rss

افغانستان کے اعلان جنگ بندی پر دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار کی بریفنگ

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
7 جون 2018

 
 

افغانستان کے اعلان جنگ بندی پر دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار کی بریفنگ

بذریعہ ٹیلی کانفرنس

نگران: شکریہ میڈم، سبھی کو سہ پہر بخیر اور افغانستان میں جنگ بندی کے حوالے سے پس منظر بریفنگ میں شرکت پر آپ کا شکریہ۔ آج (دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار) ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ہم انہیں دفتر خارجہ کا اعلیٰ عہدیدار کہیں گے۔ یاد دہانی کے طور پر بتاتے چلیں کہ یہ پس منظر بریفنگ ہے جس کے اختتام تک اس کی نشرواشاعت پر پابندی رہے گی۔

اس کے ساتھ ہی میں (دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار) سے کہوں گا کہ وہ ابتدائی کلمات کہیں جس کے بعد ہم چند سوالات لیں گے۔

دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار: بہت شکریہ۔ آپ سب سے مل کر خوشی ہوئی۔ میرا خیال ہے کہ آپ سب آج وزیر خارجہ پومپئو کا بیان دیکھ چکے ہوں گے جس میں انہوں نے صدر غنی کی جانب سے آئندہ دنوں عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران طالبان کو عارضی جنگ بندی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔ افغان حکومت و سکیورٹی فورسز کی جانب سے عید کی چھٹیوں کے دوران جنگ بندی اور طالبان کے خلاف کارروائیاں عارضی طور پر معطل کرنے کی پیشکش اس ہفتے کے اوائل میں افغان علما کی جانب سے تشدد میں کمی لانے اور مجموعی طور پر جنگ بند کرنے کے مطالبے پر سامنے آئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پیشکش افغان حکومت کی جانب سے اس لڑائی کے خاتمے اور افغان عوام پر اس کے ہولناک اثرات میں کمی لانے کی راہیں تلاش کرنے کے عزم کو نمایاں کرتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ بندی کی پیشکش کے اعلان سے قبل صدر غنی نے نمایاں تنظیموں اور سوویت یونین کے خلاف جہاد میں حصہ لینے والے گروہوں سے اس بابت مشاورت کی جس پر انہیں غیرمشروط اور متفقہ حمایت حاصل ہوئی۔ صدر غنی جنگ بندی کی پیشکش کر کے جغرافیائی و نسلی اعتبار سے نیز شہروں اور دیہات میں رہنے والی وسیع تر افغان آبادی کی جانب سے تشدد میں کمی اور اس جنگ کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔

جیسا کہ آپ نے وزیر خارجہ پومپئو کے بیان میں دیکھا، ہمیں طالبان کی جانب سے اس پیشکش پر مثبت جواب کا انتظار ہے اور یقیناً ہمیں امید ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے اس لڑائی کے پرامن تصفیے کی کوششوں کے حامی دیگر ممالک بھی اس اقدام کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی میں آپ کے سوالات کی جانب آؤں گا۔

نگران: شکریہ۔ اب ہم اپنا پہلا سوال لیں گے۔

آپریٹر: ہمارا پہلا سوال سی این این کے ریان براؤن کریں گے۔

سوال: بریفنگ کا شکریہ۔ مجھے یہ پوچھنا تھا کہ آیا امریکہ نے اس اعلان کے حوالے سے پاکستان کو آگاہ کرنے یا اس کے ساتھ کام کرنے میں کوئی کردار ادا کیا ہے؟ مزید یہ کہ آیا آپ کو اس اعلان پر یا اس کے بعد طالبان کی جانب سے کوئی ایسےاشارے ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ وہ اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کریں گے؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار: شکریہ۔ جہاں تک آپ کا پہلا سوال ہے تو میں یہ کہوں گا کہ یہ افغان حکومت کا اقدام ہے جو افغان عوام کی خواہش کی ترجمانی کر رہی ہے اور یقیناً ہمیں امید ے کہ طالبان اور دیگر تنظیمیں یا ایسے ممالک بھی محدود دورانیے کی جنگ بندی کی برابر حمایت کریں گے جن کا طالبان پر کسی قدر اثرورسوخ ہے۔

طالبان نے تاحال یہ پیشکش مسترد نہیں کی جیسا کہ انہوں نے فروری میں کابل امن عمل میں سیاسی تصفیے کے عمل سے متعلق صدر غنی کی پیشکش رسمی طور پر مسترد نہیں کی تھی۔ یہ اس امر کا اشارہ ہے کہ ممکنہ طور پر وہ اس پر عمل کے لیے تیار ہوں۔ ہمیں امید ہے کہ ایسا ہی ہو گا، مگر اس کے لیے ہمیں انتظار کرنا اور دیکھنا ہو گا کہ وہ کیا ردعمل دیتے ہیں۔

نگران: شکریہ، جی اب ہم اگلا سوال لیں گے۔

آپریٹر: یاددہانی کراتے چلیں گے کہ اگر آپ نے سوال پوچھنا ہو تو براہ مہربانی ٭ اور پھر 1 کا بٹن دبائیں۔ ہمارا اگلا سوال ڈیلی بیسٹ کے سپنسر ایکرمین کی جانب سے ہے۔ آپ کی لائن کھلی ہے، بات کیجیے۔

سوال: بریفنگ کا شکریہ۔ کیا امریکہ طالبان سے براہ راست بات چیت کرے گا جیسا کہ انہوں نے درخواست کی ہے؟ آپ اس تنقید کا کیا جواب دیں گے کہ امریکی حمایت سے افغان حکومت یکطرفہ جنگ بندی کی پیشکش کر رہی ہے جبکہ طالبان نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا اور وہ جنگ بندی پر ہونے والی بات چیت میں بھی شریک نہیں ہیں؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار: ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں تشدد میں کمی لانے والا کوئی بھی اقدام اچھا ہے خواہ یہ عارضی ہو یا طویل مدتی۔ اب اس معاملے میں افغانستان کی حکومت تشدد میں کمی لانے پر رضامندی کا اظہار کر رہی ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کل افغانستان میں تشدد کے بیشتر واقعات طالبان اور داعش خراسان کی کارروائیوں کے نتیجے میں پیش آ رہے ہیں۔

جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو ان کے پاس افغانستان بھر کے لوگوں کی جانب سے تشدد میں کمی کے مطالبے کو تسلیم کرنے کا موقع ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے یہ بات ثابت ہو گی کہ اس طویل جنگ میں تشدد کا خاتمہ ممکن ہے۔ اگر جنگ بندی مذاکراتی سیاسی تصفیے کے نتیجے میں ہوتی تو بہتر ہوتا مگر عید کے لیے عارضی جنگ بندی سے بھی یہ امکان ختم نہیں ہوتا اور امید ہے کہ یہ اقدام اس مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہو گا۔

نگران: آپ کا بے حد شکریہ۔

سوال: میں نے پوچھا تھا کہ کیا امریکہ طالبان سے براہ راست بات چیت کرے گا جیسا کہ طالبان نے درخواست کی ہے۔

دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار: اس کے لیے ہم آپ کو ان بیانات سے رجوع کرنے کو کہیں گے جو ساتھیوں نے قبل ازیں اس سوال کے لیے تیار کیے ہیں۔

نگران: جی اگلا سوال۔

آپریٹر: اگلا سوال بلوم برگ نیوز کے نک ویڈہیم کریں گے۔

سوال: شکریہ۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے وہاں امریکی فوجی دستے کتنا عرصہ رہیں گے؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار: جیسا کہ آپ امریکی حکومت کی جانب سے گزشتہ برس جاری کی گئی حکمت عملی کے حوالے سے جانتے ہیں کہ ہم مخصوص مدت کو نہیں دیکھ رہے بلکہ ایسے حالات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جن کی بدولت ہماری وہاں موجودگی کی ضرورت نہ رہے ۔ افغان حکومت کے عہدیدار، صدر غنی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ افغانستان میں کوئی نہیں چاہتا کہ ان کی حکومت اپنے وسائل کا اس قدر بڑا حصہ سلامتی کے معاملات پر خرچ کرے۔ سبھی کی خواہش ہے کہ ان کے وسائل معاشی ترقی، صحت عامہ اور تعلیم کےشعبوں میں بہتری اور ایک مستحکم معاشرے کی طرح لوگوں کی ضروریات پر خرچ ہوں۔

ہم ضرورت کے مطابق افغانستان میں اپنی فوج اور کارروائیوں میں کمی لانے کے خواہش مند ہیں۔ ہم ایسے درست فارمولے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی بدولت ہم اپنی کارروائیاں محدود کر سکیں اور سیاسی تصفیے کی بدولت طالبان افغان عوام کے لیے خطرہ نہ رہیں اور ایسے حالات پیدا نہ ہوں جن میں داعش خراسان اور دوسری عالمی تنظیموں کو افغانستان میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھا کر امریکہ اور ہمارے اتحادیوں کے خلاف حملوں کا موقع ملے۔

سوال: کیا اس امر سے آپ کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے کہ 17 سال بعد بھی آپ وہ فارمولا ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار: میں سمجھتا ہوں کہ اس کوشش میں شامل سبھی لوگوں کو اس مسئلے کی پیچیدگی کا ادراک ہے خواہ وہ ابتدا میں اس کا حصہ تھے یا بعد میں اس عمل میں شامل ہوئے تاہم سبھی کو اس فارمولے تک پہنچنے کی خواہش ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ خطے کے موجودہ ماحول میں ہم ایسے نتائج حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جن کی بدولت ہمیں اپنے مقصد تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔

نگران: آپ کا بے حد شکریہ۔ اب ہم اگلے سوال کی جانب جائیں گے۔

نگران: اگلا سوال واشنگٹن پوسٹ کی مسی ریان کریں گی۔

سوال: ہیلو، میں واشنگٹں پوسٹ سے مسی ریان ہوں۔ آپ نے ابھی جو کچھ کہا اس سے یہ لگتا ہے کہ جنگ بندی کی یہ پیشکش اس ہفتے علما کے اجتماع کے نتیجے میں سامنے آئی۔ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ آج اعلان سے قبل اس بارے میں امریکہ سے کتنی مشاورت ہوئی؟ کیا آپ کو اس پر تشویش ہے کہ جنگ بندی کی یہ پیشکش میدان جنگ میں قربانیاں دینے والی افغان فورسز کا مورال پست کر سکتی ہے؟ شکریہ

دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار: جہاں تک آپ کے پہلے سوال کی بات ہے تو جیسا کہ آپ نے دیکھا ہے، امریکی افواج اس ضمن میں افغان حکومت کی مدد کریں گی۔ وہ جنگ بندی کے دوران اپنی کارروائیاں بند کر دیں گی۔ تاہم وہ اپنے اوپر حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہیں گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکی فورسز داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی کیونکہ جنگ بندی کی یہ پیشکش اس کے لیے نہیں ہے۔ یہ امر یقینی بنانے کے لیے کچھ بات چیت ضرور ہوئی تھی کہ افغان سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے موجود امریکی اور اتحادی افواج اس اقدام کی حمایت کریں گی اور جنگ بندی پر عملدرآمد میں مدد دیں گی۔

جہاں تک مورال پر پڑنے والے اثرات کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال افغان رہنماؤں سے کیا جانا چاہیے۔ میرا خیال یہ ہے کہ امریکی یا اتحادی فوجوں کی طرح افغان افواج کے پاس بھی متبادل موجود ہو تو وہ جنگ نہ لڑنے کو ترجیح دیں گی۔ وہ ضرورت کے مطابق ہی لڑ رہے ہیں۔ اس سال انہوں نے نہایت استقامت اور بہادری سے نمایاں جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ جنگ بندی کے ذریعے وہ اپنی کارروائیوں میں وقفہ دیں گے اور دیکھیں گے کہ آیا طالبان محدود مدت کے لیے تشدد کے خاتمے کی اس پیشکش کو قبول کرنے پر تیار ہیں یا نہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ وہ اس کا خیرمقدم کریں گے۔

نگران: آپ کا بے حد شکریہ۔ اب ہم اگلا سوال لیں گے۔

آپریٹر: اگلا سوال دی نیویارک ٹائمز کے گارڈنر ہیرس کریں گے۔

سوال: وزیرخارجہ نے گزشتہ شب جنگ بندی کا اعلان سامنے آنے سے قبل پاکستانی فوجی سربراہ سے بات کی تھی۔ کیا اس بات چیت میں جنگ بندی کا معاملہ بھی زیربحث آیا؟ یقیناً افغانستان کے حوالے سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ جنگ بندی کے اس اعلان میں پاکستان نے کیا کردار ادا کیا اور اس میں امریکہ کا کیا کردار تھا۔ میرے خیال میں آپ اسی پر زور دے رہے ہیں کہ یہ افغان حکومت کا اقدام ہے۔ افغانستان میں یہ خیال عام ہے کہ اس کے پیچھے امریکیوں اور پاکستانیوں کا ہاتھ ہے۔ کیا آپ خاص طور پر اس حوالے سے بتا سکتے ہیں کہ گزشتہ روز وزیرخارجہ اور پاکستانی فوجی سربراہ کے مابین کیا بات چیت ہوئی تھی؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار: میں اس مخصوص بات چیت کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں اس میں شریک نہیں تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کہنا درست ہو گا کہ جنگ بندی امریکی اقدام ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہنا درست ہے اور جیسا کہ آپ نے ہمارے بیانات سے بھی دیکھا کہ ہم اس ضمن میں صدر غنی کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

افغانستان میں ہر طبقے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے افغان علما کی باتوں کا خیرمقدم کیا ہے جو کہ ملک بھر کے لوگوں کی جانب سے تشدد میں کمی کی وسیع تر خواہش کا اظہار ہے۔ اس سے حکومت کو یہ جاننے کا موقع ملے گا کہ سیاسی تصفیے کے عمل کی کون سی راہیں مفید ثابت ہو سکتی ہیں اور کیا طالبان کو مذاکرات کی میز پر لا کر انہیں جائز افغان حکومت سے بات چیت پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل کے لیے سیاسی تصفیے کی غرض سے بات چیت کا آغاز ہی اس وقت امن کی راہ میں واحد رکاوٹ ہے۔ ہمیں امید ہے کہ امن عمل شروع ہونے کے بعد تشدد میں مستقل طور سے نمایاں کمی آ جائے گی۔

نگران: ٹھیک ہے، شکریہ، اب ہم اگلا سوال لیں گے۔

آپریٹر: ہمارا اگلا سوال اے بی سی نیوز کے کونر فینیگن کریں گے۔

سوال: ہیلو، بریفنگ کا شکریہ، مجھے گزشتہ ہفتے جنرل نکلسن کے بیان کی بابت سوال کرنا ہے۔ انہوں نے طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن کے لیے خفیہ بات چیت کا تذکرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں بھرپور بات چیت ہو رہی ہے جس کی کامیابی کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ کیا آپ ہمیں اس حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کر سکتے ہیں کہ دونوں میں ایسی کوئی بات چیت ہو رہی ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہے تو کیا اسے امریکی حمایت بھی حاصل ہے۔

دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار: میں مخصوص سفارت کاری کے بارے میں کوئی بات نہیں کروں گا۔ یقیناً ایسی بات چیت کی ممکنہ کامیابی کا کسی حد تک انحصار ایسے عمل کو خفیہ رکھنے پر بھی ہوتا ہے۔ میں اس ضمن میں یہ کہوں گا کہ ہم اپنے اتحادیوں اور اتحاد میں شامل دیگر شراکت داروں کے تعاون سے سیاسی تصفیے کے بہتر طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ تصفیہ اس تنازع کے بڑے فریقوں یعنی افغان حکومت اور طالبان کے مابین بات چیت سے ہی سامنے آئے گا۔ ہم نے ان کوششوں کی بھرپور حمایت کی جن کے نتیجے میں صدر غنی سیاسی تصفیے کے عمل کی بابت بے مثل پیشکش اور اس بارے میں فریم ورک سامنے لائے تھے۔ میری رائے میں یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ خطے میں اور اتحاد کے ہر رکن ملک نیز دلچسپی رکھنے والے تمام نمایاں فریقین اور ممالک نے اس کی حمایت کی تھی جو پرامن تصفیے کے فارمولے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چنانچہ سوال یہ ہے کہ ہم سب ایسے پرامن تصفیے کے لیے کیسے کام کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ جنگ بند ہو جائے۔ یقیناً اس میں متعدد حکومتوں نے اپنا کردار ادا کرنا ہے اور بہترین طور سے یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں، شراکت داروں اور دوسری حکومتوں میں بہت سی بات چیت جاری ہے۔

نگران: ٹھیک ہے، شکریہ، اب ہم آخری سوال لیں گے۔

آپریٹر: ہمارا آخری سوال وائس آف امریکہ سے میرویس رحمانی کریں گے۔ آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: وقت دینے کا شکریہ۔ کیا جنگ بندی کی یہ پیشکش حقانی نیٹ ورک کے لیے بھی ہو گی؟ حقانی نیٹ ورک اور اس کے رہنماؤں کے نام نامزد دہشت گردوں میں شامل ہیں۔ ایسے میں افغانستان میں امریکی فورسز اس معاملے سے کیسے نمٹیں گی؟

دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار: جیسا کہ ہمارے بیان میں کہا گیا ہے، ہم اسے افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے سے جنگ بندی پر عملدرآمد کے طور پر لیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی کے عرصے میں افغان سکیورٹی فورسز طالبان کے خلاف اپنے حملے بند کر دیں گی جبکہ امریکی فورسز بھی یہی کچھ کریں گی۔ تاہم اگر اس عرصہ میں افغان سکیورٹی فورسز پر طالبان اور اس کے آلہ کاروں کی جانب سے حملہ ہوا تو یقیناً افغان فورسز اس کا جواب دیں گی اور امریکی فورسز بھی ان کے ساتھ ہوں گی۔

نگران: ٹھیک ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہماری آج کی بریفنگ ختم ہوتی ہے۔ آپ سبھی کا شکریہ۔ اب اس بریفنگ کی نشرواشاعت پر پابندی نہیں رہی۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں