rss

وزیر خارجہ مائیک پومپئو کی پریس کانفرنس

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, 中文 (中国) 中文 (中国)

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیرخارجہ مائیک پومپئو کی پریس کانفرنس
سپیل مین روم، لوٹے پیلس ہوٹل
نیویارک سٹی

 
 

وزیرخارجہ پومپئو: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں نائب چیئرمین کم یونگ چول کے ساتھ میری ملاقات کے علاوہ ہمارے لوگ بھی سنگاپور اور غیرفوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں اپنے شمالی کوریائی ہم منصبوں سے مل کر صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم کی سنگاپور میں متوقع ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں۔ ملاقاتوں کے اس سلسلے کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

آج نائب چیئرمین کم اور میں نے اس نکتے پر تبادلہ خیال کیا کہ کیسے ہمارے ملک باہم مل کر اس منفرد موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جسے ہمارے دونوں رہنماؤں نے مستقبل کی بابت اپنی واضح سوچ کے ذریعے تخلیق کیا ہے۔ نائب چیئرمین کم یونگ چول چیئرمین کم جانگ ان کی جانب سے نجی خط پہنچانے کے لیے واشنگٹن جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

یہ مجوزہ ملاقات صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم کے لیے امریکہ اور شمالی کوریا کو دلیرانہ انداز میں امن، خوشحالی اور سلامتی کے ایک نئے دور میں لے جانے کا تاریخی موقع پیش کرتی ہے۔ دونوں ممالک کو اپنے تعلقات میں بنیادی نوعیت کے لمحے کا سامنا ہے اور اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو المیہ ہو گا۔

میں نے پیانگ یانگ میں چیئرمین کم جانگ ان اور آج نائب چیئرمین کم یونگ چول کے ساتھ اپنی بات چیت میں اچھی طرح واضح کیا کہ صدر ٹرمپ اور امریکہ کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ جزیرہ نما کوریا کو مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ طور پر جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونا چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ اگر کم جانگ ان جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ کرتے ہیں تو شمالی کوریا کے لیے مستقبل کی راہ بے حد روشن ہو گی۔ ہمارے ذہن میں مضبوط، مربوط، محفوظ اور خوشحال شمالی کوریا کا تصور ہے جو اپنے ثقافتی ورثے کو برقرار رکھتے ہوئے اقوام عالم سے جڑا ہو گا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور شمالی کوریا باہم مل کر عمل کرتے ہوئے ایک ایسا مستقبل تخلیق کر سکتے ہیں جو بداعتمادی، خوف اور خطرات کے بجائے دوستی اور تعاون سے عبارت ہو گا۔ ہم مخلصانہ طور سے امید کرتے ہیں کہ چیئرمین کم جانگ ان بھی مستقبل کے حوالے سے اسی سوچ کے مالک ہوں گے۔ ہمیں امید ہے کہ اگر معاملات آگے بڑھتے ہیں تو دونوں رہنما سنگاپور میں اپنی آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے اور مستقبل کے امکانات بارے واضح سوجھ بوجھ کے ساتھ ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔ اگر یہ بات چیت کامیاب رہتی ہے تو یہ واقعتاً ایک تاریخی لمحہ ہو گا۔ اگر ہمیں دنیا کی راہ تبدیل کرنے کے اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانا ہے تو اس کے لیے چیئرمین کم جانگ ان کی دلیرانہ قیادت درکار ہو گی۔

صدر ٹرمپ اور میں سمجھتے ہیں کہ چیئرمین کم ایسے رہنما ہیں جو ایسے فیصلے لینے کی اہلیت رکھتے ہیں اور آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں ہمیں اسی بات کو آزمانے کا موقع ملے گا۔

اگر آپ کچھ سوالات کرنا چاہیں تو مجھے جواب دے کر خوشی ہو گی۔

ہیدا نوئرٹ: ہمارا پہلا سوال بلوم برگ سے نک ویڈہیم کریں گے۔ براہ مہربانی ہر شخص صرف ایک سوال کرے۔ جی نک، بات کیجیے۔

سوال: شکریہ جناب وزیر، گزشتہ رات دفتر خارجہ نے ہمیں بتایا کہ امریکہ اس ملاقات سے پہلے شمالی کوریا سے ایک تاریخی وعدہ لینا چاہیے گا۔ آج آپ نے کم یونگ چول سے بات چیت جلد ختم کر دی۔ کیا آپ اس کی وجہ بتا سکتے ہیں؟ کیا آپ کو وہ وعدہ مل گیا ہے جس کی آپ کو خواہش تھی اور کیا امریکہ اور شمالی کوریا اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا کیا مطلب ہو گا؟

وزیرخارجہ پومپئو: یہ (ناقابل سماعت) معاملہ ہے۔ ہم نے بات چیت قبل از وقت ختم نہیں کی۔ ہم نے کچھ چیزیں طے کر رکھی تھیں جن پر ہم بات کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے یہ امر یقینی بنایا کہ زیربحث موضوعات پر ہمارا موقف واضح ہو اور ہمیں علم ہو کہ ہماری ایک دوسرے سے کیا توقعات ہیں۔ ہم اس میں کامیاب رہے۔ یہ ایک مشکل معاملہ ہے۔ ہمیں اس میں کوئی غلطی نہیں کرنی۔ ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ ہم نے یہاں اس معاملے میں پیش رفت کی جیسا کہ دیگر مقامات پر جاری بات چیت میں بھی ایسی ہی پیشرفت دیکھنے کو ملی۔ ہم نے اس پیشرفت کو ممکن بنانے کے لیے درکار تمام وقت سے فائدہ اٹھایا ۔

ہیدا نوئرٹ: اگلا سوال وال سٹریٹ جرنل سے مائیکل گورڈن کریں گے۔

سوال: جناب، میں اسی سوال کو آگے بڑھاؤں گا۔ دفتر خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے یہ نشاندہی بھی کی ہے کہ امریکہ کو امید ہے وہ شمالی کوریا کو یہ یقین دلانے میں کامیاب رہے گا کہ اس کی سلامتی کا انحصار جوہری ہتھیاروں پر نہیں ہے۔ اب آپ ان کے ساتھ تین ملاقاتیں کر چکے ہیں اور کچھ گھنٹے ان کے ساتھ بتا چکے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اب تک انہیں یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں یا اس معاملے کو انجام تک پہنچانا کچھ مشکل ہے کیونکہ صدر ٹرمپ اب دو یا تین ممکنہ ملاقاتوں کی بات کر رہے ہیں جیسے ایک ملاقات میں یہ مسئلہ حل نہ ہو سکتا ہو؟

وزیرخارجہ پومپئو: جی دیکھیے، اس بارے میں کوئی غلطی نہ کریں۔ صدر ٹرمپ اور موجودہ انتظامیہ اچھی طرح سمجھتی ہے کہ یہ مسئلہ کس قدر مشکل ہے۔ شمالی کوریا طویل عرصہ سے جوہری پروگرام کو اپنی حکومت کی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا چلا آیا ہے۔ اب ہماری کوشش یہ ہے کہ شمالی کوریا والوں کو صدر کی بات سمجھائی جائے۔

اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، اگر شمالی کوریا والے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے تیار ہیں جس میں ان کے جوہری پروگرام کے تمام عناصر شامل ہوں، اگر ہم انہیں اس بات پر قائل کر لیتے ہیں کہ دراصل جوہری ہتھیار ہی ان کی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ ہیں تو یہ اہم بات ہو گی۔ ہم نے اس معاملے پر بہت سی بات چیت کی ہے۔ اس بارے میں بہت سی گفت و شنید ہو چکی ہے کہ ہم کس طرح آگے بڑھ سکتے ہیں، ایسی کون سی راہ ہے جس پر چل کر ہم نہ صرف جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا ہدف حاصل کر سکتے ہیں بلکہ شمالی کوریا کو درکار سلامتی کی ضمانت بھی دی جا سکتی ہو۔

ہیدا نوئرٹ: اگلا سوال اے بی سی نیوز سے مارتھا ریڈٹز کریں گی۔

سوال: وزیرخارجہ پومپئو: آپ نے اسے مجوزہ ملاقات کہا ہے۔ کیا ہمیں اس کے مستقبل کی بابت پتا چل جائے گا؟ آپ نے نائب چیئرمین سے آمنے سامنے بیٹھ کر ملاقات کی۔ آپ ان کے ساتھ کمرے میں تھے۔ آپ مستقبل کی بابت پیش رفت کے بارے میں کیا کہیں گے؟ یہ تمام معاملہ رولر کوسٹر کی سواری جیسا رہا ہے۔ ملاقات منسوخ ہو گئی اور تندوتیز باتیں سننے کو ملیں۔ چنانچہ یہ بتائیے کہ اب تبدیلی کیسے آئی اور کیا آپ کو تشویش ہے کہ معاملات ایک مرتبہ پھر بگڑ سکتے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: مارتھا، مجھے دو مرتبہ چیئرمین کم جانگ ان سے ملنے کا موقع ملا اور اب کم یونگ چول سے میری تیسری ملاقات ہوئی ہے۔ میں نے ان دونوں کے ساتھ بہت سا وقت گزارا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ مستقبل کی بابت ایسی راہ پر غوروفکر کر رہے ہیں جہاں وہ اپنے ملک کی تزویراتی پوزیشن کو تبدیل کر سکیں جس کے لیے پہلے ان کا ملک تیار نہیں تھا۔ یقیناً یہ انہی کا فیصلہ ہو گا اور انہوں نے ہی یہ فیصلہ کرنا ہے۔ انہیں ایک راہ منتخب کرنا ہو گی، جیسا کہ میں نے ابھی کہا انہیں ایسا راستہ منتخب کرنا ہے جو بنیادی طور پر اس راہ سے مختلف ہے جس پر ان کا ملک کئی دہائیوں سے چلتا چلا آیا ہے۔ اس پر کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ اس راہ میں ایسے مراحل بھی آئے جب ہمارے لیے آگے بڑھنا بے حد دشوار اور ناممکن دکھائی دیتا تھا۔

ہمارا مقصد بالکل واضح ہے۔ صدر نے مجھے یہ جاننے کی ہدایت دی ہے کہ ہمارے مقصد کا حصول کس حد تک ممکن ہے۔ چنانچہ مجھے علم ہے کہ سبھی ہر لمحہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی انجام دہی میں دن اور ہفتے لگیں گے۔ اس راہ میں مشکل لمحات بھی آئیں گے۔ میری ان کے ساتھ بات چیت میں مشکل مراحل بھی آئے۔ ہمیں کئی دہائیوں سے اس مسئلے کا سامنا ہے اس لیے اس راہ میں درپیش مشکلات سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارا مقصد رکاوٹیں دور کرنا ہے تاکہ ہم تاریخی نتیجے پر پہنچ سکیں۔

سوال: مجوزہ ملاقات کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟ کیا کل ہمیں معلوم ہو سکے گا کہ آیا یہ ملاقات ہو گی یا نہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں نہیں جانتا۔ میرے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے۔

ہیدا نوئرٹ: فاکس نیوز سے ایڈم شیپریو آخری سوال کریں گے۔

وزیرخارجہ پومپئو: مارتھا، اگرچہ ہم کل کے بارے میں نہیں جانتے مگر ہم نے اس ملاقات کے حوالے سے شرائط طے کرنے اور حالات سازگار بنانے کے لیے گزشتہ 72 گھنٹے میں حقیقی پیشرفت کی ہے۔ چنانچہ آپ کا سوال اس جواب کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ کون سی شرائط یا حالات ہیں۔ حالات صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم جانگ ان کو ایسی جگہ لا رہے ہیں جہاں ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ ان دونوں کی ملاقات میں حقیقی پیش رفت ہو گی۔ اگر ہم یہ سوچیں کہ ان کی ملاقات کا موقع نہیں ہے تو یہ اچھی بات نہیں ہو گی۔ ہم نے اس حوالے سے گزشتہ 72 گھنٹے میں حقیقی پیش رفت کی ہے۔

ہیدا نوئرٹ: فاکس سے ایڈم۔

سوال: وزیرخارجہ پومپئو، آپ نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری اسلحے سے مکمل طور پر پاک کرنے کی بات کی۔ میرا سوال ہمارے اتحادیوں پر اس کے اثرات سے متعلق ہے۔ اگر اس معاہدے میں یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ مستقبل میں امریکہ جنوبی کوریا سے اپنی فوج ہٹا لے گا تو پھر جنوبی کوریا اور جاپان جیسے ہمارے اتحادیوں کے خدشات کا کیا ہو گا جو چین کے اثرورسوخ کے سامنے خود کو کمزور محسوس کر سکتے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں آج یاگفت و شنید کے دوران کسی اور موقع پر اس معاہدے کے خدوخال کی بابت کوئی بات نہیں کروں گا۔ اس حوالے سے رہنماؤں نے اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ یہ سب کچھ کیسے ہو گا، یقیناً یہ محکمہ دفاع کا معاملہ ہے۔ میں آج اس پر کوئی بات نہیں کروں گا۔

میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ میرے خیال میں مجھے وزارت خارجہ سنبھالے ابھی 30 دن ہی ہوئے ہیں۔ جنوبی کوریا والوں، جاپانیوں اور امریکہ میں شمالی کوریا سے متعلق اس مسئلے کے حل کی بابت یکساں سوچ پائی جاتی ہے۔ میں نے وہاں اپنے ہم منصبوں سے بات کی، میں نے صدر مون سے بات کی۔ ہمیں ان کے خدشات کا اندازہ ہے۔ ہمیں انہیں لاحق خطرات کا اندازہ ہے۔ ہم جو معاہدہ طے کریں گے اس سے ان تمام ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔

سوال: تاہم کیا ایسا خلا پیدا ہونے کا امکان بھی موجود ہے جس سے فائدہ اٹھا کر چین معاشی، سیاسی یا عسکری طور پر دخل اندازی کر سکتا ہو؟

وزیرخارجہ پومپئو: یہ بات جان لیں کہ چینی آج کل دنیا میں ہر کہیں آ جا رہے ہیں۔ یہ خدشہ صرف اسی جگہ نہیں بلکہ ہر جگہ موجود ہے۔ ہم اس بارے پوری طرح آگاہ ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم شمالی کوریا کے حوالے سے جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے کوئی خاص خطرہ جنم نہیں لے گا۔ جنوبی کوریا اور جاپان خطے میں ہمارے اہم ترین اتحادی ہیں اور ہم ان کا خیال رکھیں گے۔

ہیدا نوئرٹ: ٹھیک ہے، سبھی کا شکریہ۔

وزیرخارجہ پومپئو: آپ کا بے حد شکریہ۔

ہیدا نوئرٹ: بہت شکریہ۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں