rss

صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنس

Facebooktwittergoogle_plusmail
English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español, Русский Русский

ائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجرا
12 جون 2018
صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنس
کیپیلا ہوٹل سنگاپور

 
 

4:15 سہ پہر

صدر: سبھی کا بے حد شکریہ۔ ہم آپ کے قدردان ہیں۔ ہم واپسی کے لیے تیار ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے بے حد غیرمعمولی تھے۔ دراصل یہ تین ماہ بھی بہت غیرمعمولی رہے۔ ہم نے یہ ڈوری چیئرمین کم اور ان کے لوگوں، ان کے نمائندوں کو تھمائی۔ اس کے ساتھ بہت کچھ ہے۔ یہ بہت بڑی جگہ ہے۔ یہ حیرت انگیز جگہ بن سکتی ہے۔ اگر آپ سوچیں تو جنوبی کوریا اور چین کے درمیان، اس میں بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ میرے خیال میں وہ یہ بات سمجھتے ہیں اور درست قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔

شمالی کوریا کے چیئرمین کم جانگ ان کے ساتھ اس تاریخی ملاقات کے بعد دنیا کے لوگوں سے خطاب کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور وقت گزارا۔ میرے خیال میں آپ میں سے بیشتر لوگوں کو دستخط شدہ دستاویز مل گئی ہو گی یا بہت جلد مل جائے گی۔ یہ نہایت جامع ہے۔ یہی کچھ ہونے جا رہا ہے۔

میں امریکی عوام کے نمائندے کی حیثیت سے آپ کے سامنے امید اور امن کا پیغام دینے کے لیے کھڑا ہوا۔

میں سنگاپور کے اپنے شاندار میزبانوں کے شکریے سے اپنی بات شروع کروں گا۔ خاص طور پر میں وزیراعظم لی کا مشکور ہوں جو میرے دوست ہیں۔ یہ عمیق آن بان اور خوبصورتی کا حامل ملک ہے اور ہم سنگاپور کے ہر شہری کے لیے گرم جوشی پر مبنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اس قدر کام اور طویل محنت سے اس دورے کو اس قدر اہم اور خوشگوار بنایا۔

میں جنوبی کوریا کے صدر مون کا بھی مشکور ہوں۔ وہ کڑی محنت کر رہے ہیں۔ درحقیقت اس کے بعد میں انہی سے بات چیت کروں گا۔ میرے دوست اور جاپان کے وزیراعظم ایبے ابھی ہمارے ملک سے واپس گئے ہیں اور وہ جاپان اور دنیا کے لیے اچھا چاہتے ہیں۔ وہ اچھے آدمی ہیں۔ میں نہایت خاص شخصیت اور چین کے صدر ژی کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے شمالی کوریا کے ساتھ سرحد واقعتاً بند کی اور شاید گزشتہ چند مہینوں میں انہوں نے اس حوالے سے زیادہ کڑے اقدامات نہیں کیے، مگرٹھیک ہے۔ وہ بہترین شخص اور میرے دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کے عظیم رہنما ہیں۔ میں اس تاریخی دن تک پہنچنے میں معاونت پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں چیئرمین کم کا مشکور ہوں جنہوں نے اپنے عوام کے نئے روشن مستقبل کے لیے پہلا دلیرانہ قدم اٹھایا۔ ہماری بے مثال ملاقات سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔ یہ امریکی صدر اور شمالی کوریا کے رہنما کے مابین پہلی ملاقات ہے۔

چیئرمین کم کے ساتھ میری ملاقات دیانت دارانہ، براہ راست اور مفید تھی۔ ہم نے نہایت مختصر وقت میں اور نہایت کڑے حالات میں ایک دوسرے کو اچھی طرح جانا۔ ہم نئی تاریخ شروع کرنے اور دونوں ممالک میں نیا باب لکھنے کے لیے تیار ہیں۔

قریباً 70 برس پہلے، ذرا سوچیے، 70 برس پہلے ایک انتہائی خونی جنگ نے جزیرہ نما کوریا کو ویران کر دیا تھا۔ اس جنگ میں بے شمار لوگ ہلاک ہوئے جن میں ہزاروں بہادر امریکی بھی شامل تھے۔ اگرچہ عارضی صلح ہو گئی مگر جنگ کبھی ختم نہ ہوئی۔ یہ جنگ آج بھی ختم نہیں ہوئی۔ مگر اب ہم سب امید کر سکتے ہیں یہ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ ایسا ہی ہو گا اور یہ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔

ماضی کو مستقبل کا تعین نہیں کرنا۔ گزرے کل کی جنگ کو آنے والے کل میں جاری نہیں رہنا۔ جیسا کہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے دشمن ایک دوسرے کے دوست بن سکتے ہیں۔ ہم جنگ کی ہولناکیوں کو امن کی برکتوں سے تبدیل کر کے اپنے آباواجداد کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کر سکتے ہیں۔ ہم یہی کچھ کر رہے ہیں اور ہم نے یہی کچھ کیا ہے۔

جب شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دے گا اور بقیہ دنیا کے ساتھ کاروبار اور تعلقات استوار کرے گا تو اسے لامحدود فوائد حاصل ہوں گے۔ چیئرمین کم کے سامنے جو موقع ہے وہ کسی اور کو نہیں ملا۔ انہیں ایسے رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے اپنے عوام کی سلامتی اور خوشحالی کے عظیم الشان نئے دور کی جانب رہنمائی کی۔

چیئرمین کم اور میں نے ابھی ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جس میں انہوں نے ‘جزیرہ نما کوریا کو جوہری اسلحے سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ’ کیا ہے۔ ہم معاہدے پر ہر ممکن حد تک جلدازجلد عملدرآمد کے لیے موثر بات چیت پر بھی متفق ہوئے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ماضی کا دور نہیں ہے۔ یہ ایسی امریکی انتظامیہ نہیں ہے جس نے آغاز ہی نہ کیا ہو اور نتیجتاً وہ معاملے کو انجام تک بھی نہ پہنچا پائی ہو۔

چیئرمین کم نے مجھے بتایا ہے کہ شمالی کوریا میزائل انجن کے تجربات کے لیے کام آنے والی ایک تنصیب کو پہلے ہی تباہ کر رہا ہے۔ یہ دستخطی دستاویز میں شامل نہیں ہے۔ ہم معاہدے پر دستخط کے بعد اس پر متفق ہوئے۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔ یہ تنصیب بہت جلد تباہ کر دی جائے گی۔

آج ایک کٹھن دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ ہماری آنکھیں پوری طرح کھلی ہیں، تاہم امن ہمیشہ کوشش سے حاصل ہوتا ہے خاص طور پر اس معاملے میں تو ایسا ہی ہے۔ یہ کام کئی سال پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ یہ مسئلہ بہت پہلے حل ہو جانا چاہیے تھا تاہم اب ہم اسے حل کر رہے ہیں۔

چیئرمین کم کے پاس اپنے عوام کے لیے غیرمعمولی مستقبل کو تصرف میں لینے کا موقع ہے۔ جنگ کوئی بھی چھیڑ سکتا ہے مگر صرف انتہائی حوصلہ مند لوگ ہی امن لا سکتے ہیں۔

موجودہ حالات ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ شمالی اور جنوبی کوریا کے لوگ بے حد اہل، صنعتی اور باصلاحیت ہیں۔ یہ واقعتاً خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ان کا ورثہ، زبان، رسومات، ثقافت اور مقدر ایک ہے۔ تاہم ان کے حیران کن مقدر کو حقیقت کا روپ دینے اور ان کے قومی خاندان کو متحد کرنے کے لیے جوہری ہتھیاروں کی آفت کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔

اس دوران شمالی کوریا پر پابندیاں موثر رہیں گی۔ ہم ایک ایسے مستقبل کا خواب دیکھتے ہیں جس میں کوریا کے تمام باشندے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے رہیں، جہاں خاندان باہم یکجا ہوں اور امیدیں نیا جنم لیں اور جہاں امن کی روشنی جنگ کے اندھیروں کو دور کر دے۔ یہ روشن مستقبل آنے کو ہے۔ یہ ہمارے قریب موجود ہے۔ یہ ہماری پہنچ میں ہے۔ ایسا ہونے والا ہے۔ لوگ سوچتے تھے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ اب ایسا ہو رہا ہے۔ یہ بہت بڑا دن ہے۔ یہ دنیا کی تاریخ کا بہت عظیم لمحہ ہے۔

چیئرمین کم شمالی کوریا واپس جا رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اپنے ملک پہنچتے ہی وہ اس کام کا آغاز کر دیں گے جس سے بہت سے لوگوں کی زندگی خوش باش اور محفوظ ہو جائے گی۔

چنانچہ آج آپ سبھی لوگوں کے ساتھ موجودگی اعزاز کی بات ہے۔ یہاں بہت بڑی تعداد میں میڈیا موجود ہے جس سے میں بے حد بے چینی محسوس کر رہا ہوں۔ (قہقہہ) لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ہم سب کے لیے نہایت اہم لمحہ ہے۔ ان میں آپ اور آپ کے اہلخانہ بھی شامل ہیں۔

لہٰذا یہاں آنے پر آپ کا بے حد شکریہ۔ ہم کچھ سوالات لیں گے۔ ارے واہ، یہاں تو بہت سے سوالات ہیں۔ ٹھیک ہے، بات کیجیے، این بی سی۔

سوال: شکریہ جناب صدر۔ اگر برا نہ منائیں تو مجھے آپ سے دو سوال پوچھنا ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ آج جس شخص یعنی کم جانگ ان سے ملے، اس کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ اس نے اپنے اہلخانہ کو ہلاک کیا، اپنے ہی لوگوں کو بھوکا مارا اور وہ اوٹو وامبیئر کی موت کا ذمہ دار ہے۔ ایسے میں آپ اس قدر آسانی سے اسے ‘نہایت باصلاحیت’ کیسے کہہ رہے ہیں؟

صدر ٹرمپ: وہ بے حد باصلاحیت ہیں۔ 26 سال کی عمر میں ان کی طرح صورتحال کا سامنا کرنے اور مشکل حالات میں آگے بڑھنے والے شخص کو باصلاحیت ہی کہا جائے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بہت اچھے ہیں۔ تاہم ہزاروں میں سے غالباً کوئی ایک ہی اس عمر میں ایسا کام کر سکتا ہے۔

اوٹو وامبیئر بہت خاص آدمی تھے اور وہ میری زندگی میں ہمیشہ خاص رہیں گے۔ ان کے والدین میرے اچھے دوست ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اوٹو کے بغیر ایسا ممکن نہ ہوتا۔ اس دن سے کچھ نہ کچھ ضرور ہوا۔ ان کی موت ایک خوفناک واقعہ تھا۔ یہ وحشیانہ عمل تھا۔ مگر اس کے بعد شمالی کوریا والوں سمیت بہت سے لوگوں نے صورتحال پر توجہ دینا شروع کی۔

میں واقعی یہ سمجھتا ہوں کہ اوٹو کی موت رائیگاں نہیں گئی۔ میں نے یہ بات ان کے والدین کو بھی بتائی۔ وہ بہت خاص نوجوان تھا۔ میں انہیں خاص والدین اور خاص لوگ کہوں گا۔ اوٹو کی موت رائیگاں نہیں گئی۔ انہوں نے ہمیں یہاں تک پہنچانے کے لیے بہت کچھ کیا۔ ٹھیک ہے؟ آپ کا بے حد شکریہ۔

سوال: جناب صدر، میرا دوسرا سوال سلامتی کی صورتحال پر تھا، دوسرا سوال، جناب ۔۔۔

صدر ٹرمپ: سوال کیجیے۔

سوال: ۔۔۔ مجھے سلامتی کی ضمانت کے حوالے سے پوچھنا ہے جس کا آپ نے اپنے بیان میں تذکرہ کیا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کم جانگ ان کو کیسی ضمانت دینے کو تیار ہیں؟ کیا اس میں عسکری اہلیتیں محدود کرنا بھی شامل ہے؟

صدر ٹرمپ: نہیں۔

سوال: مجھے آپ کے جواب پر یہ کہنا ہے کہ ۔۔۔۔

صدر ٹرمپ: نہیں۔ ہم کچھ بھی محدود نہیں کر رہے۔ ہم محدود نہیں کر رہے۔ میں دیانت دارانہ طور سے کہوں تو کسی موقع پر، جیسا کہ آپ جانتے ہیں غالباً میں اپنی انتخابی مہم کے موقع پر یہ کہتا رہا ہوں کہ میں اپنی فوج کو وہاں سے نکالنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے سپاہیوں کو واپس لانا چاہتا ہوں۔ اس وقت ہمارے 32 ہزار فوجی جنوبی کوریا میں موجود ہیں اور میں انہیں واپس لے آؤں گا۔ مگر اس وقت یہ اس معاملے کا حصہ نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ کسی موقع پر ایسا ہو گا مگر ابھی نہیں۔

ہم جنگ کے کھیل ختم کریں گے جس سے ہمیں بہت سی رقم بچانے کا موقع ملے گا جب تک کہ ہمیں یہ نظر نہ آئے کہ مستقبل کی بات چیت حسب توقع آگے نہیں بڑھ رہی۔ مگر ہم بہت سی رقم بچا لیں گے۔ جی ہاں جان، جی بات کیجیے۔ ارے بات کیجیے، میں معذرت چاہتا ہوں، میں نے سمجھا آپ جان رابرٹس ہیں۔ میں نے آپ کو دیکھا، آپ بالکل ۔۔۔۔

سوال: کوئی بات نہیں۔

صدر ٹرمپ: بہت بہتر، ٹھیک؟

سوال: جناب صدر، ہمیں اکثر گڈمڈ کر دیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ: جی

سوال: جناب صدر، مشترکہ اعلامیے میں قابل تصدیق یا ناقابل تنسیخ طور سے جوہری اسلحے کے خاتمے کا ذکر نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ: جی

سوال: کیا امریکہ کی رضامندی سے ایسا لکھا گیا؟

صدر ٹرمپ: ایسا بالکل نہیں۔ کیونکہ اگر آپ اسے دیکھیں، میرا مطلب ہے میں نے کہا کہ ہم ۔۔۔ یہاں دیکھیں ۔۔۔۔ میں نہیں سمجھتا کہ آپ اس سے زیادہ واضح ہو سکتے ہیں جتنا ہم کہہ رہے ہیں ۔۔۔ ‘امریکہ اور شمالی کوریا کے نئے تعلقات کے قیام سے متعلق امور’ ۔۔۔ یہ تعلقات تعمیر کرنے کی بات ہے۔ ہم نے ضمانتوں پر بات کی اور ہم ‘جزیرہ نما کوریا کو جوہری اسلحے سے مکمل طور پر پاک کرنے کے غیرمتزلزل عزم’ کی بات کر رہے ہیں۔ یہ اس دستاویز میں مذکور ہے جس پر ہم نے ابھی دستخط کیے ہیں۔

سوال: کیا آپ نے چیئرمین کم سے اس عمل کی بابت تصدیقی طریقہ ہائے کار بارے بھی گفت و شنید کی خواہ یہ تصدیق امریکہ کرے یا عالمی ادارے؟ کیا آپ کے پاس کوئی ٹائم ٹیبل ۔۔۔۔

صدر ٹرمپ: جی، ہم نے ایسا کیا، جی، ہم نے ایسا کیا۔ ہم اس کی تصدیق کریں گے۔

سوال: کیا آپ ہمیں اس بارے میں بتا سکتے ہیں؟

صدر ٹرمپ: جی، ہم تصدیق کریں گے۔ اس کی تصدیق ہو گی۔

سوال: جناب صدر، یہ سب کچھ کیسے ہو گا؟

صدر ٹرمپ: یہ کام بہت سے لوگ کریں گے اور ہمارے مابین اس حوالے سے اعتماد کی فضا پائی جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس پر کام کر لیا ہے۔ وزیرخارجہ پومپئو اور ان کا عملہ واقعتاً بہت شاندار کام کر رہا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے ہمارے پاس بہت سے لوگ ہوں گے اور ہم شمالی کوریا والوں کے ساتھ بہت سے دیگر معاملات پر بھی کام کریں گے۔ تاہم شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا اور اس کی تصدیق بھی کی جائے گی۔

سوال: کیا وہ لوگ خواہ ان کا تعلق امریکہ سے ہو یا وہ عالمی ۔۔۔۔

صدر ٹرمپ: ان میں دونوں شامل ہوں گے۔ یہ دونوں کا مجموعہ ہو گا۔ ہم نے اس پر بات کی ہے۔ جی بات کیجیے، عمدگی سے اور احترام سے۔

سوال: جناب میں بصد احترام بات کروں گا۔ کم جانگ کی ایسی کون سی بات سے آپ کو یہ یقین آیا ہے کہ شمالی کوریا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ دھوکہ دہی اور دنیا کے ساتھ کھیل کھیلنے سے اجتناب کر رہے ہیں اور ان لوگوں کو دھوکہ نہیں دیں گے جو یہ یقین دہانی لینے جائیں گے کہ جوہری اسلحے کا واقعتاً خاتمہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے آپ سے کیا کہا؟

صدر: جی، بہت جائز سوال ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کا تذکرہ کیا کہ ماضی میں وہ ایک راستے پر چلے اور آپ جانتے ہیں اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ کلنٹن حکومت میں انہوں نے اربوں ڈالر لیے اور کچھ بھی نہ ہوا۔ یہ بہت خوفناک بات تھی اور انہوں نے خود مجھ سے یہ تذکرہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ کبھی اس حد تک نہیں گئے۔ میں نہیں سمجھتا کہ انہیں کبھی کسی صدر پر اس قدر اعتماد رہا ہے اور انہوں نے نہایت مضبوط طور سے کہا کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ شاید وہ اس ضمن میں مجھ سے بھی زیادہ مشتاق ہیں کیونکہ وہ شمالی کوریا کے لیے نہایت روشن مستقبل دیکھ رہے ہیں۔

چنانچہ آپ نہیں جانتے، ہم نہیں جانتے، مگر میں آپ کو بتاؤں گا کہ آج ہم نے نہایت جامع دستاویز پر دستخط کیے ہیں اور میرے خیال میں آپ میں سے بیشتر لوگوں کے پاس یہ دستاویز موجود ہے۔ ہم نے نہایت جامع دستاویز پر دستخط کیے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس تحریر کی پاسداری کریں گے۔ درحقیقت وہ کچھ ہی دیر میں اپنے ملک پہنچتے ہی یہ کام شروع کر دیں گے۔

سوال: جناب صدر، کیا آپ کو ان پر اعتماد ہے؟

صدر: جی، میں ان پر اعتماد کرتا ہوں۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں انہیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں، شاید یہ کچھ زیادہ ہی پرجوش بات معلوم ہو گی، مگر اسکے بغیر ایسا ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسری چیزوں کے علاوہ نئی ٹیم ترتیب دینے کا بھی اس میں اہم کردار ہے۔ ہمارے پاس بہت اچھی ٹیم ہے۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ میں یہ بات بہت اچھی طرح محسوس کرتا ہوں۔

اوہ، جان وہاں ہیں۔ میرا خیال ہے، روشنی میں آپ دونوں ایک سے دکھائی دیتے ہیں، بال بالکل ایک جیسے ہیں۔ ذرا میں دیکھوں کہ کس کے بال بہتر ہیں؟ جان، ان کے بال بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔

سوال: جناب صدر، عقب میں خاص زاویے پر پڑنے والی روشنی کے باعث ہم دونوں ایک سے دکھائی دیتے ہیں۔ یقیناً جوہری اور حیاتیاتی ہتھیاروں کا خاتمہ شمالی کوریا کے حوالے سے ایک مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے ان کا ہولناک ریکارڈ ایک اور بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کیا ملاقات میں اس پر بھی بات ہوئی؟

صدر: جی ہاں۔

سوال: کیا یہ ایسا معاملہ ہے جس سے آپ مستقبل میں نمٹیں گے؟

صدر: جی ہاں، اس پر بات ہوئی۔ انسانی حقوق کے معاملے پر مستقبل میں مزید بات چیت ہو گی۔ جان اس موقع پر ایک اور بات تفصیلاً زیربحث آئی وہ شمالی کوریا میں امریکیوں کی باقیات کا معاملہ ہے۔ مجھے اس حوالے سے بے شمار ٹیلی فون کالز، خطوط اور ٹویٹ موصول ہوتے ہیں۔ لوگ اپنے بیٹوں کی باقیات واپس لانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے باپ، ماؤں اور ان تمام لوگوں کی باقیات واپس چاہتے ہیں جو اس وحشیانہ جنگ کا نشانہ بنے جو بڑی حد تک شمالی کوریا کے علاقے میں لڑی گئی تھی۔ میں نے آج اس حوالے سے بھی بات کی اور اس معاملے پر اتفاق پایا گیا۔ یہ باقیات واپس آئیں گی۔ وہ یہ کام فوری شروع کر رہے ہیں۔

میری انتخابی مہم کے دوران بھی بہت سے لوگوں نے کہا تھا کہ ‘کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ آپ میرے بیٹے کی، میرے باپ کی باقیات شمالی کوریا سے واپس لا سکیں؟’ بہت سے لوگوں نے مجھ سے یہ سوال کیا تھا۔ آپ جانتے ہیں میں نے ان سے کہا تھا ‘دیکھیے، بعض مخصوص لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے نہیں ہیں’ مگر اب ہم نے یہ کر دکھایا ہے۔ وہ اس پر اس قدر جلد اور عمدگی سے رضامند ہوئے۔ یہ واقعتاً نہایت عمدہ بات ہے اور وہ اسے سمجھتے ہیں۔ وہ اس معاملے کی اہمیت کا ادراک رکھتے ہیں۔

میرا اندازہ ہے کہ چھ ہزار سے زیادہ لوگوں کی باقیات واپس لائی جائیں گی۔

سوال: پی او ڈبلیو-ایم آئی اے کا معاملہ بلاشبہ ہزاروں امریکیوں کے لیے بے حد اہم ہے۔

صدر: خاص طور پر ایسے بہت سے لوگوں کے لیے جو ۔۔۔۔

سوال: مگر جناب صدر، آپ شمالی کوریا کے عوام کے ساتھ انسانی حقوق کے حوالے سے کم جانگ ان سے کیا توقع رکھتے ہیں؟

صدر: یہ معاملہ زیربحث آیا تھا۔ جوہری اسلحے کے خاتمے کے مقابلے میں اس پر قدرے مختصر بات ہوئی تھی۔ یقیناً ہم نے یہیں سے آغاز کیا اور یہیں پر اختتام کیا۔ تاہم وہ اقدامات اٹھائیں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر نہایت حیرانی ہو گی۔ وہ بے حد ہوشیار ہیں۔ وہ بہت اچھی طرح بات چیت کرنا جانتے ہیں۔ وہ درست سمت میں چلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے اس حقیقت کا اظہار کیا کہ ماضی میں ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں ایسا کچھ نہیں ہوا جو اب ہونے جا رہا ہے۔ انہیں اربوں ڈالر دیےے گئے اور آپ جانتے ہیں کہ اگلے ہی دن جوہری پروگرام پر کام پھر جاری تھا۔ مگر اب بہت مختلف دور ہے اور کھل کر کہا جائے تو اب ان کا سامنا ایک مختلف صدر سے ہے۔ یہ بات میرے لیے بے حد اہم ہے۔ شاید یہی ایک وجہ ہے کہ میں نے اس معاملے پر مہم چلائی۔ جان آپ اس حوالے سے اچھی طرح جانتے ہیں۔

ٹھیک ہے۔ یہ لوگ جو بھی ہیں۔ میں روشنیوں میں آپ کو نہیں دیکھ سکتا، مگر آپ ان دونوں جیسے دکھائی نہیں دیتے۔ جی بات کیجیے، یقیناً، بات کیجیے۔

سوال: شکریہ جناب صدر، سب سے پہلے میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں۔

صدر: بہت شکریہ، میں اس کی قدر کرتا ہوں۔

سوال: کیا آپ امن معاہدے کے مسئلے پر بات کر سکتے ہیں؟ مزید یہ کہ کیا آپ جلد پیانگ یانگ کا دورہ کریں گے؟

صدر: کسی خاص وقت پر میں یہ دورہ ضرور کروں گا۔ میں نے کہا کہ ایسا دن آئے گا اور میں کسی خاص وقت پر چیئرمین کم کو وائٹ ہاؤس میں بھی مدعو کروں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت اہم بات ہو گی۔ انہوں نے میری دعوت قبول کی ہے۔ میں نے کہا کہ مناسب وقت پر۔ پہلے ہم اس سمت میں کچھ مزید پیش رفت کریں گے۔

تاہم آج ہم نے جس اعلامیے پر دستخط کیے اس میں بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس میں شامل نہیں تھیں اور ہم نے معاہدے پر دستخط کے بعد انہیں شامل کیا۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلے بھی ایسا کیا ہے۔ ہم نے اسے معاہدے میں شامل نہیں کیا کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں تھا۔ میرا خیال ہے کہ آپ میں بیشتر لوگوں کو معاہدہ مل گیا ہو گا یا جلد مل جائے گا۔ مگر میں ۔۔۔۔

سوال: (ناقابل سماعت)

صدر: اوہ، آپ کے پاس نہیں ہے؟ ٹھیک ہے، ہم نے کچھ ہی دیر پہلے ان پر دستخط کیے ہیں۔ اگر آپ کے پاس یہ معاہدے ہوں تو انہیں دیکھیے، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں۔

جی جناب، بات کیجیے۔

سوال: جناب صدر، میں بھی آپ کو مبارک باد دوں گا۔

صدر: شکریہ

سوال: جاپان نے کیا کردار ادا کیا اور کیا اغوا کے معاملے پر بھی بات ہوئی؟

صدر: جی

سوال: اور عیسائیوں کی قسمت پر بھی؟

صدر: جی

سوال: میرا اگلا سوال یہ ہے کہ آپ جاپانی ٹی وی کو کب انٹرویو دیں گے؟ امریکہ کے پچاس ہزار فوجی جاپان میں ہیں۔ ایک مرتبہ پھر مبارک باد۔

صدر: یہ بات درست ہے، پچاس ہزار فوجی۔ یہ درست ہے۔ جی ہاں، اغوا کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔ یہ جوہری اسلحے کے خاتمے کے علاوہ وزیراعظم ایبے کا ایک اہم نکتہ تھا۔ میں نے ملاقات میں اس پر بھی بات کی۔ یقیناً، وہ اس پر کام کریں گے۔ ہم نے دستاویز میں اس کا تذکرہ نہیں کیا مگر اس پر کام ہو گا۔

سوال: (ناقابل سماعت)

صدر: عیسائی، جی ہاں۔ ہم نے نہایت زوردار طریقے سے بات کی۔ آپ جانتے ہیں فرینکلن گراہم نے شمالی کوریا میں بہت سا وقت بتایا ہے۔ بات چیت میں یہ معاملہ اٹھایا گیا اور اس پر بات بھی ہو گی۔ ٹھیک؟ شکریہ۔ آپ نے بہت اچھا سوال کیا۔ جی جان، بات کیجیے۔

سوال: شکریہ جناب صدر۔

صدر: شکریہ جان۔

سوال: میں انسانی حقوق کے مسئلے سے متعلق سوال کی جانب واپس آؤں گا۔ آپ نے نے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اس مسئلے پر زور دار انداز میں بات کی تھی۔ اس موقع پر بیساکھیوں کے سہارے چلنے والا شمالی کوریا کا ایک منحرف بھی موجود تھا۔ اس موقع پر آپ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا نے کرہ ارض پر کسی بھی دوسری حکومت سے زیادہ وحشیانہ طور سے اپنے لوگوں کو جبر کا نشانہ بنایا ہے۔ کیا آپ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کم جانگ ان کے ساتھ اس پر بات ہو سکتی ہے اور کیا وہ صورتحال میں تبدیلی لانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟

صدر: جان، میں سمجھتا ہوں کہ وہاں انسانی حقوق کی صورتحال اچھی نہیں ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ ہم نے آج قدرے زوردار طریقے سے اس پر بات کی۔ میرا مطلب ہے کہ ہمارا بنیادی مقصد جوہری اسلحے کا خاتمہ تھا۔ مگر ہم نے اس معاملے پر بھی اچھی طرح بات چیت کی۔ ہم اس پر مزید کام کریں گے۔ وہاں انسانی حقوق کی صورتحال اچھی نہیں ہے۔ بہت سی جگہوں پر حالات خراب ہیں۔ صرف شمالی کوریا پر ہی موقوف نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بالاآخر ہم بہت سی چیزوں پر اتفاق کر لیں گے۔ تاہم میں آپ کے جواب میں یہ کہوں گا کہ جوہری صورتحال جیسے بنیادی موضوعات کے علاوہ انسانی حقوق کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔

سوال: مگر کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے جس عظیم الشان نئے دور کی بات کی اس میں یہ صورتحال تبدیل ہونی چاہیے؟ کیا وہ ایسا کریں گے کہ ۔۔۔۔

صدر: میں سمجھتا ہوں کہ اس صورت حال میں تبدیلی آئے گی۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ سٹیو، آپ سٹیو ہیں؟ وہاں۔

سوال: جی جناب، آپ کے خیال میں جوہری اسلحے کے خاتمے کا عمل کب تک مکمل ہو جائے گا؟ اسی دوران کیا آپ پابندیوں میں نرمی لانے پر بھی غور کر رہے ہیں؟

صدر: سائنسی اعتبار سے دیکھا جائے تو میں اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہوں اور جوہری اسلحے کے مکمل خاتمے میں طویل وقت درکار ہوتا ہے۔ اس میں کافی وقت لگتا ہے۔ سائنسی طور پر دیکھیں تو آپ کو مخصوص وقت تک انتظار کرنا پڑتا ہے اور اس میں بہت سی چیزیں ہوتی ہیں۔ مگر اس کے باوجود جب ایک مرتبہ آپ یہ عمل شروع کر دیتے ہیں تو سمجھ لیں کہ بڑی حد تک اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ تب آپ اس اسلحے کو استعمال نہیں کر سکتے۔ یہ ایک اچھی خبر ہے۔ یہ عمل بہت جلد شروع ہونا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت جلد شروع ہو جائے گا۔ ہم تکنیکی اور مادی طور پر اسے ہر ممکن حد تک جلد نمٹانے کی کوشش کریں گے۔

سوال: اور پابندیوں کے حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں؟

صدر: جب ہمیں یہ یقین ہو جائے گا کہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کا معاملہ حل ہو گیا ہے تو پابندیاں ہٹا لی جائیں گی۔ پابندیوں نے اس معاملے میں بڑا اہم کردار ادا کیا مگر ایک مقام پر ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ ایسا بہت جلد ہو گا مگر بہرحال ان کا خاتمہ ہونا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا ہے، اس وقت پابندیاں برقرار ہیں۔ مگر میں ایک خاص موقع پر انہیں اٹھانے کی بابت سوچ رہا ہوں۔ جب ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہماری سمت درست ہے تو پھر یہ پابندیاں ہٹ جائیں گی۔ ٹھیک ہے؟

جی بات کیجیے۔

سوال: شکریہ جناب صدر۔

صدر:: شکریہ

سوال: اس تاریخی ملاقات پر مبارک باد۔

صدر: آپ کا بے حد شکریہ۔ ویسے سبھی کومبارک باد۔ سبھی کو مبارک ہو۔ بات کیجیے۔

سوال: آپ نے کم جانگ ان کے ساتھ ایک دستاویز پر دستخط کیے۔ لازمی طور سے یہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ گزشتہ روز وزیرخارجہ مائیک پومپئو نے ہمیں بریفنگ دی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ ‘قبل ازیں بہت سے صدور نے کاغذ کے ٹکڑوں پر دستخط کیے جس کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ شمالی کوریا والوں نے یا تو حسب توقع وعدے ہی نہ کیے اور اگر کیے تو ان سے پھر گئے۔ جناب صدر، اس مرتبہ صورتحال مختلف کیسے ہو گی؟

صدر: اب آپ کی انتظامیہ مختلف ہے۔ اب آپ کا صدر اور وزیرخارجہ کوئی اور ہے۔ اب آپ کے پاس ایسے لوگ ہیں جن کے لیے یہ سب کچھ بے حد اہم ہے۔ چنانچہ ہم کر گزرے ہیں۔ دوسروں کے لیے شاید یہ ترجیحی مسئلہ نہیں تھا۔ ویسے میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ ان کے لیے ترجیحی مسئلہ بھی ہوتا تو تب بھی وہ اسے حل نہ کر پاتے۔ میں نہیں سمجھتا کہ انہوں نے اس کی ترجیحی حیثیت ہوتے ہوئے بھی اس سمت میں دیانت داری سے کام کیا تھا۔

اس دور میں اس مسئلے کو حل کرنا کہیں زیادہ آسان تھا۔ اگر ہم دس یا پانچ سال پہلے یہ کام کر رہے ہوتے تو میرے لیے یہ بےحد آسان ہوتا۔ میں صرف صدر اوبامہ کو الزام نہیں دے رہا۔ میرا مطلب ہے کہ یہ کام 25 سال پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ مجھے بہت کڑا مرحلہ عبور کرنا پڑا۔ مجھے ایرانی معاہدے سمیت بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ مگر ہم بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ جہاں تک ایرانی معاہدے کا معاملہ ہے تو میں دیانت داری سے کہوں گا کہ میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ جوہری مسئلہ میرےلیے ترجیحی حیثیت رکھتا ہے۔ جوہری مسئلہ نمبر ون ہے۔

تاہم ایرانی معاہدے کے حوالے سے میں یہ کہوں گا ک ایران تین یا چار ماہ پہلے کے مقابلے میں اب مختلف ملک ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اب وہ بحیرہ روم کے خطے کی جانب اتنا زیادہ دیکھ رہے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اب بھی وہ شام میں پہلے کی طرح پورے اعتماد سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اب انہیں اتنا اعتماد ے۔

مجھے امید ہے کہ ان کڑی ترین پابندیوں کے ہوتے ہوئے کسی موقع پر وہ واپس آئیں گے اور ایک حقیقی معاہدہ کریں گے کیونکہ مجھے پسند ہے کہ میں ایسا کروں۔ تاہم ابھی اس میں کچھ وقت لگے گا۔

جی۔

سوال: جناب صدر، آپ نے سفارتی تعلقات قائم کرنے اور سفیروں کے تبادلے کی بات بھی نہیں کی۔ اس میں کتنی دیر لگے گی؟

صدر: اچھا سوال ہے۔ امید ہے ایسا جلد ہو جائے گا۔ مگر پہلے ہمیں بہت سے معاملات آگے بڑھانا ہوں گے۔ ابھی فوری طور پر ایسا نہیں ہو گا۔ ہمیں بہت سے کام کرنا ہیں۔

جی بات کیجیے، ہیلو

سوال: کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں کہ جب آپ نے کہا کہ آپ ‘جنگی کھیل’ ختم کر رہے ہیں تو کیا آپ کی مراد جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں کے خاتمے سے ہے؟

صدر: جی، ہم نے طویل عرصہ تک جنوبی کوریا کے ساتھ مشقیں کی ہیں۔ ہم انہیں ‘جنگی کھیل’ کہتے ہیں اور میں بھی انہیں یہی کہتا ہوں۔ ان پر بہت بھاری اخراجات اٹھتے ہیں۔ ہم ان پر بہت بڑی رقم خرچ کرتے ہیں۔ جنوبی کوریا بھی اس میں حصہ ڈالتا ہے مگر یہ سو فیصد نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس موضوع پر بھی ہمیں ان سے بات کرنا ہے۔ اس میں فوجی اخراجات اور تجارت پر بھی بات ہو گی۔

چنانچہ ہم یہ کام کر رہے ہیں۔ اب تجارتی حوالے سے ہمارا جنوبی کوریا کے ساتھ نیا معاہدہ ہے، مگر ہمیں ان سے بات کرنا ہے۔ ہمیں بہت سے ممالک سے بات کرنا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ منصفانہ سلوک کریں۔

تاہم جنگی کھیل بہت مہنگے پڑتے ہیں۔ ان کے بیشتر اخراجات ہمیں اٹھانا پڑتے ہیں۔ ہمارے بمبار جہاز گوام سے اڑتے ہیں۔ میں نے آغاز میں کہا تھا کہ ‘بمبار کہاں سے آتے ہیں؟ قریب ہی، گوام سے۔ میں نے کہا، زبردست، قریب سے۔ یہ قریب کہاں ہے؟ ساڑھے چھ گھنٹے کےفاصلے پر۔ ساڑھے چھ گھنٹے۔ یہ ان بہت بڑے جہازوں کے لیے طویل دورانیہ ہے جو مشقوں کے لیے جنوبی کوریا آتے ہیں اور پھر بم گرا کر واپس گوام چلے جاتے ہیں۔ میں جہازوں کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں۔ یہ کام بہت مہنگا پڑتا ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں ہے۔

میں نے جو بات کہی وہ بے حد فائدہ مند ہے، جینیفر مجھے آپ کو بتانا ہے کہ یہ نہایت اشتعال انگیز صورتحال ہے، چنانچہ ایسے حالات میں جب ہم ایک نہایت جامع اور مکمل معاہدہ کر رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسے میں جنگی مشقیں کرنا غیرمناسب ہو گا۔ چنانچہ پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں بہت سی رقم بچانا ہے اور دوسری یہ کہ میرے خیال میں یہ ایک ایسا اقدام ہو گا جسے وہ بے حد سراہیں گے۔

سوال: کیا شمالی کوریا نے اس کے بدلے میں آپ کو کچھ دیا ہے؟

صدر ٹرمپ: آپ جانتے ہیں کہ ہم یہ حاصل کر چکے ہیں، میں نے یہ سنا ہے۔ میرا مطلب ہے بعض لوگ، میں نہیں جانتا، شاید ان کے لیے واقعی اس کی اہمیت ہو۔ میں ہمیشہ میڈیا کے خلاف نہیں جانا چاہتا کیونکہ خاص طور پر آج یہ بہت اہم معاملہ ہے۔ مگر میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ صدر نے ملاقات پر رضامندی ظاہر کی، انہوں نے بہت کچھ دیا ہے۔ حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ میں یہاں موجود ہوں۔ میں 25 گھنٹے سے جاگ رہا ہوں۔ مگر میں نے سوچا کہ ایسا کرنا مناسب ہے کیونکہ ہم واقعتاً چوبیس گھنٹے ان سے مذاکرات کر رہے ہیں اور ہمارے ساتھ جان، مائیک اور بہت سے باصلاحیت لوگوں کی پوری ٹیم موجود ہے۔

مگر ایسا نہیں کہ ہم نے سب کچھ انہیں دے دیا ہو، آپ درست کہتے ہیں، میں نے ملاقات پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ملاقات امریکہ کے لیے بھی اتنی ہی مفید تھی جتنی شمالی کوریا کے لیے ہے۔ اس سے ہمیں جو کچھ حاصل ہوا وہ میں نے کچھ ہی دیر پہلے لکھا ہے۔ یقیناً انہیں ملاقات کا موقع ملا، مگر ڈونلڈ ٹرمپ سے نفرت کرنے والا کوئی شخص ہی یہ کہے گا کہ میں نے کسی بڑے وعدے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ چنانچہ میں نے وقفہ لینے پر رضامندی ظاہر کی اور یہاں آ کر ان سے ملا۔ یہ اچھی بات ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ بحیثیت ملک ہمارے لیے بھی بہتر ہے اور ان کے لیے بھی مفید ہے۔

مگر انہوں نے اس ملاقات کو قابل جواز بنانے کے لیے کیا کیا؟ جوہری اسلحے کے مکمل خاتمے کا وعدہ۔ یہ بڑی بات ہے۔ انہوں نے تین امریکی یرغمالیوں کو رہا کیا۔ وہ دو ماہ پہلے ہی انہیں ہمارے حوالے کر چکے ہیں۔ اب یہ لوگ اپنے گھروں میں اہلخانہ کے ساتھ خوشی سے زندگی گزار رہے ہیں۔

ہم نے ان سے باقیات کی واپسی کا وعدہ لیا، ان میں وہ لوگ ہیں جو جنگ میں مارے گئے۔ وہ وعدہ کر رہے ہیں، وہ اس کام کو فوری شروع کر رہے ہیں۔ میں نے ابھی بتایا کہ کتنے لوگوں نے مجھ سے اس بارے میں بات کی تھی۔ یہ حیران کن ہے۔ بہت سے لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ اس وقت ہمارے چیئرمین کم یا شمالی کوریا میں کسی کے ساتھ تعلقات نہیں تھے۔ آپ جانتے ہیں یہ بہت بند معاشرہ تھا۔ اب ہم ان باقیات کو واپس لا رہے ہیں۔

ہم نے ہر قسم کے میزائلوں اور جوہری اسلحے کے تجربات کو روکا، اسے کتنی دیر ہوئی ہے؟ سات ماہ؟ اتنے عرصہ سے کوئی میزائل نہیں چلایا گیا۔ سات ماہ سے کوئی جوہری تجربہ نہیں ہوا، کوئی جوہری دھماکا نہیں ہوا۔ مجھے یاد ہے رچر سکیل پر ایسے ایک دھماکے کی شدت 8.8 تھی۔ انہوں نے اس کا اعلان کیا، میں نے یہ ریڈیو پر سنا، انہوں نے اعلان کیا تھا، اس دھماکے سے ایشیا میں کہیں زلزلہ بھی آیا تھا۔ پھر بتایا گیا کہ یہ شمالی کوریا میں ہوا تھا۔ بعدازاں پتا چلا کہ یہ جوہری دھماکا تھا۔ میں نے آپ کو بتایا ہے کہ میں نے کبھی رچر سکیل پر اتنی شدت کے زلزلے کی بابت نہیں سنا۔

اگر آپ دیکھیں تو اس عرصے میں کوئی میزائل نہیں چلائے گئے۔ وہ اپنی میزائل تنصیبات کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہ کام ہو رہا ہے۔ اس کا معاہدے میں ذکر نہیں ہے۔ ہم آپ کو اس بارے میں درست تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے ہر قسم کے میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات روک دیے۔ انہوں نے جوہری تجربات کے مقام کو بند کر دیا۔ ایسی تین جگہیں ایک ہی علاقے میں ہیں۔ انہوں نے انہیں بند کرنے کا وعدہ کیا۔

انہوں نے میزائل انجن کے تجرباتی مقام کو تباہ کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ معاہدے میں شامل نہیں تھا۔ مجھے معاہدے پر دستخط کے بعد اس بارے میں بتایا گیا۔ میں نے کہا میرے لیے ایک کام کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ تنصیب کہاں واقع ہے، ہمیں حدت کے ذریعے اس کا اندازہ ہے۔ میں نے انہیں کہا کیا آپ اسے بند کر سکتے ہیں؟ وہ اسے بند کر رہے ہیں۔ ہم نے پابندیوں کا اطلاق جاری رکھنے کی اہلیت برقرار رکھی ہے۔ چنانچہ ہم ان پر پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے میں 300 پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار تھا۔ میں نے کہا ملاقات کے موقع پر میں پابندیاں عائد نہیں کر سکتا، یہ نہایت گستاخانہ بات ہو گی۔ تین سو بہت بڑی تعداد ہے اور یہ نہایت کڑی پابندیاں ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ گستاخانہ اقدام ہو گا۔

چنانچہ جینیفر، جب آپ ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہیں تو بہت کچھ اندازہ ہوتا ہے۔ ہم اپنے یرغمالی واپس لائے، میں نے ایران سے ایسے یرغمالیوں کی واپسی کی طرح فی کس 1.8 ارب ڈالر ادا نہیں کیے جو کہ ہمارے لیے بے عزتی کا مقام تھا۔

چنانچہ ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ اسی لیے جب میں میڈیا والوں کو یہ کہتے سنتا اور دیکھتا ہوں کہ صدر ٹرمپ ملاقات کے لیے مان گئے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ناصرف اس معاملے پر بلکہ بہت سے دیگر معاملات پر بھی ملنا چاہیے۔ میں واقعی یہ سمجھتا ہوں کہ ہم بہت سے بڑے کام کر سکتے ہیں۔ جی بات کیجیے۔

سوال: آپ نے ابھی ان چیزوں کی فہرست گنوائی جو آپ نے اس ملاقات میں حاصل کی ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے آپ نے کہا تھا کہ ملاقات کو اسی صورت میں کامیاب کہا جائے گا جب شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دے گا۔

صدر ٹرمپ: وہ لوگ یہی کچھ کر رہے ہیں۔

سوال: کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کیسے ۔۔۔

صدر ٹرمپ: یقیناً، وہ یہی کچھ کر رہے ہیں، میرا مطلب ہے کہ میں نہیں سمجھتا ۔۔۔۔

سوال: ۔۔۔ آپ نے کم جانگ ان کو مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ طور سے جوہری اسلحے کے خاتمے پر کیسے مجبور کیا؟

صدر ٹرمپ: جی، میں نے ایسا کیا، دیانت دارانہ طور سے کہا جائے تو ۔۔۔

سوال: کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے معاہدے میں ایسی تفصیلات کیوں نہیں ڈالیں؟

صدر ٹرمپ: اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس وقت نہیں تھا۔ میں یہاں ایک دن کے لیے ہی آیا ہوں۔ ہم کئی گھنٹوں سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، مگر اب یہ عمل شروع ہو رہا ہے۔ مائیک اگر وہ پہلے ہی یہ کام شروع نہیں کر چکے تو مجھے حیرت ہو گی۔ انہوں نے ان اقدامات پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی تنصیبات تباہ کر دی ہیں۔ انہوں نے اپنی تجرباتی تنصیب تباہ کر دی ہے۔

مگر میں کہوں گا کہ یہاں آنے سے پہلے وہ جانتے تھے کہ یہ حیران کن بات نہیں ہو گی۔ ایسا نہیں تھا کہ ہم نے اس پر پہلے بات ہی نہ کی ہو۔ ہم نے اس پر بات کی تھی۔ مائیک نے اپنے شمالی کوریائی ہم منصب کے ساتھ اس پر بھرپور بات کی تھی۔ اس حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں تھا کہ جس پر دستخط کیے جاتے۔ تو وہ یہ بات جانتے تھے۔ مزید یہ کہ آج یہ کوئی بڑا نکتہ نہیں تھا کیونکہ کسی بھی شے سے زیادہ اس پر توجہ دی گئی۔ کیونکہ یہی اصل معاملہ ہے۔ یہ کام ہمارے یہاں آنے سے پہلے ہوا۔ چنانچہ جب ہم یہاں آئے تو، آپ نے اعلامیے کی زبان کامشاہدہ کیا ہو گا۔ یہ دستاویز نہایت موثر ہے۔ جی میڈم۔

سوال: شکریہ جناب صدر، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اگر شمالی کوریا ان وعدوں پر پورا نہیں اترتا تو اس کے عسکری نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ کیا ایسی صورتحال میں فوجی کارروائی کی جائے گی؟

صدر: میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ میں جانتا ہوں اس پر بات کرنا مشکل ہے کیونکہ میں دھمکی نہیں دینا چاہتا۔ میں دھمکانا نہیں چاہتا۔ وہ یہ بات سمجھتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔

آپ جانتی ہیں کہ سیئول میں 28 ملین لوگ رہتے ہیں۔ ہمارے پاس بڑے بڑے شہر ہیں۔ آپ جانتی ہیں کہ نیویارک کی آبادی 8 ملین ہے۔ سیول میں 28 ملین ہیں۔ ذرا سوچیے، اور یہ سرحد کے بالکل قریب ہے۔ یہ غیرفوجی علاقے کے قریب واقع ہے۔ میرا مطلب ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو لاکھوں لوگ متاثر ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ جنگ کی صورت میں 20 سے 30 ملین لوگوں کی جانیں جائیں گی۔ یہ سب کچھ کرنا میرے لیے واقعتاً اعزاز ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جنگ کی صورت میں ممکنہ طور پر تیس، چالیس یا پچاس ملین لوگوں کی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہونے والا سیئول سرحد کے ساتھ ہی واقع ہے۔

سوال: ایک مرتبہ آپ نے آگ اور دہشت کا تذکرہ کیا تھا۔ کیا اب یہ صورتحال نہیں رہی؟

صدر: اس وقت شاید ہمیں اس کی ضرورت تھی۔ کیونکہ ہم امریکی نکتہ نگاہ سے کسی کو ایسی اہلیت کا حامل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے۔ یقیناً جاپان بھی ایسا نہیں چاہتا تھا، جاپان شمالی کوریا کا ہمسایہ ہے۔

سوال: جناب صدر، ایک اور بات، کیا آپ ہمیں اس ویڈیو کی بابت بتا سکتے ہیں جو آپ نے اس سے پہلے دکھائی؟

صدر: جی

سوال: آپ نے کم کو یہ ویڈیو کب دکھائی؟ اس کا مقصد کیا تھا؟

صدر: آج، جی ہاں، مجھے امید ہے کہ آپ نے اسے پسند کیا ہو گا۔ میرے خیال میں یہ بہت اچھی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسے دکھانا دلچسپی سے خالی نہیں تھا۔ ان میں ایک انگریزی اور دوسری کوریائی زبان میں تھی۔ میں نے آج یہ ویڈیو کم کو دکھائی، ملاقات میں، ملاقات کے آخری حصے میں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں یہ پسند آئی۔ ان کے قریباً آٹھ نمائندے بھی یہ ویڈیو دیکھ رہے تھے اور یہ سب کچھ ان کے لیے نہایت مسحور کن تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ سب کچھ بہت اچھے انداز میں ہوا۔ میں نے اسے اس لیے دکھایا کہ یہی مستقبل ہے۔ میرا مطلب ہے کہ مستقبل ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ دوسرا متبادل کوئی اچھا متبادل نہیں ہے۔ میں نے اسے اس لیے دکھایا کہ کیونک میں واقعتاً یہ چاہتا ہوں کہ وہ کچھ کریں۔ میرا خیال ہے کہ وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

سٹیٹن جزیرے کی کشتی کیا کر رہی ہے؟ ٹھیک ہے؟ انہوں نے سٹیٹن جزیرے کی کشتی کے ساتھ میرے لیے بہترین کہانی لکھی۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی اچھی کہانی نہیں لکھی۔

سوال: جناب یہ بہت پرانی بات ہے۔

صدر: میں نہیں جانتا کہ کیا ہوا۔ یہ بہت پرانی بات ہے۔

سوال: جناب صدر، آپ کے لیے عالمی سطح پر یہ ہفتہ نہایت مصروف گزرا۔ آپ یہ طے کر کے سنگاپور سے جا رہے ہیں کہ کم جانگ ان ایک باصلاحیت انسان ہیں۔ آپ چند روز قبل کینیڈا میں جی7 کانفرنس سے اس سوچ کے ساتھ واپس ہوئے تھے کہ وزیراعظم ٹروڈو کمزور اور بددیانت ہیں۔ آپ امریکی اتحادیوں کے بارے میں کیا کہیں گے جنہیں تشویش ہے کہ آپ ان دیرینہ اتحادوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور جنہیں خدشہ ہے کہ آپ ہمارے پرانے دوستوں کے ساتھ دشمنوں کا سا سلوک کر سکتے ہیں اور ہمارے دیرینہ دشمنوں کو دوست بنا سکتے ہیں؟

صدر: سب سے پہلی بات یہ کہ آپ نے بہت جائز سوال کیا۔ میری جی7 ممالک کے سربراہوں سے بہت اچھی ملاقات رہی۔ اگر دیانت دارانہ بات کی جائے تو ان میں سے ہر ملک نے ہم سے فائدہ اٹھایا ہے۔ میں نہایت سنجیدگی سے یہ بات کہہ رہا ہوں۔ امریکہ میں اعلیٰ سطح پر بدانتظامی کے سبب اور ماضی کے صدور کی جانب سے تجارتی حوالے سے لاپروائی یا دیگر وجوہ کی بنا پر ایسا ہوا۔ گزشتہ کئی سال سے چین کے بعد ہم نے یورپی ممالک کے ہاتھوں 151 ارب ڈالر گنوائے۔ یہ تمام ممالک اس اجلاس میں موجود تھے۔ تجارتی میدان میں ہم سے فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔

اگر تجارتی خسارے کی بات ہو تو کینیڈا کو ہم پر بہت بڑی برتری حاصل ہے۔ کینیڈا کے ساتھ دیکھا جائے تو ہمارا تجارتی خسارہ بہت بڑا ہے۔ میں پڑھ رہا تھا، اوہ یہ دراصل بچت ہے۔ نہیں بچت نہیں۔ ممکن ہے یہ 17 ہو مگر اصل میں یہ 100 بھی ہو سکتا ہے۔ آپ جانتے ہیں انہوں نے ایک دستاویز جاری کی۔ میں نہیں جانتا کہ آیا یہ آپ کی نظر سے گزری ہے یا نہیں۔ وہ اسے مجھ سے چھپانا چاہتے تھے مگر میں نے اسے دیکھ لیا۔ شاید وہ اپنی طاقت دکھانا چاہتے تھے۔ یہ 100 بلین ڈالر سالانہ کے قریب ہے جو ہم کینیڈا کے ساتھ تجارت میں گنوا رہے ہیں۔

ان میں متعدد ملک ہماری زرعی پیداوار نہیں لیتے۔ وہ اس پر 270 فیصد وصول کرتے ہیں، مگر اگلے دن کسی نے مجھے بتایا کہ چند ماہ قبل ڈیری مصنوعات کے حوالے سے وہ اسے 295 فیصد تک لے گئے ہیں ۔ یہ ہمارے کسانوں کے لیے نہایت غیرمنصفانہ بات ہے اور یہ ہمارے لوگوں، ہمارے کارکنوں، کسانوں اور کمپنیوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ ہم تجارت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بہت بڑی رکاوٹیں عائد کر دی ہیں۔ انہوں نے بہت سے ٹیرف لگا دیے ہیں۔

چنانچہ جب میں نے اس صورتحال کو متوازن بنانے کی بات کی تو انہوں نے کہا ‘اوہ یہ بہت خوفناک ہے’ میں نے کہا ‘خوفناک کیا ہے؟’ ہم اس میں قدرے توازن چاہتے ہیں، خواہ یہ پورا نہ ہو مگر کچھ تو ہو۔ میں نے بہت سے ممالک سے یہی بات کہی۔

بہرحال ہم نے ملاقات ختم کی اور آ گئے۔ واقعتاً ہر شخص خوش تھا اور میں نے اعلامیے پر دستخط کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ میں نے اس میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا اور یہ کر دی گئیں۔ انجیلا مرکل کے ساتھ وہ تصویر جس میں میں کچھ اس انداز میں بیٹھا دکھائی دیتا ہوں دراصل اس وقت کی ہے جب ہم دستاویز کی تیاری کے منتظر تھے کیونکہ میں واپسی سے قبل یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آیا حتمی دستاویز میں وہ تمام تبدیلیاں کر دی گئی ہیں یا نہیں۔

یہ نہایت دوستانہ ماحول تھا، میں جانتا ہوں کہ دیکھنے میں ایسا نہیں لگتا اور میں جانتا ہوں کہ اس بارے میں غلیظ انداز میں رپورٹنگ کی گئی۔ یوں ظاہر کیا گیا کہ جیسے مجھے ان پر یا انہیں مجھ پر غصہ تھا۔ مگر بات یہ ہے کہ ہم گفت و شنید کر رہے تھے۔ اس وقت پورا گروپ کسی ایسی چیز پر محو گفتگو تھا جس کا اس تمام معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ہم نہایت دوستانہ انداز میں بات کر رہے تھے اور میں اس دستاویز کا منتظر تھا تاکہ واپسی سے پہلے اسے پڑھ سکوں۔

بہرحال میں چلا آیا اور یہ سب کچھ بھی نہایت دوستانہ انداز میں ہوا۔ جب میں جہاز میں آیا تو میں نے سوچا کہ شاید جسٹن کو اندازہ نہیں ہے کہ ایئرفورس ون میں قریباً 20 ٹیلی ویژن سکرینیں ہیں اور میں نے ٹی وی دیکھنا شروع کر دیا۔ وہ پریس کانفرنس کر رہے تھے جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی دباؤ قبول نہیں کریں گے۔ کیا ان پر دباؤ ڈالنے کی بات کی گئی؟ ہم نے صرف ہاتھ ہلائے اور یہ سب کچھ بے حد دوستانہ انداز میں ہوا۔

دیکھیے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرے ممالک تجارتی میدان میں ہم سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔ گزشتہ چند برس میں اور طویل عرسہ سے ہمارے ملک نے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت میں 800 ارب ڈالر گنوائے ہیں۔ ہمیں سب سے زیادہ نقصان چین کے ساتھ تجارت سے ہوا۔ 800 ارب ڈالر۔ ان میں 151 ارب ڈالر یورپی یونین کے ساتھ تجارت میں ضائع ہوئے۔ وہ ہماری زرعی پیداوار نہیں لیتے۔ وہ ہم سے بہت کچھ نہیں لیتے اور پھر مرسیڈیز بھی ہمارے ہاں بھیجتے ہیں، وہ بڑی تعداد میں بی ایم ڈبلیو بھیجتے ہیں۔ یہ ہمارے کارکنوں کے لیے نہایت غیر منصفانہ بات ہے۔ میں اسے بلاکم و کاست بیان کر رہا ہوں۔ ٹھیک ہے؟ شکریہ۔

بات کیجیے۔

سوال: (ناقابل سماعت)

صدر: جی میں کانگریس کو بھی اس میں شامل کرنا چاہوں گا۔ جسٹن ٹروڈو کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں۔ واقعتاً ایسا ہی ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس اس لیے کی کیونکہ انہوں نے فرض کیا کہ میں جہاز میں ہوں اور انہیں نہیں دیکھ رہا۔ انہوں نے اس سے سیکھا۔ اس سے کینیڈا کے لوگوں کو بہت سی رقم ادا کرنا پڑے گی۔ انہوں نے سیکھا، آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔

ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مزاح کیا۔ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ میرے جسٹن کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ میرا سبھی سے بہت اچھا تعلق ہے۔ میرے انجیلا مرکل کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ تاہم نیٹو میں ہم 4.2 فیصد دے رہے ہیں۔ وہ ایک فیصد دے رہی ہیں جو ہماری نسبت ان کے جی ڈی پی کا بہت کم حصہ ہے۔ ہم 4.2 فیصد دے رہے ہیں جو بہت بڑی رقم ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں یہ نیٹو کے بجٹ کا 40 سے 60 فیصد بنتا ہے۔ ہم یورپی ممالک کا تحفظ کر رہے ہیں۔ اس کے بدلے میں وہ تجارتی میدان میں ہمیں مار رہے ہیں۔ چنانچہ یہ سب کچھ ایسے نہیں چل سکتا۔ یہ ہمارے ٹیکس دہندگان کے ساتھ ناانصافی ہے۔

مگر میں کہوں گا کہ جسٹن کے ساتھ ہمارے بہت اچھ تعلقات ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت چیئرمین کم کے ساتھ ہمارا بہت اچھا تعلق ہے۔ مجھے اس تعلق بارے اچھائی کی امید ہے کیونکہ ہم بہت بڑا مسئلہ حل کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج ہم نے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بہت سا سفر طے کیا ہے۔ سارا، کیا ہمیں کچھ دیر یہ بات چیت جاری رکھنی چاہیے؟ سارا؟ میں نہیں جانتا، یہ افسانوی شخصیت ساراہ ہکابی سینڈرز پر منحصر ہے۔ سارا کیا ہمیں بات چیت جاری رکھنی چاہیے؟ ٹھیک ہے۔ مجھے پروا نہیں۔ کیا آپ کو علم ہے کہ اس سے یہ ہو گا کہ ہم شام کو قدرے تاخیر سے واپس پہنچیں گے۔ ٹھیک؟

جی بات کیجیے، یقیناً، بات کیجیے۔

سوال: جناب صدر

صدر: آپ کیسے ہیں؟

سوال: میں ٹھیک ہوں۔

صدر: آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔

سوال: میرا تعلق سنگاپور کے سٹریٹس ٹائمز سے ہے۔ ہمارے ملک میں خوش آمدید۔

صدر: آپ کا بے حد شکریہ۔

سوال: مجھے امید ہے کہ آپ کو ہمارے کھانے پسند آئے ہوں گے۔

صدر: یہ خوبصورت ملک ہے، یقیناً

سوال: آپ نے اس تمام صورتحال کو ایک باقاعدہ عمل قرار دیا ہے۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ اس حوالے سے آپ کا اگلا اقدام کیا ہو گا؟ کیا مزید بات چیت ۔۔۔۔

صدر: جی ہاں، ہم اس کی تفصیلات طے کرنے کے لیے اگلے ہفتے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

سوال: اور یہ (ناقابل سماعت)

صدر: وزیرخارجہ پومپئو۔ جی ہاں، اگلے ہفتے وہ جان بولٹن اور ہماری پوری ٹیم کے ساتھ وہاں جا کر تفصیلات طے کریں گے۔ ہم اور وہ یہ سب کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں۔ ہم جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہے ہیں۔ ہم جاپان سے بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ ہم کسی حد تک چین کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور اسے ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔

سوال: کیا آپ سنگاپور واپس آ رہے ہیں؟

صدر: مجھے واپس آ کر خوشی ہو گی۔ آپ کے وزیراعظم بہت شاندار ہیں۔ ہم کل ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے بہت بڑا کام کیا۔ اس سے غالباً فرق پڑا۔ یہ بہت زبردست جگہ ہے۔ آپ کا بے حد شکریہ۔

سوال: جناب صدر، آپ کا شکریہ

صدر: جی میڈم

سوال: شکریہ جناب صدر، آج صبح چیئرمین کم کے ساتھ ملاقات میں ابتداً وہ کون سی بات تھی جسے دیکھ کر آپ نے واپس نہ ہونے کا فیصلہ کیا، کیونکہ آپ نے کہا تھا کہ آپ کو ایک منٹ میں ہی معلوم ہو جائے گا کہ وہ سنجیدہ ہیں یا نہیں؟

صدر: جی۔ میں نے تعلقات کے حوالے سے بات کی تھی۔ میں نے لوگوں کے بارے میں بات کی۔ آپ پہلے ہی لمحے جان لیتے ہیں۔ چلیں میں فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ پانچ لمحوں میں۔ مگر بعض اوقات آپ کو پہلے ہی لمحے معلوم ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسا نہیں ہوتا، مگر بسا اوقات ایسا ہو جاتا ہے۔

ہم ابتدا ہی سے اکٹھے تھے، اس سلسلے میں کافی کام ہوا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ ہم ملے اور بات شروع کی۔ ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے اس ملاقات میں ہی ان پیچیدہ مسائل پر بات چیت کا آغاز کیا ہو جو 70 سال سے چلے آ رہے ہیں۔ ہم کئی مہینوں سے اس پر بات کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک بہت بڑا کام کیا، انہوں نے اولمپک میں شرکت کر کے بڑا کام کیا تھا۔ صدر مون آپ کو بتائیں گے کہ اولمپک کے حوالے سے اچھا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ ایسے میں لوگوں کو یوں محسوس ہوا کہ افتتاحی تقریب پر بمباری ہو جائے گی۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ ٹکٹیں فروخت نہیں کر رہے تھے۔ جونہی چیئرمین کم نے اولمپکس میں شرکت کی بات کی تو یہ ٹکٹیں جنگلی آگ کی طرح تیزی سے بکیں اور یہ اولمپکس کے حوالے سے بڑی کامیابی تھی۔ یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے بہت بڑا کام کیا۔

اس کے بعد جنوبی کوریا کا ایک وفد شمالی کوریا والوں سے ملا۔ وہ وائٹ ہاؤس آئے۔ انہوں نے مجھے بہت سے باتیں بتائیں جن میں یہ بھی شامل تھی کہ وہ جوہری اسلحے کے خاتمے پر تیار ہیں۔ ان میں سے ایک عظیم آدمی آج یہاں موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جوہری ہتھیار ختم کرنے کو تیار ہیں۔ ہم اولمپکس کے اختتام سے اس پر بات کر رہے ہیں جب ان کے وفد نے آ کر بہت سی باتیں کہیں جن میں جوہری اسلحے کا خاتمہ بھی شامل تھا۔

سوال: اگر دوسرا سوال پوچھنے کی اجازت ہو تو مجھے یہ کہنا ہے کہ آپ نے آج صبح جس دستاویز پر دستخط کیے، اس میں شمالی کوریا نے جوہری اسلحے کے خاتمے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جیسا کہ آپ اپنے پیشروؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں اسی طرح مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آپ کو کیسے یقین ہے کہ شمالی کوریا محض باتیں ہی نہیں بنا رہا بلکہ عملی اقدام بھی اٹھائے گا؟

صدر: کیا آپ ہر بات کی ضمانت دے سکتے ہیں؟ کیا میں یہ ضمانت دے سکتا ہوں کہ آپ اپنی نشست پر درست طور سے بیٹھ سکیں گے؟ میرا مطلب ہے کہ آپ ہر معاملے پر پورے یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

میں یہی کچھ کرتا ہوں۔ میری تمام زندگی معاہدے کرتے ہی گزری ہے۔ میں نے یہ کام بہت اچھے طریقے سے کیا ہے اور میں یہی کچھ کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ کوئی فرد معاہدہ کرتا ہے اور کوئی نہیں کرتا۔ بہت سے سیاست دان ایسا نہیں کرتے۔ یہ ان کا نہیں بلکہ میرا معاملہ ہے۔

میں پھر کہوں گا کہ یہ کام بہت پہلے بہت اچھے طریقے سے ہو سکتا تھا۔ مگر میں اپنی جبلت ، اپنی اہلیت اور اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر جانتا ہوں کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور معاہدہ کرنا دنیا کے لیے بہت اچھا ہو گا۔ یہ چین کے لیے بھی بہت اچھی بات ہو گی کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ چین کو اپنے قریب کسی کے پاس جوہری ہتھیار دیکھ کر خوشی ہو گی۔ چنانچہ آپ جانتے ہیں کہ چین نے اس سلسلے میں بہت سی مدد دی۔

اسی لیے میرا خیال ہےکہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا کوئی شخص یقین سے کہہ سکتا ہے؟ مگر بہت جلد ہمیں یقین ہو جائے گا کیونکہ بات چیت جاری ہے، ٹھیک؟ آپ کا بے حد شکریہ۔

جی مزید بات کیجیے۔

آپ نے بتایا ہے کہ چیئرمین کم کے ساتھ انسانی حقوق کا معاملہ جامع طور سے زیربحث آیا۔

صدر: جی ہاں

سوال: آپ ان لوگوں سے سے کیا کہیں گے جو اس پریس کانفرنس کو دیکھنے اور سننے سے محروم ہیں۔ شمالی کوریا کے ایک لاکھ لوگ جبری مشقت کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے پیانگ یانگ حکومت کو تسلیم کر کے انہیں دھوکہ نہیں دیا؟

صدر: نہیں، میرا خیال ہے کہ میں نے ان کی مدد کی ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ معاملات تبدیل ہو جائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ میں نے ان کی مدد کی ہے۔ میں صرف وہی کچھ کر سکتا ہوں جو میرے بس میں ہے۔ ہمیں جوہری اسلحے کا خاتمہ کرنا ہے۔ ہم نے بہت سے دوسرے کام کرنا ہیں اور یہ نہایت اہم بات ہے۔ چنانچہ کسی خاص موقع پر امید ہے کہ آپ مجھ سے مزید تعمیری سوالات پوچھ سکیں گے۔

تاہم اس وقت میں زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ مجھے یقین ہے کہ ایک خاص موقع پر وہ اس حوالے سے کچھ کریں گے۔ میرا خیال ہے کہ آپ جن لوگوں کی بات کر رہے ہیں انہیں آج بہت بڑی فتح حاصل ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بالاآخر وہ مجموعی طور پر فاتح رہیں گے۔ جی جناب، بات کیجیے، جی

سوال: کیا آپ نے کبھی انسانی حقوق کی صورتحال میں نمایاں بہتری کے بغیر پابندیاں ہٹانے کی بابت سوچا؟

صدر: نہیں، میں نمایاں بہتری چاہتا ہوں۔ میں یہ یقین دہانی چاہتا ہوں کہ ایسا نہیں ہو گا۔ جب آپ نے یہ عمل شروع کر دیا ہے تو ایک موقع ایسا آئے گا جب اگرچہ کام مکمل نہیں ہوا ہو گا مگر آپ کے لیے واپسی ممکن نہیں ہو گی۔ اس نکتے پر پہنچ کر میں اس معاملے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دوں گا۔

جی، بات کیجیے، آپ پہلے بات کریں۔

سوال: جناب صدر، کیا آپ نے جوہری اسلحے کے خاتمے پر اٹھنے والے اخراجات کی بات بھی کی اور ایسی کڑی پابندیوں کے ہوتے ہوئے شمالی کوریا یہ اخراجات کیسے برداشت کرے گا؟ میں (ناقال سماعت) نیوز ایجنسی سنگاپور سے ہوں۔

صدر: جنوبی کوریا والوں کا اور میرا خیال ہے کہ اس سلسلے میں جاپان ان کی بھرپور مدد کرے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ وہ ان کی مدد کریں گے اور میرے خیال میں نہایت زبردست انداز میں کریں گے۔ ہمیں ان کی مدد نہیں کرنا۔ امریکہ پہلے ہی بہت سی جگہوں پر بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ مگر جنوبی کوریا اور جاپان ان کے ہمسایے ہیں جو ان کی مدد کریں گے۔ میرے خیال میں وہ نہایت فیاضانہ طرزعمل کا مظاہرہ کریں گے اور یہ بہت بڑا کام ہو گا۔ چنانچہ وہ ان کی مدد کریں گے۔

جی میڈم بات کیجیے، عقب میں، جی

سوال: شکریہ جناب صدر

صدر: شکریہ

سوال: میں سٹیو کے سوال کو آگے بڑھاؤں گی۔ انہوں نے آپ سے پوچھا ہے کہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے میں کتنا وقت درکار ہو گا؟ آپ نے بتایا کہ طویل وقت۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

صدر: میں نہیں جانتا کہ طویل وقت کتنا ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم سائنسی اور تکنیکی اعتبار سے ہر ممکن حد تک اسے جلد مکمل کریں گے۔ میں نہیں سمجھتا، میرا مطلب ہے کہ میں نے نے ڈراؤنی کہانیاں پڑھی ہیں کہ یہ پندرہ سالہ عمل ہوتا ہے۔ ٹھیک؟ میرا اندازہ ہے کہ آپ اس کی فوری تکمیل چاہتی ہیں، مگر میں ایسا نہیں سمجھتا۔ میرا خیال ہے کہ جس نے بھی یہ لکھا، غلط لکھا ہے۔ مگر جب آپ یہ کام 20 فیصد مکمل کر لیتے ہیں تو پھر واپسی ممکن نہیں ہوتی۔

میرے ایک چچا بہت بڑے پروفیسر تھے، میرا خیال ہے کہ انہوں نے چالیس برس ایم آئی ٹی میں گزارے۔ میں ہروقت ان سے جوہری موضوع پر ہی بات کرتا رہتا تھا۔ وہ بہت بڑے ماہر تھے۔ ڈاکٹر جان ٹرمپ ایم آئی ٹی میں بہت ذہین فطین شخصیت تھے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ وہاں 40 برس رہے۔ درحقیقت ایم آئی ٹی کے سربراہ نے میرے چچا کے بارے میں مجھے ایک کتاب بھیجی تھی۔ ہم جوہری موضوع پر بات کیا کرتے تھے۔ آپ بہت پیچیدہ مسئلے پر بات کر رہی ہیں۔ یہ ایسا نہیں کہ لیں جی، جوہری ہتھیاروں سے چھٹکارا مل گیا۔ اس میں وقت لگتا ہے۔

مگر میں وقت کے جس بڑے دورانیے کی بات کر رہا ہوں وہ پہلا دور ہے جس میں آپ ایک خاص مقام تک پہنچ کر واپس نہیں جا سکتے۔ واپسی بہت مشکل ہوتی ہے۔

سوال: اس میں کتنا وقت درکار ہو گا؟

صدر: ہم نہیں جانتے، مگر یہ کام خاصا جلد ہو جائے گا۔ جی بات کیجیے، یقیناً

سوال: شکریہ جناب صدر، میں پابندیوں کی مہم پر دوبارہ بات کرنا چاہتا ہوں۔

صدر: جی

سوال: آپ نے بالکل ابتدا میں ہی کہا تھا کہ چین اپنی سرحدیں بند رکھنے کے لیے پہلے جیسے اقدامات نہیں اٹھا رہا۔ جب کم نے صدر ژی سے ملاقات کی تو آپ نے بعض خدشات کا اظہار کیا تھا۔ روسی وزیرخارجہ پیانگ یانگ میں موجود تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ بات چیت کے دوران پابندیاں اٹھا لی جانی چاہئیں۔ اب جنوبی کوریا والے کسی طرح کی تجارت بحال کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ چنانچہ ایسے میں جبکہ یہ فریقین پابندیوں کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں تو آپ انہیں کیسے برقرار رکھیں گے؟ آپ کا ان ممالک پر کیا اثر ہے کہ وہ آپ کی بات مانتے ہوئے پابندیاں برقرار رکھیں۔

صدر: میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا ان پر بہت سا اثر ہے۔ میرے خیال میں ہمارا ان پر بے پایاں رسوخ ہے۔ چینی صدر ژی ایسے شخص ہیں جن کا میں بے حد احترام کرتا ہوں تاہم اس کے باوجود چین کے ساتھ تجارتی معاملے پر ہماری نہایت کڑی بات چیت ہوتی ہے، میرا خیال ہے کہ اس سے چین پر کسی قدر اثر پڑا ہے۔ مگر مجھے جو کرنا ہے سو کرنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ دو ماہ میں چین اور شمالی کوریا کی سرحد پہلے سے زیادہ کھل گئی ہے۔ مگر ہمیں اپنا کام کرنا ہے۔ تجارتی میدان میں ہمیں بہت بڑے خسارے کا سامنا ہے جسے عموماً تجارتی خسارہ کہا جاتا ہے۔ چین کے ساتھ تجارت میں ہمیں بہت بھاری خسارہ ہو رہا ہے اور ہمیں اس حوالے سے کچھ کرنا ہے۔ ہم ایسا ہونے نہیں دے سکتے۔

میں سمجھتا ہوں کہ سرحدی معاملے کا میرے تعلق پر بھی اثر پڑا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس سے صدر ژی کے حوالے سے میرے محسوسات یا تعلق پر کوئی اثر پڑے گا۔ مگر جب ہم نے آغاز کیا تو اس سمت میں جانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جب ہم نے شروعات کی اور اس کام کے لیے تیار ہوئے تو اس کا سرحد پر اثر ہوا۔ یہ شرمناک بات ہے۔ مگر مجھے اپنا کام کرنا ہے، میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ مجھے اپنے ملک کے لیے یہ کرنا ہے۔

جنوبی کوریا اس معاہدے کے لیے تمام ضرورت اقدامات اٹھائے گا۔ اگر اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم تجارت نہیں کر سکتے تو پھر میں تجارت نہیں کروں گا۔ یقیناً وہ تجارت نہیں کریں گے۔

آپ جانتے ہیں یہ دستاویز، جب آپ آج اسے پڑھیں گے تو اندازہ ہو گا کہ سب کچھ یکلخت نہیں ہوا بلکہ اس میں کئی مہینے صرف ہوئے۔ اس حوالے سے بات کرنا اور پابندیوں کا نفاذ بہت اہم تھا۔ میں نہیں جانتا کہ ان میں کون سی بات زیادہ اہم تھی مگر بہرحال دونوں کی اہمیت ہے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: جناب صدر، میں نیویارک ٹائمز سے ڈیوڈ سینگر ہوں۔ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ آیا کم جانگ ان نے آپ کو اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد سے آگاہ کیا ہے اور کیا وہ پہلے ان کی حوالگی کے لیے رضامند ہیں اور ایسی صورتحال میں آپ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ آپ کو یورینیم اور پلوٹونیم کے عمل کا خاتمہ کرنے کے لیے ایرانی معاہدے سے کہیں زیادہ بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ آیا آپ کو اندازہ ہوا کہ چیئرمین کم واقعتاً یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے لیے کیا درکار ہو گا اور ان کے ذہن میں جوہری پروگرام کے خاتمے کا کیا ٹائم ٹیبل ہے؟

صدر: ڈیوڈ، میں آپ کو یہ بات بتا سکتا ہوں کہ انہیں ان تمام باتوں کا اندازہ ہے۔ وہ اسے اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ انہیں ان لوگوں سے کہیں زیادہ سمجھتے ہیں جو ان کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جہاں تک ان کے پاس جوہری ہتھیاروں کی تعداد کا تعلق ہے تو یہ خاصی بڑی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو اس حوالے سے اچھی پیشرفت دیکھنے کو ملے گی۔ میرا مطلب ہے، مثال کے طور پر میزائل کی تنصیب کا معاملہ ہی دیکھ لیجیے، میرا خیال ہے کہ آپ کو اس بارے میں سن کر حیرانی ہوئی ہو گی۔ یہ اقدام آخر میں اٹھایا گیا۔

مگر ڈیوڈ، میں واقعی یہ سمجھتا ہوں کہ یہ کام بہت جلد ہو گا۔ یہ تیزی سے ہو گا۔ ان کے پاس اسلحے کی بہت بڑی مقدار موجود ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔ آپ جانتے ہیں ہی کہ میں کہتا رہا ہوں کہ ہو سکتا ہے یہ محض باتیں ہی باتیں ہوں اور کوئی عملی قدم نہ اٹھایا جائے۔ مگر ہمارے پاس اس بارے میں اہم اطلاعات ہیں۔ شاید دوسرے ممالک سے کم ہیں۔ مگر ہمارے پاس ایسی خاطرخواہ معلومات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ہے۔

ڈیوڈ، اسی وجہ سے میں ہمیشہ کہتا چلا آیا ہوں کہ اس میں اتنی تاخیر نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اگر یہ کام پانچ، یا بیس یا پندرہ سال پہلے ہو جاتا تو اچھا نہ ہوتا؟ ایسے میں ہمیں آج کی ملاقات ناکام ہونے کے خدشات کا سامنا نہ ہوتا۔ ڈیوڈ مجھے آپ کے ساتھ اپنا پہلا انٹرویو آج بھی پسند ہے، میرے پاس اب بھی یہ موجود ہے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: شکریہ جناب صدر

صدر: شکریہ

سوال: (ناقابل سماعت) دوسری ملاقات ۔۔۔ اگر چیئرمین کم کے ساتھ دوسری ملاقات ہوئی تو کیا وہ پیانگ یانگ میں ہو گی یا واشنگٹن میں؟

صدر: ابھی ہم نے یہ طے نہیں کیا۔ غالباً ہمیں ایک مرتبہ پھر ملنا ہو گا۔ ہم اس حوالے سے کوئی اور اصطلاح استعمال کر سکتے ہیں مگر غالباً ہمیں ایک مرتبہ پھر ملنا ہو گا۔ ہم نے اس سے کہیں زیادہ پیشرفت کی ہے جتنا مجھے توقع تھی۔ میں نے نہیں سوچا تھا کہ ہم یہاں تک پہنچیں گے، میں نے سوچا اور لوگوں سے کہا کہ ہم عوام کی توقعات بہت زیادہ بڑھانا نہیں چاہتے۔ میں نے لوگوں کو بتایا کہ اگر ہم ملے تو یہ کامیاب ملاقات ہو گی۔ ہم نے ایک تعلق قائم کیا اور تین سے چار ماہ پہلے اس نکتے کی جانب مراجعت شروع کی۔ تاہم یہ سب کچھ بہت جلدی ہوا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری ملاقات سے پہلے اس کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔ بہت سی پیش ہائے رفت بہت جلدی ہوئیں۔

باقیات کی واپسی کے معاملے کو ہی دیکھ لیجیے۔ یہ معاملہ آج ہمارے ایجنڈے پر نہیں تھا۔ میں نے آخر میں اس پر بات کی کیونکہ بہت سے لوگوں نے اس بابت مجھ سے پوچھا تھا۔ جواباً انہوں نے نہایت فیاضی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ٹھیک ہے، اس پر آئندہ بات ہو گی، اس کے بجائے انہوں نے یہ کہا کہ یہ معقول بات ہے اور ہم ایسا ہی کریں گے۔

وہ جانتے ہیں کہ یہ شاندار لوگ کہاں ہیں۔ یہ لوگ سڑکوں، شاہراہوں اور راستوں کے کنارے دفن ہیں کیونکہ اس وقت ہمارے سپاہی آگے پیچھے حرکت کر رہے تھے اور انہیں نہایت تیزی سے آنا جانا پڑتا تھا۔ یہ نہایت افسوسناک بات ہے مگر وہ جانتے ہیں۔ یہ بات بالکل آخر میں ہوئی۔ ان کی جانب سے ملنے والا جواب بہت اچھا تھا۔ اس سے بہت سے لوگوں کو بے حد خوشی ہو گی۔ جی بات کیجیے۔

سوال: شکریہ جناب صدر

صدر: شکریہ

سوال: ون امریکہ نیوز سے ایمرالڈ رابنسن، مبارک باد

صدر: شکریہ، ہمارے ساتھ آپ کے حسن سلوک کا شکریہ۔ ہم اس کے قدردان ہیں۔ آپ کا کام بہت اچھا ہے۔ بات کیجیے۔

سوال: تو آپ ۔۔۔۔

صدر: اب مجھے غالباً اس ہلاکت خیز سوال کا سامنا ہو گا۔

سوال: (قہقہہ) میں شمالی کوریا کے مستقبل کی بابت بات کرنا چاہتی ہوں۔

صدر: جی ٹھیک ہے۔

سوال: خاص طور پر لوگوں کے حوالے سے، کم جانگ ان کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے لوگوں کو خوشحال اور ان کا مستقبل تابناک بنانا چاہتے ہیں جبکہ ہمیں علم ہے کہ وہاں لوگ جبر کا شکار ہیں۔ آپ نے انہیں ویڈیو دکھائی کہ مستقبل کس طرح کا ہو سکتا ہے۔ مگر کیا آپ کو خاص طور پر اندازہ ہے کہ اس سمت میں پیش رفت کیسے کی جائے گی؟ معاشی طور پر دیکھا جائے تو کیا وہ مزید معاشی آزادی دینے کو تیار ہیں؟

صدر: اچھا سوال ہے۔ آپ نے آج ایک ٹیپ دیکھی اور میرے خیال میں یہ بہت اچھی تھی۔ مگر اس کا تعلق مستقبل میں انتہائی اعلیٰ سطحی ترقی سے ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ ممکن ہے آپ کو یہ سب درکار نہ ہو۔ ہو سکتا ہے آپ اس سے بہت کم چاہتے ہوں۔ میرا مطلب ہے کہ آپ کچھ کرنے جا رہے ہیں۔ مگر ہو سکتا ہے کہ آپ کو اس سے کم درکار ہو۔ ہو سکتا ہے آپ کو ٹرینیں اور یہ سب کچھ درکار نہ ہو۔ یہ ان پر منحصر ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے انہیں یہ سب کچھ درکار نہ ہو، میں یہ بات بھی سمجھتا ہوں۔

مگر اس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ کیا کچھ ہو گا۔ مثال کے طور پر ان کے پاس بہت زبردست ساحل ہیں۔ جب وہ سمندر میں گولے داغتے ہیں تو آپ نے ان کے ساحل دیکھے ہوں گے۔ میں نے کہا، لڑکے، اس منظر کو دیکھو۔ میں نے کہا کہ پس منظر میں زبردست عمارت نہیں ہو سکتی؟ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ کرنے کے بجائے آپ وہاں دنیا کے بہترین ہوٹل قائم کر سکتے ہیں۔ اسے رئیل اسٹیٹ کے تناظر میں دیکھیں۔ آپ چین اور جنوبی کوریا کے درمیان ہیں۔ یہ بہت زبردست بات ہے۔ مگر میں نے انہیں کہا کہ ہو سکتا ہے آپ ایسا نہ چاہتے ہوں۔ ممکن ہو آپ کو اس سے کم درکار ہو۔

انہوں نے اس ٹیپ کی جانب دیکھا، انہوں نے آئی پیڈ کو دیکھا اور میں آپ کو بتاؤں کہ انہیں بہت اچھا محسوس ہوا۔ ٹھیک؟

جی بات کیجیے، چند مزید سوالات، ٹھیک ہے، ہم تین مزید سوال لیں گے، جی

سوال: ٹائم میگزین سے برائن بینیٹ

صدر: ہیلو برائن، کیا اس ہفتے پھر میری تصویر سرورق پر ہو گی؟ نوجوان، کیا میں، اتنے زیادہ سرورق۔

سوال: ایسا ممکن ہے۔

صدر: اوہ؟ میں جانتا ہوں، ٹھیک ہے۔

سوال: کیا اب آپ کم جانگ ان کو برابر سمجھتے ہیں؟

صدر: کس انداز میں؟

سوال: آپ نے ابھی ایک ویڈیو دکھائی جس میں آپ اور کم جانگ ان مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے برابر دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔

صدر ٹرمپ: نہیں، میرا خیال ہے کہ میں اسے اس انداز میں نہیں دیکھتا۔ دیکھیں، میں دنیا کو محفوظ جگہ بنانے کے لیے جو بن پڑا کروں گا۔ اگر مجھے یہ کہنا پڑے کہ میں ایک ایسی جگہ پر بیٹھا ہوں، میرا مطلب ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کیا سمجھ رہے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ میں چیئرمین کم کے ساتھ ایک ایسی جگہ بیٹھا ہوں جہاں ہم 30 ملین یا اس سے بھی زیادہ زندگیاں بچا سکتے ہیں تو میں ایسا کرنے کو تیار ہوں۔ میں نہایت فخریہ طور سے اور خوشی سے سنگاپور کا سفر کرنے کو تیار ہوں۔

اس حقیقت سے قطع نظر کہ اس میں میرا وقت صرف ہو رہا ہے، انہوں نے بھی اس سلسلے میں بہت سا کام کیا ہے۔ انہوں نے اس سے پہلے ہی یہ کام شروع کر دیا تھا، اولمپکس کو بھی اس میں شامل کر لیں۔ آپ اولمپکس کو بھی اپنے سوال میں شامل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اولمپک کھیلوں میں شرکت کی۔ انہوں نے ایسے اولمپکس میں حصہ لیا جو بہت بڑی ناکامی بن سکتے تھے اور انہوں نے اس میں حصہ لے کر ان کھیلوں کو بہت بڑی کامیابی بنا دیا۔ انہوں نے جو اقدامات اٹھائے ان میں یہ بھی شامل کر لیں۔

چنانچہ برائن، میں یہ کہوں گا کہ اگر میں یہاں آ کر اور ایسے شخص کے ساتھ تعلقات قائم کر کے لاکھوں زندگیاں بچا سکتا ہوں جو بہت طاقتور ہے، جس کا اپنے ملک پر مضبوط کنٹرول ہے اور اس ملک کے پاس بہت طاقتور ایٹمی ہتھیار ہیں تو ایسا کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔

کیا آپ کو اس پر کوئی تشویش ہے کہ آپ نے ابھی جو ویڈیو دکھائی، کم اسے خود کو آپ کے برابر دکھانے کے لیے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں ۔۔۔

صدر: نہیں، مجھے اس پر کوئی تشویش نہیں، ہم اس ویڈیو کو دوسرے ممالک کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ جی

سوال: جناب صدر، 2000 میں صدر کلنٹن کو کم جانگ ال سے ایک درخواست موصول ہوئی تھی۔

صدر: وہ ان سے متاثر ہوئے؟

سوال: انہیں درخواست موصول ہوئی ۔۔۔

صدر: اوہ

سوال: کم جانگ ال نے ان سے درخواست کی کہ وہ پیانگ یانگ آئیں اور ان سے ملاقات کریں۔ کلنٹن نے اس سے انکار کر دیا۔ انہوں نے وزیرخارجہ البرائٹ کو بھیج دیا۔

صدر: جی، انہوں نے بہت بڑا کام کیا۔ انہوں نے 3 ارب ڈالر خرچ کیے اور کچھ بھی حاصل نہ ہوا جبکہ اگلے ہی دن شمالی کوریا نے جوہری ہتھیار بنانا شروع کر دیے۔

سوال: جناب صدر، جب آپ کو ایسی درخواست موصول ہوئی تو آپ سیدھے یہاں ان سے ملاقات کرنے آ گئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے ایسی حکومت کا جواز تسلیم کیا جو اپنے لوگوں پر جبر روا رکھتی ہے، اس سلسلے میں آپ نے امریکہ کے صدر اور آزاد دنیا کے رہنما کی حیثیت سے شمالی کوریا کے ایسے رہنما سے ہاتھ ملایا جو اپنے ہی لوگوں پر وحشیانہ ظلم اور جبر کرتاہے۔

صدر: ٹھیک ہے، میرا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب دیا جا چکا ہے۔

سوال: مگر کیا آپ ان لوگوں کو سمجھتے ہیں؟

صدر: اوہ، میں انہیں آپ سے کہیں بہتر طور سے سمجھتا ہوں۔ ٹھیک ہے، آگے چلیں، بہت شکریہ، جی

سوال: جناب صدر، میں پولیٹیکو سے ایلینا جانسن ہوں۔

صدر: یقیناً، جی

سوال: آپ نے کم کی جانب سے دی جانے والی چند خاص رعایات کا تذکرہ کیا جن میں باقیات کی واپسی اور جوہری تنصیب کی تباہی شامل ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ آپ نے کہاکہ یہ بات آخر میں شامل ہوئی ۔۔۔

صدر ٹرمپ: اور مزید بہت کچھ، اس سے بھی بڑھ کر بہت کچھ۔

سوال: جی، آپ نے بتایا کہ آخری بات بعد میں شامل کی گئی تھی اور یہ معاہدے کا حصہ نہیں تھی، مگر انہوں نے آپ کو زبان دی۔ اگر وہ ان باتوں پر عمل نہیں کرتے تو جواب میں آپ کیا کریں گے؟ کیا ایسے میں اس عمل پر آپ کا اعتماد ختم ہو جائے گا؟

صدر: نہیں، میرا خیال ہے کہ وہ یہ سب کچھ کریں گے۔ مجھے اس پر یقین ہے۔ بصورت دیگر میں یہ سب کچھ کبھی نہ کرتا۔ یہ واقعتاً انجن کے تجربات سے متعلق تنصیب تھی جس پر وہ دیگر چیزوں کے علاوہ متفق ہوئے۔ ان کے پاس انجن کے تجربات کرنے والی طاقتور تنصیب ہے، ہم اس سے خارج ہونے والی حدت کے سبب اسے جانتے ہیں۔ مجھے اس پر بے حد خوشی ہے۔ مجھے ان دو نکات سے بے حد خوشی ہے جن کا آپ نے تذکرہ کیا۔

مگر میں سمجھتا ہوں کہ شاید آپ کا اشارہ اس چیز کی جانب ہے جو معاہدے میں نہیں تھی، یعنی انجن کے تجربات سے متعلق تنصیب۔ میں دیانت دارانہ طور سے یہ سمجھتا ہوں کہ وہ یہ سب کچھ کریں گے۔ ہو سکتا ہے میں غلطی پر ہوں۔ میرا مطلب ہے کہ ہو سکتا ہے چھ ماہ بعد میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں اور کہوں کہ میں غلطی پر تھا۔ میں نہیں جانتا کہ آیا میں تسلیم کروں گا یا نہیں مگر میں کسی طرح کا بہانہ گھڑ لوں گا (قہقہہ)

ٹھیک ہے، ایک یا دو مزید سوالات، جی، بات کیجیے

سوال: شکریہ جناب صدر۔

صدر: شکریہ، شکریہ

سوال: (ناقابل سماعت) میرا تعلق چین کے زنہوا میڈیا گروپ سے ہے۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا آپ واشنگٹن واپس جا کر صدر ژی کو آج چیئرمین کم کے حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کی بابت بتائیں گے؟

صدر: جی میں ایسا ہی کروں گا۔

سوال: امن سے متعلق طویل مدتی طریقہ کار طے کرنے کا عمل تیزی سے آگے بڑھانے کے سلسلے میں آپ چین سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟

صدر: ٹھیک ہے، چین سے متعلق میری توقع یہ ہے کہ وہ ایک عظیم ملک ہے جس کے پاس ایک عظیم رہنما ہے اور وہ میرے دوست ہیں۔ میں واقعی یہ سمجھتا ہوں کہ انہیں ہماری پیشرفت سے خوشی ہو گی۔ میں ان کی زبانی یہ سن چکا ہوں۔ مگر میں بہت جلد ان سے فون پر بات کروں گا۔ ہو سکتا ہے میں امریکہ پہنچنے سے پہلے ہی ان سے رابطہ کروں۔

مجھے کہنا ہے کہ امریکہ ایک عظیم ملک ہے۔ ہم نے اپنی معیشت میں سات ٹریلین ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔ اب ہماری معیشت تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔ کوئی اس بارے میں بات نہیں کرتا کیونکہ آپ نے چین کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ مگر اب امریکی معیشت کا حجم چین سے دگنا ہو چکا ہے۔ ہم عظیم ملک ہیں اور درست راہ پر چل رہے ہیں۔

ٹھیک ہے، مزید ایک سوال۔

سوال: جناب صدر، میرا تعلق جنوبی کوریا سے ہے۔

صدر: ارے، جنوبی کوریا؟ کہاں ہے جنوبی کوریا؟ میرا خیال ہے آپ اس کے حقدار ہیں۔ بات کیجیے، سوال کرنا آپ کا حق ہے، آپ ایک سوال کے حقدار ہیں۔

سوال: جناب صدر، مجھے آپ سے دو سوالات کرنا ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ نے کچھ دیر پہلے کہا کہ آپ جنوبی کوریا کے صدر مون جے سے فون پر بات کریں گے۔

صدر: جی

سوال: آپ ان سے کیا بات کرنا چاہتے ہیں؟

صدر: میں انہیں ملاقات کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ یہ نہایت کامیاب رہی۔ حتمی مذاکرات میں وہ پوری طرح شریک ہوں گے۔ وہ نہایت عمدہ آدمی ہیں۔ وہ میرے دوست بھی ہیں۔ میں ان سے بات کا منتظر ہوں۔ جب وہ یہ سنیں گے تو انہیں بے حد خوشی ہو گی۔ میں انہیں پہلے ہی اس کی اطلاع دے چکا ہوں۔ میں نے انہیں دستاویز بھیجی ہے اور اس کے ساتھ تمام تر تفصیلات بھی بتائی ہیں۔ چنانچہ میں جلد ہی ان سے بات کروں گا۔

سوال: اگر ایک اور سوال کی اجازت ہو تو مجھے یہ پوچھنا ہے کہ امن معاہدے پر دستخط کر کے کیا آپ اس حوالے سے صرف شمالی کوریا کے چیئرمین کم سے بات کرنا چاہتے ہیں یا آپ جنوبی کوریا اور چین کو بھی اس کے دستخطی کے طور پر ساتھ شامل کرنا چاہیں گے؟

صدر: میں انہیں بھی ساتھ لینا چاہوں گا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے یا نہیں یا قانونی طور پر ہمیں ایسا کرنا چاہیے یا نہیں۔ مجھے اس کی پروا نہیں۔ میرا خیال ہے کہ چین اور جنوبی کوریا کو بھی ساتھ شامل کرنا بہت اچھا ہو گا۔

سوال: کیا کوئی تحریری مسودہ (ناقابل سماعت)؟

صدر: کیا؟

سوال: کیا اس حوالے سے کوئی تحریری مسودہ (ناقابل سماعت) ؟

صدر: مائیک، کیا ان کے پاس کوئی تحریری مسودہ ہے؟ غالباً ان کے پاس ابتدائی مسودہ ہے، اگر آپ کے پاس ہے تو ہمیں دے سکتے ہیں۔

سوال: تو کیا ریکارڈ ہوا؟

صدر: نہیں، انہوں نے اسے ریکارڈ نہیں کیا۔ میرا نہیں خیال کہ انہوں اسے ریکارڈ کیا ہے۔ کیا اس کی کوئی ریکارڈنگ موجود ہے؟ میری خواہش ہے کہ ایسا ہو، کیونکہ یہ دلچسپ چیز ہے۔

سوال: (ناقابل سماعت)

صدر: کہیے

سوال: (ناقابل سماعت)

صدر: نہیں، غالباً ہم نے چند نوٹس لیے تھے، تاہم میرا خیال ہے کہ یہ خاصے تفصیلی ہیں۔ تاہم ہماری بات چیت بہت زبردست رہی۔ یہ دل کو چھو لینے والی بات چیت تھی۔

سوال: آپ کو کیسے یقین ہے (ناقابل سماعت) تصدیق ۔۔۔

صدر: مجھے تصدیق نہیں کرنا کیونکہ میرے پاس بہت زبردست یادیں ہیں۔ چنانچہ مجھے ایسا نہیں کرنا۔ ٹھیک ہے؟ ٹھیک ہے؟

سوال: کم جانگ ان کے ساتھ فون پر اپنی گزشتہ بات چیت کے حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ کی فون پر بات چیت ہوئی (ناقابل سماعت)

صدر: جی، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم ہماری گفت و شنید ہوئی تھی۔ مائیک کی سطح پر اور دوسرے درجوں پر ہمارے مابین بہت اہم تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔ درحقیقت یہاں شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ موجود ہیں۔ وہ کمرے میں موجود ہیں۔ عقبی کمرے میں بھی بہت سے لوگ ہیں۔

چنانچہ جب ہم حتمی معاہدہ کرنے لگے تو ہمارے مابین اچھا خاصا تعلق اور ہمارے پاس اچھا خاصا علم تھا۔ میرا خیال ہے کہ اسی وجہ سے یہ سب کچھ ممکن ہوا۔

چنانچہ میں واپس جا رہا ہوں۔ مجھے آپ لوگوں کے بارے میں علم نہیں ہے۔ مگر طویل عرصہ بعد اب ہمیں سکون کی ساعت میسر آئی ہے جس کے بعد کام دوبارہ شروع ہو گا۔ میں یہاں موجود سبھی لوگوں کی ستائش کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو اپنے سوالات کا جواب مل گیا ہو گا۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ سبھی کو مبارک باد کیونکہ میرے نزدیک یہ دنیا کی تاریخ کا ایک نہایت اہم موقع ہے۔ میں سچے دل سے کہتا ہوں کہ مجھے یہ عمل انجام تک پہنچانے کی خواہش ہے۔

چنانچہ مائیک، ہماری پوری ٹیم کو کام کرنا اور اسے انجام تک پہنچانا ہے۔ کیونکہ اگر آپ گیند کو گول کی لکیر سے پار نہیں پہنچاتے تو گزشتہ محنت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ٹھیک ہے؟

لہٰذا آپ کا شکریہ اور یہاں موجود سبھی لوگوں کو مبارک باد۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ میں اس کا قدر دان ہوں۔ شکریہ (تالیاں)

اختتام

5:20 سہ پہر


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں