rss

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپئو کی پریس بریفنگ

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
11 جون 2018
جے ڈبلیو میریٹ
سنگاپور

 
 

مس سینڈرز: سہ پہر بخیر۔ آپ کے تحمل کا بے حد شکریہ۔ سنگاپور میں خوش آمدید۔ ہم بات چیت کو مختصر رکھیں گے۔ میں وزیرخارجہ مائیک پومپئو کو خوش آمدید کہوں گی جو کل ہونے والی ملاقات کے حوالے سے سوالات کے جواب دیں گے۔ اس کے بعد ہم دیگر سوالات کے جواب کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ جناب وزیر۔

وزیرخارجہ پومپئو: سہ پہر بخیر۔ میں صدر ٹرمپ کی چیئرمین کم جانگ ان کے ساتھ ملاقات سے قبل تازہ ترین صورتحال کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ جیسا کہ ہفتے کو صدر نے کہا یہ واقعتاً امن کا مشن ہے۔

اس سہ پہر صدر نے جاپان کے وزیراعظم ایبے اور جنوبی کوریا کے صدر مون سے بات کی۔ آج صبح ہمارے سفیر سنگ کم کی قیادت میں ایک وفد نے شمالی کوریا کے نائب وزیرخارجہ چو سون ہوئی کے زیرقیادت وفد سے ملاقات کی۔ یہ بات چیت اس وقت بھی جاری ہے۔ درحقیقت وہ نہایت تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ وہ ہمارے اندازے سے کہیں پہلے منطقی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔

آج ہونے والی ملاقات پر بات کرنے سے پہلے میں نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے حوالے سے کچھ کہنا چاہوں گا جس میں کہا گیا ہے کہ اس بات چیت میں شریک امریکی ٹیم میں شمالی کوریا کے اسلحے کے پروگرام کے خاتمے سے متعلق تکنیکی مہارت کا فقدان ہے۔ میں اس رپورٹ پر براہ راست بات کرنا چاہوں گا۔

تین ماہ سے زیادہ عرصہ تک حکومت کے تمام اداروں سے تعلق رکھنے والے 100 سے زیادہ ماہرین کے ورکنگ گروپ نے شمالی کوریا کے اسلحہ پروگرام کے خاتمے سے متعلق تکنیکی اور انصرامی امور کا جائزہ لینے کے لیے ہر ہفتے کئی کئی ملاقاتیں کیں۔ ان میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے کے عسکری ماہر، محکمہ توانائی سے تعلق رکھنے والے ماہرین  بشمول ‘ڈی او ای’ لیبارٹریوں سے متعلق پی ایچ ڈی خواتین و حضرات اور ماہرین نیز شمالی کوریا سے متعلق انٹیلی جنس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے حکام بھی شامل ہیں۔ یہی ماہرین شمالی کوریا کے جوہری، کیمیائی، حیاتیاتی اور میزائل پروگرامز کا معاملہ بھی دیکھ رہے ہیں۔

ان ماہرین میں درجنوں پی ایچ ڈی خواتین و حضرات بھی شامل ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں، ایندھن کی گردش، میزائلوں اور کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں کے ماہر ہیں۔ وہ ایٹمی انجینئرنگ، طبعیات، کیمیا، فضائیات، حیاتیات اور دیگر متعلقہ شعبہ جات میں اعلیٰ ترین ڈگریوں کے حامل ہیں۔

سنگاپور میں موجود ہماری ٹیم میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق صدر کے انتہائی اعلیٰ سطحی ماہر بھی شامل ہیں جو اس ملاقات کے موقع پر کسی بھی قسم کی تکنیکی ضرورت میں معاونت کر سکتے ہیں۔

چنانچہ یہ بات درست نہیں کہ امریکی حکومت کے پاس یا یہاں سنگاپور میں ہمارے ہاں تکنیکی مہارت کا فقدان ہے۔

قبل ازیں شمالی کوریا نے ہم سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے بارے رضامندی کا اظہار کیا ہے اور ہم ان الفاظ کی سچائی جاننے کے مشتاق ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی آمنے سامنے ملاقات ایسے مقصد کی تکمیل کا بے پایاں امکان لیے ہوئے ہے جس سے ناصرف ہمارے عوام بلکہ پوری دنیا کو بے حد فائدہ پہنچے گا۔

صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ کم  جانگ ان کے پاس ہمارے تعلقات کی راہ موڑنے اور اپنے ملک میں امن و خوشحالی لانے کا بے مثل موقع ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ ملاقات مستقبل میں مفید بات چیت کے لیے حالات طے کرے گی۔ ماضی میں امریکہ کی جانب سے کیے گئے بہت سے کھوکھلے معاہدوں کو دیکھا جائے تو موجودہ صدر یہ امر یقینی بنائیں گے کہ کوئی ممکنہ معاہدہ شمالی کوریا کے خطرے سے مناسب طور پر نمٹنے میں ناکام نہ رہے۔

شمالی کوریا سے سفارت کاری کے ذریعے ہمیں جو مقصد درکار ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ امریکہ جزیرہ نما کوریا کو مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ طور پر جوہری اسلحے سے پاک کیے جانے کے علاوہ کوئی بات قبول نہیں کرے گا۔ شمالی کوریا کی جانب سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے مکمل اور قابل تصدیق طور سے خاتمے تک اس پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔ اگر سفارت کاری درست سمت میں آگے نہیں بڑھتی تو پابندیوں جیسے اقدامات میں مزید اضافہ ہو گا۔ ویسے ہمیں امید ہے کہ سفارت کاری کامیاب رہے گی۔

صدر ٹرمپ کو چیئرمین کم کی جانب سے سلامتی کی خواہش کا ادراک ہے اور وہ یہ یقین دہانی کرانے کو تیار ہیں کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک شمالی کوریا ایک محفوظ ملک بھی ہو گا۔ صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا درست سمت میں اقدامات اٹھائے گا تو اسے غیرملکی سرمایہ کاری اور دیگر معاشی مواقع تک رسائی بھی ملے گی۔

اس ملاقات کی تمام تیاریاں عمدگی سے انجام پائی ہیں۔ صدر نے اس سہ پہر سنگاپور کے وزیراعظم لی سے ملاقات کی۔ یہ اس ملاقات کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے سنگاپور کی شراکت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرنے کا اہم موقع تھا۔ سنگاپور میں چار ہزار سے زیادہ امریکی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور وہ ہمارا دیرینہ تجارتی شراکت دار ہے۔ یہ ملاقات ممکن بنانے میں مدد دینے پر ہم اس کے مشکور ہیں۔

صدر کو یہاں سنگاپور میں ہمارے سفارت خانے کا دورہ کرنے اور اس ملاقات کو کامیاب بنانے کے لیے عملے کے انتھک کام پر اس کا شکریہ ادا کرنے کا موقع بھی ملا۔ اس کام کی ایک مثال یہ ہے کہ کل ہونے والی کانفرنس میں پوری دنیا سے میڈیا کے پانچ ہزار ارکان موجود ہوں گے جو اس تاریخی واقعے کی خبر دیں گے۔

صدر ٹرمپ اعتماد، مثبت رویے اور حقیقی پیش رفت پر رضامندی کے جذبے کے تحت یہ ملاقات کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کم جانگ ان جوہری اسلحے کا خاتمہ کریں گے تو شمالی کوریا کا مستقبل روشن ہے۔ کل ہمیں اب تک کا واضح ترین اشارہ مل جائے گا کہ آیا چیئرمین کم بھی واقعتاً یہی سوچ رکھتے ہیں یا نہیں۔ اب مجھے چند سوالات لے کر خوشی ہو گی۔

مس سینڈرز: نیویارک ٹائمز سے مارک لینڈلر۔

سوال: جناب وزیر، آپ نے ابھی کہا کہ آپ جزیرہ نما کوریا کو جامع، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ طور سے جوہری اسلحے سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ آیا آپ نے اپنے پرانے موقف سے کچھ انحراف کیا ہے، کیونکہ روایتی طور پر آپ صرف ‘سی وی آئی ڈی’ کی بات کرتے چلے آئے ہیں اور اب آپ ‘جزیرہ نما کوریا’ کی بات کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا والے بھی پورے جزیرہ نما سے جوہری اسلحے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ کیا اسے آپ کے موقف میں تبدیلی کہا جائے گا؟

وزیرخارجہ پومپئو: ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ معاملہ یہ ہے کہ ہم جوہری اسلحے کے خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو درکار تحفظ کی ضروری ضمانت دینے کو تیار ہیں۔ ہم ایسے اقدامات اٹھانے کو تیار ہیں جن سے شمالی کوریا کو اطمینان ہو کہ جوہری اسلحے کا خاتمہ ان کے لیے نقصان دہ نہیں ہو گا۔ درحقیقت اس سے شمالی کوریا کو الٹا فائدہ ہو گا، اس سے شمالی کوریا کے عوام کا مستقبل مزید روشن اور بہتر ہو جائے گا۔

مس سینڈرز: سی بی ایس نیوز سے میجر گیرٹ۔

سوال: جناب وزیر، میں اسی بات کو آگے بڑھاؤں گا، کیا سلامتی کی ضمانت میں یہ بھی شامل ہو گا کہ امریکی افواج جنوبی کوریا سے نکل جائیں گی؟ کیا آپ شمالی کوریا سے اس پر براہ راست بات کرنے کو تیار ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں اس ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے پیشگی کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ امریکہ ماضی سے مختلف اور منفرد طرز کی سلامتی کی ضمانت مہیا کرنے کو تیار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا ناصرف ضروری بلکہ مناسب بھی ہے۔

سوال: کیا یہ فرض کرنا غلط ہو گا کہ یہ بات مذاکرات کی میز پر زیربحث نہیں آئے گی؟

وزیرخارجہ پومپئو: اگر میں نے اس حوالے سے کوئی تفصیل بیان نہیں کی تو آپ کو اس سے ایسا اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔

سوال: مگر آپ جانتے ہیں کہ معاملے کی حساسیت ۔۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: اگر آپ مفروضے قائم کریں گے کہ ایسا کچھ ہے جو میں آپ کو نہیں بتا رہا تو آپ کو علم ہونا چاہیے کہ ابھی اس معاملے میں بہت سا کام باقی ہے۔ ابھی بہت سی تفصیلات سامنے آنا ہیں۔ ہم میڈیا کے سامنے یہ بات چیت نہیں کر رہے۔ یہ بات چیت دو فریقین کے مابین ہو رہی ہے تاکہ ہمیں حقیقی کامیابی کا موقع میسر آ سکے۔

مس سینڈرز: وال سٹریٹ جرنل سے مائیکل گورڈن۔

سوال: جناب وزیر، یہ واضح ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے جوہری اسلحے کا خاتمہ چاہتا ہے مگر بعض اوقات شمالی کوریا کے حکام کی جانب سے یہ سامنے آتا رہا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں دہری صلاحیت رکھنے والے جہازوں یا طیارہ بردار بحری جہازوں کی موجودگی شمالی کوریا کے جوہری اسلحے کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ کیا ٹرمپ انتظامیہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے بھی رضامند ہے یا آپ اسے خارج از امکان کہیں گے؟ مزید یہ کہ کیا آپ کو امید ہے کہ کل آپ کے پاس ایسی راہ عمل ہو گی جسے جوہری اسلحے کے خاتمے بارے گزشتہ بارہ تیرہ برس کی کلیہ سازی سے مختلف کہا جا سکتا ہو اور جس میں دونوں فریقین مخصوص اقدامات اٹھانے کا وعدہ کریں؟

وزیرخارجہ پومپئو: میرا خیال ہے کہ آپ کے سوال کا پہلا حصہ وہی ہے جو میجر گیرٹ نے کیا ہے۔ اس سوال میں یہ پوچھا گیا ہے کہ فریقین خاص طور پر کون سے اقدامات اٹھانے کو تیار ہیں اور میں اس پر بات نہیں کروں گا۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو میں یہ کہوں گا کہ اس بات چیت کا سیاق و سباق قبل ازیں ہونے والی گفت و شنید سے بالکل مختلف ہے۔ یہ بات چیت جس پس منظر میں ہو رہی ہے اس کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ماضی کی صورتحال سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔

صدر نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک ہمیں اپنا مطلوبہ مقصد حاصل نہیں ہو جاتا اس وقت تک شمالی کوریا کو معاشی چھوٹ نہیں ملے گی۔ یہ بات پہلے کی گئی باتوں سے بہت مختلف ہے۔ اس حوالے سے ہمیشہ یہ مفروضہ قائم کیا جاتا رہا ہے کہ امریکی پیچھے ہٹ جائیں گے اور شمالی کوریا کو معاشی مواقع مہیا کر دیں گے جس سے معاہدے کا امکان محدود ہو جائے گا۔ مگر ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے۔ لہٰذا کل چیئرمین کم اور صدر ٹرمپ کے مابین  ہونے والی بات چیت ہی اس کڑے کام کا طریقہ طے کرے گی جو مستقبل قریب میں کیا جانا ہے۔

ہم دیکھیں گے کہ اس سمت میں کتنا آگے جانا ممکن ہے اور مجھے پوری امید ہے کہ کل دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے کامیاب نتیجہ برآمد ہو گا۔ بات یہ ہے کہ دونوں ممالک میں صرف دو ہی لوگ اتنا بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں اور یہ دونوں افراد کل ایک ہی کمرے میں اکٹھے بیٹھیں گے۔

مس سینڈرز: اے پی سے کیتھرین لوسی۔

سوال: جناب وزیر، صدر نے کہا ہے کہ انہیں اپنے محسوسات کی بنا پر ایک منٹ میں ہی معلوم ہو جائے گا کہ آیا کم سنجیدہ ہیں یا نہیں۔ یقیناً یہ پیچیدہ جوہری معاملات ہیں جن سے دونوں جانب کروڑوں لوگوں کا مستقبل وابستہ ہے۔ کیا ایسے میں صدر کی جانب سے کہی گئی یہ بات مناسب ہے؟ مزید یہ کہ کیا آپ نے یہ طے کیا ہے کہ کل کون سے حالات میں وہ واپس آ سکتے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: صدر کل ہونے والی ملاقات کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر یہ یقین دہانی لینے کا موقع ملا کہ وہ بہت سی  مختلف النوع باتیں سنیں اور تمام مواقع اور خدشات پر بات چیت کریں۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ سوال کے جواب میں کہا، صدر نے واقعتاً ایسا طریقہ کار ترتیب دیا ہے جو ماضی میں اختیار کردہ ہمارے طریقوں سے بہت مختلف ہے۔ مجھے توقع ہے کہ کل کے بعد آگے بڑھنے والا عمل بھی بنیادی طور پر ماضی سے مختلف نوعیت کا حامل ہو گا اور پرعزم امریکہ ایسے نتائج کے حصول کی کوشش کرے گا جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ سب کچھ ماضی  میں کی گئی ہماری کوششوں سے مختلف ہے۔

سوال: جناب، کیا آپ ہمیں تیاریوں کے حوالے سے کچھ بتا سکتے ہیں۔

مس سینڈرز: فاکس ریڈیو سے جان ڈیکر۔

سوال: شکریہ جناب وزیر، اس سے پہلے آپ نے وائٹ ہاؤس کے پریس بریفنگ روم میں ہمارے ساتھ سوال و جواب کی نشست کی تھی اور اس دوران مجھے آپ سے سوال کرنے کا موقع میسر آیا تھا۔ میں نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ آپ شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں۔ آپ کا جواب میرے لیے اطمینان بخش نہیں تھا۔ میں اب پھر آپ کا جواب سننا چاہوں گا۔

تاہم میں سوال کا رخ تبدیل بھی کرنا چاہوں گا کہ کم جانگ ان امریکہ پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ جی7 میں اعلامیے کے حوالے سے ہوا جہاں بہت سے رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی قیادت قابل اعتبار نہیں ہے۔ شاید آپ ان دونوں سوالات کے جواب دے سکیں۔ شکریہ۔

وزیرخارجہ پومپئو: میں آپ کے دوسرے سوال کا جواب پہلے دوں گا۔ میں سمجھتا ہوں یہ مضحکہ خیز مفروضہ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی میں امریکہ کو بیوقوف بنایا جاتا رہا ہے۔ ماضی میں بہت سے صدور نے معاہدوں پر دستخط کیے مگر نتیجہ یہی نکلا کہ یا تو شمالی کوریا والوں نے حسب توقع وعدے نہ کیے یا اپنے وعدوں سے پھر گئے۔

‘وی’ کی اہمیت ہے۔ ‘وی’ کی اہمیت ہے۔ ہم یہ امر یقینی بنا رہے ہیں کہ  ایسا نظام ترتیب دیا جائے جس سے ہم ان نتائج کی تصدیق کے قابل ہو سکیں۔ یہ ‘وی’ کی موجودگی میں ہو گا، ٹھیک؟ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ آپ جانتے ہی ہیں، ریگن دور کی مثال ہمارے سامنے ہے ‘اعتماد کریں مگر تصدیق کر لیں’

آخر میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے پر خاطر خواہ حد تک اعتماد ہو گا اور اگر کل ہم کسی معاہدے یا اس کے بعد کسی طرح کے معاہدوں پر دستخط کرتے ہیں تو دونوں ملک ایک دوسرے کے حوالے سے یہ تصدیق کر سکیں گے کہ دستاویزات میں جن وعدوں پر دستخظ  کیے گئے ہیں وہ پورے ہوں۔ مگر دونوں فریقین کو ان وعدوں پر عملدرآمد کے لیے ضرورت اقدامات بھی یقینی بنانا ہوں گے۔ جب ہم ایسا کریں گے تو یہ ایک مصدقہ معاہدہ ہو گا۔ اگر ہم اس حد تک پہنچ سکتے ہیں تو پھر جنوب مشرقی ایشیا، شمالی ایشیا اور دنیا بھر میں تاریخی تبدیلی وقوع پذیر ہو گی۔

مس سینڈرز: اب ہم آخری سوال لیں گے۔ واشنگٹن پوسٹ سے فل رکر

سوال: جناب وزیر، آج سنگاپور میں اپنے ہوٹل میں صدر ٹرمپ نے وزیراعظم ٹروڈو کے حوالے سے سخت باتیں کہیں۔ ملک کے اعلیٰ ترین سفارت کار کی حیثیت سے آپ ہمارے ملک کے دیرینہ اتحادیوں، قریب ترین یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے کیا کریں گے؟ کیا آپ گزشتہ روز امریکی انتظامیہ میں اپنے ساتھی کے بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ کینیڈا کے وزیراعظم کے لیے جہنم میں خاص جگہ مخصوص ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں آج یہاں سنگاپور میں شمالی کوریا کے حوالے سے بات کرنے آیا ہوں۔ تاہم  مجھے اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ کام کے حوالے سے بات کر کے بھی خوشی ہو گی۔ اگر ہمارے یورپی شراکت دار ہمارا ساتھ نہ دیتے اور ان کی سفارتی کاوشیں نہ ہوتیں تو تو ہم آج اس جگہ نہ ہوتے اور ہمیں یہ تاریخی موقع میسر نہ آتا۔

صدر ٹرمپ نے ایک زبردست اتحاد کی قیادت کی ہے جس میں جی7 سے تعلق رکھنے والے وہ یورپی شراکت دار بھی شامل ہیں جن کی جانب آپ نے اشارہ کیا ہے اور جنہوں نے یہاں تک پہنچنے میں ہماری مدد کی۔ مجھے بھرپور توقع ہے کہ وہ ہمارا ساتھ دیتے رہیں گے۔

باہمی تعلقات میں تلخی معمول کی بات ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ امریکہ اور جی7 ممالک کے باہمی تعلقات مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھتے رہیں گے۔ مجھے شمالی کوریا کے حوالے سے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی صلاحیت بارے اطمینان ہے۔

مس سینڈرز: شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں