rss

وزیرخارجہ مائیک پومپئو کا وائس آف امریکہ فارسی سروس کی ستارہ سیگ کو انٹرویو

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, فارسی فارسی, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
25 مئی 2018

 
 

سوال: وزیر پومپئو، ہمیں انٹرویو دینے کا بے حد شکریہ۔

وزیرخارجہ پومپئو: آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔

سوال: وزیرخارجہ کی حیثیت سے آپ نے خارجہ پالیسی پر اپنی پہلی بڑی تقریر میں ایران کے معاملے کا انتخاب کیا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا ایسا اس معاملے کی فوری نوعیت یا اہمیت کے سبب کیا گیا؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں سمجھتا ہوں کہ اس کے پیچھے یہ دونوں وجوہات کارفرما ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے صدر نے مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے سنجیدہ خطرے کے طور پر لیا ہے چنانچہ امریکی قومی سلامتی کے لیے اور ایرانی عوام کی موجودہ حالت زار کو دیکھتے ہوئے وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اس معاملے میں بہتری لا سکتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سابقہ حکومت نے جو معاہدہ کیا اس سے یہ مفادات پورے نہیں ہوتے۔ اس سے ایرانی عوام یا مشرق وسطیٰ کے مفادات یا امریکی مفادات پورے نہیں ہوتے۔ چنانچہ یہ ان کی ترجیح تھی اور اسی لیے میں نے وزیرخارجہ کی حیثیت سے اپنے ابتدائی ہفتوں میں یہ بتانا چاہا کہ صدر کے خیال میں ہم ایسے حالات میں معاملات کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔

سوال: سکیورٹی کے حوالے سے نئے مجوزہ فریم ورک کا حتمی مقصد کیا ہے اور یہ ابتدائی ‘جے سی پی او اے’ سے کیسے مختلف ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: یہ بہت مختلف ہے۔ یہ ناصرف اپنی وسعت بلکہ مقصد کے اعتبار سے بھی مختلف ہے۔ پہلا معاہدہ بالکل محدود نوعیت کا تھا۔ اس معاہدے میں یہ کہنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ایرانی حکومت اپنے جوہری پروگرام پر بھاری رقم خرچ کر رہی ہے اور یہ سلسلہ رک جانا چاہیے، یہ نہایت عمدہ مقصد اور اچھا ہدف تھا۔ تاہم ایران سے لاحق خطرہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ مسلم ممالک پر میزائل داغ رہے ہیں۔ وہ اپنے لوگوں سے انسانی حقوق چھین رہے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ صدر کو ان تمام معاملات کی بہت فکر ہے اور اسی لیے وہ بنیادی چیزوں کو نئے سرے سے ترتیب دینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ یہ 12 چیزیں ہیں جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔ ہم ایرانی قیادت سے بہت زیادہ مطالبات نہیں کر رہے، ہمارا ان سے یہی کہنا ہے کہ وہ  ویسے ہی طرزعمل کا مظاہرہ کریں جیسا سبھی کرتے ہیں۔ اپنے عوام کو مت لوٹیں، اپنے لوگوں کی رقم شام، یمن، لبنان اور عراق میں مہم جوئی پر ضائع مت کریں۔ یہ فہرست خاصی طویل ہے۔ اپنے لوگوں کی قیادت کریں، اپنی قوم کو عظیم بنائیں، ان وسائل کو انہی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ ہم ان سے بس یہی کچھ چاہتے ہیں۔

سوال: کیا سلامتی کے حوالے سے نئے مجوزہ فریم ورک میں یہ بات بھی شامل ہو گی کہ ایران دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی بند کرے؟

وزیرخارجہ پومپئو: جی ہاں، ہم نے اسی بارے میں کہا ہے۔ دیکھیے، ہم نے انہیں کہا ہے کہ دنیا میں دہشت پھیلانا بند کریں، عراق میں ملیشیائیں نہ بنائیں، ایرانی دولت اور ایرانی شہریوں کو استعمال مت کریں جو شام میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے نامناسب بات ہے اور ان کے ملک کے لیے بھی ٹھیک نہیں۔ چنانچہ ہمارا مقصد ایسے حالات تخلیق کرنا ہے جہاں ایران ایک ذمہ دار ملک جیسا طرزعمل اختیار کرے۔ اس صورتحال کے ذمہ دار ایرانی عوام نہیں بلکہ ان کے رہنما ہیں جن پر اس نقصان کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم ایسے حالات پیدا کریں جن میں وہ ایسے اقدامات سے باز آ جائیں تو یہ ایرانی عوام کی بہت بڑی کامیابی ہو گی اور پھر امریکی بھی ایران جایا کریں گے۔ ایسے میں ہمارے ان سے دوستوں اور اتحادیوں جیسے تعلقات ہوں گے۔

سوال: جناب، مجھے انسانی حقوق کے مسئلے پر بھی بات کرنا ہے۔ تاہم اگر ممکن ہو تو میں سلامتی کے فریم ورک کی بابت کچھ مزید بات کرنا چاہوں گی ۔ ایران کی جانب سے اپنی عسکری تنصیبات کے معائنے کی اجازت کے معاملے پر آپ کیا کہیں گے؟ کیا یہ بھی فریم ورک کا حصہ ہو گا؟

وزیرخارجہ پومپئو: جہاں تک ایران میں جوہری مواد کے استعمال کا معاملہ ہے تو جیسا کہ ہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے توقع رکھتے ہیں اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کے پاس بھی یورینیم کی افزودگی یا پلوٹونیم کی سہولت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر وہ پرامن جوہری توانائی کا پروگرام چاہتے ہیں تو اچھی بات ہے، مگر اس کے لیے وہ ضروری مواد درآمد کر سکتے ہیں۔ دوسرے ملک بھی ایسا کرتے ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں ایسا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں وہاں معائنے درکار ہوں گے۔ اس سلسلے میں عسکری تنصیبات اور تحقیقی لیبارٹریوں اور ایسی تمام جگہوں کا معائنہ درکار ہو گا جہاں جوہری معاملے پر کام ہوتا رہا ہے۔

سوال: آپ نے انسانی حقوق کی بات کی ہے۔ ایران بھر میں حکومت مخالف مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ اس حوالے سے کوئی بات کریں۔ آپ ان مظاہروں کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکہ ان مظاہروں کی حمایت کر سکتا ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: یقیناً ہم اس حوالے سے اخلاقی حمایت مہیا کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں ایرانی عوام کا یہ فیصلے خود کرنا اہم ہو گا۔ یہ احتجاجی مظاہرے کئی مہینوں سے جاری ہیں جن میں بعض بہت چھوٹے اور بعض بڑے ہیں جن کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے کہ ایرانی دولت جنوب مشرقی ایران یا تہران میں یا دیگر جگہوں پر عام شہری پر خرچ کرنے کے بجائے قاسم سلیمانی کو دی جا رہی ہے۔ یہ رقم لوٹی جا رہی ہے تاکہ ایرانی شہری اپنے جوان بچوں کو لڑنے مرنے کے لیے بھیجیں اور ایسی زندگی گزاریں جو عدم تحفظ اور غربت سے عبارت ہے۔ آپ نے حکومت میں تبدیلی کی بات کی۔ معاملہ حکومت میں تبدیلی کا نہیں ہے۔ یہ دراصل ایرانی حکومت کے طرزعمل میں تبدیلی لانے کا معاملہ ہے کہ وہ اس بات کو سمجھے کہ اس کے عوام کیا چاہتے ہیں۔

سوال: کیا یہ وہی بات ہے جو قبل ازیں جان بولٹن نے کہی کہ امریکی حکومت ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتی؟

وزیرخارجہ پومپئو: جی محترمہ، ایسا ہی ہے۔

سوال: آپ امریکہ اور یورپ میں ایرانی اپوزیشن گروہوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ ان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: جی ہاں، ان کی حمایت ہونی چاہیے، وہ طویل عرصہ سے اسی مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں جس کے حصول کے لیے ہم بھی کوشاں ہیں۔ میں وقتاً فوقتاً دیکھتا چلا آیا ہوں کہ وہ اسی مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ حکومت کی تبدیلی کی بات کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ عام ایرانی شہری کی آواز بنیں جو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے، اپنا حجاب اتارنے اور کام کر کے اپنے اہلخانہ کو پالنے نیز اپنی مرضی کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی چاہتے ہیں۔ یہ کام ایرانی عوام نے کرنا ہے اور اگر بیرون ملک کچھ لوگ اسی مقصد کے لیے مصروف عمل ہیں تو یقیناً ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

سوال: جناب وزیر، دو سال پہلے کانگریس کے رکن کی حیثیت سے آپ نے ذاتی طور پر ایران  جانے کی خواہش کی تھی، آپ ایران جانے کے لیے تیار تھے اور آپ نے خامنائی اور ظریف سمیت ایرانی قیادت پر زور دیا تھا کہ وہ آپ کو امریکی قیدیوں تک رسائی دیں۔ کیا آپ وزیرخارجہ کی حیثیت دوبارہ ایرانی قیادت پر زور دیں گے کہ وہ امریکی قیدیوں کو رہا کر دے؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں باب لیونسن 11 سال سے زیادہ عرصہ سے غائب ہیں۔

وزیرخارجہ پومپئو: میں لیونسن کے معاملے سے واقف ہوں۔ میں ان کی محفوظ واپسی کے لیے دعا گو ہوں اور ہماری ٹیم روزانہ اس معاملے پر کام کر رہی ہے۔ جہاں تک دوسرے امریکیوں کا معاملہ ہے تو ہمیں امید ہے کہ ایرانی قیادت، روحانی، ظریف اور آیت اللہ کو احساس ہو گا کہ یہ ان کے بہترین مفاد میں ہے اور یہ معاملہ بنیادی انسانیت سے متعلق ہے کہ ان معصوم امریکیوں کو واپس جانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ ہمارے سامنے بہت بڑے مسائل ہیں، میرے لیے یہ بنیادی سی بات ہے کہ معصوم لوگوں کو ان کے پیاروں سے ملنے سے روکا نہیں جانا چاہیے۔

چنانچہ ہم اس پر کام کریں گے۔ ہم دعا کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ ایک دن یہ لوگ اسی طرح امریکہ واپس آئیں گے جس طرح چند ہفتے قبل شمالی کوریا سے امریکی شہری وطن واپس آئے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے ابھی ایسا ہی دن آئے گا جو اسلامی جمہوریہ ایران میں قید ہیں۔

سوال: مجھے آپ سے ان نعروں کی بابت پوچھنا ہے جو ایران میں اب بھی سنائی دیتے  ہیں جیسا کہ ‘مرگ بر امریکہ’ اور ‘مرگ بر اسرائیل’۔ کیا ایران سے کسی معاہدے سے قبل ایسے نعرے بند کرنے کو نہیں کہا جائے گا؟

وزیرخارجہ پومپئو: جی، خاص طور پر ان کے رہنماؤں سے۔ امریکہ میں لوگ ہر قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ ہماری جمہوریت وسیع تر ہے۔ یہاں ایسے لوگ ہیں جو صدر ٹرمپ کو پسند کرتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو انہیں پسند نہیں کرتے۔ ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر جب اعلیٰ قیادت ایسا کہتی ہے تو یہ پریشان کن بات ہے۔ ایرانی قیادت کو ایسی نعرہ بازی ترک کرنی چاہیے۔ انہیں ایسے نعرے بند کرنا چاہئیں کیونکہ یہ  ان کے عوام کے مفاد میں نہیں ہیں۔

میرے خیال میں بیشتر ایرانی یہاں امریکہ میں ہمارے حالات دیکھتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں بھی اسی طرز کی جمہوریت اور ایک مختلف طرز کی حکومت ممکن ہے جیسا کہ ہمارے ہاں دکھائی دیتی ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ہر انسان کو وقار اور عزت ملنی چاہیے، آپ دنیا بھر میں تشدد مت پھیلائیں، آپ اپنے لوگوں سے لوٹ مار نہ کریں، میرا خیال ہے کہ ایرانی عوام بھی انہی اقدار کے مالک ہیں جو امریکی عوام کا خاصا ہیں۔

سوال: جناب وزیر، میں اس بات کی جانب واپس جانا چاہوں گی جو آپ نے اپنی تقریر میں کہی تھی۔ آپ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ‘ایرانی سرقہ بازوں کو مزید دولت بنانے نہیں دی جائے گی’ آپ آیت اللہ سے لے کر صدر تک ایران کے بدعنوان رہنماؤں کی خفیہ دولت سامنے لانے کے لیے کانگریس کی کوششوں پر کیا کہیں گے؟ کیا ایسا کوئی بل ہے جسے کانگریس منظور کرے گی، کیا امریکہ انتظامیہ ان چیزوں کو سامنے لانے کی حمایت کرے گی؟

وزیرخارجہ: ہمارے خیال میں یہ بے حد اہم بات ہے۔ یہ کسی اطلاعاتی معاملے جیسی اہمیت رکھتی ہے۔ ایرانی عوام سچائی جاننے کے حقدار ہیں۔ آپ کے اعلیٰ رہنما مال بنا رہے ہیں، وہ خفیہ کاروبار کر رہے ہیں اور کھل کر کہا جائے تو لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں۔ میں اسے ایرانی عوام کے سامنے لانے کا خیرمقدم کروں گا تاکہ انہیں خود اندازہ ہو کہ یہ لوگ ان کے ملک کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں۔

سوال: جناب وزیر، آپ کا بے حد شکریہ۔

وزیرخارجہ پومپئو: آپ کا بھی بہت شکریہ۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔

سوال: ہم آپ کے بے حد قدردان ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں