rss

وزیرخارجہ مائیک پومپئو کی میڈیا کو خصوصی بریفنگ

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Español Español, Português Português

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
ہلٹن ہوٹل سیئول
جنوبی کوریا

 

ہیدا نوئرٹ: یہ بریفنگ آن دی ریکارڈ ہو گی مگر کل ہماری جاپان اور جنوبی کوریا کے حکام سے ملاقاتیں ہیں لہٰذا ہم اس دوران ہونے والی بات چیت کے حوالے سے قبل ازوقت کچھ نہیں کہیں گے۔

سوال: چنانچہ ہمارے پاس موجود وقت سے بہتر طور پر کام لیتے ہوئے میں اس گفتگو پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔۔۔

وزیرخارجہ: یقیناً

سوال: ۔۔۔ میرا سوال صدر ٹرمپ کی جانب سے جزیرہ نما کوریا میں بڑی فوجی مشقیں معطل کرنے سے متعلق ہے۔ سالانہ بنیادوں پر ہونے والی ان مشقوں کی کوئی بنیاد تھی اور پینٹاگون کے مطابق اس کا مقصد بحرانی کیفیت سے نمٹنے کی اہلیت کی مشق کرنا تھا۔ کیا مشقیں لامحدود مدت کے لیے معطل کی گئی ہیں یا اگر آپ نے سمجھا کہ شمالی کوریا بات چیت میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا تو یہ دوبارہ بھی شروع کی جا سکتی ہیں؟ کیا آپ مشقیں معطل کرنے کے فیصلے کی بابت کچھ بتا سکتے ہیں؟ کیا آپ نے اس سلسلے میں ‘یوایس ایف کے’ محکمہ دفاع اور جنوبی کوریا والوں سے رہنمائی کے لیے کہا کہ آیا ایسا ہونا چاہیے اور کیسے ہونا چاہیے؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں اندرونی کارروائی اور اس سلسلے میں ہونے والی گفت و شنید پر بات چیت نہیں کروں گا۔ مگر صدر اس حوالے سے بالکل واضح تھے۔ جب یہ فیصلہ ہوا تو میں بھی وہیں موجود تھا۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ مفید اور نیک نیتی سے جاری بات چیت کے سبب مشقیں نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر یہ بات چیت مفید اور نیک نیتی سے ہوتی دکھائی نہ دی تو صدر کی جانب سے مشترکہ مشقیں نہ کرنے کا فیصلہ موثر نہیں رہے گا۔ صدر نے ناصرف پریس کانفرنس بلکہ چیئرمین کم کے ساتھ موجودگی میں بھی یہی بات کی ہے۔

سوال: صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ مستقبل میں آپ مذاکراتی عمل کی قیادت کریں گے اور میرا اندازہ ہے کہ آئندہ ہفتے اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس میں ملاقات بھی ہو گی۔ آپ اس سلسلے میں کیسے آگے بڑھیں گے۔ آپ کے آئندہ اقدامات کیا ہوں گے اور آپ شمالی کوریا والوں جیسا کہ کم یونگ چول سے دوبارہ کب مل رہے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ اس معاملے میں صدر ہی قیادت کر رہے ہیں۔ میں اس عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دوں گا۔ میں واضح طور سے نہیں جانتا کہ شمالی کوریا کے ساتھ ہماری آئندہ بات چیت کب ہو گی۔ میرا اندازہ ہے کہ یہ ہماری ملک واپسی سے فوری بعد ہو گی۔ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اس کی نوعیت کیا ہو گی مگر مجھے یقین ہے کہ ہم آئندہ ہفتے کسی وقت ملاقاتیں شروع کر دیں گے۔

پنمونجوم میں بہت دنوں تک بہت سا کام ہوا جس کے نتیجے میں سنگاپور میں 60 یا 70 گھنٹے کی بات چیت ممکن ہوئی۔ یہ سب کچھ حتمی دستاویز میں سامنے نہیں آیا مگر بہت سے معاملات پر باہمی اتفاق رائے ہوا ہے۔ ہم ان چیزوں کو تحریر تک محدود نہیں کر سکتے، چنانچہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابھی مزید کام بھی باقی ہے مگر حتمی دستاویز میں جو کچھ دکھائی دیا اس سے کہیں زیادہ کام پس منظر میں ہوا اور جب ہم اپنی بات چیت دوبارہ شروع کریں گے تو یہ تمام کام مدنظر ہو گا۔

سوال: مجھے جلدی سے اس بارے میں آپ سے کچھ پوچھنا ہے جو آپ ننے مائیکل سے کہا۔ صدر نے فوجی مشقوں کی بات کرتے ہوئے ‘اشتعال انگیزی’ کی اصطلاح کیوں استعمال کی۔ عام طور پر یہ اصطلاح شمالی کوریا اور چین والے استعمال کرتے ہیں جبکہ ہمارا کہنا ہے کہ ان مشقوں کی طویل عرصہ سے منصوبہ بندی کی گئی ہے اور ان کا مقصد اپنی افواج کو تیار رکھنا ہے۔

وزیرخارجہ پومپئو: میں سمجھتا ہوں کہ صدر نے نہایت واضح بات کی۔ ان کا مقصد ہمیں ایسی جگہ لانا تھا جہاں ہمارے پاس جزیرہ نما کوریا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے لیے تعمیری بات چیت کا موقع ہو۔ ہمارا مقصد تبدیل نہیں ہوا۔ اس حوالے سے بہت کچھ کہا گیا کہ معاہدے میں ‘قابل تصدیق’ کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ لفظ ‘مکمل’ ہر متعلقہ شخص کے ذہن میں ‘قابل تصدیق’ کا ہی احاطہ کرتا ہے۔ توثیق و تصدیق کے بغیر جوہری اسلحے کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔

صدر اس حوالے سے پرعزم ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چیئرمین کم کے ساتھ یہ وعدہ کرنے سے تعمیری بات چیت آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ میرا خیال ہے کہ چیئرمین کم سے مشقیں معطل کرنے وعدہ کرتے ہوئے صدر کے ذہن میں یہی کچھ تھا۔

سوال: جناب وزیر، مجھے آپ سے ‘قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ’ کی بابت پوچھنا تھا۔

وزیرخارجہ پومپئو: ہوں

سوال: ایک دن پہلے آپ نے کہا تھا کہ یہی ہمارا واحد مقصد ہے، ہم واضح طور پر یہی کچھ چاہتے ہیں۔ مگر یہ بات بیان میں کیوں شامل نہیں ہے؟ جبکہ صدر نے کہا تھا کہ ۔۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: یہ بیان میں شامل ہے۔ یہ بیان میں شامل ہے۔ آپ اسے درست طور سے نہیں لے رہے۔

سوال: یہ بیان میں کیسے شامل ہے؟ اور میں بھی ۔۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: آپ محض ۔۔۔ کیونکہ لفظ ‘مکمل’ قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ دونوں کا احاطہ کرتا ہے۔ آپ لفظی بحث کر سکتے ہیں مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ بات دستاویز میں موجود ہے۔

سوال: صدر نے کہا تھا کہ اس عمل کی تصدیق ہو گی۔

وزیرخارجہ: یقیناً ایسا ہی ہو گا۔

سوال: کیا آپ ہمیں اس حوالے سے کچھ مزید بتا سکتے ہیں ۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: یقیناً میں بتاؤں گا، میرا مطلب ہے کہ ۔۔۔

سوال: کیا بات چیت ہوئی کہ یہ کام کیسے ہو گا؟

وزیرخارجہ پومپئو: آپ کا سوال میرے لیے توہین آمیز، احمقانہ اور مہمل ہے۔ میں آپ سے دیانت دارانہ بات کروں گا۔ یہ کھیل ہے اور سنجیدہ معاملات میں ایسا کھلواڑ نہیں کرنا چاہیے۔

سوال: مگر سوال یہ ہے کہ اس کی تصدیق کیسے ہو گی؟ کیا آپ نے اس بارے میں بات چیت کی؟ کیا آپ نے ۔۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: اس حوالے سے طریقہ ہائے کار پر کام ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں بہت سا کام ہونا ہے۔ یہ بہت طویل سفر ہے، اس پر بہت سی سوچ بچار کی جانا ہے، تاہم احمقانہ باتیں مت کیجیے۔ اسے تعمیری سوچ نہیں کہا جا سکتا۔ ایسی احمقانہ باتیں مفید نہیں ہیں اور ان سے کچھ حاصل نہیں ہونا۔

سوال: اچھا، میرا خیال ہے کہ ۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: اس سے پڑھنے والوں، آپ کے سننے والوں اور دنیا کو کوئی فائدہ نہیں ہونا۔ کیونکہ اس سے امریکی پوزیشن واضح نہیں ہوتی اور یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ شمالی کوریا والے ان دونوں کاموں پر راضی ہیں یا نہیں۔

سوال: ہم صرف یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آپ نے جو کچھ کہا وہ کیسے ظاہر ہوتا ہے ۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: جی، اور میں نے آپ کو وضاحت کر دی ہے۔

سوال: ٹھیک ہے۔

سوال: مجھے ان کے سوال میں مدد دینا اور یہ پوچھنا ہے کہ، میری رائے میں آپ اس رفتار سے چل رہے ہیں جس پر ۔۔۔۔
وزیرخارجہ پومپئو: جی جی

سوال: ۔۔۔۔ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اسلحے کا بتدریج اور ایک طویل عمل کے نتیجے میں خاتمہ ہو سکتا ہے اور صدر ٹرمپ نے یہ عمل تیزی سے مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ سب کچھ اس دستاویز سے ظاہر نہیں ہوتا۔ کیا آپ نے اپنی نجی بات چیت میں اس حوالے سے کچھ طے کر لیا ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: میں نجی بات چیت کے حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہوں گا۔ آپ کو علم ہونا چاہیے کہ ان کے ساتھ بات چیت میں یہ میرا روزانہ کا معمول ہو گا۔

سوال: میں نے محض ۔۔۔ جناب وزیر، فرانسسکا کے دفاع میں یہ کہنا ہے کہ آپ ‘سی وی آئی ڈی’ کے حوالے سے نہایت مخصوص طور سے عمل کر رہے ہیں۔

وزیرخارجہ پومپئو: ہوں

سوال: مگر اس دستاویز کی زبان کو دیکھا جائے تو اس میں شمالی کوریا کی جانب سے کوئی وعدہ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ دستاویز انہوں نے تیار نہیں کی۔

وزیرخارجہ پومپئو: ہوں

سوال: معاہدے کی زبان اہم ہوتی ہے اور ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ شمالی کوریا کس بات پر رضامند ہوا ہے اور یہیں سے میرا سوال شروع ہوتا ہے کہ ‘کے سی این اے’ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ قدم بہ قدم آگے بڑھنے کے طریقہ کار پر رضامند ہوئے ،جو آپ کے گزشتہ مطالبات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کیا آپ کو شمالی کوریا سے سامنے آنے والی باتوں پر تشویش ہے کہ شاید وہ اس ملاقات میں طے پانے والی باتوں کو کسی اور انداز میں دیکھ رہے ہیں؟ صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ شمالی کوریا سے جوہری خطرہ باقی نہیں ہر حالانکہ ابھی اس نے اپنے ہتھیار ختم نہیں کیے۔

وزیرخارجہ پومپئو: مجھے اس پر کوئی تشویش نہیں کہ شمالی کوریا والوں نے کیا سمجھا اور میں انہیں کیا سمجھانا چاہتا ہوں۔ اس ملاقات سے پہلے میری چیئرمین کم کے ساتھ دو ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ میں نے کم یونگ چول کے ساتھ اس سے بھی زیادہ وقت گزارا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہم نے کس چیز کی تیاری کی ہے۔ آپ نے اپنا سوال اسی سوال کے ساتھ شروع کیا ہے جو پہلے کیا گیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جوہری اسلحے کے خاتمے کی بھرپور تصدیق کی جائے گی۔

سوال: کیا شمالی کوریا کی جانب سے یہ کہنا درست ہے کہ صدر ٹرمپ جوہری اسلحے کے بتدریج خاتمے کے طریقہ کار پر رضامند ہوئے ہیں؟

وزیرخارجہ پومپئو: ہماری بات چیت کا مواد دونوں فریقین کے درمیان ہے مگر کچھ باتیں دوسری جگہوں پر بھی لکھی ہیں اور انہیں شمار نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔

سوال: کیا میں تصدیقی عمل کے حوالے سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟

وزیرخارجہ پومپئو: ۔۔۔ بشمول آپ کے ساتھیوں کی جانب سے بھی۔

سوال: (قہقہہ) درست۔

سوال: میرا سوال شمالی کوریا والوں سے متعلق تھا۔

وزیرخارجہ پومپئو: جی میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ کیا کہا گیا۔

سوال: صدر نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا والوں نے تجربات کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات تباہ کر دی ہیں جن میں میزائل انجن کے تجربات کی غرض سے استعمال ہونے والی جگہ بھی شامل ہے۔ کیا ہم یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ اس جگہ کو کس حد تک تباہ کیا گیا اور کیا یہ تباہی مستقل ہو گی؟

وزیرخارجہ پومپئو: اس کا جواب یہ ہے کہ میں صرف یہی جواب دے سکتا ہوں کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں وہاں کیا ہوا ہے مگر میں انٹیلی جنس کے جائزوں کی بابت کچھ نہیں کہنا چاہوں گا۔ ہم نے باہمی سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں خاصا وقت صرف کیا ہے۔ ہماری ترجیح یہ ہو گی کہ جب ایسے واقعات پیش آئیں تو ماہرین موقع پر جا کر ان کا جائزہ لیں۔ اس سے ہمیں مزید مفصل طور سے معلوم ہوا گا کہ وہاں کیا ہوا اور کیا نہیں ہوا۔

سوال: کیا آپ صدر ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت مکمل ہونے سے پہلے جوہری اسلحے کا خاتمہ چاہیں گے؟ کیا یہی آپ کا مقصد ہے؟

ہیدا نوئرٹ: یہ آخری سوال ہے۔

سوال: انہیں آخری سوال کا جواب دینے دیجیے کیونکہ میں ۔۔۔
وزیرخارجہ پومپئو: کیا آپ دوبارہ سوال پوچھ سکتے ہیں کیونکہ یوں لگتا ہے کہ اس سوال میں ہی اس کا جواب پوشیدہ ہے۔

سوال: ٹھیک ہے ۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: شاید میں کچھ بھول رہا ہوں ۔۔۔

سوال: میں نہیں جانتا، میں انتظامیہ کا حصہ نہیں ہوں۔

وزیرخارجہ پومپئو: ۔۔۔ پھر ہو سکتا ہے میں کچھ بھول رہا ہوں۔

سوال: میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے کچھ نہیں کہہ سکتا، مگر ۔۔۔

سوال: ہو سکتا ہے آپ نے اس حوالے سے کوئی حتمی تاریخ مقرر کی ہو جس پر ۔۔۔۔

سوال: جی

سوال: ۔۔۔ جس تک شمالی کوریا کو بہرصورت یہ کام کرنا چاہیے ۔۔۔۔

سوال: کیا آپ آئندہ دو برس میں یہ بڑے اقدامات اٹھانا چاہیں گے؟

وزیرخارجہ پومپئو: یقیناً، جہاں تک دورانیے کا تعلق ہے تو میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا والوں نے دورانیے پر بات کی ہے۔ صدر نے کہا ہے اور سبھی جانتے ہیں کہ اس کام میں کچھ وقت لگتا ہے۔ ہمارے پاس بہت سے لوگ اس کام کے لیے تیار ہیں۔ ہم اپنے تمام متعلقہ تکنیکی لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے کئی مہینوں سے کام کر رہے ہیں۔ ان میں صرف امریکی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے ہمارے شراکت دار بھی شامل ہیں۔ جب ہم اس مقام پر پہنچ گئے تو پھر یہ عمل انجام دینے کے لیے پوری طرح تیار ہوں گے۔ لہٰذا مجھے یقین ہے کہ ہم تیزی سے اپنے ہدف کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

سوال: چنانچہ مطلق طور سے ۔۔۔

وزیرخارجہ پومپئو: جی، یقینی طور پر صدر کی پہلی مدت کے عرصہ میں۔

سوال: میں معذرت چاہتا ہوں، یہ کس کی جانب اشارہ ہے؟

ہیدا نوئرٹ: خواتین و حضرات، وزیرخارجہ کے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔

سوال: صدر کی پوری مدت کے دورانیے میں کیا ہو گا؟

وزیرخارجہ پومپئو: جیسا کہ آپ نے بڑے پیمانے پر جوہری اسلحے کے خاتمے کی بات کی ہے، ہمیں امید ہے کہ ہم یہ ہدف آئندہ ڈھائی برس میں حاصل کر لیں گے۔

سوال: آپ پُرامید ہیں، مگر کیا آپ نے شمالی کوریا کے لیے بھی کوئی حتمی تاریخ مقرر کی ہے؟

وزیرخارجہ پومپئو: ہمیں امید ہے کہ ایسا ہو جائے گا۔ ابھی بہت سا کام باقی ہے۔

سوال: شکریہ

ہیدا نوئرٹ: ٹھیک ہے، سبھی کا شکریہ

سوال: آپ کا بے حد شکریہ

وزیرخارجہ پومپئو: ٹھیک ہے، سبھی کا شکریہ

سوال: شکریہ جناب

وزیرخارجہ پومپئو: سبھی کو شب بخیر

سوال: بہت بہت شکریہ۔

وزیرخارجہ: کچھ آرام کر لیجیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں