rss

شنگریلا ڈائیلاگ، سنگاپور: وزیردفاع جیمز میٹس کا خطاب

हिन्दी हिन्दी, English English

امریکی محکمہ دفاع
دفتر برائے ترجمان

 
 

جان چپمین: وزرا، ایوان ہائے پارلیمان کے ارکان اور مندوبین، انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے زیراہتمام 17ویں شنگریلا ڈائیلاگ کے افتتاحی اجلاس میں خوش آمدید۔ اس صبح ہمارے پاس بھرپور پروگرام ہے اور مجھے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے خوشی ہے۔

سب سے پہلے مجھے وزیراعظم شری نریندرا مودی کا گرمجوشانہ شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے گزشتہ شب شاندار کلیدی خطاب کیا جسے سننا خوشی کی بات تھی۔ میں سمجھتا ہوں کی ان کی تقریر پڑھے جانے کے لائق ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس وقت یہ خطاب انسٹیٹیوٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہو گا، غالباً آپ اپنے ٹیلیفون کی ایپس پر بھی اسے دیکھ سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسے سننا ہی کافی نہیں بلکہ اس کا بغور مطالعہ بھی ضروری ہے۔

مجھے وزیراعظم لی سین لونگ کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے گزشتہ رات نہایت تواضع سے ہمارے لیے ڈنر کی میزبانی کی۔ میں نائب وزیراعظم ٹیو، وزیر اونگ، وزیرخارجہ اور سنگاپور کی حکومت کے دیگر میزبانوں کا بھی مشکور ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ گزشتہ روز دیا جانے والا ڈنر شنگریلا ڈائیلاگ کے جذبے کا شاندار اظہار تھا۔

آج صبح کے وقت اجلاس کی کارروائی آن دی ریکارڈ ہے۔ ہر مقرر کا پہلے سے تیار شدہ خطاب ریکارڈ پر موجود ہے۔ سوالات کے جواب بھی ریکارڈ پر ہیں۔ میں یہ بات بھی بتانا چاہوں گا کہ سوالات بھی آن دی ریکارڈ ہیں۔ جب ہم سوالات کی جانب آئیں گے تو کوئی تبصرہ یا سوال کرنے میں 90 سیکنڈ سے زیادہ وقت نہ لیجیے اور اگر بہت ضروری ہو تو یہ دورانیہ دو منٹ تک محیط ہو سکتا ہے۔ اگر مجھے یہ محسوس ہوا کہ اگر بات کرتے ہوئے کسی کی آواز ضرورت سے زیادہ اونچی ہو گئی ہے تو میں اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے آپ کا مائیکروفون بند کر سکتا ہوں، لہٰذا نظم و ضبط کا خیال رکھیے۔ جمہوری مفاد میں میری کوشش ہو گی کہ آپ میں زیادہ سے زیادہ لوگ بات چیت میں شامل ہو سکیں۔

اگر آپ مختصر تبصرہ کرنا چاہتے ہیں یا آپ کو کوئی سوال پوچھنا ہو اور ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کرنا چاہیں تو آپ کو تین کام کرنا ہوں گے۔ پہلا یہ کہ اپنے نام والا بیج لے کر اسے بائیں جانب سے مائیکروفون یونٹ سے ٹکرائیں۔ اس کے بعد سکرین کو دائیں یا بائیں جانب سے چھوئیں، اس کا انحصار اس پر ہو گا کہ آپ کس طرف بیٹھے ہیں، اس کے بعد بائیں یا دائیں جانب نقرئی بٹن کو دبائیں۔ ایسا کر کے آپ سوالات کی قطار میں شامل ہو جائیں گے۔

مائیکروفون یونٹ کا رنگ سبز ہو جائے گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کا مائیکروفون آن ہے۔ لہٰذا اگر آپ اپنے قریب بیٹھے شخص سے سرگوشی کرنا چاہیں تو پراعتماد رہیں کہ آپ کی آواز ہال میں سبھی تک نہیں پہنچے گی۔ جب میں آپ کو بلاؤں گا تو آپ کا مائیکروفون آن کر دوں گا، مگر اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے نام کا بیج مائیکروفون پر رکھیں گے۔ پھر سبز بٹن دبائیں گے۔ اس کے بعد نقرئی بٹن دبائیں گے۔ یہ تین کام کر کے آپ قطار میں آ جائیں گے۔ قطار میں دس، بارہ یا پندرہ لوگ ہو سکتے ہیں اور پھر میں لوگوں کو بلاؤں گا۔

ہمارا پہلا دور امریکی قیاددت اور خطہ ہندوالکاہل میں سلامتی کے حوالے سے درپیش مسائل پر ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ دوسرے برس بھی وزیردفاع جم میٹس یہاں موجود ہیں جو افتتاحی سیشن سے خطاب کریں گے۔

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں وہ مضبوط دفاع کے حامی ہیں۔ سپاہی ہونے کے ناطے وہ جنگ کی ہولناکیوں اور اچھی طرح تربیت یافتہ فوج کی اثرپذیری سے آگاہ ہیں۔ مفکر کی حیثیت سے وہ جانتے ہیں کہ حکمت عملی، اس کی تیاری اور مسلسل اطلاق کیا اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح جنگجو کی حیثیت سے وہ اتحاوں کی قدر بھی جانتے ہیں۔ وہ دفاعی سفارت کاری کے فن کے ماہر حامی رہے ہیں۔ وہ یہ بات سمجھتے ہیں کہ عالمی سطح پر سیاسی و عسکری قیادت سے رابطہ امریکہ کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے بہت سے قول مشہور ہیں جن میں سے ایک مجھے سب سے زیادہ پسند ہے اور وہ سپاہیوں کے لیے ان کی یہ نصیحت ہے کہ ہتھیار سے کام لینے سے پہلے اپنے دماغ سے کام لیں۔ لہٰذا میں نہایت خوشی سے جناب جم میٹس کو دعوت دیتا ہوں کہ آج وہ اپنے دماغ کے ذریعے ہمارے ساتھ رابطہ کریں۔ جم میٹس، تشریف لائیے۔

آپ کا بے حد شکریہ۔ شکریہ جان، فضیلت مآب ساتھی وزرا اور فوجی افسران، صبح بخیر۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اور سنگاپور میں خوش آمدید جو دنیا میں غالباً ہمارا سب سے مہربان اور لائق میزبان ہے۔

وزیردفاع کی حیثیت سے شنگریلا ڈائیلاگ میں دوبارہ آپ سے مخاطب ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اعلیٰ حکام کے لیے ملاقاتوں، خیالات کے تبادلے اور آزاد و کھلے خطہ ہندو الکاہل کی اہمیت پر زور دینے کا بہترین موقع ہے۔

خاص طور پر یہاں ہمیں یہ بات کرنے کا موقع میسر آتا ہے کہ ہم اس سوچ کو پائیدار بنانے کے لیے باہم مل کر کیسے کام کر سکتے ہیں۔ گزشتہ برس بنیادی طور پر میں یہاں سامع کے طور پر آیا تھا۔ مجھے عہدہ سنبھالے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی لہٰذا مجھے بہت کچھ سننے کی ضرورت تھی۔ اس کے بعد میں نے چھ مرتبہ اس خطے کا دورہ کیا اور سننے کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے اس انتہائی متنوع خطے کے ممالک میں باہم اعلیٰ درجے کے اشتراک کا اندازہ ہوا۔

آج میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے خطہ ہندوالکاہل کے لیے کُل حکومتی حکمت عملی پیش کرنے آیا ہوں جو ایسے مشترکہ اصولوں پر قائم ہے جو ایک آزاد اور کھلے خطہ ہندو الکاہل کو تقویت دیتے ہیں۔

جیسا کہ گزشتہ شب وزیراعظم مودی نے کہا، مشترکہ مقدر کی بنیاد مشترکہ اقدار کے حوالے سے کیے گئے عہد پر ہی ہونی چاہیے۔

امریکہ انڈیا، آسیان ممالک اور ہمارے معاہداتی اتحادیوں اور دوسرے شراکت داروں کے شانہ بشانہ ایک ایسے خطہ ہندوالکاہل کی خواہش رکھتا ہے جہاں سبھی کی خودمختاری اور زمینی سالمیت قائم رہے، آزادی کا وعدہ تکمیل کو پہنچے اور سبھی کو خوشحالی میسر آئے۔

اس سوچ کی مضبوط تائید میں امریکہ کی جاری کردہ قومی سلامتی اور قومی دفاع کی حالیہ حکمت عملی میں ٹرمپ انتظامیہ کی اصولی حقیقت پسندی کا اظہار نظر آتا ہے۔ دونوں طرز کی حکمت عملی میں تزویراتی ماحول کا گہرا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ بات مدنظر رکھی گئی ہے کہ 21ویں صدی میں دنیا بھر کے ممالک میں مسابقت ناصرف موجود ہے بلکہ بعض معاملات میں اس میں شدت بھی پیدا ہو رہی ہے۔

دونوں طرز کی حکمت عملی میں اس امر کی توثیق کی گئی ہے کہ امریکی استحکام، سلامتی اور خوشحالی کے لیے خطہ ہندوالکاہل بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے امریکی حکمت عملی ہماری سرحدی سلامتی کی حکمت عملی کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس سلسلے میں اتحادوں اور شراکتوں کو وسعت دینا ہماری ترجیح ہے۔ آسیان کی مرکزیت کو ہم بنیادی اہمیت دیتے ہیں اور جہاں ممکن ہوا چین کے ساتھ تعاون کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ بامعنی کثیرطرفی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرتے ہوئے ہم بیک وقت موجودہ علاقائی طریق کار کے ساتھ اپنی شمولیت کو بھی مزید مضبوط بنائیں گے۔

ہماری جمہوریت کے ابتدائی برسوں میں صدر تھامس جیفرسن نے الکاہل کے شمال مغرب میں امریکی موجودگی قائم کرنے کی کوشش کی۔ یہ ملک کا وہ حصہ ہے جہاں میں پلا بڑھا ہوں۔ صدر جیفرسن نے اندازہ لگا لیا تھا کہ امریکہ کا یہ ساحلی خطہ بحرالکاہل کے لیے گزرگاہ کی حیثیت اختیار کر جائے گا اور تجارت و کاروبار کے بھرپور مواقع پیدا کرے گا۔ تب سے امریکہ نے یہاں اپنی شمولیت میں اضافہ کیا اور خطے میں اپنے ربط کو مزید مضبوط بنایا۔

چنانچہ یاد رہے کہ امریکہ بحرالکاہل میں قیام کے لیے موجود ہے۔ یہ ہمارا ترجیحی خطہ ہے اور ہمارے مفادات پیچیدہ طور سے خطوں سے وابستہ ہیں۔ ہندوالکاہل کے حوالے سے ہماری حکمت عملی سلامتی، معاشی اور ترقیاتی شعبے میں نمایاں سرمایہ کاری سے عبارت ہے جس سے ایک محفوظ و مامون، خوشحال اور آزاد خطہ ہندوالکاہل کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں سے ہمارے عہد کا اظہار ہوتا ہے۔ ایسے خطے کی بنیاد بڑے چھوٹے تمام ممالک کے ساتھ مشترکہ اصولوں پر ہو گی۔

یہ وہ ممالک ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ان کا مستقبل چھوٹے بڑے ہر ملک کی خوشحالی اور آزادی کے احترام سے وابستہ ہے۔ جو عالمی پانیوں اور فضا میں سفر کی خواہش رکھتے ہیں، جو ناجائز دباؤ کے بغیر تنازعات کا پرامن انداز میں حل چاہتے ہیں، جو آزاد، منصفانہ اور دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری پر یقین رکھتے ہیں اور جو ایسے عالمی قوانین اور اصولوں کے پاسدار ہیں جن کی بدولت گزشتہ دہائیوں میں اس خطے میں امن اور خوشحالی آئی ہے۔

امریکہ زبانی و عملی طور پر ان اصولوں پر کاربند ہے۔ ہم اپنی اقتصادیات میں منصفانہ مسابقت کے خواہاں ہیں۔ ہم غارت گر معاشی ہتھکنڈے استعمال نہیں کرتے اور ہم اپنے اصولوں پر مستقل مزاجی سے قائم ہیں۔ امریکی حکمت عملی کی رو سے کوئی ملک خطہ ہندوالکاہل پر غلبہ پا سکتا ہے اور نہ ہی اسے ایسا کرنا چاہیے۔

امن اور خودمختاری کے خواہاں ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ مستقبل کی تعمیر ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر اس مستقبل کی جانب دیکھا جائے تو خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے ہماری حکمت عملی کی بدولت ان علاقوں کو بھرپور فائدہ پہنچے گا جو ابھی دوسروں سے پیچھے ہیں۔

آج میں اپنی حکمت عملی کے متعدد موضوعات پر روشنی ڈالنا چاہوں گا۔ ان میں پہلا موضوع سمندری حوالے سے اپنی توجہ کو وسعت دینا ہے۔ سمندری عمومیات پوری دنیا کے مفاد میں ہیں اور سمندری رابطے کے خطوط سبھی کی معاشی قوت کے لیے حیات بخش حیثیت رکھتے ہیں۔ ہماری سوچ یہ ہے کہ اپنے شراکت داروں کی بحری اور نفاذ قانون سے متعلق اہلیتوں اور صلاحیتوں میں اضافے نیز سمندری نظام اور مفادات کی نگرانی اور تحفظ کو بہتر بنا کر ان حیات بخش خطوط کی حفاظت کی جائے۔

باہمی مشترکہ عمل دوسری اہم بات ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اتحادیوں اور شراکت داروں کا نیٹ ورک امن کے امکانات میں اضافہ کر دیتا ہے۔ اسی لیے ہم یہ امر یقینی بنائیں گے کہ ہماری فوج دوسروں کے ساتھ مزید آسانی سے تعامل کی اہل ہو۔ اس کا اطلاق ناصرف مادی امور پر ہوتا ہے بلکہ منصوبہ بندی کے سلسلے میں بھی اس کی نمایاں اہمیت ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ سلامتی کے شعبے میں اپنے شراکت داروں کو جدید ترین دفاعی سازوسامان دینے کے ساتھ ساتھ خطہ ہندوالکاہل کے نان کمیشنڈ اور کمیشنڈ افسروں کو پیشہ ور عسکری تعلیم و تربیت بھی فراہم کرے گا۔ سلامتی کے شعبے میں تعاون کے ذریعے ہم اپنی افواج اور معیشتوں میں قریبی تعلقات پیدا کر رہے ہیں جس سے باہمی پائیدار اعتماد کو فروغ ملے گا۔

قانون کی حکمرانی، سول سوسائٹی اور شفاف حکمرانی کا فروغ ہمارا تیسرا موضوع ہے۔ اس سے اُس مضرت رساں اثرورسوخ کو سامنے لانے اور اس کے آگے بند باندھنے میں مدد ملتی ہے جو تمام تر معاشی ترقی کو خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔ دفاعی شعبے میں دوسرے ممالک کے ساتھ ہمارے ربط سے اس تصور کو تقویت ملتی ہے۔ اس ربط میں ہماری پیشہ ور عسکری تعلیم اور مشترکہ فوجی مشقوں، سپاہیوں، ملاحوں اور فضائی شعبے کے اہلکاروں، سمندری فوج کے ارکان اور ساحلی محافظوں نیز خطے بھر میں مسلح افواج کے مابین روزمرہ میل جول شامل ہے۔

نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی اس حکمت عملی کا چوتھا موضوع ہے۔ امریکہ کو سرمایہ کاری بشمول بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں خطے کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا احساس ہے۔ ہم اپنے ترقیاتی اور مالیاتی اداروں کو مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ ہم دوسرے ممالک سے مزید بہتر شراکت قائم کر سکیں۔

امریکی ادارے اپنے علاقائی معاشی شراکت داروں کے ساتھ مزید قریبی تعاون کو فروغ دیں گے تاکہ مسائل کا ایسا حل نکالا جا سکے جس سے ناصرف واضح پیداوار حاصل ہو بلکہ امریکی تجربے اور سوجھ بوجھ کو بھی دوسرے ممالک تک منتقل کیا جا سکے جس سے اعلیٰ قدر اور معیار کی حامل ترقی ممکن ہو سکے گی۔ ہم خالی خولی وعدوں اور دوسرے ممالک کی معاشی خودمختاری پر سمجھوتے پر یقین نہیں رکھتے۔

امریکہ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ممالک سے تعاون کے لیے تیار ہے۔ آزاد اور کھلا خطہ ہندوالکاہل ہم سب کے مفاد میں ہے تاہم یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم سب اس کے لیے مل کر کام کریں گے۔ مشترکہ اصولوں کے تحفظ کے لیے ہم موجودہ علاقائی اداروں کے ساتھ شراکتیں جاری رکھیں گے۔

یقیناً ان میں آسیان اور اس کے تخلیق کردہ ادارے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں جن میں آسیان علاقائی فورم، آسیان وزرائے دفاع کا اجلاس، مشرقی ایشیائی کانفرنس، ایشیائی الکاہل معاشی تعاون کا فورم اور ہم خیال شراکت داروں کی سہ طرفی اور کثیرطرفی شراکتیں نمایاں ہیں۔

اپنے اتحادوں اور شراکتوں کو مضبوط بنانا ہماری حکمت عملی کا بنیادی عنصر ہے تاکہ سبھی کو فائدہ پہنچے اور باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات کو پروان چڑھانا ممکن ہو سکے۔ ہم مشترکہ مسائل سے نمٹنے، مشترکہ اہلیتوں میں اضافے، جہاں مناسب ہو دفاعی شراکتوں کو بہتر بنانے، باہمی تعامل میں بہتری لانے، معلومات کے تبادلے کو باسمت بنانے اور اہل و ہم خیال شراکت داروں کا نیٹ ورک بنانے کے لیے تمام اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

شمال مشرقی ایشیا میں سلامتی کے حوالے سے صورتحال ہمارے موثر اتحاد اور شراکتی تعلقات کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ جزیرہ نما کوریا میں ہم اپنے اتحادی کے ساتھ ہیں اور اس کوشش کی قیادت کرنے والے اپنے دفارت کاروں کی معاونت کر رہے ہیں۔ جزیرہ نما کوریا کو مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ طور سے جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا ہمارا مقصد ہے اور عالمی برادری اس مقصد میں ہمارے ساتھ ہے جس کا اظہار اقوام متحدہ کی متفقہ طور پر منظور کردہ متعدد قراردادوں سے ہوتا ہے۔

شمالی کوریا کے معاملے سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ہم جمہوریہ کوریا اور جاپان کے ساتھ اپنے اتحاد کو جدید بنانے میں مصروف ہیں تاکہ یہ 21ویں صدی کے مسائل سے نبردآزما ہو سکے ۔

محکمہ دفاع تائیوان کے ساتھ کام کرنے کے لیے ثابت قدمی سے پرعزم ہے تاکہ اسے ‘تائیوان کے ساتھ تعلقات کے قانون’ کی مطابقت سے اپنے دفاع کے لیے درکار دفاعی سازوسامان اور خدمات مہیا کی جا سکیں۔ ہم اس حوالے سے جوں کی توں حالت میں تبدیلی کی تمام یکطرفہ کوششوں کے مخالف ہیں اور آبنائے تائیوان کے دونوں جانب اختلافات کا عوامی خواہشات کے مطابق حل نکالنے پر اصرار جاری رکھیں گے۔

جنوبی مشرقی ایشیا میں ہم نے فلپائن اور تھائی لینڈ کے ساتھ اپنے دیرینہ اتحادوں کو مضبوط بنایا ہے جبکہ سنگاپور کے ساتھ پائیدار شراکت میں مزید تعاون کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم خطے بھر میں مرکزی کرداروں کے ساتھ نئی شراکتیں قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان میں انڈونیشیا، ملائشیا اور ویت نام شامل ہیں۔ ہم نے ان ممالک کے ساتھ مشترکہ مفاد اور باہمی احترام کی بنیاد پر تاریخی پیش شرفت کی ہے۔

ہم علاقائی سلامتی کے حوالے سے آسیان کی مرکزیت کی حمایت کرتے ہیں اور اسے مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ آسیان ممالک میں جتنا اتحاد ہو گا ہم اسی قدر بہتر طور سے خطے کو دباؤ سے محفوظ رکھ سکیں گے تاکہ سبھی ممالک عالمی قانون کا احترام کرتے ہوئے ساتھ ساتھ چل سکیں۔

اوشیانا خطے میں ہمارے اتحادوں اور شراکتوں کی بنیاد ناصرف سلامتی کے مشترکہ مفادات بلکہ مشترکہ اقدار اور قربانیوں کی طویل تاریخ پر بھی استوار ہے۔ آسٹریلیا بدستور ہمارے مضبوط ترین اتحادیوں میں شامل ہے اور اس سال ہم اس کے ساتھ دوستی کی 100ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ ہم نیوزی لینڈ کے ساتھ اپنی دفاعی شراکت کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں اور ہم ان اہم شراکتوں اور اتحادوں میں جدت لائے ہیں تاکہ یہ امر یقینی بنایا جا سکے کہ اس صدی میں سلامتی کے مسائل کے ضمن میں ان کی وہی اہمیت ہے جو گزشتہ صدی میں تھی۔

ہماری حکمت عملی میں بحرالکاہل کے جزائر، ہندو الکاہل کے لیے امریکی گزرگاہ اور اس خطے کی اہمیت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے جہاں ہم اپنے ربط میں اضافہ کر رہے ہیں۔ صدارتی بجٹ میں پالاؤ کے ساتھ ہمارے معاہدے کی مالی معاونت کے ضمن میں طویل عرصہ سے ایفا طلب وعدے کی تکمیل کے لیے مثبت قدم اٹھایا گیا ہے۔ یہ دنیا کے اس اہم حصے میں مستقبل کے اقدامات کے سلسلے میں فوری ادائیگی کی حیثیت رکھتا ہے

جنوبی ایشیا میں ہم خاص طور پر انڈیا کے ساتھ اپنی شراکت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ گزشتہ شام وزیراعظم مودی کی باتوں سے خطہ ہندوالکاہل کے رہنما اور ذمہ دار نگران کی حیثیت میں انڈیا کے کردار کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔

امریکہ علاقائی اور عالمی سلامتی کے ضمن میں انڈیا کے ممکنہ کردار کو اہمیت دیتا ہے اور ہم امریکہ انڈیا شراکت کو دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتوں کے مابین فطری شراکت کے طور پر دیکھتے ہیں جس کی بنیاد تزویراتی مفادات، مشترکہ اقدار اور قانون کی بنیاد پر عالمی نظام کے احترام پر ہے۔

بہت سے شعبہ جات میں ہمارا علاقائی تعاون انہی مشترکہ مقاصد کی مطابقت سے فروغ پا رہا ہے۔ ہماری شراکت خطہ ہندوالکاہل سے آگے تک پھیلی ہوئی ہے اور ہم افغانستان کی تعمیر نو کے حوالے سے انڈیا کے مسلسل نمایاں کردار کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ہم الکاہل میں برطانیہ، فرانس اور کینیڈا جیسے اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ ربط میں بھی اضافہ کر رہے ہیں جن کے ساتھ اس خطے میں ہمارے دیرپا مفادات وابستہ ہیں۔

اگلی نسل یہ دیکھے گی کہ آیا ہم نے معاشی خوشحالی میں اضافہ کرتے ہوئے اور عالمگیر تعاون برقرار رکھتے ہوئے متفقہ قوانین اور اصولوں کی بنیاد پر اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت اور تنازعات سے پرہیز کرتے ہوئے ابھرتی ہوئی طاقتوں کو یکجا کرنے میں کس حد تک کامیابی حاصل کی۔

ہندوالکاہل سے متعلق ہماری حکمت عملی چین کے ساتھ ہمارے تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔ ہم آگاہ ہیں کہ چین کو آئندہ برسوں میں بہت سے مسائل اور مواقع کا سامنا ہو گا۔ اگر چین اس خطے میں طویل مدتی امن اور خوشحالی کو فروغ دیتا ہے تو ہم اس کے فیصلوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔

تاہم جنوبی چینی سمندر کے حوالے سے چین کی پالیسی ہماری حکمت عملی کے کھلے پن سے بالکل متضاد ہے۔ ہماری حکمت عملی چینی سرحدی اہداف پر سوال اٹھاتی ہے۔ چین کی جانب سے جنوبی چینی سمندر میں مصنوعی جزائر پر فوجی سرگرمیاں جاری ہیں جن میں بحری جہازوں کو تباہ کرنے والے میزائلوں، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں اور الیکٹرانک جیمرز کی تنصیب نیز ووڈی جزائر میں بمبار جہاز کی لینڈنگ بھی شامل ہیں۔

اگرچہ چین کے دعوے اس سے متضاد ہیں تاہم ہتھیاروں کے ایسے نظام کی تنصیب دہشت اور دباؤ کے لیے فوج کے براہ راست استعمال سے جڑی ہوئی ہے۔ سپریٹلے جزائر میں چین کی جانب سے عسکری سرگرمیاں بھی 2015 میں صدر ژی کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں دی گئی اس کھلی ضمانت سے متضاد ہیں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔

انہی وجوہات کی بنا پر اور چین کی جانب سے جنوبی چینی سمندر میں جاری عسکری سرگرمیوں کے ابتدائی جواب میں گزشتہ ہفتے ہم نے پیپلز لیبریشن آرمی کی بحریہ کو 2018 کی رم آف دی پیسیفک مشقوں میں شرکت کے لیے دی گئی دعوت واپس لے لی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چینی طرزعمل ان مشقوں کے اصولوں اور مقاصد سے میل نہیں کھاتا۔ یہ دنیا میں بحریہ کی سب سے بڑی مشقیں ہیں جن میں شفافیت اور تعاون کو نمایاں اہمیت دی جاتی ہے۔

میں یہ بات واضح کر دوں کہ ہم کسی ملک کو یہ نہیں کہتے کہ اسے امریکہ یا چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ دوست مطالبات نہیں کرتے کہ آپ کسی ایک کو منتخب کریں۔ عالمی نظام کی تشکیل میں چین کی بات بھی سنی جانی چاہیے اور سنی جاتی ہے۔ چین کے کردار کی تشکیل میں اس کے تمام ہمسایوں کا بھی حصہ ہے۔ اگر امریکہ نے چین کے ساتھ نتائج پر مبنی تعمیری تعلقات قائم کرنے کی کوشش جاری رکھی تو پھر ہماری حکمت عملی یہ ہو گی کہ جہاں ممکن ہو تعاون کیا جائے اور جہاں ضروری ہو پوری طرح مقابلہ کیا جائے۔

یقیناً ہم ہندوالکاہل کے خطے میں پائیدار نظام کے لیے چین کے کردار کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور چین کی دعوت پر میں بہت جلد بیجنگ کا دورہ کروں گا جو الکاہل کے دونوں ممالک میں قومی مکالمے کو وسعت دینے اور اسے مضبوط بنانے کے لیے ہماری کھلی اور شفاف سوچ کا آئینہ دار ہو گا۔

میں اپنی بات کا اختتام وہیں کروں گا جہاں سے میں نے آغاز کیا تھا۔ بحرالکاہل کے ملک کی حیثیت سے امریکہ اس خطے کے ساتھ مشترکہ مقدر تخلیق کرنے کے لیے بدستور پرعزم ہے۔ امریکہ تزویراتی محتاجی کے بجائے تزویراتی شراکتوں کی پیشکش کرتا ہے۔ امریکہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر خطے کی سلامتی، استحکام اور اس کی معاشی خوشحالی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارا یہ عزم امریکہ میں سیاسی تبدیلیوں سے ماورا ہے اور ہمیں واشنگٹن کی مضبوط دوطرفہ حمایت حاصل رہے گی۔

جیسا کہ صدر ٹرمپ نے ڈا نانگ میں کہا تھا، ہم اپنے شراکت داروں سے خودمختاری یا انٹلیکچوئل پراپرٹی پر سمجھوتہ کرنے کو نہیں کہیں گے۔ ہم بالادستی کا خواب نہیں دیکھتے۔ مشترکہ اصولوں کی بنیاد پر اکٹھے کام کرتے ہوئے ہم ایک ایسا مستقبل تخلیق کر سکتے ہیں جو تمام ممالک کے لیے امن، خوشحالی اور سلامتی لائے گا۔ ان میں ہر ملک ایک روشن ستارہ ہے اور کسی کا سیارہ نہیں ہے۔ خواتین و حضرات آپ کا شکریہ، اب میں آپ کے سوالات کا منتظر ہوں۔

جان چپمین: بہت شکریہ جناب وزیر، مجھے خوشی ہے کہ ہمارے پاس سوالات کے لیے کافی وقت ہے۔ میرے پاس فہرست میں پہلے سے ہی آٹھ نو لوگ موجود ہیں۔ اپنے نام والے بیج کو مائیکروفون سے ٹکرائیے، ٹچ سکرین پر سبز بٹن دبائیے، پھر نقرئی بٹن دبائیے، یوں آپ میری فہرست میں آ جائیں گے۔ میں جس پہلے شخص کو دیکھ رہا ہوں وہ (جوش روگن؟) امریکہ سے ۔۔۔ جوش؟

سوال: بہت شکریہ جناب وزیر، وقت دینے اور اپنی خدمت مہیا کرنے پر آپ کا شکریہ۔ ٹرمپ انتظامیہ قومی دفاع کی حکمت عملی پر عملدرآمد کے لیے ہمارے اتحادوں اور شراکتوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔ اس حکمت عملی میں چین کے ساتھ تزویراتی مسابقت پر خاص توجہ مرکوز کی گئی ہے۔اگر دیکھاجائے کہ ٹرمپ انتظامیہ جس طرح اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ تنازعات کھڑے کر رہی ہے، مثال کے طور پر تجارت، مگر محض تجارت ہی نہیں، تو ایسے میں یوں لگتا ہے کہ امریکہ کے ان اقدامات کا الٹا اثر ہو سکتا ہے۔ اگر چین کا ایک تزویراتی ہدف امریکہ کو اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں سے الگ کرنا ہے تو کیا ہم خود ہی ان کا کام نہیں کیے جا رہے؟ شکریہ۔

وزیر دفاع میٹس: سب سے پہلی بات یہ کہ جب میں نے خطے کا دورہ کیا تو ہمیں اپنے شراکت داروں، اپنے اتحادیوں حتیٰ کہ اپنے غیرروایتی شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ اپنے مقاصد بڑی حد تک ایک جیسے دکھائی دیے۔ ہم بہت سے نئے تعلقات بنا رہے ہیں، اس سے پہلے ہمارے یہ تعلقات نہیں تھے، انہیں تشکیل پائے پانچ یا دس سال ہوئے ہیں۔ چنانچہ اس دوران میں نے جو کچھ دیکھا اس کی بنیاد پر آپ کی بات کا جواب یہ ہو گا کہ ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت کاروں کو دشمن نہیں بنا رہے۔ البتہ بعض شعبے ایسے ہیں جہاں دوستوں میں عدم اتفاق بھی ہوتا ہے۔ ہم تجارتی شعبوں میں ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں۔ تاہم ہمارے مابین مخصوص اقدار کے حوالے سے ایک بنیادی نوعیت کا احترام پایا جاتا ہے اور میں صرف یہ کہوں گا کہ گزشتہ شام انڈیا کے وزیراعظم نے ان اقدار کی بابت بہت اچھی طرح بیان کیا۔ انہوں نے عالمی قانون کے بارے میں بات کی۔ میں نے ماضی کے ایک صدر تھامس جیفرسن کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے ایک بیان دیا تھا کہ سیاسی مبادیات میں ہر وقت اور ہر قسم کے حالات کے لیے ایک ہی بات کو دانشمندانہ اور موزوں قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یقیناً ہم نے بعض مسائل سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی طریقہ ہائے کار اختیار کیے، تاہم جب تک اقوام ایک دوسرے سے بات چیت جاری رکھتی ہیں اور جب تک وہ ایک دوسرے کی بات سنتی اور ایک دوسرے کا احترام کرتی رہتی ہیں اس وقت تک کسی ایک فیصلے کی بنا پر کچھ بھی ختم نہیں ہو جاتا۔ اقدار کا پائیدار تبادلہ اور دائمی احترام ہمیشہ ہمیں ایسا فورم مہیا کرتا ہے جہاں ہم باہمی تعلقات کو مثبت انداز میں آگے بڑھا سکتے ہیں۔ میں مثبت انداز اور مثبت سمت پر خاص طور پر زور دوں گا۔

جان چپمین: انڈونیشیا سے ڈاکٹر (سلویا یحدید؟)

سوال: شکریہ، شکریہ جناب وزیر۔ جب ہم اس خطے میں تزویراتی شراکت کی بات کرتے ہیں تو یقیناً ہمیں اہلیتوں کا خلا بھی پُر کرنا ہو گا۔ کیا ہم جان سکتے ہیں کہ امریکہ کے پاس خطے کے ممالک میں پائے جانے والے خلا کو پُر کرنے کی کون سی حکمت عملی ہے؟ شکریہ۔

وزیر دفاع میٹس: آپ جانتے ہیں کہ جب ہم اس معاملے کو دیکھتے ہیں، ہمیں اس حکمت عملی کے اندر اس کا سامنا ہوا کیونکہ اکثر اوقات ہمیں وہ خلا دکھائی دیتے ہیں جن کی جانب آپ نے اشارہ کیا، یہ ہمیں اپنے اتحادیوں، شراکت داروں اور دہشت گردی یا دوسرے بین الاقوامی مسائل سے نمٹنے والوں سے الگ کر دیتے ہیں۔ جب آپ ہماری جگہ پر ہوتے ہیں تو آپ کو اپنی تربیت سے لے کر رابطہ کاری اور تعلیم کے مواقع تک ہر شے کو صورتحال کے مطابق تبدیل کرنا پڑتا ہے اور ایسے خلا پُر کرنے کے لیے تعلیم اور تربیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ مستقبل میں آپ دیکھیں گے کہ ہم اپنی جانب سے یہ خلا پُر کرنے کی مزید اہلیت پا لیں گے۔ پہلے ہم کہتے تھے کہ ہم اس انداز میں کام کرتے ہیں۔ اب ہم آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کام کیسے کرتے ہیں؟ ہم نے یہ سیکھا ہے کہ خواہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو یا سمندری کارروائیاں درپیش ہوں، اپنے سیکھے اسباق سے دوسروں کو اس انداز میں آگاہ کریں گے کہ وہ ان پر عمل کر سکیں اور پھر ہم آپ کو اعلیٰ ترین سطح کی اہلیتوں کے حصول میں بھی مدد دیں گے اور آپ کو آگے لائیں گے۔ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ خلا پُر کیے جا سکتے ہیں اور اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آیا ہمارے پاس اس خلا کو پُر کرنے کے لیے درکار سیاسی ارادہ اور عسکری دانشمندی ہے یا نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خلا پُر کرنا ممکن ہے، ہم سب کو اس کا اندازہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آیا ہم اسے پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا نہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ مستقبل میں ہم ایسے خلا پُر کر لیں گے۔ ہمیں یہاں ایسی کوئی فوج دکھائی نہیں دیتی جو ترقی کی اہلیت نہ رکھتی ہو اور ہم خلا بھرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

جان چپمین: انڈیا سے (شیلا بات؟)

سوال: شکریہ۔ مجھے یہ پوچھنا تھا کہ امریکہ نے حال ہی میں الکاہل کی کمان کا نام تبدیل کر کے امریکی الکاہل اتحاد رکھ لیا ہے۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ یہ کس بات کی علامت ہے؟

وزیر دفاع میٹس: جہاں تک علامت کا تعلق ہے تو گزشتہ شب اور آج صبح کئی مرتبہ مجھ سے اس بارے میں پوچھا جا چکا ہے۔ اس حوالے سے بنیادی بات یہ ہے کہ ہمیں کمان کے نام میں اس انداز کی تبدیلی قبول کرنی چاہیے جس سے اس کے مقصد کا بہترین طور سے اظہار ہوتا ہو۔

جیسا کہ ابھی ہم نے معاشی اعتبار سے ترقی کرتی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ بحر ہند کے کردار کا جائزہ لیا تو ہمیں یہ بات مدنظر رکھنا ہے کہ بحرہند کی برصغیر کے ساتھ اہمیت بڑھ رہی ہے اور یقیناً انڈیا کے حوالے سے بھی یہ اہم بات ہے۔ چنانچہ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کمان کا نام حقیقت کا اظہار ہے اور حقیقت تبدیل ہو رہی ہے۔ دنیا ہمیشہ تبدیل ہوتی رہتی ہے اور یہ فیصلہ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔

جیسا کہ میں نے اپنے تیار شدہ بیان میں کہا ہے بعض ایسے معاملات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہمارا ترجیحی خطہ ہے۔ میں ان معاملات کا اعلان نہیں کروں گا۔ مثال کے طور پر ہم نے تیسری جنریشن کے لڑاکا طیاروں کو پانچویں جنریشن کے طیاروں سے تبدیل کر لیا ہے۔ ہم نے گزشتہ ایک دو برس میں اپنے باصلاحیت ترین بحری جہاز خطہ ہندوالکاہل کی کمان میں بھیجے ہیں اور یہ خطہ بدستور ہماری ترجیح رہے گا اور اسی لیے ہندوالکاہل کی کمان بہترین نام ہے۔

جان چپمین: چین سے، سینئر کرنل ژاؤ ژیاؤ ژو۔

سوال: شکریہ، چند سال قبل امریکہ نے اینٹائٹم میزائل کروزر اور میزائل تباہ کرنے والا ہائیجنز جہاز چینی سمندری حدود میں بھیجے تھے۔ میرے خیال میں یہ چین کے قانون اور اس کی سرزمین سے منسلکہ سمندری حدود کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام چین کی قومی سلامتی اور زمینی سالمیت کے خلاف اشتعال انگیزی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ میرے خیال میں سمندری نقل و حرکت کی آزادی کی آڑ میں جنوبی چینی سمندر میں عسکری کارروائی کی جا رہی ہیں۔ میں چاہوں گا کہ آپ اس پر کوئی تبصرہ کریں۔

وزیر دفاع میٹس: جی کرنل، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لیے یہ آزاد اور کھلا سمندر ہے۔ ہم سب آزاد اور کھلے الکاہل، آزاد اور کھلے ایشیائی الکاہل اور آزاد و کھلے ہندوالکاہل کی بات کرتے ہیں۔ آزادی کا مطلب تمام ممالک کی آزادی ہے خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، اس کا مطلب عالمی فضاؤں اور سمندروں میں سفر کی آزادی ہے۔

روایتی و تاریخی طور پر اور قانون کی رو سے ایسا ہی ہے۔ یہ رجعت پسندانہ نکتہ نظر نہیں ہے۔ یہ ایک روایتی نکتہ نظر ہے۔ یہ ایک طے شدہ بات ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے عالمی ٹریبونل موجود ہیں، یہ غیرجانبدار ادارے ہیں جن پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں۔ چنانچہ جب ہم عالمی قوانین کی ایسی تشریح دیکھتے ہیں تو اس کے مطابق کارروائی کرتے ہیں۔ ہمیں صرف امریکہ کے لیے سمندری نقل و حرکت کی آزادی درکار نہیں ہے۔ یہ تمام ممالک کی آزادی ہے خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا اور سبھی کو اپنی خوشحالی کے لیے ان پانیوں سےگزارنے کی آزادی ہے۔

لہٰذا ہم اس جگہ سے گزرنے کو عسکری سرگرمی کی ذیل میں شمار نہیں کرتے جو روایتی طور پر پوری دنیا کی جگہ ہے۔ ہم اسے قانون کی بنیاد پر نظام کی ازسرنو توثیق سمجھتے ہیں۔ میں رواں ماہ کے آخر میں اس پر مزید بات چیت کے لیے آپ کی حکومت کی دعوت پر بیجنگ جاؤں گا۔ تاہم میں اس حوالے سے عدم اتفاق کو سمجھتا ہوں، مگر ایسا نہیں کہ ہم نے اس معاملے کا جائزہ نہ لیا ہو اور ہمیں یقین ہے کہ ان آبی گزرگاہوں کو تمام ممالک کے لیے کھلا رکھنا ہی مناسب ہے۔

جان چپمین: تھائی لینڈ سے ڈاکٹر (ٹائرنسک شالام پالوناپوب؟) مجھے لگتا ہے کہ شاید آپ نے اپنا مائیکروفون آن نہیں کیا۔ بات کیجیے۔

سوال: میرا سوال یہ ہے کہ ۔۔۔

(ملی جلی آوازیں)

جان چپمین: مجھے خدشہ ہے کہ آپ نے اپنا مائیکروفون بند کر دیا ہے (چپ؟) شاید مجھے کسی اور کی جانب جانا ہو گا اور پھر میں آپ کی جانب واپس آؤں گا۔

(مارک چیمپئن؟) برطانیہ سے۔

سوال: جناب وزیر شکریہ، میرے خیال میں یہ بات واضح ہے کہ آپ نے اس سال، گزشتہ سال اتحادیوں کے ساتھ ان اصولوں پر اتفاق رائے قائم کیا تھا، ان میں بیشتر یہاں موجود ہیں۔ میں قانون کی بنیاد پر نظام، سمندری نقل و حرکت کی آزادی کی بات کر رہا ہوں۔ تاہم اس حوالے سے سوال سامنے آتا ہے کہ جن عسکری اثاثہ جات کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے اور وہ پہلے ہی ان جزائر پر موجود ہیں۔ انہیں ہٹایا نہیں جا رہا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو اس معاملے کا حل نکالنا پڑے گا؟

وزیر میٹس: میں سمجھتا ہوں کہ یہی حقیقت ہے، ہمیں اس کا کوئی حل سوچنا پڑے گا۔ میرے خیال میں چین نے عالمی برادری کو نظرانداز کیا تو اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا کے ممالک کو کسی دباؤ کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ چلنا چاہیے اور ایک دوسرے کی بات سننی چاہیے۔ باہمی مسابقت اور مضبوط پوزیشن رکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تاہم جہاں تک جنوبی چینی سمندر کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے چین کو نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔

اگر آپ نے دو ماہ پہلے مجھ سے پوچھا ہوتا تو میں کہتا کہ ہم چین کے ساتھ تعاون پر مبنی موقف برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم انہیں رم آف پیسیفک بحری مشقوں میں مدعو کر رہے تھے جو کہ دنیا کی سب سے بڑی بحری مشقیں ہیں۔ ہماری کوشش یہ تھی کہ عسکری بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ تاہم جب آپ 2015 میں صدر ژی کی جانب سے روز گارڈن وائٹ ہاؤس میں دیے گئے بیان کو دیکھتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سپریٹلے جزائز میں عسکری سرگرمیاں نہیں ہوں گی، اور پھر ہم گزشتہ چار ہفتوں میں پیش آنے والے واقعات کو دیکھتے ہیں تو پھر یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ دنیا میں سب سے بڑی بحری مشقوں میں چینی بحریہ شرکت نہیں کرے گی۔

یہ مقابلتاً ایک چھوٹا نتیجہ ہے جس کا انہیں سامنا ہوا اور میں سمجھتا ہوں کہ مستقبل میں انہیں زیادہ بڑے اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے اقدامات سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا خواہ بظاہر اس سے کتنا ہی مالیاتی فائدہ دکھائی دیتا ہو۔ یہ بہت کمزور بنیاد ہوتی ہے جب ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ عسکری سرگرمیوں سے دنیا میں ان کا مرتبہ بڑھ جائے گا۔ ایسا نہیں ہوتا۔ دنیا میں اس طرح توثیق نہیں ملتی۔ اس طرح کسی ملک کے مرتبے میں اضافہ نہیں ہوتا۔

آپ کو حیرت ہونی چاہیے کہ کوئی ملک ایسی عسکری کارروائیوں میں کیوں شامل ہو گا جو سیاسی اعتبار سے نقصان دہ ہوں۔ ایسی عسکری کارروائیوں کا کیا فائدہ ہو گا؟ پہلی بات یہ کہ ہم پہلے ہی جانتے ہیں کوئی ان پر چڑھائی نہیں کرے گا۔ یقیناً ہم پرامن طور سے مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے تھے۔ جس موقف کو عالمی ٹریبونل کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا اسے منوانے کے لیے ہتھیاروں کا استعمال خطے میں طویل مدتی کردار کے ضمن میں کوئی معاونت فراہم نہیں کرے گا جو کہ چین کے مستقبل کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ چنانچہ اگر وہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون پر مبنی طرز عمل اختیار نہیں کرتے تو انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جان چپمین: ڈاکٹر (ٹمزک؟)

سوال: شکریہ جناب۔ جہاں تک ‘ایف او آئی پی’ کا تعلق ہے تو آسیان مزید کیا کر سکتی ہے؟ اب تک آسیان نے گروپ کی حیثیت سے مزید تفصیلات ہی مانگی ہیں، چنانچہ آپ کے خیال میں آسیان ایک گروپ کی حیثیت سے مزید کیا کر سکتی ہے؟

وزیر دفاع میٹس: پہلی بات یہ کہ ہم آسیان کی مرکزیت کو ایک ایسے فورم کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں خطے کے ممالک اکٹھے ہو کر اپنے بارے میں فیصلے کر سکتے ہیں۔ ان میں بعض ممالک چھوٹے ہیں اور ان کے پاس بڑی افواج نہیں ہیں۔ ان کی معیشتیں بھی چھوٹی ہیں۔ مگر ان تمام کی اپنی آواز ہے۔ ان تمام ممالک میں انسان بستے ہیں جو اچھے مستقبل اور فوائد کے حق دار ہیں۔ تمام ممالک اپنے لوگوں کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھاتے ہیں اور یہ عام بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب آج یہاں شنگریلا میں جمع ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ اگر ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تعامل کا احساس نہ ہوتا تو ہم یہاں نہ ہوتے۔

میں سمجھتا ہوں کہ آپ آسیان کا جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ امن پسند تنظیم ہے۔ یہ معاملات کے ساتھ پختگی سے نمٹتی ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ سبھی کے لیے فائدہ کیسے حاصل کیا جائے۔ جب یہ ممالک اکٹھے ہو کر بات کرتے ہیں تو آسیان سے ایک مضبوط پیغام دوسرے ممالک کو جاتا ہے۔ یہ ایسا سبق ہے جس سے ہم سب کو سیکھنے موقع مل سکتا ہے۔ میں اس بات کی جانب اشارہ کروں گا جسے گزشتہ شب وزیراعظم مودی نے قرض کا ناممکن بوجھ قرار دیا تھا۔ یہاں بعض ممالک دوسروں کی محتاجی کے سبب اپنی آزادی کھو سکتے ہیں۔ اسی لیے اگر آسیان کے ممالک ایک دوسرے کی اس انداز میں مدد کریں جس سے ہرملک کی آزادی، خودمختاری اور زمینی سالمیت برقرار رہے تو درحقیقت اس طرح آسیان کی آواز مضبوط ہوتی ہے۔

تاہم میں سمجھتا ہوں یہ بات اہم ہے کہ آسیان کو ان بنیادی اقدار پر متحدہ ہونا چاہیے جن کا تذکرہ وزیراعظم مودی نے گزشتہ شب انتہائی تفصیل سے کیا۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ویسی اقدار منتقل نہیں کرتے اور ویسے فوائد نہیں دیتے جن سے ہم مستفید ہوئے تو میرے خیال میں یہ غیرذمہ دارانہ بات ہو گی۔ ہمیں اکٹھا ہو کر مسائل سے متحدہ طور پر نمٹنا ہے۔ اس کوشش میں آسیان کو یقیناً مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

جان چپمین: فرانس سے (فرینکوئی بورگ؟)

سوال: شکریہ۔ ایک سال پہلے گزشتہ شنگریلا ڈائیلاگ کے موقع پر ایک سوال کے جواب میں آپ نے امریکہ کے اتحادیوں پر زور دیا تھا کہ ‘ہمارا ساتھ دیں’ کیا آپ اب بھی یہی کہیں گے؟

وزیر دفاع میٹس: جب کوئی مجھے میری گزشتہ برس کی بات یاد دلاتا ہے تو بہت برا محسوس ہوتا ہے (قہقہہ) میں آپ سے یہ کہوں گا کہ گزشتہ سال اس ڈائیلاگ کے بعد میں چھ مرتبہ اس خطے میں آ چکا ہوں اور اس دوران میں نے یہاں بہت کچھ سنا اور جانا۔ ہم متعدد مسائل کے حل کے لیے اکیلے عمل کرنے کے بجائے مشترکہ بنیاد چاہتے ہیں۔ ہم تعاون نہ کرنے کے بجائے تعاون کرنے کے اسباب پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یاد رکھیں گے اگر آپ کئی سال پیچھے صدر جیفرسن کے دور میں جا کر دیکھیں تو تب بھی الکاہل میں ان ممالک کے ساتھ تعاون ہمارے لیے اہم موقع تھا۔ ہم نے دوستی کا پہلا معاہدہ 1800 میں تھائی لینڈ سے کیا۔ ہم 200 سال سے یہاں ہیں۔ 200 سال تک ہم نے یہاں یورپی نوآبادیاتی لہر کو ابھرتے اور پھر تھمتے دیکھا۔

ہم نے فسطائیت اور سامراجیت کو خطے پر چڑھائی کرتے دیکھا اور یہاں موجود بہت سے ممالک نے اور ہمارے باپ دادا نے عظیم قربانیاں دے کر 1945 میں انہیں پیچھے دھکیلا۔ ہم نے سوویت اشتراکیت کو اس خطے میں پنجے گاڑتے دیکھا اور سرد جنگ نے اسے واپس دھکیلا جس کے نتیجے میں ہم یہاں موجود ہیں۔ ہم نے یہاں ان لوگوں کو آتے اور پھر جاتے دیکھا جو خطے پر بالادستی چاہتے تھے۔ اس دوران ہم آپ کے ساتھ کھڑے رہے۔

چنانچہ اس کا تعلق اس وقت کسی ایک فیصلے سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق ایسے علاقوں سے بھی نہیں ہے جنہیں اس وقت ہم مشترک نہیں سمجھتے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ہم اچھے برے حالات میں ان ممالک کے ساتھ کھڑے رہے اور یہ تمام آج اس کے معترف ہیں۔ میں آپ کو یہ بتاؤں گا کہ ہم اس معاملے میں اپنا ذہن تبدیل نہیں کریں گے۔ شاہ جارج سوم کے ساتھ قدرے برے بحث و مباحثے کے بعد میں اپنے برطانوی ساتھیوں سے معذرت چاہوں گا (قہقہہ) ہم اسی اصول پر کاربند رہے اور اس کی بنیاد اس بات پر نہیں کہ کون سا فریق طاقت ور ہے۔ اس کی بنیاد بحری طاقت پر بھی نہیں ہے۔ اس حوالے سے ہمیں اپنی ماضی پر بھی اعتماد و اطمینان ہے اور ہم مستقبل کے حوالے سے بھی یہی کچھ سوچتے ہیں۔ میں بالکل ٹھیک ہوں، شکریہ، کوئی مسئلہ نہیں (قہقہہ)

سوال: زبردست۔

جان چپمین: جاپان سے (ہیرویوکی اکیتا؟)

سوال: آپ کا بے حد شکریہ (ہیرویوکی اکتیا؟) جاپان میں (نکی؟) سے

مجھے شمالی کوریا کے بحران پر جلدی سے دو سوالات پوچھنا ہیں۔ پہلا یہ کہ جہاں تک مجھے یاد ہے، اپریل کے اواخر میں آپ نے کہا تھاکہ اگر شمالی و جنوبی کوریا کے مابین امن بات چیت آگے بڑھتی ہے تو جزیرہ نما کوریا میں امریکی فوج کی موجودگی کا معاملہ بھی مذکرات کی میز پر ہو گا۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ امن بات چیت میں پیشرفت کی صورت میں امریکہ کے پاس جزیرہ نما کوریا سے اپنی فوج واپس بلانے یا محدود کرنے کا آپشن بھی موجود ہو گا۔

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھاکہ 12 جون کو ان کے اور (ناقابل سماعت) کم جانگ ان کے مابین ملاقات ہو گی، انہوں نے کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا پر مزید دباؤ ڈالے جانے کے بارے میں مزید بات نہیں کرنا چاہتے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا شمالی کوریا کے حوالے سے عسکری کارروائی کا امکان اب بھی موجود ہے؟ یا شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کے موقع پر یہ امکان نہیں ہو گا؟ شکریہ۔

وزیردفاع میٹس: شکریہ۔ یقیناً دنیا کی نگاہیں، دنیا کی امیدیں ان مذاکرات پر لگی ہیں اور میں آج یہاں سنگاپور کے اپنے میزبانوں سے یہ کہوں گا کہ ہم آپ کے شکرگزار ہیں کہ آپ نے اس قدر کم مدت میں اس تاریخی بات چیت میں سہولت کا اہتمام کیا۔ اس مدد کے لیے ہم آپ کے ممنون ہیں۔

میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جمہوریہ کوریا میں امریکی فوج کی تعداد کے حوالے سے کوئی بھی گفتگو کوریا کی طرف سے ہمیں فوج وہاں بھیجنے کی دعوت اور امریکہ اور جمہوریہ کوریا کے درمیان مذاکرات کی بنیاد پر ہو گی جو شمالی کوریا کے ساتھ جاری مذاکرات سے بالکل الگ ہو گی۔ یہ معاملہ شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کا حصہ نہیں ہو گا جیسا کہ آپ سب سمجھتے ہیں کہ یہ فوج وہاں سکیورٹی مسائل سے نمٹنے کے لیے ہو گی۔

ظاہر ہے اگر سفارت کار اپنا کام کر سکتے ہیں، اگر ہم خطرے کو کم کر سکتے ہیں، اگر ہم اعتماد سازی کے اقدامات کو کسی قابل تصدیق چیز سے بحال کر سکتے ہیں تو پھر یقینا اس قسم کے معاملات بعد میں دونوں خود مختار جمہوریتوں ،جمہوریہ کوریا اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں اٹھائے جا سکتے ہیں لیکن یہ معاملہ یہاں سنگا پور میں بارہ جون کو ہونےوالے مذاکرات کی میز پر نہیں ہے اور نہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک فوج کے استعمال کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگ اس بات سے آگاہ ہیں کہ جب میں یہاں تھا تو میں نے ہر عوامی فورم پر جہاں بھی مجھ سے پوچھا گیا یہی کہا تھا کہ گزشتہ سال 22 جنوری سے یہ معاملہ سفارتی نوعیت اختیار کر چکا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تین قراردادوں میں بھی اسے سفارتی حمایت حاصل ہے۔

یہ اس وقت بھی سفارتی نوعیت کا تھا جب کینیڈا نے اقوام متحدہ کے 1950 کے مطالبے کے جواب میں کوریا میں فوجیں بھیجنے والے ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کی۔ کینیڈا نے اس معاملے کو ختم کرنے کی غرض سے مزید سفارتی کوششیں کرنے کے لیے گزشتہ جنوری میں برٹش کولمبیا کے شہر وینکوور میں وزرائے خارجہ کی میزبانی کی، وزرائے دفاع کی نہیں۔

چنانچہ ہم اب بھی جزیرہ نما کوریا کی قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ جوہری تخفیف کے لیے کھڑے ہیں اور سفارت کار اس وقت بھی نیویارک میں مصروف ہیں۔ ہماری ٹیمیں سنگاپور میں بھی بات چیت میں مصروف ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب کی امیدیں انہی سے وابستہ ہیں۔

جان چپمین : آسٹریلیا سے گورڈن فلیک۔

سوال: شکریہ، گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا کے درمیان چار فریقی مذاکرات کے حوالے سے بہت سی بات چیت ہوئی ہے تاہم ہندوالکاہل اتحاد میں وہ توانائی نظر نہیں آئی جس کی توقع تھی۔ گزشتہ رات آپ کی اور پھر وزیر اعظم کی تقریرمیں اس چار رکنی اتحاد کا کہیں ذکر نہیں آیا۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ان چار ملکوں کے درمیان تعلق کے حوالے سے اورخطہ ہندو الکاہل بارے حکمت عملی کے حوالے سے آپ کی کیا سوچ ہے۔

وزیر دفاع میٹس: بہت خوب، یہ چار ملکی اتحاد ان اضافی کثیرالملکی حکمت عملیوں میں سے ہے جن پر ہم مستقبل میں کام کرنا چاہ رہے ہیں۔ ہم آسٹریلیا، جاپان، انڈیا اور امریکہ میں ایک قدر مشترک دیکھ رہے ہیں۔ یہ چاروں جمہوریتیں ہیں۔ یہ پہلی چیز ہے جو سب کو نظر آتی ہے۔

چنانچہ ہمارے پاس چار جمہوریتیں ہیں جو اس سوال پر غور کر رہی ہیں کہ ہم استحکام کو کیسے برقرار رکھیں گے۔ ہم معاملات کو ایک پر امن تصفیے کے راستے پر رکھتے ہوئے کیسے بات چیت کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں یہ تصور اپنے مناسب وقت کے لیے بالکل درست ہے اور میں اس کا سو فی صد حامی ہوں۔

میں نے یہاں سات گھنٹے طویل تقریر کی ہے اور وہ بھی میں نے مختصر رکھنے کی غرض سے جلد ختم کر دی (قہقہہ)

جان چپمین: شکریہ

امریکہ سے سینیٹر( ڈین سلیوان؟)

سوال: شکریہ۔ وزیر دفاع صاحب آپ کو ایک شاندار تقریر اور بے مثال قیادت پر مبارکباد۔ ہم امریکی سینیٹ کے لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع کے طور پر آپ جانتے ہیں کہ آپ نے اقتصادی اور مالی معاملات کے حوالے سے بھی بہت کار آمد گفتگو کی ہے۔ اپنی قیادت کے علاوہ جہاں ہماری توجہ اپنی فوج کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے ہم امریکہ میں اپنی معیشت کو بھی مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہماری قومی پیداوارمیں3 سے 4 فی صد تک اضافہ ہو گا جسے ہم نے گزشتہ ایک دہائی سے نہیں دیکھا، اس کے علاوہ توانائی جیسے شعبوں پر بھی کام کر رہے ہیں جہاں ہم ایک بار پھر تیل کی پیداوار، قدرتی گیس کی پیداوار اور قابل تجدید مواد کی پیداوار کے حوالے سے ہم عالمی توانائی کی بڑی قوت ہیں۔

کیا آپ ان معاملات پر گفتگو کر سکتے ہیں اور آپ کے خیال میں یہ امریکہ کی ہندوالکاہل کے حوالے سے و سیع تر حکمت عملی میں کیسے مطابقت رکھتے ہیں اور یہ کس قدر اہم ہیں نیز فوجی معاملات بھی۔

وزیر دفاع میٹس: جی جناب سینیٹر ، میں اس پر بات کر سکتا ہوں۔ آپ کا تعلق ہماری الکاہلی ریاست الاسکا سے ہے۔ ہمارے ملک کی معیشت ہمیشہ سے ہمارا اقتصادی انجن رہی ہے جو ہماری قومی سلامتی کی گاڑی کو چلاتی رہی ہے چنانچہ جب سے ہماری انتظامیہ برسر اقتدار آئی ہے، معیشت کی بالادستی اس کی اولین ترجیح رہی ہے۔

لیکن ہم اسے تقریباً اسی طرح دیکھتے ہیں جیسے ہم کسی جہاز میں بیٹھنے کے بعد ہدایات سنتے ہیں کہ اگرکیبن پریشر ہونے کی وجہ سے آپ کا ماسک گرجائے تو سب سے پہلے اپنا ماسک پہنیں، اس کے بعد دوسروں کی مدد کریں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم یہاں جو کر رہے ہیں وہ دراصل اپنی قوت کو اقتصادی طور پر بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے اور نہ ہی ہم نے اسے کبھی خود غرضانہ طور سے دیکھا ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ ہم نے جنگ عظیم دوم کے مارشل پلان کے ساتھ کیا کیا۔ سینیٹر گارڈنر بھی ہمارے ساتھ گفتگو میں شامل ہیں۔ انہیں ایشیا کے حوالے سے دونوں امریکی ایوانوں سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی بھاری حمایت سے ایک کام کرنے کے لیے ملا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم کس طرح اپنے دوستوں، ساتھیوں اوربحرالکاہل کے اتحادیوں کو مضبوط کریں گے۔ سب سے اہم یہ کہ ہم ان ملکوں کی ترقی میں کیسے مدد کریں گے جو ابھی تک بہت پیچھے ہیں اور اب بھی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

چنانچہ یہ آج پھر ہمارا اسی طرح انجن ہے جس طرح یہ 1900 میں تھا جس نے ہمیں آزادی اور جمہوریت کا نظام بنا دیا تھا لیکن وسیع تر معنوں میں اس کا یہ مطلب بھی تھا کہ اقتصادی پہلو کو استعمال کرتے ہوئے ہم اپنی جمہوریت کو ایک بار پھر زیادہ جاندار طریقے سے مضبوط کر رہے ہیں۔ شاید آپ یہی پوچھنا چاہتے تھے ۔

جان چپمین: پاکستان سے (علی سرواناکفی؟)

سوال: جناب وزیر , آپ کی بحرالکاہل میں امریکی حکمت عملی کے حوالے سے تقریر سن کر بہت خوشی ہوئی۔ میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک تھنک ٹینک کا سربراہ ہوں۔ وہاں لوگوں کا نظریہ ہے کہ مختلف لوگوں کے پاس مختلف چیزیں ہیں۔

ہم محسوس کرتے ہیں کہ امریکہ واقعی جنوبی ایشیا کے خطے میں امن اور استحکام میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن یہ خطے کی جوہری صورت حال پر کوئی خاص توجہ نہیں دے رہا۔انڈیا اور پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت پہلے ہی کئی حوالوں سے تشویش ناک تھی اور اب انڈیا نے بحر ہند میں بھی جوہری ہتھیار پھیلانا شروع کر دیئے ہیں۔ اس نے اپنے تمام بحری جہازوں کو جوہری توانائی سے چلنے کے قابل بنا لیا ہے اور جوہری ہتھیاروں سے مسلح بھی کر لیا ہے جو نہ صرف پاکستان اور انڈیا کے درمیان تزویراتی عدم استحکام کا باعث ہے بلکہ بحر ہند کے خطے میں واقع 32 ریاستوں کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ کیا آپ اس حوالے سے کچھ کہنا پسند فرمائیں گے۔ اور میرے پاس ایک اور چھوٹا سا سوال بھی ہے اگر آپ تیزی سے جواب دے سکی۔ ں جناب چپمین۔

مسٹر چپمین: اگر آپ تیزی سے پوچھ لیں۔

سوال: افغانستان میں انڈیا کا کردار۔ انڈیا افغانستان سے متصل ہمسایہ تو نہیں، اس لیے میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ امریکہ کیسے افغانستان میں انڈیا کا کردار دیکھ رہا ہے۔ شکریہ۔

وزیر دفاع میٹس: شکریہ۔ بہت اچھا سوال ہے۔ ہم نے بہت سے حکمت عملیاں بنائی ہیں اور ہماری ہندو بحرالکاہل کی حکمت عملی اور جنوبی ایشیا ئی حکمت عملی جس کے تحت ہم افغانستان میں نیٹو کی سربراہی میں مہم بھی چلا رہے ہیں، ان کے حوالے سے ہماری سوچ یہ ہے کہ یہ جنگی حکمت عملیاں نہیں ہیں بلکہ تعاون پر مبنی ہیں۔

مثال کے طور پر ہم نے جنوبی ایشیا میں اپنی حکمت عملی کو علاقائی بنادیا چنانچہ ہم افغانستان کو الگ کر کے نہیں دیکھتے اور یقینا ًجب آپ جنوبی ایشیا کو دیکھتے ہیں تو پھر پاکستان اور انڈیا ہی دو ممالک تھے جنہیں ہمیں سامنے رکھنا تھا، اس میں ان کے جائز سکیورٹی مفادات اور ایسے خطے میں امن کی بحالی میں ان کا کردارجہاں ایک طویل عرصے سے جنگ جاری ہے شامل تھے۔

سو ہم نے ان حکمت عملیوں کو یکجا کیا تاکہ علاقائی طور پر کوئی مشترکہ بنیاد تلاش کی جائے۔

جہاں تک جوہری عدم پھیلاؤ کی بات ہے، میں سمجھتا ہوں کہ عالمی برادری کے طور پر ہمیں جوہری عدم پھیلاؤ پر زیادہ توجہ دینا ہو گی۔ یقینی طور پر ہمیں ایسے مزید بحران نہیں چاہئیں جیسا کہ ہم نے شمالی کوریا میں جوہری پھیلاؤ سے طویل عرصے تک صرف نظر کر کے پیدا کر لیے ہیں اور اب ہم ایک ایسی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں جہاں دنیا کی امیدیں لگی ہوئی ہیں اور ہر کوئی ان سفیروں کی طرف دیکھ رہا ہے جن کے کندھوں پر اس صورت حال کو سنبھالنے کا بوجھ آن پڑا ہے۔

دنیا کو جوہری عدم پھیلاؤ کے مسئلے سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے ہم سب کو کوششوں کی ضرورت ہے۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو جب ہم نے اپنی قومی دفاعی حکمت عملی بنائی تو ہم نے ایک ‘نیوکلیئر پوسچر ریویو’ بھی بنایا تاہم اسے پیش کرنے سے پہلے میں اپنے دو درجن سے زیادہ اتحادیوں کے پاس گیا اور انہیں وقت سے پہلے ساری صورت حال سے آگاہ کیا اور ان کے تصورات کو بھی شامل کیا کیونکہ یہ جوہری صلاحیت کا معاملہ شاید سب سے بھاری مسئلہ ہے جو مجھے اپنی حالیہ ذمہ داریوں میں روزانہ کی بنیاد پر بھگتنا پڑتا ہے۔ سو ہم جو کرنا چاہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر ہم اپنے جوہری ہتھیاروں کو محفوظ اور موثر رکھنا چاہیں تاکہ انہیں کبھی استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے تو اس کے لیے ہمیں اسے کے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے بھی خصوصی باہمی کوششیں کرنا ہوں گی ۔ سو ہم اس پر کام کریں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ بحرہند کے حوالے سے آپ ایک بہتر نکتہ لے کر آئے ہیں۔ یہ واقعی ایسا موضوع ہے جس پر دنیا کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم ان ملکوں کی تشویش کیسے ختم کر سکتے ہیں تاکہ انہیں جوہری ہتھیاروں کے انبار جمع نہ کرنا پڑیں۔

افغانستان کو ہم ترقیاتی کاموں کے لیے ڈالر دیتے ہیں، وہاں سڑکیں ہیں، سکول ہیں، طبی کلینک ہیں۔ آپ کو وہاں انڈین فوج نظر نہیں آئے گی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں ان کا کردار ترقی کے حوالے سے ہے اور وہ پاکستان کے خدشات میں اضافہ کیے بغیر افغانستان کی ترقی کے لیے وہاں موجود ہیں۔

یہ ایک مشکل مسئلہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انڈیا وہاں خطے اور دنیا کے بہترین مفاد میں کام کر رہا ہے کیونکہ وہ وہاں ترقیاتی فنڈ میں مدد دینے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہاں سے ان اسباب کا خاتمہ کیا جا سکے جن کی وجہ سے نوجوان ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں یا دہشت گردوں کی جھوٹی باتوں پر توجہ دیتے ہیں۔ ایک بار ان کا ذہن اس سمت میں سوچنے لگے تو پھر انہیں مہذب رویوں کی طرف واپس لانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

اس لیے انڈیا وہاں جو کر رہا ہے، میں اسے پسند کرتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں دنیا میں تعلیم میں اضافے اور لڑائی میں کمی کی ضرورت ہے اور میں انڈیا کو افغانستان میں ان کوششوں میں پیش پیش دیکھ رہا ہوں۔

جان چپمین: میرے پاس تقریبا 14 لوگ ہیں لیکن میں صرف دو افراد سے سوالات لوں گا۔ اب میں فلپائن سے ڈاکٹر جیفری آرڈینل کو دعوت دیتا ہوں۔

سوال: آپ نے اپنے خطاب میں جنوبی چینی سمندر پر خاصی تفصیلی گفتگو کی ہے، اس لیے میرا سوال امریکہ فلپائن اتحاد سے متعلق ہے۔ چونکہ 2014 میں جب صدر اوباما نے منیلا کا دورہ کیا تو ان سے ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا جنوبی چین کے سمندر میں فلپائن کے زیر قبضہ علاقوں اور فلپائنی جہازوں کو 1951 کے امریکہ فلپائن باہمی دفاعی معاہدے کا تحفظ حاصل ہے تو صدر نے دونوں مرتبہ ہی اس سوال کو گول کر دیا۔

جب وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے اس سوال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ مفروضوں پر بات نہیں کرتیں۔ لیکن وزیر دفاع صاحب، مجھے وہی سوال آپ سے پوچھنا ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس سوال کا جواب بہت اہم ہے تاکہ یہ پتا چلا یا جا سکے کہ فلپائنی انتظامیہ اپنی بحری سلامتی کی پالیسی کے حوالے سے کیسے آگے بڑھے گی۔

وزیر دفاع میٹس: شکریہ۔ آپ جیسے نوجوان سے مل کر خوشی ہوئی۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جب ہم ان معاملات پر گفتگو کرتے ہیں تو عوامی رہنما اس قسم کے پیچیدہ سوالوں کے جواب دینے سے گریز کیوں کرتے ہیں۔ جب ہم یہ کہنا شروع کرتے ہیں کہ ہاں یا ناں یا سیاہ یا سفید ۔۔۔ تو ہمارے سامنے ان عالمی عدالتوں کا ریکارڈ ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ ایسی کوئی چیز موجود نہیں یا اس کے لیے کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔ ہمیں بین الاقوامی قانون کے مطابق چلنا ہوتا ہے۔ ہم ہر قوم کے خدشات کو سنتے ہیں اور پھر مسئلے کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہی سفارت کاری ہے۔ سفارت کاری متضاد نقطہ ہائے نظر کے لیے ایک مشترک بنیاد تلاش کرنے کا نام ہے اور اس دنیا میں ہمیں ایسا ہی کرنا پڑتا ہے۔ ہم میں سے وہ لوگ جنہوں نے کبھی وردی پہنی یا آج پہنے ہوئے ہیں وہ جنگ کی قیمت جانتے ہیں اور اس کا ایک عہد ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ ہم یہ کہیں کہ جب ہمارا جی چاہے گا ہم دوسری قوم کو سنیں گے۔ نہ ہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب ہمارا دل کرے گا ہم بین الاقوامی عدالتوں کو سنیں گے۔

سو حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان اصولوں کی پاسداری کرنا ہوتی ہے۔ وہ اصول جنہوں نے چین کو اس قابل بنایا کہ اس نے بہت سے لوگوں کو غربت کے سمندر سے باہر نکالا اور انہیں اعلی معیار کی زندگی فراہم کی۔ ان اصولوں نے چین کی مدد کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں چین ایک روز اپنے ہمسائیوں کی ضرورتوں اور توقعات کو بھی سمجھے گا۔

اس کے علاوہ میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ ہم اپنی کوششوں کو بعض اوقات صیغہ راز میں بھی رکھتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آج میڈیا آزاد ہے اور میں اس کا حامی بھی ہوں لیکن بعض اوقات کوئی بات اعلانیہ طور پر کہہ کر آپ خود کو ایک خاص صورت حال میں پھنسا لیتے ہیں کیونکہ لوگ ہر لفظ کا علیحدہ مطلب لیتے ہیں اور سفارت کاروں کیلیے ایسی مشکل صورت حال پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ ایک مشترک بنیاد تلاش نہیں کرپاتے۔

میں آپ کو یہاں شہریت پر لیکچر دینے نہیں آیا لیکن صرف یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ بعض اوقات ذمہ دار عہدوں پر موجود لوگ کیوں سیدھے جواب نہیں دیتے۔ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر بھی عمل کرتے ہیں لیکن ایسے مذاکرات منیلا حکومت اور واشنگٹن ڈی سی انتظامیہ کے درمیان ہوں گے اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کا اتنی آسانی سے جواب دیا جا سکے جتنی آسانی سے آپ اپنے سوال میں مانگ رہے ہیں۔

جان چپمین: ملائشیا سے ڈاکٹر گاؤ چاؤ بنگ ۔

سوال: شکریہ۔ امریکی حکومت کی قومی سلامتی کی حکمت عملی اور قومی دفاعی حکمت عملی کی دستاویزات میں چین اور روس کو بنیادی خدشات قرار دیا گیا ہے اور میرے خیال میں آنے والے برسوں میں یہ امریکہ کے تزویراتی حریف بھی ہوں گے۔ ایک عرصۃ سے امریکہ کی حکمت عملی رہی ہے کہ چین اور روس میں دراڑ ڈالی جائے لیکن اب نئی دستاویزات کے بعد تو امریکہ نے انہیں مزید اکٹھا کر دیا ہے، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ایک دانشمندانہ اقدام ہے کہ چین اور روس کو مزید یکجا ہو کر کام کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

وزیر دفاع میٹس: ہاں، اگر دستاویزات سے یہی پتا چلتا ہے تو میں انہیں دوبارہ پڑھوں گا کیونکہ ہماری نظر میں دونوں ملکوں کے درمیان مقابلے کی فضا کے باوجود ان کا تعلق تعاون پرمبنی ہے۔ اگر مقابلے کی فضا زیادہ شدت اختیار کرے گی تو ہم ایسا نہیں دیکھنا چاہیں گے۔

جہاں تک ان کے باہمی تعلق کی بات ہے تو میری نظر میں یہ ایک معروضی حقیقت ہے کہ روس کی چین کے بجائے مغربی دنیا اور امریکہ کے ساتھ زیادہ اقدار مشترک ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ چین کی روس کے بجائے بحرالکاہل کے ملکوں کے علاوہ امریکہ اور انڈیا کے ساتھ زیادہ اقدار مشترک ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے مفادات میں ایک قدرتی عدم مطابقت ہے۔ ہوسکتاہے ان میں وقت ہم آہنگی ہو اور وہ بین الاقوامی عدالتوں سے اختلاف رکھتے ہوں یا مخصوص قسم کے حالات پیداکرنا چاہتے ہوں لیکن اگر میں یہ سوچوں کہ ہمارے درمیان یہ واحد آپشن ہے تو میں اس ماہ کے آخر میں چین جا کر وقت ضائع نہ کروں ۔ میرے پاس کرنے کے لیے اور بھی بہت سے اہم کام ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ کسی مرحلے پر ماسکو اور بیجنگ دونوں اس حقیقت کو سمجھ جائیں گے جو ہم اس کمرے میں بیٹھے لوگ سمجھتے ہیں کہ مختلف قومیں مل کر اپنی داخلی حرکیات، ایک دوسرے کی ثقافت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مشترکہ راستہ تلاش کریں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم سب مل کر کام کر سکتے ہیں۔

ہم نے فسطائیت کو ختم کرنے کے لیے روس اور چین کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ ہم نے دوسری بہت سی اقوام کے ساتھ مل کر کام کیا ہے جن کے ساتھ ہم سوچتے تھے کہ جنگ ہونی چاہیے جیسے جنگ عظیم دوم میں جرمنی اور جاپان۔ ان دونوں کے اس سمت میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں جس کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں۔

ہمارے ساتھ بلاشبہ بہت سی اقوام کا اتحاد ہے اور بہت سی مزید شامل ہو رہی ہیں جن میں مشترکہ طور پر امن کی خواہش موجود ہے اور جنہوں نے تمام اختلافات کے بعد اس کا حل بھی تلاش کر رلیا ہے۔

لیکن میں واپس جاؤں گا اور ان دستاویزات کو دوبارہ پڑھوں گا۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کو کئی بار پڑھتے ہیں اور ہربار کوئی نئی چیز نظر آ جاتی ہے۔ آپ کا شکریہ کہ آپ اس مسئلے کو سامنے لائے۔

جان چپمین: ہم اب کچھ ہی دیر میں شمالی کوریا کے بحران کے خاتمے کے اہم موضوع کی طرف جائیں گے لیکن مجھے امید ہے کہ آپ میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ ہمیں اس وقت وزیر دفاع کی طرف سے بہت اہم بیان سننے کو ملا ہے۔45 منٹ کی اس گفتگو پر ہم سب ان کے مشکور ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں