rss

‘مشترکہ جامع منصوبہ عمل’ کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کا بیان 

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国), فارسی فارسی

وائٹ ہاؤس
دفتر سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
8 مئی 2018

 

 

صدر: میرے ہموطنو، آج میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اپنی کوششوں کی بابت دنیا کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔

ایرانی حکومت دہشت گردی کی سب سے بڑی معاون ریاست ہے۔ یہ خطرناک میزائل برآمد کرتی ہے، مشرق وسطیٰ بھر میں تنازعات کو ہوا دیتی ہے اور حزب اللہ، حماس، طالبان اور القاعدہ جیسے دہشت گرد آلہ کاروں اور ملیشیاؤں کی مدد کرتی ہے۔

سالہا سال تک ایران اور اس کے آلہ کاروں نے امریکی سفارت خانوں اور عسکری تنصیبات کو بموں سے نشانہ بنایا، امریکی افواج کے سیکڑوں ارکان کو ہلاک کیا اور امریکی شہریوں کو کو اغوا اور قید کرنے کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایرانی حکومت نے  اپنے عوام کی دولت پر ڈاکہ ڈال کر بدنظمی اور دہشت کے طویل سلسلے کو آگے بڑھایا۔

ایرانی حکومت کی جانب سے جوہری ہتھیاروں اور انہیں استعمال کرنے کے ذرائع کے حصول کی جستجو سے زیادہ خطرناک قدم کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

2015 میں سابقہ امریکی انتظامیہ نے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کو ‘مشترکہ جامع منصوبہ عمل’ یا ‘جے سی پی او اے’ بھی کہا جاتا ہے۔

بظاہر اس نام نہاد ‘ایرانی معاہدے’ کا مقصد امریکہ اور ہمارے اتحادیوں کو ایرانی جوہری بم کے پاگل پن سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو صرف ایرانی حکومت کی بقا کے لیے ہی خطرہ ہو گا۔ درحقیقت یہ معاہدہ ایران کے لیے یورینیم افزودہ کرنا اور کچھ وقت کے بعد جوہری ہتھیاروں کا حصول ممکن بناتا ہے۔

اس معاہدے کے نتیجے میں ایران پر عائد کڑی معاشی پابندیاں اٹھا لی گئیں اور اس کے بدلے میں اس کی جوہری سرگرمیوں پر نہایت کمزور سی رکاوٹیں عائد کی گئیں۔ ایران کے دوسرے ضرررساں طرزعمل پر کوئی روک نہیں لگائی گئی جس میں شام، یمن اور دنیا بھر میں دوسری جگہوں پر اس کی بری سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔

باالفاظ دیگر جب امریکہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال سکتا تھا تو اس تباہ کن معاہدے نے اس دہشت گرد حکومت کو کئی ارب ڈالر دلا دیے جس کی بڑی مقدار نقد صورت میں فراہم کی گئی جو کہ ایک شہری کی حیثیت سے میرے لیے اور امریکہ کے تمام شہریوں کے لیے بے حد پریشان کن ہے۔

اس وقت کوئی تعمیری معاہدہ بھی ہو سکتا تھا مگر ایسا نہ ہوا۔ اس معاہدے کے حوالے سے یہ تصور کر لیا گیا کہ یہ قاتل حکومت صرف پرامن جوہری توانائی کے پروگرام کی خواہش رکھتی ہے۔

آج ہمارے پاس حتمی ثبوت موجود ہے کہ ایران نے جھوٹا وعدہ کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل نے ایران کی جانب سے طویل عرصہ تک چھپائی جانے والی انٹیلی جنس دستاویزات شائع کیں جن سے ایرانی حکومت کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے اب تک کی گئی کوششیں قطعیت سے سامنے آئی  ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک خوفناک یکطرفہ معاہدہ تھا جو کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس سے امن و سکون نہیں آیا اور کبھی نہیں آئے گا۔

اس معاہدے کے بعد ایرانی فوج کے بجٹ میں قریباً 40 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس کی معیشت نہایت برے حالات کا شکار رہی۔ پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد حاصل ہونے والی رقم سے ایرانی آمریت نے جوہری ہتھیار لے جانے کی اہلیت والے میزائل تیار کیے، دہشت گردی کی معاونت کی اور مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں تباہی پھیلائی۔

یہ معاہدہ اس قدر کمزور تھا کہ اگر ایران اس پر پوری طرح عمل بھی کرے تو اس صورت میں بھی وہ کچھ ہی عرصہ بعد جوہری ہتھیاروں کے حصول کے قریب پہنچ سکتا ہے۔ اس معاہدے میں مخصوص مدت کا تعین قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ اگر میں اس معاہدے کو قائم رکھتا ہوں تو بہت جلد مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی میں دوسرے ممالک بھی ایسے ہتھیاروں  کا حصول چاہیں گے۔

مزید خرابی یہ ہوئی کہ اس معاہدے میں معائنے کی شرائط میں ایران کو جوہری پروگرام پر عمل سے روکنے، اس کی نشاندہی اور دھوکہ دہی پر سزا دینے کے خاطرخواہ طریقہ ہائے کار موجود نہیں ہیں حتیٰ کہ عسکری تنصیبات سمیت بہت سے اہم مقامات کے معائنے  کا غیرمشروط حق بھی نہیں دیا گیا۔

یہ معاہدہ ناصرف ایرانی جوہری عزائم روکنے میں ناکام ہے بلکہ اس سے ایرانی حکومت کی جانب سے جوہری ہتھیار لے جانے کے قابل بلسٹک میزائلوں کی تیاری روکنے میں بھی کوئی مدد نہیں ملتی۔

آخری بات یہ کہ اس معاہدے میں ایرانی تخریبی سرگرمیوں بشمول اس کی جانب سے دہشت گردی کی معاونت روکنے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ اس معاہدے کے بعد ایران کے خونی عزائم مزید کھل کر سامنے آئے ہیں۔

میں نے اس معاہدے کی انہی نمایاں خامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ ایرانی جوہری معاہدے پر ازسرنو بات چیت ہونی چاہیے یا اسے ختم کر دینا چاہیے۔

تین ماہ بعد 12 جنوری کو میں نے یہ بات دہرائی۔ میں نے واضح کر دیا کہ اگر اس معاہدے کو درست نہ کیا گیا تو امریکہ اس کا حصہ نہیں رہے گا۔

گزشتہ چند ماہ میں ہم نے اپنے اتحادیوں اور فرانس، جرمنی و برطانیہ سمیت دنیا بھر میں پھیلے شراکت داروں سے جامع طور پر بات چیت کی۔ ہم نے مشرق وسطیٰ میں اپنے دوستوں سے بھی اس سلسلے میں مشاورت کی۔ ہم سبھی کو اس خطرے کا ادراک ہے اور اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔

ان مشاورتوں کے بعد مجھ پر یہ واضح ہوا کہ ہم موجودہ بوسیدہ اور گلے سڑے معاہدے کے ذریعے ایرانی جوہری بم کو نہیں روک سکتے۔

ایرانی معاہدے کی بنیاد میں ہی خامیاں ہیں۔ اگر ہم کچھ نہیں کرتے تو ہمیں اندازہ ہے کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔ ریاستی سطح پر دہشت گردی کا سب سے بڑا معاون مختصر وقت میں ہی دنیا کے خطرناک ترین ہتھیاروں کے حصول کے قریب پہنچ جائے گا۔

اسی لیے آج میں اعلان کر رہا ہوں کہ امریکہ ایرانی جوہری معاہدے کا حصہ نہیں رہے گا۔

میں آئندہ چند لمحوں میں ایرانی حکومت پر امریکی جوہری پابندیوں کی بحالی کی بابت صدارتی یادداشت پر دستخط کروں گا۔ ہم انتہائی درجے کی اقتصادی پابندیاں عائد کریں گے۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی جستجو میں مدد دینے والا ہر ملک امریکہ کی کڑی پابندیوں کی زد میں آئے گا۔

امریکہ جوہری بلیک میلنگ کا نشانہ نہیں بنے گا۔ ہم امریکی شہروں کو تباہی کے خطرے سے دوچار ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ایرانی حکومت کو انتہائی مہلک ہتھیاروں تک رسائی کے لیے ‘مرگ بر امریکہ’ کا نعرہ لگانے نہیں دیں گے۔

آج کے اقدام سے ایک اہم پیغام جاتا ہے کہ امریکہ خالی خولی دھمکیاں نہیں دیتا۔ جب میں وعدے کرتا ہوں تو انہیں پورا کرتا ہوں۔ درحقیقت اس لمحے وزیرخارجہ پومپئو کم جانگ ان کے ساتھ میری ملاقات کی تیاری کے سلسلے میں شمالی کوریا جا رہے ہیں۔ منصوبے بن چکے ہیں۔ تعلقات فروغ پا رہے ہیں۔ امید ہے کہ چین، جنوبی کوریا اور جاپان کے تعاون سے ایک معاہدہ ہو جائے گا اور سبھی کے لیے زبردست خوشحالی اور سلامتی کا مستقبل ممکن ہو گا۔

ایرانی جوہری معاہدے سے دستبردار ہوتے ہوئے ہم اپنے اتحادیوں سے مل کر ایرانی جوہری خطرے کا حقیقی، جامع اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے کام کریں گے۔ اس میں ایرانی بلسٹک میزائل پروگرام کے خطرے کے خاتمے کی کوششیں، دنیا بھر میں اس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنا اور مشرق وسطیٰ میں اس کی مضرت رساں سرگرمی کا خاتمہ شامل ہے۔ اسی دوران کڑی پابندیاں بھرپور طور سے نافذ کی جائیں گی۔ اگر ایرانی حکومت اپنی جوہری خواہشات قائم رکھتی  ہے تو اسے پہلے سے کہیں زیادہ بڑے مسائل کا سامنا ہو گا۔

میں آخر میں طویل عرصہ سے مصائب کا شکار ایرانی عوام کے نام پیغام دینا چاہتا ہوں۔ امریکی عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اب اس آمریت کو اقتدار میں آئے اور ایک پرفخر قوم کو یرغمال بنائے قریباً 40 برس ہو چکے ہیں۔ افسوسناک طور پر ایران کے 80 ملین عوام میں بیشتر نے کبھی ایسا ایران نہیں دیکھا جو اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہے اور اور جس کی دنیا ستائش کرتی ہو۔ تاہم ایرانی عوام کا مستقبل اس کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ یہی لوگ اس بھرپور ثقافت اور قدیم سرزمین کے حقیقی وارث ہیں۔ یہ ایک ایسے ملک کے حق دار ہیں جو ان کے خواب پورے کرے۔

ایرانی رہنما کہیں گے کہ وہ ایک نیا معاہدہ نہیں کریں گے۔ وہ انکار کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے۔ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو یہی کچھ کہتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک نیا اور پائیدار معاہدہ کریں گے، یہ ایسا معاہدہ ہو گا جس سے پورے ایران اور ایرانی عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو میں اس کے لیے تیار اور رضامند ہوں۔

ایران کے لیے بہت اچھا ہو سکتا ہے اور امن و استحکام کے لیے بھی بہت اچھا کام ہو سکتا ہے جس کی ہم سب مشرق وسطیٰ میں خواہش رکھتے ہیں۔ مصائب، اموات اور تباہی بہت ہو چکی۔ آئیے اب اسے ختم کریں۔

شکریہ، خدا آپ پر رحمت کرے، شکریہ۔

(صدارتی یادداشت پر دستخط کیے جاتے ہیں)

سوال: جناب صدر، اس سے امریکہ کیسے محفوظ ہو جائے گا؟ یہ اقدام امریکہ کو کیسے محفوظ بناتا ہے؟

صدر ٹرمپ: آپ کا بے حد شکریہ۔ اس سے امریکہ بہت زیادہ محفوظ ہو جائے گا۔ آپ کا بے حد شکریہ۔

سوال: کیا وزیر پومپئو قیدیوں کو واپس لا رہے ہیں؟

صدر: شکریہ، وزیر پومپئو اس وقت شمالی کوریا جا رہے ہیں۔ وہ بہت جلد غالباً  ایک گھنٹے میں وہاں ہوں گے۔ انہوں نے وہاں ملاقاتیں کرنا ہیں۔ ہماری ملاقاتیں طے ہیں۔ جگہ، وقت اور تاریخ منتخب کر لی گئی ہے۔ سب کچھ ہو گیا ہے۔ ہم اس سلسلے میں بڑی کامیابی کے منتظر ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بن رہے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ یہ سب کیسے ہوتا ہے۔ شاید ایسا ہو، شاید نہ ہو۔ تاہم یہ شمالی کوریا، جنوبی کوریا، جاپان اور پوری دنیا کے لیے بہت اچھا ہو سکتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے مثبت نتیجہ برآمد ہو گا۔ آپ کا بے حد شکریہ۔

سوال: کیا امریکی رہا ہو رہے ہیں؟

سوال: جناب صدر، کیا امریکی شہری وطن واپس آ رہے ہیں؟

صدر: ہم بہت جلد دیکھ لیں گے، اگر وہ واپس آتے ہیں تو بہت اچھا ہو گا۔ ہم بہت جلد دیکھ لیں گے۔ آپ کا بے حد شکریہ۔

اختتام


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں