rss

امریکہ کے معاشی احیا پر وزیرخارجہ مائیک پومپئو کا بیان

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
18 جون 2018
ڈیٹرائٹ اکنامک کلب
ڈیٹرائٹ، مشی گن

 

مسٹر گریگورین: مجھے گاہے بگاہے ڈیٹرائٹ اکنامک کلب میں خطاب کرنے والوں کی غیرمعمولی تاریخ پر روشنی ڈالنا پسند ہے اور آج بھی ایسا ہی دن ہے۔ اب اس کلب کو وجود میں آئے 84 برس ہو چکے ہیں۔ وزیر پومپئو، جناب اب آپ بھی ان تین دیگر وزرائے خارجہ کی ممتاز فہرست میں شامل ہو چکے ہیں جنہوں نے ڈیٹرائٹ اکنامک کلب میں ہمارے پوڈیم کو عزت بخشی۔ میں اس فہرست میں موجود  نام گنوانا چاہوں گا۔ ان میں وزیرخارجہ ڈین رسک نے ستمبر 1964 اور ستمبر 1957، وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے نومبر 1975 جبکہ وزیرخارجہ جارج شلز نے مئی 1984 اور جولائی 1987 میں یہاں خطاب کیا۔ جناب آج ہمیں خوشی ہے کہ آپ ‘ڈی ای سی’ میں خطاب کرنے والے وزرائے خارجہ میں چوتھا اضافہ ہیں۔ مبارک باد اور شکریہ (تالیاں)

آخر میں ہمارے پروگرام کا ایک مقبول ترین جزو حاضرین کے سوال و جواب ہیں،  اور ہاں، جناب وزیر آپ کے کڑے ترین سوالات کے جواب دینے پر بھی رضامند ہو گئے ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے ہدایات آپ کی میزوں پر لگی سکرین پر دکھائی دے رہی ہیں۔ آپ اپنے سمارٹ فون سے بھی کام لے سکتے ہیں۔ یہ سوالات ہمارے نگران افسر کے پاس جائیں گے جنہیں میں نے ابھی کام پر لگانا ہے۔ یہاں جیری اینڈرسن سے سبھی واقف ہیں۔ وہ ‘ڈی ٹی ای انرجی’ کے چیئرمین اور سی ای او ہیں مگر یہاں ہم سب کے لیے اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ ڈیٹرائٹ اکنامک کلب کے چیئرمین ہیں اور ہم ان کی قیادت کو سراہتے ہیں۔ مجھے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس شہر، علاقے اور ہماری ریاست میں ہونے والے بہت سے زبردست کاموں کے پیچھے جیری اور ‘ڈی ٹی ای’ کا ہاتھ ہے۔ لہٰذا خواتین و حضرات، اب مجھے یہ اجلاس جناب جیری اینڈرسن کے حوالے کر کے خوشی ہو گی۔

مسٹر اینڈرسن: شکریہ سٹیو۔ جناب وزیر، ارکان اور مہمانان گرامی، سہ پہر بخیر۔ ڈیٹرائٹ  اکنامک کلب کے بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے مجھے آج آپ کی میزبانی پر بے حد خوشی ہے۔ جناب وزیر، میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے اپنے پالیسی خطاب کے سلسلے میں ڈیٹرائٹ شہر کا انتخاب کیا۔

قابل احترام مائیک پومپئو نے 26 اپریل 2018 کو وزیرخارجہ کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ قبل ازیں وہ جنوری 2017 سے اپریل 2018 تک سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ میں شمولیت سے پہلے وہ چوتھی مدت کے لیے کنساس کے فورتھ ڈسٹرکٹ سے ایوان نمائندگان کے رکن تھے۔ کانگریس کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے ہاؤس کی انٹیلی جنس کمیٹی، توانائی و تجارت کی کمیٹی اور بن غازی پر ایوان کی منتخب کمیٹی میں کام کیا۔

کانگریس میں خدمات انجام دینے سے قبل وزیرخارجہ نے ‘تھیئر ایروسپیس’ نامی کمپنی قائم کی  جس میں انہوں نے ایک دہائی تک سی ای او کے طور پر کام کیا۔ بعدازاں وہ تیل کے کنوؤں سے متعلقہ سازوسامان کی تیاری، تقسیم اور اس ضمن میں خدمات مہیا کرنے والی ‘کمپنی سینٹری انٹرنیشنل ‘کے صدر بن گئے۔

وزیرخارجہ پومپئو نے 1986 میں یونائیٹڈ سٹیٹس  ملٹری اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ سے گریجوایشن مکمل کی اور اپنی جماعت میں اول رہے۔ بعدازاں انہوں نے دیوار برلن گرنے سے پہلے ‘آئرن کرٹن’ کے قریب گشتی کیولری افسر کے ظور پر خدمات انجام دیں۔ وہ امریکی فوج کے چوتھے انفینٹری ڈویژن کی ساتویں کیولری رجمنٹ کے دوسرے سکواڈرن میں بھی کام کر چکے ہیں۔

فوجی ملازمت کے بعد وزیر پومپئو نے ہاورڈ لا ء سکول سے گریجوایشن کی اور اس دوران ہاورڈ لاء  ریویو کے مدیر بھی رہے۔ وہ کیلی فورنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور آج ہمیں ڈیٹرائٹ میں انہیں اپنے ساتھ دیکھ کر بے حد خوشی ہے۔

لہٰذا ڈیٹرائٹ اکنامک کلب کی جانب سے وزیرخارجہ مائیک پومپئو کے گرمجوش خیرمقدم میں میرا ساتھ دیجیے۔ (تالیاں)

وزیرخارجہ پومپئو: شکریہ۔ شکریہ جیری، میری میزبانی پر ڈیٹرائٹ اکنامک کلب کا بھی شکریہ۔ یہاں آنا میرے لیے بے حد خوشی کی بات ہے۔ ٹویٹر پر اس حوالے سے اتنا کچھ دیکھ کر میں واقعتاً گھبراہٹ محسوس کر رہا ہوں۔ میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ میرا نام رسک، کسنجر اور شلز جیسی شخصیات کے ساتھ لیا جائے۔ میری کوشش ہے کہ اپنا کام اس انداز میں کروں جس سے ہمارے ملک کو ویسی ہی عزت ملے جو ان شخصیات نے دلائی۔

یہاں آنے سے قبل جب یہ خطاب طے ہوا تھا تو میں سی آئے اے کا ڈائریکٹر تھا۔ اسی وقت میں نے یہ دعوت قبول کی تھی۔ اسی لیے میری باتیں جاسوسی اور معاشیات سے متعلق تھیں۔ میں اس جانب واپس آؤں گا۔ مگر آج میرا کردار قدرے مختلف اور قدرے مزید عوامی نوعیت کا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں نیلی یا سبز کے بجائے سرخ ٹائی لگا کر یہاں آیا ہوں جو میرے خیال میں اس جگہ سے فطری مطابقت رکھتی ہے۔ فوج اور بحریہ کے حوالے سے بھی میری یہی صورتحال ہے جہاں میں ہمیشہ سیاہ یا سنہری ٹائی پہنتا ہوں۔

صدر ٹرمپ خاص طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے اندرون ملک مضبوط ہونا پڑے گا۔ ڈیٹرائٹ جیسی ترقی یافتہ جگہیں دنیا بھر میں ہماری قوت میں اضافے کا سبب ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اندرون ملک مضبوط ہوئے بغیر بیرون ملک ایسی قوت کا حصول ناممکن ہے۔ مجھے آج آپ سے دفتر خارجہ کے کام کی بابت بات کرتے ہوئے اور یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہے کہ دولت کی تخلیق میں کیسے ہم آپ کی معاونت کرتے ہیں، ہم امریکی کاروبار اور خاندانوں کے کام کیسے آتے ہیں اور شاید اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیوں اہم ہے اور آج میں جو ذمہ داری انجام دے رہا ہوں اس میں اس کی کیا اہمیت ہے۔

میں جانتا ہوں جب آپ نے مجھے یہ کہتے سنا کہ ہم کیسے آپ کی مدد کر رہے ہیں ۔۔۔ جب کوئی حکومتی عہدیدار آپ کو یہ بتاتا ہے کہ وہ آپ کی مدد کرنے آیا ہے تو لوگوں کی بھنویں تن جاتی ہیں۔ میں اس بات کو سمجھتا ہوں، جیسا کہ جیری نے بتایا میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ نجی شعبے میں رہا ہوں، میں نے جوانی کا بیشتر حصہ وہیں گزارا ہے۔ میں نے دو چھوٹے سے کاروبار کیے تھے۔ یہ مینوفیکچرنگ کمپنیاں  تھیں۔ مگر اس سے پہلے میں نے دو مرتبہ باسکن روبن میں مہینے کے بہترین ملازم کا اعزاز حاصل کیا تھا (قہقہہ) اس وقت میری والدہ کو بے حد خوشی ہوئی تھی۔ باقی لوگوں کو چھوڑ کر میری والدہ کے نزدیک یہ بہت اچھی کامیابی تھی۔

ہمارے کاروبار کی بنیاد مضبوط امریکہ اور عالمگیر گاہکوں پر تھی۔ پہلے کاروبار میں ہم نے بوئنگ، گلف سٹریم، لاک ہیڈ، سیسنا اور رے تھیون کو پرزہ جات فروخت کیے ۔ ہمارا کاروبار ترقی کرتے ہوئے 100 ملین ڈالر سالانہ تک پہنچ گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے بہت چھوٹے پیمانے پر کام شروع کیا تھا اور کچھ ہی عرصہ بعد دونوں کمپنیوں کا کاربار دنیا بھر میں پھیل گیا۔

‘تھیئر ایروسپیس’ میں میرے ساتھ کام کرنے والے لوگ حقیقی معنوں میں امریکی تھے۔ فیکٹری میں اپنی ذمہ داری کے علاوہ وہ کوئی دوسرا کام بھی کیا کرتے تھے جس میں کھیتوں میں دودھ دوہنا اور کھیتی باڑی وغیرہ شامل ہے۔ میں نے تیل کے کنوؤں سے متعلق جو کمپنی چلائی اس کی بھی یہی صورتحال تھی۔ اس میں ہم مشینی پرزہ جات، سٹیل کی اشیا، زمین میں سوراخ کرنے والی مشینیں، تیل کھینچنے والے آلات، پھرکیاں اور ایسی دوسری چیزیں بنا کر فروخت کیا کرتے تھے۔

آج آپ کو یہ داستان سنانے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں امریکہ کو مضبوط بنانے اور کامیاب خارجہ پالیسی کے لیے دفتر خارجہ کا کردار کیونکر اہم ہے۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ معاشی حوالے سے بھی دفتر خارجہ کا کردار اس کے دیگر امور جتنا ہی اہم ہے جس پرعموماً  زیادہ دھیان نہیں دیا جاتا۔

دفتر خارجہ کے حوالے سے عموماً آپ کو انہی کاموں کی بابت سننے کا موقع ہی ملتا ہے جو ہم شمالی کوریا، ایران یا افریقہ وغیرہ میں کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ معاشی سفارت کاری کو دفتر خارجہ کے کام میں ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم امریکی مفادات کے حصول اور اپنی اقدار کے دنیا بھر میں فروغ کے لیے امریکی طاقت، اپنی معاشی قوت  اور اثرورسوخ کو پالیسی کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم یہ کام درست طور سے کریں تو اس سے اندرون ملک خوشحالی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہم ایسے تعلقات استوار کرتے ہیں جن سے نوکریاں تخلیق پاتی ہیں، امریکی کاروبار مستحکم ہوتے ہیں اور اندرون ملک معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ہم غیرمنصفانہ معاشی طرزعمل کے خلاف آواز اٹھانے اور منڈی میں داخلے کی راہ میں رکاوٹیں توڑنے کے لیے اپنی بہترین کوشش کرتے ہیں تاکہ ہماری کمپنیوں کو دنیا بھر میں اپنی اشیا بیچنے کے لیے جائز اور یکساں مواقع میسر آ سکیں۔

یہ بہت پرانا سلسلہ ہے۔ آپ نے تین بڑے ناموں کا تذکرہ کیا۔ وزیرخارجہ تھامس جیفرسن نے 1790 میں لکھا تھا کہ بحیرہ روم میں امریکی تجارت کا تحفظ ان کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس تجارت میں مسائل کا سامنا ہے کیونکہ شمالی افریقہ کے بحری قذاق ہمارے تجارتی جہازوں پر حملے کر رہے تھے۔ آج یہ مسئلہ قدرے مختلف ہے تاہم ہماری اشیا کی چوری بدستور امریکہ کے لیے بنیادی مسئلہ ہے۔

آج دفتر خارجہ کے معاشی شعبے میں 200 افسر کام کر رہے ہیں جبکہ دنیا بھر کے سفارت خانوں میں 1500 معاشی افسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں ہر ایک کا کام یہ امر یقینی بنانا ہے کہ ہماری معیشت پوری دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط و متحرک ہو۔ ہمیں امید ہےکہ ہم اس انداز میں بھی آپ کی معاونت کر سکتے ہیں۔ جب آپ دنیا بھر میں سفر کرتے ہیں تو ہم اپنے سفارت خانوں میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہم آپ کو معاشی حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کی بابت آگاہ کریں گے۔ ہم ان جگہوں پر ضوابطی امور کے سلسلے میں آپ کی مدد کریں گے۔ درحقیقت امریکی کمپنیوں کو دنیا بھر میں کامیابی کے مواقع کے حصول میں مدد دینا ہمارا کام ہے۔

ہمارے پاس بیرون ملک تجارتی خدمات کے شعبے میں محکمہ تجارت کے شراکت کار موجود ہیں جو یہی کام کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ امریکی ٹیکس دہندگان کو دیے گئے اس ذریعے سے فائدہ اٹھائیں گے۔

آج یہاں اس حوالے سے ہمارے پاس ایک اچھی مثال موجود ہے۔ نکاراگوا میں ہمارا سفارت خانہ محکمہ تجارت کے تعاون سے مقامی شراکت کار ‘فلیکس بلڈنگ سسٹمز’ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ میں ماضی میں آپ میں کچھ لوگوں سے مل چکا ہوں، یہ مشی گن سے تعلق رکھنے والے کمپنی ہے جو گھروں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی اشیا تیار کرتی ہے۔ ہمیں فلیکس کے ساتھ کام کر کے خوشی ہے۔ انہوں  نے بہت سی قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کے لیے فوری تیار ہونے والے اور سستے مکانات بنائے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وسطی امریکہ، غرب الہند اور افریقہ کے دوردراز علاقوں میں سکولوں اور طبی مراکز کی تعمیر میں بھی مدد دی ہے۔ میں یہاں موجود آپ سبھی لوگوں سے بے حد خوش ہوں۔ یہ دفتر خارجہ کی جانب سے کاروباری طبقے کے ساتھ مل کر مسائل کے کامیاب حل اور امریکہ میں دولت تخلیق کرنے کی کی اچھی مثال ہے۔

معاشی سفارت کاری ہماری قومی سلامتی کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کے مطابق معاشی سلامتی ہی درحقیقت قومی سلامتی ہوتی ہے۔ جیسا کہ انہوں نے بیان کیا ہے یہ دونوں ہم معنی ہیں۔ آپ سبھی جو کام اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں ان کے مواقع کی فراہمی یقینی بنانا اس خوشحالی  کی تخلیق میں نمایاں اہمیت رکھتا ہے جو ہماری سلامتی اور آزادیوں کو تقویت پہنچاتی ہے۔

معاشی سفارت کاری دنیا بھر میں ہمارے اتحادوں کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ جب میں نے اپنے دونوں چھوٹے کاروبار کیے تو مجھے اس کا اچھی طرح اندازہ ہوا۔ دنیا جانتی ہے کہ امریکی معیشت دنیا میں سب سے بڑی اور سب سے زیادہ پراثر ہے اور کھل کر کہا جائے تو یہ دنیا میں سب سے زیادہ اختراعی معیشت بھی ہے۔ ہمارے دوست دشمن دونوں اس پر رشک کرتے ہیں۔ معیشت انتہائی اہم ترین ذرائع میں سے ایک ہے، میں نے  دنیا بھر میں سفر کیااور دیکھا کہ معیشت ہی آپ کا اعتبار اور ساکھ قائم کرتی ہے۔ یہ ہمارے اتحادیوں کو مشترکہ اہداف کی جانب لاتی ہے اور ان سے ہمارے وعدوں کی تکمیل میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ میں ہماری ٹیم معاشی سفارت کاری کے لیے پرعزم ہے۔ میں نے معتدد مرتبہ اس بارے میں صدر سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے جو پہلا مقصد یاد دلایا ہے وہ نوکریاں تخلیق کرنا اور امریکہ میں دولت پیدا کرنا ہے۔ مگر اس مقصد کے لیے ہمیں عالمی سطح پر اقدامات درکار ہوں گے۔ قبل ازیں کہ میں اس پر بات کروں مجھے گزشتہ 17 ماہ میں اندرون ملک اپنی کارکردگی کی بابت بتانا ہے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ نے قریباً 30 لاکھ نئی نوکریاں پیدا کی ہیں جن میں تین لاکھ سے زیادہ کا تعلق مینو فیکچرنگ کے شعبے سے ہے۔ یہ بات میرے لیے اور اس عظیم شہر کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ اسی طرح تین لاکھ سے زیادہ نوکریاں تعمیراتی شعبے میں پیدا ہوئی ہیں۔ ملک میں بیروزگاری کی شرح اپریل 2000 سے اب تک کم ترین سطح پر ہے اور ہر نئے ضابطے کے مقابل ہم نے 22 پرانے اور فاضل ضوابط سے چھٹکارا پایا ہے۔ اس سے یہاں مشی گن میں چیری کے کاشتکاروں اور گاڑیاں بنانے والوں کو فائدہ ہوا ہے، اس سے کنساس جیسی جگہوں پر توانائی کے پیداکاروں کو فوائد حاصل ہوئے ہیں اور کھل کر کہا جائے تو اس سلسلے میں روبہ عمل ہر کاروبار نے فائدہ اٹھایا ہے۔ ٹیکسوں میں 3.2 ٹریلین ڈالر کمی ہوئی ہے جس سے آپ لوگوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ اب 67 فیصد امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نوکریاں ڈھونڈنے کا بہترین وقت ہے۔ اب روزگار کی تعداد بیروزگاروں سے بڑھ گئی ہے۔ ہمیں مزید نوکریاں پیدا کرنا ہیں اور ایسی افرادی قوت تیار کرنا ہے جس سے ان نوکریوں میں مدد مل سکے۔

معاشی ترقی کے حوالے سے یہ تمام باتیں یہاں ڈیٹرائٹ پر صادق آتی ہیں۔ آپ اسے نشاۃ ثانیہ اور ڈیٹرائٹ کی بحالی بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو اس پر فخر ہونا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پورے امریکہ میں یہی حالات ہیں اور اعدادوشمار اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کاروبار کے نقطہ نظر سے یہ اہم بات ہے مگر یہ ان مردوخواتین کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے جو اب موسم گرما کی نوکری تلاش کریں گے یا جو ہائی سکول سے تجارتی تعلیم میں فارغ التحصیل ہونے یا کالج سے ڈپلومہ لینے کے بعد کام کی تلاش میں نکلیں گے۔ ان لوگوں کے لیے مواقع تخلیق کرنا دفتر خارجہ کی ذمہ داری ہے۔

میں نے صدر کی کامیابیوں کی فہرست گنوائی کیونکہ میرا روزانہ کا کام انہی امور  کی تکمیل کرتا ہے۔ ان میں سے کوئی  بھی بنیادی طور پر دفتر خارجہ کے اقدامات نہیں تھے۔ مگر میں جانتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کے پاس بیرون ملک اپنی اشیا بیچنے اور وہاں سے چیزیں خریدنے کے مواقع نہ ہوں تو پھر ترقی نہیں ہو سکے گی۔ ہم پر 21 ٹریلین ڈالر قرض ہے اور ہمیں اپنا طرز زندگی برقرار رکھنے کے لیے بہت بڑی معاشی ترقی درکار ہے۔

مگر مجھے آپ کو بتانا ہے کہ میں نے اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ میں نے اپنے موجودہ ذمہ داری اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے گزشتہ کردار میں یہ دیکھا ہے۔ ہماری معیشت کی یہ متحرک نوعیت ہمیں سکھاتی ہے۔ ہمارا نمونہ دنیا کے زیادہ حصوں میں اختیار نہیں کیا گیا۔ کھل کر کہا جائے تو آج دنیا میں بعض کامیاب ترین معیشتیں ہمارے نمونے پر نہیں چل رہیں مگر مجھے یقین ہے کہ وہ اس پر چلیں گی۔ وہ ایسا ہی کریں گی کیونکہ معاشی ترقی کے لیے سرمایہ داری اور امریکی معیشت کی سی متحرک نوعیت لازمی حیثیت رکھتی ہیں۔

آپ کچھ دیر کے لیے اس سے صرف نظر کر سکتے ہیں مگر آخر میں تحرک، تخلیقیت اور اس سے حاصل ہونے والی اختراع ہمارے جیسے سیاسی ماحول میں ہی جنم لے سکتی ہے جہاں ہر فرد کو کامیابی کے لیے شفافیت اور مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔

میں دفتر خارجہ کی جانب اسے اس ضمن میں اختیار کردہ چند طریقہ ہائے کار کی بابت بتانا چاہتا ہوں۔ پہلا یہ کہ ہم دنیا کے معاشی منظرنامے پر امریکی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اگر امریکی حکومت موثر معاشی تعلقات اور اقدامات کو فروغ نہیں دیتی تو پھر چین ہماری جگہ لے لے گا۔ مگر ایسا کرتے ہوئے ہم اپنی معاشی خودمختاری نہیں گنوا سکتے۔ بریگزٹ کے تجربے اور یورپی یونین کی صورتحال سے عیاں ہے کہ جب معاشی خودمختاری کھو جائے تو پھر اس کا دوبارہ  حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کو مرکزیت دینے والی معاشی پالیسیاں دولت کی تخلیق اور بیک وقت صارفین اور کاروبار کی کامیابی کے لیے درکار آزاد منڈی کی اہلیت کو ختم کر دیتی ہیں۔

دوسری بات، یہ امر یقینی بنانا دفتر خارجہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ منڈیاں کھلی رہیں۔ جب سے ہم نے ذمہ داری سنبھالی ہے تب سے ہمیں کارباری رکاوٹیں دور کرنے کے ضمن میں بہت سی کامیابیاں ملی ہیں تاہم ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ مثال کےطور پر جنوبی کوریا بہت سی مزید امریکی آٹو درآمدات کو اجازت دینے پر راضی ہو گیا ہے، یہ یہاں ڈیٹرائٹ میں ‘بگ تھری’ کی دیرینہ ترجیح تھی۔ امریکہ کوریا تجارت کے حوالے سے دیگر معاملات کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ارجنٹائن میں ہم نے انہیں امریکی پیداکاروں کے لیے پورک کی منڈی دوبارہ کھولنے پر راضی کیا ہے جو 1992 سے بند تھی۔ مجموعی طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ اگر یہ امریکہ کی چیز ہے تو ہمیں اس تک رسائی درکار ہے۔ جب ہمیں یہ رسائی مل جاتی ہے تو مجھے اعتماد ہےکہ امریکی ہر وقت اپنے حریفوں پر غالب رہیں گے۔

تیسری بات یہ کہ ہم امریکہ میں عالمی سرمایہ کاری لانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ہمارے چھوٹے کاروباروں سمیت بہت سی تجارتی سرگرمیوں کا انحصار اسی سرمایہ کاری پر ہے۔ ہم سعودی عرب سے امریکہ میں مزید سرمایہ کاری کے لیے کہہ رہے ہیں۔ صدر نے اپنے پہلے دورے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔ جب بیرون ملک سے رقم آتی ہے تو اس کے ساتھ امریکہ میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

چوتھی بات یہ کہ ہم امریکہ میں توانائی کے فراواں وسائل پر سرمایہ کاری کریں گے۔ اس سے ہمیں بہت بڑا فائدہ ہے۔ یہ عام فہم بات ہے کہ ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ ہم ایسی کون سی قیمت پر ان سے پیداوار حاصل کر سکتے ہیں جو دنیا میں دیگر جگہوں سے حاصل ہونے والی پیداوار کا مقابلہ کر سکے۔ ہم نے شمالی ڈکوٹا، اوہائیو، پنسلوانیا اور دیگر مقامات پر یہی کچھ کیا ہے۔ درحقیقت اپنی برآمدات بڑھانا ہماری سلامتی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ہم یورپ کو برآمد کریں گے تو اس سے روس کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ اگر ہم ایشیا میں برآمد کر سکتے ہیں تو پھر چین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

ہم نے ‘چینائر’ جیسی کمپنیوں کے ذریعے توانائی کے ضمن میں سفارت کاری کے فوائد دیکھے ہیں۔ یہ لوزیانا سے قریباً دو درجن ممالک کو قدرتی گیس فراہم کر رہی ہے۔ اس کمپنی نے قریباً ایک ہزار براہ راست نوکریاں پیدا کی ہیں جبکہ اس کے کام کی بدولت ایک لاکھ بالواسطہ نوکریاں پیدا ہوئی ہیں۔ ہم نے یہ توانائی حاصل کرنے والے ممالک کو تکنیکی معاونت بھی فراہم کی ہے جو دوسروں کے بجائے امریکہ سے توانائی لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ سے ہٹ کر دوسرے ممالک سے توانائی لینے پر انہیں ان ملکوں کا محتاج ہونا پڑتا ہے اور یہ بات  ان کے ملکی مفاد سے مطابقت نہیں رکھتی ۔

کھل کر بات کی جائے تو ہم امریکہ کے لیے نقصان دہ غیرملکی تجارتی طور طریقوں پر واقعتاً کڑے اقدامات کر رہے ہیں۔ خواہ یہ انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی چوری کے ذریعے ٹیکنالوجی کے میدان میں ہماری قیادت کو درپیش خطرات ہوں یا ٹیکنالوجی کی جبری منتقلی کا معاملہ ہو، ہم امریکی اثاثہ جات کا تحفظ سختی سے یقینی بنائیں گے۔ آج اس ضمن میں چین کے کردار سے سبھی واقف ہیں۔ چین کی جانب سے جس پیمانے پر ٹیکنالوجی چوری کی جا رہی ہے اس کی پہلےکوئی مثال نہیں ملتی۔ جمعرات کی شب میری چینی صدر ژی سے ملاقات ہوئی اور اس دوران میں نے انہیں بتایا کہ یہ منصفانہ مسابقت نہیں ہے۔

چین والے منفی سائبر سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔ وہ ناصرف معاہدوں کے ذریعے جبراً ٹیکنالوجی کی منتقلی میں ملوث ہیں بلکہ اس کی سیدھے سبھاؤ چوری کا ارتکاب بھی کر رہے ہیں۔ اسے روکنا ہم سب کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

چین دنیا بھر میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ہم اس کے مخالف نہیں ہیں مگر ہمیں یہ امر یقینی بنانا ہے کہ اس سرمایہ کاری سے چین کو ہماری منڈی یا تجارت پر ناجائزہ فائدہ حاصل نہ ہونے پائے۔ وہ دوسرے ممالک پر سیاسی طور پر اثرانداز ہونے کے لیے سرمایہ کاری سے کام لے رہے ہیں اور امریکی سفارت کاری کا تقاضا ہے کہ اس ضمن میں ملک کو ممکنہ طور پر درپیش منفی اثرات روکنے کے لیے ہرممکن کوشش کی جائے۔

آپ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں میں یہی کچھ دیکھا ہو گا۔ طویل عرصہ تک امریکہ نے آزاد تجارت میں ایسے اقدامات کی اجازت دیے رکھی جس سے دوسرے ممالک کو فائدہ پہنچا۔ یاد رہے کہ ہماری سفارت کاری کا مقصد امریکی کارکنوں اور امریکی کاروبار کو ترجیحی بنیاد پر فائدہ پہنچانا ہے۔

یہ صرف چین سے متعلق مسئلہ نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ جی7 ممالک کے ساتھ بے ترتیب تجارتی تعلقات پر بھی بنیادی طور پر ازسرنو غور ہونا چاہیے۔ انہیں اپنی تجارتی رکاوٹوں میں کمی لانی چاہیے، انہیں ہماری سبزیاں، ہمارا گوشت، ہمارے پھل اور ہماری مشینی پیداوار بھی خریدنی چاہیے۔ یہ نان ٹیرف رکاوٹیں ہیں اور آزاد و منصفانہ تجارت کے لیے ان کا خاتمہ ضروری ہے۔

یہ سادہ سا اخلاقی اصول اور منصفانہ سلوک کا معاملہ ہے۔ جیسا کہ آپ نے جی7 میں دیکھا ہو گا صدر نے واضح کر دیا کہ ہم ہر پیداوار پر صفر فیصد ٹیرف پر خوش ہیں۔ ہم تمام امدادی قیمتوں کے خاتمے پر خوش ہیں۔ ہمیں ان کی تمام چیزوں پر نان ٹیرف رکاوٹیں اٹھائے جانے پر خوشی ہو گی۔ اگر تمام ملک ایسا کریں تو ہم بھی یہی کچھ کریں گے اور مجھے یقین ہے کہ اس سے امریکی معیشت ترقی پائے گی۔

جب ملک کے تحفظ کا معاملہ تو تب بھی آپ نے یہی مشاہدہ کیا ہو گا۔ صدر سلامتی کے حوالے سے یکساں بوجھ اٹھانے کی بابت بہت کچھ کہتے رہتے ہیں۔ شمالی کوریا کے معاملے میں بھی ہم نے یہی دیکھا اور ہمارے اتحادیوں نے اس سلسلے میں مثبت ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے سنگاپور میں کی گئی کوشش حقیقی معنوں میں معاشی سفارتی کاری کے بغیر ممکن نہ ہوتی۔ صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کے لیے دنیا کے تمام مالک کو اس انداز میں ساتھ لیا کہ اسے اپنی سلامتی کی صورتحال پر ازسرنو غور کرنا پڑا اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ جوہری ہتھیار اس کی سلامتی کی ضمانت نہیں ہیں بلکہ ان سے اس کی قیادت اور حکومت دونوں کو خطرہ ہے۔ یہ معاشی سفارت کاری کی کامیاب مثال ہے ۔

ابھی اس حوالے سے بہت سا کام باقی ہے۔ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں یہ کام مشکل نوعیت کا ہو گا۔ مگر اب ہم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ شمالی کوریا کے لوگوں کو بھی معاشی کامیابی میسر آئے گی۔ جیسا کہ صدر نے کہا، شمالی کوریا کے روشن مستقبل سے کسی کو نقصان نہیں ہو گا بلکہ سبھی کو فائدہ پہنچے گا۔

اس کامیابی کے پیچھے طویل تاریخ ہے۔ ہم مارشل پلان جیسی  چیزوں کو بھول جاتے ہیں۔ ہم نے طویل عرصہ پہلے یورپ کو 110 ارب ڈالر دیے تھے۔ جب ہمارے یورپی شراکت داروں کو مدد کی ضرورت تھی تو ہم نے انہیں معاونت فراہم کی۔ مگر اب اس بات کو 70 برس ہو چکے ہیں اور اب ہمیں ان تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم آنے والے وقتوں میں بھی کینیڈا اور یورپ کے ساتھ بھرپور تجارت جاری رکھ سکیں۔

اگر آپ دیکھیں تو بہت سے لوگ ٹیرف عائد کیے جانے کے اقدام پر تنقید کرتے ہیں۔ مگر اپنے آپ سے پوچھیے، چین نے امریکہ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے کیا وہی کچھ وہ اپنے ساتھ ہونے دے گا؟

ان کی ایلومینیم اور سٹیل کی صنعتوں کو ہی دیکھ لیجیے۔ چین میں سٹیل اور ایلومینیم کی پیداوار ملکی ضروریات سے زیادہ ہے۔ وہ اس پیداوار کو بند نہیں کرنا چاہتے اور فاضل پیداوار برآمد کرتے ہیں۔ یہ فاضل پیداوار اس قیمت پر یہاں امریکہ آتی ہے جس کا مقامی کمپنیاں مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

یہ غارت گر معاشیات ہے اور بہت سے دوسرے ملک بھی ہمارے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اب اس توازن کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

گزشتہ چند ہفتوں میں چینی رہنماؤں نے کھلے پن اور عالمگیریت کے دعوے کیے جو سراسر مذاق ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پوری دنیا میں غارت گر معاشی پالیسیوں سے کام لینے والی سب سے بڑی حکومت ہے۔ یہ مسئلہ طویل عرصہ سے حل طلب ہے۔

صدر ‘نیفٹا’ اور میکسیکو کے معاملے پر کڑی محنت کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ایسے معاہدوں میں کامیاب رہیں گے جن سے میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ ساتھ امریکی کارکنوں کو بھی فائدہ ہو گا۔ 24 سال پہلے ‘نیفٹا’ کے آغاز سے اب تک بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے اور ہمارا مقصد ایسے نتیجے کا حصول ہے جس سے یہ حالات ازسرنو متوازن ہو جائیں۔ ہم امریکی کارساز صنعت اور دوسرے شعبہ جات کے لیے یکساں مواقع یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ بیرون ملک کے بجائے اندرون ملک مینوفیکچرنگ کو ترقی دی جائے۔

یقیناً یہاں مشی گن میں آپ کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ہمارے ہاں کار سازی کی 23 فیصد صنعت یہیں ہے۔ ‘نیفٹا’ سے متعلق ہماری مذاکراتی ٹیمیں اپنے کینیڈین اور میکسیکن ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں اور مجھے بڑی امید ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ہم ایسے معاہدوں کا اعلان کر سکیں گے جن سے میرے خیال میں عالمی  معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔ میں طبعاً رجائیت پسند ہوں۔ میرا کام بھی یہی تقاضا کرتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ بھی ایسے ہی ہیں۔

دوسری جنگ عظیم میں اس خطے نے جمہوریت کے تحفظ میں مدد دی۔ اسے قدرے مشکل حالات کا سامنا رہا ہے اور اب بھی بہتری کی جانب بہت سا سفر باقی ہے۔ مگر اب ہم نئی ترقی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہم امریکہ کے ہر بڑے شہر میں یہ ترقی دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم آپ کو منڈیوں تک رسائی میں مدد دے سکتے ہیں اور تجارتی توازن کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں تو یہاں ڈیٹرائٹ کے لوگ کامیابی پائیں گے۔

میں یہیں بات ختم کروں گا۔ امریکہ میں ہر چھوٹی کمپنی کے لیے ترقی کرنے کا موقع موجود ہوتا ہے۔ ایسی جگہ تک رسائی کا موقع ، جہاں آپ پہلے کبھی نہیں گئے یا اس کے بارے میں نہیں جانتے۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ اگر ہم دفتر خارجہ والے اپنا کام ٹھیک طریقے سے کریں تو آپ بھی ایسا کرنے کے قابل ہوں گے اور پھر اسے اس طریقے سے کریں گے جس سے آپ کو، آپ کے کاروبار اور آپ کے اہل خانہ کو فائدہ ہو گا اور یہ بہت بڑی بات ہے۔

لیکن سب سے اہم چیز جو آپ کریں گے وہ یہ ہے کہ آپ یہ سب اپنے ارد گرد موجود لوگوں، اپنی برادری کیلئے کریں گے۔ یہی وہ چیز ہے جو ہم دفتر خارجہ والوں کو ہر روز نئی قوت دیتی ہے کہ ہم اپنی اقتصادی ٹیم کی اس طریقے سے رہنمائی کریں کہ وہ امریکی سفارتکاری کو دنیا میں ہر جگہ پہنچا دے اور امریکی معیشت دنیا میں اسی طرح روشنی کا میناربن جائے  جیسے یہ ماضی میں رہی ہے۔

شکریہ۔ مجھے ڈیٹرائٹ اکنامک کلب میں مدعو کرنے کا شکریہ۔ یہ میرے لیے واقعی اعزاز ہے کہ میں آج آپ لوگوں کے ساتھ یہاں موجود ہوں۔ اگر آپ کسی موضوع پر سوال پوچھیں تو  مجھے خوشی ہو گی ،شکریہ۔

مسٹر اینڈرسن: ٹھیک ہے۔جناب  وزیر ، ہمارے پاس کچھ سوال ہیں جو آپ کے خطاب سے پہلے اور اس دوران ہمارے پاس پہنچے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ڈیٹرائٹ آٹو انڈسٹری کے نمائندے موجود ہیں اور آپ کے علم میں ہے  کہ کینیڈا کے ساتھ ہماری بیشتر تجارت مشترکہ سرحد کے ذریعے ہوتی ہے تو اس حوالے سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر تجارتی مذاکرات، ٹیرف اور ان کے اثرات کے حوالے سے کچھ سوالات آئے ہیں۔ اس لیے میں کوشش کروں گا کہ ان سوالوں کو جامع انداز میں ایک ہی سوال کی شکل میں آپ کے سامنے پیش کروں۔ سو آپ یہ بتائیے کہ تجارتی مذاکرات اور ٹیرف کے اطلاق کا امریکہ اور کینیڈا کے باہمی تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔ یہ شاید پہلا سوال تھا لیکن ایسے ہی سوال ہمارے یورپی اتحادیوں اور چین کے حوالے سے بھی ہیں۔

وزیر خارجہ پومپئو:  میں نے ہفتے کی صبح اپنی کینیڈین ہم منصب کرسٹیا فری لینڈ سے بات کی تھی۔ میرا خیال ہے وہ متفق ہیں۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ جب تجارتی مذاکرات مکمل ہوں گے تو امریکہ اور کینیڈا کے درمیان زیادہ تجارت، زیادہ لین دین اور زیادہ تجارتی آزادی ہو گی۔ میں اس بات کا پوری طرح قائل ہوں۔ میں نے اس حوالے سے جاری کام کو دیکھا ہے۔ کچھ ایسی چیزیں یقینا ًموجود تھیں جو ہمارے درمیان اختلاف کا باعث تھیں اور ہو سکتا ہے یہ اختلاف ختم ہو جائے یا برقرار رہے۔ کچھ ایسی  چیزیں  ہیں جو آج کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ صدر ان چیزوں کو آزمانے اور انہیں بہتر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ میں یہی بات  یورپ اور میکسیکو کے بارے میں بھی کہوں گا۔ میں ان سب کو اس حوالے سے ایک ہی جگہ دیکھتا ہوں۔

لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ کینیڈا کے ساتھ ہمارے تعلقات کہیں زیادہ وسیع ہیں اور صرف تجارتی تعلقات تک محدود نہیں۔ جب میری کرسٹیا سے بات ہوئی تو ہم نے ٹیرف کے بارے میں بھی بات کی اور ذہن میں موجود دیگر معاملات پر بھی گفتگو کی، لیکن ہم یوکرائن میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔ ان کے لوگ ہمارے ساتھ افغانستان میں بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے شمالی کوریا سے متعلق ہمارے کوششوں میں تعاون کی بھی پیش کش کی ہے۔ کینیڈا اس معاملے میں ناقابل یقین حد تک اہم ہے۔ ہمارے تعلقات کو بیان کرنے کے لیے صرف تجارت کافی نہیں اور میں پر اعتماد ہوں کہ جب یہ مذاکرات مکمل ہوجائیں گے تو امریکہ کے کینیڈا کے ساتھ تاریخی تعلقات اور یورپی ملکوں سے تعلقات ایک بار پھر اسی سطح پر آ جائیں گے جہاں وہ گزشتہ 70 سال سے رہے ہیں۔

مسٹر اینڈرسن: زبردست۔ ہمارے پاس شمالی کوریا کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔ میں ان میں سے دو تین کو ملا کر ایک ہی سوال پوچھتا ہوں۔ یہ بتائیے کہ کیا اب اس عمل کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اور اجلاس کی ضرورت ہے اور یہ کہ روس اور چین کا امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتے روابط پر کیا رد عمل ہے۔

وزیر خارجہ پومپئو: مجھے دوسرے سوال کا جواب پہلے دینے دیں۔ جب میں سنگاپور کے بعد بیجنگ گیا اور صبح سوا آٹھ بجے کے قریب اپنے چینی ہم منصب سے بات کی تو انہیں اس موقع کے حوالے سے خاصا پر جوش پایا۔ آخر یہ ان کے اپنے گھر کا معاملہ ہے۔ شمالی کوریا کے ایٹمی پھیلاؤ کے خطرے کے خاتمے کے حوالے سے تو وہ خود کئی بار خواہش ظاہر کر چکے تھے لیکن اس پر عمل درآمد کا کوئی محرک نظر نہیں آ رہا تھا۔ سو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کچھ مقامات پر ہمارے مفادات متصادم ہو سکتے ہیں لیکن مجموعی طور پر شمالی کوریا کی عالمی برادری میں نئی حیثیت کی تشکیل کے حوالے سے روس اور چین مکمل طور پر ہمارے ہم نوا ہیں۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیا ایک اور اجلاس کی بھی ضرورت ہو گی تو یہ جاننا ابھی مشکل ہے۔ دونوں طرف بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ میری ٹیم پہلے ہی یہ کر رہی ہے۔ میرے جلد وہاں دوبارہ جانے کا امکان ہے۔ ہمیں ابھی ان سب معاملات کو حتمی شکل دیناہے جن کے بارے میں اس دن سنگا پور میں وعدے وعید ہوئے۔ میں وہاں چیئرمین  کم کے ساتھ کمرے میں تھا۔ یہ تیسرا موقع تھا جب میری چیئرمین  کم سے بات ہوئی۔ دو بار پیانگ یانگ میں اور ایک بار سنگاپور میں۔ انہوں نے اپنے ملک کو جوہری اسلحے سے مکمل طور پر پاک کرنے  کا بہت واضح وعدہ کیا ہے۔ ہر چیز کو ختم کرنے کا یعنی صرف ہتھیار نہیں بلکہ ہر چیز۔ (تالیاں)

اس کے جواب میں صدر نے اس بات کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے کہ وہ اسلحے کے معاہدے کو اس سکیورٹی کی یقین دہانی میں بدل دیں گے جو چیئرمین  کم چاہتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو وہ ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا ہے یا نہیں جو صدر ٹرمپ نے اس روز اجلاس میں چیئرمین  کم کو دکھائی تھی جس میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریامستقبل میں  کیسا بن جائے گا۔ خوبصورت ساحل، اور ایک شاندار جگہ جو ہر لحاظ سے کامیاب ہو گی۔ ایسا کرنے کے لیے بہت سا کام کرنا ہو گا لیکن صدر ٹرمپ معاہدے کے اس حصے پر عمل درآمد کیلیے پر عزم ہیں۔ اور اگر ہم یہ دو کام کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہم ایک بہت بڑے خطرے کو ٹال دیں گے جو کئی دہائیوں سے امریکہ اور دنیا پر آسیب بن کر چھایا ہوا تھا۔

مسٹر اینڈرسن: زبردست۔ شکریہ۔ اب ہم براعظم بدلتے ہیں اور افریقہ کی طرف آتے ہیں۔ افریقہ تیزی سے ابھرتا اور بدلتا نظر آ رہا ہے۔ مزید یہ کہ چین اس براعظم میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ اس براعظم میں انتہاپسند تنظیموں کا مسئلہ بھی بہت سنگین ہے۔ ان تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے امریکہ اس براعظم میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیر خارجہ پومپئو: دراصل سی آئی اے کے سربراہ کے طور پر میرا آخری دورہ افریقہ ہی کا تھا۔ میں نے چھے دنوں میں چھے ملکوں کا سفر کیا اور یہ تمام مسائل اپنی آنکھوں سے دیکھے جن میں اسلامی مغرب میں الشباب اور القاعدہ جیسی تنظیموں کے خطرات شامل ہیں۔ پھر اس ملک کے اقتصادی مسائل بھی دیکھے۔ اس کے بعد میں جبوتی  گیا جہاں چین کو ایک اچھی خاصی بندرگاہ کے ساتھ ایک نئی بندرگاہ تعمیر کرتے دیکھا جو یقینا مستقبل میں جنگی مقاصد کیلئے استعمال ہو گی۔

سو جب میں افریقہ پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے وہاں دو چیلنج نظر آتے  ہیں۔ پہلا تو وہاں کی اسلامی انتہاپسندی ہے جس سے امریکہ کو خطرہ ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم وہاں جائیں اور اپنے ملک کو محفوظ کرنے کے لیے اس کا خاتمہ کریں۔ لیکن دوسری چیز اقتصادی مواقع ہیں۔ میں وہاں بہت زیادہ اقتصادی ترقی دیکھ رہا ہوں۔ وہاں آبادی کے تناسب کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ ایک دو دہائیوں میں کسی جگہ سے بھی زیادہ نمو ہو سکتی ہے۔ اقتصادی ترقی وہاں سست ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ وہاں بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں ہم انہیں تیزی سے آگے بڑھنے میں مدد دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں جب معیشتیں چھوٹی ہوتی ہیں تو  وہ سالانہ 8، 10 یا 14 فی صد کی شرح سے ترقی کر سکتے ہیں۔ ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے۔ اگر ہم بنیادی چیزوں  کو ان کی درست جگہ پر رکھیں جیسے قانون کی حکمرانی، املاک کے حقوق، اقتصادی ترقی کی درست تفہیم تو میں پر اعتماد ہوں کہ ترقی ہو گی اور اس انداز سے ہو گی جو چین کے بجائے  مغرب سے زیادہ مماثل ہو گا۔ اگر آپ دیکھیں کہ چین وہاں کیا کر رہا ہے تو وہ وہاں بہت پیسہ خرچ کر رہا ہے لیکن وہ پیسہ تجارتی استعمال کے لیے نہیں بلکہ اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ہے اور افریقی رہنما اس بات کو خوب سمجھتے ہیں اور اس سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور وہ متبادل ڈھونڈ رہے ہیں۔ وہاں امریکی موجودگی جس سے مراد حکومتی موجودگی نہیں بلکہ ہمارے تجارتی طبقے کی موجودگی ہے وہ ہمارے لیے واقعی ایک سنہری موقع ہو گی جس سے ایک تو ہمیں اپنی سرمایہ کاری سے فوائد حاصل ہوں گے اور دوسرا ہم ایک ایسا افریقہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کے مفادات چین کی نسبت ہم مغرب والوں سے زیادہ مطابقت رکھتے ہوں گے۔

مسٹر اینڈرسن: بہت خوب۔ ایک اور صورت حال جو آج کل خبروں میں ہے وہ وینزویلا کے حوالے سے ہے۔ وینزویلا کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جن میں اقتصادی معاملات بھی شامل ہیں اور سیاسی بھی۔ کیا ان کے حل کا کوئی قابل عمل راستہ ہے۔

وزیر خارجہ پومپئو: یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ وینزویلا گزشتہ چالیس سال سے اقتصادی طور پر ایک کامیاب ملک چلا آ رہا ہے اس لیے میں اس بارے میں مزید کوئی پیش گوئی نہیں کروں گا۔ ماڈورو حکومت نے اقتدار پر اپنی مضبوط گرفت رکھی ہے تاہم وینزویلا کے لوگوں کو بہت دکھ دیئے ہیں۔ ہم نے جنوبی اور وسطی امریکہ کو اس بحران سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے اور وینزویلا پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس راستے کی طرف واپس آئیں جو زیادہ جمہوری دکھائی دے۔ ہم نے اپنے اقتصادی پابندیاں لگانے کے اختیار کو بھی کسی حد تک استعمال کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ اس سے زیادہ بہتر کردار ادا نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے جمہوری اداروں کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں جنوبی اور وسطی امریکہ سے بھی مدد مانگ رہے ہیں۔

مسٹر اینڈرسن: یہ سوال جو میں پوچھنے والا ہوں نسبتاً ذاتی نوعیت کا ہے اور آپ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہے۔ آپ کو موجودہ ذمہ داریاں سنبھالے زیادہ وقت نہیں ہوا۔ کیا آپ کو کوئی حیران کن تبدیلی محسوس ہوئی۔ آپ محکمہ خارجہ کی سربراہی اور سی آئی اے کی سربراہی میں درپیش مسائل کا کیسے تقابل کرتے ہیں۔

وزیر خارجہ پومپئو: یقینا یہ دونوں بہت مختلف ہیں۔ سب سے پہلے تو جب میں سی آئی اے میں تھا، میرا سامنا کبھی کیمرے سے نہیں ہوا تھا اور میں اس سے بہت خوش تھا۔ (قہقہہ) چنانچہ یہ ایک بہت مختلف ذمہ داری ہے۔

دیکھیے دونوں اداروں کا بنیادی  کردار مختلف ہے۔ اگرچہ قیادت کی ذمہ داری زیادہ مختلف نہیں۔ یہ کردار اس سے زیادہ مختلف نہیں جو میں اس وقت ادا کرتا تھا جب میں’ تھیئر ایروسپیس’ یا ‘سنٹری انٹرنیشن’ل کا سربراہ تھا۔ اس میں دو طرح کے کردار ہیں ایک تو کسی بڑے ادارے کی ذمہ داری لینا اور وہاں کے لوگوں کو کمانڈر کے ارادوں سے آگاہ کرنا اور پھر ان لوگوں کو اختیار دینا کہ وہ آزادی سے اپنا کام کریں۔ مجھ پر ان دونوں جگہوں سی آئی اے اور محکمہ خارجہ میں بہت کرم رہا۔ میرے پاس بہت قابل لوگ ہیں۔ امریکہ اپنے چند بہترین لوگوں کو ان اداروں میں کام کرنے کے لیے بھیجتا ہے۔ اس کے لیے شکریہ۔

ان کے قائد کے طور پر میرا کام اس امر  کو یقینی بنانا ہے کہ وہ واضح طور پر سمجھ جائیں کہ صدر ٹرمپ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے  ہیں اور جواب میں ان خارجہ پالیسی اہداف کو میں کس طرح لاگو کرتا ہوں۔ اس کے بعد بیورو کریسی تک یہ بات پہنچانا کہ امریکہ کیا چاہتا ہے تاکہ وہ اس بات کو سمجھ سکیں کہ ہم کیا مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پھر اس کے مطابق آزادی سے اپنا کام کر سکیں۔ چنانچہ قیادت کی ذمہ داری اس سے مختلف نہیں جو ‘ تھیئر ایروسپی’س میں تھی۔ اگرچہ وہ آخری دو ذمہ داریوں سے بہت چھوٹی تھی لیکن ایسی ہی تھی۔

میں نے دوسرے عنصر کے حوالے سے محکمہ خارجہ میں بات کی ہے۔ ہم پوری دنیا میں موجود ہیں، اور دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے کہ امریکہ کس قسم کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اور میں اپنے افسروں  کو یاد کراتا رہتا ہوں۔ میری سیئول میں اور اس کے بعد بیجنگ میں، اس کے علاوہ سنگاپور میں اپنے عملے سے بات ہوئی ہے اور میں نے انہیں یہی کہا ہے کہ دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے۔ ہماری کچھ پالیسیاں اور کچھ کام ہیں جو ہم پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جس لمحے ہم انہیں کر رہے ہیں، دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے۔ کیا ہم سچ بولتے ہیں، کیا ہم دوسروں کے ساتھ نرمی سے پیش آتے ہیں۔ کیا ہم ہرانسان کو وہ تکریم دیتے ہیں جس کا وہ مستحق ہے۔ یہ ہماری امریکی اقدار ہیں اور اگر ہم ان پر عمل کرتے ہیں تو ہمیں دنیا میں امریکی مفادات کے حصول میں حقیقی فائدے حاصل ہوں گے۔ اور اس حوالے سے میرے موجودہ کردار کا سی آئی اے کی ذمہ داریوں سے کچھ زیادہ فرق نہیں تاہم نجی شعبے کے تقاضوں کے اعتبار سے یہ بالکل مختلف ہیں۔

مسٹر اینڈرسن: ٹھیک ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس نشست کو ایک آدھ بین الاقوامی نوعیت کے سوال کے بعد سمیٹ سکیں اور یہ سوال کیوبا کے حوالے سے ہے۔ اب کیوبا میں کئی دہائیوں بعد پہلا غیر کاسترو صدر برسر اقتدار ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم کیوبا کے مزید قریب ہو جائیں گے۔ آپ اس تعلق کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

وزیر خارجہ پومپئو: یہ درست ہے کہ ان کے نام میں کاسترو نہیں آتا (قہقہہ)۔ لیکن آپ ان کی پالیسیوں اور منصوبوں کو دیکھ کر ایسا نہیں کہہ سکتے۔ چنانچہ مجھے تو کیوبا کی حکومت میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آتی۔ اب اگلی بات یہ کہ میں اس میں بہت اہم مواقع دیکھ رہا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ یہ امریکہ کا ہمسایہ  ہے اور یہاں کے لوگوں کی عادات و اطوار بھی ہمارے جیسی ہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ ہمارے اور کیوبا کے تعلقات آخر کار بہتر ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کس رفتار سے اور اس کے لیے درکار اقدامات کیا ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں، وہ ہم سے ایسے کام کرانا چاہتے ہیں جس سے عام کیوبن شہریوں کو ان تمام مواقع تک رسائی کی صلاحیت ملے جو ہمیں یہاں حاصل ہیں۔ ان مواقع میں اقتصادی اور سیاسی دونوں طرح کی آزادیاں شامل ہیں۔ اور اس سلسلے میں ہم نے ابھی بہت سا کام کرنا ہے۔

مسٹر اینڈرسن: یہ آج کا آخری سوال تھا اور اسی کے ساتھ یہ نشست برخاست کی جاتی ہے۔ لیکن میں وہیں پر ختم کروں گا جہاں سے شروع کیا تھا۔ میں آپ کا ڈیٹرائٹ آنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کا پیغام بہت زبردست تھا اور اسے سن کر مزا آیا۔ آپ سب کا شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپئو: زبردست، آپ سب کا بہت شکریہ

مسٹر گریگورین: خواتین و حضرات اور وزیر خارجہ صاحب۔ آپ کا یہاں آنا ہمارے لیے اعزاز تھا۔ آپ سب کی تشریف آوری کا بہت شکریہ


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں