rss

معاہدے کے بعد: ایران کے بارے میں نئی حکمت عملی

فارسی فارسی, English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
وزیرخارجہ مائیک پومپئو کا بیان
21 مئی 2018
دی ہیریٹیج فاؤنڈیشن
واشنگٹن، ڈی سی

 

وزیرخارجہ پومپئو: سبھی کو صبح بخیر۔ میں سب سے پہلے ہیریٹیج فاؤنڈیشن اور اس کی صدر کے کولز جیمز کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ مجحے آج یہاں مدعو کرنے پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ پہلے عام شہری، پھر کانگریس کے رکن کی حیثیت سے اور آج بھی عالمی امور اور سرکاری پالیسی سے متعلق معاملات پر میری سوچ کی تشکیل میں ہیریٹیج فاؤنڈیشن کا اہم کردار ہے۔ میں اس شاندار کام پر احسان مند ہوں۔

مجھے یہ یاد دلانے کا شکریہ کہ میں آج اپنے موضوع سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کر سکتا (قہقہہ) تین سال ہو گئے، یہاں آنا میرے لیے اعزاز ہے۔

دو ہفتے قبل صدر ٹرمپ نے ‘مشترکہ جامع منصوبہ عمل’ میں امریکی شمولیت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا جسے ایرانی جوہری معاہدے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کی وجہ سادہ سی ہے کہ یہ امریکی عوام کو اسلامی جمہوریہ ایران کے رہنماؤں کی جانب سے درپیش خدشات سے تحفظ کی ضمانت مہیا کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔

مزید نہیں۔ ایرانی سرقہ بازوں کے لیے اب مزید دولت بنانے کے راستے بند ہوں گے۔ اب ریاض اور گولان کی پہاڑیوں پر میزائل داغنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران کو پاؤں پھیلانے کی قیمت چکانا ہو گی۔ کافی ہو گیا۔

‘جے سی پی او اے’ میں پائی جانے والی مہلک خامیوں کے سبب دنیا خطرے میں پڑ گئی ہے۔ آج انہیں دہرانا کسی حد تک ضروری ہے چاہے اس سے یہ یقین دہانی حاصل کرنا ہی مقصود ہو کہ مستقبل میں ایسی غلطیاں دہرائی نہیں جائیں گی۔

مثال کے طور پر ‘جے سی پی او اے’ ایک مخصوص مدت کے لیے کیا گیا معاہدہ ہے جو مستقبل میں ایرانی حکومت کو جوہری ہتھیار بنانے کی اہلیت کے حصول سے نہیں روکتا۔

جب اس معاہدے کی مدت ختم ہو جائے گی تو ایران فوری طور پر بم بنانے کے لیے آزاد ہو گا جس سے خطے میں ہتھیاروں کی تباہ کن دوڑ شروع ہو جائے گی۔ مزیدبراں جیسا کہ اسرائیل کی جانب سے حالیہ انٹیلی جنس کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے ایران نے سالہا سال تک جوہری پروگرام کی موجودگی کے حوالے سے جھوٹ بولا ہے۔ ایران بدنیتی سے ‘جے سی پی او اے’ میں شامل ہوا تھا۔ آج بھی یہ حکومت دروغ گوئی سے کام لے رہی ہے۔

گزشتہ ماہ ہی ایرانی وزیرخارجہ ظریف نے ایک اتوار کو صبح کے خبری پروگرام میں کہا تھا کہ ‘ہم نے کبھی بم بنانے کی خواہش نہیں کی’

اگر اس دعوے کے پیچھے عمداً دھوکہ دہی نہ ہوتی تو اس پر ہنسا ہی جا سکتا تھا۔ ناصرف ‘اے ایم اے ڈی’ پروگرام وجود رکھتا ہے بلکہ ایرانی اس کی حفاظت، اسے چھپانے اور محسن فخرزادہ ماہابادی اور اس کے جوہری سائنسدانوں کے جتھے کا کام جاری رکھنے کے لیے بے حد احتیاط کرتے ہیں، اگرچہ آج کل ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انہیں اسے خفیہ رکھنے کی بھی اتنی پروا نہیں ہے۔

‘جے سی پی او اے’ میں اضافی خامیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ معاہدے سے متعلق ایرانی تعاون کی جانچ اور تصدیق کا طریق کار بھی خاطرخواہ نہیں تھا۔ اس معاہدے نے ایران کی جانب سے بلسٹک اور کروز میزائل بنانے کی ایرانی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کچھ نہیں کیا۔ یہ ایسے میزائل ہیں جن کے ذریعے جوہری بم بھی داغے جا سکتے ہیں۔

‘جے سی پی او اے’ کے نتیجے میں ایرانی حکومت کو رقم اس لیے ملی تھی کہ اس سے وہاں کے عوام کی معاشی قسمت میں تبدیلی آئے مگر ایرانی رہنماؤں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بجائے حکومت نے اس نودریافت شدہ خزانے کو مشرق وسطیٰ میں اپنے آلہ کاروں کے ذریعے جنگوں کو ہوا دینے اور پاسداران انقلاب، حزب اللہ، حماس اور حوثیوں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔

یاد رہے: ایران نے ‘جے سی پی او اے’ کے دوران مشرق وسطیٰ میں پیش قدمی کی۔ قاسم سلیمانی اسی رقم کو استعمال کر رہے ہیں جو اب خونی رقم بن چکی ہے۔ مغرب کی دی ہوئی دولت نے ان کی مہمات میں مدد دی۔

تزویراتی طور پر دیکھا جائے تو اوبامہ انتظامیہ نے یہ جوا کھیلا تھا کہ اس معاہدے سے ایران کے سرکش اقدامات کے خاتمے میں مدد ملے گی اور وہ عالمی اصولوں کی پاسداری کرے گا۔ یہ جوا ناکام رہا اور اس ناکامی کے بھاری اثرات مشرق وسطیٰ میں رہنے والے تمام لوگوں کو سہنا پڑے ہیں۔

جان کیری نے ‘جے سی پی او اے’ کو مشرق وسطیٰ میں استحکام کا ستون قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘میں جانتا ہوں مشرق وسطیٰ خطرات کے دھانے پر کھڑا ہے اور اور اس معاہدے سے صورتحال میں بہتری آئے گی’

کیا آج مشرق وسطیٰ کی صورتحال اس وقت سے زیادہ بہتر ہو چکی ہے جب یہ معاہدہ عمل میں لایا گیا تھا۔

آج لبنان میں حزب اللہ کے حالات اس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جب ہم نے یہ جوہری معاہدہ طے کیا تھا۔ اب حزب اللہ کو ایران نے پوری طرح مسلح کر دیا ہے اور وہ اسرائیل پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔

ایران کی بدولت حزب اللہ نے شام میں عسکری مہم کے لیے زمینی فورسز مہیا کی ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب ہزاروں جنگجوؤں کو اسد کی قاتل حکومت کی مدد کے لیے شام بھیج رہے ہیں اور انہوں نے ملک کے 71 ہزار مربع میل علاقے کو قتل گاہ بنانے میں مدد دی ہے۔

ایران نے اس تنازع کو دوام بخشا ہے جس کے نتیجے میں 60 لاکھ شامی اندرون ملک بے گھر ہو گئے ہیں اور 50 لاکھ بیرون ملک پناہ کی تلاش میں ہیں۔

ان مہاجرین میں وہ غیرملکی جنگجو بھی شامل ہیں جو سرحدیں عبور کر کے یورپی میں داخل ہو گئے ہیں اور ان ممالک میں دہشت گردی کی وارداتیں کر رہے ہیں۔

ایران نے عراق میں سکیورٹی فورسز کو کمزور کرنے کے لیے شیعہ ملیشیا گروہوں اور دہشت گردوں کی معاونت کی اور عراقی خودمختاری کو نقصان پہنچایا جبکہ یہ سب کچھ ‘جے سی پی او اے’ میں رہتے ہوئے کیا گیا۔

یمن میں حوثی ملیشیا کے لیے ایرانی مدد نے ایسی جنگ کے شعلے بھڑکائے جس کے نتیجے میں یمنی لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور ان پر دہشت گردی کے خطرے کا تسلط ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے حوثیوں کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سویلین اہداف پر حملوں اور بحیرہ قلزم میں عالمی جہازرانی کے لیے خطرات پیدا کرنے کی غرض سے میزائل بھی دیے ہیں۔

افغانستان میں ایران طالبان کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کر رہا ہے جس سے ناصرف تشدد کو فروغ حاصل ہوا ہے بلکہ افغان عوام کے لیے امن اور استحکام میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔

آج ایران کی قدس فورس یورپ کے اندر خفیہ قاتلانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ‘جے سی پی او اے’ کے دوران ایران نے امریکیوں کو یرغمال بنانا جاری رکھا۔ باقر نمازی، سیامک نمازی، ژی یوئی وانگ اور باب لیونسن 11 برس سے ایران میں لاپتہ ہیں۔

میں امریکی عوام سے کہوں گا کہ آپ کو علم ہونا چاہیے کہ ہم ایران میں لاپتہ اور غلط طور سے قید ہر امریکی کو وطن واپس لانے کے لیے تندہی سے کام کر رہے ہیں۔

ایرانی خلاف ورزیوں کی فہرست دراز ہے۔ ایران ‘جے سی پی او اے’ کے دوران بھی دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا معاون رہا۔ یہ نائن الیون کے بعد سے بدستور القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہ ہے اور تہران میں موجود القاعدہ کے اعلیٰ ارکان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے راضی نہیں۔

آج ہم ایرانی عوام سے پوچھتے ہیں: کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ملک کی یہی شہرت رہے کہ اسے حزب اللہ، حماس، طالبان اور القاعدہ کے معاون سازشی کے طور پر جانا جائے؟ امریکہ سمجھتا ہے کہ آپ اس سے بہتر کے حقدار ہیں۔

میرے پاس ایرانی عوام کے لیے غوروفکر کی غرض سے ایک اضافی نکتہ بھی ہے۔ یہاں مغرب میں صدر روحانی اور وزیرخارجہ ظریف کو عموماً حکومت کے غیردانشمندانہ دہشت گرد اور مضرت رساں طرزعمل سے ہٹ کر لیا جاتا ہے۔ ان سے قدرے مختلف طرز کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔

مغرب کہتا ہے ‘اگر وہ آیت اللہ خامنائی اور قاسم سلیمانی کو قابو کر لیں تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے’ روحانی اور ظریف آپ کے منتخب رہنما ہیں۔ کیا وہ آپ کے معاشی مسائل کے اولین ذمہ دار نہیں ہیں؟ کیا یہ دونوں مشرق وسطیٰ میں ایرانی جانوں کے ضیاع کے ذمہ دار نہیں ہیں؟

ایرانی عوام کا اس پر غور کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ حکومت اپنے عوام کی مدد کرنے کے بجائے ایرانی سرحدوں سے بحیرہ روم کے ساحلوں تک راستہ بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ایران اپنے جنگجوؤں اور جدید ہتھیاروں کے نظام کو اسرائیل کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے راستہ چاہتا ہے۔ درحقیقت حالیہ دنوں میں ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک مسلح ڈرون طیارہ اسرائیلی فضائی حدود میں اڑایا اور شامی حدود سے گولان کی پہاڑیوں پر راکٹ داغے۔ اس موقع پر ہمارے ثابت قدم اتحادی نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ امریکہ اس کی واضح اور کھلی حمایت جاری رکھے گا۔

چنانچہ یہ جوا ناکام رہا کہ ‘جے سی پی او اے’ سے مشرق وسطیٰ میں مزید استحکام آئے گا۔ یہ امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور درحقیقت پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ یہ بات واضح ہے کہ ‘جے سی پی او اے’ نے ایران کے جوہری عزائم کا خاتمہ نہیں کیا اور نہ ہی اس نے علاقائی بالادستی کے لیے ایرانی جستجو پر کوئی اثر ڈالا ہے۔ ایرانی رہنماؤں نے اس معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں پیش قدمی کا اشارہ سمجھا۔

چنانچہ صدر کی جانب سے اکتوبر میں ایران بارے حکمت عملی سے متعلق امریکی عزم ہی مستقبل کی راہ ہے اور اب ایرانی مسئلے سے ‘جے سی پی او اے’ سے باہر نمٹا جائے گا۔

ہم ایرانی حکومت کی جانب سے خطے میں تخریبی سرگرمیوں سے نمٹنے، اس کی جانب سے دہشت گردی کی مالی امداد روکنے اور میزائلوں نیز دوسری جدید ہتھیاروں کے نظام کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے جس سے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔ ہم یہ امر بھی یقینی بنائیں گے کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کا کوئی راستہ نہ ہو۔

‘جے سی پی او اے’ سے ہماری دستبرداری کے بعد صدر ٹرمپ نے مجھے ایران کی بابت ان اہداف کے حصول کے بارے میں کہا۔ ہم مختلف خطوط پر ان اہداف کے حصول کی کوشش کریں گے۔

سب سے پہلے ہم ایرانی حکومت پر بے مثل مالیاتی دباؤ ڈالیں گے۔ ایرانی رہنماؤں کو اس بارے میں ہماری سنجیدگی پر کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔

محکمہ خزانہ میں ہمارے ساتھیوں کی بدولت ایران پر پابندیاں بھرپور طور سے دوبارہ عائد کر دی گئی ہیں اور نئی پابندیاں بھی آ رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہم نے ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ اور دیگر اداروں پر پابندیاں لگائیں جو پاسداران انقلاب کی قدس فورس کو مالی وسائل مہیا کر رہے تھے۔ وہ حزب اللہ اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کو بھی رقم فراہم کر رہے ہیں۔ ایرانی حکومت کو علم ہونا چاہیے کہ یہ محض آغاز ہے۔

اگر ایرانی حکومت نے اپنا منتخب کردہ ناقابل قبول اور غیرمفید راستہ تبدیل نہ کیا تو یہ پابندیاں تکلیف دہ ہوں گی۔ جب انہیں مکمل طور سے نافذ کیا جائے گا تو درحقیقت یہ تاریخ کی کڑی ترین پابندیاں ہوں گی۔

ایرانی حکومت سالہا سال تک مشرق وسطیٰ میں لڑتی رہی ہے۔ جب ہماری پابندیاں عمل میں آئیں گی تو اسے اپنی معیشت کے لیے جدوجہد کرنا پڑے گی۔

ایران کو اپنی معیشت سنبھالنے یا اپنی قیمت بدولت بیرون ملک جنگجوؤں پر خرچ کرنے میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہو گا۔ اس کے پاس ان دونوں کاموں کے لیے وسائل نہیں ہوں گے۔

دوسری بات یہ کہ میں ایرانی جارحیت روکنے کے لیے محکمہ دفاع اور اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کروں گا۔

ہم خطے میں جہازرانی کی آزادی یقینی بنائیں گے۔ ہم ایران کی جانب سے ضرررساں سائبر سرگرمی کی روک تھام کے لیے کام کریں گے۔ ہم دنیا بھر میں سرگرم عمل ایرانی آلہ کاروں کو ڈھونڈیں گے اور ان کا خاتمہ کریں گے۔ ایران کو مشرق وسطیٰ پر بالادستی کے لیے اب کھلی چھوٹ نہیں ملے گی۔

میں ایرانی رہنماؤں کو صدر ٹرمپ کی بات یاد دلانا چاہوں گا۔ اگر انہوں نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو اس سے مزید بڑے مسائل جنم لیں گے، یہ اتنے بڑے مسائل ہوں گے جن کا انہوں نے پہلے سامنا نہیں کیا ہو گا۔

تیسری بات یہ کہ ہم ایرانی عوام کی بھی انتھک طور سے حمایت کریں گے۔ ایرانی حکومت کو اپنے عوام سے سلوک بہتر بنانا ہو گا۔ اسے ہر ایرانی کے انسانی حقوق کا تحفظ کرنا ہو گا۔ اسے ایرانی دولت بیرون ملک ضائع کرنے کا عمل روکنا ہو گا۔

ہم اپنے عالمگیر شراکت داروں سے کہتے ہیں کہ وہ ایران کی جانب سے اپنے لوگوں سے روا رکھے گئے طرزعمل کی مذمت میں ہمارا ساتھ دیں۔

گزشتہ چند ماہ میں ہونے والے مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی عوام کو اپنی حکومت کی ناکامیوں پر شدید مایوسی ہے۔

ایران کے برے فیصلوں کے سبب اس کی معیشت مشکلات سے دوچار ہے۔ کارکنوں کو معاوضے نہیں مل رہے، ہڑتال روز کا معمول ہے اور ریال تیزی سے قدر کھو رہا ہے۔ نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 25 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

ایران کی قدرتی وسائل کی بابت حکومتی بدانتظامی کے نتیجے میں شدید خشک سالی اور دوسری ماحولیاتی مسائل نے جنم لیا ہے۔

دیکھیے، ان مسائل کے ساتھ ایران میں بدعنوانی انتہائی حدود کو چھو رہی ہے اور ایرانی عوام کو اس کا اندازہ ہے۔ گزشتہ موسم سرما میں ہونے والے مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ حکومت کی جانب سے وسائل لوٹے جانے پر غصے میں ہیں۔ ایرانیوں کو حکومتی اشرافیہ پر غصہ ہے جو کروڑوں ڈالر عسکری کارروائیوں اور بیرون ملک دہشت گرد گروہوں پر خرچ کر رہی ہے جبکہ ایرانی عوام نوکریوں، مواقع اور آزادی سے عبارت عام سی زندگی کے لیے رو رہے ہیں۔

ان مظاہروں پر ایرانی حکومت کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی قیادت خوفزدہ ہو چکی ہے۔ ہزاروں لوگوں کو من مانے طور سے جیلوں میں ڈالا گیا ہے اور درجنوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

جیسا کہ حجاب والے مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے حکومت کے ظالم لوگ خاص طور پر ایرانی عورتوں سے خوفزدہ ہیں جو اپنے حقوق مانگ رہی ہیں۔ خلقی وقار اور ناقابل انتقال حقوق کی حامل انسانوں کے طور پر ایرانی عورتیں انہی آزادیوں کی حقدار ہیں جو ایرانی مردوں کو حاصل ہیں۔

ایرانی حکومت اپنے نظریے سے انحراف کرنے والوں پر سالہا سال سے سوچی سمجھی دہشت اور تشدد مسلط کیے ہوئے ہے۔

ایرانی حکومت کو آئینے میں دیکھنا ہو گا۔ ایرانی عوام خصوصاً وہاں کے نوجوان معاشی، سیاسی اور سماجی تبدیلی کے بے حد خواہاں ہیں۔

امریکہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے جو ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں معاشی مواقع ہوں، شفاف حکمرانی ہو، شہریوں سے منصفانہ سلوک ہوتا ہو اور وہ آزادانہ طور سے زندگی بسر کر سکیں۔

ہم امید کرتے ہیں، درحقیقت ہمیں توقع ہے کہ ایرانی حکومت ہوش کے ناخن لے گی اور اپنے ہی شہریوں کی خواہشات کو دبانے کے بجائے ان کی تکمیل میں مدد کرے گی۔

ہم ناصرف اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں بلکہ ایران کے ساتھ مل کر بھی نئے قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم یہ تبھی ممکن ہو گا جب ایران بڑی تبدیلیوں پر رضامندی ظاہر کرے گا۔

جیسا کہ صدر ٹرمپ نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ وہ ایک نئے معاہدے کے لیے تیار اور رضامند ہیں اور اس پر بات چیت کر سکتے ہیں۔ تاہم معاہدہ ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ہمارا مقصد امریکی عوام کا تحفظ ہے۔

کسی بھی نئے معاہدے میں یہ امر یقینی بنایا جائے گا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پائے اور یہ معاہدہ ایرانی ضرررساں طرزعمل کو اس طرح روکے گا جو ‘جے سی پی او اے’ کبھی نہ روک پاتا۔ ہم ماضی کی امریکی حکومتوں کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور ‘جے سی پی او اے’ پر دوبارہ بات چیت نہیں کریں گے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران خطے میں ایران کی جانب سے تباہی کی لہر اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی جوہری خواہشات کو سلامتی کے مجموعی منظرنامے سے علیحدہ نہیں دیکھا جا سکتا۔

تو پھر کیا ہونا چاہیے؟ ہمیں یہاں سے شروع کرنا ہو گا کہ ہم ایران سے کیا چاہتے ہیں؟

پہلی بات، ایران کو چاہیے کہ ‘آئی اے ای اے’ کو اپنے جوہری پروگرام کے سابقہ عسکری پہلوؤں سے آگاہ کرے اور ایسے کام کو ہمیشہ کے لیے مستقل اور قابل تصدیق طور سے ترک کرے۔

دوسری بات، ایران کو بہرصورت افزودگی روکنا ہو گی اور کبھی پلوٹونیم کی ری پراسیسنگ کی کوشش نہ کی جائے۔ اس میں بھاری پانی کے ری ایکٹر کی بندش بھی شامل ہے۔

تیسری بات، ایران کو پورے ملک میں تمام تنصیبات تک ‘آئی اے ای اے’ کو بلا روک ٹوک رسائی فراہم کرنی چاہیے۔

ایران کو بلسٹک میزائلوں کا پھیلاؤ روکنا ہو گا اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل میزائل نظام کی تنصیب یا اس پر کام بند کرنا ہو گا۔

ایران کو تمام امریکی شہریوں بشمول جھوٹے الزام میں قید ہمارے شراکت داروں اور اتحادیوں کے لوگوں کو رہا کرنا ہو گا۔

ایران کو مشرق وسطیٰ کے دہشت گرد گروہوں بشمول لبنانی حزب اللہ، حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کی حمایت بند کرنا ہو گی۔

ایران کو عراقی حکومت کی خودمختاری کا احترام کرنا ہو گا اور شیعہ ملیشیاؤں کو غیرمسلح کرنے نیز ان کا کردار اور دوبارہ یکجائی ختم کرنے کی اجازت دینا ہو گی۔

ایران کو حوثی ملیشیا کے لیے اپنی حمایت بھی بند کرنا ہو گی اور یمن میں پرامن سیاسی تصفیے کے لیے کام کرنا ہو گا۔

ایران کو شام بھر میں اپنی کمان میں تمام فورسز کو واپس بلانا ہو گا۔

ایران کو افغانستان اور خطے میں طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کی مدد بھی بند کرنا ہو گی اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کو ٹھکانے فراہم کرنے کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔

ایران کو دنیا بھر میں دہشت گردوں اور اپنے عسکریت پسند شریک کاروں کے لیے قدس فورس کی معاونت بھی بند کرنا ہو گی۔

ایران کو اپنے ہمسایوں کے خلاف خطرناک طرزعمل بند کرنا ہو گا جن میں سے بیشتر امریکی اتحادی ہیں۔ اس میں ایران کی جانب سے اسرائیل کو تباہ کرنے کی دھمکیاں نیز سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر میزائل داغے جانا بھی شامل ہیں۔ اس میں عالمگیر جہازرانی کو خطرات اور تباہ کن سائبر حملے بھی شامل ہیں۔

یہ فہرست طویل ہے تاہم اگر آپ اس پر ایک نظر ڈالیں تو اس میں 12 بنیادی چیزوں کی مانگ کی گئی ہے۔ اس فہرست کی طوالت سے ایران کے مضرت رساں طرزعمل کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ فہرست ہم نے نہیں بلکہ انہوں نے بنائی ہے۔

اپنے یورپی دوستوں کے ساتھ بات چیت سے میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ بڑی حد تک ان کے خیالات بھی یہی ہیں کہ ایرانی حکومت کو عالمی برادری میں قبولیت حاصل کرنے کے لیے یہ اقدامات اٹھانا چاہئیں۔ میں کہتا ہوں کہ امریکی اتحادی ایرانی حکومت کو ذمہ دارانہ طرزعمل پر مجبور کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔

ایران میں بڑی تبدیلیوں کے بدلے میں امریکہ ایسے اقدامات کے لیے تیار ہے جن سے ایرانی عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ ان میں بہت سی چیزیں شامل ہیں۔

پہلی بات، جب یہ مقصد حاصل ہو گیا تو ہم ایرانی حکومت کے خلاف ہر پابندی اٹھانے کے لیے تیار ہوں گے۔ اس موقع پر ہمیں ایران کے ساتھ مکمل سفارتی اور تجارتی تعلقات ازسرنو قائم کر کے خوشی ہو گی اور ہم ایران کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی اجازت دیں گے۔ اگر ایران یہ بنیادی تزویراتی تبدیلی لاتا ہے تو ہم بھی ایرانی معیشت کو عالمی معاشی نظام میں جدت اور یکجائی کے حصول میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔

مگر ایران کو اسی وقت چھوٹ ملے گی جب ہم تہران کی پالیسیوں میں واضح، عملی اور پائیدار تبدیلیاں دیکھیں گے۔ ہم اپنے عوام کے دفاع کے لیے ایران کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ مگر اس کے ان اقدامات کو نہیں مانتے جن سے دنیا کے لوگوں کو نقصان ہوتا ہو۔

گزشتہ امریکی انتظامیہ سے برعکس ہم کانگریس کو بھی اس عمل میں شراکت دار کے طور پر شامل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری کوششوں کو امریکی عوام کی وسیع حمایت حاصل ہو اور ٹرمپ انتظامیہ کے بعد بھی یہ اقدامات جاری رہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم معاہدے کو ترجیح دینا چاہیں گے۔

‘جے سی پی او اے’ سے برعکس صدر ٹرمپ کی تجاویز کے لیے ہمارے منتخب نمائندوں اور امریکی عوام سے وسیع حمایت حاصل کی جائے گی۔ آج ہم جو حکمت عملی سامنے لائے ہیں اس کے لیے ہم خطے اور دنیا بھر میں اپنے انتہائی اہم اتحادیوں اور شراکت کاروں کی حمایت چاہتے ہیں۔ یقیناً اس میں ہمارے یورپی دوست بھی شامل ہیں مگر ان کے علاوہ بھی بہت سے ممالک کی مدد درکار ہے۔

میں چاہتا ہوں آسٹریلوی، بحرینی، مصری، انڈین ، جاپانی، اردنی، کویتی، اومانی، قطری، سعودی، جنوبی کوریائی، اماراتی اور دنیا بھر میں بہت سے دوسرے ممالک بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اس کوشش میں ہمارا ساتھ دیں۔ میں جانتا ہوں کہ ان ممالک کے اہداف بھی ہم جیسے ہیں۔ وہ اس مسئلے کو اسی طرح دیکھتے ہیں جیسے امریکہ دیکھتا ہے۔ درحقیقت ہم جوہری خطرات، دہشت گردی، میزائلوں کے پھیلاؤ سے اکتائے ہوئے اور پریشان ہر ایسے ملک کا خیرمقدم کرتے ہیں جو عالمی امن کی مخالف اور معصوم لوگوں پر بدنظمی مسلط کرنے والی اس حکومت سے تحفظ چاہتا ہے۔

درحقیقت بعض لوگوں کے خیال میں ہم ایرانی طرزعمل جو تبدیلیاں چاہتے ہیں وہ غیرحقیقی ہو سکتی ہیں مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم جو کچھ چاہتے ہیں اسی پر ‘جے سی پی او اے’ سے قبل دنیا کا اتفاق تھا۔

مثال کے طور پر 2012 میں صدر اوباما نے کہا تھا کہ ‘ہم جو معاہدہ قبول کریں گے وہ یہ ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام ختم کر دے گا’۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ 2006 میں پی5 ممالک نے سلامتی کونسل میں قرارداد منظور کی کہ ایران فوری طور پر افزودگی سے متعلق اپنی تمام سرگرمیاں بند کر دے۔ یہ بھی نہ ہوا۔

2013 میں فرانسیسی وزیرخارجہ نے کہا کہ وہ ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت دینے کے معاملے پر ‘اوچھے ہتھکنڈوں’ کا شکار ہونے کی بابت محتاط ہیں۔

2015 میں جان کیری نے کہا کہ ‘ہم افزودگی کے حق کو تسلیم نہیں کرتے’ تاہم اس وقت بھی ایرانی یورینیم افزودہ کرنے میں مصروف ہیں۔

چنانچہ ہم صرف یہی کہہ رہے ہیں کہ ایرانی طرزعمل عالمگیر اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے، یہ وہ اصول ہیں جنہیں ‘جے سی پی او اے’ سے قبل وسیع طور سے تسلیم کیا گیا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی اس جوہری صلاحیت کا خاتمہ ہو جس سے ہماری دنیا کو خطرات لاحق ہیں۔

جہاں تک ایران کی جوہری سرگرمیوں کا تعلق ہے تو ہم اسے اس سے زیادہ صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت کیوں دیں جتنی متحدہ عرب امارات کو دی گئی ہے یا اس معاملے میں جتنی ہم سعودی عرب سے توقع رکھتے ہیں؟ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہماری جانب سے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ اور ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی آئندہ مہم ہمارے بہت سے دوستوں کے لیے مالیاتی اور معاشی مشکلات لائے گی۔ درحقیقت اس سے امریکہ کے لیے بھی معاشی مسائل پیدا ہوں گے۔ یہ وہ منڈیاں ہیں جہاں ہمارا کاروبار بھی ہوتا ہے۔ ہم اپنے کاروباری لوگوں کے خدشات بھی سننا چاہتے ہیں۔ مگر جو ایران سے کاروبار کرے گا ہم اس سے بازپرس کریں گے۔ آئندہ ہفتوں میں ہم ماہرین کی ٹیمیں دنیا بھر کے ممالک میں بھیجیں گے جو امریکی حکمت عملی کی وضاحت اور ہماری جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے اثرات بیان کریں گی۔

میں جانتا ہوں۔ میں نے اپنے ابتدائی تین ہفتوں میں امریکی اتحادیوں کے ساتھ خاصا وقت گزارا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ہو سکتا ہے وہ ایران کے ساتھ اپنا پرانا معاہدہ جاری رکھنے کا فیصلہ کریں۔ یقیناً یہ فیصلہ انہی کو کرنا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

آئندہ برس ایران میں اسلامی انقلاب کی 40 ویں سالگرہ ہے۔ اس موقع پر ہمیں پوچھنا ہے: ایرانی انقلاب نے ایرانی عوام کو کیا دیا؟ ایرانی حکومت مشرق وسطیٰ میں اپنے لوگوں کی قیمت پر تکالیف اور موت کی فصل کاٹ رہی ہے۔ ایرانی معیشت جامد ہو چکی ہے جس کی کوئی سمت نہیں اور یہ مزید بدتر صورت اختیار کر رہی ہے۔ اس کے نوجوان مایوس کن عزائم کے بوجھ تلے پژمردہ ہو رہے ہیں۔ وہ آزادیوں اور 21 ویں صدی کے مواقع کے حصول کے متمنی ہیں۔

اگر ایرانی رہنما چاہیں تو اس صورتحال کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ علی خامنائی 1989 سے سپریم لیڈر ہیں۔ وہ ہمیشہ نہیں رہیں گے اور نہ ہی ایرانی عوام ہمیشہ جابروں کے کڑے ضوابط کو تسلیم کریں گے۔ دو نسلوں تک ایرانی حکومت نے اپنے ہی لوگوں اور دنیا کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ اب وقت ہے کہ سپریم لیڈر اور ایرانی حکومت اپنے لوگوں، اس قدیم اور پرفخر قوم کے فائدے کے لیے کوئی تاریخی قدم اٹھائیں ۔

جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو ہم اس حکومت کی فطرت سے اچھی طرح واقف ہیں مگر ہم نے کسی بھی امکان کے لیے اپنے کان کھلے رکھے ہیں۔ ماضی کی امریکی حکومتوں سے برعکس ہم ایسے نتائج کے منتظر ہیں جن سے صرف خطے کو ہی نہیں بلکہ ایرانی عوام کو بھی فائدہ پہنچے۔

اگر کسی کو، خصوصاً ایرانی رہنماؤں کو صدر کے اخلاص یا ان کی سوچ پر شبہ ہے تو وہ شمالی کوریا کے ساتھ ہماری سفارت کاری کا جائزہ لیں۔ کم جانگ ان سے ملاقات پر ہماری رضامندی سے ٹرمپ انتظامیہ کا یہ عزم نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ وہ بڑے مسائل حتیٰ کہ ہمارے پکے دشمنوں سے بھی سفارت کاری کے ذریعے نمٹنا چاہتی ہے۔ تاہم اس رضامندی کے ساتھ دباؤ کی ایک تکلیف دہ مہم بھی شامل ہے جو اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کی بابت ہمارے ارادے کا اظہار ہے۔

میں آیت اللہ، صدر روحانی اور دوسرے ایرانی رہنماؤں سے کہتا ہوں یہ بات سمجھ لیں کہ آپ کی موجودہ سرگرمیوں سے آہنی عزم کے ساتھ نمٹا جائے گا۔

آج میرا آخری پیغام دراصل ایرانی عوام کے لیے ہے۔ میں صدر ٹرمپ کے اکتوبر میں کہے گئے الفاظ دہرانا چاہتا ہوں۔ صدر ترمپ نے کہا تھا کہ ‘ہم ایرانی حکومت کے دیرینہ متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جو کہ ایرانی عوام ہیں۔ ایران کے عوام نے اپنے رہنماؤں کی جانب سے تشدد اور انتہاپسندی کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ایرانی عوام اپنے ملک کی فخریہ تاریخ، ثقافت اور تہذیب کی واپسی نیز ہمسایوں کے ساتھ اس کے تعاون کی بحالی کے متمنی ہیں۔

امریکہ کو امید ہے کہ امن اور سلامتی کے لیے ہماری کوششیں طویل عرصہ سے مصائب کا شکار ایرانی عوام کے لیے ثمرآور ثابت ہوں گی۔ ہم انہیں ماضی کی طرح خوشحال اور پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ان کی حالت پہلے سے بہتر ہو۔

آج امریکہ کو اس مقصد کے حصول کی خاطرہ نئی راہ اختیار کرنے پر فخر ہے۔ شکریہ (تالیاں)

مس جیمز: بے حد شکریہ۔ آپ نے بے باکانہ، جامع اور واضح باتیں کیں۔ یہ پیغام دینے کے لیے ہیریٹیج فاؤنڈیشن کا انتخاب کرنے پر ہم آپ کے قدردان ہیں۔ آپ نے اپنی تقریر میں ہمارے بہت سے اتحادیوں، دوستوں اور شراکت داروں کا تذکرہ کیا جن میں بہت سے ناراض اور کچھ مایوس ہیں۔ آپ انہیں اپنے ساتھ کیسے ملائیں گے؟ آپ انہیں ہمارے ساتھ لانے کے لیے اپنی بہترین سفارتی صلاحیتوں کا کیسا استعمال کریں گے؟

وزیرخارجہ پومپئو: جب دنیا کے ممالک کسی مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو یہ تزویراتی تبدیلیاں بھی ایک ساتھ رونما ہوتی ہیں جبکہ یہ سب کچھ مشترکہ مفاد اور اقدار سے شروع ہوتا ہے۔ میں نے وزیرخارجہ کی حیثیت سے اپنے ابتدائی چند ہفتے یہ دیکھنے میں گزارے کہ اس معاہدے کو کیونکر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنے یورپی ہم منصبوں سے بات کی۔ میں وہاں گیا۔ میں وزیرخارجہ کی حیثیت سے اپنے 13ویں گھنٹے میں برسلز میں اپنے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ بات کر رہا تھا۔ مگر ہم ایسا نہ کر سکے۔ ہم میں اتفاق نہ ہو سکا۔

امریکہ اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ سفارتی اقدامات پر کڑی محنت کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہماری توجہ یورپیوں پر ہے مگر دنیا بھر میں ایسے بہت سے ممالک ہیں جو ہمارے خدشات سے اتفاق کرتے ہیں اور جنہیں ایرانی حکومت سے اتنا ہی خطرہ ہے جتنا ہمیں لاحق ہے۔ یہ مشترکہ مفاد ہے، یہ اقدار کا وہ مجموعہ ہے جس کے بارے میں میرا یقین ہے کہ یہ کام کرے گا، دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے معاون کو عالمی سطح پر جواب دیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ممکن ہے۔ میری ٹیم اس مقصد کے لیے تندہی سے کام کر رہی ہے۔ ہم اپنے تمام شراکت داروں کے خدشات سے نمٹنے کے تناظر میں یہ کام کریں گے اور مجھے یقین ہے کہ وقت کے ساتھ اس بارے میں وسیع احساس پایا جائے گا کہ صدر ٹرمپ کی بیان کردہ حکمت عملی ہی ایران کو اس جگہ لا سکتی ہے جہاں وہ ایک دن ہم سب کی خواہش کے مطابق دوبارہ تہذیب یافتہ دنیا کا حصہ بن جائے گا۔

مس جیمز: آج آپ کے بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ آپ کڑی پابندیاں چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں اس حوالے سے خدشہ باقی ہے کہ آپ جوہری خطرات سے کیسے نمٹیں گے۔ کیا آپ اس پر کچھ بات کر سکتے ہیں؟ یہاں مجھے اپنے سامعین سے کہنا ہے کہ میری خواہش تھی ہمیں وزیرخارجہ کے ساتھ مزید وقت گزارنے کا موقع ملتا۔ انہیں سی آئی اے کی جانب اور حلف برداری کی تقریب میں جانا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ انہیں تاخیر ہو۔ چنانچہ ہمیں بتائیں کہ ۔۔۔

وزیر خارجہ پومپئو: مجھے ایک مرتبہ پھر واپس جانا ہے۔

مس جیمز: ایک مرتبہ پھر (قہقہہ)

وزیرخارجہ پومپئو: دیکھیے جوہری معاملہ تو لازمی ہے۔ یقینی طور پر یہ سب سے بڑا اور سب سے سنگین خطرہ ہے۔ جے سی پی او اے ناکام رہا۔ یہ محض تاخیر تھی۔ ہمارا مقصد اس معاملے کو مستقل طور سے حل کرنا ہے۔ ہم مشرق وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں کو کڑے اقدامات اٹھانے کو کہتے ہیں۔ ہم ان کے سامنے معاہدہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ‘آپ کو یہ کچھ کرنا ہے’ اور وہ کہتے ہیں ‘ایرانی افزودہ کر رہے ہیں’۔ یہ معقول بات ہے۔ مجھے یہ معقول نکتہ دکھائی دیتا ہے۔

ایران سے ہمارے مطالبات غیرمعقول نہیں ہیں۔ ہم انہیں کہہ رہے ہیں کہ اپنا پروگرام ترک کر دیں۔ اسے بند کر دیں۔ اگر وہ واپس جاتے ہیں، اگر وہ افزودگی شروع کر دیتے ہیں تو ہم دونوں صورتوں میں اپنا ردعمل دینے کے لیے تیار ہیں۔ میں آج آپ سے اپنے ردعمل کی بابت تفصیلاً بات نہیں کروں گا۔ مگر ہم ان کی بات سن رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ مختلف فیصلہ کریں گے اور مختلف راستہ چنیں گے۔ ہم اس راہ پر ان کا خیرمقدم کرتے ہیں جسے خطے کے دوسرے ممالک بھی اختیار کر رہے ہیں۔

مس جیمز: کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ یہ پابندیاں کیسی ہوں گی اور آپ ہمارے یورپی دوستوں کو نقصان پہنچائے بغیر ایرانی حکومت کو کیسے ہدف بنائیں گے؟

وزیرخارجہ پومپئو: جب بھی پابندیاں عائد ہوتی ہیں تو دوسرے ممالک کو متاثرہ ملک سے کاروباری سرگرمیاں ترک کرنا پڑتی ہیں۔ چنانچہ امریکیوں نے خاصے طویل وقت کے لیے ایران کے ساتھ معاشی سرگرمی ترک کر دی ہیں اور میں یہ تسلیم کروں گا کہ امریکہ میں بھی ایسی کمپنیاں ہیں جو اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنا پسند کریں گی۔ ایران بہت بڑی منڈی ہے۔ وہاں بہت بڑی تعداد میں متحرک اور غیرمعمولی لوگ ہیں۔ مگر ہر ایک کو پابندیوں کے اس عمل میں شامل ہونا ہو گا۔ ہر ملک کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ ہم قاسم سلیمانی کے دولت پیدا کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے۔

آخر میں رقم انہی کے پاس گئی تھی۔ معیشت ننے انہیں مشرق وسطیٰ میں سرگرمیوں کے قابل بنایا۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ ان کی معاشی صلاحیت کا دم گھونٹا جائے جس کی بدولت وہ مشرق وسطیٰ اور دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ جوہری پروگرام سستے میں نہیں چلتے۔ ہم جوہری ہتھیاروں کا نظام بنانے کے لیے ان کی صلاحیت بھی محدود کر دیں گے۔

مس جیمز: آپ نے نہایت بے باکانہ انداز میں منصوبہ بیان کیا۔ کیا آپ نے کسی خاص وقت میں یہ سب کچھ انجام دینا ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: اب پابندیاں دوبارہ نافذ ہو چکی ہیں اور آئندہ 100 یوم میں بتدریج آگے بڑھیں گی۔ ابھی مزید بہت سا کام باقی ہے۔ یہ ہماری حکومت کے تمام شعبہ جات کا مشترکہ کام ہے۔ یقیناً ہم سفارتی محاذ پر آگے ہیں تاہم محکمہ تجارت اور محکمہ دفاع سمیت ہم سب صدر ٹرمپ کے دیے ایک ہی مقصد کے لیے مصروف عمل ہیں۔ میں اس حوالے سے کوئی وقت طے نہیں کر سکتا، تاہم آخر میں ایرانی عوام ہی وقت طے کریں گے۔ آخر میں ایرانی عوام کو ہی اپنی قیادت کے حوالے سے انتخاب کرنا ہو گا۔ اگر وہ فوری فیصلہ کرتے ہیں تو یہ بہت اچھا ہو گا۔ اگر انہوں نے کوئی قدم نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا تو ہم ان نتائج کے حصول تک سختی کا مظاہرہ کریں جن کا میں نے آج تذکرہ کیا ہے۔

مس جیمز: ہیریٹیج فاؤنڈیشن اور ان مسائل پر طویل عرصہ سے کام کرنے والے سکالرز کی جانب سے ہم آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک بے باکانہ، واضح، جامع اور کھلی سوچ تھی اور ہم آپ کو اور صدر کو مبارک باد پیش کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ میں آپ سے کہوں گی کہ وزیر کے جانے تک اپنی نشستوں پر براجمان رہیں۔ میرے پاس مزید آٹھ سوالات ہیں مگر ۔۔۔۔

وزیر خارجہ پومپئو: انہیں کسی اور دن پر اٹھا رکھتے ہیں۔

مس جیمز: کسی اور دن کے لیے۔

وزیرخارجہ پومپئو: یہاں آنے پر آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔

مس جیمز: آپ کا بے حد شکریہ۔ (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں