rss

مشرق وسطیٰ میں تشدد پر اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس سے امریکی سفیر نکی ہیلی کا خطاب

Facebooktwittergoogle_plusmail
English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, Русский Русский

امریکی مشن برائے اقوام متحدہ
دفتر اطلاعات و عوامی سفارتکاری
مشرق وسطیٰ میں تشدد پر اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس سے امریکی سفیر نکی ہیلی کا خطاب
نیویارک سٹی
جاری کردہ بیان

 
 

محترمہ صدر، آپ کا شکریہ۔ آج کا اجلاس مشرق وسطیٰ میں تشدد کے موضوع پر بات چیت کے لیے بلایا گیا ہے۔ ہم سب کو مشرق وسطیٰ میں تشدد پر تشویش ہے۔ امریکہ کو انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے۔ تاہم اس پورے خطے میں بہت سا تشدد دیکھا جا سکتا ہے۔ میں یہ کہوں گی کہ اس چیمبر میں دہرا معیار بھی بہت عام ہے۔

گزشتہ ہفتے ایرانی فورسز نے شام سے راکٹوں کے ذریعے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ یہ لاپرواہانہ اشتعال انگیزی تھی جسے ختم ہونا چاہیے۔ یہ علاقائی سطح پر تشدد کی ایک مثال ہے جس پر یہاں سلامتی کونسل میں ہمیں توجہ دینی چاہیے۔ گزشتہ ہفتے یمن میں ایرانی آلہ کار فورسز نے سعودی عرب پر میزائل بھی داغے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ انہوں نے ایسا کیا ہو۔ یہ بھی علاقائی تشدد ہے جس پر یہاں سلامتی کونسل میں ہمیں توجہ دینی چاہیے۔ حالیہ دنوں ایرانی پشت پناہی سے حماس کے دہشت گردوں نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور تنصیبات پر حملے کیے۔ اس تشدد پر بھی ہمیں توجہ دینی چاہیے۔

ان تمام واقعات میں مشترک امر ایرانی حکومت کا تخریبی طرزعمل ہے۔ یہ حکومت اپنے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہے جبکہ پورے مشرق وسطیٰ میں تشدد کو بڑھاوا دیتی ہے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ میں اس تشدد پر بات چیت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ہم ایسے طریقہ ہائے کار پر بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں جن کے ذریعے ہم اس تشدد کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کر سکیں۔ شام میں ایران کی تخریبی موجودگی، یمن میں اس کی جانب سے تشدد کے فروغ، غزہ میں اس کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت اور لبنان میں اس کی جانب سے خطرناک اور غیرقانونی ہتھیار جمع کیے جانے پر سلامتی کونسل میں بہت کم بات چیت ہوئی ہے۔

تاہم بعض لوگوں کے خیال میں آج کا اجلاس مشرق وسطیٰ میں تشدد کی کسی ایسی مثال پر بات چیت کے لیے نہیں بلایا گیا۔ آج کا اجلاس اس تشدد پر بات چیت کے لیے بلایا گیا جس کے حوالے سے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا تعلق گزشتہ روز یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کھولنے سے ہے۔ بعض لوگوں کے خیال میں سفارت خانہ کھولا جانا تشدد کی ایک وجہ ہے۔

اس کا کیا جواز بنتا ہے؟

جیسا کہ ہمارے صدر نے دسمبر میں اعلان کرتے ہوئے کہا تھا ہمارے سفارت خانے کے مقام کا یروشلم میں اسرائیلی خودمختاری کی مخصوص حدود یا متنازع سرحدوں کے تصفیے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا یروشلم میں مقدس مقامات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ امن معاہدے پر فریقین کی بات چیت پر اثرانداز نہیں ہوتا۔ یہ کسی طور امن کے امکانات کو کمزور نہیں کرتا۔ اس کے باوجود بعض لوگوں کے لیے مفروضہ طور پر یہی تشدد کی وجہ ہے۔

یاد رہے کہ دہشت گرد تنظیم حماس امریکہ کی جانب سے سفارت خانے کی منتقلی کے فیصلے سے بہت پہلے سالہا سال سے تشدد کو ہوا دے رہی ہے۔

حالیہ دنوں بہت سے اطلاعاتی اداروں نے غزہ میں حماس کی جانب سے تشدد پھیلانے کی خبریں دی ہیں۔ انہوں نے اطلاعات دیں کہ حماس کے نقشوں اور سوشل میڈیا پر حفاظتی باڑ پار کرنے والے مظاہرین کے لیے اسرائیلی علاقوں میں پہنچنے کے مختصر ترین راستوں کی نشاندہی کی گئی۔ انہوں نے حماس کی جانب سے لاؤڈسپیکروں پر جاری کیے جانے والے پیغامات کی اطلاعات دیں جن میں مظاہرین پر زور دیا گیا کہ وہ رکاوٹ توڑ کر آگے جائیں اور جھوٹے دعوے کیے گئے کہ اسرائیلی وہاں سے بھاگ رہے ہیں حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ حماس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے انہی لاؤڈ سپیکروں پر ہجوم سے کہا گیا کہ وہ حفاظتی باڑ کے قریب چلے جائیں۔

حماس نے کیرم شالوم کے چوراہے پر حملہ کیا جو غزہ میں ایندھن، خوراک اور طبی سازوسامان پہنچانے کا سب سے بڑا راستہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی زندگیوں کو مصائب کا شکار کرنے میں کس قدر پرعزم ہیں۔ انہوں نے پتنگوں پر آتشیں بم باندھ کر انہیں اسرائیلی حدود میں اڑایا تاکہ ہرممکن حد تک زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلائی جا سکے۔ گزشتہ روز جب ایک دہشت گرد سے پوچھا گیا کہ اس نے اپنی جلتی ہوئی پتنگ پر سواستیکا کا نشان کیوں بنایا تو اس نے جواب دیا کہ ‘جب ہٹلر کی بات ہو تو یہودی پاگل ہو جاتے ہیں’

غزہ کے لوگوں کو اسی سے خطرہ ہے۔ یہ سمجھنے میں کوئی غلطی نہ کی جائے کہ حماس گزشتہ روز کے نتائج سے بے حد خوش ہے۔

میں یہاں سلامتی کونسل میں اپنے ساتھیوں سے پوچھتی ہوں کہ ہم میں کون اپنی سرحد پر اس طرح کی سرگرمی کو پسند کرے گا؟ کوئی نہیں کرے گا۔ یہاں موجود کوئی ملک اسرائیل سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ درحقیقت یہاں موجود متعدد ممالک کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسرائیل کی نسبت کہیں کم تحمل دکھائیں گے۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ غزہ میں ہونے والے تشدد کا امریکی سفارت خانے کے مقام سے کوئی تعلق ہے وہ سخت غلطی پر ہیں۔ اس کے بجائے تشدد ان لوگوں کی جانب سے ہوا جو کہیں بھی اسرائیلی ریاست کے وجود کو مسترد کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے رکن ملک کی تباہی جیسی ترغیب اس قدر ناجائز ہے کہ مذمت کے علاوہ سلامتی کونسل میں اس پر بات نہیں ہونی چاہیے۔

گزشتہ روز یروشلم میں ہمارا سفارت خانہ کھولا جانا امریکی عوام کے لیے خوشی کا باعث ہے۔ امریکی سفارت خانے کی منتقلی ایک درست اقدام تھا۔ یہ امریکی عوام کی خواہش کا اظہار ہے۔ یہ ہمارے سفارت خانے کے مقام کی بابت فیصلے بارے ہمارے حق کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا حق ہے جو یہاں موجود ہر ملک کو حاصل ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہمارے سفارت خانے کی یروشلم منتقلی سے اس حقیقت کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ یہ اسرائیلی ریاست کے قیام سے اس کا دارالحکومت چلا آیا ہے۔ یہ یہودی عوام کا قدیمی دارالحکومت ہے۔

ایسا کوئی معقول امن معاہدہ نہیں ہو سکتا جس کے تحت یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت نہ رہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے امن مزید قابل حصول ہو جائے گا۔

امریکہ ہر طرح سے امن بات چیت اور امن معاہدے کی حمایت کے لیے تیار ہے۔ ہم امن سے زیادہ کچھ نہیں چاہتے۔ ایسا امن جس میں ہر عقیدے کے لوگوں کو یروشلم میں عبادت کی آزادی ہو۔ ایسا امن جس میں تمام لوگوں کے حقوق کا احترام ہو اور تمام لوگوں کے مستقبل کے امکانات روشن ہوں۔ یہ امن اسی صورت حاصل ہو سکتا ہے اگر اس کی جڑیں ان حقائق میں ہوں گی جن سے بہت سے لوگ انکار کرتے ہیں۔ گزشتہ روز امریکی اقدام سے حقیقت اور امن کی خواہش کو فروغ ملا۔ یہ ہماری مخلصانہ خواہش ہے کہ اقوام عالم قابل اعتبار، حقیقت پسندانہ اور پائیدار امن کی جستجو میں ہمارا ساتھ دیں۔

اپنی بات ختم کرتے ہوئے میں اسرائیلی آزادی کی 70ویں سالگرہ کا تذکرہ کروں گی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی عوام کی جانب سے میں آزادی کے 70 سال کی تکمیل جیسی غیرمعمولی کامیابی پر اسرائیل میں اپنے دوستوں کو مبارک باد دیتی ہوں۔ عاجزانہ اور دلیرانہ شروعات کے ساتھ ایک پرفخر قوم کو پیغمبر اشعیا کی روشن سوچ ملی۔ دعا ہے کہ آپ کے اگلے 70 برس مضبوطی، امید اور امن سے عبارت ہوں۔ شکریہ۔


اصل مواد دیکھیں: https://usun.state.gov/remarks/8431
یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں