۔

سوال: یہ کتنا اہم ہے ۔۔۔ کیا ان سے یہ سوالات قیدیوں کی رہائی سے متعلق ہیں؟

سیکرٹری پومپئو: آپ جانتے ہیں۔۔

سوال: یہ کس قدر اہمیت کا حامل ہو گا۔۔۔

سیکرٹری پومپئو: ہم قیدیوں کی رہائی کا کہتے رہے ہیں، یہ انتظامیہ 17 مہینوں سے کہہ رہی ہے۔ ہم اس کے متعلق آج پھر بات کریں گے۔ میرا خیال ہے اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ خیر سگالی کا بہت بڑا اشارہ ہو گا۔

مس نوئرٹ: اچھا جی ۔ آخری سوال۔

سوال: آپ ملاقات کیسے رکھ سکتے ہیں۔ جب انہوں نے تین امریکیوں کو ابھی تک پکڑ رکھا ہے؟

سیکرٹری پومپئو: ہمیں امید ہے کہ ہمیں اس راستے پر نہیں جانا پڑے گا

سوال: کیا آپ کو امید ہے کہ آپ انہیں واپس لے آئیں گے؟

سیکرٹری پومپئو: ہم بات کریں گے، ہم ان کے متعلق بار بار بات کریں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ کیا وہ صحیح قدم اٹھائیں گے

مس نوئرٹ: اوکے، آپ سب کا بہت شکریہ

سوال: شکریہ

سیکرٹری پومپئو: شکریہ

مس نوئرٹ: شکریہ ، سر۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں