rss

قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کی ایران کے معاملے پر پریس بریفنگ

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, Русский Русский

وائٹ ہاؤس
دفتر سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
8 مئی 2018

 
 

جیمز ایس بریڈی پریس بریفنگ روم

2:37 سہ پہر

سفیر بولٹن: صدر کی تقریر کے بعد میرے پاس اس بارے میں کہنے کو زیادہ باتیں نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ بالکل واضح ہے۔ میری رائے میں یہ ایران کو ناصرف جوہری ہتھیاروں کے حصول بلکہ بلسٹک میزائلوں کے ذریعے ایسے ہتھیار داغنے کی اہلیت سے روکنے کے لیے بھی ایک پختہ بیان ہے۔ یہ ایران کی جانب سے دہشت گردی کی معاونت اور اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور شورش کے امکان کو محدود کرتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ صدر نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ آگے کیا ہو گا۔ جیسا کہ انہوں نے آخر میں کہا ہے، ہم ایران کی جانب سے جس ضرررساں طرزعمل کا مشاہدہ کر رہے ہیں اس کے وسیع تر سدباب کے لیے وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ہم اس معاملے پر پہلے ہی اپنے اتحادیوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ہم واقعتاً کل صبح سے ہی اس عمل کا آغاز کر دیں گے۔ چنانچہ میں اتنا ہی کہوں گا اور اگر کسی کو کچھ سوال کرنا ہو تو مجھے اس کا جواب دے کر خوشی ہو گی۔ کیون

سوال: شکریہ، آپ کی جانب سے بریفنگ کا اقدام قابل ستائش ہے۔ جو لوگ حکومت میں نہیں ہیں اور جو پالیسی سازی کا حصہ نہیں ہیں، عمومی طور پر ان کا ایک جامع سوال یہ ہے کہ ‘یہ اقدام ہمیں کیسے محفوظ بناتا ہے؟’ کیا آپ اس کی وضاحت کر سکتے ہیں؟ اس کے بعد مجھے ایک اور سوال پوچھنا ہے۔

سفیر بولٹن: یقیناً، دیکھیے بنیادی طور پر یہ معاہدہ ہی ناقص تھا جیسا کہ صدر نے نشاندہی کی ہے۔ یہ اس مقصد کو پورا نہیں کرتا جس  کے لیے اس پر اتفاق کیا گیا تھا۔ یہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے نہیں روکتا۔ یہ ایران کو یورینیم کی افزودگی اور پلوٹونیم کی ری پراسیسنگ جاری رکھنےکی اجازت دیتا ہے۔ اگر وہ معاہدے پر عمل کر رہے ہیں تو اس صورت میں بھی یہ انہیں اپنی جوہری اہلیتوں میں مزید جدت لانے کے لیے تحقیق و ترقی میں اضافے کی اجازت دیتا ہے۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو یہ ایرانی عزائم کے عسکری پہلو سے نمٹنے کا بالکل غیرمناسب طریقہ ہے۔

جیسا کہ اسلحے پر کنٹرول کے بنیادی معاہدے میں ہونا چاہیے، اس میں بنیادی اعلامیہ ہی نہیں ہے۔ درحقیقت ایران نے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے عسکری پروگرام کی بابت تسلسل سے انکار کیا ہے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 میں بھی یہ بات نمایاں طور سے کی گئی ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں حاصل کیے گئے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے اور جس پر گزشتہ ہفتے اسرائیل نے بات کی تھی، یہ ایک سیدھی لکیر ہے۔ اس معاہدے میں معائنے کی مناسب شرط ہی نہیں رکھی گئی کہ جس سے ہمیں یہ اعتماد ہو کہ ہم نے ایران کی جوہری اسلحے سے متعلق تمام سرگرمیوں کا جائزہ لے لیا ہے۔

علاوہ ازیں جب آپ اس حقیقت میں یہ تصور بھی شامل کرتے ہیں کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ایران کے جوہری عزائم محدود ہو جائیں گے اور اس کے  طرزعمل میں تبدیلی آ جائے گی تو یہ تصور بھی بالکل غلط نکلا ہے۔

چنانچہ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایران نے مذاکرات کے دور کو، اس معاہدے تک پہنچنے کے طویل دورانیے کو اپنے جوہری ہتھیاروں اور بلسٹک میزائلوں کے پروگرام کو مزید جدید بنانے کے لیے استعمال کیا اور 2015 میں اس معاہدے کے بعد سے مسلسل ایسی کوشش میں مصروف ہے تو اسے جوہری ہتھیار بنانے اور انہیں داغنے کے ذرائع کے حصول سے روکنے کا ایک ہی یقینی طریقہ تھا کہ اس معاہدے کو ترک کر دیا جائے اور صدر نے یہی کچھ کیا ہے۔

سوال: میرا دوسرا سوال ایرانی قیادت کے ساتھ بات چیت سے متعلق ہے۔ اگر آپ کی پوزیشن اور خاص طور پر اقوام متحدہ میں آپ کے تجربے کو دیکھا جائے تو آپ جانتے ہیں کہ یہ سب کیسے ہو سکتا ہے۔ یقیناً بعض لوگ کہیں گے کہ یہ سب کچھ خطرات سے بھرپور ہے اور دوسروں کا یہ کہنا ہو گا کہ دوبارہ بات چیت مفید ہو گی۔ کیا آپ امریکی انتظامیہ کے تناظر سے ایسا ہونے کی پیشگوئی کرتے ہیں؟

سفیر بولٹن: صدر نے اپنی تقریر کے آخر میں صراحت سے اس کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جو امریکہ نے طویل عرصہ قبل تکلیف دہ طور سے حاصل کیا تھا جیسا کہ ڈین ایچیسن کا قول ہے کہ ہم صرف طاقتور ہو کر ہی بات کرتے ہیں۔ یہ وہ سبق ہے جس پر گزشتہ انتظامیہ نے عمل نہیں کیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ آج اس معاہدے سے دستبرداری کے اعلان کا ایک اور پہلو امریکہ کے لیے مضبوط پوزیشن ترتیب دینا ہے اور اس کے اثرات صرف ایران کے لیے ہی نہیں ہوں گے بلکہ شمالی کوریا کے کم جانگ ان کے ساتھ ہونے والی ملاقات پر بھی اس کا اثر مرتب ہو گا۔ اس سے نہایت واضح پیغام جاتا ہے اور جیسا کہ صدر نے کہا ہے امریکہ ناقص و ناموزوں معاہدے قبول نہیں کرے گا۔ جوناتھن

سوال: اگر سینکڑوں میں دیکھا جائے تو 180 دن میں کیا ہو گا، ان یورپی کمپنیوں کے ساتھ کیا ہو گا جنہوں نے ایران کے ساتھ تجارت شروع کی ہے۔ کیا ہم واقعی ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کریں گے؟ یا 180 یوم میں ہونے والی بات چیت کے ذریعے یہ کمپنیاں ایران کے ساتھ تجارتی تعلق ختم کر سکتی ہیں؟

سفیر بولٹن: صدر کی جانب سے آج کیے جانے والے دستخط کے بعد یہ پابندیاں اسی حالت میں بحال ہو گئی ہیں جو صورتحال معاہدے سے قبل تھی۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ ہو چکی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو معاشی شعبہ جات پابندیوں کی زد میں آئے ہیں ان میں نئے معاہدوں کی اجازت نہیں ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ آئندہ چند گھنٹوں میں بتائے گا کہ موجودہ معاہدوں کے خاتمے کے لیے کون سی شرائط ہیں۔ ان معاہدوں کے خاتمے کے لیے مختلف دورانیے ہوں گے جن میں بعض چھ ماہ تک ہو سکتے ہیں اور کچھ 90 یوم کے لیے بھی ممکن ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر شرائط بھی ہو سکتی ہیں۔

اس حوالے سے تفصیلات 2015 سے محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں جنہیں قرارداد 2231 کی شرائط لاگو کرنے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں ڈالا گیا تھا۔ چونکہ ہم معاہدے سے دستبردار ہو چکے ہیں اس لیے انہیں استعمال نہیں کریں گے۔ باالفاظ دیگر ایران سے تجارت ختم کرنے کے دورانیے کی بات نئی نہیں بلکہ کافی دیر سے موجود ہے۔ یہی وہ بنیادی نمونہ ہے جس پر ہم چل رہے ہیں۔ تاہم پابندیاں ابھی سے موثر ہیں۔

سوال: مگر اس دوران اس پر بات چیت نہیں ہو گی ۔۔۔ موجودہ ۔۔۔

سفیر بولٹن: ہم معاہدہ ترک کر چکے ہیں۔

سوال: ہم اس سے باہر ہو گئے ہیں۔

سفیر بولٹن: ہم معاہدے سے نکل گئے ہیں۔ ہم معاہدے سے نکل گئے ہیں۔

سوال: کیا ہم معاہدے سے نکل گئے ہیں؟

سفیر بولٹن: جی آپ درست سمجھے۔

سوال: اگر شمالی کوریا (ناقابل سماعت) جوہری ہتھیار، اور آپ نے کہا ہے کہ یہ شمالی کوریا کے لیے نہایت اہم پیغام ہے۔ اس کا (ناقابل سماعت) کیا مطلب ہے؟ کیا جوہری مسائل پر مزید تفصیلات بھی ہیں؟

سفیر بولٹن: میں سمجھتا ہوں کہ اس میں شمالی کوریا کے لیے پیغام یہ ہے کہ صدر ایک حقیقی معاہدہ چاہتے ہیں۔ ہم اسی کی بات کر رہے ہیں۔ وزیر پومپئو جب کم جانگ ان کے ساتھ ملاقات کی تیاریوں کے سلسلے میں شمالی کوریا پہنچیں گے تو وہاں اسی حوالے سے بات کریں گے۔ شمالی کوریا خود 1992 میں جوہری اسلحے کے خاتمے کے شمالی جنوبی مشترکہ اعلامیے کی جانب مراجعت ک لیے رضامند ہوا ہے۔ اس کی رو سے جوہری ایندھن کے اگلے اور پچھلے دور، یورینیم کی افزودگی اور پلوٹونیم کی ری پراسیسنگ کا خاتمہ ہونا ہے۔ ہم اس کے علاوہ مزید چیزوں پر بھی بات کریں گے۔

تاہم جب آپ جوہری پھیلاؤ کے خطرے کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہوتے ہیں تو آپ کو ایسے پہلو بھی دیکھنا ہوتے ہیں جو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی خواہش مند ریاست کو اس جانب لے جانے کا سبب بنتے ہیں۔ ایرانی معاہدے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ صدر پرامید ہیں کہ ہمیں جس معاہدے پر پہنچنے کی امید ہے وہ ہو جائے گا اور اس میں ایسے تمام مسائل مدنظر رکھے جائیں گے۔ جی جناب۔

سوال: شکریہ جناب سفیر، آپ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کا ہدف ایران کی ضرررساں سرگرمیوں کو روکنا ہے مگر کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہاں حکومت کی تبدیلی بھی ان سرگرمیوں کے خاتمے کا ایک طریقہ ہو سکتی ہے؟ کیا اس فیصلے کے بعد امریکی انتظامیہ کا یہی ہدف ہے؟

سفیر بولٹن: نہیں، صدر نے بہت سے یورپی ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کے بعد جو کہا، صدر میکخواں نے جو کہا، چانسلر مرکل نے جو کہا، وزیراعظم مے سے انہوں نے جو بات کی کہ یہ معاہدہ ایران کے ناقابل قبول طرزعمل سے محدود طور پر ہی نمٹتا ہے۔ چنانچہ 2015 کی طرح معاہدے کے نتیجے میں پابندیاں ہٹانے سے اس سرگرمی کو بڑھاوا ملے گا جو ایران اس وقت شام میں انجام دے رہا ہے۔ یہ پورے خطے اور دنیا بھر میں حزب اللہ اور حماس جیسے دہشت گرد گروہوں کی معاونت کرتا ہے۔ لہٰذا اس خطرے سے واقعتاً نمٹنے، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام لانے کی کوشش کرنے نیز دنیا کو جوہری خطرے سے نجات دلانے ک لیے آپ کو تمام معاملہ نئے سرے سے دیکھنا ہو گا۔ انہوں نے یورپی رہنماؤں سے یہی بات کی تھی اور ہم اسی سلسلے میں کوشش کر رہے ہیں۔ جی میڈم

سوال: شکریہ سفیر بولٹن۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آیا آپ یہ وضاحت کر سکتے ہیں کہ ٹوٹل جیسی  کمپنیوں کے ساتھ کیا ہو گا؟

سفیر بولٹن: ٹوٹل

سوال: وہ اس سے چھوٹ کی بات کر رہے تھے کیونکہ انہوں نے اس اعلان سے پہلے تہران کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ کیا انہیں چھوٹ ملے گی؟ کیا کسی کو چھوٹ ملے گی؟

سفیر بولٹن: میں مخصوص معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ جیسا کہ  میں نے کہا محکمہ خزانہ اس حوالے سے مزید تفصیلات کی وضاحت کرے گا۔

تاہم جہاں تک ایران کے ساتھ کاروبار ختم کرنے کی شرائط کا تعلق ہے، جیسا کہ ایران سے تیل خریدنے والوں کا معاملہ ہے۔ اگرچہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہیں تاہم اگر معاہدہ طویل مدتی ہوا تو ہمارے دائرہ کار میں متاثرہ کمپنیوں کو اس پر نظرثانی کے لیے چھ ماہ تک کا عرصہ دیا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد کاروبار کو وہاں سے نکلنے کا موقع دینا ہے۔

سوال: شمالی کوریا کے بارے میں ۔۔۔ کیا آپ جلدی سے اس سوال کا جواب دیں گے؟ صدر نے آج اپنے بیان میں اس بابت بھی کچھ ذکر کیا مگر وہ کون سا مقصد ہے جس کے لیے وزیر خارجہ پومپئو شمالی کوریا جا رہے ہیں؟ کیا وہ قیدیوں کو بھی واپس لائیں گے؟ وہ تین قیدی جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اس ہفتے ملک واپس آ رہے ہیں؟

سفیر بولٹن: دیکھیے، اس مشن کا مقصد آئندہ ملاقاتوں کی تیاری ہے۔ صدر نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں اور ان کی اس بات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جی جناب

سوال: شکریہ جناب سفیر، میرے دو سوال ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ نے بتایا یہ شمالی کوریا کے لیے بھی ایک پیغام تھا۔ کیا یہ ایسا پیغام بھی نہیں ہے کہ سیاسی ہوا تبدیل ہونے پر امریکی اپنے معاہدوں سے پھر سکتا ہے؟

سفیر بولٹن: نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ درپیش مسئلہ یہ ہے کہ آیا امریکہ ایسا معاہدہ قبول کرے گا جو اس کے تزویراتی مفاد میں نہ ہو۔ ہمارے خیال میں 2015 کا معاہدہ ایسا ہی تھا۔ ہر ملک کو ماضی کی غلطی درست کرنے کا حق حاصل ہے۔

میں آپ کو اس کی ایک مثال پیش کروں گا۔ 2001 میں جارج ڈبلیو بش انتظامیہ نے 1972 کا اینٹی بلسٹک میزائل معاہدہ ترک کر دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ہم روسیوں پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے تھے۔ اگرچہ وہ ایسا ہی کر رہے تھے مگر ہماری جانب سے یہ معاہدہ ترک کرنے کی وجہ یہ تھی کہ عالمگیر تزویراتی ماحول تبدیل ہو گیا تھا۔ یہی زندگی کی حقیقت ہے اور ہم یہی بات کر رہے ہیں۔

سوال: آپ نے ‘اے بی ایم’ معاہدے کے حوالے سے دلچسپ نکتہ اٹھایا ہے۔ صدر کی ایرانی طرزعمل پر تنقید میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ بلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے۔ اس سے ایک بڑی تصویر سامنے آتی ہے۔ اس معاہدے پر ان کے بہت سے اعتراضات میں یہ بات شامل ہے کہ یہ معاہدہ صرف جوہری ہتھیاروں سے متعلق ہے اور اس میں ایران کے علاقائی طاقت بننے کے عزائم کے خاتمے کی بات نہیں کی گئی۔ کیا ہم یہ ہدایت دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں کون طاقت حاصل کر سکتا ہے اور کسے یہ حق حاصل نہیں ہے؟ کیا ہم یہی کچھ کر رہے ہیں؟

سفیر بولٹن: دیکھیے، میں سمجھتا ہوں کہ صدر نے آج اپنے بیان میں یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران اپنے ضرررساں طرزعمل کے ذریعے خطے میں کہاں کہاں اثرانداز ہو رہا ہے اور جوہری معاہدے کی ایک اصولی خامی یہ ہے کہ اس میں ایران کے دیگر مضرت رساں طرز ہائے عمل پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔ لہٰذا ہمارے اقدامات کا یہی مقصد ہے۔ جی جناب

سوال: جناب سفیر، آپ کا بے حد شکریہ۔ آج کے اعلان کے بعد آپ یورپی اتحادیوں سے کیا توقع رکھتے ہیں جو اب بھی اس معاہدے کا حصہ ہیں؟ کیا آپ یا صدر ان سے اس معاہدے کو ترک کرنے کے لیے کہیں گے؟ دوسری بات یہ کہ کیا آپ ہمیں صدر کے اس فیصلے تک پہنچنے کے پس پردہ باتوں سے آگاہ کر سکتے ہیں؟

سفیر بولٹن: میں آپ کے دوسرے سوال کا جواب پہلے دوں گا۔ وہ 2016 میں اپنی مہم کے ابتدائی ایام سے ہی یہ بات کہتے چلے آئے ہیں کہ ان کے خیال میں یہ امریکی سفارتی تاریخ کا بدترین معاہدہ تھا۔ جہاں تک یورپی اور دوسرے اتحادیوں کا معاملہ ہے تو ہم گزشتہ کئی ماہ سے ان کے ساتھ جامع بات چیت کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب سے میں یہاں آیا ہوں میں نے سب سے زیادہ وقت انہی کے ساتھ گفت و شنید میں گزارا ہے۔ اس معاملے میں میرے روابط کا آغاز شامی کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں پر ردعمل سے شروع ہوا اور یہ بات چیت ایرانی معاملے تک چلی۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے صدر بے حد اہمیت دیتے ہیں۔

یہاں قومی سلامتی سے متعلق سبھی لوگ یورپیوں سے بات کریں گے کہ اس معاملے کو کیسے آگے لے کر جانا ہے۔ یہ صرف یورپی ممالک کا معاملہ نہیں ہے۔ جیسا کہ صدر نے کہا مشرق وسطیٰ میں بہت سے فریقین کو ایرانی جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر بے حد تشویش ہے۔ ان ممالک کو بھی اس بات چیت میں شامل کیا جائے گا۔

سوال: جی، جناب سفیر ۔۔۔

سوال: صدر میکخواں ۔۔۔ پہلے میں ایک موضوع پر بات مکمل کر لوں۔ صدر میکخواں یہاں آئے، چانسلر مرکل آئیں۔ آپ نے بالکل درست کہا کہ صدر یہ بات 2016 سے کہتے چلے آئے ہیں کہ وہ اس معاہدے سے نکلنا چاہتے ہیں۔ مگر انہوں نے اب تک ایسا نہیں کیا تھا۔ میرا سوال یہ ہے کہ وہ اس فیصلے تک کیسے پہنچے؟

سفیر بولٹن: وہ اس لیے اب تک اس معاہدے سے نہیں نکلے تھے کہ وہ اس میں بہتری لانے کے لیے کئی مواقع دینا چاہتے تھے۔ تاہم میں سمجھتا ہوں اور جیسا کہ ہم نے گزشتہ ہفتوں میں بہت سے ایرانی رہنماؤں کے بیانات دیکھے کہ ایرانی حکومت اس معاہدے کو تبدیل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ وہ ایسا کیوں کریں گے۔ یہ ان کے لیے بہت اچھا معاہدہ ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ صدر اس حوالے سے تمام کوششوں کو موقع دینا چاہتے تھے اور انہوں نے 12 مئی کی حتمی تاریخ سے چند دن قبل تک یہ سب کچھ کیا جو کہ بالکل درست تھا۔ میرے خیال میں جب انہوں نے اس بابت واضح شہادتیں دیکھیں کہ اس معاہدے کی بنیادی خامیاں درست نہیں ہو سکتیں تو پھر انہوں نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

سوال: جناب سفیر، مجھے جلدی سے چند سوالات کرنا ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں یہ امریکہ کی جانب سے ایران پر چڑھائی کا پہلا قدم ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟

سفیر بولٹن: ایسا سوچنے والے غلطی پر ہیں۔

سوال: دوسری بات یہ کہ اگرچہ ہم اس معاہدے کو ترک کر چکے ہیں تاہم کیا اس ضمن میں ایران سے بات چیت کا کوئی منصوبہ  بھی زیرغور ہے، اگرچہ آپ نے ڈین ایچیسن کا قول دہرایا ہے، تاہم وہ ویت نام اور کوریا تھے اور امید ہے کہ ہمیں بہتر کامیابی ۔۔۔

سفیر بولٹن: میں نہیں سمجھتا کہ ڈین کی بات ویت نام کے حوالے سے تھی مگر آگے چلتے ہیں۔

سوال:مگر کیا ہم طاقتور مقام پر بیٹھ کر ایران کے ساتھ بات چیت کی کوشش کریں گے؟

سفیر بولٹن: جی، دیکھیے صدر نے اپنی تقریر میں کیا بات کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے صراحت سے کہا ہے کہ ہم تیار ہیں، ہم یورپی ممالک اور دوسروں کے ساتھ مل کر مزید وسیع تر معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں جس میں ایران کے اس تمام طرزعمل پر بات ہو جس پر ہمیں اعتراضات ہیں۔ ہم اسی وقت یہ سب شروع کرنے کو تیار ہیں۔

سوال: کیا انہوں نے  یہ کہا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ بات کریں گے؟ کیا آپ نے ان سے بات کی ہے؟

سفیر بولٹن: صدر نے اپنی تقریر میں وضاحت سے یہ بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں انہیں بات نہیں کرنا، صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ ان کی جگہ ہوتے تو ایسا ہی کہتے۔ مگر انہیں توقع ہے کہ وہ بات کریں گے۔ ہم اس بارے میں ہر ایک سے بات کریں گے۔ جی میڈم

سوال: میرا سوال آج صدر ژی سے ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو سے متعلق ہے۔ کیا صدر ٹرمپ کی جانب سے اس جوہری معاہدے پر اعلان کی بابت صدر ژی سے مشاورت کی گئی تھی؟ کیا چین کی جانب سے مستقبل میں کسی طرح کی بات چیت میں شمولیت کی کوئی کوشش سامنے آئی؟

سفیر بولٹن: جی، یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا، مگر میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ جان

سوال: شکریہ جناب سفیر۔ جلاوطن ایرانیوں کے اجتماع میں جو بات تواتر سے سامنے آئی وہ حکومت کی تبدیلی ہے۔ ایک موقع پر میئر گیولیانی نے کہا کہ اگر آپ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں تو اپنے ارد گرد دیکھیں۔ کیا امریکی انتظامیہ کا ایرانی جلاوطن کمیونٹی جیسا کہ ‘ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل’ سے کوئی رابطہ ہے۔ مزید یہ کہ آیا انہوں نے کبھی جلاوطن حکومت یا ایران میں مستقبل کی حکومت کے طور پر ان سے کوئی بات کی ہے؟

سفیر بولٹن: میں اس سے آگاہ نہیں ہوں اور اس پر کبھی بات نہیں ہوئی۔ جی میڈم

سوال: شکریہ جناب سفیر۔ حکومت کی تبدیلی سے متعلق کچھ اور بات ہو جائے۔ جب صدر میکخواں یہاں تھے تو انہوں نے ایرانی معاہدے کے حوالے سے اپنے چار ستونوں کی بات کی تھی اور اس میں کافی کچھ شام سے متعلق اور اسے سیاسی طور پر مستحکم کرنےکے بارے میں تھا۔ کیا موجودہ انتظامیہ یہ سمجھتی ہےکہ بشارالاسد کی حکومت میں امن  اور سیاسی استحکام کا حصول ممکن ہے؟ یا آیا موجودہ انتظامیہ  وہاں ممکنہ طور پر حکومت کی تبدیلی کی حمایت کرتی ہے؟

سفیر بولٹن: میں سمجھتا ہوں کہ صدر نے چند ہفتے قبل شامی کیمیائی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے اپنی تقریر میں واضح کر دیا تھا کہ وہاں عسکری قوت کا استعمال اور ہمارے سفارتی ردعمل وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کے سوال تک ہی محدود ہیں۔ یقیناً ہمیں داعش کی زمینی خلافت کے خاتمے کا کام مکمل کرنے کی فکر ہے مگر ایران کی جانب سے عراق کے ذریعے شام میں اسد حکومت اور لبنان میں حزب اللہ سے بڑھتے ہوئے روابط بھی ہمارے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ صدر میکخواں، چانسلر مرکل اور وزیراعظم مے سمیت سبھی نے یہی بات کی ہے۔

چنانچہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور سلامتی کے امکان کا دارومدار بڑی حد تک پیچیدہ معاملات درست کرنے پر بھی ہے تاہم یقیناً ان میں ایک اہم معاملہ عدم استحکام اور جنگ کو بڑھاوا دینے میں ایران کا کردار بھی ہے۔ صدر نے بہت سے یورپی رہنماؤں سے یہی بات کہی کہ آیا ہم ایرانی طرز عمل کو درست کرنے کی مجموعی کوشش میں اس مسئلے سے نمٹ سکتے ہیں۔ یہ عمل جاری ہے۔ جی جناب۔

سوال: مجھے امید ہے کہ آپ پابندیوں کے اوقات کی بابت وضاحت کریں گے۔ آپ نے کہا کہ پابندیاں نافذ ہو چکی ہیں۔ وزیرخزانہ نے ابھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ایران کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں بند کرنے کے لیے 90 اور 180 دن کے دورانیے کی بات کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پابندیاں 90 یا 180 روز کے بعد نافذالعمل ہوں گی یا ان کا اطلاق اسی وقت ہو گا۔

سفیر بولٹن: میں ایک بار پھر اس کی وضاحت کیے دیتا ہوں۔ ہم نے معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔ چنانچہ ہم اس معاہدے کا حصہ نہیں رہے۔ صدر نے ایک فیصلے پر دستخط کیے جس میں محکموں اور اداروں کو اس کی تعمیل کے لیے کہا گیا ہے۔ جوہری معاملے سے متعلق تمام پابندیوں کا احیا بھی اس کا حصہ ہے جنہیں اوبامہ انتظامیہ نے اٹھا لیا تھا۔ چنانچہ یہ پابندیاں فوری طور پر لاگو ہو گئی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی دائرہ کار میں ایران کے ساتھ کوئی بھی نیا کاروباری معاہدہ کرنا ممنوع ہے۔ باالفاظ دیگر مخصوص شعبہ جات میں ایران سے کوئی نیا معاہدہ نہیں ہو سکتا۔

اب جو معاہدے پہلے سے موجود ہیں انہیں باترتیب انداز میں ختم کرنے کے لیے مخصوص وقت دیا گیا ہے تاکہ پابندیوں پر چھوٹ ملنے کے نتیجے میں نیک نیتی سے کاروبار کرنے والوں کو اچانک ہی سب کچھ لپیٹنا نہ پڑے۔

اب جیسا کہ میں نے کہا ہے، کاروباری نوعیت کے حساب سے مختلف دورانیے ہیں تاہم میں نہیں سمجھتا کہ کاروباری دنیا میں کسی کو اس اقدام پر کوئی حیرت ہو گی۔

سوال: جناب سفیر ۔۔۔

سفیر بولٹن: جی۔

سوال: مجھے آپ سے دو سوالات کرنا ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا آپ اس دعوے پر کچھ کہیں گے کہ تکنیکی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ ہی  ‘جے سی پی او اے’ کی خلاف ورزی کر رہا ہے؟

سفیر بولٹن: نہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ہم اس سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

سوال: مگر آپ نے یہ بات بھی تسلیم کی ہے کہ ایران اس معاہدے کی پاسداری کرتا چلا آیا ہے۔ موجودہ انتظامیہ ۔۔۔۔

سفیر بولٹن: میں نے ایسا نہیں کہا۔ نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے معاملات ایسے ہیں جہاں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آیا وہ معاہدے پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔ ایسے معاملات بھی ہیں جن کے بارے میں میرا خیال ہے کہ وہ ان کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر ان کی جانب سے بھاری پانی کی پیداوار ‘جے سی پی او اے’ کے تحت طے شدہ حدود سے متواتر تجاوز کر جاتی ہے۔ وہ بھاری پانی کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ زائد پانی اومان کو فروخت کر دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ پانی یورپی ممالک کو بیچا ہے۔ یہ بھاری پانی پیدا کرنے والی تنصیبات کو چلتا رکھنے کا طریقہ ہے۔ یہی خطرے کی بات ہے۔ انہوں نے حدود سے تجاوز کیا ہے۔ میں مزید تفصیلات بھی بتا سکتا ہوں۔

سوال: مجھے آپ سے شمالی کوریا کے حوالے سے بھی ایک سوال کرنا ہے۔ تاہم ایران کے حوالے سے ایک اور بات کہ موجودہ انتظامیہ میں حکام نے کہا ہے کہ تکنیکی طور پر ایران اس معاہدے پر عمل کر رہا ہے۔

سفیر بولٹن: نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے کہا ہے تکنیکی طور پر ۔۔۔۔

سوال: تو کیا یہ قانون کی روح کا معاملہ ہے یا ۔۔۔۔

سفیر بولٹن: نہیں، نہیں، نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اسے تکنیکی طور پر عدم تعاون کہا ہے۔ میرے خیال میں آپ کو اس معاہدے کی شرائط کے حوالے سے مجموعی ایرانی طرزعمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ جب تک آپ ‘آئی اے ای اے’ اور ہماری انٹیلی جنس کے بے خطا ہونے کی بابت 100 فیصد پُر تیقن  نہ ہوں اس وقت تک آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایران اس معاہدے پر پوری طرح عمل کر رہا ہے۔

سوال: چونکہ شمالی کوریا کا معاملہ بھی اس سے جڑا ہے اس لیے مجھے اس پر بھی بات کرنا ہے۔ وزیر ۔۔۔

سفیر بولٹن: میری خواہش ہے کہ میں اس بارے کچھ کہہ سکتا، مگر میں نہیں جانتا کہ کوئی اس پر رضامند ہے۔

سوال: کیا آپ کے لیے یہ کہنا ممکن ہو گا کہ آپ ان کے ساتھ معاہدہ کر سکتے ہیں؟

سفیر بولٹن: دیکھیے، اسلحے پر کنٹرول کے کسی بھی معاہدے میں تصدیق اور تعمیل لازمی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہاں ایران کے معاملے میں جیسا کہ صدر نے کہا ہے یہ دونوں پہلو بالکل ناموزوں تھے۔

سوال: مجھ قیدیوں کے معاملے پر جلدی سے دو سوالات کرنا ہیں۔ وزیر پومپئو رپورٹرز کو بتا رہے ہیں کہ وہ پیانگ یانگ میں بات چیت کے دوران یہ معاملہ اٹھائیں گے۔ اگر ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا تو کیا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ صدر ٹرمپ کم کے ساتھ بات نہیں کریں گے؟ کیا اس سے معاہدہ ٹوٹ جائے گا؟

سفیر بولٹن: دیکھیے، میں اس پر کوئی اندازہ قائم نہیں کروں گا۔ وزیر پومپئو قریباً وہاں پہنچ چکے ہیں اور وہ صدر کی  جانب سے بات چیت کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس بارے میں کسی رائے کے لیے انہی کی جانب دیکھیں گے۔ جی میڈم

سوال: شکریہ، جب آپ یہ کہتے ہیں کہ اس معاہدے سے پہلے ایران پر عائد پابندیاں بحال ہو گئی ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم 2015 کے معاہدے سے پہلے والی جوں کی توں حالت کو واپس پہنچ گئے ہیں؟ کیا امریکی انتظامیہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے یا ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مزید قوت استعمال کرنے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے؟

سفیر بولٹن: میں سمجھتا ہوں ہم امریکی تناظر میں قابل اطلاق پابندیوں کی اصطلاح میں اپنی جگہ پر آ گئے ہیں۔ تاہم جیسا کہ آپ نے سوال کیا، میرے خیال میں نئی معلومات سامنے آنے پر اضافی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔ ہمیں پوری قت سے یہ قدم اٹھانا ہو گا کیونکہ ہم ایران پر ہر ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں اور انہیں ایسی آمدن کے حصول سے روکنا چاہتے ہیں جو ایسے لین دین کی صورت میں انہیں حاصل ہو جانا تھی جس کو ہم اب ختم کرنے لگے ہیں۔

سوال: امریکہ اس معاہدے سے باہر آ گیا ہے۔ یہ بات اب واضح ہو چکی ہے۔ تاہم کیا صدر ٹرمپ نے نئے معاہدوں کے لیے سفارتی اقدامات کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم جاری کیا ہے؟ کیونکہ وہ اب بھی معاہدہ چاہتے ہیں۔

سفیر بولٹن: جی یہ کام آج کے اعلان سے قبل یورپی اور دوسرے اتحادیوں کے ساتھ بات چیت میں پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ان کے ساتھ اپنی سوچ کی بابت بالکل شفاف طور سے بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ امر یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ سمجھ جائیں اس معاہدے سے دستبرداری کا امکان موجود تھا۔ میرے خیال میں صدر ٹرمپ نے آج ٹیلی فون پر بات کی ہے اور مجھے یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ مزید بات کریں گے۔ میں کل صبح اپنے برطانوی، فرانسیسی  اور جرمن ہم منصبوں سے اس بابت گفت و شنید کروں گا، یوں ہم پہلے ہی اس معاملے پر بات کر رہے ہیں۔

ٹھیک ہے، آپ کا بے حد شکریہ۔

اختتام   3:01 سہ پہر


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں