rss

وزیر خارجہ مائیک پومپئو کی پریس کانفرنس

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
22 مئی 2018
وزیر خارجہ مائیک پومپئو کی پریس کانفرنس
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی

 
 

ہیدا نوئرٹ:سبھی کو سلام، آپ کیسے ہیں۔ آج میرے ساتھ ایک خصوصی مہمان ہیں۔ یہ ہمارے سترویں وزیر خارجہ ہیں جو آپ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اپنی ملاقاتوں کا ایک مختصرہ جائزہ پیش کریں گے۔ میں جانتی ہوں کہ آپ کے ذہن میں وزیر خارجہ کی ایران کے حوالے سے گزشتہ روز ہونے والی تقریر کے بارے میں بھی کچھ سوالات ہوں گے۔ ان کے پاس آپ کے سوالات کے لیے چند منٹ ہیں اور اس کے بعد میں نشست سنبھال لوں گی اور باقی بریفنگ کو دیکھوں گی۔ وزیر خارجہ پومپئو کا خیرمقدم۔ یہ ہمارا پریس بریفنگ روم ہے اور ہمیں آپ کو یہاں دیکھ کر خوشی ہے۔

وزیر خارجہ پومپئو: شکریہ۔ میں اپنی گفتگو کا آغاز اس بات سے کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے یہ قلمدان سنبھالے ایک ماہ ہو گیا ہے اور میں نے ابتدا میں کچھ وعدے کیے تھے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ میں اپنی ٹیم کو دوبارہ تیار کروں گا اور ہم نے اس سمت میں چند بہت اہم اقدامات کیے ہیں تاہم اب بھی بہت سا کام ہونا باقی ہے لیکن آپ کو علم ہونا چاہیے کہ میں اس کے لیے پرعزم ہوں اور ہم یہ ہدف ضرور حاصل کریں گے۔

ہم نے نوکریوں پر عائد پابندی اٹھا لی ہے۔ اب ہم اپنے اہل خانہ سمیت زیادہ باصلاحیت لوگوں کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں میرے یہاں آنے سے پہلے ممکن نہیں تھیں۔ ہم نے اعلیٰ سطح کے لوگوں کے حوالے سے بھی نمایاں پیش رفت کی ہے تاکہ ہم اپنے سفیروں اور اعلیٰ سطح کے لوگوں سے یہاں کام لے سکیں۔ ابھی اس حوالے سے کہنے کے لیے کچھ نہیں لیکن جیسا میں نے اپنی حلف برداری میں وعدہ کیا تھا، ہم یہاں تمام اسامیوں پر تقرریاں کر یں گے۔ یہ میری اولین ترجیحات میں سے ہے کہ اس بات کو یقینی بناؤں کہ ہم نے دنیا بھر میں درست جگہ پر درست لوگوں کو رکھا ہے اور یہاں اپنے دفتر میں بھی تاکہ ہم اپنے سفارتی مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔ مجھے امید ہے کہ اگلے ایک دو ہفتوں میں ہم اس حوالے سے اہم اعلان کریں گے کہ ہمارے کون کون سے سینئر لوگ قیادت کرنے جارہے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ میں نے وائٹ ہاؤس سے واپسی کے بعد جنوبی کوریا والوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کیں جو بہت تعمیری رہیں۔ میرے خیال میں سینڈرز اس حوالے سے پہلے ہی ایک پریس کانفرنس کرچکی ہیں سو اگر آپ اس حوالے سے کوئی سوال کریں تو مجھے خوشی ہو گی۔ لیکن یہ کہنا بھی کافی ہے کہ ہم اپنی ٹیم بھی تیار کر رہے تاکہ جب 12 جون کو ملاقات ہو تو ہم اپنے مقصد میں کوئی تبدیلی کیے بغیر پوری طرح تیار ہوں۔ ہم جوہری تخفیف کا ہدف حاصل کرنے اور ایسے حالات پیدا کرنے کے لیے پر عزم ہیں کہ شمالی کوریا سے مزید کسی کو خطرہ لاحق نہ ہو سکے۔

آخری بات، میں نے گزشتہ روز صدر کی اسلامی جمہوریہ ایران کی حکمت عملی کے حوالے سے بیان دیا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہاں یہ بات دہرانا بہت اہم ہے کہ ایران کو جو کام کرنے کے لیے کہا گیا ہے، وہ اتنے مشکل نہیں ہیں۔ مجھے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ اس حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ یہ خیالی باتیں ہیں اور یہ نہیں ہو سکتیں لیکن ہم ہمیشہ وہ کام کرنے کے لیے کہتے ہیں جو آسان ہوں اور دنیا میں بہت سی دوسری اقوام بھی کر رہی ہوں۔ ہم نے ریاض پر میزائل نہ داغنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا خیالی بات نہیں کہ کسی دوسرے ملک کی حدود میں میزائل نہ پھینکے جائیں اور اس ایئر پورٹ کے ذریعے آنے جانے والے امریکیوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔ انہیں دہشت گرد سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کے لیے کہنا خیالی بات نہیں۔ یہ سب وہ مطالبات ہیں جو ہم باقی دنیا سے بھی کرتے ہیں۔

اگر ایسا ہوتا کہ مشرق وسطیٰ کا کوئی اور ملک بھی جوہری ہتھیاروں کا نظام تشکیل دینے کی خواہش ظاہر کرتا تو ہم اسے بھی روکتے۔ یہ سادہ سے مطالبات ہیں جن پر ایرانی حکومت نہایت آسانی سے عمل درآمد کر سکتی ہے اور اس کا ایرانی قوم کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ اس لیے میں تو کہتا ہوں کہ ہم نے جو مطالبات ایران کے سامنے رکھے ہیں وہ بہت سیدھے سادے ہیں اور انہیں ہم دنیا کے کسی بھی ملک کے سامنے رکھ سکتے ہیں تاکہ اس سے ان کے ہمسائیوں اور دنیا کے دوسرے ملکوں کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ ہیدا ، اس کے ساتھ ہی میں ایک دو سوالات لوں گا۔

ہیدانوئرٹ: ٹھیک ہے۔ہمارے پاس وقت بہت کم ہے ۔ سب سے پہلے میٹ لی سوال پوچھیں گے۔ آپ ان سے پہلے بھی مل چکے ہیں۔

وزیر خارجہ پومپئو: جی میٹ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔

سوال: جناب آپ سے مل کر بھی خوشی ہوئی۔

پومپئو: واشنگٹن میں (قہقہہ) ۔۔۔ مجھے ایک لمحے کے لیے سوچنا پڑا کہ میں کہاں ہوں۔

سوال: یقیناً پیانگ یانگ میں نہیں ہیں۔ ہم شمالی کوریا اور آج کی ملاقاتوں کے حوالے سے اس سے پہلے نہیں ملے۔ تاہم ملے ضرور ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ آپ شرط کھیلنا پسند کرتے ہیں لیکن اگر آپ کو شرط پسند ہے تو کیا آپ بتائیں گے کہ اس ملاقات کا کتنے فی صد امکان ہے اور یہ کہ کیا اس کے لیے تاریخ اور مقام طے ہو چکا ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو کیا آپ دوبارہ کم جانگ ان سے ملاقات کیلئے تیار ہیں اگر یہ اس اجلاس کی تیاری کے لیے ضروری ہو۔

وزیر خارجہ پومپئو: میں آپ کے دوسرے سوال کا جواب پہلے دونگا۔ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم اس ملاقات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے چاہے وہ شمالی کوریا والوں کے ساتھ کسی تیسرے ملک میں ملاقات ہو یا کچھ اوربھی ہو۔ ہم تیار ہیں۔ صدر ہم سے کہیں گے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہم نے وہ سب کچھ کر لیا ہے جو اس سنہری موقعے کو تاریخی نتیجے میں بدلنے کے لیے ضروری ہے۔ اور میں شرطیں نہیں لگاتا (قہقہہ) ۔۔۔ اس لیے میں پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ آیا یہ ممکن ہوگا بھی یا نہیں۔ صرف یہ پیش گوئی کروں گا کہ ہم اس ملاقات کے لیے تیار ہوں گے۔

ہیدا نوئرٹ: اب’ بلوم برگ’ سے نک سوال پوچھیں۔

سوال: جناب وزیر ، ایسی اطلاعات تھیں کہ جب آپ کی کم جونگ ان سے ملاقات ہوئی توآپ غروب آفتاب کی طرف دیکھ رہے تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر یہ کہا کہ کیا یہ اچھا نہیں ہو گا کہ اس منظر میں امریکی ہوٹلوں کی ایک قطار بھی شامل ہو۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ شمالی کوریا میں امریکی سرمایہ کاری کے تصور کو پسند کرتے ہیں۔ اور کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ آپ نے شمالی کوریا کے لہجے میں کیا تبدیلی دیکھی۔ صدر نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ چین کابھی اس معاملے سے کوئی تعلق ہے۔

وزیر خارجہ پومپئو: آپ کا مطلب ہے گزشتہ ہفتے کی گفتگو کا لہجہ۔

سوال: جی ہاں۔ بالکل۔

وزیر خارجہ پومپئو: میں اس حوالے سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا، کوئی اندازے نہیں لگانا چاہتا۔ ہم تیاری کر رہے ہیں۔ ہم اپنا کام کر رہے ہیں اور ایک کامیاب ملاقات کی بنیاد کو مضبوط کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم اپنا ہدف حاصل کر لیں گے۔

جہاں تک چیئرمین کم کا تعلق ہے تو میں نے ان سے ہونے والے ملاقاتوں کا احوال ابھی عوامی سطح پر بیان نہیں کیا۔ یہ باتیں میرے اور ان کے درمیان تھیں لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ انہیں امریکی سرمایہ کاری، امریکی ٹیکنالوجی، امریکی علم اپنے لوگوں کے لیے بہت مفید لگے گا اور اس کے بارے میں ہم دونوں کے درمیان عمومی سی گفتگو ہوئی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم درست راستے پر چلتے رہے اور جوہری تخفیف کا ہدف حاصل کر لیا تو امریکیوں میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ شمالی کوریا کو ایسا بہت کچھ دیں جس سے وہاں کے لوگوں کی زندگی بہتر ہوجائے۔

ہیدا نوئرٹ: فاکس نیوز سے رچ ایڈسن

سوال: شکریہ جناب وزیر، شمالی کوریا کی حکومت نے امکانات کی تعداد 99 فیصد بتائی ہے۔

وزیر خارجہ پومپئو: میں نے بھی سنا ہے کہ انہوں نے 99 فی صد ہی بتائی ہے۔

سوال: کیا ایسی کوئی بات ہے جس کے باعث صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے ساتھ براہ راست گفتگو میں وقفہ کیا ہے۔ آپ اسے کیسے بیان کریں گے۔ جب سے آپ پیانگ یانگ سے آئے ہیں امریکہ اور شمالی کوریا کی حکومت کے دوران کس قسم کی گفتگو ہو رہی تھی۔

وزیر خارجہ پومپئو: ہاں، میں اس کی قسم تو نہیں بتا سکتا۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی چیز تھی جس کی وجہ سے وقفہ آیا۔ چیئرمین کم نے اس ملاقات کا کہا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس سے اتفاق کر لیا۔ ہم نے تاریخ اور مقام کے لیے کام کیا۔ ہم نے وہ مقرر کر لیے اور اس وقت سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔

یہ واضح ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ دونوں طرف سے جو بھی گفتگو ہو اس میں ایک مشترکہ مفاہمت کا پہلو موجود ہو اور میں اس حوالے سے پر امید ہوں۔ لیکن میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ہم آخری لمحے تک کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ جیسا کہ صدر نے کہا ہے کہ ہم دیکھیں گے اور میرا خیال ہے کہ یہی وہ نقطہ ہے جہاں ہم سب اس وقت موجود ہیں۔

ہیدا نوئرٹ: اے ایف پی سے فرانسسکو

سوال: جی، تو صدر نے کہا کہ ۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: جی جناب

سوال: پریس کانفرنس کا شکریہ۔ صدر نے کہا ہے کہ ملاقات تاخیر کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔ کیا اس وقت آپ شمالی کوریا کے ساتھ کسی ممکنہ نئی تاریخ پر بات چیت کر رہے ہیں یا یہ ملاقات ملتوی ہو گئی ہے؟ مزید یہ کہ وہ کون سے مسائل ہیں جن کی بنا پر 12 جون کو ملاقات خطرے میں پڑ سکتی ہے؟ کیا یہ انصرامی مسائل ہیں یا اس کی وجہ وہ باتیں ہیں جو آپ ان کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: ہم اب بھی 12 جون کی ملاقات کے حوالے سے ہی کام کر رہے ہیں۔

سوال: مگر کیا آپ ان سے اس بارے میں گفت و شنید کر رہے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: ہم 12 جون کے حوالے سے ہی کام کر رہے ہیں۔

ہیدا نوئرٹ: ‘اے بی سی’ سے کونر فینیگن

سوال: شکریہ جناب وزیر، میں ایران پر بات کرنا چاہوں گا، گزشتہ روز اپنی تقریر میں آپ نے ایران پر بے مثل مالیاتی دباؤ ڈالنے کی بات کی۔ میرے خیال میں آپ کے نقاد کہتے ہیں کہ یورپی ممالک ان پابندیوں میں آپ کا ساتھ نہیں دیں گے، اسی لیے آپ ایران پر اتنا بڑا دباؤ نہیں ڈال سکتے۔ آپ ایسا کیسے کریں گے، آپ ان نقادوں کو کیا جواب دینا چاہیں گے؟ آپ یورپی ممالک نیز چین اور روس وغیرہ کو اپنے ساتھ کیسے ملائیں گے جو اس معاہدے پر بدستور عمل پیرا ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: یہ سیدھی سی بات ہے۔ یہ عالمگیر مسئلہ ہے۔ میں نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ قدس فورس کے قاتل یورپی ممالک میں موجود ہیں۔ یہ پوری دنیا کو مشترکہ طور پر درپیش مسئلہ ہے۔ مجھے اعتماد ہے کہ ہم مجموعی طور پر ایک ایسا سفارتی ردعمل تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے جو ہمارے مقاصد کی تکمیل میں معاون ہو گا۔ ہم آئس لینڈ کو بھی وہ نہیں کرنے دیں گے جو ایران کر رہا ہے۔

سوال: کیوں ۔۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: ہم چاڈ کو بھی ایسا نہیں کرنے دیں گے، میرا مطلب ہے، میں حروف تہجی کے اعتبار سے یہ نام لے رہا ہوں۔ ہم کسی اور ملک کو بھی دہشت گردی کا ارتکاب اور اپنے آلہ کاروں کے ذریعے عراق میں امریکیوں کے لیے خطرہ پیدا کرنے نہیں دیں گے۔ ہم یہ برداشت نہیں کریں گے، ٹھیک ہے؟

اگر کوئی اور حزب اللہ جیسی تنظیم بناتا ہے تو کیا ہم آرام سے بیٹھے رہیں گے؟ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ یورپی بھی ایسا نہیں کریں گے۔ دوسرے عرب ممالک بھی ایسا نہیں کریں گے۔ روس اور چین بھی اسے دنیا میں مثبت طور سے نہیں دیکھتے۔ چنانچہ مجھے یقین ہے کہ مشترکہ اقدار اور مفادات ہمیں دنیا کو اسلامی جمہوریہ ایران سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک ہی نتیجے پر لے جائیں گے۔

سوال: میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے بعض ردعمل ۔۔۔۔

ہیدا نوئرٹ: کونر، ہمیں آگے بڑھنا ہے۔

سوال: یقیناً

ہیدا نوئرٹ: سی بی ایس نیوز سے کائلی، بات کیجیے۔

سوال: اگر آج صدر کی جانب سے چین کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے بیان کا ذکر کیا جائے تو انہوں نے ژی کی کم جانگ ان کے ساتھ دوسری ملاقات بارے بات کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے۔ کیا آپ اس ملاقات کے حوالے سے کچھ مزید باتیں جانتے ہیں اور وہ یہ کہنے میں اس قدر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں کہ اس ملاقات کے حوالے سے چینیوں کا طرزعمل تعاون پر مبنی تھا۔

وزیرخارجہ پومپئو: میں صدر کی بات میں مزید کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔

سوال: ٹھیک ہے۔ کیا چینی امریکہ اور کم جانگ ان کی ملاقات ممکن بنانے میں مدد دے رہے ہیں؟ کیا آپ اس حوالے سے ان کے کردار پر کوئی بات کر سکتے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: چینیوں نے شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی مہم میں تاریخی معاونت کی ہے۔ واقعتاً انہوں نے زبردست تعاون کیا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات واضح کر دی ہے اور میں نے بھی واضح کیا ہے کہ شمالی کوریا پر دباؤ برقرار رکھنا بے حد اہم ہے اور چین بدستور اس مہم کا حصہ ہے۔ ہمارے پاس ان کی جانب سے دباؤ برقرار رکھے جانے کی تمام وجوہات موجود ہیں۔

ہیدا نوئرٹ: واشنگٹن پوسٹ سے کیرول موریلو۔

سوال: ہیلو

وزیر خارجہ پومپئو: ہیلو

ہیدا نوئرٹ: آپ قبل ازیں کیرول سے مل چکے ہیں۔

سوال: (ناقابل سماعت) صدر روحانی نے گزشتہ روز کہا کہ آپ کسی دوسرے ملک کو اس کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے حکم دینے والے کون ہوتے ہیں؟ چنانچہ یہ سوال ہے کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ آپ اس کے جواب میں کیا کہیں گے؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں نے یہ بیان نہیں دیکھا۔ ایرانی عوام کو فیصلہ کرنا ہو گا۔ انہیں خود فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ کیسی قیادت چاہتے ہیں، وہ کیسی حکومت چاہتے ہیں۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ان کے ملک کی قیادت کون سے لوگ کریں گےاور پھر انہیں اپنے انتخاب کے مطابق زندگی بسر کرنا ہو گی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ روحانی یا ظریف کو کیا کرنا چاہیے۔ میں صرف یہی بیان کر رہا تھا کہ امریکہ کیا کرنا چاہتا ہے۔

ہیدا نوئرٹ: آخری سوال، وائس آف امریکہ سے نائیکے چینگ۔

سوال: بہت شکریہ جناب وزیر، میرا سوال ایرانی قیدیوں سے متعلق ہے۔ گزشتہ روز آپ نے بتایا کہ حکومت امریکی قیدیوں کو وطن واپس لانے کے لیے کڑی محنت کر رہی ہے ۔ کیا آپ ہمیں اس حوالے سے تازہ ترین صورتحال بارے مطلع کر سکتے ہیں اور یہ بھی بتائیے کہ دونوں ممالک میں سرد تعلقات کے ہوتے ہوئے اس ضمن میں کون سی کوششیں ہو رہی ہیں؟ شکریہ

وزیرخارجہ پومپئو: جی، دو ماہ پہلے لوگوں کے نزدیک امریکہ اور شمالی کوریا کے تعلقات بھی سرد تھے اور ہم تین امریکیوں کو واپس لے آئے ہیں۔ قریباً ہمیشہ ہمارے لوگ ایسے ممالک میں قید رہے ہیں جن کے ساتھ ہمارے تعلقات دوستانہ نہیں ہیں۔ ہم ایسے طریق کار تک پہنچنے کے لیے کام کرتے ہیں جس کی بدولت ایسے اہم نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ میں نے ان قیدیوں کے اہلخانہ سے بات کی ہے اور میں جانتا ہوں کہ یہ کس قدر اہم معاملہ ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ناصرف دفتر خارجہ بلکہ امریکہ کی پوری حکومت ہر فرد کی واپسی کے لیے تندہی سے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ روز میں نے ایسے چند لوگوں کے نام لیے تھے، دنیا بھر میں ان جیسے مزید لوگ بھی ہیں جن کا میں نے گزشتہ بیان میں تذکرہ نہیں کیا۔ آپ کو علم ہونا چاہیے کہ ہم ان لوگوں کی وطن واپسی اور انہیں ان کے اہلخانہ سے ملانے کے لیے ہر سطح پر تندہی سے مصروف عمل ہیں۔ ہیدا، میں ایک اور سوال لوں گا۔

ہیدا نوئرٹ: ٹھیک ہے، سی این این سے مشیل کوزینسکی۔

سوال: آپ نے گزشتہ روز ایران کے حوالے سے جن مطالبات پر بات کی یا آپ انہیں جو بھی نام دیتے ہیں، انہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ اس حوالے سے بات چیت کی خاصی گنجائش موجود ہے۔ کیا آپ اس سے اتفاق کریں گے۔ آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ ایران اس معاملے پر امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے رضامند ہو جائے گا؟ اگر ایسا پابندیوں کی وجہ سے ہو گا تو کیا اس میں خاصا وقت نہیں لگے گا؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں نہیں جانتا کہ ان میں کون سے مطالبات ۔۔۔۔ کیا ہمیں انہیں دہشت گردی کی اجازت دے دینی چاہیے؟ کیا ان میں کوئی ایسا مطالبہ ہے جس پر ہمیں سمجھوتہ کر لینا چاہیے؟

سوال: مگر میں یہی کہہ رہی ہوں۔ سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: کیا ہمیں ۔۔۔۔ ہمیں انہیں کتنے میزائل داغنے کی اجازت دینی چاہیے؟ میرا مطلب ہے کہ میں ۔۔۔۔

سوال: ٹھیک ہے، تو پھر مذاکرات کی گنجائش کہاں ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے گزشتہ روز جو بینچ مارک طے کیا ہے وہ بہت نچلے درجے کا ہے۔ ہم دنیا بھر کے ممالک سے کم از کم ایسا ہی طرز عمل چاہتے ہیں۔ ہم نے گزشتہ روز ایران کے حوالے سے کوئی خاص اصول وضع نہیں کیے۔ ہم نے ان سے بس یہی کہا ہے کہ وہ عمومی طرزعمل اختیار کریں جیسا کہ تمام پرامن ممالک کرتے ہیں۔ یہ سادہ سی بات ہے۔ ایسے کوئی خاص لوگ نہیں ہیں جنہیں ریاض پر میزائل داغنے کی اجازت ہو۔ ہم نے انہیں عام پرامن ملک جیسا طرزعمل اختیار کرنے کو کہا ہے۔

چنانچہ میرے پاس یہ سوچنے کی معقول وجہ موجود ہے کہ ایرانی عوام بھی اپنے ملک کے لیے یہی کچھ چاہتے ہیں۔ یہ ملک ایک زبردست تہذیب اور حیران کن تاریخ کا حامل ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایرانی عوام جب مستقبل کی جانب ایسی راہ دیکھ لیں گے جو انہیں ایسے طرزعمل سے روکے گی تو وہ اسی راستے کو اختیار کریں گے۔ آپ سبھی کا شکریہ۔

سوال: شکریہ

سوال: جی

وزیر خارجہ: امید کرتے ہیں سبھی کا دن اچھا گزرے گا۔

سوال: آپ سے دوبارہ جلد ملاقات ہو گی۔

وزیرخارجہ پومپئو: میں جلد کا وعدہ نہیں کر سکتا تاہم دوبارہ ضرور ملیں گے۔ (قہقہہ)

سوال: (مائیک کے بغیر)

ہیدا نوئرٹ: شکریہ جناب۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں