rss

بحرہندوالکاہل میں امریکی کمان میں تبدیلی کی تقریب

हिन्दी हिन्दी, English English

امریکی محکمہ دفاع
دفتر برائے ترجمان
وزیردفاع جیمز این میٹس کا خطاب

 

وزیر دفاع جیمز این میٹس: خواتین و حضرات، مجھے یہاں مدعو کرنے پر آپ کا شکریہ۔ امریکہ کے اس کونے میں جسے ہم ہمیشہ جنت کا ٹکڑا کہتے ہیں، یہ ایک عظیم دن ہے اور آپ میرے پیچھے دیکھ کر جان سکتے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہے۔ ایڈمرل ہیرس، ایڈمرل ڈیوڈسن، بیرون ملک سے آئے شراکت دار اور ممتاز مہمانان گرامی، ایڈمرل ہیرس بہت کچھ کہہ چکے ہیں اور میں ان کی باتیں نہیں دہراؤں گا تاہم بحرالکاہل کی کمان ٹیم کے ساتھ آپ سبھی کی یہاں موجودگی اعزاز کی بات ہے۔

میرا خیال ہے آپ کسی شخص کے دوستوں کو دیکھ کر اس کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں اور یہ ایڈمرل ہیرس کی سرگرم قیادت اور بحرالکاہل کی کمان کی متعلقہ کارکردگی کا ثبوت ہے کہ بہت سے ممالک کے نمائندے طویل فاصلہ طے کر کے یہاں آئے ہیں۔

آج ہم ایڈمرل ہیرس کے دور کو خراج تحسین پیش کرتے اور ایڈمرل ڈیوڈسن کو بحرالکاہل کے لیے امریکی کمان کے نئے سربراہ کی حیثیت سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ میں ان بیگمات کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو یہاں موجود ہیں۔

برنی، آپ کا شکریہ کہ آپ 40 سال سے امریکہ بحریہ اور ہماری قوم کی خدمت میں مستعدی سے مصروف ہیں اور یہ کامیابی ہیری کے کردار کی گواہی ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے برے وقت میں آپ کے خاندان کے کردار کی شہادت بھی ہے۔ ہم اسے بھرپور طور سے سراہتے ہیں۔

ٹریسی ڈیوڈسن، خوش آمدید، ایسے وقت میں بوجھ ایک مرتبہ پھر آپ کے خاندان پر منتقل ہو گیا ہے جب ممکنہ طور پر آپ کے ذہن میں دیگر منصوبے ہوں گے۔ مگر ہم آپ کے مشکور ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو اندازہ ہو گا کہ آگ کی دیوی ٹوٹو پیلے کے یہاں لائے اور کبھی کبھار جاگنے والے آتش فشاں کے باوجود یہ جگہ جنت نظیر کیوں ہے ۔

بحرالکاہل کے لیے امریکی کمان ہماری بنیادی جنگی کمان ہے اور جیسا کہ ایڈمرل ہیرس نے کہا یہ کرہ ارض کے نصف سے زیادہ حصے اور ہالی وڈ سے بالی وڈ نیز قطبی ریچھوں سے پینگوئن تک متنوع آبادی کی نگرانی کرتی اور اس خطے سے متعلقہ معاملات سے نمٹتی ہے۔

میں ریاست واشنگٹن میں پلا بڑھا ہوں جو بحرالکاہل کی ساحلی پٹی پر واقع پانچ امریکی ریاستوں میں شامل ہے۔ گزشتہ روز یہاں آتے ہوئے جہاز کی کھڑکی سے سمندر کی وسعت کو دیکھتے ہوئے میں نے یاد کیا کہ امریکی ناصرف آج بلکہ دو صدیوں سے بحرالکاہل کا ملک ہے۔

امریکہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی امریکی فوج کی راہ عمل ہے اور یہ ہماری خواہشات کے بجائے دنیا کی موجودہ حالت پر واضح نظر رکھتی ہے۔ 2018 کے لیے ہماری قومی سلامتی کی حکمت عملی ایک دہائی میں اپنی نوعیت کی پہلی حکمت عملی ہے اور اس میں بحرالکاہل کے خطے میں درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس خطے کے حوالے سے امریکی ارادے اور پائیدار عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

خطے میں بیشتر ممالک کی سوچ بھی امریکہ جیسی ہے۔ ہر ملک کی خودمختاری قابل احترام ہے خواہ اس کا حجم کتنا ہی کیوں نہ ہو اور یہ خطہ سرمایہ کاری اور دوطرفہ تجارت کے لیے کھلا ہے اور یہاں کسی ملک کو منفی تجارتی ہتھکنڈوں اور دباؤ کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ خطہ ہندوالکاہل میں بہت سی راہیں ہیں۔

امریکہ خطہ ہندوالکاہل کے استحکام اور یہاں آزاد اور قوانین کی بنیاد پر عالمی نظام کو فروغ دینے کے لیے پوری قوت سے کام کر رہا ہے جس کی بنیاد پر اس خطے میں ترقی ہوئی ہے اور 70 سال سے یہ پھل پھول رہا ہے۔ اگرچہ ہم امریکی عزم کو چیلنج کرنے والے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں مگر ہماری قومی سلامتی کی حکمت عملی جنگی حکمت عملی نہیں ہے۔

اس کے بجائے یہ مثالیت پسندی، نتائجیت اور تعاون کا متوازن امتزاج ہے۔ ہم اپنے عالمگیر مفادات اور اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے مفاد اور استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے حریفوں سے تعاون اور کھلے مکالمے کے مواقع تلاش کرتے رہیں گے۔

ہم طاقتور پوزیشن پر ہوتے ہوئے امن کی بات کریں گے۔ ہم خطے میں موجودہ اتحادوں کو مزید مضبوط بنانے اور نئی شراکتوں کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے کیونکہ یہی ہماری تزویراتی سوچ کی بنیاد ہے اور اسی سے تمام ممالک کی خودمختاری کے احترام کی بابت ہماری مشترکہ سوچ تشکیل پاتی ہے۔ اسی کی بدولت ہم سلامتی کے حوالے سے ایک ایسا مضبوط نظام نافذ کرتے ہیں جو مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے کا اہل ہے خواہ یہ خطرات دہشت گردی کے ہوں یا ان کی نوعیت آزادی تجارت کی راہ میں رکاوٹوں کی ہو یا ان کا تعلق انسانی المیوں سے ہو جو کسی بھی ملک کو پیش آ سکتے ہیں۔

بحرالکاہل اور بحرہند میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ ہمارے تعلقات علاقائی استحکام برقرار رکھنے کے حوالے سے خاصے اہم ثابت ہوئے ہیں۔ ہم اپنے شراکت داروں کے خودمختارانہ فیصلوں میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ اگر ہمیں عالمی امن کے لیے اہمیت کے حامل سمندری خطوں میں استحکام برقرار رکھنا ہے تو پھر بڑے چھوٹے تمام ممالک یکساں اہمیت کے حقدار ہیں۔

بحرہند اور بحرالکاہل میں بڑھتے ہوئے ربط کو دیکھتے ہوئے آج ہم بحرالکاہل کے لیے امریکی کمان کا نام تبدیل کر کے اسے بحرہندوالکاہل کے لیے امریکی کمان کا نام دے رہے ہیں۔ کئی دہائیوں تک اس کمان نے تواتر سے تبدیل ہوتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالا ہے اور آج جبکہ امریکی توجہ مغرب کی جانب مرکوز ہے تو یہ اسی میراث کو آگے لے کر جا رہی ہے۔

ایڈمرل ہیرس، آپ نے 2015 میں پتوار سنبھالنے کے بعد بدلتے سمندری دھاروں کا سامنا کیا۔ آپ نے غیرمعمولی دوربینی کے ذریعے ہماری ملکی ضروریات کا اندازہ لگایا جبکہ اس دوران عالمی قوانین کے مطابق چلنے والے تمام ممالک کا مجموعی مفاد بھی پیش نظر رکھا۔ یہ ایسے ممالک ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے جذبے سے منسلک ہیں۔

ایڈمرل، آپ نے یہ امر یقینی بنایا کہ ہماری مشترکہ افواج تیار رہیں، وہ سفارت کاروں کی معاونت کے لیے مطلوبہ اہلیت کی حامل ہوں جوکہ اقوام میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے ہمارے مرکزی عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ نے ہمارے جس مقصد کا اس قدر مناسب طور سے اظہار کیا، اس کی خاطر شراکتیں قائم کرنے کے لیے آپ کی موثر کوششوں نے اس اہم خطے میں ہماری ساکھ اور اہلیت کو تقویت فراہم کی ہے۔

آپ نے یہ ثابت کیا کہ امریکہ کسی تعلق کو کمتر نہیں سمجھتا اور آپ نے ہمارے کثیرطرفی تعلقات میں مضبوطی لانے کے لیے انتھک محنت کی۔ آپ نے علاقائی شراکت داروں سے مل کر انسداد دہشت گردی کی ہنگامی کوششیں ترتیب دیں تاکہ ہم سب کو درپیش متشدد انتہاپسندی کے خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شمالی کوریا پر پابندیاں یقینی بنانے کے لیے مشترکہ گشت کا سلسلہ شروع کیا اور اس کے ساتھ ساتھ سمندری سفر کی آزادی یقینی بنائی تاکہ تمام ممالک کی گہرے پانیوں تک یکساں رسائی رہے۔

ایڈمرل ہیرس، ان نمایاں سرگرمیوں کی کامیابی آپ کی جانب سے عالمی قانون کے کردار کو تسلیم کرنے اور آپ کی تزویراتی سوچ کے سبب ممکن ہوئی۔ چالیس سال پہلے گشتی سکواڈرن 44 کی قیادت کی پہلی ذمہ داری سے لے کر آج تک آپ نے قوم کی جتنی خدمت کی، اسے دیکھا جائے تو جیسا کہ چیف آف نیول آپریشنز نے کہا ہے، نیوی کے لیے اپنے اس تجربہ کار آدمی کا نقصان جھیلنا آسان نہیں ہے۔

چنانچہ محکمے کے جانب سے میں کہوں گا کہ آپ ہمارا پورا اعتماد لے کر رخصت ہو رہے ہیں اور اتحادیوں کی جانب سے آپ کا احترام عیاں ہے۔ تاہم میں برنی سے کہوں گا کہ اگر سینیٹ ان کی توثیق کر دیتا ہے تو آپ کو ان کے لیے نئے ملبوسات خریدنا ہوں گے کیونکہ آپ ایک اور کام پر اکٹھے جا رہے ہیں۔ وہ پہلے ہی یہ سب کچھ خرید چکی ہیں (قہقہہ)

تاہم ایڈمرل ہیرس میں یہ کہوں گا کہ آپ اس ٹیم کو ایڈمرل ڈیوڈسن جیسے بہترین ہاتھ میں دے کر جا رہے ہیں اور اپنا کام زبردست انداز میں انجام دینے پر ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ایڈمرل ڈیوڈسن، آپ مسلح افواج میں کام کرتے ہوئے دنیا بھر میں مختلف ذمہ داریوں کا 36 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ آپ اپنے عملی اور تزویراتی تجربے سے خطہ ہندوالکاہل میں امریکہ اور اتحادیوں کے بنیادی محافظ کی حیثیت سے اس نئے کردار میں کام لیں گے۔

مجھے اعتماد ہے کہ یہ ذمہ داری سنبھالتے ہوئے آپ ہماری قومی سلامتی کی حکمت عملی کے تین خطوط پر عمل کریں گے۔ ان میں خطہ ہندوالکاہل کی کمان کی حربی صلاحیت میں اضافہ، ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ ایڈمرل ہیرس کی پیش رفت کو مزید آگے بڑھانا اور اعتماد کے رشتوں میں مزید تقویت لانا شامل ہیں۔ ان سے عالمی قانون کے استحکام اور احترام میں مزید اضافہ ہو گا اور آپ قیادت کے حوالے سے ایسے اصلاحی اقدامات بھی جاری رکھیں گے جن کی بدولت کارکردگی اور حربی صلاحیت کو منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہو۔

اپنے عہدے کی توثیق کے لیے ہونے والی سماعت کے دوران آپ نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ آپ اپنی پوری توانائی یہ امر یقینی بنانے پر صرف کریں گے کہ یہ کمان حربی اعتبار سے ہماری تاریخ کی بہترین فورس بن جائے۔ آج امریکہ اور خطہ ہندوالکاہل کے ممالک اس کے لیے آپ پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں۔

مجھے اعتماد ہے کہ آپ اپنی ذمہ داریاں کڑے طور سے، دانائی اور اسی صلاحیت کے بل بوتے پر انجام دیں گے جس کا مظاہرہ آپ نے اپنی ملازمت کے تمام عرصے میں کیا ہے۔ شکریہ، آپ سے سنگاپور میں ملاقات ہو گی۔

(تالیاں)

اختتام۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں